مندرجات کا رخ کریں

بلتستان

حوالہ جاتی اصول کی عدم رعایت
غیر سلیس
غیر جامع
تلخیص کے محتاج
ویکی شیعہ سے
بلتستان
عمومی معلومات
ملکپاکستان
صوبہگلگت بلتستان
نامبلتستان
زبانبلتی اور شینا
قومیتبلتستانی
ادیاناسلام
مذہبامامیہ، اسماعیلیہ، اہل سنت
مسلم آبادیسو فیصد
شیعہ آبادیتقریبا 85 فیصد
تاریخی خصوصیات
قدیمی نامتبت خورد
تاریخ اسلامچودھویں صدی عیسوی کے اواخر
تاریخ تشیعآٹھویں صدی ہجری
اہم واقعاتجنگ آزادی، اسد عاشورا
تاریخی مقاماتکھرپوچو، مسجد امبوڑک شگر اور مسجد چقچن
اماکن
زیارتگاہیںقتلگاه، مرقد شیخ علی برلمو، آستانہ سید محمود
حوزہ علمیہجامعہ قبازردیہ، جامعہ منصوریہ، جامعۃ النجف، جامعۃ الزہرا اور محمدیہ ٹرسٹ کے مدارس
مساجدجامع مسجد سکردو، مسجد امبوڑک شگر اور مسجد چقچن
امام بارگاہیںچھوغو ماتم سرا
مشاہیر
مذہبیمیر سید علی ہمدانی، میر شمس الدین عراقی
سیاسیعلی شیر خان انچن


بَلْتِسْتان، پاکستان کے شمالی صوبہ گلگت بلتستان میں دو پہاڑی سلسلے کوہ قراقرم اور ہمالیہ کے دامن میں واقع ایک شیعہ اکثریتی علاقہ ہے۔ آٹھویں صدی ہجری میں میر سید علی ہمدانی اور میر شمس الدین عراقی (906-907ھ) کے ذریعے یہاں اسلام پہنچا۔ سنہ 500 عیسوی میں بلتستان پر سلطنت پولولو کی حکمرانی تھی۔

سکردو بلتستان کا مرکز اور سب سے بڑا شہر ہے جبکہ روندو، شگر، خپلو، کھرمنگ اور گلتری بلتستان کے دیگر علاقے شمار ہوتے ہیں۔ بلتستان میں بلتی اور شینا زبانیں بولی جاتی ہیں۔

یہ علاقہ سنہ 1948ء میں ڈوگروں سے آزادی حاصل کرکے پاکستان میں شامل ہوگیا۔ اسد عاشورا یہاں کی مخصوص مذہبی عزاداری ہے جو ہر سال گرمیوں میں برپا ہوتی ہے۔

جغرافیہ

بلتستان کے جنوب میں کشمیر، مشرق میں لداخ اور کرگل، مغرب میں گلگت اور دیامر جبکہ شمال میں کوہ قراقرم بلتستان کو چین کے صوبہ سنکیانگ سے ملاتا ہے۔[1] بلتستان، پاکستان کے انتہائی شمال میں دو پہاڑی سلسلے قراقرم اور ہمالیہ کے دامن میں 10118 مربع میل پر پھیلا ہوا پہاڑی علاقہ ہے[2] جہاں دنیا کی کئی بلند چوٹیاں واقع ہیں انہی پہاڑی سلسلوں میں سے ایک دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو(K2) ہے۔[3] بلتستان سکردو، روندو، شگر، کھرمنگ، گلتری اور خپلو کی وادیوں پر مشتمل ہے۔[4] انتظامی لحاظ سے یہ علاقہ چار اضلاع سکردو، کھرمنگ، شگر اور ضلع گانچھے میں منقسم ہے اور حال ہی میں روندو کو بھی ضلع کا درجہ دینے کا نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے۔[5]

تاریخ کے آئینے میں

قدیم تاریخ

کہا جاتا ہے کہ تقریبا سنہ 500 عیسوی میں اس خطے میں ایک عظیم حکومت قائم تھی جسے سلطنت پولولو کہا جاتا تھا۔[6] چین کے حکومتی اسناد میں سنہ 696 عیسوی میں سلطنت پولولو کے سفیر چین کے دربار میں آنے کا ذکر ملتا ہے۔[7] سنہ 720 عیسوی کے بعد تبتیوں کے حملے میں اس سلطنت کا خاتمہ ہوا اور تقریبا سنہ 838 عیسوی تک اس علاقے پر تبتیوں کی حکومت رہی۔[8] مرکز میں تبتیوں کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہر علاقہ ایک مستقل حکومت کی شکل اختیار کر گیا یوں بلتستان بھی ایک علیحدہ ریاست بن گیا۔[9]

خپلو بلتستان میں چقچن مسجد

راجاؤں کا دور

بلتستان کے قدیمی فرمانرواؤں کو راجا یا رگیلفو کہا جاتا تھا۔ دسویں صدی ہجری میں علی شیر خان انچن مشہور ترین راجا گزرے ہیں۔ جنہوں نے استور، چلاس، گلگت اور چترال پر بھی اپنی سلطنت قائم کی اسی وجہ سے انہیں "انچن" یعنی طاقتور کا لقب دیا گیااور سکردو میں موجود قلعہ کھرپوچو علی شیر خان انچن کے دور کا بنا ہوا ہے۔ سنہ 1256 ہجری کو بلتستان کا آخری راجا احمد خان ڈوگروں کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوا یوں بلتستان پر ڈوگروں کے تسلط کا خاتمہ ہوگیا اور کشمیر کے ساتھ ملحق ہوگیا۔ بلتستان سنہ 1263 ہجری میں امرتسر کی قرارداد کے تحت لداخ میں شامل ہوگیا اور چونکہ اس وقت برصغیر پر انگلستان کی حکومت تھی یوں یہ علاقہ انگلستان کے زیر تسلط چلاگیا۔[10]

آزادی کے بعد

سنہ 1947ء میں دو قومی نظریے کی بنیاد پر جب پاکستان اور ہندوستان دو الگ الگ ریاست بن گئے تو جموں و کشمیر کے مہاراجا نے بلتستان سمیت استور، گلگت، ہنزہ اور نگر کو ہندوستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا[11] لیکن سنہ 1948ء میں گلگت بلتستان کے عوام نے میجر محمد حسین کی قیادت میں جنگ لڑ کر کشمیر کے مہاراجہ سے اپنے خطے کا قبضہ چھڑا لیا اور رضاکارانہ طور پر پاکستان میں شمولیت کا اعلان کیا۔[12]

اپریل 1949ء میں کراچی میں حکومت پاکستان اور آزاد کشمیر کے سیاسی رہنماؤوں کا ایک باہمی معاہدہ عمل میں آیا جو معاہدہ کراچی کے نام سے مشہور ہوا، جس کے تحت گلگت بلتستان کو بھی مقامی باشندوں کی مرضی کے بغیر مسئلہ کشمیر کے ساتھ ملحق کر دیا گیا[13] اور انتظامی حوالے سے اسے پاکستان کے صوبہ سرحد کے ماتحت رکھا گیا اور صوبہ سرحد کے سرحدی علاقوں کے دوسری ایجنسیوں کی مانند گلگت بلتستان کو بھی پولیٹکل ایجنسی بنا دیا۔ یہاں کا پہلا پولیٹکل ایجنٹ سردار عالم خان تھا۔[14]

1970ء میں صدر پاکستان جنرل محمد یحیی خان نے اس علاقے کو شمالی علاقہ جات کے نام سے ایک علیحدہ انتظامی یونٹ بنا دیا۔[15] سنہ 2009ء میں ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے شمالی علاقہ جات یعنی گلگت بلتستان کو صوبائی طرز حکومت کے تحت جزوی طور پر اختیارات منتقل کیے گئے۔ اس آرڈیننس کے تحت گلگت بلتستان اسمبلی میں 24 نشستیں قائم کی گئیں جن کے سربراہ وزارت اعلیٰ کا منصب دیا گیا، ساتھ ہی گورنر کا عہدہ بھی قائم کیا گیا۔[16]

زبان و ادب

سکردو بلتستان کا قدیمی قلعہ کھرپوچو

بلتی زبان، تبتی زبان کا ایک جز ہے۔ یہ زبان بلتستان، تبت، لداخ، كارگل، بھوٹان، سكم اور نیپال کے شمال میں مختصر تفاوت کے ساتھ بولی جاتی ہے۔ مختلف علاقوں میں لہجے کے اعتبار سے فرق ضرور پایا جاتا ہے لیکن تحریر میں پہلے کوئی فرق نہیں پایا جاتا ہے۔[17]

كیسر کے زمانے میں بلتستان میں اشتراکی اور اجتماعی نظام رائج تھا۔ ہر محلے میں ایک مخصوص مقام ہلچنگره ہوا کرتا تھا جہاں پر لوگ جمع ہو کر اپنی روزمرہ زندگی اور سماجی کاموں کے اہم فیصلے کیا کرتے تھے. مختلف موسموں میں مختلف قسم کے تہوار منایے جاتے تھے۔ جن میں جشن نوروز، (شمسی سال کا آغاز اور بہار کی آمد پر) ستروب لا، (گندم اور جو کے فصل میں دانے پڑنے کی مناسبت سے) اونگ دق، (گندم اور فصل کی کاشت ختم ہونے اور غلہ جمع کرنے کی مناسبت سے) برق بب، نورپهب (گرمیوں کے آخر میں مال موشیوں کو پہاڑوں سے واپس گھروں میں لانے کی مناسبت سے) اور كهاستون (موسم سرما کی پہلی برفباری کی مناسبت سے) معروف ہے۔[18]

اسلام کی آمد کے بعد جہاں لوگوں کے رہن سہن اور آداب و رسوم پر اسلامی تمدن کی حکمرانی دیکھی جا سکتی ہے وہاں بلتی زبان و ادب پر بھی اسلامی تہذیب کے نقوش کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ بلتی زبان، عربی اور فارسی زبان سے متاثر ہو کر عربی اور فارسی رسم الخط میں لکھی اور پڑھی جاتی رہی ہے۔ زبان کے ساتھ ساتھ ادب اور ثقافت میں بھی اسلامی آثار نمایاں ہونے لگے یوں بلتی ادب میں غزل اور گیت گانوں کی جگہ مذہبی قصاید، نوحے اور مرثیوں نے لے لی۔[19] مختلف مناسبتوں پر مذہبی تہوار بڑے جوش و خروش کے ساتھ منائے جانے لگے۔ ان مذہبی تہواروں میں چودہ معصومین کی ولادت اور شہادت کے ایام، خاص طور پر عزاداری امام حسینؑ، جشن عید غدیر، جشن ولادت امام حسینؑ (3 شعبان العظم)، جشن شب برات (15 شعبان المعظم) اور جشن مولود کعبہ (13 رجب المرجب) نہایت عقیدت اور احترام سے منائے جاتے ہیں جن میں ہزاروں لوگ شرکت کرتے ہیں اور بلتی زبان میں مرثیے، نوحے اور قصائد پڑھتے ہیں۔[20]

بلتستان میں اسلام کی آمد

سکردو جامع مسجد کا خوبصورت منظر

اسلام آنے سے قبل اہل بلتستان بدھ مت کے پیرو تھے۔[21] چودھویں صدی عیسوی کے آخری ربع کے دوران ایرانی مبلغین کے ذریعے بلتستان میں اسلام پھیلنا شروع ہوا۔ مقامی لوگوں کے مطابق سید علی ہمدانی (1373-1383ء) نے بلتستان کا سفر کیا یہیں سے بلتستان میں اسلام کی اشاعت شروع ہوئی۔[22] میر سید علی ہمدانی کے بعد میر شمس الدین عراقی (906-907ھ) نے تمام بتکدوں کو ویران کر کے ان کی جگہ مساجد تعمیر کروائی اسی وجہ سے انہیں بت شکن کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔[23] اس وقت بلتستان کی آبادی 100 فیصد مسلمان ہیں جن میں تقریبا اکثریت شیعہ امامیہ ہیں جبکہ اسماعیلیہ اور اہل سنت بھی اس علاقے میں موجود ہیں۔[24]

مذہب تشیع

سکردو میں جمعۃ الوداع کی نماز ادا کی جارہی ہے

بلتستان میں کم از کم آٹھویں صدی ہجری سے شیعہ آباد ہیں اور آج بھی یہاں کی اکثریتی آبادی شیعہ ہے لیکن مغلوں کے حملے کے بعد نقشبندیہ سے آئے ہوئے کچھ لوگوں نے یہاں مذہب حنفیہ کی تبلیغ کی کوشش کی۔[25] گلگت میں بھی پہلے شیعہ مذہب کی اکثریت تھی لیکن مہاجرتوں کی نئی پالیسی کی وجہ سے اس وقت وہابیوں کی ایک بڑی تعداد گلگت کے گرد و نواح میں آباد ہوگئی ہے۔[26] میر شمس الدین عراقی جو کشمیر میں نور بخشیہ کی تعلیمات کی آڑ میں شیعہ مذہب کی تبلیغ کرتے تھے، نے شیعہ مذہب کو کشمیر سے بلتستان منتقل کیا۔[27]

بلتستان کے لوگوں کا اسلام لائے ہوئے اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی ان کی زبان، کھیتی باڑی اور لوگوں کے رہن سہن کے آداب میں تبتی ثقافت کے آثار دیکھے جا سکتے ہیں۔[28] ایران اور اسلامی انقلاب سے ان کو دلی اور مذہبی لگاؤ ہے۔ بلتستان میں عید نوروز منانا اس علاقے میں ایرانی ثقافت کی عکاسی کرتا ہے۔[29] بلتستان میں صفویہ دور میں بارہ اماموں اور صفویہ بادشاہوں کے نام خطبہ میں لئے جاتے تھے۔[30]

اسد عاشورا

بلتستان میں محرم الحرام کے علاوہ ہر سال گرمیوں کے موسم میں بھی مجالس کا ایک سلسلہ منعقد کیا جاتا ہے۔ 31 جولائی کو پورے بلتستان میں "اسد عاشورا" کے عنوان سے ماتمی جلوس عقیدت و احترام کے ساتھ نکالے جاتے ہیں۔ اسد عاشورا منانے کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں؛ قدیم الایام مبلغین کا ہر موسم میں وہاں پہنچنا ناممکن تھا اس لئے گرمیوں میں آکر مجالس منعقد کرتے تھے اور یہی اب تک رائج رہا ہے لیکن عام لوگوں کے مطابق سنہ 61 ہجری میں واقعہ کربلا گرمیوں کے موسم میں واقع ہوا تھا اس لئے اس علاقے میں زمانہ قدیم سے سال کے انہی ایام میں عزاداری برپا کرنے کے ذریعے امام حسین اور آپ کی عظیم قربانی کی یاد مناتے ہیں۔[31]

مذہبی اور سماجی شخصیات

بلتستان کے چیده مذہبی اور سماجی شخصیات درج ذیل ہیں: