فاقد تصویر
حوالہ جاتی اصول کی عدم رعایت
غیر سلیس
غیر جامع
تلخیص کے محتاج

بلتستان

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بلتستان
Gilgit-baltistan.png
گلگت بلتستان کا نقشہ
عمومی معلومات
ملک پاکستان
صوبہ گلگت بلتستان
نام بلتستان
زبان بلتی اور شینا
قومیت بلتستانی
ادیان اسلام
مذہب امامیہ، اسماعیلیہ، اہل سنت
مسلم آبادی سو فیصد
شیعہ آبادی تقریبا 85 فیصد
تاریخی خصوصیات
قدیمی نام تبت خورد
تاریخ اسلام چودھویں صدی عیسوی کے اواخر
تاریخ تشیع آٹھویں صدی ہجری
اہم واقعات جنگ آزادی، اسد عاشورا
تاریخی مقامات کھرپوچو، مسجد امبوڑک شگر اور مسجد چقچن
اماکن
زیارتگاہیں قتلگاه، مرقد شیخ علی برلمو، آستانہ سید محمود
حوزہ علمیہ جامعہ قبازردیہ، جامعہ منصوریہ، جامعۃ النجف، جامعۃ الزہرا اور محمدیہ ٹرسٹ کے مدارس
مساجد جامع مسجد سکردو، مسجد امبوڑک شگر اور مسجد چقچن
امام بارگاہیں چھوغو ماتم سرا
مؤسسات انجمن امامیہ، جامعہ روحانیت بلتستان
مشاہیر
مذہبی میر سید علی ہمدانی، میر شمس الدین عراقی
سیاسی علی شیر خان انچن

بَلْتِسْتان، پاکستان کے شمال اور صوبہ گلگت بلتستان میں دو پہاڑی سلسلے کوہ قراقرم اور ہمالیہ کے دامن میں واقع ہے جسے قدیم زمانے میں بلتی یول یا تبت خورد بھی کہا جاتا تھا۔ آٹھویں صدی ہجری میں ایرانی مبلغین کے ذریعے اسلام پہنچنے کے بعد فارسی اور عربی زبان سے متاثر ہو کر یہ علاقہ بلتستان کے نام سے مشہور ہوا۔ بلتستان کی اکثریتی آبادی شیعہ ہے۔

بلتستان میں بلتی اور شینا زبانیں بولی جاتی ہیں۔ تقسیم ہند و پاک کے دوران بلتستان میں ڈوگروں کی حکومت تھی اور 1948ء میں اپنی مدد آپ ڈوگروں سے آزادی حاصل کرکے پاکستان میں شامل ہوگیا۔ لیکن اپریل 1949ء میں معاہدہ کراچی کے تحت گلگت بلتستان کو مقامی باشندوں کی مرضی کے بغیر مسئلہ کشمیر کے ساتھ ملحق کر دیا گیا۔

بلتستان انتظامی حوالے سے پانچ ضلعوں پر مشتمل ہے جن میں سے روندو کو حال ہی میں (2019 کے اوائل) ضلعے کا درجہ دینے کا اعلان ہوا ہے۔ سکردو، بلتستان کا سب سے بڑا اور مرکزی شہر ہے۔

جغرافیہ

بلتستان کے جنوب میں کشمیر، مشرق میں لداخ و کرگل، مغرب میں گلگت اور دیامر جبکہ شمال میں کوہ قراقرم بلتستان کو چین کے صوبہ سنکیانگ سے ملاتا ہے۔[1] بلتستان، پاکستان کے انتہائی شمال میں دو پہاڑی سلسلے قراقرم اور ہمالیہ کے دامن میں 10118 مربع میل پر پھیلا ہوا پہاڑی علاقہ ہے۔[2] جہاں دنیا کی کئی بلند چوٹیاں واقع ہیں انہی پہاڑی سلسلوں میں سے ایک دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو(K2) ہے۔[3] بلتستان سکردو، روندو، شگر، کھرمنگ، گلتری اور خپلو کی وادیوں پر مشتمل ہے۔[4] انتظامی لحاظ سے یہ علاقہ چار اضلاع سکردو، کھرمنگ، شگر اور ضلع گانچھے میں منقسم ہے اور حال ہی میں روندو کو بھی ضلع کا درجہ دینے کا نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے۔[5]

تاریخ کے آئینے میں

قدیم تاریخ

چین کے سفرناموں اور دیگر كتابوں کے مطابق تقریبا سنہ 500 عیسوی میں اس خطے میں ایک عظیم حکومت قائم تھی جسے سلطنت پولولو کہا جاتا تھا۔[6] چین کے حکومتی اسناد میں سنہ 696 عیسوی میں سلطنت پولولو کے سفیر چین کے دربار میں آنے کا ذکر ملتا ہے۔[7] سنہ 720 عیسوی کے بعد تبتیوں کے حملے میں اس سلطنت کا خاتمہ ہوا اور تقریبا سنہ 838 عیسوی تک اس علاقے پر تبتیوں کی حکومت رہی۔[8] مرکز میں تبتیوں کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہر علاقہ ایک مستقل حکومت کی شکل اختیار کر گئی یوں بلتستان بھی ایک علیحدہ ریاست بن گئی۔[9]

خپلو بلتستان میں چقچن مسجد

راجاؤں کا دور

بلتستان کے قدیمی فرمانرواوں کو راجا یا رگیلفو کہا جاتا تھا۔ دسویں صدی ہجری میں علی شیر خان انچن مشہور ترین راجا گزرے ہیں۔ جس نے استور، چلاس، گلگت اور چترال پر بھی اپنی سلطنت قائم کی اسی وجہ سے انہیں "انچن" یعنی طاقتور کا لقب دیا گیااور سکردو میں موجود قلعہ کھرپوچو علی شیر خان انچن کے دور کا بنا ہوا ہے۔ سنہ 1256 ہجری کو بلتستان کا آخری راجا احمد خان ڈوگروں کے ہاتھوں شکست کھاتا ہے یوں بلتستان ڈوگروں کے زیر تسلط چلا جاتا ہے اور کشمیر کے ساتھ ملحق ہو جاتا ہے۔ سنہ 1263 ہجری امرتسر کی قرارداد کے تحت لداخ میں شامل ہو جاتا ہے اور چونکہ اس وقت برصغیر پر انگلستان کی حکومت تھی یوں یہ علاقہ انگلستان کے زیر تسلط چلا جاتا ہے۔[10]

سنہ ۱۹۴۷ عیسوی میں دو قومی نظریے کی بنیاد پر جب پاکستان اور ہندوستان دو الگ الگ ریاست بن جاتے ہیں تو جموں و کشمیر کے مہاراجا نے بلتستان سمیت استور، گلگت، ہنزہ اور نگر کو ہندوستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا لیکن اس علاقے کے باشندوں نے ایک سال بعد یعنی سنہ 1948 عیسوی کو اس علاقے کو ڈوگروں سے آزاد کرکے باقاعدہ پاکستان میں الحاق کا اعلان کیا۔[11]

آزادی کے بعد

1948ء میں گلگت بلتستان کے عوام نے میجر محمد حسین کی قیادت میں لڑ کر کشمیر کے مہاراجہ سے اپنے خطے کا قبضہ چھڑایا تھا۔ اسکے بعد رضاکارانہ طور پر پاکستان کے ساتھ شمولیت کا اعلان کیا۔[12]

لیکن اپریل 1949ء میں کراچی میں حکومت پاکستان اور آزاد کشمیر کے سیاسی رہنماؤوں کا باہمی ایک معاہدہ عمل میں آیا جو معاہدہ کراچی کے نام سے مشہور ہوا، جس کے تحت گلگت بلتستان کو بھی مقامی باشندوں کی مرضی کے بغیر مسئلہ کشمیر کے ساتھ ملحق کر دیا گیا۔[13] اور انتظامی حوالے سے اسے پاکستان کے صوبہ سرحد کے ماتحت رکھا گیا اور صوبہ سرحد کے سرحدی علاقوں کے دوسری ایجنسیوں کی مانند گلگت بلتستان کو بھی پولیٹکل ایجنسی بنا دیا اور یہاں کا پہلا پولیٹکل ایجنٹ سردار عالم خان تھا۔[14]

1970ء میں صدر پاکستان جنرل محمد یحیی خان نے اس علاقے کو شمالی علاقہ جات کے نام سے ایک علیحدہ انتظامی یونٹ بنا دیا۔[15] 2009 میں ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے شمالی علاقہ جات یعنی گلگت بلتستان کو صوبائی طرز حکومت کے تحت جزوی طور پر اختیارات منتقل کیے گئے۔ اس آرڈیننس کے تحت گلگت بلتستان اسمبلی میں 24 نشستیں قائم کی گئیں جن کا سربراہ وزیر اعلیٰ کو مقرر کیا گیا، ساتھ ہی گورنر کا عہدہ بھی قائم کیا گیا۔[16]

زبان و ادب

سکردو بلتستان کا قدیمی قلعہ کھرپوچو

بلتی زبان، تبتی زبان کا ایک جز ہے۔ یہ زبان بلتستان، تبت، لداخ، كارگل، بھوٹان، سكم اور نیپال کے شمال میں مختصر تفاوت کے ساتھ بولی جاتی ہے۔ مختلف مناطق میں لہجے کے اعتبار سے تفاوت ضرور پایا جاتا ہے لیکن تحریر میں پہلے کوئی تفاوت نہیں پایا جاتا تھا۔[17]

كیسر کے زمانے میں بلتستان میں اشتراکی اور اجتماعی نظام رائج تھا۔ ہر محلے میں ایک مخصوص مقام ہلچنگره ہوا کرتا تھا جہاں پر لوگ جمع ہو کر اپنی روزمرہ زندگی اور سماجی کاموں کے اہم فیصلے کیا کرتے تھے. مختلف موسموں میں مختلف تہوار برگزار ہوا کرتے تھے۔ جن میں جشن نوروز، (شمسی سال کا آغاز اور بہار کی آمد پر) ستروب لا، (گندم اور جو کے فصل میں دانے پرنے کی مناسبت سے) اونگ دق، (گندم اور فصل کی کاشت ختم ہونے اور غلہ جمع کرنے کی مناسبت سے) برق بب، نورپهب (گرمیوں کے آخر میں مال موشیوں کو پہاڑوں سے نیچے لانے کی مناسبت سے) اور كهاستون (موسم سرما کی پہلی برفباری کی مناسبت سے) معروف ہے۔[18]

اسلام کی آمد کے بعد جہاں لوگوں کی رہن سہن اور آداب و رسوم پر اسلامی تمدن کی حکمرانی دیکھی جا سکتی ہے وہاں بلتی زبان و ادب پر بھی اسلامی تہذیب کے نقوش کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔بلتی زبان، عربی اور فارسی زبان سے متاثر ہو کر عربی اور فارسی رسم الخط میں لکھی اور پڑھی جاتی رہی ہے۔ زبان کے ساتھ ساتھ ادب اور ثقافت میں بھی اسلامی آثار نمایاں ہونے لگے یوں بلتی ادب میں غزل اور گیت گانوں کی جگہ مذہبی قصاید، نوحے اور مرثیوں نے لے لی۔[19] مختلف مناسبتوں پر مذہبی تہوار بڑے جوش و خروش کے ساتھ منائے جانے لگے۔ ان مذہبی تہواروں میں چودہ معصومین کے ولادت اور شہادت کے ایام، خاص طور پر عزاداری امام حسینؑ، جشن عید غدیر، جشن ولادت امام حسینؑ (3 شعبان العظم)، جشن شب برات (15 شعبان المعظم)، اور جشن مولود کعبہ (13 رجب المرجب) بڑے عقیدت اور احترام سے منائے جاتے ہیں جن میں ہزاروں لوگ شرکت کرتے ہیں اور بلتی زبان میں مرثیے، نوحے اور قصائد پڑھتے ہیں۔[20]

بلتستان میں اسلام کی آمد

سکردو جامع مسجد کا خوبصورت منظر

اسلام آنے سے قبل اہل بلتستان بودھ مت کے پیرو تھے۔[21] چودھویں صدی عیسوی کے آخری ربع کے دوران ایرانی مبلغین کے ذریعے بلتستان میں اسلام پھیلنا شروع ہوا۔ مقامی لوگوں کے مطابق سید علی ہمدانی (1373-1383ء) نے بلتستان کا سفر کیا یہیں سے بلتستان میں اسلام کی اشاعت شروع ہوئی۔[22] میر سید علی ہمدانی کے بعد میر شمس الدین عراقی (906-907ھ) نے تمام بتکدوں کو ویران کر کے ان کی جگہ مساجد تعمیر کراوایا اسی وجہ سے انہیں بت شکن کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔[23] اس وقت بلتستان کی آبادی 100 فیصد مسلمان ہیں جن میں تقریبا اکثریت شیعہ امامیہ ہیں۔ جبکہ اسماعیلیہ اور اہل سنت بھی اس علاقے میں موجود ہیں۔[24]

مذہب تشیع

بلتستان میں یوم قدس کی ریلی

بلتستان میں کم از کم آٹھویں صدی ہجری سے شیعہ آباد ہیں اور آج بھی یہاں کی اکثریت شیعہ ہیں۔ لیکن مغولوں کے حملے کے بعد نقشبندیہ سے آئے ہوئے کچھ لوگوں نے یہاں مذہب حنفیہ کی تبلیغ کی کوشش کی۔[25] گلگت میں بھی پہلے شیعہ مذہب کی اکثریت تھی لیکن مہاجرتوں کی نئی پالیسی کی وجہ سے اس وقت وہابیوں کی ایک تعداد گلگت کے گرد و نواح میں آباد ہوگئی ہے۔[26] میر شمس الدین عراقی جو کشمیر میں نور بخشیہ کی تعلیمات کی آڑ میں شیعہ مذہب کی تبلیغ کرتے تھے، نے شیعہ مذہب کو کشمیر سے بلتستان منتقل کیا۔[27]

اگرچہ بلتستان کے لوگوں کا اسلام لائے ہوئے اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی ان کی زبان، کھیتی باڑی اور لوگوں کے رہن سہن کے آداب میں تبتی ثقافت کے آثار دیکھے جا سکتے ہیں۔[28] ایران اور اسلامی انقلاب سے ان کو دلی اور مذہبی لگاؤ ہے۔ بلتستان میں عید نوروز منانا اس علاقے میں ایرانی ثقافت کی عکاسی کرتا ہے۔[29] بلتستان میں صفویہ دور میں بارہ اماموں اور صفویہ بادشاہوں کے نام خطبہ میں لئے جاتے تھے۔[30]

اسد عاشورا

بلتستان میں محرم الحرام کے علاوہ ہر سال گرمیوں کے موسم میں بھی مجالس کا ایک سلسلہ منعقد کرتے ہیں جس کے آخر میں 31 جولائی کو "اسد عاشورا" کے عنوان سے ماتمی جلوس پورے بلتستان میں عقیدت و احترام کے ساتھ نکالے جاتے ہیں۔ اسد عاشورا منانے کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں؛ قدیم الایام مبلغین کا ہر موسم میں وہاں پہنچنا ناممکن تھا اس لئے گرمیوں میں آکر مجالس منعقد کرتے تھے اور یہی اب تک رائج رہا ہے۔ لیکن عام لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ سنہ 61 ہجری میں واقعہ کربلا گرمیوں کے موسم میں واقع ہوا تھا اسلئے اس علاقے میں زمانہ قدیم سے سال کے انہی ایام میں عزاداری برپا کرنے کے ذریعے امام حسین اور آپ کی عظیم قربانی کی یاد مناتے ہیں۔[31] البتہ یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ تاریخ نگاروں کے مطابق 61ھ کو واقعہ کربلا اکتوبر کے مہینے میں واقع ہوا ہے۔[32]

مذہبی اور سماجی شخصیات

بلتستان کے چیده مذہبی اور سماجی شخصیات درج ذیل ہیں:

آپ نے مشہد میں کئی سال تک ملاہادی سبزواری کے درس میں شرکت کی۔ حکیم سبزواری نے آپ کے سوالوں کے جواب میں ایک کتابچہ بھی لکھی ہیں۔[34]

  • شیخ علی غروی برولمو: آپ صاحب کرامات علماء میں سے تھے اور آپ کے مرقد پر آج بھی لوگ مختلف حاجتیں لے کر جاتے ہیں۔
  • شیخ غلام محمد غروی: آپ قائد شمالی علاقہ جات کے نام سے معروف تھے۔ بلتستان میں محکمہ شرعیہ کا قیام آپ کے اہم کارناموں میں سے ہیں۔[35]
  • شیخ حسن مہدی آبادی: آپ محمديہ ٹرسٹ پاکستان کے بانی ہیں۔ جس کے تحت پاکستان کے مختلف شہروں میں دینی مدارس، دارالايتام، قرآن سنٹرز اور دیگر دینی اور سماجی مراکز کام کر رہے ہیں۔[36]
  • شیخ محسن علی نجفی: قرآن کی تفسیر اور ترجمہ نیز مختلف کتابوں کی تصنیف کے ساتھ ساتھ گذشتہ 30 سالوں سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں دینی، علمی اور سماجی خدمات میں مشغول ہیں۔ مختلف دینی مدارس کا قیام من جملہ جامعہ الکوثر اسلام آباد، اسوہ سکول سسٹم کا قیام جس میں 12 انٹر میڈیٹ کالجز، 4 ٹیکنیکل کالجز، 2 پیرا میڈیکل کالجز، 1 IGSC کالج اور 58 سکولز (پرائمری سے لیکر سکینڈری تک) شامل ہیں اسے کے علاوہ مختلف دینی اور سماجی مراکز آپ کے اہم خدمات میں شامل ہیں۔ آپ کو انہی خدمات کی وجہ سے محسن ملت کا لقب دیا گیا ہے۔[37]
  • سيد محمود شاه رضوي: انہوں نے بلتستان کے ساتھ ساتھ کرگل میں بھی مذہب حقہ کی تبلیغ کی اور وہاں کے ہزاروں نوربخشیوں نے ان کی تبلیغ سے متأثر ہو کر مذہب حقہ قبول کی۔[38]
  • محمد یوسف حسین آبادی: انکا شمار بلتستان کی شخصیات میں ہوتا ہے۔ 1984ء میں انکی پہلی تصنیف "بلتستان پر ایک نظر" کے نام سے شائع ہوئی۔ اسکے بعد بلتی زبان کی تاریخ اور رسم الخط پر ایک اور کتاب لکھی۔ 1995ء میں پہلی مرتبہ قرآن مجید کا بلتی میں ترجمہ کیا۔ 2003ء میں "بلتستان کی تاریخ" پر ایک کتاب لکھی، جسکی دو اشاعت ہوچکی ہے۔[39]
  • محمد علی سدپارہ: پاکستان کے ماہر کوہ پیما جن کا تعلق بلتستان سکردو کے گاوں سدپارہ سے تھا۔ انہوں سے ماؤنٹ ایورسٹ اور کےٹو سمیت 8000 میٹر سے بلند تمام چوٹیوں کو سر کیا اور 5 فروری 2021 کو کےٹو کی ایک سرمائی مہم میں کوہ پیمائی کرتے ہوئے لاپتہ ہوگئے۔[40] محمد علی سدپارہ اکثر پہاڑوں کو سر کرنے کے بعد پاکستانی پرچم کے ساتھ ساتھ امام حسین کا علم بھی لہرایا کرتے تھے۔[41]

مذہبی اور تاریخی مقامات

  • مسجد امبوڑک شگر: بلتستان کے علاقے شگر میں واقع ایک چھوٹی مگر قدیم مسجد ہے۔ اس کی تعمیر ایرانی مبلغ اسلام میر سید علی ہمدانی سے منسوب ہے۔[42] یہ مسجد بلتستان کی مشہور و معروف مسجد ہے۔ یونیسکو نے اس مسجد کو ثقافتی اعزاز بھی دیا ہے۔[43]
  • مسجد چقچن: بلتستان کے علاقے خپلو میں واقع ایک قدیم مسجد ہے جس کی بنیاد 1370ء میں ایرانی مبلغ اسلام میر سید علی ہمدانی نے رکھی، بعض روایات کے مطابق یہ عمارت مسجد بننے سے پہلے بدھ مت کی خانقاہ تھی۔[44] یہ مسجد پاکستان کی اہم عمارتوں میں شامل ہے۔
  • خانقاہ معلیٰ نوربخشیہ خپلو: خپلو بالا میں تعمیر کی گئی 400 سال پرانی خانقاہ ہے جس کی بنیاد میر مختار اخیار نے رکھی یہ خانقاہ لکڑی اور مٹی سے بنی گلگت بلتستان کی سب سے بڑی خانقاہ ہے جسمیں 3000 کے لگ بھگ لوگ سما سکتے ہیں اس کی تعمیر میں مغل، تبتی اور ایرانی طرز تعمیر کے نمونے شامل ہیں۔
  • قلعہ کھرپوچو: چودھویں صدی میں تبت خورد کے عظیم فرماں روا علی شیر خان انچن کے دور حکومت میں سطح سمندر سے تقریباً ساڑھے 8 ہزار فٹ سے زائد بلندی پر چٹانوں کے اُوپر دیوہیکل پتھروں سے تعمیر کیا جانے والا پر شکوہ قلعہ "کھرپوچو" کہلاتا ہے۔[45]
  • قتل گاہ شریف: سکردو شہر کے سنٹر میں کربلا کے 72 شہداء کی یاد میں میں تعمیر کیا گیا مذہبی مقام قتل گاہ کے نام سے مشہور ہے۔ محرم اور اسد عاشورا کے جلوس سکردو کے مختلف امام بارگاہوں سے برآمد ہو کر یہاں اختتام کو پہنچتے ہیں۔ علماء، سیاسی اور سماجی شخصیات کے علاوہ مومنین کی کثیر تعداد یہاں مدفون ہیں۔

ان کے علاوہ بلتستان میں دینی مدارس، مساجد اور امام بارگاہوں کی کثیر تعداد موجود ہیں جن میں جامع مسجد سکردو، جامعہ قبازردیہ، جامعہ منصوریہ، جامعۃ النجف اور محمدیہ ٹرسٹ کے مدارس قابل ذکر ہیں۔

حوالہ جات

  1. تاریخ بلتستان، محمد یوسف حسین آبادی، فروری 2009ء ، ص 4۔
  2. تاریخ بلتستان، محمد یوسف حسین آبادی، فروری 2009 ء، ص 4۔
  3. د.اسلام، چاپ دوم؛ بریتانیکا؛ آمریکانا، ذیل مادّه بلتستان
  4. تاریخ بلتستان، محمد یوسف حسین آبادی، فروری 2009ء ، ص 4۔
  5. روزنامہ اوصاف، تاریخ درج: 15 مئی 2019ء، تاریخ اخذ: 1 جولائی 2019ء۔
  6. تاریخ بلتستان، محمد یوسف حسین آبادی، فروری 2009ء ، ص 29۔
  7. تاریخ بلتستان، محمد یوسف حسین آبادی، فروری 2009ء ، ص 30۔
  8. تاریخ بلتستان، محمد یوسف حسین آبادی، فروری 2009 ء، ص 31۔
  9. تاریخ بلتستان، محمد یوسف حسین آبادی، فروری 2009ء ، ص 40۔
  10. دایرہ المعارف جہان اسلام، چاپ دوم،
  11. دایرہ المعارف جہان اسلام، چاپ دوم
  12. تاریخ بلتستان، محمد یوسف حسین آبادی، فروری 2009ء ، ص 291۔
  13. تاریخ بلتستان، محمد یوسف حسین آبادی، فروری 2009 ء، ص 291۔
  14. تاریخ بلتستان، محمد یوسف حسین آبادی، فروری 2009ء ، ص 292۔
  15. تاریخ بلتستان، محمد یوسف حسین آبادی، فروری 2009ء، ص 298۔
  16. جیو اردو، تاریخ درج: 7جون 2015ء، تاریخ اخذ:1 جولائی 2019ء۔
  17. یوسف حسین حسین آبادی، تاریخ بلتستان، ص 319۔
  18. بلتستانی، فرہنگ و تمدن در دوره قبل از اسلام۔
  19. الفبای جدید، تاریخ بلتستان یوسف حسین آبادی، ص 318-319
  20. بلتستانی، فرہنگ و تمدن در دوره قبل از اسلام۔
  21. محمد یوسف حسین آبادی، تاریخ بلتستان، ص20۔
  22. محمد یوسف حسین آبادی، تاریخ بلتستان، ص23۔
  23. مقالہ، نگاہی بہ تاریخ اسلام در بلتستان۔
  24. خانہ فرہنگ، نگاهي به وضعيت فرهنگي اجتماعي بلتستان۔
  25. جعفریان، ص۵۹۹
  26. جعفریان، ص۶۰۸
  27. پَت اِمرسون و ریچارد امرسون، ج۱، ص۸۶ـ۸۸
  28. پَت اِمرسون و ریچارد امرسون، ج۱، ص۸۶ـ۸۸
  29. محمدی، ص۳۲ـ۳۳
  30. بہرامی، ص34
  31. خبرگزاری جمہوری اسلامیتاریخ درج:2 اگست 2019ء، تاریخ اخذ:26 جون 2019ء
  32. تسنیم نیوز
  33. ر.ک: آشتیانی، «شرح حال و آثار فیلسوف و متالہ و عارف محقق حاح ملا ہادی سبزواری»، ص۱۲۲-۱۲۴؛ سبزواری، رسائل حکیم سبزواری، ۱۳۷۰ش، ص۵۲۱.
  34. گوبینو، مذاہب و فلسفہ در آسیای وسطی، ص۸۵.
  35. شیعیان ہمالیا، تاریخ درج 12 جنوری 2012ء، تاریخ اخذ: 30 جون 2019ء۔
  36. شیعیان ہمالیا، تاریخ درج: 5 جون 2012ء، تاریخ اخذ: 30 جون 2019ء۔
  37. شیعیان ہمالیا، تاریخ درج: 20 اپریل 2011ء، تاریخ اخذ: 30 جون 2019ء۔
  38. نقش علمای محلی در گستر اسلام در بلتستان، تاریخ درج: 2 جون 2010ء، تاریخ اخذ: 30 جون 2019ء۔
  39. اسلام ٹائم، تاریخ درج، 24 جولائی 2016ء، تاریخ اخذ: 30 جون 2019ء۔
  40. ہم نیوز کی خبر
  41. ابناء نیوز کی خبر
  42. بلتستان کی تاریخ اور ثقافت، حسن حسرت
  43. بلتستان کا تعارف، یوسف حسین عابدی
  44. تاریخ بلتستان ،یوسف حسین آبادی
  45. اسلام ٹائمز، تاریخ درج 21 جون 2011ء، تاریخ اخذ: 30 جون 2019ء۔


مآخذ