خوجہ

ویکی شیعہ سے
خوجہ
عمومی معلومات
بانیپیر صدر الدین
مبداء500 سال قبل
قدمت14 ویں صدی عیسوی۔ 9 ویں صدی ہجری
عقیدہشیعہ اثنا عشری
وسعت مکانیهند، پاکستان، تانزانیا، کنیا، امریکا، کاناڈا، انگلیسان و ...
اہم شہریںسندھ، گُجَرات، مَسقَط، بمبئی، زنگبار و ...
دیگر اسامیخوجہ شیعہ اثنا عشری
مذہبی معلومات
رہبران/ائمہاولین رہبر آغا خان محلاتی

خوجہ برصغیر پاک و ہند کے ایک مسلمان گروہ کو کہا جاتا ہے جنہوں نے پندرہویں صدی عیسوی میں اسلام قبول کیا۔ یہ لوگ اصل میں ہندو تھے لیکن پیر صدر الدین کے ہاتھوں مسلمان ہوئے اور خوجہ کے نام سے مشہور ہوئے۔ خوجہ "خواجہ" سے لیا گیا ہے جس کے معنی بزرگ اور آغا کے ہیں۔

خوجوں کے آداب و رسوم اسلامی تہذیب اور ہندو رسم و رواج سے مرکب ہے؛ انیسویں صدی عیسوی میں آغا خان محلاتی (آغا خان اول) کے ذریعے اسلامی احکام سے زیادہ سے زیادہ آشنا ہوئے اور شیعوں کی ایک ذیلی شاخ اسماعیلیہ کے عقائد اپنانے لگے۔ آغاخان محلاتی خوجوں کے پہلے امام ہیں۔

انیسویں صدی عیسوی کے اواخر میں آغا خان کی سختی سے تنگ آکر کر ان میں سے ایک گروہ نے مذہب اہل سنت اور بعض نے شیعہ اثناعشریہ اختیار کیا۔ اس دوسرے گروہ کو خوجہ‌ اثناعشری کہا جاتا ہے۔

خوجہ آج کل دینا کے مختلف ممالک من جملہ ہندوستان، پاکستان، تنزانیہ، کنیہ، امریکہ کاناڈا، انگلستان اور فرانس میں آباد ہیں۔

پس منظر

آغا خان محلاتی (آغا خان اول) خوجوں کا پہلا امام

سنہ 1400ء[1] (نویں صدی ہجری) کو پیر صدر الدین نے برصغیر کے شہر سِندھ کا دورہ کیا اور وہاں کے زمینداروں میں نفوذ پیدا کرکے انہیں اپنے عقیدے کی طرف مائل کیا جسے وہ خود مسیر حقیقت سے تعبیر کرتے تھے۔[2]

جو افراد ان کے اعتقادات کو قبول کرتے تھے صدر الدین نہیں "خوجہ" کے نام سے یاد کرتے تھے۔[3] "خوجہ" فارسی کے لفظ "خواجہ" سے لیا گیا ہے[4] جس کے معنی بزرگ اور سردار کے ہیں۔[5]

صدر الدین کے مذہب کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں موجود ہیں۔ بعض مورخین انہیں ایک ایرانی درویش قرار دیتے ہیں؛ خوجہ شیعہ اثنا عشری کہتے ہیں: وہ ایک ہندو راہب تھا جس نے کسی معبد سے چوری کی تھا۔ اس کے بعد اپنی شناخت چھپانے کیلئے ظاہری شکل و شمائل تبدیل کرکے خود کو اسماعیلیہ ظاہر کرنے لگا۔[6] وہ ہندؤوں کو اپنی طرف مائل کرنے کیلئے خود ہندؤوں کے عقائد سے استفادہ کرتا تھا۔ مثلا امام علیؑ کو خدا کا دسواں تجسم یا ویشنو معرفی کیا ہندو جن کے انتظار میں تھے۔[7]

اعتقادات

خوجوں کے اعتقادات ابتداء میں صوفیوں اور ہندؤوں کے آداب و رسوم سے مرکب تھے۔[8] ان کا عقیدہ تھا کہ خدا نے کائنات میں حلول کیا ہے اس بنا پر تمام موجودات ذات خداوندی کے مالک ہیں۔[9] ان کے مطابق خدا نے 9 دفعہ انسانی شکل اختیار کی۔[10] ان کا یہ عقیدہ ہندؤوں سے لیا گیا ہے۔[11] پیر صدر الدین کے تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے یہ لوگ امام علیؑ کو خدا کا دسواں تجسم قرار دیتے ہیں۔[12]

سنہ 1839ء میں آغاخان محلاتی نے برصغیر کا دورہ کیا اور خوجوں کو جو برصغیر کے مختلف گوشوں میں بکھرے ہوئے تھے نماز پڑھنے، روزہ رکھنے اور ائمہ معصومینؑ کی زیارت پر جانے کی ترغیب دلاتے ہوئے انہیں مذہب اسماعیلیہ کے پیروکار بنا دیئے۔[13] انہیں خوجوں کا پہلا امام مانا جاتا ہے۔[14]

فرقے

تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ شروع میں خوجہ حضرات شیعوں اور سنیوں کے باہمی اختلافات سے آگاہ نہیں تھے۔[15] اسی بنا پر جب آغا خان محلاتی نے انہیں مذہب شیعہ اسماعیلیہ قبول کرنے کو کہا تو سب نے بغیر کسی مقاومت کے قبول کیا۔[16] لیکن کچھ مدت بعد آغا خان کی سختی کی وجہ سے بعض خوجوں نے مذہب اہل سنت اختیار کر لیا۔[17] 1870ء کے اوائل میں خوجوں کی ایک جماعت نے نجف میں اس وقت کے شیعہ مجتہد آیت‌ اللہ مازندرانی سے ملاقات کی اور آخر کار ان لوگوں نے مذہب شیعہ اثناعشریہ اختیار کر لیا۔[18]

جغرافیائی حدود

خوجہ‌ حضرات برصغیر کے شہر سِنْد کے رہنے والے تھے۔ انیسویں صدی عیسوی میں آغا خان محلاتی کے برصغیر دورے کے بعد یہ لوگوں برصغیر کے دوسرے شہروں من جملہ کوچ، گُجَرات، مُسقَط اور بمبئی میں بھی آباد ہونے لگے۔[19] خوجوں میں قرقہ بندی اور آغا خان اور اس کے پیروکاروں کی جانب سے خوجہ شیعہ اثناعشریوں کے ساتھ سختی اور خشک سالی وغیرہ کی بنا پر سنہ بیسویں صدی عیسوی کے اوائل میں اکثر خوجہ اثنا عشری نے شرق افریقہ کی طرف مہاجرت کی۔[20] سنہ 1947ء کو برصغیر کی تقسیم کے بعد بعض خوجوں نے پاکستان ہجرت کی۔[21]

آج کل خوجہ حضرات دنیا کے مختلف ممالک میں پراکندہ طور پر آباد ہیں:

  • ایشیاء میں: ہندوستان، پاکستان، ایران، کویت، بحرین، عربستان سعودی، امارات متحدہ عربی اور یمن۔
  • افریقہ میں: کنیہ، تنزانیہ، زئیر، راوانڈا، برونڈی، موزامبیک، ماڈاگاسکر، جزیرہ موریس اور ری‌یونیون،
  • یورپ میں: انگلستان، فرانس، بلجیم، سوئڈن، ناروے، پرتغال اور سوئیس،
  • امریکہ میں: امریکہ اور کاناڈا

وغیرہ میں اس وقت جوجہ حضرات آباد ہیں۔[22]

خوجہ اثناعشری

خوجہ اثناعشریوں کے راہنما حاجی دیو جی جمال

خوجہ اثناعشری خوجوں کی ایک شاخ ہے جن کا تعلق شیعہ اثناعشریہ سے ہے۔[23] یہ لوگ شیعہ مراجع کی تقلید کرتے ہیں۔[24] خوجوں کے پہلے امام آغا خان محلاتی کی سختی اور شیعہ علماء کے ساتھ رابطے کی وجہ سے ان میں سے ایک گروہ نے اسماعیلیہ چھوڑ کر مذہب شیعہ اثنا عشری اختیار کیا۔

خوجہ اثنا عشری مسلم کمیونیٹیز کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں تقریبا ان کی آبادی 125000 نفوس پر مشتمل ہے۔[25] ان کی اکثریت پاکستان، ہندوستان اور تنزانیہ میں رہتے ہیں[26]؛ لیکن امریکہ، کناڈا اور انگلستان میں بھی ان کی آبادی موجود ہے۔[27]

ملا قادر حسین اور دیوجی جمال [28] کو خوجہ اثناعشری کے بانیوں میں سے قرار دیتے ہیں۔[29] ان کے بعض سیاسی اور مذہبی مشہور شخصیات میں تنزانیہ میں بلال مسلم مشن کے بانی سید سعید اختر رضوی اور بانی پاکستان محمد علی جناح کا نام لیا جا سکتا ہے۔[30]

خوجہ اثنا عشری مسلم کمیونیٹیز[31]، بلال مسلم مشن[32] اور ویپاز (WIPAHS عالمی اسلامی تبلیغات اور انسانی خدامات)[33] خوجوں کے قابل ذکر عالمی اداروں میں سے ہے ہیں۔

حوالہ جات

  1. عرب‌ احمدی، شیعیان خوجہ اثنا عشری در گسترہ جہان، ۱۳۸۹ش، ص۱۵۔
  2. روغنی، شیعیان خوجہ در آیینہ تاریخ، ۱۳۸۷ش، صفحہ یازدہ۔
  3. روغنی، شیعیان خوجہ در آیینہ تاریخ، ۱۳۸۷ش، صفحہ نمبر 11۔
  4. روغنی، شیعیان خوجہ در آیینہ تاریخ، ۱۳۸۷ش، صفحہ یازدہ۔
  5. فرہنگ فارسی معین، ذیل واژہ «خواجہ»۔
  6. عرب‌ احمدی، شیعیان خوجہ اثنا عشری در گسترہ جہان، ۱۳۸۹ش، ص۱۵۔
  7. روغنی، شیعیان خوجہ در آیینہ تاریخ، ۱۳۸۷ش، صفحہ 11۔
  8. روغنی، شیعیان خوجہ در آیینہ تاریخ، ۱۳۸۷ش، صفحہ 11۔
  9. عرب‌احمدی، شیعیان خوجہ اثناعشری در گسترہ جہان، ۱۳۸۹ش، ص۱۵۔
  10. عرب‌احمدی، شیعیان خوجہ اثناعشری در گسترہ جہان، ۱۳۸۹ش، ص۱۵۔
  11. عرب‌احمدی، شیعیان خوجہ اثناعشری در گسترہ جہان، ۱۳۸۹ش، ص۱۵۔
  12. روغنی، شیعیان خوجہ در آیینہ تاریخ، ۱۳۸۷ش، صفحہ یازدہ۔
  13. عرب‌احمدی، شیعیان خوجہ اثناعشری در گسترہ جہان، ۱۳۸۹ش، ص۱۷۔
  14. عرب‌احمدی، شیعیان خوجہ اثناعشری در گسترہ جہان، ۱۳۸۹ش، ص۱۷۔
  15. روغنی، شیعیان خوجہ در آیینہ تاریخ، ۱۳۸۷ش، صفحہ 11۔
  16. روغنی، شیعیان خوجہ در آیینہ تاریخ، ۱۳۸۷ش، صفحہ‌ہای 11 اور 12۔
  17. عرب‌ احمدی، شیعیان خوجہ اثنا عشری در گسترہ جہان، ۱۳۸۹ش، ص۱۸۔
  18. عرب‌ احمدی، شیعیان خوجہ اثنا عشری در گسترہ جہان، ۱۳۸۹ش، ص۱۹۔
  19. روغنی، شیعیان خوجہ در آیینہ تاریخ، ۱۳۸۷ش، صفحہ‌ہای 11 اور 12۔
  20. روغنی، شیعیان خوجہ در آیینہ تاریخ، ۱۳۸۷ش، صفحہ‌ہای 12 اور 13۔
  21. روغنی، شیعیان خوجہ در آیینہ تاریخ، ۱۳۸۷ش، صفحہ چہاردہ۔
  22. روغنی، شیعیان خوجہ در آیینہ تاریخ، ۱۳۸۷ش، صفحہ چہاردہ۔
  23. عرب‌ احمدی، شیعیان خوجہ اثنا عشری در گسترہ جہان، ۱۳۸۷ش، ص۹۹۔
  24. روغنی، شیعیان خوجہ در آئینہ تاریخ، ۱۳۸۷ش، ص۵۵۔
  25. «About The World Federation of KSIMC»، وب‌گاہ The World Federation of KSIMCf Of Khoja Shia Ithna-Asheri Muslim Communities، دیدہ‌شدہ در ۲۰ آبان ۱۳۹۷ش۔
  26. عرب‌ احمدی، شیعیان خوجہ اثنا عشری در گسترہ جہان، ۱۳۸۷ش، ص۱۷۱و۲۷۷و۲۸۶۔
  27. عرب‌احمدی، شیعیان تانزانیا، ۱۳۷۹ش، ص۴۰۔
  28. روغنی، شیعیان خوجہ در آئینہ تاریخ، ۱۳۸۷ش، ص۱۔
  29. عرب‌ احمدی، شیعیان خوجہ اثناعشری در گسترہ جہان، ۱۳۸۷ش، ص۳۴۰۔
  30. روغنی، شیعیان خوجہ در آئینہ تاریخ، ۱۳۸۷ش، ص۱۴۱و۱۴۲و۱۵۷۔
  31. روغنی، شیعیان خوجہ در آئینہ تاریخ، ص۲۴۔
  32. رنجبر شیرازی، شیعیان تانزانیا، ۱۳۹۳ش، ص۷۷و۷۸۔
  33. عرب‌ احمدی، شیعیان خوجہ اثناعشری در گسترہ جہان، ۱۳۸۷ش، ص۱۸۷۔

مآخذ