سید علی حسینی خامنہ ای
| اسلامی جمہوریہ ایران کے دوسرے رہبر | |
|---|---|
| کوائف | |
| نسب | حسینی سادات |
| تاریخ پیدائش | 28 صفر 1358ھ/ 19 اپریل 1939ء |
| آبائی شہر | مشہد |
| سکونت | قم، تہران |
| ملک | ایران |
| تاریخ/مقام شہادت | 10 رمضان 1447ھ / 28 فروری 2026ء، بیت رہبری تہران |
| شریک حیات | منصوره خجستہ باقرزاده |
| اولاد | 4 بیٹے: مصطفی، مجتبی، مسعود و میثم ۔ 2 بیٹیاں: ہدی و بشری ۔ |
| دین | اسلام |
| مذہب | شیعہ اثناعشریہ |
| پیشہ | عالم دین |
| سیاسی کوائف | |
| مناصب | رکن مجلس شورائے اسلامی امام جمعہ تہران صدر جمہوریہ اسلامی ایران رہبر انقلاب اسلامی ایران |
| پیشرو | امام خمینی |
| علمی و دینی معلومات | |
| اساتذہ | سید جواد حسینی خامنہای، میرزا محمد مدرس یزدی، شیخ ہاشم قزوینی، سید محمد ہادی میلانی، حاج آقا حسین بروجردی، امام خمینی، مرتضی حائری یزدی، سید محمد محقق داماد، علامہ طباطبایی |
| تالیفات | قرآن میں اسلامی تفکر کا خاکہ پیشوائے صادق ترجمہ: صلح امام حسن 250 سالہ انسان |
| رسمی ویب سائٹ | پایگاہ نشر آثار و دفتر رہبری |
| دستخط | |
سید علی حسینی خامنہای (ولادت 1939ء - شہادت 2026ء)، آیت اللہ اور امام خامنہ ای کے نام سے مشہور شیعہ مرجع تقلید اور انقلاب اسلامی ایران کے دوسرے رہبر ہیں۔ آپ انقلاب اسلامی ایران کی پیروزی سے پہلے پہلوی حکومت کے خلاف چلائی جانے والی تحریکوں میں پیش پیش تھے، انہیں سرگرمیوں کی وجہ سے ایک مدت تک جیل میں اور پھر جلاوطنی کی زندگی گزاری۔ انقلاب اسلامی کی پیروزی کے بعد متعدد وظائف سنبھالے منجملہ دو بار (1982- 1990تک) اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر رہے ، اسی طرح آپ ایران کی قومی اسمبلی کے ممبر اور تہران کے امام جمعہ بھی رہے ہیں۔ آپ سنہ 1989ء میں رہبر انقلاب کے طور پر منتخب ہوئے اور رہتی عمر تک (فروری 2026ء) تک اس منصب پرفائز رہے۔
آیت اللہ خامنہ ای فقہی اور سیاسی افکار و نظریات کے مالک ہیں، منجملہ قمہ زنی اور اہل سنت مقدسات کی توہین کو حرام قرار دینا، ایٹمی اسلحہ کے استعمال کی ممانعت، استقامتی گروہوں کی حمایت، ثقافتی یلغار کا مقابلہ، معاشی استحکام پر تاکید اور رفرنڈم کے ذریعہ مسئلہ فلسطین کا حل و فصل ۔ آپ جھاد کو فوجی کارزار سے وسیع تر و بالاتر جانتے تھے اور جہاد تبیین کی تاکید کرتے تھے۔
آپ ادب اور معاصر تاریخ میں دلچسپی رکھتے تھے اور "امین" کے تخلص سے شاعری کرتے تھے۔ آپ کی تصانیف میں قرآن میں اسلامی فکر کا اجمالی خاکہ، 250 سالہ انسان، غِنا اور فلسطین آیت اللہ خامنہ ای کی نظر میں شامل ہیں۔ آپ نے دینی تعلیم کو بچپن سے ہی حاصل کرنا شروع کیا اور مشہد مقدس، نجف اشرف اور قم میں مام خمینی اور علامہ محمد حسین طباطبائی جیسے اساتذہ سے کسبِ فیض کیا اور حصول تعلیم کے ساتھ ساتھ آپ نے تدریس کے فرائض انجام دیئے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی قیادت اور رہبری کے دوران ہر سال حج کے موقع پر پیغامات جاری کئے ہیں جن میں مسلمانوں کے اتحاد کی حمایت،استقامتی محاذ کو مضبوط بنانے پر تاکید، ایران کی خارجہ اور عسکری پالیسیوں کی رہنمائی، حوزات علمیہ کے تحقیقاتی اور تعلیمی اداروں کے قیام اور ان کی سرپرستی نیز اسلامی ثقافت کے فروغ پر زور دیا ہے۔
آپ نے اسلامی نظام کے مستقبل کے راستے کی تعیین اسے صحیح جہت دینے کے لئے نئے شمسی سالوں کے مخصوص نام رکھنے کی روایت قائم کی اور "بیانیہ انقلاب کا دوسرا قدم" جاری کیا ۔
آیت اللہ خامنہ ای 10 رمضان 1447ھ بمطابق 28 فروری 2026ء کو سنیچر کی صبح امریکہ اور اسرائیل کے میزائل حملے میں بیت رہبری میں درجہ شہادت پر فائز ہوگئے۔
مقام و مرتبہ
سید علی خامنہ ای شیعہ مرجع تقلید اور اسلامی جمہوریہ ایران کے دوسرے رہبر ہیں۔ آپ کے انقلاب اسلامی ایران سے پہلے، پہلوی حکومت کے خلاف برسرپیکار تھے، اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کے قیام کے بعد وہ مختلف عہدوں پر فائز رہے، ان کے خیالات اور افکار ان کی قائدانہ حیثیت کے لحاظ سے خاص اہمیت کے حامل ہیں، وہ ایران میں سپریم لیڈر، رہبر انقلاب اسلامی، آیت اللہ خامنہ ای، اور امام خامنہ ای جیسے القابات و عناوین سے جانے جاتے ہیں۔
حیات اور خاندان
سید علی خامنہ ای مورخہ 19 اپریل سن 1939ء بمطابق 28 صفر 1358 ھ ق کو مشہد مقدس کے علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ [1] آپ کے والد سید جواد خامنہای (متوفی 1365 ش) اپنے زمانے کے علماء اور مجتہدین میں شمار ہوتے تھے جو نجف اشرف میں پیدا ہوئے اور وہیں تعلیم بھی حاصل کی [2] ۔ آیت اللہ خامنہ ای طفولت میں اپنے کنبے کے ہمراہ تبریز چلے آئے۔ سنہ 1336 ہجری کو انہوں نے مشہد ہجرت کیا اور کچھ عرصہ بعد نجف واپس چلے گئے اور میرزا محمد حسین نائینی، سید ابوالحسن اصفہانی اور آقا ضیاءالدین عراقی جیسے اکابرین سے کسب فیض کیا اور اجازۂ اجتہاد حاصل کرنے کے بعد[3] ایران واپس لوٹ آئے اور مشہد میں سکونت اختیار کیا، آپ مشھد مقدس کے حوزات علمیہ میں علوم دینیہ کی تدریس کے ساتھ ساتھ ، بازار مشہد کی مسجد صدیقی ہا (مسجد آذربائجانی ہا) میں امامت کے فرائض بھی انجام دیتے تھے۔[4] نیز آپ جامع مسجد گوہر شاد کے امام جماعت بھی تھے۔[5]
آیت اللہ خامنہ ای کا سلسلۂ نسب سادات افطسی اور سلطان العلماء احمد تک پہنچتا ہے جو پانچ پشت کے بعد امام سجادؑ تک پہنچتے ہیں۔ [6] تفرش [مکتوب1] میں مدفون امامزادہ محمد آپ کے اجداد میں سے ہیں۔[7]
سید حسین خامنہای (پیدائش تقریبا 1259 ھ وفات 20 ربیع الثانی سنہ 1325 ھ) کہ جو آئینی حکومت خواہاں علماء میں سے تھے اور محمد خیابانی کے خسر، ان کے دادا ہیں [8] جنہوں نے سید حسین کوہ کمرہ ای، فاضل ایروانی، فاضل شربیانی، میرزا باقر شکی اور میرزا محمد حسن شیرازی جیسے بزرگوں کی شاگردی کی ہے۔[9] آپ نجف سے واپسی کے بعد تبریز کے مدرسۂ طالبیہ کے مدرس اور اس شہر کی جامع مسجد کے امام جماعت رہے ہیں۔[10] اور سید محمد خامنہای (ولادت 1293 ھ - وفات 1353 ھ ) [11] کہ جو پیغمبرکے لقب سے مشہور ہیں اور آخوند خراسانی اور شریعت اصفہانی جیسے اکابرین کے شاگرد ہیں ۔[12] نیز مشروطہ کے طرفدار علماء میں سے ہیں، آپ کے چچا ہیں۔[13]
والدہ کی طرف سے آیت اللہ خامنہای کا سلسلۂ نسب سید محمد دیباج بن امام جعفر صادق(ع) تک پہنچتا ہے۔ [14] آپ کی مادر گرامی خدیجہ میردامادی (وفات 1368ھ ش) سید ھاشم میردامادی (وفات 1380ھ ق) کی بیٹی ہیں۔ [15]
آپ کی والدہ "بانو میر دامادی" (ولادت 1293 وفات 1368 شمسی)، ایک زاہدہ عابدہ اور شرعی احکام اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی پابند اور آیات قرآن و احادیث سے واقف، خاتون تھیں۔
آیت اللہ سید ہاشم نجف آبادی (میر دامادی) (ولادت 1303- وفات 1380 ھ)، آیت اللہ خامنہای کے نانا، عصر صفویہ کے مشہور فیلسوف میر داماد کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور آخوند خراسانی، محمد حسینی نائینی کے شاگرد تھے۔ وہ مفسرین قرآن اور مسجد گوہر شاد کے ائمۂ جماعت میں سے تھے[16] اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا خاص اہتمام کرتے تھے یہاں تک کہ (رضا شاہ کے دور میں مسجد گوہر شاد میں ہونے والے قتل عام پر اعتراض و تنقید کرنے کی وجہ سے سمنان جلاوطن کئے گئے۔ [17]۔[18]
شہادت
آیت الله خامنہ ای 10 رمضان 1447ھ، بمطابق 28 فروری 2026ء کو ایران میں بیت رہبری پر اسرائیل کے قاتلانہ حملہ میں شہید ہوگئے۔[19] اس قتل (ٹارگٹ کلنگ) پر حوزہ علمیہ نجف اور حوزہ علمیہ قم کے مراجع تقلید کی جانب سے شدید مذمتی بیانات سامنے آئے، جیسے آیتاللہ نوری ہمدانی اور آیت اللہ جوادی آملی نے بیان جاری کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جہاد کو واجب شرعی قرار دے دیا۔ اس واقعے کے بعد، مجلس خبرگان رہبری نے سید مجتبی خامنہای کو اسلامی جمہوریہ ایران کے تیسرے رہبر کے طور پر منتخب کر لیا۔ اسی دوران، ایران کی مسلح افواج نے آپریشن وعدہ صادق 4 کے تحت مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور امارات، کویت، بحرین، قطر، اردن اور سعودی عرب میں امریکی اڈوں پر اہداف کو نشانہ بنایا۔ اس واقعے کے نتیجے میں ایران، عراق، پاکستان، یمن اور متعدد دیگر ممالک کے مختلف شہروں میں وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئی۔ ایران میں سرکاری طور پر 40 دن سوگ کا اعلان کیا گیا۔
اس سے پہلے، ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے اسرائیل کا ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ میں آیتاللہ خامنہای کو قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔[20] اس دھمکی کے نتیجے میں بعض شیعہ مراجع تقلید نے کسی بھی ایسی حکومت یا ریاست کو جو اسلامی امت یا اس کی قیادت پر حملہ کرے، محارب قرار دے دیا۔ [[21] حوزہ علمیہ نجف اور قم میں اجتماعات منعقد ہوئے[22] اور حوزہ نجف کے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ایران کے رہبر پر کسی بھی قسم کا حملہ، مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ اور توحیدی تہذیب کی اقدار سے غداری کے مترادف ہے۔[23]
سیاسی اور سماجی نظریات
آیت اللہ خامنہ ای کے سیاسی اور سماجی نظریات جو آپ کی تقاریر، پیغامات، فتووں اور قلمی آثار کے ضمن میں بیان ہوئے ہیں:
سیاسی جدوجہد اور جہاد
آیت اللہ خامنہ ای کے مطابق شیعہ آئمہ طاہرین علیہم السلام کی سیاسی زندگی ظاہری طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ہی مقصد کی سمت جہد مسلسل کی ایک کڑی تھی جو تقریباً 250 سال تک جاری رہی۔ اس پورے عرصے میں ائمہ معصومینؑ نے انسانیت کی ترقی و سربلندی اور ایک اسلامی معاشرے کی تشکیل کے لئے زمانے کے تقاضوں کے مطابق مختلف انداز میں اپنے زمانے کے دشمنوں کا مقابلہ کیا۔[24] آپ جہاد کو صرف عسکری جہت تک محدود نہیں سمجھتے بلکہ آپ سیاسی، ثقافتی، میڈیا اور اقتصادی میدانوں میں دشمن کا مقابلہ کرنے کو جہاد قرار دیتے تھے۔[25] نیز انہوں نے دشمن کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لئے جہاد تبیین کی اصطلاح سے متعارف کرایا ہے۔[26]
اسلامی دنیا میں مسلم اتحاد کی حمایت
آیت اللہ خامنہ ای اسلامی اتحاد کا مطلب مسلمانوں کے درمیان دشمنی کی نفی سمجھتے ہیں اور اس کا لازمہ عقائد اور فرقوں کا ایک دوسرے میں ضم ہونا نہیں سمجھتے ہیں ۔[27] آپ نے شیعوں اور سنیوں کے درمیان تفرقہ انگیز تحریکوں کو بالترتیب برطانوی شیعہ اور امریکی اسلام کا نام دیا ہے۔ [28] 2010 ء میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ عائشہ کے خلاف یاسر الحبیب کے بیانات کے بعد، آپ نے فتویٰ دے کر اسلامی فرقوں کے مقدسات کی توہین کو حرام قرار دیا۔[29] آپ نے مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی و مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام جیسے اداروں کی حمایت، ادیان و مذاہب بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت اور علمائے عالم اسلام سے ملاقاتوں کے ذریعے مسلم اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔[[30] وہ بیرونی عامل خصوصا انگلینڈ کو عالم اسلام میں مذہبی اختلافات کو ہوا دینے کا تاریخی سابقہ رکھنے والا ملک سمجھتے ہیں اور تفرقہ افکنی و اختلافات کے نتائج سے خبردار کرتے رہے ہیں۔[31]
ایرانی قوم اپنی اسلامی اور شیعہ تعلیمات سے بخوبی آگاہ ہیں؛ وہ جانتی ہے کہ انہیں کیا کرنا چاہئے۔ امام حسینؑ نے فرمایا: مِثلی لا یُبایِعُ مِثلَ یَزید؛ مجھ جیسا شخص یزید جیسے شخص کی بیعت نہیں کرے گا۔ آج ایرانی قوم بھی درحقیقت یهی کہتی ہے کہ: ہم جیسی قوم، اس ثقافت، تاریخ اور ان اعلی تعلیمات کے ساتھ ایسے فاسد اشخاص جو آج امریکہ میں برسر اقتدار ہیں کی ہرگز بیعت نہیں کرے گی۔
آخری بار مشرقی آذربائیجان صوبے کے عوام سے ملاقات کے دوران ہونے والی گفتگو سے اقتباس، 28 بہمن 1404
آیت اللہ خامنہ ای کے مطابق کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شیعہ مذہب کو ثابت کرنے کا راستہ یہ ہے کہ انسان اہل سنت کے بزرگان کو مسلسل برا بھلا کہے اور ان کی اہانت کرے؛ ہرگز، یہ ائمہ طاہرین علیہم السلام کی سیرت کے خلاف ہے، حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ ملاحظہ کررہے ہیں کہ اسلامی دنیا میں ایسے ریڈیو یا ٹیلی ویژن وجود میں آرہے ہیں جن کا کام یہ ہے کہ وہ شیعہ کے نام سے یا شیعہ کے عنوان سے دیگر اسلامی فرقوں کے بزرگان کو برا بھلا کہ رہے ہیں، واضح ہے کہ اس کا بجٹ برطانوی خزانے کا بجٹ ہے۔ یہ بجٹ انگلینڈ کا بجٹ ہے، یہ برطانوی شیعیت ہے، کوئی گمان نہ کرے کہ شیعیت کی توسیع، شیعت کا عقیدہ اور شیعوں کے ایمان کی تقویت، اس طرح سے برا بھلا کہنے اور اس طرز گفتگو کی وجہ سے ہے ۔ نہیں، اس کا الٹا اثر ہوتا ہے۔ جب آپ برا بھلا کہیں گے، توہین کریں گے تو گویا غصہ اور جزبات کی چاردیواری کھڑی کر رہے ہیں کہ اس حالت میں سچائی اور حق بات بھی ان کے لئے قابل برداشت نہ ہوگی۔ [32]
"قمہ زنی کا تعلق مذہب یا عزاداری سے نہیں ہے اور یہ یقینی طور پر خلاف شریعت اور بدعت ہے اور بلا شبہ اللہ تعالیٰ اس کے عمل سے راضی نہیں ہے، اور میں بھی قمہ زنی کرنے والے شخص سے راضی نہیں ہوں۔ [33]
ثقافتی اور علاقائی مسائل
آیت اللہ خامنہ ای ثقافتی یلغار و جارحیت کو قوموں پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے دانستہ حملہ سمجھتے ہیں[34] کہ جو رضا شاہ کے زمانے سے شروع ہوا اور عراق و ایران جنگ کے بعد جاری رہا۔[35] وہ نیز "مغربی ایشیا" کی اصطلاح کو مشرق وسطیٰ کا متبادل اور نام گزاری کو بہتر سمجھتے ہیں۔[36] آپ نے سنہ 2010ء میں عرب ممالک میں رونما ہونے والی انقلابی تحریکوں کو جنہیں میڈیا میں عرب بیداری کا نام دیا گیا [37] ، اسلامی بیداری کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔[38] رہبر انقلاب کے نقطۂ نظر سے اسلامی بیداری محض ایک سیاسی واقعہ نہ تھی۔ [39] چنانچہ محض بعض سیاسی اقدامات منجملہ دہشت گردانہ کاروائیوں اور عسکری بغاوتوں کے ذریعے اس کو کچلا نہیں جا سکتا، اسلام دشمن طاقتیں مؤمنین اور امت اسلامی کی بصیرت سے ہراساں ہیں ہمیں اس بصیرت کو روز بروز تقویت پہنچانا چاہئے ۔ [40]
ثقافتی یلغار
سنہ 1990 عیسوی کے عشرے کے پہلے برسوں میں آیت اللہ العظمی خامنہای نے "ثقافتی یلغار" اور "ثقافتی شب خون" جیسی اصطلاحات اور عبارتیں بروئے کار لا کر [41] تہذیب و ثقافت کے میں ہمہ دانوں کو معاشرے میں ثقافتی تبدیلیوں کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی۔ ان کی رائے کے مطابق "ثقافتی یلغار اور ثقافتی تعامل و مبادلے سے تضاد رکھتی ہے [42] اور یہ استعماری طاقتوں کی طرف سے ایک سوچی سمجھی یلغار ہے جس کا مقصد دوسری اقوام کی ثقافت کو تباہ کرنا اور ان پر زیادہ سے زیادہ تسلط جمانا ہے"۔ [43]
مسئلہ فلسطین
ان کی نگاہ میں مسئلہ فلسطین کا حل ریفرنڈم کا انعقاد ہے کہ جس میں تمام فلسطینی بشمول مسلمان، عیسائی اور یہودی شریک ہوں۔ [44] آیت اللہ خامنہ ای معتقد ہیں کہ فلسطین کی آزادی کا راستہ مزاحمت ہے [45] اور مسئلہ فلسطین پر مذاکرات کو ایک ایسی غلطی سمجھتے ہیں جس سے فلسطینیوں کو صرف نقصان پہنچے گا اور فلسطین کی آزادی میں تاخیر کا باعث ہوگا۔[46]
اقتصادیات اور گھریلو انتظام
آیت اللہ خامنہ ای نے مزاحمتی معیشت کو پابندیوں کا مقابلہ کرنے اور ایران کی ملکی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے حل کے طور پر متعارف کرایا ہے۔[47] ان کی تاکید کے نتیجے میں مزاحمتی معیشت کی اصطلاح ایرانی سیاسی ادب میں داخل ہوئی۔[48] آپ نے لوگوں کی ثقافتی، مذہبی اور اقتصادی مسائل کی طرف توجہ مبذول کرنے کی غرض سے 1999ء سے شمسی سال کا نام رکھنا شروع کیا۔[49] 11 فروری 2019ء کو اسلامی انقلاب کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پر انقلاب کا دوسرا قدم کے عنوان سے ایک بیان جاری کیا، جس میں انقلاب کے دوسرے 40 سالوں کے لئے ایک روڈ میپ کا خاکہ پیش کیا گیا تھا۔[50]
آیت اللہ خامنہ ای "یقیناً میں اس خطے کو "مغربی ایشیا" کہنے پر اصرار کرتا ہوں، مشرق وسطیٰ نہیں۔ مشرق بعید، مشرق وسطیٰ، مشرق وسطیٰ کی اصطلاحات درست نہیں ہیں۔ دور کہاں سے؟ یورپ سے ۔ قریب کہاں سے؟ یورپ سے؛ یعنی دنیا کا مرکز یورپ ہے؛ جہاں بھی یورپ سے دور ہے، اسے مشرق بعید کہا جاتا ہے؛ جہاں کہیں بھی قریب ہے، وہ مشرق قریب ہے ، جو وسط میں ہے، وہ مشرق وسطیٰ ہے، یہ وہ تعریف ہے جسے خود یورپین نے کیا ہے ہم نے نہیں، ہمیں یہ قبول نہیں، ایشیا ایک برصغیر ہے جیسا کا مشرق ہے، مغرب ہے اور وسطی ہے، ہم مغربی ایشا میں ہیں اور ہمارا خطے کا نام مغربی ایشیا ہے مشرق وسطیٰ نہیں ۔[51]
حوزہ علمیہ اور اسلامی تہذیب
آیت اللہ خامنہ ای نے حوزہ علمیہ قم کے دوبارہ قیام کی 100 ویں سالگرہ کی بین الاقوامی کانفرنس کے نام ایک پیغام میں حوزات علمیہ کو جدت طرازی، جدید مسائل کی جواب دہی، تہذیب، انقلابی جذبات اور سماجی نظام کے سلسلہ میں پروگرامینگ پر موظف کیا اور جدید اسلامی تہذیب کی ترویج، حوزہ علمیہ کا سب سے اہم فریضہ بیان کیا۔ [52]
مسلط کردہ صلح کی مخالفت
آیت اللہ خامنہ ای کے نزدیک مزاحمت کے اخراجات، سمجھوتے کی اخراجات سے کم ہیں[53] اور ایران کے ہتھیار ڈالنے یا اپنے جوہری حقوق سے دستبردار ہونے کے مخالف ہیں۔ نیز آپ نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ایران مسلط کردہ جنگ یا مسلط کردہ صلح کو قبول نہیں کرے گا۔[54]
فقہی نظریات
آیت اللہ خامنہ ای فقہ اور دین کے میدان میں قمہ زنی کو بدعت اور حرام قرار دیتے ہیں۔[55] آپ جامع مسجد کے سوا اعتکاف کو رجاء کی نیت سے جائز جانتے ہیں۔[56] موسیقی اور گانے کے باب میں، آپ کسی بھی ایسی موسیقی کو جس میں باطل اور گمراہ کن لہو و لعب موجود ہو[57] نیز وہ موسیقی جو مذہب اور شرعی ذمہ داریوں سے بے توجہی کا سبب بنے حرام سمجھتے ہیں۔ [58] اسی طرح ایٹمی ہتھیاروں کی پیداوار اور اس کا استعمال اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے دیگر ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال کو بھی حرام قرار دیا ہے[59] اور اسلامی مکاتب فکر کے مقدسات کی توہین کو جائز نہیں سمجھتے ہیں۔[60] ان کی نگاہ میں بیوی اپنے شوہر کی تمام جائیداد بشمول غیر منقولہ جائیداد میں میراث کی حقدار ہے۔ [61] یہ نظریہ ان فقہاء کے قول کے برعکس ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ بیوی صرف اپنے شوہر کی منقولہ جائیداد سے میراث پاسکتی ہے۔ [62]
علمی سفر
تحصیل علم
سید علی خامنہای نے حصول تعلیم کا سلسلہ چار سال کی عمر میں مکتب میں قرآن کریم سے شروع کیا۔ [63] پرائمری اسکول میں تعلیم جاری رکھی اور ساتھ ہی قرائت و تجوید قرآن کے سلسلے میں مشہد کے بعض قراء کرام سے مستفید ہوئے[64] اور پرائمری اسکول کا مرحلہ مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ دینی مدرسہ سلیمان خان میں دینی علوم کے حصول کا آغاز کیا۔ انھوں نے سطح کا مرحلہ مدرسہ نواب میں پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ انھوں نے مقدمات اور سطح میں اپنے والد سے کسب فیض کیا۔ حوزوی تعلیمات کے ساتھ ساتھ کالج میں بھی انٹر تک تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔[65]
آپ نے سنہ 1334 ھ ش میں آیت اللہ سید محمد ہادی میلانی کے درس خارج فقہ میں شرکت کی اور دو سال بعد سنہ 1336 ھ ش میں اپنے گھرانے کو لے کر نجف چلے گئے اور حوزہ علمیہ نجف کے مشہور اساتذہ کے دروس میں شرکت کی لیکن نجف میں قیام کے حوالہ سے والد کے راضي نہ ہونے کی وجہ سے مشہد لوٹ آئے[66] اور آیت اللہ میلانی کے درس میں کی شرکت کی اور پھر سنہ 1337 ھ ش میں حوزہ علمیہ قم کا رخ کیا ۔[67]
آیت اللہ خامنہای سنہ 1343ھ ش میں والد کے بصارت کھو دینے کے باعث ان کی مدد کے لئے قم سے مشہد واپس لوٹ گئے اور آیت اللہ میلانی کے درس میں شرکت کی اور یہ سلسلہ 1349 ھ ش تک جاری رہا۔
تدریس

انھوں نے مشہد میں ابتداء ہی سے فقہ اور اصول الفقہ کی اعلی سطح (رسائل و مکاسب شیخ انصاری اور کفایہ) کی تدریس کا اہتمام کیا اور عام لوگوں کے لئے بھی تفسیر قرآن کے دروس رکھے۔ انھوں نے سنہ 1347 ھ ش سے دینی طلبہ کے لئے تفسیر قران کے تخصصی کورس کا آغاز کیا کہ جو سنہ 1356 ھ ش میں آپ کی گرفتاری اور ایران شہر جلاوطنی تک جاری رہا۔[69] درس تفسیر کا سلسلہ ان کی صدارت کے زمانے میں کچھ عرصے تک جاری تھا اور سنہ 1369 ھ ش میں انھوں نے درس خارج فقہ کی تدریس کا حسینہ امام خمینی میں آغاز کیا اور ابواب جہاد، قصاص، مکاسب محرمہ اور نماز مسافر کی تدریس کی۔[70]
اساتذہ
سطوح
- سید جلیل حسینی سیستانی، معالم الاصول
- سید جواد خامنہای، شرح لمعہ، رسائل، مکاسب اور کفایۃ الاصول
- میرزا محمد مدرس یزدی، شرح لمعہ
- آیت اللہ حاج شیخ ہاشم قزوینی، رسائل و مکاسب و کفایۃ
درس خارج
- آیت اللہ سید محمد ہادی میلانی
- آیت اللہ بروجردی
- امام خمینی
- آیت اللہ حاج شیخ مرتضی حائری یزدی
- آیت اللہ سید محمد محقق داماد
- علامہ طباطبائی[71]
مذکورہ علمی شخصیتیں آپ کے اساتذہ ہیں نیز کہا جاتا ہے کہ ایک مختصر مدت کے لئے مجتبی قزوینی کے فلسفہ کے درس میں شرکت کی ہے ۔[72]
| « | سید علی خامنہ ای نے ریڈیو آف اسلامی جمھوریہ ایران کے خاص گروہ اور معارف اسلامی گروہ کے ارکان سے خطاب میں کہا: معارف اسلامی کے باب میں مجھے خاص مہارت حاصل ہے ، یعنی اگر آپ حضرات کسی ایک ماہر فرد سے معارف کے سلسلہ میں گفتگو کرنا چاہیں تو مجھ سے گفتگو کریں، میں ایک طالب علم ہوں جس نے اپنی عمر فقط تعلیم میں نہیں بلکہ معارف کی تبلیغ میں صرف کی ہے ۔ اگر مبالغہ ارائی نہ ہو تو عرض کروں کہ میں نے آپ میں سے بہت سارے افراد کے عمر کے بقدر ایسی نشستوں اور جلسات میں وقت گزارا ہے جس میں عام لوگ اور تعلیم یافتہ افراد بھی موجود تھے اور ہر طرح کے افراد سے روبرو رہا ہوں، میں جانتا ہوں کہ معارف، معارف کا بیان کرنا ، معارف کی تبلیغ اور معارف کو ادا کرنا کیا ہے اور کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔ | » |
مرجعیت

سنہ 1994ء میں آیت اللہ محمد علی اراکی کے انتقال کے بعد جامعہ مدرسین حوزه علمیہ قم اور جامعہ روحانیت مبارز(انقلابی علماء کونسل) نے آیت اللہ خامنہ ای کو مراجع تقلید عظام میں سے ایک فرد کے طور پر معرفی کیا ، آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی ایک تقریر کے ضمن میں اعلان فرمایا کہ ایران کے اندر آپ کی مرجعیت کی ضرورت نہیں ہے فقط ملک سے باہر شیعوں کی درخواستوں کو قبول کریں گے نیز اگر مستقبل میں کوئی اس فریضے کو انجام دے سکے تو وہ اس فریضے کو ترک کردیں گے۔ [74] آپ کے فتووں کا پہلا مجموعہ کتاب «اجوبة الاستفتائات» ہے جس میں آپ کے مقلدین اور شیعوں کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات موجود ہیں۔
علمی کاوشیں
آیت اللہ العظمی خامنہای نے تحقیق و تالیف کا آغاز طالب علمی کے زمانے سے ہی کیا تھا اور اپنے اساتذہ کا درس خارج لکھ لیتے تھے۔[75] آیت اللہ العظمی خامنہای کے افکار و آراء کو حدیث ولایت نامی مجموعے میں اکٹھا کیا گیا۔ آپ کے اقوال اور مکتوب پیغامات کو مختلف کتب کی صورت میں مرتب کرکے شائع کیا گیا ہے۔ آپ نے رجال ، تفسیر قران ، فقہ ، کلام اور اسلامی تاریخ میں تصنیف یا ترجمہ کیا ہے ۔


تألیف
- چہار کتاب اصلی علم رجال:
- پیشوائے صادق؛
- از ژرفای نماز؛
- گفتاری در باب صبر
- صبر
- روح توحید نفی عبودیت غیر خدا
- حوزہ علمیہ مشہد کی گذشتہ تاریخ اور موجودہ حالات کی رپورٹ ۔
کی جانب اشاره کیا جا سکتا ہے۔
ترجمہ
- آئندہ در قلمرو اسلام، تالیف: سید قطب
- صلح امام حسن (ع) (پرشکوہ ترین نرمش قہرمانانہ تاریخ)، تالیف: شیخ راضی آل یاسین
- تفسیر فی ظلال القرآن، تالیف: سید قطب
- مسلمانان در نہضت آزادی ہندوستان، تالیف: عبد المنعم النمر
- ادعا نامہ علیہ تمدن غرب۔
اس کے علاوہ بعض کتابیں منجملہ ؛ «طرح کلی اندیشه اسلامی در قرآن»، «فلسطین از منظر آیتالله خامنهای»، «غناء»، «انسان 250 ساله»، «شعاعی از نیّر اعظم» و «آفتاب در مصاف» آپ کی تقاریر کا مجموعہ ہیں ، جو قران کریم ، رسول خدا (ص) ، ائمہ طاھرین (ع)، سیاسی و سماجی مسائل اور فلسفہ اسلامی کے سلسلہ میں آپ کے نظریات کو بیان کرتی ہیں ، نیز جناب موسی (ع) کے فرعون اور جادوگروں سے روبرو ہونے سلسلہ میں آپ کی غزلیات کی کتاب منتشر ہوئی جو عملیات صادق 2024 ء میں مورد توجہ رہی ۔ [76]
پہلوی حکومت کے خلاف سیاسی جدوجہد
آیت اللہ خامنہ ای پہلوی حکومت کے خلاف بر سرپیکار اور انقلاب اسلامی ایران کے سرگرم کارکن تھے، آپ کی سیاسی سرگرمی اور جدوجہد کا آغاز مشہد مقدس میں سید مجتبیٰ نواب صفوی سے ملاقات کی جانب منسوب کیا جاتا ہے۔ آپ سنہ 1962-1963عیسوی میں [77] آیت اللہ العظمی خامنہای امام خمینی اور آیت اللہ میلانی کے درمیان پیغامات کے تبادلہ کا ذریعہ تھے۔[78] آپ نے بیرجند کے دورہ میں حکومت کے خلاف تقرریں کئے[79] نتیجہ میں 2 جون سنہ 1963 عیسوی میں مطابق 7 محرم کو گرفتار کرلئے گئے اور مشہد میں قید کردیئے گئے۔[80] نیز حوزہ علمیہ قم کے خراسانی طلبہ کو امام خمینی کی نظربندی جاری رہنے کے اعتراض میں وقت کے وزیر اعظم حسن علی منصور کو احتجاجی مراسلہ بھیجنے کیلئے اکسایا جن میں آیت اللہ خامنہ ای بذات خود اور ابوالقاسم خز علی اور محمد عبائی خراسانی بھی شامل تھے۔[81]
آیت اللہ خامنہای کو جنوری سنہ 1964 عیسوی کو ماہ مبارک رمضان کے اخری ایام میں زاہدان کی مساجد میں تقاریر کی وجہ سے حراست میں لے لیا گیا اور تہران کے قید خانے قزل قلعہ میں منتقل کردیا گیا ۔ [82] 4 مارچ سنہ 1964 عیسوی کو قید خانے سے رہا کئے گئے۔[83] مارچ سنہ 1967 عیسوی میں سید حسن قمی کی مسجد گوہرشاد مشہد سے گرفتاری انہیں جلاوطن کرنے پر آیت اللہ خامنہای نے آیت اللہ میلانی سے مطالبہ کیا کہ حکومت کے اس اقدام پر احتجاج کریں۔[84] نتیجہ میں مورخہ 3 اپریل 1967عیسوی میں موصوف کو آیت اللہ شیخ قزوینی کے جنازے سے ہی گرفتارکرلیا گیا [85] اور تقریبا چار ماہ تک جیل میں بند رہے۔[86] پہلوی خاندان کے 2500 سالہ جشن کے پیش نظر اگست سنہ 1971 عیسوی میں مشہد کی ساواک نے انہیں بلوایا اور کچھ عرصے تک خراسان ڈویژن کے قیدخانے میں بند کردیا۔[87] کیونکہ امام خمینی نے اس جشن کی مخالفت کی تھی اور اس کو حرام قرار دیا تھا۔[88]
آپ کو تنقیدی تقریریں کرنے کی بناء پر کئی بار گرفتار کیا گیا،[89] اور جماعت کی نماز کی امامت، تقاریر اور تدریس جیسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی۔[90] تاہم، آپ خفیہ طور پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔ [91] آپ کی تفسیر قران کریم کی نشستیں ابتداء میں مدرسہ علمیہ مرزا جعفر، مسجد امام حسن، مسجد قبلہ اور آپ کے گھر میں منعقد ہوتی رہیں، اور دسمبر 1973 میں انہیں مسجد کرامت میں منتقل کردیا گیا۔[92]
آپ سید محمود طالقانی، مہدی بازارگان اور ید اللہ صحابی کے ساتھ جو امام خمینی کی حمایت کرنے کے جرم میں قید تھے، رابطے میں تھے،[93] اور بعض اوقات سیاسی قیدیوں سے ملاقات کرنے جایا کرتے تھے۔[94] آیت اللہ خامنہ ای متعدد علماء منجملہ عبدالرحیم ربانی شیرازی، سید محمد حسینی بہشتی، اکبر ہاشمی رفسنجانی، اور محمد تقی مصباح یزدی [95] سمیت گیارہ رکنی گروپ کا حصہ تھے جو حوزہ علمیہ قم میں استحکام لانے اور پہلوی حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کی حمایت کرنے کی غرض سے تشکیل پائے تھے۔[96] مرجعیت میں استحکام پیدا کرنے اور امام خمینی کو مضبوط کرنے کی کوشش آپ کی دوسری سیاسی سرگرمیوں کا حصہ ہے ۔[97]
ایرانشہر اور جیروفت کی جلاوطنی
آیت اللہ خامنہ ای کو سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے دسمبر 1977ء میں ایران شہر سے جلاوطن کردیا گیا۔ [98] اگست 1978 میں ساواک نے ان کی جلاوطنی کی جگہ بدل کر جیروفٹ میں قرار دے دیا، [99] اور آپ وہاں تقریباً ڈھائی ماہ تک رہے۔ جلاوطنی کا حکم سید مصطفی خمینی کی مسجد ملا ہاشم مشھد میں مجلس ترحیم منعقد ہونے کے بعد جاری کیا گیا تھا۔[100] کیونکہ آپ نے بعض انقلابی راہنماؤں کے ساتھ مل کر اس مجلس ترحیم کا اہتمام کیا تھا۔[101] آپ نے جلاوطنی کے دوران بھی اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
"آقائے ایرانشہر"[102] اور "جلاوطنی پر"[103] کتابوں میں ان کی جلاوطنی کے 258 دنوں کے حالات کو پیش کیا گیا ہے۔
انقلابِ اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد
شورائے انقلاب میں رکنیت
انقلاب کونسل کی رکنیت امام خمینی کی فرانس ہجرت کرنے کے بعد ان کی ہدایت پر جنوری 1978 میں انقلاب اسلامی کونسل (Revolutionary Council) تشکیل پائی [104] اور اس کونسل کے ابتدائی اراکان میں آیت اللہ خامنہای علاوہ مرتضی مطہری، سید محمد حسینی بہشتی، سید عبدالکریم موسوی اردبیلی، محمد رضا مہدوی کنی، محمد جواد باہنر اور اکبر ہاشمی رفسنجانی تھے۔ [105]
آیت اللہ خامنہ ای جنوری 1978[106] میں اسلامی انقلابی کونسل کی تشکیل کے آغاز سے ہی اس کے اجلاسوں میں شریک رہے اور جولائی 1980 میں اس کے اختتام تک اس کے رکن رہے۔[107] انقلابی کونسل مقابلہ کے سلسل میں اہم فیصلے، منجملہ پہلوی حکومت اور بیرونی ممالک سے گفتگو، امام خمینی کے استقبال کے لیے کمیٹی کی تشکیل [108] اور مہدی بازارگان کو عبوری حکومت کے سربراہ کے طور پر متعارف کرانے کی ذمہ دار تھی۔[109]
دفاعی اور عسکری اداروں میں موجودگی
جولائی 1979 میں، آیت اللہ خامنہ ای کو وزارت دفاع کا نائب برائے انقلابی امور مقرر کیا گیا اور وہ سیکورٹی وزراء کے کمیشن کے رکن بن گئے۔[110] نیز دستاویزی مرکز اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سرپرست بھی تھے۔[111] تاہم، مارچ 1979 میں، پارلیمنٹ اف اسلامی جمھوریہ ایران کے پہلے الیکشن میں امیدوار بننے کی وجہ سے اس عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔[112] آپ 10 مئی 1980 کو امام خمینی کے حکم سےڈیفنس سپریم کونسل میں امام خمینی کے نمائندے اور اس کونسل کے ترجمان بن گئے اور اپنی صدارت کے دوران میں وارسپورٹ سپریم کونسل کے سربراہ بھی تھے۔[113]
اسلامی جمہوریہ پارٹی کی تاسیس میں آپ کا کردار
آیت اللہ خامنہ ای نے سید محمد حسینی بہشتی، محمد جواد باہنر، اکبر ہاشمی رفسنجانی اور دیگر کے ساتھ انقلاب کے دوران میں ایک انقلابی تنظیم کے قیام کے لیے کام کیا[114]، جو 18 فروری 1979 کو اسلامی جمہوریہ پارٹی کے نام سے قائم ہوئی۔[115]آپ پارٹی کے منشور کی تیاری اور پروپیگنڈے میں کردار ادا کیا۔[116] آپ شہریور 1360 ھ ش میں پارٹی کے تیسرے جنرل سیکریٹری کے طور پر منتخب ہوئے[117] اور 1362 ھ ش میں دوبارہ جنرل سکریٹری اور پارٹی کی مرکزی کونسل کے رکن کے طور پر منتخب ہوئے۔[118]
تہران کے امام جمعہ
بسم الله الرحمن الرحیم
خدمت جناب مستطاب سیدالاعلام و حجت الاسلام آقای حاج سید علی خامنہ ای دامت افاضاتہ چونکہ جناب مستطاب حجت الاسلام و المسلمین آقای منتظری دامت افاضاتہ کا حوزہ علمیہ قم میں رہنا لازم ہے اس بناء پر انہوں نے خود ہی تہران کی نماز جمعہ کی امامت سے استعفیٰ دے دیا ہے آپ کہ الحمد للہ موصوف کی طرح بہترین سابقہ اور علم و عمل کے مالک و لائق تحسین ہیں، تہران کی نماز جمعہ کے امام کے طور پر منصوب کئے جاتے ہیں، میں خداوند متعال سے لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کے سلسلہ میں آپ کی توفیقات میں اضافہ کا طلبگار ہوں۔
امام خمینی، صحیفہ امام خمینی، ادارہ تالیف و اشاعت امام خمینی، ج 12، ص 116۔
امام خمینی نے 14 جنوری 1980ء کو آیت اللہ خامنہ ای کو تہران کا امام جمعہ مقرر کیا،[119] انھوں نے 18 جنوری سنہ 1980ء کو نماز جمعہ کی پہلی امامت کے فرائض انجام دئے[120] اور شہادت تک یہ منصب آپ کے پاس رہا۔ اس عہدے پر ان کے اقدامات میں سے اندورن ملک اور بیرون ملک ائمہ جمعہ کے نیٹ ورک کو مضبوط کرنے کے لئے ائمہ جمعہ سیمینار منعقد کرنے کی تجویز [121] اور نماز جمعہ کا دوسرا خطبہ فارسی میں دینا، شامل ہے، یہ سیمینار امام خمینی کی منظوری کے بعد قم کے مدرسہ فیضیہ میں منعقد ہوا۔[122]
ایران کی قومی اسمبلی کی رکنیت
آیت اللہ خامنہ ای 14 مارچ 1980ء میں اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے پہلے الیکشن میں تہران کے حلقے سے انقلابی علماء کونسل اور اسلامی جمہوریہ پارٹی کی حمایت سے[123] پارلیمنٹ میں داخل ہوئے اور دفاعی امور کمیشن کے رکن اور چیئرمین و سربراہ تھے۔
آیت اللہ خامنہ ای پر قاتلانہ حملہ
آیت اللہ خامنہ ای 27 جولائی 1981ء کو مسجد ابوذر تہران میں قاتلانہ حملے کا نشانہ بنے، [124] آپ نماز ظہر کے بعد تقریر کر رہے تھے کہ ٹیپ ریکارڈر میں چھپایا گیا بم شدید دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا، اس حملہ میں آپ کاندھے، سینے اور دائیں ہاتھ کی طرف سے شدید زخمی ہوئے۔[125] اس حادثے کے اثرات رہتے دم تک آپ کا ساتھ رہے اور آپ داہنے سے تقریبا معذور رہے۔ ابتداء میں یہ قاتلانہ حملہ فرقان گروپ کی جانب منصوب ہوا [126] لیکن بعض ذرائع نے پیپلز مجاہدین تنظیم کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔[127]
امام خمینی نے آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے نام اپنے پیغام میں ان پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی اور ان کی تعریف و تمجید کی۔ [128]
سید علی خامنہ ای مورخہ 9 اگست 1981ء کو اسپتال سے فارغ ہوکر ایک بار پھر معاشرتی اور سیاسی میدان میں داخل ہوئے اور مورخہ 17 اگست 1981 عیسوی سے اسلامی جمھوریہ ایران کی پارلیمںٹ کے اجلاسوں میں حاضر ہونا شروع کردیا۔ [129]
اسلامی جمہوریہ ایران کی صدارت کا دور
پہلا دور
آیت اللہ خامنہ ای 2 اکتوبر 1981ء کو11/95 فیصد ووٹوں کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے تیسرے صدر طور پر منتخب ہوئے، ۔[130] اسلامی جمہوریہ ایران کے دوسرے صدر محمد علی رجائی کی شہادت کے بعد منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات میں، اسلامی جمہوریہ پارٹی کی مرکزی کونسل اور ٹیچرس کونسل آف حوزہ علمیہ قم نے آپ کے امیدوار بننے کی حمایت کی۔ امام خمینی بھی جو اس وقت صدر کے طور پر علماء کی تقرری سے متفق نہیں تھے، آپ کے امیدوار ہونے پر متفق ہوئے۔ [131] مورخہ 9 اکتوبر سنہ 1981ء کو امام خمینی نے ان کے صدارتی فرمان کی تصدیق کردی اور مورخہ 13 اکتوبر سنہ 1981 ء کو انھوں نے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ [132]
دوسرا دور
آیت اللہ خامنہ ای 16 اگست 1985 کو ہونے والی چوتھے صدارتی الیکشن میں بھی کل ووٹ 14 میلین 2 لاکھ 38 ھزار 587 ووٹ کا (85%) حصہ 12 ملین 2 لاکھ 5 ھزار 12 ووٹ حاصل کرکے دوسری بار ایران کے صدر منتخب ہوئے اور اگست 1989 تک اس عہدے پر فائز رہے، مورخہ 4 جون سنہ 1989 عیسوی کو امام خمینی رحلت کرگئے اور آپ کو رہبر کے عنوان سے منتخب کیا گیا اس کے بعد منصب صدارت سے سبک دوش ہوگئے۔
امام خمینی نے آیت اللہ خامنہ ای کی صدارت کے دوران، مختلف بلوں کی منظوری میں پارلیمنٹ اف اسلامی جمھوریہ ایران اور گارڈین کونسل کے درمیان اختلافات کو دور کرنے کے لئے ایکسپڈینسی ڈیسرنمنٹ کونسل (Expediency Discernment Council ) کی تشکیل پر اتفاق کیا۔ [133] آیت اللہ خامنہ ای اس کے پہلے چیئرمین بنے، [134] جو اپنی صدارت کے اختتام تک اس عہدے پر فائز رہے۔ [135]
غیر ملکی دورے
آیت اللہ خامنہ ای نے صدر بننے سے پہلے 10 فروری سے 25 فروری 1981ء تک ہندوستان کا تبلیغی دورہ کیا ہے۔ [136] اور اپنی صدارت کے پہلے دورے میں 6 سے 11 ستمبر سنہ 1984 ء کے دوران شام، لیبیا، الجزائر اور دوسرے دور صدارت میں 13 تا 23 جنوری سنہ 1986 ء کے دوران کئی افریقی اور ایشیائی ممالک منجملہ پاکستان، تنزانیہ، زمبابوے، انگولا، موزمبیق اور 21 سے 25 فروری 1989 ء کے دوران یوگو سلاویہ اور رومانیہ اور[137] اور 9 سے 16 مئی 1989 ء کے دوران چین اور شمالی کوریا کے دورے کئے۔ [138]۔[139] 22 ستمبر 1987 ء کو آیت اللہ خامنہ ای نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 42ویں اجلاس سے خطاب کیا اور اپنے خطاب میں دنیا کے ممالک کے سربراہوں کی موجودگی میں اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف بیان کیا۔ یہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پہلی موجودگی تھی [140] [نوٹ 2] اس سے پہلے اسلامی جمہوریہ ایران کے وقت کے وزیر اعظم اور کیبنٹ کے چیئرمین شہید محمد علی رجائی نے مورخہ 18 اکتوبر سنہ 1980 ء کو نیو یارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس سے خطاب کیا تھا۔[141] ۔ نیز انہوں نے زمبابوے کے دارالحکومت ہرارے میں ناوابستہ تحریک کے 8 ویں سربراہی اجلاس سے بھی خطاب کیا اور غیر وابستہ ممالک کے بعض سربراہوں سے بات چیت کی ۔[142]
مسلم عسکریت پسندوں کی حمایت
آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی خارجہ پالیسی کے اقدامات میں ایک اہم اقدام پوری دنیا میں جد و جہد کرنے والی تنظیموں سے قریبی رابطہ برقرار کرنا ہے، لبنان، فلسطین، عراق اور افغانستان میں اسلامی عسکریت پسندوں کے لئے ایران کی حمایت میں اضافہ ہوا اور ایران کی حمایت نے ان گروہوں کی علاقائی اور بین الاقوامی حیثیت کو مضبوط کیا۔[143] آٹھ افغان جماعتوں میں اسلامی اتحاد پارٹی اور مجلس اعلاء انقلاب اسلامی عراق کی تشکیل، اسی نقطہ نظر کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔
اسلامک انسائیکلوپیڈیا فاؤنڈیشن کا قیام
اسلامی انسائیکلوپیڈیا فاؤنڈیشن 1983 میں عالم اسلام کا انسائیکلوپیڈیا مرتب کرنے کے مقصد سے آیت اللہ خامنہ ای کے ہاتھوں قائم کی گئی، اس فاؤنڈیشن کے بانیوں کا خیال ہے کہ اسلامی دنیا کے بارے میں مغربی انسائیکلوپیڈیا اکثر مغربی نقطہ نظر کے زیر اثر لکھے جاتے ہیں۔[144] اسلامی دنیا کے انسائیکلوپیڈیا کا پروگرام 60 جلدوں پر مشتمل ہے۔ مئی 2024ء تک اس کی 32 جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔[145]
دفاع مقدس میں کردار
دفاعی اور عسکری اداروں میں
آيت اللہ العظمی خامنہای نے عراق کے ایران پر حملے کی پہلی ساعتوں سے ہی جنگ کی تدبیر میں فعالانہ کردار ادا کیا۔ جنگ شروع ہوئی تو انھوں نے ایران پر عراق کی بعثی افواج کی جارحیت کے بارے میں ایک اطلاعیہ لکھ کر ریڈیو کے ذریعے عوام کو باخبر کیا[146] دوسرے روز مسلح افواج کے مشترکہ اسٹاف مرکز میں عراقی جارحیت کے سلسلے میں منعقدہ اجلاس میں انھوں نے شرکت کی اور جب حالات کا جائزہ لینے کی غرض سے ایک فرد کے محاذ جنگ میں حاضر ہونے کی تجویز دی گئی تو انھوں نے یہ ذمہ داری خود قبول کی۔[147] مورخہ 27 ستمبر سنہ 1980 کو امام خمینی کی اجازت کے بعد عسکری لباس میں محاذ جنگ میں حاضر ہوئے[148] تاکہ محاذ جنگ کی صورت حال اور علاقے میں ایرانی افواج کے وسائل کے بارے میں رپورٹ دیں اور عراقی افواج کی جارحیت کے لئے افواج کو منظم و منضبط کرنے میں مدد دیں[149] چنانچہ وہ جنوبی محاذ چلے گئے اور اپریل 1981 تک وہیں تھے اور بعدازاں مغربی محاذ چلے گئے۔ وہ اس عرصے میں نماز جمعہ کی امامت، امام خمینی کو رپورٹ دینے اور ضروری دوروں اور خطابات کے لئے تہران یا دوسرے شہروں میں چلے آتے تھے اور زیادہ تر عرصہ محاذ جنگ میں گذار لیتے تھے۔[150]
انھوں نے کئی بڑی عسکری کاروائیوں کی منصوبہ بندی میں شرکت کی۔ میدان جنگ میں ہتھیاروں اور دیگر وسائل کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اور بسیج کو ترسیل ان کی دیگر سرگرمیوں میں سے تھی۔ محاذ جنگ میں ان کا زیادہ تر وقت ڈاکٹر مصطفی چمران کی مجوزہ نا منظم جنگوں کے مرکز کی راہنمائی اورمنصوبہ سازی میں گذرتا تھا۔[151] اس مرکز نے آبادان، سوسنگرد اور دیگر محاذوں کی پشت پناہی میں اہم اور سپاہ پاسداران اور بسیج کی فنی اور عسکری ضروریات پوری کرنے میں وسیع کردار ادا کیا[152] ان کی دیگر ذمہ داریوں میں مختلف محاذوں اور بالخصوص فوجی کاروائیوں کے دوران سپاہ اور مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی قائم کرنا تھی۔[153]
جولائی سنہ 1979 عیسوی میں آیت اللہ العظمی خامنہای وزارت دفاع کے انقلابی امور کے نائب نیز امن قائم کرنے والی وزات خانوں کے کمیشن کے رکن مقرر ہوئے۔ مؤخر الذکر کمیشن تمام عسکری اور امن قائم کرنے والے اداروں کے انتظام و انصرام کرتا تھا۔[154]
مورخہ 24 نومبر سنہ 1979 عیسوی کو شورائے انقلاب کی طرف سے ان کو سونپی گئی دیگر ذمہ داریوں میں مرکز اسناد (= Documents Center) کے انتظام نیز سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی نگرانی کی ذمہ داریاں شامل تھیں۔[155]
موصوف 24 فروری 1980 عیسوی کو صدارتی انتخابات کے لئے امید وار نامزد ہونے کے باعث سپاہ پاسداران کے نگران کمانڈر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔[156]
اعلی دفاعی شوری میں امام خمینی کی نمائندگی
امام خمینی نے مورخہ 12 اکتوبر 1980 عیسوی کو ایک حکم نامے کے ذریعے انہیں "اعلی دفاعی شوری" (Supereme Defence Council) کی سربراہی کا عہدہ سونپ دیا اور یوں جنگ کے تمام معاملات کی ذمہ داری ان کے حصے میں آئی۔[157] جبکہ امام کے 10 مئی سنہ 1980 کے حکم نامے کے مطابق وہ پہلے ہی سے مذکورہ شوری میں ان کے نمائندے[158] نیز شوری کے ترجمان تھے۔[159] اس عرصے میں موصوف جنگ کے امور و معاملات میں امام خمینی کے مشیر بھی تھے[160] اور اعلی دفاعی شوری کے اجلاسوں کے آخر میں اخباری مکالمہ ترتیب دے کر عوام کو شوری کے فیصلوں سے آگاہ کیا کرتے تھے۔[161]
آبادان کا محاصرہ توڑنے میں کردار
آبادان کا محاصرہ توڑنے کے لئے ہونے والی کاروائی میں[162] براہ راست کردار ادا کیا اور ان کی رائے یہ تھی کہ خرم شہر کو صحیح اور بجا عسکری اقدامات کے ذریعے آبادان کو دشمن کے قبضے میں چلے جانے سے بچایا جاسکتا ہے۔ نیز اس سلسلے میں اس وقت کے صدر اور افواج کے کمانڈر ان چیف ابوالحسن بنی صدر کو مراسلہ لکھا کہ اگر شہر سوسنگرد کے اطراف میں دو بکتر بند بریگیڈ تعینات ہوں تو اس کو دشمن کے قبضے سے بچایا جاسکتا ہے لیکن بنی صدر نے ان کی تدبیر کی طرف توجہ نہ دی۔[163]
جنگ شروع ہوئی تو بعض شخصیات اور بین الاقوامی اداروں نیز بعض ممالک نے دو ملکوں کے درمیان صلح و آشتی قائم کرنے کے لئے اقدامات کا آغاز کیا۔ آیت اللہ العظمی خامنہای کا خیال تھا کہ جب تک عراق ایران کی بنیادی شرطیں پوری نہ کرے ـ عراقی افواج بین الاقوامی سرحدوں تک پسپا نہ ہوں، یہ ملک جارحیت کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ نہ کرے اور جارح کو سزا دینے کا فیصلہ نہ ہو ـ کوئی امن قائم نہیں ہوسکتا اور عراق یہ شرطیں قبول نہ کرے تو اس کو زبردستی اپنی سرزمین سے نکال باہر کریں گے۔ ان کا خیال تھا کہ "ٹھونسا ہوا امن جنگ سے بد تر ہے"۔[164] اس کے باوجود ان کا کہنا تھا کہ بیرونی وفود کے دورے اس لحاظ سے مفید رہے کہ ایران پر صدام اور اس کی افواج کی جارحیت اور ان کے مظالم و جرائم کے مختلف پہلو دنیا والوں کے لئے واضح ہوئے اور ملت ایران کی مظلومیت ثابت ہوئی۔[165]
جنگ، ادوار صدارت کا اہم ترین موضوع
صدارت کے دونوں ادوار میں آیت اللہ العظمی خامنہای، جنگ تمام تر ملکی معاملات پر مقدم تھی۔ سنہ 1981 تا 1985 میدان جنگ میں تبدیلیاں آئیں اور جنگ کا توازن ایران کے حق میں بگڑ گیا اور اعلی دفاعی کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے جناب سید علی نے اعلی سرکاری حکام کے درمیان وحدت فکر پیدا کرکے کامیاب عسکری کاروائیوں کی قیادت کی؛ عراقی افواج ایران کے مقبوضہ علاقوں سے پسپا ہوئیں اور عالمی سطح پر سفارتکاری کے حوالے سے بھی ایران کا کردار وسیع تر ہوا۔
موصوف کی صدارت کے آٹھ سال کے عرصے میں سے سات سال کا عرصہ جنگ کا دور تھا اور انھوں نے اس دور میں زیادہ تر بیرون ملکی مذاکرات نیز بین الاقوامی وفود سے ملاقاتوں میں جنگ کے مسئلے پر بات چیت کی۔ صدارت کے دور میں امام خمینی نے ان کو محاذ جنگ میں مسلسل موجودگی سے منع کیا اور صرف کبھی کبھی ضرورت کے تقاضوں کے مطابق محاذ جنگ میں حاضر ہوا کرتے تھے تا ہم جنگ کے آخر میں اور خاص طور پر اقوام متحدہ کی قرارداد کے قبول کرنے کے بعد، جب محاذ کی صورت حال خراب ہوجانے اور صدام کی افواج کی نئی جارحیتوں کی بنا پر موصوف نے امام خمینی کی منظوری لے کر محاذ جنگ کا رخ کیا تا کہ محاذ میں بڑی تبدیلی کے لئے ماحول فراہم کیا جاسکے۔
نیز آیت اللہ العظمی خامنہای صدارت کے دونوں ادوار میں جنگ کو رسد پہنچانے کی اعلی شوری کے سربراہ بھی تھے جو سنہ 1988 عیسوی میں تشکیل پائی تھی۔[166] امام خمینی نے مورخہ 8 فروری 1988 عیسوی کو اس سلسلے میں ان کے خط کا جواب دیتے ہوئے فرمان جاری کیا کہ اس شوری کے فیصلے جنگ کے اختتام تک نافذ العمل ہونگے۔[167]
اسلامی جمہوریہ ایران اور انقلاب اسلامی کی قیادت
مورخہ 4 جون سنہ 1989 عیسوی کو امام خمینی کی رحلت کے بعد مجلس خبرگان رہبری نے اسی روز عصر کے وقت اجلاس کا آغاز کیا۔ اجلاس میں ابتدائی طور پر قیادت کے شورائی یا فردی ہونے پر بحث ہوئی جس کے بعد آیت اللہ العظمی خامنہای کا نام قیادت کے لئے سامنے آیا جس کے بعد بعض نمائندوں نے کہا کہ امام خمینی نے قیادت کے لئے موصوف کی صلاحیت کی تصدیق کی تھی۔ اس کے بعد رائے اراکین کی رائے لی گئی اور مجلس خبرگان کی فیصلہ کن اکثریت نے آیت اللہ العظمی خامنہای کو اسلامی جمہوریہ ایران اور انقلاب اسلامی کے قائد کے طور پر منتخب کیا۔[168]۔[169]
آئین پر نظر ثانی اور استصواب رائے عامہ (Referendum) کے بعد، مجلس خبرگان نے نئے آئین کے مطابق ایک بار ان کی قیادت کے سلسلے میں رائے شماری کی اور اس بار بھی انہیں غالب اکثریت سے نظام اسلامی کے رہبر کے عنوان سے منتخب کیا۔
سید احمد خمینی، ـ جو امام خمینی کے فرزند اور قریب ترین فرد تھے ـ نقل کرتے ہیں کہ امام خمینی کہا کرتے تھے کہ "حقیقتاً وہ (آیت اللہ العظمی خامنہای) قیادت کی اہلیت رکھتے ہیں"۔[170]
امام خمینی کی دختر زہرا مصطفوی نے بیان کیا ہے کہ "امام خمینی نے قیادت کے لئے آیت اللہ خامنہای کا تذکرہ کیا ہے اور ان کے اجتہاد کی تصدیق کی ہے۔[171]
مجلس خبرگان رہبری (ماہرین کونسل) کی گفتگو کی آڈیو ریکارڈنگ کے مطابق، اس نشست میں اکبر ہاشمی رفسنجانی نے بھی جو اسلامی جمہوریہ میں با اثر فیصلہ سازوں میں سے تھے، نقل کیا ہے کہ "امام خمینی نے مستقبل کی قیادت کے لئے آیت اللہ خامنہای کا نام لیا ہے"۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ امام خمینی نے مستقبل کی قیادت کے سلسلے میں منعقدہ ایک خصوصی اجلاس میں آیت اللہ خامنہای کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تصریح کی ہے کہ "تمہیں تعطل اور رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، کیونکہ ایسی شخصیت تمہارے درمیان ہیں"۔[172]
انتخاب کے بعد، اسلامی جمہوری نظام کے اعلی حکام، بیت امام خمینی، مراجع تقلید، علماء، دانشوروں، حوزات اور جامعات کے اساتذہ اور طلبہ، شہداء کے گھرانوں اور عوام کے مختلف طبقات نے اس انتخاب کی تائید کی اور نئے رہبر کے ہاتھ پر بیعت کی۔ ان اداروں اور تنظیموں نے بھی ـ جو ملک اور نظام کی قوت سمجھے جاتے ہیں ـ آیت اللہ العظمی خامنہای کی رہبری اور قیادت کی حمایت اور ان کے فرامین اور احکامات کی و اطاعت تعمیل کے لئے مکمل آمادگی کا اعلان کیا۔[173] سید احمد خمینی نے انتخاب کے دن ہی پیغام تہنیت جاری کیا اور ولی فقیہ کے احکامات کو اپنے لئے نافذ العمل قرار دیا۔[174]
عوام نے نئے رہبر کی رہائشگاہ پر، ریلیوں اور جلسے جلوسوں، بیانات اور پیغامات جاری کرکے اور طوماروں پر دستخط کرکے بیعت کی۔[175] امام خمینی کی رحلت کے چالیسویں کی مناسب سے ایران کے گوشے گوشے سے عوام "میثاق با امام بیعت با رہبر" کے عنوان سے قافلوں میں شامل ہوکر تہران کی جانب روانہ ہوئے۔[176] بعض سرحدی اور عسکری و تزویری لحاظ سے اہم علاقوں میں "بیعت با رہبر" کے عنوان سے جنگی مشقوں کا اہتمام کیا گیا[177] نیز "میثاق با امام، بیعت با رہبر" کے عنوان سے سیمیناروں کا انعقاد کیا گیا۔[178]
حجاج کرام کے نام سالانہ پیغام
حج کے موقع پر عازمین حج کے نام پیغام جاری کرنا آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت میں ان کے سالانہ پروگراموں میں سے ایک ہے۔[179] آپ ان پیغامات میں عالم اسلام کے مسائل، مسلمانوں کے اتحاد اور ملت اسلامیہ کے فرائض پر زور دیتے ہیں۔ [180] ان کا پہلا پیغام 1369 ھ ش میں جاری ہوا، جس میں انہوں نے حج کے سیاسی مذہبی گوشے کے احیاء اور مشرکوں سے اظھار برائت پر تاکید کی اور حج کے خونی واقعے کا حوالہ دے کر ایرانیوں کی حج سے محرومی کے اسباب کی وضاحت کی۔[181] آپ کا تازہ ترین پیغام حج سنہ 1446ھ ق میں حج کے موقع پر پڑھا گیا۔[182]
مزاحمتی محاذ کی تقویت اور حمایت
آیت اللہ خامنہ ای مزاحمتی محور کے اہم حامیوں میں سے ہیں۔[183] بعض محققین کے مطابق آپ کی حمایت سے مزاحمتی گروہوں خصوصا فلسطینیوں کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا اور خطے میں مزاحمت کے توازن میں تبدیلی جا سبب ہوا۔[184]
« چاہے یہ قرار داد منظور ہو یا نہ ہو، ہم منطقے میں اپنے دوستوں اور اتحادیوں کی حمایت سے دستبردار نہیں ہونگے: ملّت مظلوم فلسطین، ملّت مظلوم یمن، شام کی ملت اور حکومت، عراق کی ملت اور حکومت، ملت مظلوم بحرین، لبنان اور فلسطین کے سچے مجاہدین؛ [یہ سب] ہمیشہ ہماری حمایت سے برخوردار رہیں گے۔»[185]
امریکہ اور اسرائیل کی ساتھ عسکری مقابلہ کرنے کا حکم
14 اپریل 2024 ء کو دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیل کے حملے کے جواب میں، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے مقبوضہ فلسطین کےعلاقوں میں فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے ایرانی سرزمین سے میزائل اور ڈرون داغے۔[186] اس کارروائی کو ایران اور اسرائیل کے درمیان پہلا براہ راست فوجی تصادم سمجھا جاتا ہے۔[187] اس آپریشن سے پہلے آیت اللہ خامنہ ای نے اسرائیل کو سزا دینے [188] اور پچھتانے والے حملے کی بات کی تھی۔ [189] نیز انہوں نے 13 جون 2025ء کو اسرائیل کے ایران پر حملہ کرنے اور IRGC کے متعدد کمانڈروں اور ایٹمی سائنسدانوں کو قتل کرنے کے بعد یہ بھی اعلان کیا تھا کہ ایرانی مسلح افواج اسرائیل کو بھاری ضربیں لگائیں گی۔[190] اس بیان کے نشر ہونے کے ساتھ ہی، اسلامی جمہوریہ کی مسلح افواج نے مقبوضہ علاقوں میں فوجی اور سیکورٹی اہداف کو نشانہ بنایا ۔
| اس حصے کی اثبات پذیری کے لئے بہتر حوالہ درکار ہے۔ |
مغربی ایشیا میں امریکی اڈوں پر ملٹری آپریشن کا حکم
آیت اللہ خامنہ ای نے مغربی ایشیا کے علاقے میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے کرنے کا حکم جاری کیا۔ آپ کے حکم پر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے قاسم سلیمانی کی شھادت کے جواب میں 2019 ء میں عراق میں امریکی اڈے عین الاسد کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ 2025 ء میں، ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے جواب میں آیت اللہ خامنہ ای کے حکم پر بشارت فتح آپریشن انجام دیا اور قطر میں امریکی العدید بیس کو نشانہ بنایا۔
مغربی نوجوانوں کو براہ راست اسلام سے اگاہی کی دعوت
2014 میں، فرانس میں مسلمانوں کے ایک گروپ کے دہشت گردانہ حملے کے بعد، آیت اللہ خامنہ ای نے یورپ اور شمالی امریکہ کے نوجوانوں کو ایک پیغام جاری کیا اور ان مطالبہ کیا کہ اسلام سے اگاہی و اشنائی کے لئے قرآن اور پیغمبر اسلام کی زندگی کا مطالعہ کریں۔[191] یہ پیغام " تمھارے نام خط " کے عنوان سے مختلف زبانوں میں اور سوشل میڈیا پر شائع ہوا تھا۔[192] نیز 29 نومبر 2015 کو، پیرس میں پیلی جیکٹ والے فسادات کے بعد، مغربی نوجوانوں کے نام ایک اور خط تحریرکیا۔[193]
امریکہ میں فلسطینی عوام کے حامی طلباء سے اظہار یکجہتی
25مئی 2024ء کو آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی یونیورسٹیوں میں فلسطینی عوام کی حمایت کرنے والے طلباء کے نام ایک خط میں ان کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس خط میں ان طلباء کو مزاحمتی محاذ کا حصہ اور امریکہ کو اسرائیل کا سب سے بڑا حامی قرار دیا اور فلسطینیوں کے اپنے حقِ دفاع پر زور دیا۔ نیز حق کی راہ میں استقامت، وہ اسباق بتائے جس کی قران نے انسانوں کو تعلیم دی ہے اور انھیں قرآن سے آشنا ہونے کی نصیحت کی ۔ [194]
آیت اللہ خامنہ ای کی حمایت سے قائم ہونے والے ادارے
- اہل بیت عالمی اسمبلی (قیام 1989): اسلام کو متعارف کرانے، قرآن اور اہل بیت (ع) کی تعلیمات کو عام کرنے اور دنیا بھر میں اہل بیت (ع) کے پیروکاروں کی حمایت کے لئے۔[195]
- مجمع جهانی تقریب مذاهب اسلامی عالمی اسمبلی (قیام: 1989): تقریب مذاهب اسلامی کی غرض سے علمائے عالم اسلام پرمشتمل ایک تنظیم ۔
- کمپیوٹر ریسرچ سنٹر آف اسلامک سائنسز (قیام: 1989): انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وسیلہ اسلامی علوم کے منابع اور متن تک رسائی فراہم کرنا ۔[196]
- فقہ اسلامی بر مذھب اہل بیت(ع) انسائیکلو پیڈیا (قیام: 1990): قم میں فقہ، اصول فقہ اور دینیات کے شعبوں میں ایک تحقیقی اور تعلیمی ادارہ ۔
- المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی (قیام: 2007): اسلامی علوم کی توسیع اور غیر ایرانی طلباء کی تربیت کے لیے ایک دینی مرکز۔[197]
- حوزات علمیہ کی خدمات کا مرکز (قیام: 1991): معیشت و رہائش وغیرہ کے شعبوں میں بے روزگار طلباء اور علماء کی حمایت۔[198]
- مرکز اقامہ نماز: نماز کی توسیع اور ترویج کے لیے ایک خصوصی ادارہ ۔ [199]
ہزارہ مذہبی رہنماؤں کے اجلاس کو پیغام
آیت اللہ خامنہ ای نے اگست 2000 ء میں نے اقوام متحدہ میں عالمی امن کے لیے ہزارہ مذہبی رہنماؤں کے اجلاس کو پیغام ارسال کیا اور یاد آوری کرائی کہ بہت سارے قدرت طلب افراد مذہب کا غلط استعمال کرتے ہیں اور اسلامی جمہوریہ کا سب سے بڑا چیلنج دنیا کی عظیم طاقتوں کی طرف سے مسلط کردہ مسائل و مشکلات کو بے اثر کرنا ہے۔[200] یہ پیغام ایران کے نمائندے آیت اللہ جوادی آملی کے وسیلہ اجلاس میں نے پڑھا گیا ۔[201]
آیت اللہ خامنہ ای کو امریکی صدر کی دھمکی پر ردعمل
2026ء کی اسرائیل ایران جنگ کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ اور بنجمن نیتن یاہو کی طرف سے آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کرنے کی دھمکی کے بعد، بہت سارے شیعہ مراجع تقلید اور اہل سنت مفتی حضرات نے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای کو دھمکی دینے والے کو محارب قرار دیا ۔ [202] نیز حوزات علمیہ نجف اور قم میں بھی اجتماعات منعقد ہوئے ۔[[203] نجف کے حوزہ علمیہ کے بیانیہ میں کہا گیا کہ رہبر ایران پر کسی قسم بھی حملہ مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ اور توحیدی تہذیب کی اقدار سے غداری کے مترادف ہوگا۔[204]
مونوگرافی
- آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی 1938ء سے آج 2015ء تک کی زندگی اور زمانے کا بیان: مصنف؛ جعفر شیرعلی نیا، پبلیشرسایان، تہران، 1394۔
- شرح اسم: آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی سوانح عمری (1938-1978) اثر؛ ہدایت اللہ بہبودی
- خلیفة الامام الراحل (مرحوم امام کے جانشین): عربی ، اثر؛ سید محمود غریفی
- سورج کی ایک کرن: رہبر معظم رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کے واقعات
حوالہ جات
- ↑ تاریخ تولد دقیق رهبر انقلاب به روایت خودشان خبر آنلاین
- ↑ شریفرازی، گنجینه دانشمندان، 1354ش، ج7، ص128.
- ↑ شریف، گنجینہ دانشمندان، ج127، ص7،آرشیو مرکز اسناد، شمارہ 1225۔
- ↑ بہبودی، زندگی نامہ آیت اللہ سید علی خامنہای، ص15۔
- ↑ زنگنہ، مشاہیر مدفون در حرم رضوی، ج1، ص77۔
- ↑ «نگاهی گذرا به زندگینامهی حضرت آیتاللهالعظمی سید علی حسینی خامنهای»، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ «آستان امامزاده محمد(ع) - تفرش»، ایسنا.
- ↑ سائٹ «نگاهی گذرا به زندگینامهی حضرت آیتاللهالعظمی سید علی حسینی خامنهای»، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ آقا بزرگ، طبقات اعلام الشیعہ، ج2، ص640۔
- ↑ جمعی از پژوہشگران، گلشن ابرار، ج2، ص971۔
- ↑ بہبودی زندگی نامہ آیت اللہ سید علی خامنہای، 12۔
- ↑ آقا بزرگ، طبقات اعلام الشیعہ، 6، مقدمہ، 13۔
- ↑ «نگاهی گذرا به زندگینامهی حضرت آیتاللهالعظمی سید علی حسینی خامنهای»، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ زنگنہ، مشاہیر مدفون در حرم رضوی، ج1، ص458۔
- ↑ «نگاهی گذرا به زندگینامهی حضرت آیتاللهالعظمی سید علی حسینی خامنهای»، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ آقا بزرگ، طبقات اعلام الشیعہ، ج2، ص559۔
- ↑ میرزا عبدالرحمان، تاریخ علمای خراسان، ص308۔
- ↑ قاسم پور، دہہ سرنوشت ساز، ص60۔
- ↑ «اطلاعیه شهادت حضرت آیتالله العظمی سیدعلی حسینی خامنهای رهبر انقلاب اسلامی»، دفتر حفظ و نشر آثار آیتالله خامنهای.
- ↑ «وزیر جنگ اسرائیل، رهبر انقلاب را تهدید به ترور کرد»، خبرگزاری تحولات جهان اسلام.
- ↑ «آیتاللہ مکارم شیرازی: تهدیدکننده رہبری و مرجعیت حکم «محارب» دارد»، خبرگزاری جمہوری اسلامی؛ «پاسخ استفتا از مرجع عالیقدر حضرت آیت الله العظمی نوری همدانی «مدظله العالی» در پی تهدید آمریکا و رژیم صهیونیستی نسبت به مقام معظم رهبری «دامت برکاته»»، دفتر حضرت آیتاللہ العظمی نوری ہمدانی۔
- ↑ «واکنش قاطع مراجع تقلید و علما نسبت به گستاخی ترامپ به رهبر انقلاب»، خبرگزاری رسا۔
- ↑ «حوزه علمیه نجف بر علیه تهدید گستاخانه «ترامپ جنایتکار» مبنی بر ترور امام خامنهای واکنش شدید نشان داد»، خبرگزاری دانشجو۔
- ↑ خامنهای، همرزمان حسین، 1397ش، ص6.
- ↑ «بیانات آیتالله خامنهای در دیدار تولیدکنندگان و فعالان اقتصادی»، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ بیانات آیتالله خامنهای در دیدار مداحان اهلبیت(ع)، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ سخنرانی، 19 مهر 1368.
- ↑ بیانات آیتالله خامنهای در دیدار اقشار مختلف مردم به مناسبت عید غدیر، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ «آیتالله خامنهای: توهین به عایشه و هر یک از نمادهای اهل سنت حرام است»، سائٹ خبرآنلاین.
- ↑ https://www.tasnimnews.com/fa/news/1402/07/05/2962399/مهمانان-کنفرانس-وحدت-اسلامی-روز-میلاد-پیامبر-اسلام-ص-با-رهبر-انقلاب-دیدار-می-کنند
- ↑ .دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت الله العظمی خامنه ای،https://farsi.khamenei.ir/newspart-index?tid=1190
- ↑ بیانات در دیدار اقشار مختلف مردم به مناسبت عید غدیر(1395/06/30) https://farsi.khamenei.ir/newspart-index?tid=5487&p=5
- ↑ بیانات آیتالله خامنهای در دیدار اعضای مجلس خبرگان رهبری، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ نگاه کنید به: دغدغههای فرهنگی انتشارات صهبا.
- ↑ «بیانات آیتالله خامنهای در دیدار جمعی از کارگزاران فرهنگی»، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ «بیانات آیتالله خامنهای در دیدار اساتید دانشگاهها 22 مرداد 1391ش»، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ نگاه کنید به تقوی، «ریشههای بهار عربی و دومینوی فروپاشی رژیمهای عرب»، ص4.
- ↑ خطبههای 15 بهمن 1389، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ بیانات در دیدار رئیس و اعضای مجلس خبرگان رہبری 1392/06/14 شمسی (5 ستمبر 2013 ء)۔
- ↑ بیانات در محفل انس با قرآن 1393/04/08 شمسی (29 جون 2014 ء)۔
- ↑ سخنرانی 22 تیر 1371 ہجری شمسی(بمطابق 13 جولائی 1992 عیسوی)۔
- ↑ خامنہای، دغدغہ ہای فرہنگی، ص 114۔
- ↑ رجوع کریں: خامنہای، دغدغہ ہای فرہنگی، انتشارات صہبا۔
- ↑ صلحمیرزائی، فلسطین از منظر حضرت آیتالله العظمی سید علی خامنهای، 1397ش، ص599.
- ↑ صلحمیرزائی، فلسطین از منظر حضرت آیتالله العظمی سید علی خامنهای، 1397ش، ص487-490.
- ↑ صلحمیرزائی، فلسطین از منظر حضرت آیتالله العظمی سید علی خامنهای، 1397ش، ص499-500.
- ↑ یوسفی، نظام اقتصادی مقاومتی، 1395ش، ص32.
- ↑ برای نمونه نگاه کنید به اقتصاد-مقاومتی-چیست، باشگاه خبرنگاران جوان.
- ↑ «مروری بر نامگذاری سالها توسط رهبر انقلاب از 1378 تا امروز»، خبرگزاری ایمنا؛ بررسی علت نامگذاری سالها در گفتوگو با مشاور عالی رهبر انقلاب، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ بیانیه «گام دوم انقلاب» آیتالله خامنهای خطاب به ملت ایران، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ «بیانات آیتالله خامنهای در دیدار اساتید دانشگاهها 22 مرداد 1391ش»، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ «حوزه پیشرو و سرآمد»، وبگاه دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ «منطق مقاومت | سه. بیشتر بودن هزینه سازش از هزینه مقاومت»، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ «دومین پیام تلویزیونی رهبر معظم انقلاب خطاب به ملت ایران در پی تهاجم رژیم صهیونی به ایران»، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ بیانات آیتالله خامنهای در دیدار اعضای مجلس خبرگان رهبری، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ «احکام اعتکاف، حضور در مسجد واحد»، پایگاه اطلاعرسانی دفتر مقام معظم رهبری.
- ↑ خامنهای، غناء، 1398ش، ص262و 255.
- ↑ خامنهای، غناء، 1398ش، ص444.
- ↑ «ثبت پیام رهبر انقلاب بهعنوان سند در سازمان ملل»، دفتر حفظ و نشر آثار آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ «بیانات آیتالله خامنهای در دیدار مردم سقز»، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ «بیانات آیتالله خامنهای در دیدار بانوان نخبه در آستانه سالروز میلاد حضرت زهرا(ع)»، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ برای نمونه نگاه کنید به نجفی، جواهر الکلام، دار احیاء التراث العربی، ج39، ص207 و 215؛ امام خمینی، تحریر الوسیله، دارالعلم، ج2، ص397.
- ↑ بهبودی، شرح اسم، 1391ش، ص49.
- ↑ بہبودی، زندگی نامہ آیت اللہ سید علی خامنہای، 49۔
- ↑ آرشیو مرکز اسناد، شمارہ 1226۔
- ↑ آرشیو مرکز اسناد، شمارہ 1226۔
- ↑ بہبودی، زندگی نامہ آیت اللہ سید علی خامنہای، 78۔
- ↑ «جلسه درس خارج فقه»، سایت دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ خامنہای، جمـ۔۔
- ↑ «نگاهی گذرا به زندگینامهی حضرت آیتاللهالعظمی سید علی حسینی خامنهای»، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ زندگینامہ (آیت االلہ العظمى خامنہای)، نیز رجوع کریں نگاہی گذرا بہ زندگینامہی حضرت آیتاللہالعظمی سید علی حسینی خامنہای
- ↑ بهبودی، شرح اسم، 1391ش، ص67.
- ↑ بیانات در دیدار با اعضای «گروه اجتماعی» صدای جمهوری اسلامی ایران (29/11/1370)، https://farsi.khamenei.ir/speech-content?id=2603
- ↑ سخنرانی 23 آذر 1373 (خطاب بتاریخ 14 دسمبر 1994)۔
- ↑ آرشیو مرکز اسناد، شمارہ 1228۔
- ↑ «سرودهی حضرت آیتالله خامنهای که یک بیت از آن را در آستانه عملیات وعده صادق در جلسهای خواندند»، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ جلالی، 148۔
- ↑ آرشیو مرکزی اسناد، شمارہ 1229-1231۔
- ↑ بہبودی، زندگی نامہ آیت اللہ سید علی خامنہای، ص129-134۔
- ↑ آرشیو مرکزی اسناد، شمارہ614، 1231-1232۔
- ↑ امام۔۔۔،ج4، ص392۔
- ↑ آرشیو مرکزی اسناد، شمارہ1234۔
- ↑ بہبودی، زندگی نامہ آیت اللہ سید علی خامنہای، 187۔
- ↑ مرکز بررسی اسناد ۔۔۔، یاران امام، میلانی، ج3، ص5- 7۔
- ↑ آرشیو مرکز اسناد، شمارہ 614۔
- ↑ آرشیو مرکز اسناد، شمارہ 574۔
- ↑ آرشیو مرکز اسناد، 123، 614۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ نور، 358۔ 2-373۔
- ↑ برای نمونه نگاه کنید به: آرشیو مرکز اسناد انقلاب اسلامی، شماره 1234؛ آرشیو مرکز اسناد، شماره 614و1231-1232.
- ↑ آرشیو مرکز اسناد انقلاب اسلامی، شماره 304و389و575.
- ↑ آرشیو مرکز اسناد انقلاب اسلامی، شماره 572و576.
- ↑ آرشیو مرکز اسناد انقلاب اسلامی، شماره 614.
- ↑ یاران امام به روایت اسناد ساواک، 1376-1382ش، ج1، ص468.
- ↑ بازرگان، یادداشتهای روزانه، 1376ش، 422-423.
- ↑ هاشمی رفسنجانی، دوران مبارزه، 1376ش، ج2، ص1566.
- ↑ «نگاهی گذرا به زندگینامهی حضرت آیتاللهالعظمی سید علی حسینی خامنهای»، وبگاه دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ «نگاهی گذرا به زندگینامهی حضرت آیتاللهالعظمی سید علی حسینی خامنهای»، وبگاه دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ «روایتی از دیدار دانشجویان با آیتالله خامنهای در ایرانشهر/ تحلیل دقیق آیتالله خامنهای از اوضاع بینالمللی در دوران تبعید»، مرکز اسناد انقلاب اسلامی.
- ↑ بهبودی، شرح اسم، 1391ش، ص602.
- ↑ «اسناد میگویند چرا آیتالله خامنهای به ایرانشهر تبعید شد؟»، مرکز اسناد انقلاب اسلامی.
- ↑ آرشیو مرکز اسناد، شمارہ 389، 572۔
- ↑ ««آقای ایرانشهر»؛ سفرنامهی یک تبعید»، وبگاه دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ «روایت مستند از 258 روز تبعید آیت الله خامنه ای در دوران شاه»، پایگاه اطلاعرسانی حوزه.
- ↑ صحیفہ نور، ج5 ص426 - 428۔
- ↑ ستودہ، پا بہ پای آفتاب، ج2 ص192۔
- ↑ پا به پای، ج2، ص192.
- ↑ سائلی، ص49-62.
- ↑ قاسمپور، دهه سرنوشتساز، مرکز اسناد انقلاب اسلامی، ص92-94.
- ↑ هاشمی، انقلاب و...، ص169.
- ↑ سائلی، ص117-118.
- ↑ خلاصه، جلسه 1358/ 9/3.
- ↑ هاشمی رفسنجانی، انقلاب و پیروزی، ص449.
- ↑ https://lib.eshia.ir/12293/04/1321 دائرة المعارف بزرگ اسلامی، ج4، ص1321.
- ↑ هاشمی رفسنجانی، انقلاب و پیروزی، ص215-218.
- ↑ جاسبی، ج4،ص 149.
- ↑ جاسبی، ج4، ص146.
- ↑ هاشمی رفسنجانی، عبور از بحران، ص263.
- ↑ خاطرات سید مرتضی، ص168.
- ↑ امام خمینی، صحیفه امام، 1389ش، ج12، ص116.
- ↑ در مکتب جمعہ، 2۔ جمـ، 3/جمـ۔
- ↑ فرهنگ و...، ص311.
- ↑ خامنہای، فرہنگ و تہاجم فرہنگی، 311۔
- ↑ رضوی، ص384.
- ↑ هاشمی، انقلاب در...، ص176.
- ↑ قبادی، «گزارشی از ماجرای ترور 6 تیر 1360».
- ↑ «بازخوانی 24 ترور پس از پیروزی انقلاب اسلامی»، مرکز اسناد انقلاب اسلامی.
- ↑ «ترور نافرجام آیت الله خامنهای»، تبیان.
- ↑ صحیفہ امام خمینی (س)، ج14، ص 304۔
- ↑ مشروح مذاکرات دورہ اول، جلسہ 199۔
- ↑ روزنامہ جمہوری اسلامی، شمارہ 678، ص11۔
- ↑ فارسی، زوایای تاریک، 543-544۔
- ↑ مشروح مذاکرات مجلس شورای اسلامی، دورہ اول، جلسہ 224۔
- ↑ صحیفہ امام خمینی (س)، ج20،ص463 -465۔
- ↑ گفتوگو با ہاشمی رفسنجانی، 52۔
- ↑ وہی ماخذ، 68-69۔
- ↑ https://lib.eshia.ir/12293/04/1321 دائرة المعارف بزرگ اسلامی، ج4، ص1321.
- ↑ روزنامہ جمہوری اسلامی، شمارہ 2826، ص11۔
- ↑ وہی ماخذ، شمارہ 2826، ص12۔
- ↑ وہی ماخذ، شمارہ 2889، ص2۔
- ↑ روزنامہ جمہوری اسلامی، شمارہ 2413، ص10۔
- ↑ تاریخ ایرانی: سخنرانی رجائی در جلسہ شورای امنیت۔
- ↑ روزنامہ جمہوری اسلامی، شمارہ 1921، ص12۔
- ↑ https://farsi.khamenei.ir/newspart-index?tid=1179
- ↑ دیباچه دانشنامه، سائٹ دانشنامه جهان اسلام، تاریخ بازدید 95/9/8.
- ↑ «انتشار سیودومین جلد دانشنامۀ جهان اسلام»، سائٹ دانشنامه جهان اسلام.
- ↑ اسفندیار، خاطرات ماندگار، 12۔
- ↑ اسفندیار، وہی ماخذ، 11۔
- ↑ روزنامہ اطلاعات، ش 21889، 9۔
- ↑ روزنامہ جمہوری اسلامی، ش 387، 1۔
- ↑ مصاحبہہای:۔۔ (1360)، صص7 - 8۔
- ↑ مجلہ، امید انقلاب، ش 147، صص8-9۔
- ↑ خامنہای، خاطرات و حکایتہا، ج10 صص7ـ20۔
- ↑ روزنامہ کیہان، ش 11155، 4۔
- ↑ سائلی، شورای انقلاب اسلامی ایران، 117-118۔
- ↑ مشروح مذاکرات شورای انقلاب، جلسہ 1358/ 9/3۔
- ↑ ہاشمی، انقلاب و پیروزی، 449۔
- ↑ صحیفہ امام خمینی (س)، 13/263 ـ 264۔
- ↑ وہی ماخذ، 12/281۔
- ↑ روزنامہ جمہوری اسلامی، ش409، 6۔
- ↑ علی و ديگران، نبردہای شرق كارون بہ روايت فرماندہان، 172-173۔
- ↑ روزنامہ جمہوری اسلامی، ش 409، 6۔
- ↑ صفوی، از جنوب لبنان تا جنوب ایران، ص174، روزنامہ اطلاعات، ش 19153، 5۔
- ↑ مصاحبہہا، سال 1360، 59۔
- ↑ در مکتب جمعہ۔۔۔، 9/8/59۔
- ↑ روزنامہ جمہوری اسلامی، ش 509، 2۔
- ↑ وہی ماخذ، ش 2088، 2۔
- ↑ صحیفہ امام خمینی (س)، 20/467۔
- ↑ روزنامہ کیہان، چگونگی انتخاب رہبر در اجلاس فوقالعادۀ مجلس خبرگان، ص18۔
- ↑ ہاشمی، بازسازی و سازندگی، 149-151۔
- ↑ قدر ولایت، جرعہنوش کوثر، 265۔
- ↑ روزنامہ جمہوری اسلامی، شمارہ 5352، ص2۔
- ↑ جمعی از روحانیون و۔۔۔، مرجعیت آیتاللہ خامنہای از دیدگاہ فقہاء و بزرگان، 70۔
- ↑ دفتر مقام معظم رہبری، حدیث ولایت، ج1۔
- ↑ روزنامہ جمہوری اسلامی، ش2924، ص3۔
- ↑ روزنامہ کیہان، شمارہ 13631۔
- ↑ روزنامہ جمہوری اسلامی، شمارہ 2929۔
- ↑ روزنامہ جمہوری اسلامی، شمارہ 2972۔
- ↑ روزنامہ جمہوری اسلامی، شمارہ 2979۔
- ↑ پیام حج، ابتکار امام بود، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ مهمترین وظایف امت اسلام درباره مسائل جهان اسلام، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ «پیام آیتالله خامنهای به کنگره عظیم حج»، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ «پیام به حجاج بیتالله الحرام»، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ برای نمونه نگاه کنید به: «بیانات در دیدار اعضای مجمع جهانی اهلبیت علیهمالسلام و اتحادیهی رادیو و تلویزیونهای اسلامی»، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ احمدیمقدم و دیگران، «تبیین نقش امام خامنهای در ہدایت و رهبری جبهه مقاومت»، ص38.
- ↑ خطبههای نماز عید فطر آیتالله خامنهای ۱۳۹۴ش، سایت دفتر حفظ و نشر آثار آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ «دهها فروند پهپاد و موشک به سمت سرزمینهای اشغالی شلیک شد»، خبرگزاری ایرنا.
- ↑ «رویارویی مستقیم نظامی با اسرائیل چه تاثیری بر زندگی شهروندان عادی ایران میگذارد؟»، یورونیوز؛ Motamedi, "‘True Promise’: Why and how did Iran launch a historic attack on Israel?», Al Jazeera Media Network.
- ↑ «خطبههای نماز عید فطر»، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ «پیام در پی شهادت سرلشکر پاسدار محمدرضا زاهدی و همرزمانش»، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ دفتر حفظ ونشر آثار حضرت آیت الله العظمی خامنه ای،https://farsi.khamenei.ir/news-content?id=60426
- ↑ نامهای برای تو، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ بازتاب پیام آیتالله خامنهای در رسانهها، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای؛ در CNN; در BBC.
- ↑ نامه رهبر انقلاب به عموم جوانان غربی، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ «نامه حضرت آیتالله خامنهای به دانشجویان حامی مردم فلسطین در دانشگاههای ایالات متحده آمریکا»، سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ «آشنایی با مجمع جهانی اهلبیت(ع)»، پرتال اهلبیت.
- ↑ «معرفی مرکز تحقیقات کامپیوتری علوم اسلامی (نور)»، معرفی مرکز تحقیقات کامپیوتری علوم اسلامی (نور).
- ↑ «اساسنامه نهاد علمی و آموزشی جامعة المصطفی العالمیة»، مرکز پژوهشهای مجلس شورای اسلامی.
- ↑ «معرفی مرکز خدمات حوزههای علمیه»، سائٹ مرکز خدمات حوزههای علمیه.
- ↑ الغریفی، خلیفة الامام الراحل، ص175-204.
- ↑ پیام آیتالله خامنهای به اجلاس هزاره رهبران روحانی ادیان.
- ↑ گزارش هزاره ادیان.
- ↑ «آیتالله مکارم شیرازی: تهدیدکننده رهبری و مرجعیت حکم «محارب» دارد»، خبرگزاری جمهوری اسلامی؛ «پاسخ استفتا از مرجع عالیقدر حضرت آیت الله العظمی نوری همدانی «مدظله العالی» در پی تهدید آمریکا و رژیم صهیونیستی نسبت به مقام معظم رهبری «دامت برکاته»»، دفتر حضرت آیتالله العظمی نوری همدانی.
- ↑ «واکنش قاطع مراجع تقلید و علما نسبت به گستاخی ترامپ به رهبر انقلاب»، خبرگزاری رسا.
- ↑ «حوزه علمیه نجف بر علیه تهدید گستاخانه «ترامپ جنایتکار» مبنی بر ترور امام خامنهای واکنش شدید نشان داد»، خبزگزاری دانشجو.
مآخذ
- «تداوم آفتاب: ویژہنامہ آغاز بیستمین سال رہبری حضرت آیتاللہ خامنہای»، در روزنامہ جام جم، جولائی/اگست 2008.
- تقوی، سید محمدعلی، «ریشہہای بہار عربی و دومینوی فروپاشی رژیمہای عرب (تعیینکنندگی عوامل کوتاہمدت و نقش مدیریت سیاسی)»، دورہ ۳، شمارہ ۱۱، نومبر/دسمبر 2017.
- آرشیو مرکز اسناد انقلاب اسلامی.
- آرشیو مرکز پژوہش و اسناد ریاست جمہوری، پروندہہای دورہ ریاست جمہوری آیتاللہ خامنہای.
- آرشیو موسسہ پژوہشی- فرہنگی انقلاب اسلامی.
- آشنایی با مجلس شورای اسلامی، بہ کوشش روابط عمومی مجلس شوری اسلامی، تہران، 1981.
- آقابزرگ تہرانی، محمدمحسن، طبقات اعلام الشیعہ، تہران، 2009.
- امام خمینی در آیینہ اسناد بہ روایت ساواک، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 2007.
- امام خمینی، صحیفہ امام، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 2010.
- بازرگان، مہدی، یادداشتہای روزانہ، تہران، 1997.
- بہبودی، ہدایت اللہ، شرح اسم زندگی نامہ آیتاللہ سید علی خامنہای (1939 - 1978)، تہران، مؤسسہ مطالعات و پژوہشہای سیاسی، 2012.
- تاریخ علمای خراسان، بہ کوشش میرزا عبدالرحمان، مشہد، 1962.
- جلالی، غلامرضا، مشہد در بامداد نہضت اسلامی، تہران، 1999.
- خامنہای، سید علی حسینی، غناء، تہران، فقہ روز، 2019.
- «نگاہی گذرا بہ زندگینامہی حضرت آیتاللہالعظمی سید علی حسینی خامنہای»، وبگاہ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتاللہ العظمی خامنہای، تاریخ درج مطلب: 21 مارچ 2014، تاریخ مشاہدہ: 23 جولائی 2023.
- زنگنہ قاسمآبادی، ابراہیم، مشاہیر مدفون در حرم رضوی: عالمان دینی، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 2003.
- شریفرازی، محمد، گنجینہ دانشمندان، تہران، 1975.
- صلحمیرزائی، سعید، فلسطین از منظر حضرت آیتاللہ العظمی سید علی خامنہای (مد ظلہ العالی) رہبر معظم انقلاب اسلامی، تہران، انتشارات انقلاب اسلامی، 2018.
- قاسمپور، داود، دہہ سرنوشتساز، تہران، مرکز اسناد انقلاب اسلامی.
- کسروی، احمد، قیام شیخ محمد خیابانی، تہران، 1997.
- «کنگرہ بین المللی اندیشہہای قرآنی امام خامنہای برگزار شد»، روزنامہ کیہان، 3 مئی 2024.
- گلشن ابرار، بہ کوشش جمعی از پژوہشگران حوزہ علمیہ قم، نشر معروف، 2000.
- ہاشمی رفسنجانی، اکبر، دوران مبارزہ، بہ کوشش محسن ہاشمی، تہران، دفتر نشر معارف انقلاب، 1997.
- یاران امام بہ روایت اسناد ساواک، تہران، مرکز بررسی اسناد تاریخی وزارت اطلاعات، 1997-2003.
- خامنہای، سیدعلی حسینی، طرح کلی اندیشہ اسلامی در قرآن، تہران، مؤسسہ فرہنگی ایمان جہادی(صہبا)، چاپ دوم، 2013.
- نگاہی گذرا بہ زندگینامہی حضرت آیتاللہالعظمی سید علی حسینی خامنہای khamenei.ir، تاریخ درج مطلب: 21 مارچ 2014، تاریخ مشاہدہ: 3 جون 2021.
- دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت اللہ العظمی خامنہای.
- «نامہ حضرت آیتاللہ خامنہای بہ دانشجویان حامی مردم فلسطین در دانشگاہہای ایالات متحدہ آمریکا»، وبگاہ دفترحفظ و نشر آثار حضرت آیتاللہ العظمی خامنہای، تاریخ مشاہدہ: 31 مئی 2024.
- «مروری بر نامگذاری سالہا توسط رہبر انقلاب از ۱۳۷۸ تا امروز»، خبرگزاری ایمنا، تاریخ درج مطلب: 19 مارچ 2024، تاریخ مشاہدہ: 11 جولائی 2024.
- «سرودہی حضرت آیتاللہ خامنہای کہ یک بیت از آن را در آستانہ عملیات وعدہ صادق در جلسہای خواندند»، سایت دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتاللہ العظمی خامنہای، تاریخ درج مطلب: 24 اپریل 2024، تاریخ مشاہدہ: 11 جولائی 2024.
- «بیانات آیتاللہ خامنہای در دیدار مردم سقز»، سایت دفتر حفظ و نشر آثار آیتاللہ العظمی خامنہای، تاریخ درج مطلب: 19 مئی 2009، تاریخ مشاہدہ: 11 جولائی 2024.
- «بیانات آیتاللہ خامنہای در دیدار جمعی از کارگزاران فرہنگی»، سایت دفتر حفظ و نشر آثار آیتاللہ العظمی خامنہای، تاریخ درج مطلب: 12 اگست 1992، تاریخ مشاہدہ: 18 جولائی 2024.
- «آستان امامزادہ محمد(ع) - تفرش»، ایسنا، تاریخ درج مطلب: 5 دسمبر 2017، تاریخ مشاہدہ: 30 اگست 2024.