نظامت امام باڑہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
نظامت امام باڑہ
Nizamat Imambara and its garden(India).jpg
ابتدائی معلومات
بانی: نواب سراج الدولہ
تاسیس: 1740ء
استعمال: نماز اور مجالس
محل وقوع: مرشد آباد مغربی بنگال ہندوستان
دیگر اسامی: مرشد آباد امام باڑہ
مشخصات
معماری
تعمیر نو 1847ء

نظامت امام باڑہ ہندوستان کے مغربی بنگال کے مرشد آباد شہر میں واقع شیعہ مذہبی اور ہندوستان کی قدیمی عمارتوں میں سے ایک ہے۔ اس امام باڑے کو نواب سراج الدولہ(1733-1757ء) نے تعمیر کرایا۔ 1846ء میں آتش سوزی کے حادثے میں امام باڑہ جل کر خاکستر ہوگیا۔ نواب منصور علی خان بہادر(1830-1884ء) نے 1847ء میں دوبارہ سے تعمیر کی۔ امام بارگاہ میں مدینہ مسجد کے علاوہ دیگر بعض دالان بھی موجود ہیں۔ نظامت امام باڑہ محرم الحرام میں مجالس امام حسینؑ برپا کرنے کے لئے کھولا جاتا ہے۔ یہ امام باڑہ ہندوستان کے آثار قدیمہ اور انڈیا کا سب سے بڑا امام باڑہ کہلاتا ہے۔ امام باڑے کی بنیاد میں مکہ سے مٹی لاکر ڈالی گئی۔ 1847ء میں امام باڑہ کی تعمیر نو ہوگئی اور اس وقت کربلا کی مٹی سے اس کی بنیاد کو متبرک بنایا گیا۔

محل وقوع

نظامت امام باڑہ ہندوستان کا علاقہ مغربی بنگال کے شہر مرشد آباد میں دریائے بھاگیرتھی کے کنارے ہزاردوری محل کے بالمقابل شمالی سمت میں واقع ہے۔[1] یہ امام باڑہ ہندوستان کا سب بڑا امام باڑہ سمجھا جاتا ہے۔[2] اور بنگال میں ہندوستان کے تاریخی اور سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔[3]

نظامت امام باڑہ کا نقارہ خانہ اور زائر سرا
امام بارگاہ کا اندرونی منظر

تاریخچہ

نظامت امام باڑہ کو بنگال کے نواب محمد سراج الدولہ نے سنہ 1740 ء میں مرشد آباد قلعہ نظامت کے اندر لکڑی سے تعمیر کرایا۔[4] 1842 میں امام باڑے پر آگ لگی جس کے نتیجے میں کافی متاثر ہوا اور دسمبر 1846ء کو دوبارہ سے آتش سوزی میں مدینہ مسجد کے علاوہ پوری امام بارگاہ جل کر خاکستر ہوگئی۔[5] نواب منصور علی خان (1830-1884ء)[نوٹ 1] نے 1847ء میں دوبارہ سے تعمیر نو کروائی[6] اور گیارہ مہینوں میں اس کی تعمیر مکمل ہوئی۔۔[7]

ہدف

امام باڑے شیعوں کے تیسرے امام حضرت حسینؑ کی مجالس برپا کرنے کے لئے بنائے جاتے ہیں۔[8] امام حسینؑ 61 ہجری کو کربلا میں ابن زیاد کی لشکر کے ہاتھوں شہید ہوئے۔[9] سراج الدولہ[نوٹ 2] نے بھی اپنی فوج کے لئے محرم الحرام کے عشرے کی مجالس منعقد کرنے کی غرض سے امام باڑہ کی تعمیر کی جس کی بنیاد میں مکہ کی مٹی ڈالی تاکہ جو غریب لوگ مکہ جاکر حج انجام نہیں دے سکتے تھے وہ وہاں جاکر زیارت کر سکیں۔[11] دوبارہ تعمیر کرتے ہوئے اس کی بنیاد میں کربلا کی تربت ڈالی گئی۔[12] اور اس وقت یہ امام باڑہ سیاحوں اور زائرین کی توجہ کا مرکز ہے۔[13]

عمارت

امام باڑہ نظامت میں نواب منصور علی خان نے مدینہ مسجد کے نام سے ایک چھوٹی سے مسجد بھی تعمیر کروائی[14] جو امام باڑہ اور ہزاردوری محل کے درمیان واقع ہوائی ہے۔[15] اس مسجد کو مسجد نبوی کی شبیہ بناکر بنایا[16] امام باڑہ تین دالان پر مشتمل ہے۔ درمیانی دالان مدینہ مسجد اور ممبر دالان ہے جس کی لمبائی 300 فٹ ہے۔ اس دالان میں ممبر رکھا گیا ہے جس میں مجلسیں منعقد ہوتی ہیں۔ دالان کا ایک برآمدہ بھی ہے اور یہ سبھی سنگ مرمر سے مزئین ہیں۔ دالان میں ایک کشادہ ہال خواتین کے لئے بھی مختص ہے۔[17] امام بارگاہ کا مشرقی دالان نوبت خانہ کہلاتا ہے جس کا ایک کشادہ دروازہ ہے جبکہ مغربی اور سب سے بڑا دالان امام بارگاہ کا ہے جو دو منزلوں پر مشتمل ہے۔ امام باڑے کی لمبائی 680 فٹ ہے۔[18] امام باڑے میں زائرین کی رہائش کے لئے کمرے بھی بنے ہوئے ہیں۔ یہ امام باڑہ مغربی بنگال یا ہندوستان کا سب سے بڑا امام بارہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ امام باڑہ صرف محرم کے دس دنوں میں کھلتا ہے۔[19]

نگارخانہ

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. Murshidabad Tourist Attractionsبھارت آنلائن
  2. nizamat imambara the largest of them all
  3. nizamat imambara the largest of them all
  4. Nizamat imambara Murshidabad رانا صفوی ویب سائٹ
  5. Nizamat Imambara Murshidabadکلیک ان ویب سائٹ
  6. Nizamat imambara Murshidabad رانا صفوی ویب سائٹ
  7. Murshidabad Tourist Attractionsبھارت آنلائن
  8. توسلی، ص۸۲؛ جانب اللہی، ص۱۵ـ۲۰؛ د.اسلام، چاپ دوم، ذیل"Imam-bara"؛ دائرۃالمعارف بزرگ اسلامی، ذیل “اِمامْ بارہ”؛ دایرۃالمعارف جہان اسلام آکسفورد، ذیل واژہ؛ تاسی، ۵۳؛ فرہنگ، ص۳۰۸ـ۳۱۸؛ ولی، ص۱۲۵ـ۱۲۶
  9. طبری، تاریخ الأمم و الملوک،1387ق، ج5، ص429-430.
  10. یاسر پیرزادہ، سراج الدولہ، میرجعفر اور رابرٹ کلائیو ہم سب ویب سائٹ۔
  11. nizamat imambara the largest of them all
  12. Madina, Murshidabad
  13. nizamat imambara the largest of them all
  14. Madina Mosque, Murshidabad
  15. [Madina Masjid https://www.travalour.com/attraction/3368-madina-masjid ]
  16. Madina Murshidabad
  17. Nizamat Imambara
  18. Probably the the biggest Imambara in India
  19. Probably the the biggest Imambara in India
  1. بنگال کے سلسلہ نواب میں سے ایک ہیں
  2. سراج الدولہ بنگال، بہار اور اڑیسہ کے حکمران تھے جو برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھوں شہید ہوئے۔[10]

مآخذ