اعتزاز حسن بنگش

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
اعتزاز حسن بنگش
Aitzaz Hassan.jpg
کوائف
مکمل نام اعتزاز حسن
لقب/کنیت بنگش
تاریخ ولادت سنہ 1998ء
آبائی شہر ہنگو
رہائش ابراہیم زئی
تاریخ شہادت 6 جنوری سنہ 2014ء
کیفیت شہادت خودکش بمبار کی دہشتگردی میں
مدفن ابراہیم زئی
علمی معلومات
خدمات

اعتزاز حسن بنگش (1998-2014ء) ہنگو کے شیعہ نشین علاقہ ابراہیم زئی نامی گاوں کا 16 سالہ طالب علم ہے جس نے ابراہیم زئی ہائی سکول کی طرف بڑھتے ہوئے خودکش دہشتگرد کو روک کر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ اس وقت سکول میں 1000 کے لگ بھگ طالب علم موجود تھے۔ اعتزاز کی شہادت کے بعد 23 مارچ کو یوم پاکستان کے موقع پر انہیں صدر مملکت پاکستان کی طرف سے ستارہ شجاعت سے نوازا گیا۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے (ہیومن رائٹس کونسل) کی طرف سے ’گلوبل بریوری‘ ایوارڈ (Globle bravery award) سے نوازا گیا۔ اور ہیرالڈ میگزین میں سنہ 2014ء کی بہترین پاکستانی شخصیت کا ایوارڈ دیا گیا۔ اعتزاز کی شہادت کے بعد ان کے سکول، وہاں کا سٹیڈیم اور اسلام آباد میں ایک سڑک ان کے نام سے منسوب کردیا۔ اعتزاز کی بہادری پر پاکستان میں سیلوٹ کے نام سے فلم بنی جو 2 سمتبر 2016 کو پاکستانی سینماوں کی زینت بنی۔ اعتزاز حسن کی برسی ہر سال منائی جاتی ہے۔

سوانح حیات

اعتزاز حسن سنہ 1998ء کو پاکستان کے صوبہ خیبرپختون خواہ کے ضلع ہنگو کے ابراہیم زئی میں پیدا ہوئے۔[1] اعتزاز ایک معمولی گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔ ان کے والد مجاہد علی بنگش متحدہ عرب امارات میں مزودری کیا کرتے تھے۔[2] اعتزاز کا ایک بھائی اور دو بہنیں ہیں۔[3] اگرچہ تعلیمی میدان میں اعتزاز ایک عام طالب علم تھے لیکن اپنے علاقے میں ہونے والی دہشتگردی کے خلاف بہت حساس تھے۔ اکثر اوقات دہشت گردوں کے حوالے سے سخت نفرت انگیز جذبات کا اظہار کرتے تھے۔[4] اعتزاز حسن بچپن سے ہی نرم مزاج، ملنسار، خوش اخلاق اور رحمدل تھے اور گاوں کا ہر بچہ اس کو چاہتا تھا اور رشتہ داروں میں بھی اسی اخلاق کی وجہ سے اعتزاز کو خاص مقام حاصل تھا۔[5] اعتزاز کو پرندے پالنے کا بہت زیادہ شوق تھا۔[6]

ہنگو سے تعلق رکھنے والے 16 سال کے اعتزاز حسن نے 6 جنوری سنہ 2014 ء کو صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں شیعہ نشین علاقہ ابرہیم زئی کے ہائی سکول میں جب خودکش حملہ آور کو روک دیا اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سکول میں موجود بچوں کو دہشتگردی کا نشانہ بننے سے بچایا لیکن اپنی جان قربان کردی۔[7]

واقعہ شہادت

ہنگو شہر سے 20 کلو میٹر دور کوہاٹ روڈ پر واقع[8] شیعہ نشین علاقہ ابراہیم زئی ہمیشہ طالبان کے حملوں کی زد پر رہا۔[9] اس خطے میں ہونے والی طالبان کیساتھ لڑائیوں میں یہاں کے لوگوں نے بہادری اور جراتمندی کیساتھ جانوں کی پروا کیے بغیر خود کو اگلے مورچوں میں پیش کیا ہے۔[10] انہی میں سے ایک اعتزاز حسن تھا جو بروز پیر 6 جنوری کی صبح آٹھ بجے اپنے دیگر دوستوں کے ہمراہ سکول جارہا تھا۔ راستے میں ایک اجنبی شخص نے ان سے سرکاری ہائی سکول ابراہیم زئی کا پتہ دریافت کیا۔ اعتزاز نے یہ بھانپ لیا کہ یہ اجنبی کوئی تخریب کار ہے، اس نے اپنے دیگر ساتھیوں کو کہا کہ یہ شخص دہشتگرد ہے جو ہمارے اسکول کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس کے دوستوں نے اسے خبردار کیا کہ اس کے قریب نہ جائے ورنہ وہ اسے مار دے گے، لیکن اعتزاز نے پرواہ کئے بغیر ان سے کہا کہ وہ پیچھے ہٹ جائیں اور وہ خود اس کو قابو کرنے کی کوشش کرے گا ورنہ یہ سکول کے اندر پہنچنے کی صورت میں سکول میں تباہی مچا دے گا۔[11] اعتزاز نے تیزی کے ساتھ جاکر اس خودکش بمبار کو دبوچ لیا، جب خودکش بمبار نے اعتزاز کے ہاتھوں خود کو بے بس محسوس کیا اور دیکھا کہ وہ اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکتا ہے تو اس نے خود کو وہی پر ہی اڑا لیا، یوں اس دھماکہ میں اعتزاز شہید ہوگیا۔[12] جس وقت اعتزاز نے دہشتگرد کو روکا اس وقت سکول میں اسمبلی جاری تھی، جس میں ایک ہزار کے قریب بچے موجود تھے۔[13]

اعتزاز حسن سنہ 2014 میں پاکستان کی پہلی شخصیت قرار پائے۔

عکس العمل

اعتزاز حسن کی دلیری اور بہادری کی خبر آگ کی طرح پھیل گئی اور عالمی سطح پر میڈیا نے کوریج دیا۔[14] جبکہ پاکستان میں حکومتی سطح پر اس قربانی کو سراہتے ہوئے مختلف اقدامات کئے گئے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

  • پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے دفتر سے 11 جنوری کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا: شہید اعتزاز حسن کے بہادرانہ عمل نے سینکڑوں طلبہ کی جان بچائی اور بہادری اور حب الوطنی کی روشن مثال قائم کی ہے۔[15]
  • نوبل پرائز ہولڈر ملالہ یوسفزئی نے اعتزاز حسن کو ہمیشہ کے لئے اپنا ہیرو قرار دیا۔[16]
  • تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان لاہور پریس بریفنگ کے دوران کہا:’’اعتزاز قوم کا ہیرو ہے۔[17]
اعتزاز کی نقاشی
  • 13 جنوری کو گورنر خیبر پختونخواہ شہید طالب علم کے گھر گئے اور انہوں نے صدر اور وزیراعظم کی طرف سے قبر پر پھول چڑھائے۔[18]
  • وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ پرویز خٹک کے مشیر امجد آفریدی‘ ایڈوائزر ضیاء احمد اور سیکرٹری اطلاعات اشتیاق شاہ نے اعتزاز حسن کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔[19]
  • صوبائی حکومت کی طرف سے گورنمنٹ ہائی سکول ابراہیم زئی کو اعتزاز حسن کے نام سے منسوب کرنے اور شہر میں شہید طالب علم کے نام سے نیا اسٹیڈیم تعمیر کرنے کا اعلان بھی کیا۔[20]
  • 10 جنوری کو سینیٹ کے اجلاس میں چوہدری اسلم اور اعتزاز حسن کو خراج عقیدت کی متفقہ قرار داد منظور کی گئی۔[21]
  • آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ قوم اعتزاز کی بہادری پر نازاں ہے اور اعتزاز قومی ہیرو ہے۔[22]
  • 11 جنوری کو آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی طرف سے اعتزاز کی قبر پر پھول چڑھائے گئے اور فوجی دستے نے سلامی پیش کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق بریگیڈئر ندیم نے شہید کے گھر جا کر آرمی چیف کی جانب سے اعتزاز کے خاندان سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔[23]
  • عالمی ذرائع ابلاغ نے بھی شہید اعتزاز کو زبردست خراج تحسین کیا ہے۔[24] اب بھی ہر سال شہید اعتزاز حسن کی برسی بڑی عقیدت و احترام سے منائی جاتی ہے۔[25]

اعزازات

اسلام آباد میں ایک سڑک کا نام شہید اعتزاز حسن رکھا گیا۔

پاکستانی وزیراعظم میاں نواز شریف کے دفتر سے وقت کے صدر مملکت جناب ممنون حسین کو سفارش کی کہ وہ شہید اعتزاز حسن کو ستارہ شجاعت دینے کی منظوری دیں۔[26] 23 مارچ سنہ 2014ء کو یوم پاکستان کے موقعے پر اعتزاز حسن کو ستارہ شجاعت اور صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔[27]

  • ہیرالڈ میگزین جو پاکستان میں سارا سال خبروں میں رہنے والی اور عوامی پسندیدہ شخصیت کو سال کی بہترین شخصیت کے عنوان سے انتخاب کرتی ہے۔ سنہ 2014ء میں اعتزاز حسن کو سال کی بہترین شخصیت قرار دیا جبکہ اس دوڑ میں شامل اہم شخصیات میں سے ایک پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا نام بھی شامل تھے۔ لیکن "سال کی بہترین شخصیت" (Person of the year) کا ایوارڈ اعتزاز حسن شہید کے نام کردیا۔[28]
  • خیبرپختون خواہ کی صوبائی حکومت نے ابراہیم زئی ہائی اسکول کا نام تبدیل کر کے اعتزاز حسن شہید ہائی اسکول رکھدیا۔[29]
  • اعتزاز حسن شہید کی شجاعت اور بہادری کی وجہ سے انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ہیومن رائٹس کونسل کی طرف سے انہیں ’گلوبل بریوری‘ایوارڈ سے نوازا گیا۔[30]
  • اسلام آباد کے ڈپٹی مئیر زیشان نقوی کے مطابق، وزیراعظم پاکستان، شاہد خاقان عباسی کی ہدایت پر اسلام آباد کے سیکٹر ڈی 12 کی ایک سڑک کو اعتزاز حسن کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔[31]
سیلوٹ فلم میں علی محتشم، اعتزاز حسن کے روپ میں۔

فلم سیلوٹ

اعتزاز شہید کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ایک فلم بھی بنائی گئی ہے جس کا نام سلیوٹ رکھا گیا ہے۔[32] اس فلم کے ہدایت کار اور مصنف شہزاد رفیق ہیں۔ پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی ایسی بائیوپک فلم ہے جس میں ایک طالب علم کی بہادری اور قربانی کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ اس فلم میں علی محتشم نے اعتزاز حسن کا کردار ادا کیا۔[33]

لگانے آگ جو آئے تھے آشیانے کو وہ شعلے اپنے لہو سے بجھا دئیے تم نے
بچا لیا ہے یتیمی سے کتنے پھولوں کو سہاگ کتنی بہاروں کے رکھ لئے تم نے۔

حوالہ جات

  1. کم عمری میں جام شہادت نوش کرنے والا اعتزاز حسن سما ٹی وی نیوز۔
  2. اعتزاز نے اپنی جان دے کر سینکڑوں کی جان بچا لی بی بی سی اردو ڈاٹ کام۔
  3. اعتزاز نے اپنی جان دے کر سینکڑوں کی جان بچا لی بی بی سی اردو ڈاٹ کام۔
  4. مجھے فخر ہے کہ میں شہید اعتزاز حسن جیسے دلیر اور شجاع فرزند کا باپ ہوں، مجاہد علی بنگش اسلام ٹائمز۔
  5. مجھے فخر ہے کہ میں شہید اعتزاز حسن جیسے دلیر اور شجاع فرزند کا باپ ہوں، مجاہد علی بنگش اسلام ٹائمز۔
  6. مجھے فخر ہے کہ میں شہید اعتزاز حسن جیسے دلیر اور شجاع فرزند کا باپ ہوں، مجاہد علی بنگش اسلام ٹائمز۔
  7. شہید اعتزاز حسن کی آج تیسری برسی منائی جارہی ہے روزنامہ پاکستان۔
  8. اپنی حکومت پر مایوسی، اعتزاز کی شہادت پر فخر ہے بی بی سی اردو ڈاٹ کام۔
  9. ارشاد حسین ناصر، سلیوٹ، شہید اعتزاز حسن اسلام ٹائمز۔
  10. ارشاد حسین ناصر، سلیوٹ، شہید اعتزاز حسن اسلام ٹائمز۔
  11. اعتزاز نے اپنی جان دے کر سینکڑوں کی جان بچا لی بی بی سی اردو ڈاٹ کام۔
  12. محمد مہدی، شہید اعتزاز تجھے سلام اسلام ٹآئمز
  13. کم عمری میں جام شہادت نوش کرنے والا اعتزاز حسن سماء ٹی وی نیوز۔
  14. اعتزاز حسن کے لیے ستارہ شجاعتڈوئچے ویلے نیوز جرمن۔
  15. اعتزاز حسن کے لیے ستارہ شجاعت ڈوئچے ویلے نیوز جرمن۔
  16. Person of the year: Aitzaz Hasan, our hero of all times
  17. اعتزاز حسن تم ہمارا اعزاز ہو روزنامہ نوائے وقت۔
  18. اعتزاز حسن تم ہمارا اعزاز ہو روزنامہ نوائے وقت۔
  19. اعتزاز حسن تم ہمارا اعزاز ہو روزنامہ نوائے وقت۔
  20. اسکول اور اسٹیڈیم اعتزاز کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان، وائس آف امریکہ۔
  21. اعتزاز حسن تم ہمارا اعزاز ہو روزنامہ نوائے وقت۔
  22. Aitzaz is a national hero: Gen Raheel international the news, 12 junary. 2014.
  23. اعتزاز حسن تم ہمارا اعزاز ہو روزنامہ نوائے وقت۔
  24. اعتزاز حسن تم ہمارا اعزاز ہو روزنامہ نوائے وقت۔
  25. [1] روزنامہ 92 نیوز۔
  26. خودکش حملہ آور کو روکنے والے اعتزاز حسن شہید کو’’ستارہ شجاعت‘‘ دینے کیلئے صدر کو سمری ارسال ایکسپریس نیوز۔
  27. 170 شخصیات کیلئے قومی اعزازات روزنامہ دنیا۔
  28. Person of the year ہیرالڈ میگزین ڈان نیوز۔
  29. اعتزاز سلیم وصلی، اعتزاز حسن شہید قاف قلم ویب سائٹ۔
  30. IHRC bestows bravery award to Aitizaz Hassanاے آر وائی نیوز۔
  31. ملاحظہ کریں:اسلام آباد کی شاہراہ اعتزاز حسن کے نام منسوب بی بی سی نیوز اردو۔
  32. شہید اعتزاز حسن " کی زندگی پر بننے والی فلم 2 ستمبر کو ریلیز ہو گی اسلام ٹائمز۔
  33. اعتزاز حسن کی زندگی پر فلم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام۔


مآخذ