حسن بن محبوب

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حسن بن محبوب
معلومات شخصیت
مکمل نام حسن بن محبوب
دینی مشخصات
وجہ شہرت امام کاظم (ع)، امام رضا (ع) امام محمد تقی کے صحابی، اصحاب اجماع


حسن بن محبوب (۱۲۹ یا ۱۴۹۔۲۲۴ ق) امام موسی کاظم علیہ السلام، امام علی رضا علیہ السلام اور امام محمد تقی علیہ السلام کے اصحاب میں سے ہیں۔ وہ فقہ و حدیث میں شیعوں کے چار ارکان میں سے ایک اور اصحاب اجماع میں سے ہیں۔ علمائ علم رجال اور محدثین کے ثقہ ہونے پر اتفاق نظر رکھتے ہیں۔

شیعوں کی کتب اربعہ کی روایات کے اسناد میں ان کا نام کثرت سے دیکھنے میں آتا ہے۔ انہوں نے زیادہ تر اصحاب اجماع سے روایات نقل کی ہیں اور احمد بن محمد برقی، عبدالعظیم حسنی اور سہل بن زیاد آدمی جیسے بہت سے حضرات نے ان سے روایات نقل کی ہیں۔ ان کی زیادہ تر روایات کا موضوع فقہی ہے۔

المشیخہ حسن بن محبوب کی سب سے مشہور تالیف ہے جس کا شمار شیعوں کی قدیمی ترین فقہی اور رجالی کتب میں ہوتا ہے۔

نسب

اصحاب اجماع

امام باقرؑ کے اصحاب
۱. زُرارَۃ بن اَعین
۲. مَعروفِ بنِ خَرَّبوذ
۳. بُرَید بن معاویہ
۴. ابوبصیر اَسَدی یا (ابوبصیر مرادی)
۵. فُضَیل بن یسار
۶. محمد بن مُسلِم

امام صادقؑ کے اصحاب
۱. جَمیل بن دَرّاج
۲. عبداللہ بن مُسکان
۳. عبداللہ بن بُکَیر
۴. حَمّاد بن عثمان
۵. حماد بن عیسی
۶. اَبان بن عثمان

امام کاظمؑ اور امام رضاؑ کے اصحاب
۱. یونس بن عبد الرحمن
۲. صَفوان بن یحیی
۳. اِبن اَبی عُمَیر
۴. عبداللہ بن مُغَیرِہ
۵. حسن بن محبوب یا (حسن بن علی بن فَضّال، فَضالَۃ بن ایوب و عثمان بن عیسی)
۶. احمد بن ابی نصر بزنطی

ان کا خاندان کئی نسلوں سے کوفہ میں مقیم تھا اور انہیں کوفہ کے قبیلہ بجیلہ کی سرپرستی حاصل تھی۔ اسی سبب سے انہیں کوفی بجلی[1] یا مولائ بجیلہ[2] بھی کہا جاتا ہے۔[3]

ان کے تیسرے جد وہب جو اہل سند اور جریر بن عبد اللہ بجلی کے غلام تھے، نے امام علی علیہ السلام سے درخواست کی تھی کہ وہ انہیں جریر سے خرید لیں۔ جریر نے دیکھا کہ ان کو فروخت کرنے کے بعد وہ مکمل طور پر ان کے ہاتھ سے نکل جائیں گے اس لئے انہیں آزاد کر دیا تا کہ ان کا اور قبیلہ بجیلہ وہب اور ان کے آنے والی نسلوں کے ساتھ ایک تعلق (ولائ عتق) باقی رہے۔ اس کے بعد وہب امیرالمومنین (ع) کی خدمت پر مامور ہو گئے۔

کنیت و لقب

حسن بن محبوب کی کنیت ابو علی[4] اور ان کا لقب سراد یا زراد[5] ہے جس کے معنی زرہ بنانے والے[6] کے ہیں۔ جو ان کے جد اعلی وہب کے پیشہ کی یادگار کے طور پر ہے۔[7]

ولادت

ان کی ولادت اس بنیاد پر کہ وفات کے وقت ان کی عمر ۷۵ یا ۹۵ سال تھی، سن ۱۲۹ یا ۱۴۹ ق میں بنتی ہے۔ ابو حمزہ ثمالی جیسے افراد سے ان کے روایت نقل کرنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی جوانی کے ایام میں ہی حدیث کے علوم و فنون کو سیکھنا شروع کر دیا تھا۔ یا شاید ان کے والد محبوب نے انہیں اس کے تعلم کی طرف تشویق میں موثر کردار ادا کیا ہوگا۔ جیسے کہ کشی[8] نے شیعہ راویوں سے سنا ہے کہ ان کے والد محبوب انہیں ہر ایک حدیث کے بدلے جو وہ علی بن رئاب سے تحریر کرتے تھے، ایک درہم انعام دیا کرتے تھے۔ سالہا بعد وہ دیگر تین بزرگ افراد کی معیت میں فقہ و حدیث میں شیعوں کے ارکان چہارگانہ کی حیثیت اختیار کر چکے تھے۔[9]

اولاد

ان کے دو بیٹے محمد اور ہارون تھے جو دونوں امام محمد تقی علیہ السلام[10] کے اصحاب میں سے تھے اور ان کے ایک پوتے جعفر بن محمد کا نام بھی راویان حدیث کے درمیان ذکر ہوتا ہے۔[11]

وثاقت

تمام متقدم و متاخر علمائ رجال اور محدثین ان کی ثقہ ہونے پر متفق ہیں۔[12] ان کا نام امام موسی کاظم (ع)[13]،امام رضا (ع)[14] اور امام محمد تقی (ع)[15] کے اصحاب کے طبقات میں آتا ہے۔ اور ان کا شمار اصحاب اجماع کے زمرہ میں بھی ہوتا ہے۔[16]

کشی[17] نے ان کا شمار امام کاظم اور امام رضا علیہما السلام کے اصحاب میں سے چھ فقیہوں میں کیا ہے جن کی منقولہ روایات کے صحیح ہونے اور ان کے علم و فقاہت اور ان کے ساتھ فقہائ کے چھ افراد پر مشتمل دو گروہ پر ان کے بقول شیعہ علمائ کا اجماع ہے۔ البتہ بعض حضرات نے حسن بن محبوب کی جگہ حسن بن علی بن فضال اور فضالہ بن ایوب یا عثمان بن عیسی رواسی کا شمار اس گروہ میں کیا ہے۔[18]

مامقانی[19] کی تحریر کے مطابق: بعض فقہائ جن میں شہید ثانی اور محقق سبزواری شامل ہیں، کا ماننا ہے کہ ان کا شمار بھی محمد بن ابی عمیر کی طرح ان افراد میں ہے جو ثقہ راوی کے علاوہ کسی سے حدیث کو بطور مرسلہ یا بعض واسطوں کے حذف کے ساتھ نقل نہیں کرتے ہیں۔ اور یہ راوی پر اعتبار کرنے کا سب سے اعلی درجہ ہے۔[20]

روایات

حسن بن محبوب کا نام شیعہ کتب اربعہ کی روایات کے ۳۰۰۰ سے زیادہ سلسلہ سند میں ذکر ہوا ہے۔[21] یہ روایات کثرت تعداد کی ترتیب کے ساتھ ان موضوعات عقاید، اخلاق، احکام عبادات، احکام معاملات وغیرہ پر مشتمل ہیں۔[22]

آیت اللہ خوئی[23] کی تحقیق کے مطابق انہوں نے ان چند احادیث کے علاوہ جو بلا واسطہ امام کاظم و امام رضا علیہما السلام سے نقل ہیں، ۱۸۸ راویوں سے حدیث سنیں ہیں جن میں ساٹھ افراد امام صادق علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے۔[24]

انہوں نے سب سے زیادہ روایتیں علی بن رئاب، ابو ایوب ابراہیم بن زیاد خزاز اور عبد اللہ بن سنان سے (یہ تینوں حضرات امام صادق (ع) کے اصحاب میں سے ہیں) اور ہشام بن سالم، علائ بن رزین (یہ دونوں حضرات امام صادق اور امام کاظم علیہما السلام کے اصحاب میں سے تھے)[25] سے نقل کی ہیں۔ انہوں نے اسی طرح سے اصحاب اجماع میں سے ۸ افراد سے روایت نقل کی ہے۔[26]

ان سے روایت نقل کرنے والے

ان سے روایات نقل کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔[27] ان سے سب سے زیادہ روایت نقل کرنے والوں کے اسمائ ذیل میں ترتیب کے ساتھ ذکر کئے جا رہے ہیں:

ان سے نقل ہونے والی روایات کے درمیان فقہ اور امامت خاص طور پر امام رضا (ع) کی امامت[29] کے سلسلہ میں روایات پر خاص توجہ دینا قابل ذکر ہے۔ اسی طرح سے نقد حدیث کے معیارات پر توجہ اور احکام سے متعلق روایات کے مستندات[30] اور رجال حدیث کے موضوع پر المشیخہ جیسی کتاب[31] تالیف کر کے پیش قدم ہونا لائق دقت امر ہے۔

موضوع روایات

ان کی زیادہ تر روایات کے موضوعات فقہی ہیں (خاص طور پر حدود، دیات و قصاص، نکاح و طلاق، نماز و حج) اور مستندات حدیثی احکام کے درمیان کے تعارض کو رفع کرنا ہے۔ جس سے ان کے علم اور مسائل فقہ کے تبحر کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ محقق حلی جنہوں نے فقہ استدلالی اور فقہ مقارن میں فقہائ امامیہ کے اقوال کے سلسلہ میں محض چند افراد کے سخن پر اکتفا کیا ہے جن کی تعداد پانچ ہے اور ان میں سے بھی سب سے زیادہ حسن بن محبوب کا نام ذکر کیا ہے اور ان سب کی تعریف کی ہے۔[32]

تالیفات

حسن بن محبوب کا شمار تصنیفات حدیث کے بڑے مولفین میں کیا جاتا ہے۔[33] شیخ طوسی نے اپنی کتاب الفہرست میں[34] تحریر کیا ہے کہ وہ صاحب تالیفات کثیرہ ہیں اور ان کی ان کتابوں کے اسمائ بیان کئے ہیں: المشیخہ، الحدود، الدیات، الفرائض،[35] النکاح، الطلاق، النوادر، العتق، المراح۔[36] ابن ندیم[37] نے بھی ان کی بعض تالیفات کے نام ذکر کئے ہیں اور ان میں التفسیر نامی کتاب کا اضافہ کیا ہے۔ ابن شہر آشوب[38] نے ان سب کے علاوہ معرفۃ رواۃ الاخبار نام کی کتاب کا تذکرہ بھی کیا ہے۔

المشیخہ

حسن بن محبوب کی مشہور ترین کتاب المشیخہ ہے۔ جو ائمہ (ع) کے حضور کے زمانہ میں، اصول شیعہ کے سلسلہ میں تحریر کی گئی اور جسے ابن مزنی[39] کی کتاب اور اس جیسی تالیفات سے زیادہ مشہور سمجھا جاتا ہے۔[40]

یہ کتاب ان کے مشایخ حدیث کے حالات زندگی اور ان کی روایات کے بارے میں تصنیف کی گئی ہے۔ اور اس کا شمار شیعوں کی علم فقہ و رجال کی قدیمی ترین کتابوں میں ہوتا ہے۔[41]

کتاب المشیخہ کو داود بن کورہ قمی نے شیخ کلینی کے مشایخ حدیث سے موضوعات فقہی کے مطابق[42] تبویب کی ہے اور احمد بن حسین بن عبد الملک نے معتبر راویوں کے واسطہ سے اسے روات کے نام کی بنیاد پر تنظیم کیا ہے[43] اور اسی طرح سے شہید ثانی نے اس سے ایک منتخب مرتب کیا ہے[44] جو تقریبا ایک ہزار روایات پر مشتمل ہے۔ جو اس کتاب کی وسعت اور اہمیت کو بیان کرتا ہے۔

تصنیفات کی حالت

حسن بن محبوب کی کوئی بھی کتاب دسترس میں نہیں ہے۔ کتاب المشیخہ کے طریق میں شیخ طوسی[45] کے موجود ہونے اور اپنی حدیثی کتب میں اس سے نقل کرنے[46] کے پیش نظر یہ احتمال دیا جا سکتا ہے کہ یہ کتاب پانچویں صدی ہجری تک دسترسی میں تھی اور ان کے طریق سے قطب راوندی[47] تک پہچی ہے۔ ابن ادریس حلی نے اپنی کتاب السرائر کے المستطرفات[48] کے حصہ میں اس المشیخہ کے خلاصہ کا ذکر کیا ہے۔

شہید ثانی[49] کا اس المشیخہ سے منتخب مرتب کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ دسویں صدی ہجری تک موجود اور دسترس میں تھی۔

گزشتہ تالیفات کو منتقل کرنا

حسن بن محبوب نے اپنی تالیفات کے علاوہ گزشتہ علمائ کی حدیث سے متلعق تصنیفات کو آئندہ نسلوں تک پہچانے کے سلسلہ میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے، جیسا کہ شیخ طوسی نے اپنی کتاب الفہرست[50] اور نجاشی[51] نے ان کا نام ۴۰ سے زیادہ اصل اور کتاب کے طرق روایت میں ذکر کیا ہے۔ زیادہ تر مذکورہ موارد ابن بطہ قمی کی کتاب الفہرست سے ماخوذ ہیں، اور انہوں نے ان روایات کو غالبا احمد بن محمد بن عیسی اشعری کے واسطہ سے ابن محبوب سے نقل کیا ہے۔[52]

وفات

حسن بن محبوب کی وفات سن ۲۲۴ ق کے آخر میں ۷۵ سال کی عمر میں اور زیادہ قوی احتمال کے مطابق ۹۵ برس میں ہوئی۔ اس لئے کہ اگر چہ کشی[53] نے ان کی وفات ۷۵ سال کی عمر میں تسلیم کی ہے لیکن سن ۱۴۹ ہجری قمری سے پہلے وفات پانے والے روات سے ان کا نقل روایت کرنے کی بنیاد پر احتمال قوی پایا جاتا ہے کہ ان کے سن وفات میں تصحیف (نقطہ کی وجہ سے لفط کا بدل جانا) پیش آئی ہو اور صحیح عبارت ۹۵ ہے۔[54]

حوالہ جات

  1. آقا بزرگ طهرانی، ج۲۱، ص۶۹
  2. طوسی، ۱۳۸۰، ص۳۷۲؛ طوسی، ۱۴۲۰، ص۱۲۲
  3. کشّی اختیار معرفة الرجال، ص۵۸۴.
  4. طوسی، ۱۴۲۰، ص۱۲۲
  5. برقی، ص۱۱۸، ۱۲۶؛ طوسی، ۱۴۲۰، ص۱۲۲
  6. ابن منظور، ذیل «‌زرد‌» و «‌سرد
  7. کشّی، اختیار معرفة الرجال، ص۵۸۴، ص۵۸۵
  8. کشّی، اختیار معرفة الرجال، ص۵۸۵
  9. طوسی، ۱۴۲۰، ص۱۲۲
  10. نجاشی، ص۴۳۸ـ۴۳۹؛ طوسی، ۱۳۸۰، ص۴۰۸
  11. کشّی، اختیار معرفة الرجال، ص۵۸۴
  12. منجمله طوسی، ۱۴۲۰، ص۱۲۲؛ ابن داوود حلّی، الرجال، ص۷۷؛ علامه حلّی، رجال العلامة الحلّی، ص۳۷؛ مجلسی، ص۵۹
  13. رجوع کریں برقی، ص۱۱۸، ۱۲۶؛ طوسی، ۱۳۸۰، ص۳۴۷
  14. ابن ندیم، ص۲۷۶؛ طوسی، ۱۳۸۰، ص۳۷۲
  15. ابن ندیم، ص۲۷۶
  16. کشی، اختیار معرفة الرجال، ص556
  17. اختیار معرفةالرجال، ص۵۵۶
  18. کشّی، اختیار معرفةالرجال، ص۵۸۵؛ نیز اصحاب اجماع کی طرف مراجعہ کریں۔
  19. تنقیح المقال فی علم الرجال، ج۲۰، ص۳۶۰
  20. نیز رجوع کریں: تنقیح المقال فی علم الرجال، ج۲۰، ص۳۶۰
  21. رجوع کریں: خویی، ج۵، ص۹۲، ۳۳۲ـ۳۷۴، ج۲۳، ص۱۹، ۲۳۷ـ۲۸۴
  22. رجوع کریں: اردبیلی، جامع الرواة و ازاحة الاشتباهات عن الطرق و الاسناد، ج۱، ص۲۲۱ـ۲۲۴.
  23. ج۵، ص۹۲ـ۹۳، ۳۳۳، ج۲۳، ص۱۹ـ۲۱، ۲۳۷
  24. طوسی، ۱۴۲۰، ص۱۲۲.
  25. رجوع کریں خویی، ج۵، ص۳۳۳ـ۳۷۴، ج۲۳، ص۲۳۷ـ۲۸۴.
  26. رجوع کریں خویی، ج۵، ص۹۲ـ۹۴، ج۲۳، ص۱۹ـ۲۱.
  27. رجوع کریں خویی، ج۵، ص۹۴، ج۲۳، ص۲۱
  28. خویی، ج۵، ص۹۴، ج۲۳، ص۲۱
  29. رجوع کریں طوسی، ۱۴۱۱، ص۳۵، ۶۸
  30. رجوع کریں حرّعاملی، ۱۴۰۹ـ۱۴۱۲، ج۲۷، ص۱۰۷ـ۱۰۸
  31. فضلی، اصول علم الرجال، ۱۴۱۴، ص۳۱
  32. رجوع کریں محقق حلّی، ج۱، ص۳۳
  33. بحرالعلوم، ج۲، ص۸۶،
  34. ص۱۲۲ـ۱۲۳
  35. ابن ندیم، ص۲۷۶، نے الفرائض و الحدود و الدیات کو ایک کتاب شمار کیا ہے۔
  36. ابن شهر آشوب در معالم العلماء ص:۲۸ المُزاح یا المزاج،
  37. ص۲۷۶،
  38. معالم العلماء، ص:۲۸
  39. متوفی ۲۴۶، مؤلف المختصر و از نامور ترین فقیهان شافعی
  40. رجوع کریں به طبرسی، ج۲، ص۲۵۸.
  41. فضلی، ۱۴۱۴، ص۳۱.
  42. نجاشی، فهرست اسماء مصنّفی الشیعة المشتهر برجال النجاشی، ص۱۵۸
  43. نجاشی، فهرست اسماء مصنّفی الشیعة المشتهر برجال النجاشی، ص۸۰؛ طوسی، ۱۴۲۰، ص۵۸
  44. آقا بزرگ طهرانی، ج۲۱، ص۶۹
  45. ۱۴۲۰، ص۱۲۲ـ۱۲۳
  46. نمونہ کے لئے رجوع کریں شیخ طوسی ۱۴۰۱، ج۱، ص۱۲۱، ج۶، ص۱۶۰؛ شیخ طوسی، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۱۰۶، ج۳، ص۶
  47. الخرائج و الجرائح، ج۱، ص۱۷
  48. ج۳، ص۵۸۹ـ۶۰۰
  49. رجوع کریں حرّ عاملی، ۱۳۶۲ش، قسم ۱، ص۸۷
  50. نمونہ کے لئے رجوع کریں ص۱۵۹ـ۱۶۰، ۱۶۴ـ۱۶۵
  51. نمونہ کے لئے رجوع کریں ص۱۳۵، ۱۴۰، ۱۶۰، ۳۵۷، ۴۴۵
  52. نمونہ کے لئے رجوع کریں نجاشی، فهرست اسماء مصنّفی الشیعة المشتهر برجال النجاشی، ص۱۳۵، ۱۴۰، ۱۶۰، ۳۵۷؛ طوسی، ۱۴۲۰، ص۱۲۲ـ۱۲۳؛ قس نجاشی، فهرست اسماء مصنّفی الشیعة المشتهر برجال النجاشی، ص۲۰، ۱۲۷، ۱۵۰؛ طوسی، ۱۴۲۰، ص۲۲، ۴۰، ۱۲۸
  53. اختیار معرفة الرجال، ص۵۸۴
  54. شوشتری، ج۳، ص۳۵۰


منابع

•آقا بزرگ طهرانی، محمد محسن، الذريعة الى تصانيف الشيعة، چاپ على‌ نقى منزوى و احمد منزوى، بيروت ۱۴۰۳/۱۹۸۳

•ابن ادریس حلّی، کتاب السرائر الحاوی لتحریر الفتاوی، قم ۱۴۱۰ـ۱۴۱۱

•ابن داوود حلّی، کتاب الرجال، چاپ محمد صادق آل بحر العلوم، نجف ۱۳۹۲/۱۹۷۲، چاپ افست قم

•ابن شهر آشوب، کتاب معالم العلماء، چاپ عباس اقبال آشتیانی، تهران ۱۳۵۳

•ابن ندیم، کتاب الفهرست، چاپ محمد رضا تجدد، تهران ۱۳۵۰ش

•الاختصاص، (منسوب به) محمد بن محمد مفید، چاپ علی اکبر غفاری، قم: جامعه مدرسین حوزه علمیه قم

•محمد بن علی اردبیلی، جامع الرواة و ازاحة الاشتباهات عن الطرق و الاسناد، بیروت، ۱۴۰۳ق/۱۹۸۳م

•محمد مهدی بحر العلوم، رجال السید بحر العلوم، المعروف بالفوائد الرجالیة، چاپ محمد صادق بحر العلوم و حسین بحر العلوم، تهران، ۱۳۶۳ش

•احمد بن محمد برقی، رجال البرقی، چاپ جواد قیومی اصفهانی، تهران، ۱۴۱۹ق

•محمد بن حسن حرّ عاملی، امل الآمل، چاپ احمد حسینی، بغداد ۱۹۶۵ق، چاپ افست قم، ۱۳۶۲ش

•محمد بن حسن حرّ عاملی، تفصیل وسائل الشیعة الی تحصیل مسائل الشریعة، قم ۱۴۰۹ـ۱۴۱۲

•خویی، ابو القاسم، معجم رجال‌الحديث، بيروت ۱۴۰۳/۱۹۸۳، چاپ افست قم

•شوشتری، محمد تقى، قاموس الرجال، قم، ۱۴۱۰ـ۱۴۲۴

•فضل بن حسن طبرسی، اعلام الوری باعلام الهدی، قم، ۱۴۱۷ق

•محمد بن حسن طوسی، الاستبصار، چاپ حسن موسوی خرسان، نجف، ۱۳۷۵ـ۱۳۷۶ق/ ۱۹۵۶ـ۱۹۵۷م، چاپ افست تهران، ۱۳۶۳ش

•محمد بن حسن طوسی، تهذیب الاحکام، چاپ حسن موسوی خرسان، بیروت، ۱۴۰۱ق/۱۹۸۱م

•محمد بن حسن طوسی، رجال الطوسی، نجف ۱۳۸۰/۱۹۶۱، چاپ افست قم

•محمد بن حسن طوسی، فهرست کتب الشیعة و اصولهم و اسماء المصنفین و اصحاب الاصول، چاپ عبد العزیز طباطبائی، قم ۱۴۲۰

•محمد بن حسن طوسی، کتاب الغیبة، چاپ عباداللّه طهرانی و علی احمد ناصح، قم ۱۴۱۱

بیرونی لینک