مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:حدیث مرو

ویکی شیعہ سے
حدیث مرو
حدیث مرو
حدیث کے کوائف
موضوعامامت
صادر ازامام رضا علیہ السلام
اصلی راویعبدالعزیز بن مسلم
شیعہ مآخذتحف العقول، کافی و امالی صدوق
قرآنی تائیداتسورہ بقرہ آیت نمبر 124، سورہ احزاب آیت نمبر 36
مشہور احادیث
حدیث سلسلۃ الذہبحدیث ثقلینحدیث کساءمقبولہ عمر بن حنظلۃحدیث قرب نوافلحدیث معراجحدیث ولایتحدیث وصایتحدیث جنود عقل و جہلحدیث شجرہ

حدیثِ مرو، شیعوں کے آٹھویں امام، امام رضا علیہ السلام کی ایک حدیث ہے جس میں آپؑ نے امام معصومؑ کی خصوصیات اور شرائط بیان کی ہیں۔ یہ حدیث شہر مرو میں عبد العزیز بن مسلم کو مخاطب قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے۔

اس روایت کے مطابق امامت ایک الہی منصب ہے جو مخصوص برگزیدہ افراد کو عطا کیا جاتا ہے۔ یہ منصب رسول اکرمؐ کے بعد امام علی علیہ السلام اور آپؑ کی معصوم اولاد کو عطا ہوا ہے۔ اس حدیث میں امام معصوم کی بعض خصوصیات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن میں علم اور اخلاق میں برتری، شجاعت، دین کے تحفظ اور امت کی وحدت میں کلیدی کردار جیسے خصوصیات شامل ہیں۔ یہاں اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ عبادات اور احکام الٰہی امامت کے سائے میں ہی کمال تک پہنچتے ہیں۔

حدیثِ مرو شیعہ مصادر جیسے الکافی میں نقل ہوئی ہے۔ اگرچہ اس حدیث کی سند کچھ ضعیف ہے، تاہم اس کی شہرت اور اس کا مضمون قرآن و علم کلام کے اصولوں سے ہم آہنگ ہونے کی بنا پر شیعہ علماء کے نزدیک قابل استناد شمار ہوتا ہے۔ شیعہ تفاسیر میں آیاتِ امامت کی وضاعت اور کلامی مباحث میں نظریۂ امامت کی تبیین اور مخالف آرا کو نقد کرنے میں اس حدیث سے استناد کیا جاتا ہے۔

امام کی شناخت میں حدیثِ مرو کی اہمیت

حدیثِ مرو میں امام رضا علیہ السلام نے امامت کی حقیقت اور اس کی شرائط بیان کی ہیں۔ یہ حدیث شہر مرو میں عبد العزیز بن مسلم کو مخاطب قررا دے کر بیان ہوئی ہے۔[1] اس حدیث میں قرآنی اور عقلی دلائل کے ذریعے ائمہ معصومین علیہم السلام کی برتری کو واضح کیا گیا ہے۔[2] یہ روایت ایسے دور میں بیان ہوئی ہے جب امت مسلمہ میں مسئلہ امامت کے بارے میں اختلافات پائے جاتے تھے۔[3] کہا جاتا ہے کہ یہ حدیث امام رضا علیہ السلام کی طرف سے عباسی خلیفہ مامون عباسی کی ولایت عہدی قبول کرنے کے بعد پیدا ہونے والے اشکالات کے جواب میں بیان ہوئی ہے۔

استناد

حدیثِ مرو کو تفسیری مصادر میں امامت سے متعلق آیات؛ سورہ بقرہ آیت نمبر 124،[4] سورہ مائدہ آیت نمبر 3،[5] سورہ قصص آیت نمبر 68 اور 68[6] اور سورہ احزاب آیت نمبر 36[7] کی تفسیر میں مورد استناد قرار دیا جاتا ہے۔ اسی طرح کلامی کتب[8] اور دیگر علمی آثار[9] میں بھی اس حدیث سے امام کی خصوصیات اور شرائط نیز اہل سنت کی طرف سے امامت کے بارے میں پیش کئے گئے نظریات کے جواب میں بھی اس حدیث کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح اس حدیث میں امام رضا علیہ السلام کے استدلالی اسلوب نے بھی اہلِ تحقیق کی توجہ اپنی طرف مبذول کی ہے۔[10]

سند اور اعتبار

حدیثِ مرو شیعہ کتب جیسے الکافی،[11] امالی شیخ صدوق[12] اور تُحف‌العقول[13] میں مختلف عبارتوں کے ساتھ منقول ہے۔ شیخ صدوق کی کتاب کمال الدین میں اس کی کامل سند دو روائی طریقوں سے نقل ہوئی ہے۔[14]

الکافی میں یہ حدیث ناقص سند[15] کے ساتھ جبکہ تحف العقول میں سند کے بغیر[16] نقل ہوئی ہے، جو فن حدیث کے قواعد کے مطابق ضعیف احادیث میں شمار ہوتی ہے۔ تاہم شیعہ علما نے اس حدیث کی شہرت اور قرآن و سنت کے مطابق ہونے کے باعث اسے معتبر قرار دیا ہے۔[17]

حدیث کا مضمون

حدیثِ مرو میں امام رضا علیہ السلام نے قرآنی آیات کی روشنی میں امامت کو توحید اور نبوت کے بعد قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ امام کی تعیین صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔[18] امامؑ نے آیت اکمال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ رسول خداؐ نے حجۃ الوداع کے موقع پر منصب امامت کا عمومی اعلان کیا ہے۔[19] اسی طرح حضرت ابراہیم کی داستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امامت کو برگزیدہ اور پاکیزہ ہستیوں کے ساتھ مختص قرار دیا ہے جو رسول اکرمؐ کے بعد امام علی علیہ السلام پھر آپؑ کی معصوم اولاد میں قرار منتقل ہوئی ہے۔[20]

اس حدیث میں امام کی بعض خصوصیات بیان ہوئی ہیں جن میں علمی و اخلاقی فوقیت، شرح صدر، حدودِ الٰہی کے نفاذ میں شجاعت اور اپنے زمانے میں یکتائے زمانہ ہونا شامل ہیں۔[21] مذکورہ صفات اور خصوصیات سے عاری شخص کو امام بنانے پر تنقید کی گئی ہے۔[22] امام رضا علیہ السلام نے امام کو دین کے تحفظ، امت کی وحدت اور احکامِ الٰہی کے نفاذ میں کلیدی کردار کا حامل قرار ہے[23] اسی طرح اس حدیث میں بیان ہوا ہے کہ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور جہاد جیسے اعمال اور احکام بھی امامت ہی کے زیرسایہ کمال کی منزل تک پہنچتے ہیں۔[24]

حدیث کا متن اور ترجمہ

متن ترجمه
قَالَ عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُسْلِمٍ کُنَّا مَعَ الرِّضَا ع بِمَرْوَ فَاجْتَمَعْنَا فِی الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ بِهَا فَأَدَارَ النَّاسُ بَیْنَهُمْ أَمْرَ الْإِمَامَةِ فَذَکَرُوا کَثْرَةَ الِاخْتِلَافِ فِیهَا فَدَخَلْتُ عَلَى سَیِّدِی وَ مَوْلَایَ الرِّضَا ع فَأَعْلَمْتُهُ بِمَا خَاضَ النَّاسُ فِیهِ فَتَبَسَّمَ ع ثُمَّ قَالَ ع یَا عَبْدَ الْعَزِیزِ جَهِلَ الْقَوْمُ وَ خُدِعُوا عَنْ أَدْیَانِهِمْ إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَ عَزَّ لَم‏ یَقْبِضْ نَبِیَّهُ ص حَتَّى أَکْمَلَ لَهُ الدِّینَ وَ أَنْزَلَ عَلَیْهِ الْقُرْآنَ فِیهِ تِبْیَانُ کُلِّ شَیْ‏ءٍ وَ بَیَّنَ فِیهِ الْحَلَالَ وَ الْحَرَامَ وَ الْحُدُودَ وَ الْأَحْکَامَ وَ جَمِیعَ مَا یَحْتَاجُ إِلَیْهِ النَّاسُ کَمَلًا فَقَالَ (ما فَرَّطْنا فِی الْکِتابِ مِنْ شَیْ‏ءٍ) عبد العزیز بن مسلم کہتے ہیں: ہم امام رضا علیہ السلام کے ہمراہ مرو میں تھے۔ ہماری آمد کے آغاز میں جمعہ کے دن جامع مسجد میں جمع ہوئے تو لوگوں نے امامت کا معاملہ چھیڑا اور اس بارے میں لوگوں کے کثرت سے اختلاف کا تذکرہ کیا۔ میں اپنے آقا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور لوگوں کے اس (امامت کے معاملے) میں بحث و گفتگو سے آگاہ کیا۔ آپ علیہ السلام مسکرائے، پھر فرمایا: اے عبدالعزیز! لوگ ناواقف ہیں اور اپنی رائے سے دھوکا کھا گئے ہیں۔ بے شک اللہ عزوجل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح قبض نہیں کی یہاں تک کہ آپ کے لیے دین کو کامل کر دیا اور آپ پر قرآن نازل فرما دیا جس میں ہر چیز کا بیان ہے، اس میں حلال و حرام، حدود و احکام اور لوگوں کی ہر ضرورت کو پورا کرنے والی ہر چیز (کامل طور پر) واضح کر دی گئی ہے۔ پس اللہ عزوجل نے فرمایا: "ہم نے کتاب میں کوئی چیز کم نہیں چھوڑی"۔ [آیه 38 سوره انعام]
وَ أَنْزَلَ عَلَیْهِ فِی حِجَّةِ الْوَدَاعِ وَ هِیَ آخِرُ عُمُرِهِ ص- الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَ رَضِیتُ لَکُمُ الْإِسْلامَ دِیناً وَ أَمْرُ الْإِمَامَةِ مِنْ کَمَالِ الدِّینِ وَ لَمْ یَمْضِ ص حَتَّى بَیَّنَ لِأُمَّتِهِ مَعَالِمَ دِینِهِ وَ أَوْضَحَ لَهُمْ سُبُلَهُمْ وَ تَرَکَهُمْ عَلَى قَصْدِ الْحَقِّ وَ أَقَامَ لَهُمْ عَلِیّاً ع عَلَماً وَ إِمَاماً وَ مَا تَرَکَ شَیْئاً مِمَّا تَحْتَاجُ إِلَیْهِ الْأُمَّةُ إِلَّا وَ قَدْ بَیَّنَهُ فَمَنْ زَعَمَ أَنَّ اللَّهَ لَمْ یُکْمِلْ دِینَهُ فَقَدْ رَدَّ کِتَابَ اللَّهِ وَ مَنْ رَدَّ کِتَابَ اللَّهِ فَقَدْ کَفَر اور حجۃ الوداع میں، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر کا آخری حج تھا، یہ آیت نازل فرمائی: "آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو (بطور) دین پسند کر لیا"۔ اور امامت کا معاملہ دین کی تکمیل میں سے ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت تک رحلت نہیں فرمائے جب تک اپنی امت کو ان کے دین کے معالم واضح نہ کر دیے، ان کے لیے ان کی راہ روشن نہ کر دی اور انہیں حق کی سیدھی راہ پر نہ چھوڑا، اور ان کے لیے علی علیہ السلام کو نشان راہ اور امام قرار نہ دے دیا، اور امت کو جس چیز کی بھی ضرورت تھی اسے بیان نہ کر دیا۔ پس جو شخص گمان کرے کہ اللہ عزوجل نے اپنے دین کو کامل نہیں کیا تو اس نے اللہ کی کتاب کا انکار کیا، اور جس نے اللہ کی کتاب کا انکار کیا تو وہ اس کا کافر ہے۔
هَلْ یَعْرِفُونَ قَدْرَ الْإِمَامَةِ وَ مَحَلَّهَا مِنَ الْأُمَّةِ فَیَجُوزَ فِیهَا اخْتِیَارُهُمْ إِنَّ الْإِمَامَةَ خَصَّ اللَّهُ بِهَا إِبْرَاهِیمَ الْخَلِیلَ ع بَعْدَ النُّبُوَّةِ وَ الْخُلَّةِ مَرْتَبَةً ثَالِثَةً وَ فَضِیلَةً شَرَّفَهُ بِهَا وَ أَشَادَ بِهَا ذِکْرَهُ فَقَالَ جَلَّ وَ عَزَّ وَ إِذِ ابْتَلى‏ إِبْراهِیمَ رَبُّهُ بِکَلِماتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قالَ إِنِّی جاعِلُکَ لِلنَّاسِ إِماماً قالَ الْخَلِیلُ سُرُوراً بِهَا وَ مِنْ ذُرِّیَّتِی قالَ لا یَنالُ عَهْدِی الظَّالِمِینَ فَأَبْطَلَتْ هَذِهِ الْآیَةُ إِمَامَةَ کُلِّ ظَالِمٍ إِلَى یَوْمِ الْقِیَامَةِ وَ صَارَتْ فِی الصَّفْوَةِ ثُمَّ أَکْرَمَهَا اللَّهُ بِأَنْ جَعَلَهَا فِی ذُرِّیَّةِ أَهْلِ الصَّفْوَةِ وَ الطَّهَارَةِ فَقَالَ وَ وَهَبْنا لَهُ إِسْحاقَ وَ یَعْقُوبَ نافِلَةً وَ کُلًّا جَعَلْنا صالِحِینَ. وَ جَعَلْناهُمْ أَئِمَّةً یَهْدُونَ بِأَمْرِنا وَ أَوْحَیْنا إِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْراتِ وَ إِقامَ الصَّلاةِ وَ إِیتاءَ الزَّکاةِ وَ کانُوا لَنا عابِدِینَ فَلَمْ تَزَلْ تَرِثُهَا ذُرِّیَّتُهُ ع بَعْضٌ عَنْ بَعْضٍ قَرْناً فَقَرْناً حَتَّى وَرِثَهَا النَّبِیُّ ص فَقَالَ اللَّهُ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْراهِیمَ لَلَّذِینَ اتَّبَعُوهُ وَ هذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِینَ آمَنُوا کیا وہ امامت کی قدر و منزلت اور امت میں اس کے مقام کو پہچانتے ہیں تاکہ اس میں اپنی انتخاب کی اجازت دیں؟ بے شک امامت عظمت و قدر، بلند شان و مرتبہ، اونچے مقام اور ناقابل تسخیر حیثیت رکھتی ہے اور اس کی گہرائی اتنی دوررس ہے کہ لوگ اپنے عقول سے اس تک نہیں پہنچ سکتے، نہ اپنی رائے سے اسے حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے انتخاب سے کسی امام کو مقرر کر سکتے ہیں۔ بے شک امامت کے مقام کو اللہ عزوجل نے ابراہیم خلیل علیہ السلام کے لیے نبوت اور خُلّت (دوستی) کے بعد تیسری مرتبہ اور فضیلت کے طور پر مخصوص فرمایا جس کے ذریعے آپ کو شرف بخشا اور آپ کے ذکر کو بلند کیا۔ پس فرمایا: "بے شک میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں"। خلیل علیہ السلام خوشی کے عالم میں بولے: "اور میری اولاد میں سے (بھی امام ہوں گے)؟" اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: "میرا عہدہ ظالموں کو نہیں پہنچتا"۔ پس اس آیت نے قیامت تک ہر ظالم کی امامت باطل کر دی اور یہ (امامت) صفوت (پاک و برگزیدہ لوگوں) میں قرار پائی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو یہ عزت بخشی کہ اسے ان ہی کی اولاد میں صفوت و طہارت والوں کے لیے قرار دیا۔ پس فرمایا: "اور ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب عطا کیا، ہر ایک کو ہم نے صالح بنایا اور انہیں امام بنایا جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ہم نے ان کی طرف نیک کاموں، نماز قائم کرنے اور زکٰوۃ دینے کی وحی کی اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے"۔ پس یہ (امامت) ان کی اولاد میں نسل در نسل وراثتاً منتقل ہوتی رہی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وراثت میں دے دیا۔ پس اللہ جل و تعالیٰ نے فرمایا: "بے شک لوگوں میں ابراہیم کے سب سے زیادہ حق دار وہی ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی اور یہ نبی اور جو لوگ ایمان لائے" اور اللہ مومنین کا کارساز ہے۔ [آیه 68 سوره آل عمران]
فَکَانَتْ لَهُمْ خَاصَّة فَقَلَّدَهَا النَّبِیُّ ص عَلِیّاً ع فَصَارَتْ فِی ذُرِّیَّتِهِ الْأَصْفِیَاءِ الَّذِینَ آتَاهُمُ اللَّهُ الْعِلْمَ وَ الْإِیمَانَ وَ ذَلِکَ قَوْلُهُ وَ قالَ الَّذِینَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَ الْإِیمانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِی کِتابِ اللَّهِ إِلى‏ یَوْمِ الْبَعْثِ فَهذا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لکِنَّکُمْ کُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ عَلَى رَسْمِ مَا جَرَى وَ مَا فَرَضَهُ اللَّهُ فِی وُلْدِهِ إِلَى یَوْمِ الْقِیَامَةِ إِذْ لَا نَبِیَّ بَعْدَ مُحَمَّدٍ ص فَمِنْ أَیْنَ یَخْتَارُ هَذِهِ الْجُهَّالُ الْإِمَامَةَ بِآرَائِهِمْ إِنَّ الْإِمَامَةَ مَنْزِلَةُ الْأَنْبِیَاءِ وَ إِرْثُ الْأَوْصِیَاءِ إِنَّ الْإِمَامَةَ خِلَافَةُ اللَّهِ وَ خِلَافَةُ رَسُولِهِ ص وَ مَقَامُ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ ع وَ خِلَافَةُ الْحَسَنِ وَ الْحُسَیْنِ ع إِنَّ الْإِمَامَ زِمَامُ الدِّینِ وَ نِظَامُ الْمُسْلِمِینَ وَ صَلَاحُ الدُّنْیَا وَ عِزُّ الْمُؤْمِنِین‏ پس یہ (امامت) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مخصوص ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی طریقے پر جسے اللہ نے فرض کیا تھا، علی علیہ السلام کو اس کا حامل بنایا۔ پس یہ امامت آپ علیہ السلام کی اولاد میں ان برگزیدہ افراد کے لیے قرار پائی جنہیں اللہ نے علم و ایمان سے نوازا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور جنہیں علم و ایمان دیا گیا انہوں نے کہا: تم لوگ اللہ کے حکم سے قیامت کے دن تک (قبروں میں) ضرور رہو گے"۔ پس یہ امامت علی علیہ السلام کی اولاد میں خاص طور پر قیامت تک باقی رہے گی کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ تو پھر یہ ناواقف لوگ کہاں سے انتخاب کر سکتے ہیں؟ بے شک امامت انبیاء کا مقام اور اوصیاء کی میراث ہے۔ بے شک امامت اللہ کی خلافت اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خلافت ہے، امیرالمومنین علیہ السلام کا مقام اور حسن و حسین علیہما السلام کی میراث ہے۔ بے شک امامت دین کی لگام اور مسلمانوں کی نظامت ہے، دنیا کی اصلاح اور مومنین کی عزت ہے۔
الْإِمَامُ أُسُّ الْإِسْلَامِ النَّامِی وَ فَرْعُهُ السَّامِی بِالْإِمَامِ تَمَامُ الصَّلَاةِ وَ الزَّکَاةِ وَ الصِّیَامِ وَ الْحَجِّ وَ الْجِهَادِ وَ تَوْفِیرُ الْفَیْ‏ءِ وَ الصَّدَقَاتِ وَ إِمْضَاءُ الْحُدُودِ وَ الْأَحْکَامِ وَ مَنْعُ الثُّغُورِ وَ الْأَطْرَافِ الْإِمَامُ یُحَلِّلُ حَلَالَ اللَّهِ وَ یُحَرِّمُ حَرَامَهُ وَ یُقِیمُ حُدُودَ اللَّهِ وَ یَذُبُّ عَنْ دِینِ اللَّهِ وَ یَدْعُو إِلَى سَبِیلِ اللَّهِ بِالْحِکْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ الْحُجَّةِ الْبَالِغَةِ الْإِمَامُ کَالشَّمْسِ الطَّالِعَةِ الْمُجَلِّلَةِ بِنُورِهَا لِلْعَالَمِ وَ هُوَ بِالْأُفُقِ حَیْثُ لَا تَنَالُهُ الْأَبْصَارُ وَ لَا الْأَیْدِی الْإِمَامُ الْبَدْرُ الْمُنِیرُ وَ السِّرَاجُ الزَّاهِرُ وَ النُّورُ الطَّالِعُ وَ النَّجْمُ الْهَادِی فِی غَیَابَاتِ الدُّجَى وَ الدَّلِیلُ عَلَى الْهُدَى وَ الْمُنْجِی مِنَ الرَّدَى‏ بے شک امامت اسلام کی بڑھتی ہوئی بنیاد اور اس کی بلند شاخ ہے۔ امام کے ذریعے نماز، زکٰوۃ، روزہ، حج اور جهاد کامل ہوتے ہیں، فئے و صدقات کی تقسیم، حدود و احکام کا نفاذ اور سرحدوں و علاقوں کا تحفظ ہوتا ہے۔ امام اللہ کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام قرار دیتا ہے، اللہ کی حدود قائم کرتا ہے، اللہ کے دین کی حفاظت کرتا ہے اور حکمت، اچھی نصیحت اور کامل دلیل کے ساتھ اپنے رب کی راہ کی طرف بلاتا ہے۔ امام طلوع آفتاب کی مانند ہے جو اپنی روشنی سے دنیا کو منور کرتی ہے، حالانکہ وہ افق پر اس طرح ہوتی ہے کہ ہاتھ اور آنکھیں اس تک نہیں پہنچ سکتیں۔ امام چمکتا ہوا چاند، روشن چراغ، پھیلتی ہوئی روشنی اور تاریکیوں میں رہنمائی کرنے والا ستارہ ہے جو خشکی و تری کے بیابانوں اور سمندروں کی گہرائیوں میں (راستہ دکھاتا ہے)۔ امام پیاس پر میٹھا پانی ہے، ہدایت کا راستہ دکھانے والا اور ہلاکت سے بچانے والا ہے۔
الْإِمَامُ النَّارُ عَلَى الْیَفَاعِ الْحَارُّ لِمَنِ اصْطَلَى وَ الدَّلِیلُ فِی الْمَهَالِکِ مَنْ فَارَقَهُ فَهَالِکٌ الْإِمَامُ السَّحَابُ الْمَاطِرُ وَ الْغَیْثُ الْهَاطِلُ وَ السَّمَاءُ الظَّلِیلَةُ وَ الْأَرْضُ الْبَسِیطَةُ وَ الْعَیْنُ الْغَزِیرَةُ وَ الْغَدِیرُ وَ الرَّوْضَةُ الْإِمَامُ الْأَمِینُ الرَّفِیقُ وَ الْوَلَدُ الشَّفِیقُ وَ الْأَخُ الشَّقِیقُ وَ کَالْأُمِّ الْبَرَّةِ بِالْوَلَدِ الصَّغِیرِ وَ مَفْزَعُ الْعِبَادِ الْإِمَامُ أَمِینُ اللَّهِ فِی أَرْضِهِ وَ خَلْقِهِ وَ حُجَّتُهُ عَلَى عِبَادِهِ وَ خَلِیفَتُهُ فِی بِلَادِهِ وَ الدَّاعِی إِلَى اللَّهِ وَ الذَّابُّ عَنْ حَرِیمِ اللَّهِ الْإِمَامُ مُطَهَّرٌ مِنَ الذُّنُوبِ مُبَرَّأٌ مِنَ الْعُیُوبِ مَخْصُوصٌ بِالْعِلْمِ مَوْسُومٌ بِالْحِلْمِ نِظَامُ الدِّینِ وَ عِزُّ الْمُسْلِمِینَ وَ غَیْظُ الْمُنَافِقِینَ وَ بَوَارُ الْکَافِرِینَ الْإِمَامُ وَاحِدُ دَهْرِهِ لَا یُدَانِیهِ أَحَدٌ وَ لَا یُعَادِلُهُ عَالِمٌ وَ لَا یُوجَدُ لَهُ بَدَلٌ وَ لَا لَهُ مِثْلٌ وَ لَا نَظِیرٌ مَخْصُوصٌ بِالْفَضْلِ کُلِّهِ مِنْ غَیْرِ طَلَبٍ مِنْهُ وَ لَا اکْتِسَابٍ بَلِ اخْتِصَاصٌ مِنَ الْمُفْضِلِ الْوَهَّابِ امام بلند مقام پر آگ ہے جو اس کے ساتھ جلنے والے کے لیے گرم ہے اور ہلاکتوں میں رہنما ہے، جو بھی اس سے جدا ہوا وہ ہلاک ہوا۔

امام برسنے والا بادل، زوردار بارشمسی، چمکتا ہوا سورج، سایہ دار آسمان، وسیع زمین، جاری چشمہ اور سرسبز باغ ہے۔ امام ہمدم رفیق، شفیق باپ، ہمدرد بھائی اور چھوٹے بچے پر مہربان ماں ہے، مصیبت کے وقت بندوں کی پناہ گاہ ہے۔ امام اللہ کی مخلوق میں اس کا امین، اس کے بندوں پر اس کی حجت، اس کے شہروں میں اس کا خلیفہ، اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور اللہ کی حرمتوں کا محافظ ہے۔ امام گناہوں سے پاک، عیبوں سے مبرا، علم سے مخصوص اور حلم سے ممتاز ہے، دین کی نظامت، مسلمانوں کی عزت، منافقوں کی غیظ و غضب اور کافروں کے لیے ہلاکت کا باعث ہے۔ امام اپنے زمانے کا وہ یکتا فرد ہے جس کا کوئی ہمسر نہیں، کوئی عالم اس کا برابر نہیں، اس کا کوئی بدل نہیں پایا جاتا، اس کی کوئی مثل و نظیر نہیں۔ وہ ہر فضیلت سے بغیر طلب و کسب کے مخصوص ہے بلکہ بخشش و عطا کرنے والے (اللہ) کی طرف سے خاص انتخاب ہے۔

فَمَنْ ذَا یَبْلُغُ مَعْرِفَةَ الْإِمَامِ أَوْ کُنْهَ وَصْفِهِ هَیْهَاتَ هَیْهَاتَ ضَلَّتِ الْعُقُولُ وَ تَاهَتِ الْحُلُومُ وَ حَارَتِ الْأَلْبَابُ وَ حَصِرَتِ الْخُطَبَاءُ وَ کَلَّتِ الشُّعَرَاءُ وَ عَجَزَتِ الْأُدَبَاءُ وَ عَیِیَتِ الْبُلَغَاءُ وَ فَحَمَتِ الْعُلَمَاءُ عَنْ وَصْف‏ شَأْنٍ مِنْ شَأْنِهِ أَوْ فَضِیلَةٍ مِنْ فَضَائِلِهِ فَأَقَرَّتْ بِالْعَجْزِ وَ التَّقْصِیرِ فَکَیْفَ یُوصَفُ بِکُلِّیَّتِهِ أَوْ یُنْعَتُ بِکَیْفِیَّتِهِ أَوْ یُوجَدُ مَنْ یَقُومُ مَقَامَهُ أَوْ یُغْنِی غِنَاهُ وَ أَنَّى وَ هُوَ بِحَیْثُ النَّجْمُ عَنْ أَیْدِی الْمُتَنَاوِلِینَ وَ وَصْفِ الْوَاصِفِینَ أَ یَظُنُّونَ أَنَّهُ یُوجَدُ ذَلِکَ فِی غَیْرِ آلِ رَسُولِ اللَّهِ ص کَذَبَتْهُمْ وَ اللَّهِ أَنْفُسُهُمْ وَ مَنَّتْهُمُ الْأَبَاطِیلُ إِذِ ارْتَقَوْا مُرْتَقًى صَعْباً وَ مَنْزِلًا دَحْضاً زَلَّتْ بِهِمْ إِلَى الْحَضِیضِ أَقْدَامُهُمْ إِذْ رَامُوا إِقَامَةَ إِمَامٍ بِآرَائِهِمْ وَ کَیْفَ لَهُمْ بِاخْتِیَارِ إِمَامٍ وَ الْإِمَامُ عَالِمٌ لَا یَجْهَلُ وَ رَاعٍ لَا یَمْکُرُ مَعْدِنُ النُّبُوَّةِ لَا یُغْمَزُ فِیهِ بِنَسَب

تو کون ہے جو امام کی معرفت تک پہنچ سکے یا اس کے انتخاب کی طاقت رکھتا ہو؟ ہائے ہائے! عقول گمراہ ہو گئیں، دانشیں حیران، عقلوں میں الجھن، خطیب عاجز، دانشور جاہل، شاعر تھک گئے، ادیب عاجز اور فصیح بولنے والے اس کے ایک شان کی یا ایک فضیلت کی بھی وضاحت سے قاصر رہے اور عاجزی و کوتاہی کا اعتراف کر لیا۔ اور اسے پورے طور پر کیسے بیان کیا جائے؟ یا اس کی حقیقت کیسے بیان کی جائے؟ کیا کوئی ایسا شخص ملے گا جو اس کا قائم مقام ہو یا اس سے بے نیاز کرے؟ ہرگز نہیں! کیونکہ وہ ستارے کی مانند ہے جس تک کوشش کرنے والوں اور بیان کرنے والوں کی پہنچ سے دور ہے۔ کیا تم گمان کرتے ہو کہ یہ (امامت) رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کے علاوہ کہیں پائی جائے گی؟ اللہ کی قسم! ان کے نفس نے انہیں دھوکا دیا اور باطل باتوں نے انہیں فریب دیا تو انہوں نے ایک مشکل اور پھسلواں چڑھائی چڑھنی چاہی جس سے ان کے قدم پھسل کر گڑھے میں گر جائیں۔ انہوں نے حیران، ناکارہ اور ناقص عقول اور گمراہ کن آراء کے ذریعے امام قائم کرنا چاہا تو اس (کوشش) سے وہ (امامت سے) اور زیادہ دور ہو گئے۔ تو وہ امام کے انتخاب پر کیسے قادر ہو سکتے ہیں؟ اور امام وہ ہے جو عالم ہو، جاہل نہ ہو، نگہبان ہو، پیچھے نہ ہٹے، نبوت کا معدن ہو جس کے نسب میں کوئی عیب نہ ہو،
وَ لَا یُدَانِیهِ ذُو حَسَبٍ فَالْبَیْتُ مِنْ قُرَیْشٍ وَ الذِّرْوَةُ مِنْ هَاشِمٍ وَ الْعِتْرَةُ مِنَ الرَّسُولِ ص شَرَفُ الْأَشْرَافِ وَ الْفَرْعُ عَنْ عَبْدِ مَنَافٍ نَامِی الْعِلْمِ کَامِلُ الْحِلْمِ مُضْطَلِعٌ بِالْأَمْرِ عَالِمٌ بِالسِّیَاسَةِ مُسْتَحِقٌّ لِلرِّئَاسَةِ مُفْتَرَضُ الطَّاعَةِ قَائِمٌ بِأَمْرِ اللَّهِ نَاصِحٌ لِعِبَادِ اللَّهِ إِنَّ الْأَنْبِیَاءَ وَ الْأَوْصِیَاءَ ص یُوَفِّقُهُمُ اللَّهُ وَ یُسَدِّدُهُمْ وَ یُؤْتِیهِمْ مِنْ مَخْزُونِ عِلْمِهِ وَ حِکْمَتِهِ مَا لَا یُؤْتِیهِ غَیْرُهُمْ یَکُونُ عِلْمُهُمْ فَوْقَ عِلْمِ أَهْلِ زَمَانِهِمْ وَ قَدْ قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَ عَزَّ- أَ فَمَنْ یَهْدِی إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَنْ یُتَّبَعَ أَمَّنْ لا یَهِدِّی إِلَّا أَنْ یُهْدى‏ فَما لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُونَ وَ قَالَ تَعَالَى فِی قِصَّةِ طَالُوتَ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفاهُ عَلَیْکُمْ وَ زادَهُ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ وَ اللَّهُ یُؤْتِی مُلْکَهُ مَنْ یَشاءُ وَ قَالَ فِی قِصَّةِ دَاوُدَ ع وَ قَتَلَ داوُدُ جالُوتَ وَ آتاهُ اللَّهُ الْمُلْکَ وَ الْحِکْمَةَ وَ عَلَّمَهُ مِمَّا یَشاءُ قریش میں خاندان کے اعتبار سے کوئی اس کا ہمسر نہ ہو، ہاشم میں بلند مقام، رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عترت، اور اللہ عزوجل کی خوشنودی رکھتا ہو۔ شرافت میں اشرف، عبدمناف کی شاخ، علم میں نمو پذیر، حلم میں کامل، امامت کی ذمہ داری سنبھالنے والا، سیاست کا عالم، اطاعت کے لیے مقرر، اللہ عزوجل کے امر پر قائم، اللہ کے بندوں کا خیرخواہ اور اللہ کے دین کا محافظ ہو۔ بے شک انبیاء اور ائمہ علیہم السلام کو اللہ توفیق دیتا ہے اور اپنے مخزون علم و حکمت میں سے وہ کچھ عطا فرماتا ہے جو کسی اور کو نہیں دیتا، پس ان کا علم اہل زمانہ کے علم سے بالاتر ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "بھلا جو حق کی طرف رہنمائی کرے وہ زیادہ حق دار ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو خود ہدایت نہیں پاتا مگر یہ کہ اسے ہدایت دی جائے، تمہیں کیا ہوا، تم کیسا فیصلہ کرتے ہو؟" اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: "اور جسے حکمت دی گئی اسے بہت بڑی بھلائی دی گئی"۔ اور طالوت کے بارے میں فرمایا: "بے شک اللہ نے تم پر اسے منتخب کیا اور اسے علم و جسم میں وسعت عطا کی، اور اللہ جسے چاہتا ہے بادشاہی عطا کرتا ہے، اور اللہ وسعت والا جاننے والا ہے"۔ [أیه 251 سوره بقره]
وَ قَالَ لِنَبِیِّهِ ص وَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَیْکَ الْکِتابَ وَ الْحِکْمَةَ وَ عَلَّمَکَ ما لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ وَ کانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَیْکَ عَظِیماً وَ قَالَ فِی الْأَئِمَّةِ مِنْ أَهْلِ بَیْتِهِ وَ عِتْرَتِهِ وَ ذُرِّیَّتِهِ- أَمْ یَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلى‏ ما آتاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ إِلَى قَوْلِهِ سَعِیراً وَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اخْتَارَهُ اللَّهُ لِأُمُورِ عِبَادِهِ شَرَحَ صَدْرَهُ لِذَلِکَ وَ أَوْدَعَ قَلْبَهُ یَنَابِیعَ الْحِکْمَةِ وَ أَطْلَقَ عَلَى لِسَانِهِ فَلَمْ یَعْیَ بَعْدَهُ بِجَوَابٍ وَ لَمْ تَجِدْ فِیهِ غَیْرَ صَوَابٍ فَهُوَ مُوَفَّقُ مُسَدَّدٌ مُؤَیَّدٌ قَدْ أَمِنَ مِنَ الْخَطَإِ وَ الزَّلَلِ خَصَّهُ بِذَلِکَ لِیَکُونَ ذَلِکَ حُجَّةً عَلَى خَلْقِهِ شَاهِداً عَلَى عِبَادِهِ فَهَلْ یَقْدِرُونَ عَلَى مِثْلِ هَذَا فَیَخْتَارُونَهُ فَیَکُونُ مُخْتَارُهُمْ بِهَذِهِ الصِّفَة[25] اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا: "اس نے تم پر کتاب و حکمت نازل کی اور تمہیں وہ علم سکھایا جو تم نہیں جانتے تھے، اور تم پر اللہ کا فضل بہت بڑا ہے"۔ اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت، عترت اور ذریت میں سے ائمہ علیہم السلام کے بارے میں فرمایا: "کیا یہ لوگ اس بات پر لوگوں سے حسد کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کی ہے؟ پس ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت عطا کی اور انہیں عظیم بادشاہی بخشی، پس ان میں سے کوئی اس پر ایمان لایا اور ان میں سے کوئی اس سے روکنے والا ہوا، اور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کافی ہے"۔ اور بے شک جب اللہ عزوجل اپنے بندے کو اپنے بندوں کے معاملات کے لیے منتخب کرتا ہے تو اس کے سینے کو اس کے لیے کشادہ فرما دیتا ہے اور اس کے دل میں حکمت کے چشموں کو رکھ دیتا ہے اور اسے الہاماً علم عطا فرماتا ہے، پھر وہ کسی جواب میں عاجز نہیں ہوتا اور نہ ہی صحیح راستے میں حیران ہوتا ہے، پس وہ معصوم، مؤید، موفق و مسدد ہوتا ہے، خطاؤں، لغزشوں اور ٹھوکروں سے محفوظ ہوتا ہے۔ اللہ اسے یہ امتیاز اس لیے دیتا ہے تاکہ وہ اپنے بندوں پر اس کی حجت اور اپنی مخلوق پر اس کا گواہ ہو، اور یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔ تو کیا وہ اس جیسا کوئی (شخص) ڈھونڈنے پر قادر ہیں کہ اسے منتخب کر سکیں؟ یا کیا ان کا منتخب کردہ شخص ان صفات کا حامل ہوگا کہ وہ اسے پیش کریں؟[26]


حوالہ جات

  1. ہاشمی و دیگران، «حدیث مرو میں امام رضا کے اسلوب احتجاج کی وضاحت»، ص15۔
  2. «مدینہ اور مرو میں امام رضا کے حدیثی تعلیمات میں فرق»، سایت راسخون۔
  3. ہاشمی و دیگران، «حدیث مرو میں امام رضا کے اسلوب احتجاج کی وضاحت»، ص15۔
  4. ملکى میانجى، مناہج البیان، 1414ھ، ج1، ص347۔
  5. بحرانی، البرہان فی تفسیر القرآن، 1374شمسی، ج2، ص224۔
  6. بحرانی، البرہان، 1374شمسی، ج4، ص282۔
  7. مدرسى، من ہدى القرآن، 1419ق ج10، ص338۔
  8. طبرسى، الإحتجاج، 1403ھ، ج2، ص433؛ حسینی طہرانی، امام‌شناسی، 1422ھ، ج2، ص108۔
  9. مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج25، ص115؛ شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا(ع)، 1378شمسی، ج1، ص216؛ ہاشمى خویى، منہاج البراعۃ، 1400ھ، ج16، ص102؛ استرآبادى، الحاشیۃ على أصول الکافی، 1430ھ، ص142؛ منتظری، دراسات فی ولایۃ الفقیہ و فقہ الدولۃ الإسلامیۃ، 1409ھ، ج1، ص385۔
  10. ملاحظہ کریں: ہاشمی و دیگران، «حدیث مرو میں امام رضا کے اسلوب احتجاج کی وضاحت»، ص15-29۔
  11. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص198۔
  12. صدوق، الأمالی، 1376شمسی، ص674۔
  13. ابن‌شعبہ حرانى، تحف العقول‏، 1363شمسی، ص436۔
  14. شیخ صدوق، کمال‌الدین، 1395ھ، ج2، ص675۔
  15. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص198۔
  16. ابن‌شعبہ حرانى، تحف العقول‏، 1363شمسی، ص436۔
  17. لباف، حدیث مرو در میراث علمی ثقۃ‌الاسلام محمد بن یعقوب کلینی، 1392شمسی، ص25-27۔
  18. ہاشمی و دیگران، «حدیث مرو میں امام رضا کے اسلوب احتجاج کی وضاحت»، ص15۔
  19. ہاشمی و دیگران، «حدیث مرو میں امام رضا کے اسلوب احتجاج کی وضاحت»، ص15۔
  20. حسینی طہرانی، امام‌شناسی، 1422ھ، ج2، ص108-115۔
  21. فتاحی‌زادہ و احدیان، «روایت رضوی کے مضامین کا تجزیہ»، ص79۔
  22. حسینی طہرانی، امام‌شناسی، 1422ھ، ج2، ص108-115۔
  23. فتاحی‌زادہ و احدیان، «روایت رضوی کے مضامین کا تجزیہ»، ص79۔
  24. حسینی طہرانی، امام‌شناسی، 1422ھ، ج2، ص108-115۔
  25. ابن‌شعبه حرانى، تحف العقول‏، 1363شمسی، ص436۔
  26. صادق‌زاده، ترجمه تحف العقول، 1382شمسی، ص795-803۔

مآخذ

  • حسن بن على‏، ابن‌شعبہ حرانى، تحف العقول‏، محقق: على‌اکبر غفاری، قم، جامعہ مدرسین‏، دوسری اشاعت، 1404ھ / 1363ہجری شمسی۔
  • ملا محمدامین، استرآبادى، الحاشیۃ على أصول الکافی، محقق: مولى خلیل قزوینى و علی فاضلى، قم، دار الحدیث، پہلی اشاعت، 1430ھ۔
  • بحرانی، ہاشم بن سلیمان، البرہان فی تفسیر القرآن، محقق: قسم الدراسات الاسلامیہ موسسہ البعثہ، قم، موسسۃ البعثۃ، قسم الدراسات الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1374ہجری شمسی۔
  • «مدینہ اور مرو میں امام رضا کے حدیثی تعلیمات میں تفاوت »، راسخون سائٹ، تاریخ درج مطلب: 10 دسمبر 2016ء، تاریخ اخذ: 16 دسمبر 2025ء۔
  • حسینی طہرانی، سید محمدحسین، امام‌شناسی، مشہد، موسسہ ترجمہ و نشر دورہ علوم و معارف اسلام، پہلی اشاعت، 1422ھ۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، الأمالی، تہران، کتابچی، چھٹی اشاعت، 1376ہجری شمسی۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، کمال‌الدین و تمام النعمۃ، محمد بن علی، تہران، اسلامیۃ، دوسری اشاعت، 1395ھ۔
  • طاہرزادہ، اصغر، امام و امامت در تکوین و تشریع. اصفہان، لب المیزان، 1390ہجری شمسی۔
  • طبرسى، احمد بن على‏، الإحتجاج على أہل اللجاج، محقق محمد باقر خرسان، نشر مرتضى‏، پہلی اشاعت، 1403ھ۔
  • فتاحی‌زادہ، فتحیہ و حسین احدیان، «روایت رضوی کے مضامین کا تجزیہ دربارہ ویژگی‌ہا و شاخصہ‌ہای امامت از کتاب الحجہ کافی»، فصلنامہ فرہنگ رضوی، سال ششم، شمارہ24، زمستان 1397ہجری شمسی۔
  • فیض کاشانى، محمدمحسن، الوافی، اصفہان، کتابخانہ امام امیر المؤمنین على(ع)، پہلی اشاعت، 1406ھ۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تصحیح، علی اکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران،‌ دار الکتب الإسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
  • لباف، علی، حدیث مرو در میراث علمی ثقۃ‌الاسلام محمد بن یعقوب کلینی، تہران، منیر، 1392ہجری شمسی۔
  • مدرسى، محمدتقى‏، من ہدى القرآن، تہران دار محبی الحسین، پہلی اشاعت، 1419ھ۔
  • ملکى میانجى، محمدباقر، مناہج البیان فى تفسیر القرآن‏، تہران، وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامى. سازمان چاپ و انتشارات‏، پہلی اشاعت، 1414ھ۔
  • منتظری، حسینعلی، دراسات فی ولایۃ الفقیہ و فقہ الدولۃ الإسلامیۃ، قم، المرکز العالمی للدراسات الاسلامیۃ، دوسری اشاعت، 1409ھ۔
  • ہاشمى خویى، میرزا حبیب‌اللہ‏، منہاج البراعۃ فی شرح نہج البلاغۃ، مترجم: حسن حسن زادہ آملى و محمد باقر کمرہاى؛ محقق: ابراہیم میانجى، تہران‏، مکتبۃ الإسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1400ھ۔
  • ہاشمی و دیگران، «حدیث مرو میں امام رضا کے اسلوب احتجاج کی وضاحت حجت الہی کی پیروی ضرروی ہونے کے ناطے(کتاب کافی باب الحجہ کی محوری میں) جان سرل کے نظریہ کی بنیاد پر»، مجلہ پژوہش دینی، شمارہ 45، پاییز و زمستان 1401ہجری شمسی۔
  • حسن‌زادہ، صادق‏، ترجمہ تحف العقول‏، قم، انتشارات آل علیّ علیہ السلام‏، پہلی اشاعت، 1382ہجری شمسی۔
  • مجلسی، محمدباقر، بِحارُ الاَنوارِ الجامعۃُ لِدُرَرِ اَخبارِ الاَئمۃِ الاَطہار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، دوسری اشاعت، 1403ھ۔