مسودہ:مرض الموت
| بعض عملی اور فقہی احکام |
|---|
| یہ مقالہ ایک فقہی موضوع کے بارے میں توصیفی تحریر ہے اور دینی اعمال کے لئے معیار نہیں بن سکتا۔ دینی اعمال کے لئے دیگر مصادر کی طرف رجوع کریں۔ |
مرض الموت یا موت کے قریب پہنچا دینے والی بیماری ایسی بیماری کو کہتے ہیں جس میں مریض کی موت واقع ہونے کا قوی اندیشہ ہو۔ فقہ میں اس بیماری کے دوران مالی تصرفات، اقرار، نکاح اور طلاق سے متعلق خصوصی احکام بیان ہوئے ہیں۔ مریض کے مالی تصرفات، خصوصاً ایک تہائی سے زیادہ مال میں تصرف کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ مریض کا اقرار، اگر اس پر کسی قسم کی تہمت نہ ہو، تو پورے مال کے بارے میں معتبر ہے؛ لیکن اگر تہمت موجود ہو تو مشہور قول کے مطابق صرف ایک تہائی مال کی حد تک اس کا اقرار نافذ ہوگا۔ اس بیماری میں مرد کا نکاح، اگر دخول سے پہلے اس کی موت واقع ہو جائے، تو بعض شرائط کے تحت باطل قرار پاتا ہے۔ اسی طرح موت کے قریب پہنچانے والی بیماری میں بیوی کو طلاق دینا بھی بعض شرائط کے تحت ایسا سبب بن سکتا ہے کہ بیوی شوہر کے ترکے میں وارث بن جائے۔
تعریف
مرض الموت کی تعریف کے بارے میں فقہی منابع میں مختلف آراء بیان ہوئی ہیں۔ بعض تعاریف کے مطابق مرض الموت ایسی بیماری ہے جس میں مبتلا شخص وفات تک بسترِ بیماری سے اٹھ نہ سکے۔[1] علامہ حلی نے اسے ایسی بیماری قرار دیا ہے جس کے ظاہر ہونے کے ساتھ مریض کی موت یقینی ہو۔[2] صاحب جواہر کے نزدیک بھی ایسی بیماری جو عرفاً جان لیوا سمجھی جاتی ہو، اگرچہ اس کی مدت طویل ہوجائے، مرض الموت کہلاتی ہے۔[3] خوف و اضطراب، صحت یابی سے مایوسی اور موت کا انتظار کرنا اس بیماری کی خصوصیات میں شامل ہیں۔ اسی وجہ سے بعض فقہی منابع میں اسے «امراضِ مخوف» یعنی خوفناک اور جان لیوا بیماریوں کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔[4]
فقہی احکام
قریب المرگ مریض کے لیے فقہ میں بعض خصوصی احکام بیان ہوئے ہیں۔ فقہ کے مختلف ابواب، جیسے وصیت،[5] اقرار،[6] نکاح[7] و طلاق[8] اور معاملات[9] میں اس بیماری سے متعلق احکام پر بحث کی گئی ہے۔
قریب المرگ مریض کے مالی تصرفات کا حکم
قریب المرگ مریض کے مالی تصرفات کی حدود کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔بعض فقہاء ایسے مریض کو اس کے ایک تہائی سے زیادہ مال میں تصرف کرنے کے معاملے میں محجور (ممنوع التصرف) قرار دیتے ہیں اور ان کے نزدیک ایک تہائی سے زیادہ مال میں اس کا تصرف ورثاء کی اجازت پر موقوف ہے۔[10] اس کے مقابلے میں بعض فقہاء، جن میں شیخ مفید بھی شامل ہیں، ایسے مریض کے مالی تصرفات کو صحت مند شخص کے تصرفات کی طرح نافذ اور معتبر سمجھتے ہیں۔[11] امام خمینی کے نزدیک ایسے مالی تصرفات جن کے مقابل میں کوئی عوض موجود ہو، خواہ وہ ایک تہائی سے زیادہ مال ہی میں کیوں نہ ہوں، نافذ اور معتبر ہیں۔[12]
بلا عوض مالی معاملات، مثلاً ہبہ، وقف اور صدقہ کے بارے میں بھی فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض فقہاء کے نزدیک اگر قریب المرگ مریض اپنے مال کے ایک تہائی سے زیادہ حصے میں اس قسم کا تصرف کرے تو اس کے لیے ورثاء کی اجازت ضروری ہے؛[13]اس کے برعکس بعض فقہاء، جن میں امام خمینی[14] بھی شامل ہیں، ایسے تصرفات کو ایک تہائی کی اس پابندی کے بغیر بھی صحیح قرار دیتے ہیں۔[15] ایسے مالی تصرفات جن کا نفاذ مریض کی وفات کے بعد ہونا ہو، وہ وصیت کے حکم میں شمار ہوتے ہیں اور ان پر وصیت سے متعلق احکام نافذ ہوں گے۔[16]
اقرار
قریب المرگ مریض کے اقرار کے بارے میں بھی فقہاء کے درمیان اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ مشہور قول کے مطابق اگر مریض کا اقرار کسی قسم کی تہمت یا مفاد کے شبہے کی زد میں نہ ہو[یادداشت 1] تو اس کا اقرار پورے مال کے بارے میں معتبر اور نافذ ہے۔ لیکن اگر تہمت یا شبہ موجود ہو تو ایک تہائی سے زیادہ مال کے بارے میں کیے گئے اقرار کا نفاذ ورثاء کی اجازت پر موقوف ہوگا۔[17] بعض فقہاء، جن میں شیخ مفید[18] اور شیخ طوسی[19] شامل ہیں، اقرار کو ہر صورت میں معتبر اور نافذ قرار دیتے ہیں۔[20]
نکاح
اگر مرض الموت میں مبتلا کوئی مرد اپنی بیماری کے دوران نکاح کرے اور اسی بیماری کے باعث مجامعت سے پہلے اس کی موت واقع ہوجائے تو فقہاء کے مطابق اس کا نکاح باطل ہوگا۔ ایسی صورت میں عورت نہ اس مرد کی وارث بنے گی، نہ اس کے لیے مہر اور عدّت ثابت ہوگی۔ [21] لیکن اگر مجامعت انجام پائی ہو یا مرد اس بیماری سے صحت یاب ہوجائے تو نکاح صحیح ہوگا اور زوجیت کے تمام شرعی آثار، جن میں وراثت بھی شامل ہے، برقرار رہیں گے۔[22]
طلاق
اگر مرض الموت میں مبتلا کوئی مرد اپنی بیماری کے دوران اپنی بیوی کو طلاق دے تو بعض شرائط کی صورت میں عورت اس کی وارث بن سکتی ہے۔ یعنی دی گئی طلاق، طلاق خلع یا طلاق مبارات نہ ہو؛ مرد طلاق کے ایک سال سے کم عرصے کے اندر وفات پاجائے؛ مرد نے وفات سے پہلے اس بیماری سے صحت یابی حاصل نہ کی ہو اور عورت نے اس مدت کے دوران کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کیا ہو۔ اس صورت میں عورت اپنے شوہر کی وارث ہوگی، اگرچہ شوہر کا انتقال اس کی عدّت ختم ہونے کے بعد ہی کیوں نہ واقع ہو۔[23]
حوالہ جات
- ↑ محقق داماد، قواعد فقہ، 1406ھ، ج2، ص267۔
- ↑ علامہ حلی، قواعد الاحکام، 1413ھ، ج2، ص529۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج 26، ص74۔
- ↑ محقق حلّی، شرائع الإسلام، 1408ھ، ج2، ص207؛ شہید ثانی، مسالک الأفہام، 1413ھ، ج6، ص310۔
- ↑ حسینی عاملی، مفتاح الکرامہ، 1391شمسی، ج23، ص355؛ امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، 1385شمسی، ج1، ص421۔
- ↑ علامہ حلی، تذکرۃ الفقہاء، ج15، ص267؛ امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، 1385شمسی، ج2، ص56۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج39، ص196؛ ص220-221
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج32، ص147-152۔
- ↑ محقق حلی، شرائع الاسلام، 1408ھ، ج2، ص209۔
- ↑ حسینی عاملی، مفتاح الکرامہ، 1391شمسی، ج22، ص661؛ امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، 1385شمسی، ج2، ص14؛ مؤسسہ دائرۃالمعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، 1426ھ، ج1، ص740۔
- ↑ مفید، المقنعۃ، 1413ھ، ص671۔
- ↑ امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، 1385شمسی، ج2، ص25۔
- ↑ محقق حلی، شرائع الاسلام، 1408ھ، ج2، ص102؛ طوسی، المبسوط، 1387ھ، ج4 ص44؛ علامہ حلی، قواعد الاحکام، 1413ھ، ج2، ص531؛ شہید ثانی، مسالک الافہام، 1413ھ، ج6، ص310؛ فخرالمحققین، ایضاح الفوائد، 1387شمسی، ج 2 ص593؛ محقق کرکی، جامع المقاصد، 1414ھ، ج6، ص310۔
- ↑ امام خمینی، تحریرالوسیلہ، 1385شمسی، ج2، ص25۔
- ↑ سید مرتضی، الانتصار، 1415ھ، ص224؛ ابنادریس حلی، السرائر، 1410ھ، ج3، ص200؛ ابن براج طرابلسی، المہذب،1406ھ، ج1، ص420۔
- ↑ محقق حلی، شرائع الاسلام، 1408ھ، ج2، ص207-208۔
- ↑ علامہ حلی، تذکرۃ الفقہاء، ج15، ص267؛ حسینی عاملی، مفتاح الکرامہ، 1391شمسی، ج16، ص205-206۔
- ↑ مفید، المقنعۃ، 1413ھ، ص662۔
- ↑ طوسی، النہایہ، 1400ھ، ص617-618۔
- ↑ حسینی عاملی، مفتاح الکرامہ، 1391شمسی، ج16، ص206۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج39، ص196 و ج39، ص220-221۔
- ↑ امام خمینی، تحریرالوسیلۃ، 1385شمسی، ج2، ص425۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج32، ص147-152۔
نوٹ
- ↑ مورد تہمت میں نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص میں ایسی کوئی علامت یا قرینہ موجود نہ ہو جو اس کے جھوٹا ہونے کا گمان پیدا کرے، مثلاً وارثوں سے دشمنی رکھتا ہو یا اُس شخص سے غیر معمولی محبت رکھتا ہو جس کے حق میں وہ اقرار یا گواہی دے رہا ہے۔(امام خمینی، تحریرالوسیلہ، 1385شمسی، ج2، ص26۔)
مآخذ
- ابنادریس حلی، محمد بن منصور بن احمد، السرائر الحاوی لتحریر الفتاوای، قم، انتشارات جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1410ھ۔
- ابنبراج طرابلسی، قاضی عبدالعزیز، المہذب، قم انتشارات جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1406ھ۔
- امام خمینی، سید روحاللہ، تحریر الوسیلۃ، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1385ہجری شمسی۔
- حسینی عاملی، سید جواد، مفتاح الکرامہ فی شرح قواعد العلامہ، قم، انتشارات اسلامی، 1419ھ۔
- سید مرتضی، علی بن حسین، الانتصار فی انفرادات الامامیہ، قم، انتشارات جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1415ھ۔
- شہید ثانی، زینالدین بن علی، مسالک الأفہام إلی تنقیح شرائع الإسلام، قم، مؤسسۃ المعارف الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1413ھ۔
- طوسی، محمد بن حسن، المبسوط فی فقہ الإمامیہ، تحقیق سید محمدتقی کشفی، تہران، المکتبۃ المرتضویۃ لإحیاء الآثار الجعفریۃ، تیسری اشاعت، 1387ھ۔
- طوسی، محمد بن حسن، النہایۃ فی مجرد الفقہ و الفتاوی، بیروت، دار الکتاب العربی، دوسری اشاعت، 1400ھ۔
- علامہ حلی، حسن بن یوسف، تذکرۃ الفقہاء، قم، آل البیت، 1414ھ۔
- علامہ حلی، حسن بن یوسف، قواعد الاحکام فی معرفۃ الحلال و الحرام، قم، دفتر انتشارات اسلامی، پہلی اشاعت، 1413ھ۔
- فخرالمحققین، محمد بن حسن، ایضاح الفوائد فی شرح اشکالات القواعد، قم، مؤسسہ اسماعیلیان، 1387ہجری شمسی۔
- مؤسسہ دائرۃالمعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہلبیت(ع)، زیرنظر: سید محمود ہاشمی شاہرودی، قم، مؤسسہ دائرۃالمعارف فقہ اسلامی، 1426ھ۔
- محقق حلی، جعفر بن حسن، شرائع الاسلام، قم، مؤسسہ اسماعیلیان، دوسری اشاعت، 1408ھ۔
- محقق داماد، سید مصطفی، قواعد فقہ، تہران، مرکز نشر علوم اسلامی، 1406ھ۔
- محقق کرکی، علی بن حسین، جامع المقاصد فی شرح القواعد، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، دوسری اشاعت، 1414ھ۔
- مفید، محمد بن محمد، المقنعۃ، قم، شیخ مفید کے ہزار سالہ عالمی کانفرنس، پہلی اشاعت، 1413ھ۔
- نجفی، محمدحسن، جواہر الکلام فی شرح شرائع الإسلام، تحقیق عباس قوچانی و علی آخوندی، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، ساتویں اشاعت، 1404ھ۔