حج بذلی
| بعض عملی اور فقہی احکام |
|---|
حجّ بَذلی اُس حج کو کہتے ہیں جس کے اخراجات کسی دوسرے شخص (باذل) کی طرف سے ادا کیے جاتے ہیں۔ شیعہ فقہ کے مطابق، جب حج کے تمام اخراجات مکمل طور پر کسی کی طرف سے ادا کر دیے جائیں تو مکلف کو شرعی استطاعت حاصل ہو جاتی ہے اور اس حج کی ادائیگی سے اس کا واجب حج ساقط ہو جاتا ہے۔
حجِ بذلی کو قبول کرنا واجب ہے، سوائے بعض صورتوں کے؛ مثلاً اگر باذل احسان جتائے، یا اس سے مکلف کی زندگی میں شدید خلل پیدا ہو، یا باذل نے واضح طور پر یہ نہ کہا ہو کہ دی گئی رقم صرف حج کے اخراجات کے لیے ہے۔ مقروض ہونا یا حج کے بعد آمدنی کا نہ ہونا، اس کے وجوب میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ البتہ اگر دیا گیا مال حرام ہو تو حج ذمے سے ساقط نہیں ہوتا۔ حج میں قربانی کا خرچ باذل کے ذمے ہوتا ہے، جبکہ کفّارے مکلف خود کو ادا کرنا ہوتا ہے۔
مفہوم اور اہمیت
حجِ بذلی وہ حج ہے جس کے اخراجات کوئی دوسرا شخص برداشت کرے۔[1] اگر حکومت کی طرف سے حج کے اخراجات فراہم کیے جائیں اور یہ کسی خاص ذمہ داری سے مشروط نہ ہوں تو یہ بھی حجِ بذلی کی ایک صورت شمار ہوتی ہے۔[2]
کتب روایات میں حجِ بذلی کے ابحاث کو مستقل ابواب میں بیان کیے گئے ہیں[3] اور اس سلسلے میں معصومینؑ سے احادیث نقل ہوئی ہیں۔[4] فقہی متون میں بھی حج کے مباحث کے ضمن میں،[5] "استطاعتِ بذلی"[6] اور "اِحجاج"[7] (کسی دوسرے کو حج پر بھیجنا) جیسے عنوانات کے تحت اس پر بحث کی گئی ہے۔
حجّ بَذلی کے ذریعے استطاعت کا حصول
فقہائے شیعہ کی مشہور رائے[8] اور اجماع[9] کے مطابق حجّ بَذلی، حج کی انجام دہی کے لیے شرعی استطاعت حاصل ہونے کا ایک معتبر طریقہ ہے۔[10] یعنی اگر کوئی شخص کسی دوسرے کے حج کے تمام یا کچھ اخراجات اٹھا لے تو اس حج کی ادائیگی سے مکلف سے حجۃ الاسلام کا وجوب ختم ہو جاتا ہے[11] اور اگر بعد میں اسے مالی استطاعت بھی حاصل ہو جائے تو دوبارہ حج کرنا واجب نہیں ہے۔[12]
شیعہ فقہ میں اگر حج کے وجوب کی دیگر شرائط (جیسے جسمانی صحت) موجود ہوں تو حجّ بَذلی کو قبول کرنا واجب ہے۔[13] یہ حکم اس صورت میں بھی جاری ہوتا ہے جب اخراجات کا کچھ حصہ خود شخص اور کچھ حصہ باذل ادا کرے۔[14] اگر کوئی شخص بغیر کسی شرعی عذر کے حجّ بذلی قبول کرنے سے انکار کرے تو حج کی ادائیگی اس کے ذمے باقی رہتی ہے اور اسے پہلی ممکنہ فرصت میں ادا کرنا واجب ہے۔[15] تاہم تین صورتوں میں اس کا قبول کرنا واجب نہیں ہے:
- اگر باذل کی جانب سے احسان جتانا یا مکلف کی توہین شامل ہو۔[16]
- اگر اس سے مکلف کی معمول کی زندگی میں شدید خلل واقع ہو۔[17]
- اگر باذل نے صراحت نہ کی ہو کہ دی گئی رقم صرف حج کے اخراجات کے لیے ہے۔[18]
اس کے برعکس، اہل سنت کے فقہی مذاہب (شافعیہ کے علاوہ)[19] بذلِ مال کو استطاعت کا سبب نہیں مانتے اور حجّ بذلی کو واجب قرار نہیں دیتے ہیں۔[20]
حجّ بذلی کے احکام
- قرض کا مانع نہ ہونا: محض قرض دار ہونا حج بذلی کے وجوب میں رکاوٹ نہیں بنتا،[21] مگر یہ کہ قرض کی ادائیگی کی مدت آچکی ہو، قرض خواہ مطالبہ کر رہا ہو اور قرض ادا کرنا حج ترک کیے بغیر ممکن نہ ہو۔[22] حجِ بذلی میں یہ شرط بھی لازم نہیں کہ مکلف حج سے واپسی کے بعد گزر بسر کے لیے کافی آمدنی رکھتا ہو۔ حتیٰ کہ اگر حج کے بعد اس کے پاس ملازمت یا آمدنی نہ بھی ہو تب بھی حج اس پر واجب ہوتا ہے۔
- حج سے واپسی پر کافی مقدار میں مال موجود ہونے کی شرط نہ ہونا[23] حج بذلی میں یہ شرط ضروری نہیں کہ مکلف سفر سے واپس آ کر اپنی زندگی کے اخراجات پورے کرنے کی قدرت رکھتا ہو۔ اگر حج کے بعد وہ بے روزگار یا کوئی آمدنی نہ بھی ہو تب بھی حج واجب رہتا ہے۔[24]
- غصبی مال سے بذل کی صورت میں حج کا باطل ہونا: اگر حج ادا کرنے کے بعد یہ معلوم ہو کہ باذل نے جو مال دیا تھا وہ غصبی تھا، تو وہ حج حجۃ الاسلام کے طور پر شمار نہیں ہوگا اور اگر بعد میں حج کرنے کی استطاعت حاصل ہوجائے تو اس شخص پر دوبارہ حج کرنا واجب ہے۔[25]
- قربانی کے اخراجات: حج بذلی میں قربانی کے اخراجات باذل کے ذمے ہوتے ہیں۔[26] اگر باذل یہ خرچ ادا نہ کرے اور مکلف خود بھی ادائیگی کی قدرت نہ رکھتا ہو تو اس پر حج واجب نہیں ہوتا۔[27] البتہ کفّاروں کی ادائیگی باذل کے ذمے نہیں ہوتی،[28] سوائے غیر ارادی کفّارے کے، جن کے بارے میں بعض فقہا کا کہنا ہے کہ اس کا ادا کرنا باذل پر لازم ہے۔[29]
- بذل سے دستبرداری: اکثر فقہا کے نزدیک باذل حج شروع ہونے سے پہلے اپنے اخراجات ادا کرنے سے صرف نظر کرسکتا ہے،[30] لیکن اگر مکلف احرام باندھ چکا ہو یا راستے میں ہو، تو بقیہ سفر اور واپسی کے اخراجات باذل کے ذمے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں فقہا کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔[31]
بذل حج کا استحباب اور فضیلت
اسلامی فقہ میں دوسروں کے لیے؛ خصوصاً اہلِ خانہ کے لیے؛ حج کے اخراجات برداشت کرنا مستحب اور باعثِ فضیلت عمل سمجھا جاتا ہے۔[32] روایات میں یہاں تک آیا ہے کہ روز مرہ زندگی کے امور میں بچت کر کے یا قرض لے کر بھی اہلِ خانہ کو ساتھ حج پر لے جانا قابلِ ترغیب عمل ہے۔[33]
امام رضاؑ سے منقول ایک روایت میں آیا ہے کہ تین مؤمنین کو حج پر بھیجنے کے ثواب کو جہنم کی آگ سے نجات کے برابر قرار دیا گیا ہے۔[34] اسی طرح امام جعفر صادقؑ کی سیرت میں بھی رشتہ داروں اور دوستوں کو حج پر روانہ کرنے کے واقعات نقل ہوئے ہیں۔[35]
حوالہ جات
- ↑ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1409ھ، ج2، ص 445، مسئلۂ 34؛ مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج3، ص220۔
- ↑ لنگرودی، توضیح المناسک، 1423ھ، ص44، مسألہ 109؛ محمودی، مناسک حج (محشّی)، 1429ھ، ص51، مسألۂ 73 و ص52، مسألۂ 75۔
- ↑ شیخ حرّ عاملی، وسائل الشیعۃ، 1409ھ، ج11، ص39، «بَابُ وُجُوبِ الْحَجِ عَلَی مَنْ بُذِل..»؛ مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج96، ص112، «باب ثَوابُ بَذل الحَج»۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: کلینی، الکافی، 1407ھ، ج4، ص253، حدیث 5؛ شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج2، ص218؛ شیخ حرّ عاملی، وسائل الشیعۃ، 1409ھ، حدیث 2215؛ ج11، ص40، حدیث 14186؛ مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج96، ص112، حدیث 1۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: بحرانی، الحدائق الناضرۃ، 1405ھ، ج14، ص140؛ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1409ھ، ج2، ص445، مسئلۂ 34؛ مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج3، ص220۔
- ↑ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1409ھ، ج2، ص446، مسئلۂ 36؛ امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، 1390ھ، ج1، ص378، مسئلۂ 31؛ محمودی، مناسک حج (محشّی)، 1429ھ، ص48۔
- ↑ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1409ھ، ج2، ص410؛ اشتہاردی، مدارک العروۃ، 1417ھ، ج24، ص166؛ سند، سند العروۃ الوثقی (کتاب الحج)، 1423ھ، ج1، ص217۔
- ↑ خویی، معتمد العروۃ الوثقی، 1416ھ، ج1، ص175؛ روحانی، فقہ الصادق(ع)، 1421ھ، ج9، ص107، مسألۂ 8۔
- ↑ بحرانی، الحدائق الناضرة، 1405ھ، ج14، ص99؛ روحانی، فقہ الصادق(ع)، 1421ھ، ج9، ص107، مسألهٔ 8۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: بحرانی، الحدائق الناضرۃ، 1405ھ، ج14، ص99؛ روحانی، فقہ الصادق(ع)، 1421ھ، ج9، ص107، مسألۂ 8؛ محمودی، مناسک حج (محشّی)، 1429ھ، ص48، مسألۂ 68۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج17، ص267؛ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1409ھ، ج2، ص446، مسئلۂ 40؛ خویی، معتمد العروۃ الوثقی، 1416ھ، ج1، ص175۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج17، ص267؛ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1409ھ، ج2، ص447، مسئلۂ 40؛ خویی، معتمد العروۃ الوثقی، 1416ھ، ج1، ص175۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: بحرانی، الحدائق الناضرۃ، 1405ھ، ج14، ص105؛ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج17، ص263؛ محمودی، مناسک حج (محشّی)، 1429ھ، ص50، مسألۂ 71۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1409ھ، ج2، ص445، مسئلۂ 34؛ طباطبایی حکیم، مستمسک العروۃ الوثقی، 1416ھ، ج10، ص131؛ آملی، مصباح الہدی، 1380ھ، ج11، ص399-400۔
- ↑ یزدی، العروۃ الوثقی و التعلیقات علیہا، 1388شمسی، ج12، ص354؛ خوئی، موسوعۃ الإمام الخوئی، 1418ھ، ج28، ص53؛ مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج3، ص220۔
- ↑ کاشف الغطاء، أنوار الفقاہۃ، 1422ھ، ج5، ص22؛ تبریزی، استفتائات جدید حج، 1384شمسی، ص49؛ مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج3، ص220۔
- ↑ محمودی، مناسک حج (محشّی)، 1429ھ، ص49، مسألۂ 68؛ مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج3، ص220۔
- ↑ کاشف الغطاء، أنوار الفقاہۃ، 1422ھ، ج5، ص22؛ مرتضوی، مشکاۃ الشریعۃ، 1390شمسی، ص309؛ محمودی، مناسک حج (محشّی)، 1429ھ، ص50، مسألۂ 71۔
- ↑ شیخ طوسی، الخلاف، 1407ھ، ج4، ص296؛ شافعی الصغیر، نہایۃ المحتاج، 1413ھ، ج3، ص253۔
- ↑ شیخ طوسی، الخلاف، 1407ھ، ج4، ص296؛ ابنقدامہ، المغنی، دارالکتاب العربی، ج3، ص170؛ کاشانی، بدائع الصنائع، 1409ھ، ج2، ص122۔
- ↑ شہید ثانی، الروضۃ البہیۃ، 1410ھ، ج2، ص166؛ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج17، ص266؛ محقق سبزواری، کفایۃ الاحکام، 1423ھ، ج1، ص283۔
- ↑ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1409ھ، ج2، ص445، مسئلۂ 35؛ امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، 1390ھ، ج1، ص377، مسئلۂ 30۔
- ↑ شوشتری، النجعۃ فی شرح اللمعۃ، 1406ھ، ج5، ص21-22؛ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج17، ص308-309؛ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1409ھ، ج2، ص446، مسئلۂ 36؛
- ↑ محمودی، مناسک حج (محشّی)، 1429ھ، ص48، مسألۂ 68 و ص52، مسألۂ 76۔
- ↑ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1409ھ، ج2، ص450، مسئلۂ 52؛ امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، 1390ھ، ج1، ص378، مسئلۂ 35؛ افتخاری گلپایگانی، آراء المراجع فی الحج، 1428ھ، ج1، ص69۔
- ↑ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1409ھ، ج2، ص447، مسئلۂ 44؛ امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، 1390ھ، ج1، ص378، مسئلۂ 33؛ افتخاری گلپایگانی، آراء المراجع فی الحج، 1428ھ، ج1، ص66۔
- ↑ موسوی شاہرودی، جامع الفتاوی، 1428ھ، ص37، مسألۂ 53؛ محمودی، مناسک حج (محشّی)، 1429ھ، ص49، مسألۂ 69۔
- ↑ امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، 1390ھ، ج1، ص378، مسئلۂ 33؛ محمودی، مناسک حج (محشّی)، 1429ھ، ص49، مسألۂ 69۔
- ↑ آملی، مصباح الہدی، 1380ھ، ج11، ص420؛ محمودی، مناسک حج (محشّی)، 1429ھ، ص49، مسألۂ 69۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1409ھ، ج2، ص447، مسئلۂ 41؛ امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، 1390ھ، ج1، ص378، مسئلۂ 32؛ افتخاری گلپایگانی، آراء المراجع فی الحج، 1428ھ، ج1، ص64-65؛ محمودی، مناسک حج (محشّی)، 1429ھ، ص50، مسألۂ 72۔
- ↑ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1409ھ، ج2، ص447، مسئلۂ 41 و 42؛ خویی، معتمد العروۃ الوثقی، 1416ھ، ج1، ص177-179؛ محمودی، مناسک حج (محشّی)، 1429ھ، ص50، مسألۂ 72۔
- ↑ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1409ھ، ج2، ص410؛ امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، 1390ھ، ج1، ص402، مسئلۂ 2؛ فاضل لنکرانی، تفصیل الشریعۃ فی شرح تحریر الوسیلۃ (الحج)، 1418ھ، ج2، ص210؛ لنگرودی، توضیح المناسک، 1423 ھ، ص61، مسألۂ 172۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج33، ص2۔
- ↑ شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج2، ص216؛ شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا(ع)، 1378ھ، ج1، ص257، حدیث 12؛ شیخ حر عاملی، ہدایۃ الأمۃ إلی أحکام الأئمۃ(ع)، 1414ھ، ج5، ص231، حدیث 151۔
- ↑ کوفی، الجعفریات، مکتبۃ نینوی الحدیثۃ، ص66؛ محدث نوری، مستدرک الوسائل، 1408ھ، ج8، ص50، حدیث 9047۔
مآخذ
- آملی، میرزا محمدتقی، مصباح الہدی فی شرح العروۃ الوثقی، تہران، مؤلف، چاپ اول، 1380ھ۔
- ابنقدامہ، ابوعبداللہ، المغنی، بیروت، دارالکتاب العربی، بیتا۔
- اشتہاردی، علی پناہ، مدارک العروۃ، تہران، دار الأسوۃ للطباعۃ و النشر، چاپ اول، 1417ھ۔
- افتخاری گلپایگانی، علی، آراء المراجع فی الحج (بالعربیۃ)، قم، نشر مشعر، چاپ دوم، 1428ھ۔
- امام خمینی، سید روحاللہ، تحریر الوسیلۃ، قم، مؤسسہ مطبوعاتی اسماعیلیان، چاپ دوم، 1390ھ۔
- بَحرانی، یوسف بن احمد، الحدائق الناضرۃ فی أحکام العترۃ الطاہرۃ، محقق و مصحح: ایروانی، محمدتقی، مقرم، سید عبد الرزاق، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ اول، 1405ھ۔
- تبریزی، جواد، استفتائات جدید حج، قم، دار الصدیقۃ الشہیدۃ(س)، چاپ اول، 1384ہجری شمسی۔
- خوئی، سید ابوالقاسم، موسوعۃ الإمام الخوئی، قم، مؤسسۃ إحیاء آثار الامام الخوئی، چاپ اول، 1418ھ۔
- خویی، سید ابوالقاسم، معتمد العروۃ الوثقی، مقرر: موسوی خلخالی، سید رضا، قم، منشورات مدرسۃ دار العلم، لطفی، چاپ دوم، 1416ھ۔
- روحانی سید صادق، فقہ الصادق(ع)، قم، دار الکتاب - مدرسہ امام صادق(ع)، چاپ اول، 1421ھ۔
- سند، شیخ محمد، سند العروۃ الوثقی (کتاب الحج)، بیروت، مؤسسۃ أم القری للتحقیق و النشر، چاپ اول، 1423ھ۔
- شافعی الصغیر، شمس الدین محمد بن عباس، نہایۃ المحتاج الی شرح المنہاج فی الفقہ علی مذہب الإمام الشافعی، بیروت، دار احیاء التراث، 1413ھ۔
- شوشتری، محمدتقی، النجعۃ فی شرح اللمعۃ، تہران، کتابفروشی صدوق، چاپ اول، 1406ھ۔
- شہید ثانی، زین الدین بن علی، الروضۃ البہیۃ فی شرح اللمعۃ الدمشقیۃ، شارح: کلانتر، سید محمد، قم کتابفروشی داوری، چاپ اول، 1410ھ۔
- شیخ حرّ عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعۃ، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، چاپ اول، 1409ھ۔
- شیخ حر عاملی، محمد بن حسن، ہدایۃ الأمۃ إلی أحکام الأئمۃ(ع)، تحقیق: بنیاد پژوہشہای اسلامی آستان قدس رضوی، مشہد، آستان قدس رضوی، چاپ اول، 1414ھ۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، عیون اخبار الرضا(ع)، محقق و مصحح: لاجوردی، مہدی، تہران، نشر جہان، چاپ اول، 1378ھ۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، من لا یحضرہ الفقیہ، محقق و مصحح: غفاری، علی اکبر، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ دوم، 1413ھ۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، الخلاف، مصحح: خراسانی، علی و دیگران، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ اول، 1407ھ۔
- طباطبایی حکیم، سید محسن، مستمسک العروۃ الوثقی، قم، مؤسسۃ دار التفسیر، چاپ اول، 1416ھ۔
- طباطبایی یزدی، سید محمدکاظم، العروۃ الوثقی، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، چاپ دوم، 1409ھ۔
- عاملی، محمد بن علی، مدارک الاحکام فی شرح عبادات شرائع الاسلام، بیروت، مؤسسہ آلالبیت، چاپ اول، 1411ھ۔
- فاضل لنکرانی، محمد، تفصیل الشریعۃ فی شرح تحریر الوسیلۃ (الحج)، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، چاپ دوم، 1418ھ۔
- کاشانی، ابوبکر بن مسعود، بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع، پاکستان، مکتبۃ الحبیبیۃ، 1409ھ۔
- کاشف الغطاء، حسن بن جعفر، أنوار الفقاہۃ (کتاب الحج)، نجف اشرف، مؤسسہ کاشف الغطاء، چاپ اول، 1422ھ۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، محقق و مصحح: غفاری، علی اکبر، آخوندی، محمد، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چاپ چہارم، 1407ھ۔
- کوفی، محمد بن محمد اشعث، الجعفریات (الأشعثیات)، تہران، مکتبۃ نینوی الحدیثۃ، چاپ اول، بی تا۔
- لنگرودی، سید محمدحسن، توضیح المناسک، قم، دفتر حضرت آیۃ اللہ، چاپ اول، 1423 ھ۔
- مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ مطابق با مذہب اہلبیت(ع)، قم، مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، 1387ہجری شمسی۔
- مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، چاپ دوم، 1403ھ۔
- محدث نوری، حسین، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، چاپ اول، 1408ھ۔
- محقق سبزواری، محمدباقر، کفایۃ الاحکام، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، چاپ اول، 1423ھ۔
- محمودی، محمدرضا، مناسک حج (محشّی)، تہران، نشر مشعر، 1429ھ۔
- مرتضوی، ضیاء، مشکاۃ الشریعۃ فی شرح تحریر الوسیلۃ، تہران، موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی (رہ)، چاپ اول، 1390ہجری شمسی۔
- مروّج، حسین، اصطلاحات فقہی، قم، بخشایش، چاپ اول، 1379ہجری شمسی۔
- موسوی شاہرودی، سید مرتضی، جامع الفتاوی (مناسک حج)، تہران، نشر مشعر، چاپ سوم، 1428ھ۔
- نجفی، محمدحسن، جَواہر الکلام فی شرحِ شرائعِ الاسلام، تصحیح عباس قوچانی و علی آخوندی، بیروت، دارُ اِحیاء التُّراثِ العربی، چاپ ہفتم، 1404ھ۔
- نراقی، مولی احمد بن محمدمہدی، مستند الشیعۃ فی أحکام الشریعۃ، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، چاپ اول، 1415ھ۔
- یزدی، محمدکاظم، العروۃ الوثقی و التعلیقات علیہا، قم، مؤسسۃ السبطین علیہما السلام العالمیۃ، چاپ اول، 1388ہجری شمسی۔