قلیل پانی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
رساله عملیه.jpg
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضہسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ


قلیل پانی شیعہ فقہا کے نزدیک مطلق پانی کی اقسام سے ہے ۔ایسے پانی کو کہا جاتا ہے کہ جو جاری اور کنویں کا پانی نہ ہو نیز اس پانی کی مقدار کُر سے کم ہو۔ قلیل پانی سے وضو اور غسل کر سکتے ہیں لیکن نجس اشیاء کو خاص شرائط کے ساتھ پاک کرسکتے ہیں۔ اکثر شیعہ فقہا کے نزدیک قلیل پانی نجاست کے ملنے سے نجس ہوجاتا ہے۔

احکام

  • آب قلیل آب مطلق کی اقسام سے ہے اور پاک کرنے والی اشیا میں سے ہے۔ مشہور قول کی بنا پر نجاست یا متنجس کے ملنے سے نجس ہو جاتا ہے[1]اور کُر، جاری یا بارش کے پانی کے ملنے اور مخلوط ہونے سے پاک ہوجاتا ہے۔ مخلوط ہوئے بغیر صرف اتصال کے صورت میں پانی کے پاک ہونے میں اختلاف ہے۔ [2]
  • اگر قلیل پانی اوپر سے نیچے کی طرف سے یا دباؤ کے ساتھ نیچے سے اوپر کی طرف سے جاری ہواور کسی نجاست کے ساتھ ملے تو پہلی صورت میں نیچے والا اور دوسری صورت میں اوپر والا پانی نجس نہیں ہو گا کیونکہ دونوں صورتوں میں پانی کا وہ حصہ جو نجاست سے ملا ہے اور دوسرا وہ حصہ جو نجاست سے نہیں ملا عرف اسے دو پانی سمجھتاہے۔[3]
  • چھوٹے بچہ کے علاوہ اگرلباس یا بدن پیشاب سے نجس ہوجائے تو مشہور قول کی بنا پر قلیل پانی سے اسکا پاک ہونا درج ذیل امور پر موقوف ہے:
  1. دو بار دھونا ۔
  2. کپڑے کا نچوڑنا، قالین اور اس کے مانند چیزوں سے غسالہ نکالنا۔
  3. نجس چیز پر پانی گرانا، نا نجس چیز کو پانی میں دھونا۔
  • ظرف ولوغ(کتے کا چاٹا ہوا برتن) کے علاوہ متنجس برتن کے پاک کرنے میں تین دفعہ دھونا شرط ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے۔معاصرین میں پہلا قول معروف ہے۔[4]

حوالہ جات

  1. العروة الوثقی، ج۱، ص۲۶ـ۲۷ و ۳۶
  2. العروة الوثقی، ج۱، ص۴۳
  3. العروة الوثقی، ج۱، ص۳۶
  4. العروة الوثقی، ج۱، ص۱۰۷ـ۱۱۰


منابع

  • فرہنگ فقہ مطابق با مذہب اہل بیت علیہم السلام، ج۱، ص۱۰۴-۱۰۵.
  • طباطبائی یزدی، محمد کاظم، العروة الوثقی، مؤسسہ النشر الاسلامی التابعہ لجماعہ المدرسین، قم، ۱۴۱۷-۱۴۲۰ق.