غسل جمعہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
توضیح المسائل2.png
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

جمعہ کے دن غسل کرنا مستحب ہے. حضرت پیغمبر(ص) اس کی اہمیت کے بارے میں فرماتے ہیں: کبھی بھی غسل جمعہ کو ترک نہ کرو، اگرچہ اس کے لئے ناچار ہو کہ اپنے پیسے، غذا اور خوراک سے بچت کر کے غسل کے لئے خرچ کرنا پڑھے، کیونکہ غسل جمعہ ایک بہت بڑا اور اہم مستحبی عمل ہے. اس کے انجام کا وقت جمعہ والے دن صبح اذان سے ظہر تک ہے. [1] اور اس کی قضا جمعہ ظہر کے بعد یا ہفتے والے دن بجا لا سکتے ہیں. اور اکثر علماء کے فتوے کے مطابق نماز کے لئے غسل جمعہ سے نماز نہیں پڑھ سکتے بلکہ نماز کے لئے وضو کی ضرورت ہے.

غسل جمعہ کی اہمیت

غسل جمعہ وہ مستحب عمل ہے جس پر تاکید کی گئی ہے. [2] اور حتی کہ گذشتہ صدیوں میں بعض فقہاء نے اسے واجب کہا ہے.[3] پیغمبر اکرم(ص) نے غسل جمعہ کی اہمیت کے بارے میں فرمایا ہے: کبھی بھی غسل جمعہ کو ترک نہ کرو اگرچہ اس کے لئے اپنے پیسے، غذا اور خوراک سے بچت کر کے غسل کے لئے خرچ کرنا پڑھے، کیونکہ غسل جمعہ ایک بہت اہم اور بڑا مستحبی عمل ہے. [4] اور امیرالمومنین علی(ع) جب بھی کسی کو سرزنش کرتے تو فرماتے: تم جمعہ کے دن غسل کے ترک کرنے والے سے بھی زیادہ ناتوان ہو [5]

مشہور ہے کہ اگر کوئی چالیس ہفتے تک غسل جمعہ کو ترک نہ کرے تو اس کا بدن قبر میں صحیح و سلامت رہے گا لیکن اس مطلب پر کوئی روایت موجود نہیں ہے.

غسل جمعہ کا وقت

غسل جمعہ کا وقت اذان صبح سے جمعہ ظہر تک ہے. [6] اور بہتر یہ ہے کہ اس کو ظہر کے قریب بجا لایا جائے. [7] اور کسی کو شک ہو کہ جمعہ کے دن پانی میسر نہیں ہو گا تو اسے چاہیے کہ وہ جمعرات کے دن غسل کر لے.[8] اگر غسل جمعہ اذان ظہر تک انجام نہ دیا ہو تو ظہر کے بعد اس کی قضا بجا لائے یا پھر ہفتے کے دن بجا لائے. بعض نے کہا ہے: اگر غسل جمعہ ظہر کے بعد انجام دیا جائے، تو احتیاط یہ ہے کہ اسے بغیر ادا یا قضا کی نیت سے بجا لایا جائے. [9]

غسل کرنے کا طریقہ

اس غسل کا طریقہ بھی دوسرے غسل کی طرح ہے اور اسے بھی ترتیبی یا ارتماسی بجا لایا جائے.

غسل جمعہ کا وضو کی جگہ لینا

اکثر مراجع تقلید کے فتوے کے مطابق یہ غسل وضو کی جگہ نہیں لے سکتا اور نماز کے لئے وضو کرنا چاہیے. [10][11] اگر غسل جمعہ کے بعد حدث (جو چیزیں غسل یا وضو کو باطل کرتی ہیں) سرزد ہو تو اس کے لئے دوبارہ غسل بجا لانے کی ضرورت نہیں ہے. [12]

غسل جمعہ کی دعا

مستحب ہے کہ غسل کرتے وقت یہ دعا پڑھی جائے:أشْهَدُ أنْ لا إِلهَ إلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لا شَریک لَهُ وَأنَّ مُحَمَّداً عَبْدُه وَرَسوُلُه. اَلّلهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّد وَآلِ مُحَمَّد وَاجْعَلْنی مِنَ التَّوَّابینَ وَاجْعِلْنی مِنَ الْمُتَطَهِّرین: گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے علاوہ کوئی رب نہیں اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد(ص) اس کا خاص بندہ اور اس کا پیغمبر ہے. خدایا پیغمبر(ص) اور اس کی آل پر درود بھیج اور مجھے پاک اور توبہ کرنے والوں میں سے قرار دے. [13]

حوالہ جات

  1. آیات عظام امام خمینی، رهبری، مکارم، بهجت، وحید، خوئی تا ظهر و آیت الله سیستانی تا غروب
  2. المعتبر ۱/ ۳۵۳ ؛ تذکرة الفقہاء ۲/ ۱۳۷ ـ ۱۳۸ ؛ علامہ حلی، مختلف الشیعہ، ج۱، ص۳۱۸ ـ ۳۱۹.
  3. الہدایہ، ص۱۰۲؛ المقنع، ص۱۴۴.
  4. مجلسی، بحار الأنوار، ج۱۸، ص۱۲۹.
  5. علل الشرایع، ج۲، ص۲۸۵.
  6. کفایة الاحکام، ج۱، ص۳۸؛ جواهر الکلام، ج۵، ص۷ ـ ۸.
  7. جواهر الکلام، ج۵، ص۱۳.
  8. جواهر الکلام، ج۵، ص۱۵.
  9. مصباح الفقیه، ج۶، ص۱۴؛ العروة الوثقی، ج۲، ص۱۴۳.
  10. آیات عظام سیستانی، مکارم، خوئی، تبریزی، وحید : اس غسل کے ساتھ نماز پڑھ سکتے ہیں ولی مستحب کے وضو بھی کرے
  11. مختلف الشیعة، ج۱، ص۳۳۹.
  12. العروة الوثقی، ج۲، ص۱۴۷؛ موسوعۃ الخوئی، ج۱۰، ص۳۴.
  13. العروة الوثقی، ج۲، ص۱۴۵.