بارہ امامی تسنن

ویکی شیعہ سے

بارہ امامی تسنن سے مراد اہل سنت کے مابین ایسا عقیدہ ہے جس کے مطابق خلفائے ثلاثہ کی خلافت پر عقیدہ رکھنے کے ساتھ ساتھ شیعوں کے بارہ اماموں کے ساتھ ولایت و محبت رکھنے کو ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اس عقیدے اور رجحان کے پس منظر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ عقیدہ اسلام کی پہلی صدی میں ہی عثمان کے ان طرفداروں کی مخالفت میں تشکیل پایا تھا جو امام علیؑ کے خلاف تھے۔ لیکن یہ عقیدہ چھٹی صدی ہجری میں عام رواج پایا، پہلے ایران اور ہندوستان میں، پھر خراسان کے مشرقی حصے اور خلافت عثمانیہ کے علاقوں میں یہ عیقدہ پنپتا رہا۔ اصطلاح "بارہ امامی تسنن" کو ایران میں تاریخ نویسی کے لحاظ سے میں ایک نیا عنوان سمجھا جاتا ہے؛ لیکن بعض محققین ایک مخطوطہ نسخے کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ اصطلاح صفوی دور کے اواخر میں بھی استعمال ہوتی رہی ہے۔ بارہ امامی تسنن کی تشکیل کے چند عوامل اس طرح بیان کیے گئے ہیں: خلافت عباسیہ کا زوال، مغلیہ حکمرانوں اور تیموری امیروں کی مذہبی رواداری، تصوف کا فروغ اور صوفیاء کی حاکمیت، اور آپس تصوف اور تشیع کے مابین نزدیکی رابطہ۔

مورخین بارہ امامی تسنن کو اسلامی مشرق زمین بالاخص ایران میں تشیع کے پھیلاؤ اور صفوی شیعہ حکومت کے ظہور کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایرانیوں نے سیاست اور اقتدار کے دائرے میں بارہ امامی تسنن کے ذریعے شیعہ مذہب قبول کیا۔ نویں اور دسویں صدی ہجری کے دوران ایران میں بارہ امامی تسنن کے تفکر کی حامل حکومتیں قائم ہوئیں۔ نیز عام تصور یہ تھا کہ یہاں کی مختلف ثقافتی شخصیات بارہ امامی تسنن کا رجحان رکھتے ہیں اور ان کے قلمی و دیگر آثار میں خلفائے ثلاثہ کے تذکرے کے ساتھ ساتھ شیعوں کے بارہ اماموں کو بھی عصمت کے درجے پر فائز سمجھتے تھے۔

تعارف اور مقام

بارہ امامی تسنن اہل سنت کے درمیان ایک مذہبی رجحان ہے جس کے مطابق خلفائے ثلاثہ کی خلافت پر عقیدہ رکھنے کے ساتھ ساتھ شیعہ ائمہؑ کی ولایت اور چودہ معصومین کے ساتھ محبت و مودت رکھنے کو ضروری سمجھا جاتا ہے۔[1]

بارہ امامی تسنن کو اسلامی دنیا کے مشرقی حصے بالاخص ایران میں چھٹی صدی ہجری کے بعد تشیع کے رواج پانے کی ایک اہم وجہ سمجھا جاتا ہے۔[2] نیز اسے ایران میں شیعہ صفوی ریاست کی تشکیل کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہیں۔[3] کہا جاتا ہے بارہ امامی تسنن کے تفکر سے ہی ایران میں اہم فکری اور مذہبی پیش رفت ہوئی اور ساتویں صدی ہجری کے بعد سے شیعہ و سنی اختلافات اور تنازعات کو کم کرنے میں اس تفکر اور رجحان کا بڑا کردار رہا ہے۔[4]

اصطلاح‌ کی شناخت

صفویوں حکومت(1090ھ) کے اواخر میں ایک مجہول المولف کتاب "فُتوحُ المجاهدین فی رَدِّ المُتَدَلِّسین" میں بارہ امامی تسنن کی ایک عبارت کا نمونہ

بارہ امامی تسنن کی اصطلاح ایران میں تاریخ نگاری کے میدان میں ایک نئی اصطلاح شمار ہوتی ہے۔[5] کہا جاتا ہے کہ اس اصطلاح کا تاریخی منابع میں ذکر نہیں ملتا ہے؛[6] لیکن بعض محققین کے نے چند پرنے کتابی نسخوں کی رو سے دعوا کیا ہے کہ صفوی حکومت(1090ھ) کے اواخر میں یہ اصطلاح رائج تھی۔[7]

اس اصطلاح کا استعمال اور وضاحت کو ایک ایرانی محقق اور نسخہ شناس محمد تقی(1911-1996ء) کے سنہ 1965ء میں لکھے ہوئے ایک مقالے سے منسوب کی جاتی ہے۔[8] لیکن دوسری طرف بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ اصطلاح رسول جعفریان کے قلمی آثار میں پائی جاتی ہے اور ان ہی کے ذریعے مزید فروغ پائی ہے۔[9]

تاریخچہ

"مجمل التواریخ و القصص" پہلی کتاب ہے جس میں بارہ امامی تسنن کا رجحان پایا جاتا ہے

بعض محققین کی رائے یہ ہے کہ بارہ امامی تسنن تقریبا چھٹی صدی ہجری میں تشکیل پایا ہے؛[10] اس کی بنیاد اسلام کی پہلی صدی ہجری میں عثمانی مذہب کے سنیوں کی مخالفت میں فراہم کی گئی تھی جن کا عقیدہ یہ تھا کہ امام علیؑ کی خلافت مشروع نہیں ہے؛[11] اس طرح سے کہ بعض لوگ عثمانیوں کے مقابلے میں امام علیؑ اور دیگر اہل بیتؑ کے فضائل ومناقب کو عام کرتے تھے۔[12] اہل سنت کی رجالی کتابوں میں ان لوگوں کو "سنی متشیع" یا "شیعیت کے متہم افراد" کے عنوان سے یاد کرتے ہیں۔[13]

رسول جعفریان کے مطابق، اہل سنت کے اس گروہ کی عقیدتی کوششیں اس بات کا سبب بنیں کہ چھٹی صدی ہجری میں اہل سنت مذہب میں ایک متوازن کیفیت پیدا ہوئی۔[14] یہ مذہبی توازن سبب بنا کہ اہل سنت کے درمیان اہل بیتؑ کی محبت و مودت کی محوریت میں ان کے فضائل و مناقب پر مشتمل کتابیں تحریر کی گئیں۔[15] اس سلسلے میں نمایاں کردار ادا کرنے والی علمی اور مذہبی شخصیات میں اہل سنت کے فرقہ حنبلیہ کے امام احمد بن حنبل(164-241ھ) اور محمد بن جریر طبری(متوفیٰ: 310ھ) کے نام نمایاں ہیں۔[16] بارہ امامی تسنن کے ظہور کی کچھ وجوہات بیان کی گئی ہیں جو کہ درج ہیں:

  • عباسی خلافت کا زوال،[17]
  • مغل[18]اور تیموری امیروں کی مذہبی رواداری،[19]
  • تصوف کا فروغ اور صوفیاء کی حاکمیت[20]
  • اور تصوف اور شیعیت کا آپس میں نزدیکی رابطہ۔[21]

کہا جاتا ہے کہ یہ بارہ امامی تسنن کا رجحان پہلے ایران اور ہندوستان میں پھیلا اور پھر عظیم خراسان [یادداشت 1] کے مشرقی حصے اور خلافت عثمانیہ کے علاقوں میں عام ہوا۔[22] نیز تاریخی نقل کے مطابق ایران میں صفوی حکومت کی تشکیل کے بعد یہاں یہ رجحان ختم ہوا۔[23]

بارہ امامی تسنن کا سیاسی دائرہ کار

بعض مورخین کے مطابق، ایرانیوں کی مذہبی تبدیلی بارہ امامی تسنن کے طرز فکر کا سیاست اور قدرت کے دائرہ کار میں قرار پانے کی بدولت ہوئی۔[24] محققین مزید کہتے ہیں کہ پوری 9ویں اور 10ویں صدی ہجری میں بارہ امامی تسنن طرز فکر کی حامل حکومتیں قائم رہیں۔[25] اس سے پہلے بھی آٹھویں صدی ہجری کو ایران اور عراق کی بہت سی مقامی حکومتوں میں اس طرز فکر کے وجود کی علامات موجود تھیں؛ "سربداران حکومت" کے پہلے حکمرانوں میں ایسا رجحان اور طرز فکر پایا جاتا تھا۔[26]

نویں صدی ہجری میں تیموری حکمران سلطان حسین بایقرا بارہ امامی تسنن کی فکر کا حامل تھا؛ وہ چاہتا تھا کہ بارہ اماموں کا نام لیکر خطبے پڑھے جائیں لیکن عبد الرحمن جامی[27] اور امیر علی شیر نوایی نے اسے یہ کام کرنے سے منع کیا۔[28] اسی دوران جہان شاہ قراقویونلو نے ایسے سکے بنوائے جسکی ایک طرف "علی ولی اللہ" کے الفاظ اور دوسری طرف خلفائے راشدین کے نام درج تھے۔[29] اس کام کو ان کی حکومت کے بارہ امامی تسنن کی طرف رجحان کی علامت سمجھا جاتا ہے۔[30]

صفویوں کی مذہبی تبدیلی کے مراحل کو بھی اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ وہ پہلے اہل سنت تھے، پھر ان میں بارہ امامی تسنن کا رجحان آیا اور اس کے بعد انہوں نے شیعہ مذہب اختیار کیا۔[31] بعض مورخین نے کچھ حکومتوں میں بھی بارہ امامی تسنن کے رجحان کی موجودگی کے آثار پیش کیے؛ جیسے عثمانی حکومت وغیرہ۔[32]

بارہ امامی تسنن ثقافتی دائرے میں

چودہ معصومینؑ پر صلوات کی شرح میں لکھی گئی کتاب "وسیلةُ الخادمِ الی المَخدوم" مولف: فضل‌ الله بن روزبہان خُنْجی شافعی (متوفیٰ: 930ھ)

چھٹی صدی ہجری سے صفویوں کے زوال تک مختلف ثقافتی شخصیات کو بارہ امامی تسنن کے رجحان کا حامل سمجھا جاتا رہا ہے۔[33] رسول جعفریان کے مطابق 8ویں صدی ہجری سے 10ویں صدی ہجری کے وسط میں اہل سنت نے اس طرز فکر اور رجحان پر مبنی بہت سے آثار تخلیق کیے ہیں؛[34] ان میں مختلف مذہبی، تاریخی اور ادبی کام (شاعری اور دیگر امور) میں انہوں نے خلفائے راشدین کے نام کے ساتھ شیعوں کے اماموں کو معصوم اور حجت الہی کے عنوان سے یاد کیا ہے۔[35] بارہ امامی تسنن کے رجحان کی حامل شخصیتیں اور اسی کے مطابق تحریر کردہ ان کی تالیفات مندرجہ ذیل ہیں:

  • مجہول المولف کتاب "مُجمَل التَّواریخِ و القِصَص (سنہ تألیف: 520ھ)؛مشہور ہے کہ یہ کتاب بارہ امامی تسنن کے رجحان کی حامل ایک کتاب ہے [36] اس کتاب میں خلفائے ثلاثہ کی تاریخ کے ساتھ چودہ معصومینؑ کی تاریخ میں درج کی گئی ہے۔[37]
  • ابومحمد عبد العزیز بن محمد حَنبَلی جُنابذی (متوفیٰ: 611ھ) نے "مَعالِمُ العِترةِ النَّبویة و مَعارِفُ اَهلِ البَیت الفاطمیةِ العلویه" کے عنوان سے گیارہ اماموں(امام علیؑ سے لیکر امام حسن عسکریؑ) کی سوانح حیات تحریر کی ہے۔[38]
  • محمد بن یوسف گنجی شافعی (متوفیٰ:658ھ) نے "کفایة الطالب فی مناقب علی بن ابی‌طالب" کے عنوان سے امام علیؑ اور باقی اہل بیتؑ کے فضائل لکھے ہیں۔[39]
  • حمد الله مستوفی (موتفیٰ: بعد از 750ھ) نے "تاریخ گزیده" کے عنوان سے خلفا اور ائمہؑ دونوں کی سوانح حیات تحریر کی ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں شیعہ اماموں کے لیے «ائمہ معصومینؑ»[40] اور «حُجَّةُ الحَقِّ عَلَی الخلق»[41] جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں۔[42]
  • شمس‌الدین محمد زَرَندی حَنَفی (متوفیٰ: حدود 750ھ) نے دو کتابیں "نَظْمُ دُرَرِ السِّمْطَیْن" اور "مَعارجُ الوُصول إلی مَعرفَة فَضل آلِ الرّسول"لکھی ہیں۔[43]
  • خواجوی کرمانی (متوفیٰ: 753ھ) نے اپنے اشعار میں تشیع سے اظہار برائت کرنے کے باوجود بارہ اماموں کی مدح سرائی کی ہے۔[44]
  • عبدالرحمن جامی (817-898ھ)، حنفی مذہب کے شاعر اور نقشبندی صوفی ہیں، وہ شیعہ کی نسبت کوئی مثبت سوچ نہیں رکھتا لیکن اپنی کتابوں میں ائمہؑ کے ساتھ محبت و مودت کا اظہار کیا ہے۔[45]
  • ملا حسین واعظ کاشفی (متوفیٰ: 910ھ) نے اپنی اکثر کتابوں[46] منجملہ کتاب "روضة الشهداء" میں بارہ امامی اہل تسنن کے ہاں عزاداری امام حسینؑ کے رائج ہونے کی بات کی ہے۔[47]
  • فضل‌الله بن روزبهان خُنْجی شافعی (متوفیٰ: 930ھ) نے "وسیلة الخادم الی المخدوم" کے عنوان سے صلوات چوده معصومینؑ کی شرح لکھی ہے۔[48]
  • شمس‌الدین محمد بن طولون (متوفیٰ: 953ھ) نے کتاب "اَلشّذَراتُ الذّهَبیة فی تَراجِم الاَئمةِ الاِثنیٰ عَشَر عِندَ الاِمامیه" لکھی ہے.[49]
  • شهاب‌الدین احمد بن حَجَر هَیتَمی‌ شافعی (909-974ھ) نے شیعہ عقائد کا رد اس کتاب "الصواعق المحرقۃ میں لکھا ہے اور ساتھ ہی ساتھ فضائل اہل بیتؑ بھی لکھے ہیں۔[50]
  • جمال‌الدین عبدالله بن محمد شبراوی شافعی (1092- 1172ھ) نے "الاِتْحاف بِحُبّ الاَشْراف"لکھی ہے۔[51]
  • سلیمان بن ابراهیم قُنْدوزی حنفی (1220-1294ھ) نے "ینابیع المودة لذوی القربی" میں فضائل اہل بیت تحریر کیے ہیں۔[52]
  • مؤمن بن حسن شَبْلَنْجی شافعی (1250-1308ھ) نے کتاب "نور الابصار فی مناقب آل بیت النبی المختار" میں اہل بیتؑ کی مدح سرائی کی ہے۔[53]

نوٹ

  1. خراسان، اسلام کی آمد سے پہلے اور بعد میں ایک تاریخی سرزمین ہے، جس کے شہر اب مشرقی ایران اور ترکمانستان، مغربی اور شمالی افغانستان، اور جنوبی ازبکستان کے کچھ حصوں سے ملتے جلتے ہیں۔ (ابن عبد ربه، العقد الفريد، ج7، ص281؛ بكرى، المسالک و الممالک، ج‏1، ص441.)

حوالہ جات

  1. جعفریان، تاریخ ایران اسلامی از یورش مغولان تا زوال ترکمانان، 1378ہجری شمسی، ص255؛ ابوئی مهریزی، «کچکول میر جمال‌الدین حسینی جامی و بازتاب اندیشه تسنن دوازده‌امامی در آن»، ص2؛ دانش پژوه، «انتقاد کتاب: کشف الحقائق»، ص307.
  2. جعفریان، تاریخ تشیع در ایران، 1388ہجری شمسی، ص844.
  3. جعفریان،‌ تاریخ تشیع در ایران،‌ 1388ہجری شمسی، ص843.
  4. رمضان‌جماعت و جدیدی، «عوامل مؤثر بر شکل‌گیری و گسترش تسنن دوازده‌امامی و تأثیر متقابل آن با تشیع در قرن نهم هجری»، ص154.
  5. جعفریان، تاریخ تشیع در ایران، 1388ہجری شمسی، ص843؛ رمضان‌جماعت و جدیدی، «عوامل مؤثر بر شکل‌گیری و گسترش تسنن دوازده‌امامی و تأثیر متقابل آن با تشیع در قرن نهم هجری»، ص151.
  6. رمضان‌جماعت و جدیدی، «عوامل مؤثر بر شکل‌گیری و گسترش تسنن دوازده‌امامی و تأثیر متقابل آن با تشیع در قرن نهم هجری»، ص151.
  7. ابوئی مهریزی، «کچکول میر جمال‌الدین حسینی جامی و بازتاب اندیشه تسنن دوازده‌امامی در آن»، ص3.
  8. دانش‌پژوه، «انتقاد کتاب: کشف الحقائق»، ص307.
  9. رمضان‌جماعت و جدیدی، «عوامل مؤثر بر شکل‌گیری و گسترش تسنن دوازده‌امامی و تأثیر متقابل آن با تشیع در قرن نهم هجری»، ص151؛ کریمی، شاه اسماعیل صفوی و تغییر مذهب، 1398ہجری شمسی، ص40.
  10. ابوئی مهریزی، «کچکول میر جمال‌الدین حسینی جامی و بازتاب اندیشه تسنن دوازده‌امامی در آن»، ص2؛ جعفریان، «مقدمه مصحح»، ص27-33.
  11. جعفریان، «مقدمه مصحح»، ص26.
  12. جعفریان، «مقدمه مصحح»، ص26.
  13. جعفریان، «مقدمه مصحح»، ص26.
  14. جعفریان، «مقدمه مصحح»، ص26-27.
  15. جعفریان، «مقدمه مصحح»، ص26-27؛ جعفریان، تاریخ ایران اسلامی از یورش مغولان تا زوال ترکمانان، 1378ہجری شمسی، ص255.
  16. جعفریان، «مقدمه مصحح»، ص26-27.
  17. رمضان‌جماعت و جدیدی، «عوامل مؤثر بر شکل‌گیری و گسترش تسنن دوازده‌امامی و تأثیر متقابل آن با تشیع در قرن نهم هجری»، ص155-156؛ جعفریان، تاریخ ایران اسلامی از یورش مغولان تا زوال ترکمانان، 1378ہجری شمسی، ص255.
  18. اشپولر، تاریخ مغول در ایران، 1351ہجری شمسی، 203-204؛ باسانی، «دین در عهد مغول»، ص516.
  19. رمضان‌جماعت و جدیدی، «عوامل مؤثر بر شکل‌گیری و گسترش تسنن دوازده‌امامی و تأثیر متقابل آن با تشیع در قرن نهم هجری»، ص159-161.
  20. امینی‌زاده و رنجبر، «تسنن دوازده‌امامی خراسان در سده‌های هشتم و نهم هجری زمینه‌ها و علل»، ص66.
  21. الشیبی، تشیع و تصوف،‌ 1387ہجری شمسی، ص143-146؛ جعفریان،‌ تاریخ تشیع در ایران،‌ 1388ہجری شمسی، ص760-767؛ باسانی، «دین در عهد مغول»، ص517.
  22. جعفریان،‌ تاریخ تشیع در ایران،‌ 1388ہجری شمسی، ص844.
  23. جعفریان، «مقدمه مصحح»، ص31.
  24. جعفریان،‌ تاریخ تشیع در ایران،‌ 1388ہجری شمسی، ص840.
  25. جعفریان،‌ تاریخ تشیع در ایران،‌ 1388ہجری شمسی، ص844.
  26. اسمیت، خروج و عروج سربداران، 1361ہجری شمسی، ص82-92.
  27. سمرقندی، مطلع سعدین و مجمع بحرین، 1383ہجری شمسی، ج2، ص1021-1022.
  28. جعفریان،‌ تاریخ تشیع در ایران،‌ 1388ہجری شمسی، ص844.
  29. مزاوی، پیدایش دولت صفوی، 1388ہجری شمسی، ص144.
  30. جعفریان، «مقدمه مصحح»، ص32.
  31. جعفریان،‌ تاریخ تشیع در ایران،‌ 1388ہجری شمسی، ص843.
  32. جعفریان، «مقدمه مصحح»، ص31.
  33. دانش‌پژوه، «انتقاد کتاب: کشف الحقائق»، ص307-308.
  34. جعفریان، تاریخ ایران اسلامی از یورش مغولان تا زوال ترکمانان، 1378ہجری شمسی، ص256.
  35. جعفریان، «مقدمه مصحح»، ص29.
  36. ابوئی مهریزی، «کچکول میر جمال‌الدین حسینی جامی و بازتاب اندیشه تسنن دوازده‌امامی در آن»، ص2.
  37. نویسنده مجهول، مجمل التواریخ و القصص، 1318ہجری شمسی، ص454-458.
  38. جعفریان، «مقدمه مصحح»، ص29.
  39. جعفریان، «مقدمه مصحح»، ص28.
  40. مستوفی، تاریخ گزیده، 1387ہجری شمسی، ص201.
  41. مستوفی، تاریخ گزیده،1387ہجری شمسی، ص201.
  42. دانش‌پژوه، «انتقاد کتاب: کشف الحقائق»، ص307؛ جعفریان،‌ تاریخ تشیع در ایران،‌ 1388ہجری شمسی، ص842-843.
  43. دانش‌پژوه، «انتقاد کتاب: کشف الحقائق»، ص307.
  44. جعفریان،‌ تاریخ تشیع در ایران،‌ 1388ہجری شمسی، ص847.
  45. مایل هروی، شیخ عبدالرحمن جامی، 1377ہجری شمسی، ص114-122.
  46. جعفریان،‌ تاریخ تشیع در ایران،‌ 1388ہجری شمسی، ص844-846.
  47. جعفریان،‌ تاریخ تشیع در ایران،‌ 1388ہجری شمسی، ص844.
  48. جعفریان، تاریخ ایران اسلامی از یورش مغولان تا زوال ترکمانان، 1378ہجری شمسی، ص255-256.
  49. جعفریان، «مقدمه مصحح»، ص29.
  50. دانش‌پژوه، «انتقاد کتاب: کشف الحقائق»، ص307.
  51. جعفریان، «مقدمه مصحح»، ص31.
  52. جعفریان، «مقدمه مصحح»، ص31.
  53. جعفریان، «مقدمه مصحح»، ص31.

مآخذ

  • ابوئی مهریزی، محمدرضا، «کچکول میر جمال‌الدین حسینی جامی و بازتاب اندیشه تسنن دوازده‌امامی در آن»، در فصلنامه تاریخ ایران، شماره 75، زمستان 1393 و بهار 1394ہجری شمسی.
  • اسمیت، جان ماسون، خروج و عروج سربداران، ترجمه یعقوب آژند، تهران، واحد مطالعات و تحقیقات فرهنگی و تاریخی، 1361ہجری شمسی.
  • اشپولر، برتولد، تاریخ مغول در ایران (سیاست، حکومت و فرهنگ دوره ایلخانان)، ترجمه محمود میرآفتاب، تهران، بنگاه ترجمه و نشر کتاب، 1351ہجری شمسی.
  • الشیبی، کامل مصطفی، تشیع و تصوف تا آغاز سده دوازدهم هجری،‌ ترجمه علیرضا ذکاوتی قرا‌گزلو، تهران، امیرکبیر، 1387ہجری شمسی.
  • امینی‌زاده، علی و محمدعلی رنجبر، «تسنن دوازده‌امامی خراسان در سده‌های هشتم و نهم هجری زمینه‌ها و علل»، در فصلنامه علمی پژوهشی شیعه‌شناسی، شماره 57، بهار 1396ہجری شمسی.
  • باسانی، آ، «دین در عهد مغول»، در تاریخ ایران کیمبریج (از آمدن سلجوقیان تا فروپاشی دولت ایلخانان)، ج5، گردآورنده جی. آ. بویل،‌ ترجمه حسن انوشه، انتشارات امیرکبیر، 1385ہجری شمسی.
  • جعفریان، رسول، تاریخ ایران اسلامی از یورش مغولان تا زوال ترکمانان، تهران، کانون اندیشه جوان، 1378ہجری شمسی.
  • جعفریان، رسول، تاریخ تشیع در ایران (از آغاز تا طلوع دولت صفوی)، تهران، نشر علم، 1388ہجری شمسی.
  • جعفریان، رسول، «مقدمه مصحح»، در خنجی اصفهانی، فضل‌الله بن روزبهان، وسیلة الخادم الی المخدوم در شرح صلوات چهارده معصوم، به‌کوشش رسول جعفریان، قم، انتشارات انصاریان، 1375ہجری شمسی.
  • دانش‌پژوه، محمدتقی، «انتقاد کتاب: کشف الحقائق»، در فرهنگ ایران‌زمین، شماره 13، 1344ہجری شمسی.
  • رمضان‌جماعت، پوراندخت و ناصر جدیدی، «عوامل مؤثر بر شکل‌گیری و گسترش تسنن دوازده‌امامی و تأثیر متقابل آن با تشیع در قرن نهم هجری»، در فصلنامه علمی پژوهشی شیعه‌شناسی، شماره 70، تابستان 1399ہجری شمسی.
  • سمرقندی، عبدالرزاق بن اسحاق، مطلع سعدین و مجمع بحرین، تحقیق عبدالحسین نوایی، تهران، پژوهشگاه علوم انسانی و مطالعات فرهنگى، 1383ہجری شمسی.
  • کریمی، بهزاد، شاه اسماعیل صفوی و تغییر مذهب، تهران، انتشارات ققنوس، 1398ہجری شمسی.
  • مایل هروی، نجیب، شیخ عبدالرحمن جامی، تهران، انتشارات طرح نو، 1377ہجری شمسی.
  • مستوفی، حمدالله بن ابی‌بکر، تاریخ گزیده، تحقیق عبدالحسین نوائی، تهران، انتشارات امیرکبیر، 1387ہجری شمسی.
  • مزاوی، میشل، پیدایش دولت صفوی، ترجمه یعقوب آژند،‌ تهران، نشر گستره، 1388ہجری شمسی.
  • نویسنده مجهول، مجمل التواریخ و القصص، تحقیق محمدتقی بهار، تهران، کلاله خاور، 1318ہجری شمسی.