مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:آیت اعتداء

ویکی شیعہ سے
آیت اعتداء
آیت کی خصوصیات
آیت کا نامآیت اعتداء
سورہبقرہ
آیت نمبر194
پارہ2
صفحہ نمبر30
شان نزولرکھتی ہے
موضوعفقہی-اخلاقی
مضمونحرمت والے مہینوں میں جارح دشمن پر جوابی حملے کا جواز


آیتِ اعتداء سورہ بقرہ کی آیت نمبر 194 کو کہا جاتا ہے۔ یہ آیت حرمت والے مہینوں میں جارح دشمن[1] کے ساتھ مقابلہ کرنے کو جائز قرار دیتی ہے۔[2] اس آیت کے مطابق اگرچہ حرمت والے مہینوں میں جنگ میں پہل کرنا حرام ہے[3] لیکن اگر دشمن ان مہینوں کی حرمت پامال کرتے ہوئے حملہ کرے تو اس کا مقابلہ کرنا جائز ہے۔[4] آیتِ اعتداء سے فقہ کے مختلف ابواب جیسے حج، جہاد، قصاص، غصب اور بیع(خرید و فروخت) میں بطور دلیل استناد کیا جاتا ہے[5] اور فقہا اس آیت سے فقہی قاعدۂ اعتداء اخذ کرتے ہیں۔[6]

الشَّہْرُ الْحَرَامُ بِالشَّہْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ ۚ فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّہَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ مَعَ الْمُتَّقِينَ ‎﴿١٩٤﴾‏
شہر حرام کا جواب شہر حرام ہے اور حرمات کا بھی قصاص ہے لہٰذا جو تم پر زیادتی کرے تم بھی ویسا ہی برتاؤ کرو جیسی زیادتی اس نے کی ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ سمجھ لو کہ خدا پرہیزگاروں ہی کے ساتھ ہے۔



سورہ بقرہ آیت نمبر 194

اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں کہا گیا ہے کہ چھٹی ہجری میں جب صلحِ حدیبیہ کا معاہدہ طے پایا تو پیغمبر اکرمؐ اور صحابہ کرام فریضہ حج ادا کرنے کے لئے حدیبیہ کے مقام پر پہنچے۔ مشرکوں نے مسلمانوں پر پتھراؤ کرنے اور تیر برسا کر انہیں مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اس موقع پر مشرکوں کے ساتھ مقابلہ کرنے اور ذوالقعدہ کی حرمت و تقدس کا خیال رکھنا ضرروی نہ ہونے کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔[7]

علامہ طباطبائی کے مطابق حرام مہینوں میں قصاص لینا جائز ہونا، اس عمومی قاعدے کی ایک مثال ہے جس کے مطابق ہر اس چیز کا قصاص لینا جائز ہے جس کی بے حرمتی حرام اور تعظیم واجب ہو اور اس اصول کو مقابلہ بمثل کے عنوان سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔[8]

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کی دھمکیوں کے ساتھ حسینیہ امام خمینی تہران میں آیتِ اعتداء درج ہے (17 فروری سن 2026ء)[9]

شیعہ مرجع تقلید اور مفسر آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی کے مطابق اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص دوسرے کے حقوق یا حدود میں ناحق تجاوز کرے تو مظلوم شخص اپنے حق کے دفاع یا اس کی بازیابی کے لئے جوابی اقدام (مقابلہ بالمثل) کر سکتا ہے اور یہ حکم صرف مالی حقوق تک محدود نہیں بلکہ اس حکم میں غیر مالی حقوق میں شامل ہیں۔[10]

حوالہ جات

  1. مختار عمر، معجم اللغۃ العربیۃ المعاصرۃ، 1429ھ، ج2، ص1472۔
  2. طباطبایی، تفسیر المیزان، الاعلمی، ج2، ص63۔
  3. مشکینی، تفسیر روان، 1392شمسی، ج1، ص230
  4. نجفی، جواہر الکلام، 1363شمسی، ج21، ص32؛ مشکینی، تفسیر روان، 1392شمسی، ج1، ص206؛ برجی، ٹارگٹ کلنگ اور حق دفاع، 1386شمسی، ص52۔
  5. حلی، تذکرۃ الفقہاء، 1374شمسی، ج8، ص441؛ نجفی، جواہر الکلام، 1981ء، ج21، ص32؛ طوسی، الخلاف، نشر اسلامی، ج5، ص193؛ طوسی، المبسوط، 1387ھ، ج3، ص60۔
  6. کاشف الغطاء، أنوار الفقاہۃ (کتاب المکاسب)، 1422ھ، ج1، ص124۔
  7. طباطبایی، المیزان، الاعلمی، ج2، ص63۔
  8. طباطبایی، المیزان، منشورات اسماعیلیان، ج2، ص63۔
  9. «مشرقی آذربایجان کی عوام سے ملاقات کے موقع پر آیت اللہ خامنہ ای کا خطاب»]، ادارہ برائے تحفظ و نشر آثار حضرت آیت‌اللہ العظمی خامنہ‌ای کی آفیشل ویب سائٹ۔
  10. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج2، ص33۔

مآخذ

  • «مشرقی آذربایجان کی عوام سے ملاقات کے موقع پر آیت اللہ خامنہ ای کا خطاب»، ادارہ برائے تحفظ و نشر آثار حضرت آیت‌اللہ العظمی خامنہ‌ای کی آفیشل ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 17 فروری 2026ء، تاریخ اخذ: 28 مارچ 2026ء۔
  • برجی، یعقوب‌علی، ٹارگٹ کلنگ اور حق دفاع، قم، زمزم ہدایت، 1386ہجری شمسی۔
  • حلی، حسن بن یوسف، تذکرۃ الفقہاء، قم، موسسہ آل البیت، 1374ہجری شمسی۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، تہذیب الاحکام، تحقیق، تعلیق و ترتیب: حسن خرسان، علی آخوندی، محمد آخوندی، تہران، دار الکتب العلمیۃ، چوتھی اشاعت، 1365ہجری شمسی۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، تفسیر المیزان، بیروت، الاعلمی، بے تا۔
  • طوسی، محمد بن حسن، الخلاف، قم، نشر اسلامی، بے تا۔
  • طوسی، محمد بن حسن، المبسوط فی فقہ الإمامیۃ، تہران، المکتبۃ المرتضویۃ لإحیاء الآثار الجعفریۃ، 1387ھ۔
  • کاشف‌الغطاء، حسن، أنوار الفقاہۃ (کتاب المکاسب)، نجف، کاشف الغطاء العامہ، 1422ھ۔
  • مختار عمر، احمد، معجم اللغۃ العربیۃ المعاصرۃ، بی‌جا، عالم الکتاب، 1429ھ۔
  • مشکینی، علی، تفسیر روان، قم، دارالحدیث، 1392ہجری شمسی۔
  • نجفی، محمدحسن، جَواہر الکلام فی شرحِ شرائعِ الاسلام، تصحیح عباس قوچانی و علی آخوندی، بیروت، دارُ اِحیاء التُّراثِ العربی، 1981ء۔