قرآن کریم

ویکی شیعہ سے
(کتاب الہی سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
قرآن
حضرت امام علیؑ سے منسوب قرآنی نسخہ
معلومات

عنوان: کتاب مقدس دین اسلام
اسامی مشہور: قرآن، فرقان، الکتاب اور مُصحَف شریف
سپاروں کی تعداد : 30 پارے
سوروں کی تعداد : 114 سورے
آیتوں کی تعداد : 6236 آیات

اسلام
اللہ
اصول دین توحید • عدل  • نبوت  • امامت  • قیامت
فروع دین نماز  • روزہ  • حج  • زکٰوۃ  • خمس  • جہاد  • امر بالمعروف  • نہی عن المنکر  • تولی  • تبری
اسلامی احکام کے مآخذ قرآن  • سنت  • عقل  • اجماع  • قیاس(اہل سنت)
اہم شخصیات پیغمبر اسلامؐ  • اہل بیت  • ائمہؑ  • خلفائے راشدین(اہل سنت)
اسلامی مکاتب شیعہ: امامیہ  • زیدیہ  • اسماعیلیہ  •
اہل سنت: سلفیہ  • اشاعرہ  • معتزلہ  • ماتریدیہ  • خوارج
ازارقہ  • نجدات  • صفریہ  • اباضیہ
مقدس شہر مکہ  • مدینہ  • قدس  • نجف  • کربلا  • کاظمین  • مشہد  • سامرا  • قم
مقدس مقامات مسجد الحرام  • مسجد نبوی  • مسجد الاقصی  • مسجد کوفہ  • حائر حسینی
اسلامی حکومتیں خلافت راشدہ  • اموی  • عباسی  • قرطبیہ  • موحدین  • فاطمیہ  • صفویہ  • عثمانیہ
اعیاد عید فطر  • عید الاضحی  • عید غدیر  • عید مبعث
مناسبتیں پندرہ شعبان  • تاسوعا  • عاشورا  • شب قدر  • یوم القدس


قرآن کریم یا قرآن [عربی: القرآن الکریم]، دین اسلام کی مقدس کتاب ہے۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن خدا کا کلام ہے جسے فرشتہ وحی، جبرائیل کے ذریعے حضرت محمدؐ پر نازل کیا گیا ہے۔ مسلمان قرآن کے الفاظ اور معانی دونوں کو خدا کی طرف سے نازل شدہ جانتے ہیں۔ پیغمبر اکرمؐ کے زمانے میں قرآن کی آیتیں مختلف چیزوں جیسے حیوانات کی کھال، کھجور کی شاخیں، کاغذ اور کپڑے وغیرہ پر جدا جدا طور پر لکھی ہوئی تھیں جنہیں آپؐ کے بعد صحابہ نے اکٹھا کرکے کتاب کی شکل دے دی۔

قرآن کے متعدد اسامی ذکر کئے گئے ہیں جن میں قرآن، فرقان، الکتاب اور مُصحَف زیادہ مشہور ہیں۔ قرآن کو 114 سورتوں، تقریبا چھ ہزار آیتوں، تیس سپاروں اور 120 احزاب میں تقسیم کیا گیا ہے۔

چوتھی صدی ہجری تک مسلمانوں کے درمیان قرآن کی مختلف قرائتیں رائج تھیں جس کی اصل وجہ قرآن کے مختلف نسخوں کی موجودگی، عربی رسم الخط کا ابتدائی مراحل میں ہونا اور مختلف قاریوں کا ذاتی سلیقوں کی پیروی کرنا وغیرہ ہے۔ چوتھی صدی میں مختلف قرائتوں میں سے صرف سات قرائتوں (قراء سبعہ) کا انتخاب کیا گیا۔ مسلمانوں کے درمیان اس وقت سب سے زیادہ مشہور اور رائج قرائت، قرائت عاصم بمطابق روایت حفص ہے۔

قرآن عربی زبان میں نازل ہوا ہے جس کی وجہ سے غیر عرب مسلمان اسے آسانی سے سمجھ نہیں سکتے اس بنا پر دنیا کی تقریبا تمام زندہ زبانوں میں قرآن کا ترجمہ کیا گیا ہے تاکہ ہر مسلمان اسے با آسانی سمجھ سکے۔ ترجمہ قرآن کی تاریخ بہت پرانی ہے جس کی اصل صدر اسلام تک جا پہنچتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ قرآن کے پہلے مترجم سلمان فارسی تھے جنہوں نے چوتھی صدی میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کا فارسی میں ترجمہ کیا اور چھٹی صدی میں قرآن کا لاتینی زبان میں ترجمہ ہوا۔

اس وقت قرآن سے متعلق مختلف علوم مسلمانوں کے درمیان رائج ہیں جن میں تفسیر قرآن، تاریخ قرآن، علم لغات قرآن، علم اِعراب و بلاغت قرآن، قصص القرآن اور اعجاز القرآن وغیرہ شامل ہیں۔

ختم قرآن پیغمبر اکرمؐ کے زمانے سے ہی مسلمانوں کے درمیان رائج سنتوں میں سے ہے۔ یہ کام انفرادی اور اجتماعی دونوں طریقوں سے انجام پاتا ہے۔ قرآن سر پر اٹھانا شب قدر کے اعمال میں سے ایک ہے جس میں قرآن کو سروں پر اٹھا کر خدا، قرآن اور معصومین ؑ کا واسطہ دے کر، خدا سے گناہوں کی مغفرت کی درخواست کی جاتی ہے۔

کلام خدا

مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق قرآن خدا کا کلام ہے جو وحی کے ذریعے پیغمبر اسلامؐ پر 23 سال کے عرصے میں نازل ہوا۔[1] تمام مسلمان قرآن کے الفاظ اور معانی دونوں کو خدا کی طرف سے نازل شدہ مانتے ہیں۔[2]

قرآن پہلی بار غار حراء میں پیغمبر اکرمؐ پر وحی ہوا۔[3] کہا جاتا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہونے والی پہلی آیات سورہ علق کی ابتدائی آیات تھیں اور پہلی بار مکمل طور پر نازل ہونے والا سوره، سورہ فاتحہ ہے۔[4] مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ پیغمبر اسلام آخری نبی اور قرآن آخری آسمانی کتاب ہے۔[5]

کیفیت دریافت

قرآن میں انبیاء پر ہونے والی وحی کی تین قسمیں بیان ہوئی ہیں: الہام، پردے کے پیچھے سے اور فرشتوں کے ذریعے۔[6] بعض سورہ بقرہ کی آیت قُلْ مَن كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَىٰ قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّـهِ(ترجمہ: اے رسول کہہ دیجئے کہ جو شخص بھی جبریل کا دشمن ہے اسے معلوم ہونا چاہئے کہ جبریل نے آپ کے دل پر قرآن حکم خدا سے اتارا ہے۔)[7] سے استناد کرتے ہوئے کہتے ہیں: قرآن کا نزول صرف اور صرف "جبرئیل" کے ذریعے انجام پایا ہے؛[8] لیکن مشہور نظریہ کے مطابق دوسرے طریقوں منجملہ براہ راست حضرت محمدؐ کے قلب مطہر پر نازل ہوا ہے۔[9]

کیفیت نزول

قرآن کی بعض آیات کے مطابق قرآن، رمضان المبارک کے مہینے میں شب قدر کو نازل ہوا ہے۔[10] اس بنا پر مسلمانوں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے کہ کیا قرآن دفعتا(ایک ہی دفعہ) نازل ہوا ہے یا تدریجا(موقع محل اور حالات کی نزاکت کے مطابق کم کم ہوتے ہوئے) نازل ہوا ہے۔ [11] بعض کہتے ہیں: قرآن دفعی طور پر بھی نازل ہوا ہے اور تدریجی طور پر بھی؛[12] اسی طرح بعض کا عقیدہ ہے کہ ہر سال جس مقدار میں نازل ہونا تھا وہ اسی سال شب قدر کو ایک ساتھ نازل ہوتا تھا؛[13] جبکہ اس کے مقابلے میں بعض یہ کہتے ہیں کہ قرآن صرف اور صرف تدریجی طور پر نازل ہوا ہے جس کا آغاز رمضان اور شب قدر میں ہوا تھا۔[14]

مشہور اسامی

قرآن کے بہت سارے اسماء ذکر کئے گئے ہیں جن میں سے قرآن، فرقان،[15] الکتاب[16] اور مُصحَف سب سے مشہور نام ہیں۔[17]مصحف کا نام ابوبکر نے رکھا ہے؛ لیکن دوسرے نام قرآن مجید ہی میں ذکر ہوئے ہیں۔[18] سب سے مشہور نام قرآن ہے جس کا معنی پڑھی جانے والی ہے اور یہ لفظ الف اور لام کے ساتھ قرآن میں 50 مرتبہ ذکر ہوا ہے اور ان تمام استعمالات میں اس کا معنی قرآن مجید کی کتاب ہے؛ اسی طرح الف لام کے بغیر 20 مرتبہ ذکر ہوا ہے جن میں سے 13 جگہوں پر قرآن مجید کی کتاب کے معنی میں آیا ہے۔[19]

مقام و منزلت

قرآن مسلمانوں کا فکری منبع اور اسلامی فکری منابع جیسے حدیث اور سنت کی طرح ایک اور معیار ہے؛ یعنی اسلامی دیگر منابع سے جو معارف ملتے ہیں اگر وہ قرآنی تعلیمات کے مخالف ہوں تو ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔[20]پیغمبر اکرمؐ اور شیعہ ائمہ کی احادیث کے مطابق احادیث کو قرآن مجید سے موازنہ کیا جائے اور اگر قرآن کے مطابق نہ ہوں تو ان کو جعلی اور غیر معتبر قرار دیا جائے۔[21]

مثال کے طور پر پیغمبر اکرمؐ کے بارے میں کہا گیا ہے: جو بھی بات مجھ سے منقول ہوجائے، اگر وہ قرآن کے مطابق ہو تو وہ میری بات ہوگی اور اگر قرآن کے منافی ہو تو وہ میرا کلام نہیں ہوگا۔[22] امام صادقؑ سے بھی ایک حدیث آئی ہے کہ جو بھی حدیث قرآن سے منافی ہو تو وہ جھوٹی ہے۔[23]

قرآن کی تاریخ

کتابت اور تدوین

قرآن خطی کتابت قرن 3ق.jpg

پیغمبر اسلامؐ قرآن مجید کو حفظ کرنے اسکی کی تلاوت کرنے اور اس کی کتابت پر بہت زیادہ زور دیتے تھے۔ بعثت کے ابتدائی سالوں میں پڑھے لکھے افراد کی کمی اور کتابت کی سہولیات با آسانی میسر نہ ہونے کی وجہ سے مبادا قرآن میں کوئی کلمہ بھول جائے یا اسے غلط محفوظ کیا جائے، قرآن کی آیات کو صحیح حفظ اور قرائت کرنے پر بہت زیادہ توجہ دیتے تھے۔[24] آپؐ جب بھی کوئی آیت نازل ہوتی تو کاتبان وحی کو بلا کر یہ آیت ان کے سامنے تلاوت فرماتے اور اسے لکھنے کی تاکید فرماتے تھے۔[25] قرآن کی آیتیں مختلف چیزوں جیسے حیوانات کی کھال، کھجور کی شاخیں، کاغذ اور کپڑے وغیرہ پر جدا جدا طور پر لکھی ہوئی تھیں جنہیں آپؐ کے بعد صحابہ نے اکٹھا کر کے کتاب کی شکل دے دی۔ [26]

پیغمبر اکرمؐ خود قرآن کی کتابت کی نگرانی فرماتے تھے۔ آپؐ کاتبان وحی کے سامنے آیتوں کی تلاوت فرمانے اور لکھنے کے بعد ان سے جو کچھ لکھا گیا ہے اسے پڑھنے کا حکم دیتے تھے تاکہ لکھنے میں کوئی غلطی یا اشتباہ ہوئی ہو تو اسے رفع کیا جا سکے۔[27] سیوطی لکھتے ہیں: پیغمبر اکرمؐ کے زمانے میں ہی پورا قرآن لکھا جا چکا تھا لیکن اکھٹے اور سوروں کی ترتیب وغیرہ مشخص نهیں تھا۔ [28]

پیغمبر اکرمؐ کے زمانے میں قرآن موجودہ شکل میں موجود نہیں تھا۔ کتاب التمہید کے مطابق آپؐ کے زمانے میں قرآن کی آیات اور سورتوں کا نام آپؐ کے توسط سے ہی معین ہوئے تھے لیکن اسے باقاعدہ کتاب کی شکل دینا اور سورتوں کی ترتیب وغیرہ آپؐ کی وفات کے بعد صحابہ کرام کی صوابدید پر انجام پایا ہے۔ [29] اس کتاب کے مطابق پہلی شخصیت جس نے قرآن کی تدوین کی، امام علیؑ تھے۔ آپؑ نے قرآن کی سورتوں کو ان کی تاریخ نزول کے مطابق ترتیب دے کر قرآن کو ایک کتاب کی شکل میں جمع فرمایا۔ [30]

مختلف نسخوں کو یکساں کرنا

پیغمبر اکرمؐ کی رحلت کے بعد آپ کے نامور اصحاب میں سے ہر ایک نے قرآن کو جمع کرنا شروع کیا یوں قرآن کے مختلف نسخے مختلف قرائت اور سورتوں کی مختلف ترتیب کے ساتھ تدوین ہوئے۔[31] اس کے نتیجے میں ہر گروہ اپنے سے متعلق نسخے کو صحیح اور دوسرے نسخوں کو غلط اور اشتباہ سمجھنے لگا۔[32]

اس صورتحال کے پیش نظر حذیفۃ بن یمان کی تجویز پر عثمان نے قرآن کے مختلف نسخوں کو یکساں کرنے کیلئے ایک گروہ تشکیل دیا۔[33] اس مقصد کیلئے اس نے مختلف گوشہ و کنار سے قرآن کے تمام نسخوں کو جمع کرکے انہیں یکساں کرنے کے بعد بقیہ نسخوں کو محو کرنے کا حکم دیا۔[34] کتاب التمہید کے مطابق احتمال غالب یہ ہے کہ قرآنی نسخوں کو یکساں کرنے کا کام سنہ 25 ہجری میں انجام پایا۔[35]

ائمہ معصومین اور موجودہ قرآن نسخہ

احادیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ ائمہ معصومین قرآنی نسخوں کو یکساں کرنے اور پوری اسلامی حکومت میں قرآن کے ایک ہی نسخے کو ترویج دینے کے ساتھ موافق تھے۔ سیوطی نے امام علی ؑ سے نقل کیا ہے کہ عثمان نے اس حوالے سے آپؑ سے مشورہ کیا جس پر آپؑ نے اپنی مواففت کا اعلان فرمایا۔[36] اسی طرح نقل ہوا ہے کہ امام صادقؑ نے آپ کے سامنے موجودہ قرآن کے برخلاف قرائت کرنے پر ایک شخص کو منع کیا۔[37] کتاب التمہید کے مطابق تمام شیعہ قرآن کے موجودہ نسخے کو صحیح اور کامل ماننتے ہیں۔[38]

قرآن کی مختلف قرائتیں

تفصیلی مضمون: قراء سبعہ

چوتھی صدی ہجری تک قرآن کی مختلف قرائتیں مسلمانوں کے درمیان رائج تھیں۔[39] ان مختلف قرائتوں کے مختلف علل و اسباب تھے جن میں سے زیادہ اہم اسباب یہ ہیں: قرآن کی مختلف نسخوں کی موجودگی، عربی رسم الخط کا ابتدائی مرحلے میں ہونا، عربی حروف کا نقطوں اور حرکات سے خالی ہونا، مختلف لہجوں کی موجودگی اور مختلف قاریوں کا ذاتی سلیقوں پر عمل پیرا ہونا۔[40]

چوتھی صدی ہجری میں بغداد کے قاریوں کے استاد ابن مجاہد نے مختلف قرائتوں میں سے سات قرائتوں کو انتخاب کیا۔ ان سات قرائتوں کے قاریوں کو قراء سبعہ (سات قراء) کہا جانے لگا۔ چونکہ ان سات قرائتوں میں سے ہر ایک دو طریقوں سے نقل ہوئی ہیں اس بنا پر مسلمانوں کے درمیاں چودہ قرائتیں رائج ہوئیں۔[41]

اہل سنت معتقد ہیں کہ قرآنی الفاظ کے مختلف ابعاد ہیں اس بنا پر ان جہات میں سے ہر ایک جہت کے مطابق قرآن کو پڑھا جا سکتا ہے۔[42] لیکن شیعہ علماء کہتے ہیں: قرآن صرف ایک قرائت کے ساتھ نازل ہوا ہے اور ائمہ معصومین نے قرآن کی تلاوت میں آسانی کی خاطر مختلف قرائتوں کی اجازت دی ہیں۔[43]

مسلمانوں کے درمیان اس وقت عاصم کی قرائت حفص کی روایت کے مطابق، سب سے زیادہ رائج ہے۔ شیعہ معاصر محققین کی ایک گروہ ان سات قرائتوں میں سے صرف اسی قرائت کو صحیح اور متواتر قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں:‌ دوسری قرائتیں پیغمبر اکرم سے نہیں لی گئی بلکہ متعلقہ قراء کا ذاتی سلیقوں پر عمل پیرا ہونے کے نتیجہ میں یہ قرائتیں وجود میں آئی ہیں۔[44]

سلسلہ تیموریان سے متعلق قرآنی نسخہ فارسی ترجمہ کے ساتھ

اعراب‌ گذاری

عربی زبان میں معنی سمجھنے میں اعراب کا بہت بڑا کردار ہے اس لئے اعراب کی طرف توجہ دینا زیادہ اہم ہے؛ کیونکہ اعراب کی شناخت میں غلطی معنی میں تبدیلی کا باعث بنتی ہے اور کبھی تو اللہ تعالی کی مراد کے مخالف معنی دیتا ہے۔[45] کاتبان وحی شروع میں قرآنی الفاظ کو نقطہ اور اعراب کے بغیر لکھتے تھے اور یہ کام جو لوگ پیغمبر اکرمؐ کے دور میں بستے تھے ان کے لیے کوئی مشکل نہیں تھا لیکن بعد کی نسلیں خاص کر غیر عرب (عجم) کے لیے بعض اوقات مختلف قرائتوں اور معنی میں تبدیلی کا باعث بنتا تھا۔ اسی لیے اختلافات، قرآن کے معنی میں تحریف اور تغییر کے خاتمے کے لیے اعراب لگانا بہت ضروری تھا۔[46]

تاریخی روایات کے مطابق سب سے پہلے اعراب اور نقطے اور ان کے لگانے والے کے بارے میں اختلاف نظر ہے۔ اکثر ابو الاسود دُوئِلی (م 69 ھ) کو اعراب کے موجد قرار دیتے ہیں جنہوں نے یحیی بن یعمر کی تعاون سے یہ کام انجام دیا۔[47] شروع میں اعراب اس طرح سے تھے: ہر لفظ کے آخری حرف