یوم التغابن

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

یوم التغابن کا معنی افسوس کھانے کا دن، یہ قیامت کا ایک نام ہے. قرآن میں قیامت کے لئے یہ صفت استعمال ہوئی ہے.

تغابن کا معنی

تغابن کا ریشہ "غبن" ہے جس کا معنی ہے کسی کو نقصان پہنچانا، یا معاملہ میں نقصان دیکھنا اور افسوس کا معنی بھی رکھتا ہے. [1] تغابن کا لفظ "باب تفاعل" سے ہے اور معاملہ میں اس کا معنی یہ ہے کہ انسان کسی شخص کو متوجہ ہوئے بغیر دھوکہ دے.[2]

شیخ طبرسی کہتے ہیں باب تفاعل میں تغابن کا معنی یہ ہے کہ شر اور بدی کو حاصل کریں اور خیر اور نیکی کو ترک کریں، کافر کو اس کا نفع صرف دنیا میں ہی ملے گا اور آخرت میں وہ اس سے محروم ہو گا. مغبون یعنی نیکی کو ترک کرنا اور برائی کو حاصل کرنا. [3]

قرآن میں

"یوْمَ یجْمَعُکمْ لِیوْمِ الْجَمْعِ ۖ ذَٰلِک یوْمُ التَّغَابُنِ ۗ وَمَن یؤْمِن بِاللَّهِ وَیعْمَلْ صَالِحًا یکفِّرْ‌ عَنْهُ سَیئَاتِهِ وَیدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِ‌ی مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ‌ خَالِدِینَ فِیهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِک الْفَوْزُ الْعَظِیمُ". ترجمہ: جس دن کو تم کو اکٹھا ہونے (یعنی قیامت)کے دن اکٹھا کرے گا وہ نقصان اٹھانے کا دن ہے. اور جو شخص خدا پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ اس سے اس کی برائیاں دور کر دے گا اور جنت کے باغ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا. ہمیشہ ان میں رہیں گے، یہ بڑی کامیابی ہے. (سورہ تغابن آیت ٩)

یہ اصطلاح صرف ایک بار سوہ تغابن کی آیت نو میں آئی ہے اور اس سورہ کا نام بھی اسی وجہ سے تغابن ہے. قرآن کی آیات میں، اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ کرنے کے بارے میں آیا ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کو خشنود کرنے کے لئے اپنی جانوں کو بیچ دیتے ہیں [4] یا بعض افراد اپنے ایمان کو ہاتھ سے دے بیٹھتے ہیں اور اس کے مقابلے میں اس ناچیز دنیا کو حاصل کرتے ہیں. [5] روز قیامت جسے "یوم التغابن" کا نام دیا گیا ہے، کیونکہ اس دن بعض لوگوں کے لئے ظاہر ہو گا کہ اپنے معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے مغبون ہوئے ہیں. جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے معاملہ نہ کیا ہو گا اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کر کے اس نا چیز دنیا پر راضی ہو گئے ہیں اور جنت کو ہاتھ سے دے دیا ہے، اس دن سب افسوس کھائیں گے.[6]

تفسیر میں

تفاسیر کے مطابق، قیامت کے دن حتی کہ مومنین بھی غبن کھائیں گے اور انہیں بھی نقصان کا احساس ہو گا کہ ان کے نیک اعمال اور مشکلات کم کیوں ہیں. کیونکہ قیامت کے دن اس کا نتیجہ دیکھیں گے اور ہاتھ سے نکل جانے والی فرصت پر حسرت کھائیں گے. [7]

علامہ طباطبائی اور شہید مطہری تغابن کے ایک اور معنی کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں: بعض معاملہ میں دونوں طرف والے نقصان اٹھاتے ہیں مثال کے طور پر، اگر کوئی کسی ظالم شخص کی پیروی کرے، اور اس کی اطاعت کرے اور اس کے مقابلے میں نفع حاصل کرے. اس صورت میں قیامت کے دن کہ جو اس آیت میں "جمع کا دن" ہے، دونوں متوجہ ہوں گے کہ اس معاملہ میں دونوں نے نقصان اٹھایا ہے. [8]

شیخ طبرسی اپنی تفسیر میں نقل کرتے ہیں کہ "یوم التغابن" وہ دن ہے کہ اہل بہشت اور اہل دوزخ دونوں حسرت کھائیں گے. پیغمبر(ص) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا جب مومنین جنت میں داخل ہوں گے، تو اگر بالفرض گناہ کرتے تو آگ میں جو جگہ ملتی اسے مشاہدہ کریں گے، تو خدا کا شکر کریں گے. اور اسی طرح جہنمی اگر بالفرض گناہ نہ کرتے تو جنت میں جو مقام انہیں ملتا اسے دیکھیں گے تو حسرت کھائیں گے.[9]

حوالہ جات

  1. فرہنگ معین، لفظ «غبن».
  2. راغب اصفہانی، مفردات ألفاظ القرآن، ۱۴۱۲ق، ص۶۰۲.
  3. طبرسی،‌ تفسیر مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۲۵، ص۶۸.
  4. سوره بقره، آیہ۲۰۷؛ سوره توبہ، آیہ۱۱۱.
  5. سوره آل عمران، آیہ۷۷.
  6. راغب اصفہانی، مفردات ألفاظ القرآن،۱۴۱۲ق، ص۶۰۲.
  7. ثعلبی، الکشف و البیان، ۱۴۲۲ق، ج۹، ص۳۲۸؛ طیب، أطیب البیان فی تفسیر القرآن، ۱۳۷۸ش، ج۱۳، ص۴۰.
  8. مطہری، آشنایی با قرآن، انتشارات صدرا، ج۷،‌ص۱۵۰؛ طباطبائی، المیزان فی تفسیر القرآن، ۱۳۹۰ق، ج۱۹، ص۳۰۱.
  9. طبرسی، تفسیر مجمع البیان، ترجمہ نوری ہمدانی، ۱۴۰۶ق، ج۲۵، ص۶۸.

مآخذ

  • ثعلبی، الکشف و البیان، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۲۲ق.
  • راغب اصفہانی، حسین بن محمد، مفردات ألفاظ القرآن،‌ بیروت، دار الشامیۃ،‌ ۱۴۱۲ق.

‌* طباطبائی، محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی جامعہ مدرسین حوزه علمیہ، ۱۴۱۷ق.

  • طبرسی، فضل بن الحسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دارالمعرفۃ، ۱۴۰۶ق.
  • طیب، سید عبد الحسین، أطیب البیان فی تفسیر القرآن، تہران، اسلام، ۱۳۷۸ش.
  • مطہری، مرتضی،‌ آشنایی با قرآن، قم، انتشارات صدرا، ۱۳۸۴ش.
  • معین،‌ محمد، فرہنگ معین.