یوم التلاق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

یوم التلاقکے معنی ملاقات کا دن اور یہ قیامت کا نام ہے جس کا ذکر قرآن میں ہوا ہے۔

قرآن میں

یہ اصطلاح ایک بار قرآن میں ذکر ہوئی ہے۔

"رَفِیعُ الدَّرَجَاتِ ذُو الْعَرْشِ یُلْقِى الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلىَ‏ مَن یَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ لِیُنذِرَ یَوْمَ التَّلَاق‏"۔ ترجمہ: وہ اونچے درجوں والے عرش کا مالک ہے، اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس کے پاس چاہتا ہے وحی بھیجتا ہے تا کہ وہ ملاقات (قیامت) کے دن سے ڈرائے۔[1]

تلاق کا معنی

تلاق کے معنی ملاقات اور کسی چیز کے سامنے حاضر ہونا ہے۔[2]

اس آیت میں تلاق کے لئے چند معنی بیان ہوئے ہیں:

  • امام صادق(ع) سے روایت نقل ہوئی ہے کہ "الیوم التلاق" سے مراد وہ دن ہے جب آسمان اور زمین میں رہنے والے ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے۔ [3]
  • شیخ مفید کی نگاہ میں "الیوم التلاق" یعنی قیامت کے دن روح اور جسم کی ملاقات گویا ان کا مقصد جسمانی معاد ہے۔ [4]
  • ملاقات یعنی، پہلی امت اور آخری امت کے تمام لوگوں کی آپس میں ملاقات۔ [5] جیسا کہ قرآن میں ایک اور جگہ پر پڑھتے ہیں: "إِنَّ الأَوَّلینَ وَ الآخِرینَ لَمَجمُوعُونَ إِلى‏ میقاتِ یَومٍ مَعلُوم؛" ترجمہ: بے شک پہلے اور پچھلے سب ایک روز مقرر کے وقت پر جمع کئے جائیں گے۔[6]
  • اس سے مراد اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہے [7] سورہ انشقاق میں آیا ہے: "إِنَّکَ کادِحٌ إِلى‏ رَبِّکَ کَدحاً فَمُلاقیه" ترجمه: تو اپنے پروردگار کی طرف (پہنچنے میں) خوب کوشش کرتا ہے سو اس سے جا ملے گا۔[8]
  • اس سے مراد اپنے اعمال کے ساتھ ملاقات ہے[9] سورہ آل عمران میں آیا ہے: "یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا" ترجمہ: جس دن ہر شخص موجود پائے گا اپنے سامنے اس نیکی کو جو اس نے کی تھی۔ [10]

حوالہ جات

  1. سوره غافر،‌ آیہ ۱۵۔
  2. راغب اصفہانی، مفردات ألفاظ القرآن،‌ ۱۴۱۲ق، ص۷۴۵۔
  3. ابن بابویہ، معانی الأخبار، ۱۴۰۳ق‏، ص۱۵۶۔
  4. مفید، المسائل العکبریۃ، ۱۴۱۳ق، ص۴۲۔
  5. شیخ بہایی،‌ مفتاح الفلاح، ۱۴۰۵ق‏، ص۱۶۱۔
  6. سوره واقعہ، آیہ ۴۹۔
  7. شیخ بہایی،‌ مفتاح الفلاح، ۱۴۰۵ق‏، ص۱۶۱۔
  8. سوره انشقاق، آیہ ۶۔
  9. شیخ بہایی،‌ مفتاح الفلاح، ۱۴۰۵ق‏، ص۱۶۱۔
  10. سوره آل عمران، آیہ ۳۰۔

مآخذ

  • ابن بابویہ، محمد بن على، معانی الأخبار، قم، دفتر انتشارات اسلامى جامعہ مدرسین قم‏، ۱۴۰۳ق‏۔
  • راغب اصفہانی، حسین بن محمد، مفردات ألفاظ القرآن،‌ بیروت، دار الشامیہ،‌ ۱۴۱۲ق۔
  • شیخ بہایی،‌ محمد بن حسین،‌ مفتاح الفلاح فی عمل الیوم و اللیلۃ من الواجبات و المستحبات، بیروت، نشر دار الأضواء، ۱۴۰۵ق‏۔
  • مفید، محمد بن محمد، المسائل العکبریۃ، قم، الموتمر العالمی لالفیہ الشیخ المفید، ۱۴۱۳ق۔