زیارت

نامکمل زمرہ
فاقد تصویر
جانبدار
غیر سلیس
غیر جامع
تلخیص کے محتاج
ویکی شیعہ سے
(زائرین سے رجوع مکرر)
تمام مسلمان رسول اکرمؐ کی زیارت کی فضیلت پر متفق القول ہیں
شیعہ عقائد
‌خداشناسی
توحیدتوحید ذاتیتوحید صفاتیتوحید افعالیتوحید عبادیصفات ذات و صفات فعل
فروعتوسلشفاعتتبرک
عدل (افعال الہی)
حُسن و قُبحبداءامر بین الامرین
نبوت
خاتمیتپیامبر اسلام اعجازعدم تحریف قرآن
امامت
اعتقاداتعصمت ولایت تكوینیعلم غیبخلیفۃ اللہ غیبتمہدویتانتظار فرجظہور رجعت
ائمہ معصومینؑ
معاد
برزخمعاد جسمانی حشرصراطتطایر کتبمیزان
اہم موضوعات
اہل بیت چودہ معصومینتقیہ مرجعیت


زیارت ایک عبادی عمل ہے جس کے معنی، اظہار عقیدت کی اور معنوی و روحانی فیض حاصل کرنے کی غرض سے، دینی پیشواؤں، محترم شخصیات، اور ان کی قبروں کے پاس حاضر ہونے، یا کسی مقدس یا محترم مقام پر حاضری دینے کے ہیں۔ زیارت ہمیشہ سے اسلام کے پسندیدہ اعمال میں شمار ہوتی آتی ہے اور پوری اسلامی تاریخ میں، مسلمین اس کا اہتمام کرتے رہے ہیں۔ یہ عبادی عمل شیعیان اہل بیت [نیز اہل سنت کی غالب اکثریت] کے ہاں اعلی منزلت کا حامل ہے اور اس کے معنوی آثار بہ وفور، اور ثواب، عظیم ہے۔ شیعہ تعلیمات میں زیارت کی اہم حیثیت کے پیش نظر، یہ عمل اہل تشیع کی خصوصیات اور علامات میں شمار ہوتا ہے۔

فرقۂ وہابیت قرآن کی بعض آیات کی خاص قسم کی من گھڑت تفسیر و تاویل کے پیش نظر دعوی کرتا ہے کہ زیارت سنت نبویہ سے متصادم ہے؛ انھوں نے اس سلسلے میں بعض شکوک و شبہات پیدا کئے ہیں جن کے جواب میں شیعہ اور سنی علماء نے ان کا جواب دیتے ہوئے زيارت کے جواز کا تحفظ کیا ہے۔

معنی

لفظ زیارت کے لئے ماہرین لسانیات نے متعدد معانی ذکر کئے ہیں:

لغوی معنی

لفظ زیارت، عربی کا لفظ "زيارة" ہی ہے جو مصدر ہے اور اس کی جڑ "ز و ر" ہے[1]: ماہرین لسانیات نے اس لفظ کے لئے متعدد معانی ذکر کئے ہیں اور ان سارے معانی کا مفہوم کسی چیز سے منہ موڑنے، عدول کرنے اور [دوسری جانب] مائل ہونے سے عبارت ہے۔ چنانجہ زیارت کرنے والا شخص اس لئے زائر کہلاتا ہے کہ جب وہ کسی شخص کی زیارت کے لئے جاتا ہے تو وہ دوسروں سے منہ موڑ لیتا ہے۔[2] سینے کے بالائی حصے کو بھی "زور" کہتے ہیں۔[3] اور شاید اسی بنا پر ہی کسی کے ساتھ روبرو ہونے اور ملاقات کو بھی زیارت کہا جاتا ہے۔[4]

اصطلاحی معنای

مآخذِ حدیث کے اطلاقات کے مطابق، زیارت کی دینی اصطلاح کی تعریف کچھ یوں ہوسکتی ہے: زیارت ایک عبادی عمل ہے جس کے معنی معنوی فیض کے حصول یا عقیدت و احترام کے اظہار کے لئے دینی پیشواؤں یا محترم شخصیات کے حضور یا ان کی قبور یا مقدس یا محترم مقامات پر حاضری کے ہیں۔[5] زیارت دو طرفہ عمل ہے؛ ایک طرف سے مؤمن شخص ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ دوسری طرف سے کوئی انسان ہو؛ اسی بنا پر کعبہ کا دیدار بھی زیارت کہلاتا ہے؛ جیسا کہ ضروری نہیں ہے کہ جس شخص کی زیارت کی جارہی ہے وہ بقید حیات بھی ہو۔ چنانچہ مؤمنوں کے مقابر کی زیارت بھی اسی زمرے میں آتی ہے؛[6]

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

قرآن کریم نے زيارت کے مستحب ہونے صراحت کے ساتھ بیان نہیں کیا ہے؛ لیکن بعض آیات کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ زیارت قبور مسلمانوں کے درمیان ایک رائج عمل تھا۔ سورہ توبہ کی آیت 84 میں پیغمبر اکرمؐ کو منافقین کی نماز جنازہ بجا لانے سے باز رکھا گیا ہے اور آپؐ ان کی قبروں کے پاس کھڑے ہونے سے روکا گیا ہے۔ وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَداً وَلاَ تَقُمْ عَلَىَ قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُواْ بِاللّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُواْ وَهُمْ فَاسِقُونَ۔ (ترجمہ: اور نماز [جنازہ] کبھی نہ پڑھئے اس کی جو ان میں مرجائے، اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوجائیے، کیوںکہ انھوں نے کفر کیا اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ، اور ایسے حال میں مرگئے ہیں کہ وہ فاسق [اور بداعمال] تھے

تفسیری مآخذ کے مطابق، خداوند متعال نے اس آیت میں منافقین کی نماز جنازہ ادا کرنے اور ان کے قبر کے پاس کھڑے ہونے سے باز رکھا ہے۔[7] طبرسی نے تفسیر مجمع البیان میں واضح کیا ہے کہ قبر کے ساتھ کھڑا ہونا اور دعا کرنا، جائز عبادات میں سے ہے ورنہ تو اللہ منافق کی قبر کے ساتھ کھڑے ہونے سے نہی نہ فرماتا۔[8]

مآخذ و منابع سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمین ابتداء ہی سے بزرگان دین کی قبروں پر حاضری دیتے آئے ہیں اور رسول اللہؐ کی قبر شریف ہمیشہ سے مسلمانوں کی زیارت گاہ شمار ہوتی رہی ہے۔

شیعہ

رسول اللہؐ کی زیارت کے مستحب ہونے کے بارے میں احادیث بہ وفور نقل ہیں جو تواتر کی حد پر ہیں اور شیعہ اور سنی کے ہاں متفق علیہ ہیں۔ رجوع کریں:[9] اسی بنا پر مسلمان قدیم الایام سے آپؐ کی قبر مطہر کی زیارت پر جاتے رہے ہیں۔ زیارتِ قبرِ نبیؐ کی اہمیت شیعہ تعلیمات میں دوسرے مکاتب سے زیادہ ہے اور شیعیان اہل بیت نہ صرف رسول اللہؐ کی زیارت پر جاتے ہیں بلکہ ائمۂ اہل بیت کی زیارت کا خصوصی طور پر اہتمام کرتے ہیں اور مذہب شیعہ میں، ائمہ کی زیارت، مذہبی اعمال و مراسمات میں شمار ہوتی ہے۔ امام رضاؑ نے زیارت کو اپنے دوستوں اور پیروکاروں کے ذمے امام کا عہد و پیمان قرار دیتے ہیں۔[یادداشت 1][10]

بعض شیعہ متکلمین کے بقول، امام کی ولایت کا ایک نتیجہ، دلوں پر ان کے تسلط سے عبارت ہے؛ بایں معنی کہ "امام مؤمنوں کے دل اور ان کی روح پر تسلط اور احاطہ رکھتا ہے۔[11] بہت سے زیارت ناموں کے متون میں اس طرح کی ولایت و امامت کا اقرار کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ائمہ کے زیارت ناموں میں ہے کہ: اَشهَدُ اَنَّك تَشهَدُ مَقامی وَتَسمَعُ كلامی وَتَرُدُّ سَلامی (ترجمہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ میرا مقام جانتے اور دیکھ رہے ہیں، میرا کلام سن رہے ہیں اور میرے سلام کا جواب دے رہے ہیں):[12]

شیعہ نکتہ نگاہ سے امام، کی روح اللہ کے اذن سے اپنے زائر پر علم اور احاطہ پا لیتا ہے اور اس تصور نے، زیارت کو ان کے لئے ایک روحانی اور عاشقانہ دیدار میں تبدیل کیا ہے اور اس کے اثرات کو واضح طور پر شیعہ ادب اور نظم و نثر میں بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔ اہل بیت کے حرم ہائے منور اور ان کی زیارت نے شیعہ تاریخ میں بھی اہم کردار کیا ہے اور ان دونوں کو اہمیت دینا، شیعیان اہل بیت کے نمایاں ثقافتی علائم میں شمار ہوتا ہے۔

قسمیں

زیارت امام حسینؑ شیعوں کے نزدیک ایک خاص اہمیت کی حامل ہے

احادیث اہل بیت میں زیارت کی مختلف قسموں پر تاکید ہوئی ہیں۔ بعض قسمیں حسب ذیل ہیں:

  1. خانۂ خدا کی زیارت؛ جو حج اور عمرہ کی بجا آوری، یا طوافِ کعبہ سے عبارت ہے۔[13] تمام مسلمین اس حقیقت پر اتفاق رائے رکھتے ہیں کہ خانہ خدا کی زیارت مستحب ہے۔[14] نیز احادیث کے مطابق، خانۂ خدا تمام سابقہ انبیاء کی توجہ کا مرکز تھا۔[15]
  2. زیارت نبی صلّی اللہ علیہ وآلہ؛ جو آپؐ کی حیات میں بھی باعث اجر و ثواب تھی[16] اور بعد از وصال بھی۔ آپؐ کی زیارت کے جواز اور استحباب پر شیعہ اور سنی متفق القول ہیں اور اس سلسلے میں احادیث بہ وفور نقل ہوئی ہیں۔ امام صادقؑ رسول اللہؐ سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "جو بھی میری زیارت کو آئے میں قیامت کے دن اس کا شفیع ہوں۔[17] اور دوسری حدیث میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ اور شہدا کی قبروں کی زیارت، نیز قبر امام حسینؑ کی زیارت، رسول خداؐ کے ساتھ حج بجا لانے کے مترادف ہے۔[18]
  3. نجف میں علی بن ابی طالبؑ کی زیارت، جس کے ثواب پر بکثریت احادیث وارد ہوئی ہیں؛ بعنوان مثال امام حسینؑ روایت کرتے ہیں کہ رسول خداؐ نے فرمایا: "جو بھی میری (یعنی رسول خداؐ) یا علیؑ کی زیارت کرے میں بروز قیامت اس کی زیارت پر آؤں گا اور اس کو گناہوں سے چھٹکارا دلاؤں گا۔[19] احادیث کی رو سے امیرالمؤمنینؑ تمام ائمہ سے افضل ہیں اور آپؑ کی زیارت کے سلسلے میں وارد ہونے والی حدیثیں بھی بکثرت ہیں۔[20]
  4. زیارت حضرت فاطمہ(س)؛ جن کی قبر کا مقام نامعلوم ہے چنانچہ ان کی زیارت دور سے [فاصلے سے] کی جاسکتی ہے۔[21]
  5. کربلا میں امام حسینؑ کی زیارت؛ جس کے لئے ـ معرفت امام کی سطح اور کیفیتِ زیارت کو مد نظر رکھتے ہوئے ـ غیر معمولی اور مختلف قسم کا اجر و ثواب بیان کیا گیا ہے۔"اگر لوگ قبر حسینؑ کی زیارت کی فضیلت سے آگاہ ہوتے، شوق کے مر جاتے۔[22]
  6. قم میں حضرت فاطمہ معصومہ، بنت امام موسی کاظم علیہما السلام کی زیارت؛ ان کی فضیلت کے سلسلے میں وارد ہونے والی حدیثیں بکثرت ہیں اور امام رضاؑ سے منقول ہے کہ "فاطمہ معصومہ کی زیارت کا صلہ جنت ہے۔[23]
  7. شہر رَے میں حضرت عبدالعظیم حسنی کی زیارت؛ وہ امام حسن مجتبی علیہ السلام کی اولاد اور اصحاب ائمہ کے اکابرین میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ عبدالعظیم حسنی کی زیارت کا ثواب امام حسینؑ کی زیارت کے ہم پلہ ہے۔[24]
  8. مؤمن اور صالح انسانوں کی زیارت؛ بہت سی روایات میں منقول ہے کہ "جو شخص اپنے مؤمن بھائی کی زیارت کرے، اللہ اس کو اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔[25]
  9. قبور مؤمنین کی زیارت؛ قبور مؤمنین کی زیارت اور ان کے لئے دعا کا استحباب بہت سی حدیثوں سے ثابت ہے؛ منجملہ: ایک حدیث امیرالمؤمنینؑ سے مروی ہے جس کا مضمون کچھ یوں ہے: "اپنے مُردوں کی زیارت کیا کرو کیونکہ وہ تمہاری سے خوش ہوتے ہیں اور اپنی حاجتیں اپنے والدین کی قبروں کے پاس جاکر مانگو۔[26] اس زیارت کا بہترین وقت جمعہ، سنیچر، سوموار کے دنوں بین الطلوعین (طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک کا وقت) نیز جمعرات کے روز وقتِ عصر، ہے۔[27]

آداب

مفصل مضمون: آداب زیارت

جس شخص یا شیئے کی زیارت کی جارہی ہے اس کی عظمت و فضیلت کے پیش نظر، زیارت کا مفہوم بھی خاص آداب پر مشتمل ہوجاتا ہے۔ جو کچھ یہاں بیان کیا جا رہا ہے، وہ "آداب خاصہ" اور "آداب مشترکہ" سے عبارت ہے۔ بعض مشترکہ آداب کچھ یوں ہیں:[28][29]

  • معرفت اور آگہی کے ساتھ زیارت کرنا: متعدد روایات کی رو سے، مکمل ثواب اس زیارت کے لئے ہے جو امامؑ کی معرفت (عَارِفاً بِحَقِّهِ) کے ساتھ انجام پائے؛ اگرچہ معرفت کے اپنے مدارج اور مراتب ہیں، اور اس کی کمترین حد یہ ہے کہ زائر جانتا ہو کہ وہ ایسے امام معصوم کی زیارت کررہا ہے جو صاحب ولایت ہے، اس کی اطاعت واجب ہے اور وہ پیغمبر کا جانشین ہے، زائر اس کی حقانیت کا مُقِرّ اور معترف اور اس کے اوامر کے سامنے سراپا تسلیم ہو۔ امام کاظمؑ "حق امام کی معرفت" کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "یہ کہ انسان جان لے کہ اس کی اطاعت واجب ہے اور وہ غریب (دور از وطن) اور شہید ہے۔[30]
  • رجاء کی نیت سے غسل بجا لانا؛[31]
  • با وضو اور با طہارت ہونا؛
  • پاکیزہ اور نیا لباس زیب تن کرنا؛
  • معطر ہونا؛ (سوا زیارت امام حسینؑ کے، جہاں معطر ہونا اور خوشبو لگانا، مستحب نہیں ہے)؛
  • بے معنی اور بیہودہ الفاظ ترک کرنا؛
  • اذن دخول پڑھنا؛
  • قبر کے قریب جانا، یہاں تک کہ ضریح کے ساتھ ہی قرار پائے اور اس سے لپٹ سکا؛ بشرطیکہ دوسرے زائرین کے لئے زحمت و تکلیف کے اسباب فراہم نہ ہورہے ہوں اور نامحرموں کے ساتھ خلط ملط ہونا لازم نہ آرہا ہو۔ (گوکہ ائمہ کی زیارت صرف ہاتھ سے چھونا اور ضریح کو بوسہ دینے کا نام ہی نہیں ہے بلکہ زائر ضریح کو چھوئے اور بوسہ دیئے بغیر، صرف زیارت نامہ پڑھ کر اور ان بزرگواروں کو سلام دے کر بھی زیارت کے پورے ثواب سے بہرہ ور ہوتا ہے، اور یہ تصور کہ "اگر کوئی ضریح تک نہ پہنچے اور اس کو بوسہ نہ دے تو اس کی زیارت کامل نہیں ہے" ایک غلط تصور ہے)۔
  • معصومین سے وارد ہونے والے مأثورہ زیارت نامے کی قرائت کا اہتمام کرنا؛ جیسے: زیارت امین اللہ، زیارت جامعۂ کبیرہ، زیارت ائمۃ المؤمنین؛
  • اونچی آواز میں نہ بولنا اور آرام و سکون کے ساتھ دعا پڑھنا؛
  • دو رکعت نماز بجا لانا اور اس کا ثواب بطور ہدیہ صاحب مزار کو پیش کرنا؛
  • دعا پڑھنا اور قرآن کی تلاوت کرنا اور اس کا ثواب صاحب مزار کو بطور ہدیہ پیش کرنا؛
  • عَتَبہ اور درگاہ کو چھوم لینا، (تاہم ضریح کی طرف سجدہ جائز نہیں ہے)؛
  • توبہ کرنا، کیونکہ یہ مقامات توبہ کی قبولیت کے مقامات ہیں؛
  • زیارت کے بعد حرم (اور بالخصوص ضریح کے اطراف) سے باہر چلے جانا، تا کہ دوسرے زائرین کو بھی زیارت کرنے کا مناسب موقع ملے، اور وہ خود بھی زیارت سے اکتا نہ جائے اور زیارت کا شوق اس کے دل میں باقی رہے۔ مزید آداب کے لئے رجوع کریں: مفاتیح الجنان، آداب زیارت۔[32]

واضح رہے کہ اگر کسی کے لئے ائمہ میں سے کسی امام کی زیارت پر جانا ممکن نہ ہو تو وہ دور سے (فاصلے سے) بھی زیارت کرسکتا ہے۔ مفاتیح الجنان سمیت متعلقہ کتب میں فاصلے سے زیارت کے لئے مخصوص زیارت نامے نقل ہوئے ہیں۔

فوائد و آثار

مفصل مضمون: زیارت کے آثار

زیارت کی مختلف قسمیں ہیں جن میں سے ہر ایک کے منفرد فوائد ہیں؛ مثال کے طور پر خانۂ خدا کی زیارت کا اپنا خاص فلسفہ اور اپنے خاص آداب ہیں جو متعلقہ کتب میں تفصیل سے بیان ہوئے ہیں؛[33]

مؤمنین اور ان کی قبروں کی زیارت بھی دو طرفہ رابطے کا نام ہے برکتوں سے بھرپور ہے اس کے لئے بھی جو زیارت کررہا ہے اور اس کے لئے بھی جس کی زیارت کی جارہی ہے؛ [مگر یہ کہ جس کی زیارت کی جارہی ہے وہ انسان کامل ہو]۔ مؤمن کی زیارت کرنے والے کو بہت زیادہ ثواب ملنے کے ساتھ ساتھ، صاحب قبر بھی اپنے زائروں کے آنے سے مطلع ہوجاتا ہے اور ان کی حاضری سے راضی اور شادماں ہوجاتا ہے۔ مؤمنین کی قبروں کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ زائر کو موت یاد آجاتی ہے اور اصلاح نفس کے لئے آمادہ ہوجاتا ہے۔[34]

ائمۂ معصومین علیہم السلام کی زيارت کی فضیلت

حرم امام رضاؑ کا ایک زائر

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ اور ائمۂ اطہار علیہم السلام انسان کامل کا مصداق اتمّ اور اللہ کے محبوب ترین بندے ہیں اور تقوی کی چوٹیوں اور اللہ کے قرب کے مقام پر فائز ہیں اور خداوند متعال نے انہیں ہر گناہ اور خطا سے پاک کرر کھا ہے۔[35] اہل بیت کی مودت بھی اللہ کا حکم ہے[36] اور ان کی دشمنی بھی اللہ کی دشمنی کے مترادف ہے[37] اور دوزخ میں داخل ہونے کا سبب[38] اور قرب پرورگار کے مقامات و مراتب پر فائز ہونا، اہل بیت کی مودت اور ان کی ولایت کو تسلیم کئے بغیر، ممکن نہیں ہے۔

اس بیان سے زیارت کی فضيلت کا ادراک ممکن ہوجاتا ہے کیونکہ زیارت معصوم پیشواؤں کے ساتھ ربط اور تعلق جوڑنے کا بہترین راستہ ہے جو حصول توفیق اور معنویت کمانے کا سبب بنتی ہے۔ نیز زیارت ائمہ کی تکریم کا اظہار اور زائر اور امام کے درمیان قلبی ارتباط کی تقویت و استحکام کا ذریعہ ہے اور حقیقت میں ان ہی کے مقدس اور معنوی راستے پر مسلسل گامزن رہنے کا موجب بنتی ہے۔[39]

گناہوں کی مغفرت، ائمۂ اطہارؑ کی شفاعت سے بہرہ وری، اور حاجت برآری، ائمہ کی زیارت کے دوسرے معنوی آثار ہیں۔[40]

بطور مثال یہاں ہم زیارت کی فضیلت کے بارے میں واردہ صرف بعض روایات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

  • امام رضاؑ نے فرمایا: ہر امام کے لئے اس کے حبداروں اور پیروکاروں کے ذمے عہد و پیمان ہے اور اس عہد کی وفا کا ایک اظہار ان کی قبروں کی "زیارت" ہے۔ چنانچہ جو بھی رغبت سے زیارت کرے اور اس رغبت کو سچا کرکے دکھائے، تو ائمہ بروز آخرت اس کے شفیع ہونگے۔[41]
  • امام صادقؑ نے فرمایا: جو رضائے الہی کے حصول کی غرض سے اور اللہ کی راہ میں، قبرِ امام حسینؑ کی زیارت کرے، خداوند متعال اس کو دوزخ کی آگ سے سے چھڑائے رکھے گا اور بروز قیامت اس کو امن و امان مین رکھے گا؛ وہ خداوند متعال سے کوئی بھی دنیاوی یا اخروی حاجت طلب کرے گا، وہ ضرور عطا فرمائے گا۔[42]
  • امام رضاؑ نے فرمایا: جو بھی اس غریب الوطنی میں میری زیارت کرے گا، میں روز قیامت میں تین مقامات پر اس کے پاس آؤں گا اور اس کو خوف سے نجات دلاؤں گا: اس وقت، جب اس کا نامۂ اعمال اس کو تھمایا جائے گا، صراط سے گذرتے وقت، اور جب اس کے اعمال کو میزان اعمال میں رکھا جائےگا۔[43]

تربیتی کارکردگیاں

احادیث میں ائمہ کی زیارت کا شرف حاصل کرنے والے افراد کے لئے بیان کئے جانے والے ثواب کے علاوہ، مراسمِ زیارت کی سماجی اور تربیتی کارکردگیاں اور آثار ہیں۔ اس کے فوائد میں سے بعض کچھ یوں ہیں:

  • زائر کی معرفت بڑھ جاتی ہے اور وہ زیارت ناموں سے دینی معارف بھی سیکھ لیتا ہے؛
  • زائر ائمہ کے مقام و عظمت سے آگہی پانا اور انسان کے اولیائے خدا کے ساتھ تعلق کو تقویت ملتی ہے؛
  • معاشرے کے لئے ایک مناسب نمونہ عمل فراہم کرنا؛
  • ائمہ کا حرم کا مذہبی ماحول، گناہ ترک کرنے اور فضیلتیں حاصل کرنے کے اسباب فراہم کرتا ہے؛

معاشرتی اور سیاسی کارکردگیاں

شیعہ ابتداء ہی سے، تقریبا زیادہ تر ادوار میں حکومت مخالف اقلیت اور مختلف سیاسی طاقتوں کے زیر عتاب تھے، اسی بنا پر سیاسی اور معاشرتی مسائل اس مکتب کے پیروکاروں کی روح اور اعتقادات میں گھل مل گئے ہیں۔

تشیع کی پوری تاریخ میں، ائمۂ معصومینؑ کا حرم شریف، علم، تبلیغ اور دین کی تبلیغ و ترویج، تحریکوں کا مقام، اور سماجی تحریکوں اور انقلابات کے لئے ہم عہد اور ہم قسم ہونے وغیرہ کا مرکز رہا ہے۔ عظیم ترین شیعہ حوزات علمیہ بھی نجف، قم اور مشہد میں واقع ہیں۔

اختصار کے ساتھ، سیاسی اور معاشرتی مشکلات کے پیش نظر، زیارت کی چند اہم کارکردگیاں کچھ یوں ہیں:

  • اجتماعی و معاشرتی روح کی تقویت اور شیعہ تشخص کا احیاء، نیز امت کے درمیان ائمۂ اطہارؑ کی جدوجہد کا جاری رہنا؛
  • شیعیان اہل بیت کو درپیش سخت اور ناقابل برداشت حالات میں ان کا پرامید رہنا؛
  • لوگوں کے درمیان رزمیہ جذبات اور شجاعت و دلیری کا زندہ اور رائج، اور مسلسل جاری رہنا؛
  • حق طلبانہ اور عدل پسندانہ جذبات کو فروغ دینا، اہم ترین شیعہ مطلوبہ ہدف کے طور پر حق کے عملی قیام اور عدل کے نفاذ پر تاکید؛ زیارت ناموں کے مضامین و مندرجات سے اس کارکردگی کا ادراک بوضوح کیا جاسکتا ہے؛
  • ابتدائے تاریخ سے اب تک، ائمہ شیعہ علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں پر ڈھائے گئے مظالم کی تشریح کرکے، ظالموں اور ستمگروں سے انتقام کے جذبات کا احیاء؛
  • مطلوبہ اور مثالی معاشرے اور حکومت کی طرف توجہ، جو امام زمانہ(عج) ظہور کے بعد قائم کریں گے۔[44]

زیارت نامے

زیارت کی اہمیت اور اس کے آداب کی وسعت کے بموجب، زیارت یا "مَزار" کی بحث، ایک اہم مذہبی موضوع کے طور پر، یہ بہت سی کتب کی تالیف کا موضوع بنی ہے۔[45]

ابن قولویہ قمی کی کتاب کامل الزیارات ان کتب میں معتبر ترین ہے؛ اور اسی طرح ہیں: شیخ مفید کی کتاب المزار، شیخ طوسی کی مصباح المتہجد، سید ابن طاؤس کی مہج الدعوات، شیخ بہائی کی المزار الکبیر، علامہ مجلسی کی تحفۃ الزائر اور شیخ عباس قمی کی مفاتیح الجنان۔

اہل بیت سے موصولہ زیارت ناموں کے متون و مندرجات عام طور پر صحیح اسلامی تعلیمات و عقائد سے بھرپور ہیں۔ بعض زیارت نامے اپنی سند اور خاص قسم کے مضامین کی بنا پر زیادہ شہرت اور اہمیت کے حامل ہیں؛ جیسے: زیارت عاشورا، زیارت جامعۂ کبیرہ، زیارت امین اللہ، زیارت وارث، زیارت آل یاسین اور زیارت ائمۃ المؤمنین۔

زیارت ناموں کے مضامین و مندرجات

معصومین کی طرف سے وارد ہونے والے زیارت ناموں کو دو زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے؛ بعض زیارت نامے بعض اماموں کے لئے مختص ہیں اور بعض دیگر مشترکہ ہیں اور انہیں پڑھ کر ہر امام کی زیارت کی جا سکتی ہے۔ زیارت ناموں کے مضامین و مندرجات میں غور کرنے سے اکثر زیارت ناموں کے درمیان کچھ مشترکہ محور دیکھے جا سکتے ہیں:

  1. دینی و الہی معارف کی تعلیم: زیارت نامے میں اللہ تعالی کی ذات اقدس اور صفات کو صحیح طور پر متعارف کرایا جاتا ہے، نیز پیغمبرؐ اور اہل بیتؑ کی ولایت کی تشریح کی جاتی ہے اور یوں، بجائے خود، شیعیان اہل بیت کو صحیح عقائد اور معارف کی تعلیم دی جاتی ہے۔
  2. وہ عبارت جو زائر کو سکھاتی ہیں کہ وہ "کیا بولے؟"، "کیا مانگے؟"، اور "اس کی کیفیت کیسی ہو؟":
    1. میں اپنے گناہ کے بوجھ سے تیرے حضور پناہ لایا ہوں[46]۔يا مَولایَ أَتَیتُكَ زَائِراً وَافِداً، عَائِذاً مَمّا جَنَیتُ عَلٰی نَفسِي وَاحتَطَبتُ عَلٰی ظَهرِي۔
    2. امام کا ساتھ دینے کی آرزو؛ يَا لَیتَنِی كُنتُ مَعَكُم۔[47]
    3. شفاعتِ امام سے بہرہ ور ہونے کے لئے دعا؛ اَلّلٰهُمَّ ارزُقنِي شَفَاعَةَ الحُسَينِ يَومَ الوُرُودِ۔[48]
  3. مثبت اور منفی اقدار کی تشریح: زیارت ناموں کے ضمن میں صحیح اور ضروری راستہ منتخب کرنے کے اصولوں اور مثبت اقدار کو "ائمہ کے تعارف کے سانچے میں" اور منفی اقدار کو "ائمہ کے دشمنوں کے تعارف کے سانچے میں" بیان کیا جاتا ہے تا کہ صحیح راستے کو باطل راستے سے تشخیص دی جاسکے۔ ان مثبت اقدار کی کچھ مثالیں درج ذیل ہیں:
    1. نماز بپا رکھنا؛ اَشهَدُ أَنَّكَ قَد اَقَمتَ الصَّلٰوةَ (ترجمہ: گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز کو قائم رکھا
    2. زکٰوۃ؛ اَشهَدُ أَنَّكَ آتَيتُ الزكٰوةَ (ترجمہ: گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے زکوۃ ادا کی
    3. امر بالمعروف اور نہی عن المنکر؛ اَشهَدُ أَنَّكَ آمَرتَ بِالمَعرُوفِ وَنَهَیتَ عَنِ المُنکَرِ (ترجمہ: گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اچھائی کا حکم اور برائی سے باز رکھا
    4. اللہ کی راہ میں جہاد؛ اَشهَدُ أَنَّكَ جَاهَدتَ فِي اللهِ حَقَّ جِهَادِهِ (ترجمہ: گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اللہ کی راہ میں جہاد کا حق ادا کیا
    5. سنتِ نبویہ کی پیروی؛ وَاتَّبَعتَ سُنَنَ نَبِيِّكَ (ترجمہ: آپ کا اعزاز ـ اے امام معصوم ـ یہ ہے کہ آپ رسول اللہؐ کی سنتوں کے تابع تھے
    6. اللہ کی طرف آنے کی دعوت؛ اَلسَّلَامُ عَلَی الدُّعَاةِ إِلَی اللهِ (ترجمہ: سلام ہو ان پر جو اللہ کی طرف دعوت دینے والوں کو[49]

منفی اقدار کی چند مثالیں جن کی طرف زیارت عاشورا میں اشارہ کیا گیا ہے:

  1. اہل بیت پر ظلم: لَعَنَ اللهُ أُمَّةً قَتَلَتكُم، اہل بیت پر مظالم ڈھانے والوں کی مدد: لَعَنَ اللهُ المَمَهِّدينَ لَهُم بِالتَّمكِينِ مِن قِتَالِكُم، اور حتی کہ اہل بیت پر ظلم کو پسندیدگی سے دیکھنا: لَعَنَ اللهُ أُمَّةً سَمِعَت بِذٰلِكَ فَرَضِيَت بِهِ
  2. اہل بیت کے دشمنوں کے ہمراہ اور ہم راز ہونا؛ وَمِن كُلِّ وَلِيجَةٍ دُونَكُم۔[50]

مخالفین کے شبہات

مفصل مضمون: زیارت قبور

دور معاصر میں، فرقۂ وہابیت نے قرآن کریم کی آیات کی ظاہری سی تفسیر کی بنیاد پر زیارت قبور کے سلسلے میں بعض شکوک و شبہات پیدا کئے ہیں۔ ان شکوک و شبہات کا تفصیلی جواب مختلف شیعہ اور سنی کتب میں دیا گیا ہے۔


متعلقہ مضامین

نوٹ

  1. اِنَّ لكل امام عهدا فی عنق أوليائه وشيعته وإن من تمام الوفاء بالعهد زيارة قبورهم فمن زارهم رغبة فی زيارتهم وتصديقا بما رغبوا فيه كان ائمتهم شفعائهم يوم القيامة (ترجمہ: ہر امام کے لئے اس کے حبداروں اور پیروکاروں کے ذمے عہد و پیمان ہے اور اس عہد کی وفا کا ایک اظہار ان کی قبروں کی "زیارت" ہے۔ چنانچہ جو بھی رغبت سے زیارت کرے اور اس رغبت کو سچا کرکے دکھائے، تو ائمہ بروز آخرت اس کے شفیع ہونگے)

حوالہ جات

  1. ابن منظور، لسان العرب، ج4، ص333۔
  2. رجوع کیجئے: مصطفوی، التحقیق لمعانی القرآن الکریم، ج‌4، ص364۔، ابن فارس، معجم مقاییس اللغة، ج3، ص36۔
  3. ابن منظور، لسان العرب، ج‌7، ص379۔
  4. دیکھئے: راغب، مفردات، ص386۔
  5. محمدی، مجید، کتاب دین و ارتباطات۔
  6. صدر سید جوادی، دائرة المعارف تشیع، ج8، ص566۔
  7. طبری، جامع البیان، 10، 260۔،طباطبایی، المیزان، 9، 360۔، قمی مشهدی، كنز الدقائق و بحر الغرائب، 5، 510۔
  8. طبرسی، مجمع البیان، ج5، ص100۔
  9. السبکی، شفاء السقام فی زیارة خیر الانام، ص258۔، الأميني النجفي، الغدیر فی الکتاب والسنة والادب، ج5، ص112-113۔، الجزیری، الفقه علی المذهب الاربعة، ج1، ص590۔
  10. حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج10، ص253۔
  11. مطهری، مرتضی، خاتمیت، فصل دوم۔
  12. بطور مثال رجوع کریں: زیارت امام رضاؑ، مفاتیح الجنان۔
  13. فروع کافی، باب يدء الحجر و باب یدء البیت وباب ان اول ما خلق الله من الارضین موضع البیت۔
  14. اشتهاردی، علی پناه، مجموعه مقالات هم اندیشی حج. بخش اول، ص303۔
  15. الکلینی، الکافی، باب حج الأنبياء، ج4، ص212، ح1۔،الکلینی، وہی ماخذ، ح2۔، الکلینی، وہی ماخذ، ج4، ص213، ح3۔
  16. الکلینی، الکافی، کتاب الحج ابواب الزیارات، باب زیارة النبی، ح4۔
  17. الکلینی، وہی ماخذ، ح3۔
  18. الکلینی، وہی ماخذ، ح1۔
  19. الکلینی، کتاب الحج، ابواب الزیارات، باب زیارة النبیؐ، ح4۔
  20. بطور مثال رجوع کریں: الکلینی، الکافی، کتاب المزار، باب فضل الزیارات و ثوابها۔
  21. حر عاملی، وسائل الشیعة، کتاب الحج، ج10، ابواب المزار، باب 96، ح1، ص453۔
  22. عَنْ أَبِی جَعْفَرٍؑ قَالَ: لَوْ یعْلَمُ النَّاسُ مَا فِی زِیارَةِ قَبْرِ الْحُسَینِؑ مِنَ الْفَضْلِ لَمَاتُوا شَوْقاً وَتَقَطَّعَتْ أَنْفُسُهُمْ عَلَیهِ حَسَرَات۔
  23. حر عاملی، وسائل الشیعة، کتاب الحج، ابواب المزار، ج10، ص452، ح1 و 2۔
  24. امام ہادیؑ سے منقولہ حدیث: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَى الْعَطَّارُ عَمَّنْ دَخَلَ عَلَى أَبِی الْحَسَنِ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْهَادِی مِنْ أَهْلِ الرَّیِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِی الْحَسَنِ الْعَسْکَرِیِّ عَلَيْهِ السَّلامُ فَقَالَ أَیْنَ کُنْتَ قُلْتُ زُرْتُ الْحُسَیْنَ عَلَيْهِ السَّلامُ قَالَ أَمَا إِنَّکَ لَوْ زُرْتَ قَبْرَ عَبْدِ الْعَظِیمِ عِنْدَکُمْ لَکُنْتَ كمَنْ زَارَ الْحُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ عَلَيْهِ السَّلامُ۔ (شیخ صدوق، ثواب الأعمال و عقاب الأعمال‏ ص99)۔ اس حدیث میں اس شخص کا ذکر نہیں ہوا ہے جس نے اسے امامؑ سے نقل کیا ہے۔ جبکہ اس کے دوسرے راوی قابل اعتماد ہیں؛ چنانچہ بعض علماء نے اس حدیث کو قابل استناد نہیں جانا ہے تاہم علماء کی اکثریت نے اس کو اہمیت دی ہے۔ آیت خوئی نے معجم رجال الحدیث میں اس کو "صحیح حدیث" کے ہم پلہ قرار دیا ہے۔الخوئي، معجم رجال الحدیث، ج11، ص53۔
  25. رجوع کریں: حر عاملی، وسائل الشیعة، باب 97، ح2 و 4 و 5۔
  26. حر عاملی، وہی ماخذ، باب57، ح5۔
  27. البحراني، الحدائق الناظرة، ج4، ص169-170۔
  28. مفاتیح الجنان، آداب زیارت
  29. فلاح زاده، محمد حسین،احکام فقهی سفرِ زیارتی عتبات، ص10۔
  30. بحارالأنوار، ج99، ص35، ح 17۔
  31. بنی هاشمی خمینی، رساله مراجع، ج1، مسئله 645۔
  32. نیز رجوع کریں: فلاح زاده، محمد حسین، احکام فقهی سفرِ زیارتی عتبات، ص10۔
  33. رجوع کریں: حر عاملی، وسائل الشیعة، ابواب الحج۔
  34. رجوع کریں: مجموعه مقالات هم اندیشی زیارت، (مقاله گلی حجت فر)، ص625۔
  35. رجوع کریں: سورہ شوری، آیت 33۔
  36. رجوع کریں: سورہ شوری، آیت 23۔
  37. مفاتیح الجنان، فرازی از زیارت جامعه کبیره۔
  38. رسول اللہؐ نے فرمایا: وَالَّذي نَفسي بِيَدِهِ، لا يُبغِضُنا أهلَ‏ البَيتِ أحَدٌ إلاّ أدخَلَهُ اللّهُ النّارَ (ترجمہ: اللہ کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، کہ جو بھی اہم اہل بیت سے دشمنی کرے گا اللہ اس کو جہنم میں داخل کرے گا):- السيوطي، الدرّ المنثور: ج6، ص7۔
  39. رجوع کریں: مجموعه مقالات هم اندیشی زیارت، (مقاله غلامرضا گُلی زواره)، ج1، ص129۔
  40. رجوع کریں: مجموعه مقالات هم اندیشی زیارت، (مقاله: زیارت قبور از نظر آیات و روایات‌)، ج1، ص439۔
  41. حر عاملی، وسائل الشیعة، ج‌14، ص322۔
  42. حر عاملی، وہی ماخذ، ج10، ص324۔
  43. من زارني على بعد داري وشطون مزاري أتيته يوم القيامة في ثلاث مواطن حتى اخلصه من اهوالها: إذا تطايرت الكتب يمينا وشمالا، وعند الصراط، وعند الميزان:- ابن قولویه، کامل الزیارات، ص506۔
  44. رجوع کریں: مجموعه مقالات هم اندیشی زیارت، (مقاله: اعظم ترکی‌)، ج2، ص711-712۔
  45. ان کتب کی فہرست کے لئے رجوع کریں: آقا بزرگ تهرانی، الذریعة الی تصانیف الشیعة، ج12، ص77 بب، ج20، ص316 بب۔
  46. مفاتیح الجنان، زیارتنامه امام رضا علیه‌السلام
  47. زیارت عاشورا سے اقتباس۔
  48. زیارت عاشورا سے اقتباس۔
  49. مزید تفصیلات کے لئے رجوع کریں: زیارت جامعہ، زیارت امین اللہ اور ائمہ کی دوسری زیارات۔
  50. زیارت عاشورا کے بعض اقتباسات۔

مآخذ

  • قرآن کریم۔
  • آقا بزرك الطہراني، الشيخ محمد محسن، الذّريعۃ إلى تصانيف الشّيعۃ، دار الأضواء، لبنان - بيروت، الطبعۃ: الثالثۃ، 1403ھ ق
  • ابن فارس، ابوالحسین احمد بن فارس بن زکریا، معجم مقاییس اللغۃ، ت عبدالسلام محمد ہارون، الحوزہ‌العلميہ بقم، مكتب‌الاعلام‌الاسلامي، قم، 1404ھ ق/ 1362ھ ش۔
  • إبن قولويہ القمي، جعفر بن محمد (المتوفی 368 ہ‍)، كامل الزيارات، ت جواد القيومي، نشر الفقاہۃ لجنۃ التحقيق، ط الأولى، مؤسسۃ النشر الاسلامي قم 1417ہ‍ ق۔
  • ابن منظور، محمد بن مكرم الافريقى المصرى، لسان العرب، نشر أدب الحوزۃ، قم - ايران 1405 ہ‍ 1363ھ ق
  • الأميني النجفي، عبدالحسين أحمد، الغدير في الكتاب والسنۃ والأدب، ناشر: الحاج حسن إيراني، دار الكتاب العربي بيروت - لبنان الطبعۃ الرابعۃ 1397ھ ق / 1977ع‍
  • ﺍﻟﺒﺤﺮﺍﻧﻲ، یوسف بن احمد، ﺍﻟﺤﺪﺍﺋﻖ ﺍﻟﻨﺎﺿﺮﺓ، ﺍﻟﻨﺎﺷﺮ: ﻣﺆﺳﺴﺔ ﺍﻟﻨﺸﺮ ﺍﻹﺳﻼﻣﻲ ﺍﻟﺘﺎﺑﻌﺔ ﻟﺠﻤﺎﻋﺔ ﺍﻟﻤﺪﺭﺳﻴﻦ، قم ﺍﻟﻤﺸﺮﻓﺔ، 1363ھ ش۔
  • بنی ہاشمی خمینی،سید محمدحسن، توضیح المسائل مراجع، دفتر انتشارات اسلامی، وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1385ھ ش۔
  • الجزيري، عبد الرحمن، الفقہ على المذاہب الأربعۃ، دار الكتب العلميۃ، بيروت 1424ھ ق / 2003 ع‍
  • جمعی از نویسندگان، مجموعہ مقالات ہم اندیشی، (مقالہ: اشتہاردی، علی پناہ) تہیہ کنندہ: پژوہشکدہ حج و زیارت، ناشر: نشر مشعر، تہران 1392ھ ش
  • الحر العاملي، الشيخ محمد بن الحسن، وسائل الشيعۃ إلى تحصيل مسائل الشريعۃ، المحقق: الشيخ عبد الرحيم الربانى الشيرازي، دار احياء التراث العربي بيروت - لبنان۔
  • الخوئى، السيد ابو القاسم الموسوي، معجم رجال الحديث وتفصيل طبقات الرواۃ، الطبعۃ الخامسۃ، قم، إيران، 1413ہ‍ ق - 1992ع‍
  • الراغب الأصفہاني، ابوالقاسم حسين بن محمد، مفردات ألفاظ القرآن، ت صفوان عدنان داوودي، دار القلم - الدار الشاميۃ، دمشق بيروت الطبعۃ: الرابعۃ، 1430ھ ق/ 2009ع‍
  • السبکی، تقی الدین، شفاء السقام فی زیارۃ خیر الانام، ناشر: نشر مشعر، طبع چہارم، تہران 1419ھ ق
  • السيوطي، جلال الدين عبد الرحمن ابن أبى بكر، الدر المنثور في التفسير بالمأثور، ـ دار المعرفۃ للطباعۃ والنشر بيروت - لبنان.
  • صدر حاج‌ سيدجوادي‌، احمد، دائرۃ المعارف تشيع، موسسہ تحقيقات و نشر معارف اہل البيتؑ.
  • الشیخ الصدوق، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، تحقیق ومقدمہ: سید محمد مہدی السید حسن الخرسان، منشورات الشریف الرضی، قم 1368ھ ش
  • الطباطبائي، العلامۃ السيد محمد حسين، الميزان في تفسير القران، منشورات جماعۃ المدرسين في الحوزۃ العلميۃ في قم المقدسۃ۔
  • الطبري، محمد بن جرير، جامع البيان عن تأويل آي القرآن، قدم لہ: خليل الميس، تحقیق: صدقي جميل العطار، دار الفكر، بيروت لبنان، 1415ھ ق/جری / 1995 عیسوی۔
  • الطبرسي، الفضل بن الحسن، مجمع البيان في تفسير القران، ت السيد محسن الامين العاملي، منشورات مؤسسۃ الاعلمي للمطبوعات بيروت - 1415 ہ‍‍ / 1995 ع‍
  • فلاح زادہ، محمد حسین، احکام فقہی سفر زیارتی عتبات، نشر مشعر، تہران 1386ھ ش۔
  • قمی، شیخ عباس، مفاتیح الجنان۔
  • قمی مشہدی، محمد بن محمد رضا، تفسیر کنز الدقائق و بحر الغرائب، محقق: حسین درگاہی، الناشر: مؤسسۃ شمس الضحى الثقافيۃ الطبعۃ: الاولى المنقحۃ 1430ھ ق
  • الكليني، محمد بن يعقوب بن اسحاق، المحقق: على اكبر الغفاري، دار الكتب الاسلاميۃ تہران - الطبعۃ الثالثۃ 1388ہ‍ ق۔
  • المجلسي، العلامۃ الحجۃ محمد باقر، بحار الانوار الجامعۃ لدرر أخبار الائمۃ الاطہار، مؤسسۃ الوفاء - بيروت - لبنان - الطبعۃ الثانيۃ المصححۃ 1403ہ‍ ق / 1983ع‍
  • محمدی، مجید، دین و ارتباطات. تہران: انتشارات کویر۔
  • مصطفوی، حسن، التحقیق فی کلمات القرآن الکریم، مرکز نشر آثار العلامۃ المصطفوی؛ بیروت: دارالکتب العلمیۃ، 1430ھ ق / 2009ع‍ / 1388ھ ش۔