انہدام جنت البقیع

ویکی شیعہ سے
(تخریب بقیع سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
قبرستان بقیع انہدام سے پہلے

انہدام جنت بقیع سے مراد وہابیوں کے ہاتھوں مدینہ منورہ میں موجود ائمہ معصومین(ع)، حضرت فاطمہ زہراء(س)، صحابیوں، تابعین اور دیگر مذہبی اکابرین کے قبور پر مشتمل قبرستان بقیع کی تخریب ہے۔ وہابیوں نے زیارت کرنے کو بدعت شمار کرتے ہوئے دو بار اس قبرستان کو مسمار کیا پہلی بار سنہ۱۲۲۰ ہجری قمری میں اور دوسری بار سنہ ۱۳۴۴ ہجری قمری میں۔ جنت البقیع کے انہدام پر ایران سمیت دنیا کے مختلف ملکوں کے شیعہ اور دیگر مذاہب کے ماننے والے مسلمانوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ شیعیان جہان، ہر سال 8 شوال کو یوم انہدام جنۃ البقیع کے نام سے مناتے ہیں اور مختلف جگہوں پر مجالس برگزار کرکے اس واقعے کی یاد میں مصائب اور مرثیے پڑھتے ہیں اور اس کام کی پرزور مذمت کرتے ہوئے سعودیہ عربیہ کی موجودہ حکومت سے اس قبرستان کی فی الفور تعمیر کا مطالبہ کرتے ہیں۔

قبرستان بقیع

اصل مضمون: جنۃ البقیع

بقیع (جنۃ البقیع / بقیع الغَرقَد)، مدینہ کا سب سے پہلا اور قدیم اسلامی قبرستان ہے۔ شیعہ اماموں میں سے چار ائمہؑ، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور تابعین میں سے کئی اکابرین اسلام اسی قبرستان میں مدفون ہیں۔

ائمہ(ع) اور بعض دوسرے اکابرین کی قبروں پر گنبد و بارگاہ کا انتظام تھا جن کو پہلی بار تیرہویں صدی ہجری 1220ہجری اور دوسری بار چودہویں صدی ہجری میں وہابیوں نے منہدم کیا جس پر ایران اور ہندوستان سمیت مختلف ممالک کے شیعہ اور سنی علماء اور عوام نے شدید رد عمل ظاہر کیا۔

تاریخ کے آئینے میں

  • سر زمین حجاز میں وہابیوں کی آمد کے بعد جو ابن تیمیہ کے اعتقادات سے الہام لے کر قبور اور دیگر زیارتی مقامات کی زیارت کو توحید کے ساتھ ناسازگار سمجھتے ہوئے سرزمین حجاز میں موجود مختلف زیارتی عمارتوں کو مسمار کردیا۔ سنہ ۱۲۲۰ق. میں وہابیوں نے مدینہ منورہ پر حملہ کر کے اس پر قابض ہوگئے۔ شہر پر مکمل قبضے کے بعد سعود بن عبدالعزیز نے مسجد النبی کے تمام اموال اور اثاثوں کو غارت کرنے کے ساتھ قبرستان بقیع میں موجود تمام گنبدوں کو مسمار کرنے کا حکم صادر کیا۔[1]
  • گویاوہابی وہ پہلے گروہ ہیں جنہوں نے مذہبی نقطہ نگاہ سے مراقد اور بارگاہوں کو مسمار کر ڈالا۔ کبھی کبھار وہابیوں کے علاوہ دوسرے افراد نے بھی اس قبرستان میں خلفا کی موجودگی کی مذمت میں کتابوں کی وجہ سے اس قبرستان کو منہدم کرنے کی کوشش کی ہیں لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔[2] وہابیوں نے طائف، جدہ، کربلا اور دیگر مقامات سے قبور اور زیارتی مقامات کو مسمار کرنے کے علاوہ[3] مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں موجود تمام گنبدوں کو بھی مسمار کرنے کو اپنا نصب العین قرار دیا۔
  • قبرستان بقیع میں موجود چار ائمہ معصومین(ع) اور حضرت فاطمہ(س) کے قبور پر موجود گنبد جو بیت الاحزان کے نام سے معروف تھا وہابیوں کے پہلے حملے ہی میں منہدم ہو گئے ۔[4] عبدالرحمن جَبَرتی کے بقول وہابیوں نے پہلے حملے کے ایک سال بعد مدینہ کو محاصرہ کر کے قحط سالی ایجاد کرتے ہوئے مدینہ منورہ میں داخل ہو گئے اور مسجد النبی کے علاوہ باقی تمام گنبدوں کو مسمار کر دیا۔ [5]
  • عثمانی حکومت نے ذوالحجہ ۱۲۲۷ق. کو مدینہ کی طرف ایک لشکر روانہ کیا اور اسے وہابیوں سے واپس لے لیا۔ سنہ۱۲۳۴ق. میں سلطان محمود ثانی (حکومت: ۱۲۲۳-۱۲۵۵ق.) کے حکم سے بعض بارہگاہیں دوبارہ تعمیر ہوئیں۔[6]جیسا کہ بعض روایات اس تاریخ کے بعد بعض بارگاہوں کی موجودگی کی حکایت کرتی ہیں۔ منجملہ وہ افراد جنہوں نے اماموں (ع) کے بارگاہوں کو دیکھا اور روایت کی ان میں حسام السلطنہ فرزند عباس میرزا قاجار، نایب السلطنہ ہیں جنہوں نے اپنے سفر حج سنہ ۱۲۹۷ قمری کے دوران مدینہ کا سفر بھی کیا اور ائمہ کے بارگاہوں اور بیت الاحزان کی زیارت کی ہے۔[7] انہوں نے بقیع میں 10 سے زیادہ بارگاہوں کی معرفی کی ہے۔ ائمہ چارگانہ کے مزار پر محراب بنی ہوئی تھی اور ان کے بائیں طرف سبز رنگ کی لکڑیوں سے بنی ضریح موجود تھی۔ بیت الاحزان حضرت فاطمہ(س) ائمہ کے مزار کے پچھلے طرف واقع تھی۔[8] سفرنامہ حاج ایازخان قشقایی سنہ ۱۳۴۱ قمری انہدام بقیع کے تقریبا دو سال بعد (۱۳۴۴ق.) میں بھی بقیع میں عمارتوں کے موجود ہونے کے بارے میں گواہی دیتا ہے۔ ان کے کہنے کے مطابق شیعوں کے چار امام کے مزارات ایک بارگاہ کے اندر تھیں اور ہر ایک امام کا مدفن بھی مشخص تھا۔ ایازخان نے ابراہیم ابن محمد(ص) اور عبداللہ بن جعفر طیار کے مزارات کا بھی بقیع میں موجود ہونے اسی طرح صفیہ بنت عبدالمطلب اور صفیہ کی بہن عاتکہ، حضرت عباس کی ماں ام البنین اور بنی ہاشم کے کئی دیگر افراد کے قبور بھی بقیع کے نزدیک ایک گلی میں واقع ہونے کی خبر دیتے ہیں۔ ظاہرا ایازخان آخرین زائرین ایرانی ہیں جنہوں نے بیت الاحزان کی زیارت کی ہے۔ [9]
  • 8 شوال سنہ ۱۳۴۴ق. میں وہابیوں کے دوسرے حملے میں قبرستان بقیع کے تمام تاریخی آثار مسمار ہو گئے۔[10]

علل و اسباب

قبرستان بقیع انہدام سے پہلے(ایک اور زاویے سے)

8 شوال سنہ ۱۳۴۴ق. میں سعودیہ عربیہ کے اس وقت کے چیف جسٹس شیخ عبداللہ بلیہد کے حکم سے قبور کی زیارت کا شرک اور بدعت ہونے کے بہانے قبرستان بقیق کے تمام تاریخی آثار منہدم کر دئے گئے۔ [11] قبور پر گنبد کی تعمیر وہابیت کے اعتقادات کے برخلاف اکثر مسلمانوں شیعہ اور اہل سنت کے ہاں نہ فقط اسلامی اصول اور فروعات کے ساتھ متضاد نہیں ہے بلکہ ان کے ہاں بزرگان اور الیاء الہی کے قبور کی زیارت کرنا ایک مستحب عمل بھی ہے۔ اور اسلام میں اس عمل کی ایک لمبی تاریخ موجود ہے۔ [12] جنۃ البقیع میں موجود اماکن اور مذہبی مقامات علاوہ بر شناخت مذہبی تاریخی حیثیت بھی رکھتی تھی اور مسلمانوں کیلئے اپنی تاریخی ہویت پر منہ بولتی ثبوت تھی۔

رد عمل

جتۃ البقیع کے انہدام نے اسی وقت سے ہی مسلمانوں کے درمیان بڑے پیمانے پر اعتراضات اور رد عمل کو وجود میں لایا اور بعض اسلامی ممالک کو اس کے خلاف آواز بلند کرنے پر مجبور کیا۔ وہابیوں کے اس اقدام کے خلاف خود انہی کے درمیان سے سعودیہ عربیہ میں مقیم بعض وہابیوں نے اس شدت پسندانہ کاروائی کی مذمت کی۔[13] شیعیان جہاں ہر سال 8 شوال کو یوم انہدام جنۃ البقیع کے نام سے سوگ مناتے ہیں۔ اس دن مختلف جگہوں پر مجالس برگزار کرتے ہیں جس میں اس مصیبت پر عزاداری منعقد کرتے ہیں۔

عوامی رد عمل

جنۃ البقیع اور دیگر مقدس مقامات کی ویرانی نے عام لوگوں میں وہابیوں کے خلاف ایک نفرت اور غم و غصے کی لہر پیدا کی ہے۔ بہت سارے اسلامی اور غیر اسلامی ممالک سے مذہبی اور سیاسی افراد نے وہابیوں کے اس غلط اقدام کی مذمت کی ہے ۔

آذربایجان ، روس، ازبکستان، ترکمنستان، ایران، ترکیہ.، افغانستان، عراق، چین، مغولستان، ہندوستان وعیرہ کے لوگوں نے خطوط اور دیگر مراسلاتی اور مواصلاتی ابزار کے ذریعے اپنے غم و غصے اور اظہار مذمت کے ضمن میں اس کام کو مرقد نبوی کی انہدام کا پیش خیمہ قرار دیا تھا۔[14]

ایران کے بعض حاجیوں اور اس وقت سعودیہ عربیہ میں موجود سیاسی شخصیات نے جنۃ البقیع کے انہدام کے غمناک اور افسوسناک واقعے کی توصیف کی ہے۔[15] جنۃ البقیع کو اس حالت میں دیکھنا زائرین کی نارضایتی کا موجب بنتا تھا یوں وہ اپنے غم و اندوہ کے بیان کے ساتھ انکی دوبارہ تعمیر کی آرزو کرتے تھے۔[16] یورپی ممالک کے بعض افراد نے بھی بقیق کی ویرانی کے بعد اپنا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ہے۔[17] "سر ہارد فورد" نے اپنی خاطرات میں بقیع میں موجود ائمہ کے قبور کی ویرانی کی طرف اشارہ کیا ہے۔[18] "ریتر" نے قبرستان بقیع کے انہدام کے وقت وہابیوں کے عمل کو ایک ویرانگر زلزلے سے تشبیہ دی ہے۔ "دونالدسون" نے بھی وہابیوں کے ہاتھوں انہدام کے بعد بقیع کی ناگفتہ بہ حالات کی توصیف کی ہے۔[19]

حکومتی سطح پر رد عمل

اسلامی حکومتوں نے اس اقدام کی مذمت کی اور بعض اسلامی ممالک منجملہ ایران نے اپنے شہریوں کو سعدیہ عربیہ سفر کرنے کی ممانعت کر دی۔ ایرانی حکومت نے حرمین شریفین اور بقیع کی موجودہ حالات کی رپورٹ پیش کرنے کیلئے اپنا ایک وفد حجاز بھیجا۔ اسی طرح ہندوستان کی حکومت نے بھی اس اقدام پر شدید احجتاج کا اظہار کرنے کی خاط اپنا ایک وفد مکہ مکرمہ بھیجا۔

  • ایران نے ۱۶ صفر سنہ ۱۳۴۴ ہجری قمری کو بقیع کی ہتک حرمت کی مناسبت سے عمومی سوگ کا اعلان کیا اور آیت اللہ مدرس نے ایرانی پارلیمنٹ میں اس طرح کے اقدامات سے مقابلہ کرنے کی تجاویز پیش کی۔ ایرانی پارلیمنٹ نے اس موضوع کی تحقیق کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی۔ سعودیہ عربیہ کی حکومت نے مسلمانوں کے غم و غصے سے بچنے اور مذہبی مقامات کی انہدام کی توجیہ کیلئے مسلمان حکومتوں کے وفود کو مکہ مکرمہ بلایا۔ ایران سے بھی ایک وفد غفار خان جلال السلطنہ، مصر میں ایران کے وزیر مختار اور حبیب اللہ خان ہویدا کی سربراہی میں ایک وفد مورخہ ۲۴ شہریور ۱۳۰۴ش کو جدہ پہنچے۔ سعودیہ عربیہ کی مکارانہ پالیسی اور اسلامی ممالک کے سربراہان کی عدم دلچسپی کے باعث یہ معاملہ خاموشی کی نذر ہوگئی۔ [20]
  • حبیب اللہ خان ہویدا نے حجاز میں عبدالعزیز بن عبدالرحمن بن سعود کے ساتھ ملاقات کیا اور ان کے بقول عبدالعزیز نے مقدس مقامات کی مسماری کہ ذمہ داری "عرب کے جاہل بدوؤں" کے گردن پر ڈال دی اور اپنے آپ کو اس مذموم عمل سے برئ الذمہ کردیا۔[21]
  • ایران میں پارلیمنٹ کے ممبران نے ال سعود کے خلاف شدید احتجاج کیا اور ایک کمیٹی تشکیل دی اور اس واقعے کی تحقیق کیلئے سنہ ۱۳۰۴ش میں ایک وفد کو حجاز روانہ کیا۔ [22] ایران کے اخبارات میں آل سعود سے مقابلہ کرنے کے بارے میں مختلف تجاویز کے بارے میں چیمگویاں ہوئیں۔[23]
  • سعودیہ عربیہ کی جانب سے منہدم شدہ مذہبی مقامات کی تعمیر نہ کرنا موجب بنا کہ ایران نے سالوں سال سعودیہ عربیہ کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا اور اس کے بعد یہ یہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کا باعث بنا۔[24][25]

علماء اسلام کا رد عمل

  • سید ابوالحسن اصفہانی سمیت نجف اور قم کے دیگر بزرگان نے وہابیوں کے اس عمل کی شدید مذمت کی۔ کہا جاتا ہے کہ قبرستان بقیع کے انہدام کی وجہ سے حوزہ علمیہ قم کے بانی آیت اللہ حائری نے اپنی کلاس درس میں گریہ کیا اور اپنے درس و تدریس کو معطل کردیا۔[26] آیت اللہ بروجردی نے اپنا نمایندہ محمدتقی طالقانی (آل احمد) کو حالات کا جائزہ لینے کیلئے مدینہ روانہ کیا۔ کراچی میں اسلامی کانفرنس میں بھی محمد حسین کاشف الغطاء اور آیت الله بروجردی کے نمائندے، محمد تقی طالقانی نے سعودیہ عربیہ کے سفیروں کے ساتھ ملاقات کی اور قبرستان بقیع کی تعمیر اور مرمت کی ضرورت پر زور دیا۔[27]

سید محسن امین خود حالات کا جائزہ لینے حجاز چلا گیا اور اپنی تحقیقات کے نتائج کو اپنی کتاب کشف الارتیاب میں مسلمانوں کے سامنے رکھ دیا۔ اسی طرح بہت سارے فقہاء نے قبرستان بقیع کی تعمیر نو اور مرمت کے ضروری ہونے کی اوپر فتوا دیا۔[28]

کتابوں کی اشاعت

اس واقعے کے خلاف علماء اسلام کے دیگر اقدامات میں اولیاء الہی کے قبور کی تعمیر کے حوالے سے فقہی منابع اور احکام پر مشتمل کتابوں اور جرائد کی اشاعت تھی۔محمد جواد بلاغی نے اپنی کتاب رد الفتوی بہدم قبور الائمۃ فی البقیع میں قبور کی مسماری کے جواز کے حوالے سے وہابیوں کی فکر اور سوچ کو مخدوش کیا۔[29] اس کے علاوہ بقیع کی ویرانی کے حوالے سے مختلف کتابیں لکھی گئی منجملہ ان میں سید عبدالرزاق موسوی مقرم نے اپنی کتاب ثامن شوال می سنہ ۱۳۴۳ق کے واقعے کو تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ [30] اسی طرح یوسف ہاجری[ کی کتاب البقیع قصۃ تدمیر آل سعود للآثار الاسلامیہ اور [عبدالحسین حیدری موسوی]] کی کتاب قبور ائمۃ البقیع قبل تہدیمہا میں ائمہ بقیع کی بارگاہوں کی ویرانی کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ حسن آل برغانی کی کتاب بقیع الغرقد میں مدینہ پر وہابیوں کے پہلے حملے اور بقیع کی ویرانی کا ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر شعبہای زندگی سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کا قبرستان بقیع کی انہدام پر اظہار افسوس اور ندامت کو مختلف شاعروں نے اپنے اشعار میں قلم بند کیا ہے۔[31] محمد جواد بلاغی کی کتاب "دعوی الہدی الی الدرع فی الافعال و التقوی" اور "معجم ما الفّہ علماء الاسلام رداً علی الوہابیہ" بھی اسی نوعیت کی ہیں۔[32]

انہدام کے بعد

فائل:Baghe2.jpg
قبرستان بقیع میں ائمہ(ع) کے قبور انہدام کے بعد
  • اس وقت قبرستان بقیع میں شیعوں کے چار امام، رسول کی اکلوتی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا اور صدر اسلام کے دیگر بزرگان کے قبور کا صرف چند پتھروں کے سوا کوئی نام نشان باقی نہیں ہے۔ قبرستان بقیع کی موجودہ حالت اگرچہ انہدام کے وقت کی نسبت ایک اچھی حالت میں ہے لیکن سعودیہ عربیہ کی حکومت ان قبور کی تعمیر اور ان کی دیکھ بھال سے اپنا شانہ خالی کر رہی ہے۔ مسلمان خاص طور پر شیعیان حیدر کرار نے اس واقعے کو فراموش نہیں کیا ہے اور اب بھی مدیہ اور مکہ کی سفر کے دوران سعودیہ حکومت کے پابندیوں کے باوجود بقیع میں حاضری دے کر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔
  • اس واقعے کے تقریبا 40 سال بعد شیخ کاشف الغطا کی سربراہی میں عراق کے شیعوں اور حجاز میں ایران کے سفیر امیر اعلم کی کوششوں سے سعودیہ عربیہ کی حکومت نے ان قبور مطہر کے گرداگرد پتھر رکھ کر زائرین کی رفت و آمد کا بندوبست کیا ہے۔[33] اس طرح ملک فہد بن عبدالعزیز کے دور میں بقیع کی دیواروں کی مرمت کی گئی پھر سنہ ۱۴۱۸ق. اور۱۴۱۹ق. میں بقیع کے اندر زائرین کی رفت و آمد کے راستوں کو سنگ مرمر کیا گیا۔[34]
  • آج کل سعودی حکومت کی طرف سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نامی ایک کمیٹی بقیع کے قبرستان میں موجود رہ کر زائرین کو ائمہ کے قبور کی زیارت اور ان سے تبرک لینے کی ممانعت کرتی ہے۔ [35]

حوالہ جات

  1. من اخبار الحجاز و النجد، ص۱۰۴؛ البقیع قصۃ التدمیر، ص۸۴.
  2. صفویہ در عرصہ فرہنگ، ج۲، ص۷۸۳، ۸۴۲.
  3. عجائب الآثار، ج۳، ص۴۰۹؛ کشف الارتیاب، ص۱۵، ۱۹- ۲۱.
  4. عجائب الآثار، ج۳، ص۹۱.
  5. عجائب الآثار، ج۳، ص۹۱.
  6. پنجاہ سفرنامہ، ج۳، ص۱۹۶.
  7. حسام السلطنہ، دلیل الانام فی سبیل زیارۃ بیت اللہ الحرام، ص۱۵۲.
  8. حسام السلطنہ، دلیل الانام، ص۱۵۲.
  9. ایازخان قشقایی، سفرنامہ حاج ایازخان قشقایی بہ مکہ، مدینہ و عتبات عالیات در روزگار احمد شاہ قاجار، ص۴۵۵.
  10. البقیع قصۃ التدمیر، ص۱۱۳-۱۳۹؛ بقیع الغرقد، ص۴۹.
  11. البقیع قصۃ التدمیر، ص۱۱۳-۱۳۹؛ بقیع الغرقد، ص۴۹.
  12. التاریخ الامین، ص۴۳۱-۴۵۰؛ بقیع الغرقد، ص۱۲.
  13. خزانۃ التواریخ النجدیہ، ج۸، ص۱۵۹-۱۶۰.
  14. تخریب و بازسازی بقیع، ص۵۵-۵۶؛ بقیع الغرقد، ص۵۲-۵۳.
  15. سفرنامہ فرہاد میرزا، ص۱۷۰؛ سفرنامہ مکہ حسام السلطنہ، ص۱۵۱-۱۵۲؛ چہل سال تاریخ ایران، ج۲، ص۶۲۴.
  16. تذکرۃ الطریق، ص۱۳۹.
  17. موسوعۃ العتبات المقدسہ، ج۳، ص۲۱۸-۲۱۹.
  18. خاطرات سرہارد فورد، ص۱۰.
  19. الموسوعۃ العتبات المقدسہ، ج۳، ص۲۱۸، ۳۳۰.
  20. تخریب و بازسازی بقیع، ص۴۱-۶۰.
  21. محقق، اسناد و تاریخ دیپلماسی، اسناد روابط ایران و عربستان سعودی (۱۳۰۴-۱۳۵۷ه‍.ش)، چاپ و انتشارات وزارت امور خارجہ، ص۴۶-۵۴.
  22. دائرۃ المعارف بزرگ اسلامی، ج۱۲، ص۳۹۳، «بقیع».
  23. گزیدہ مقالات و روزنامہ ہای مہم، ص۱۹۵.
  24. جنگ ایدئولوژیک ایران و عربستان تا چہ اندازہ جدی است؟
  25. اسناد روابط ایران و عربستان سعودی (۱۳۰۴-۱۳۵۷ه‍.ش)، ص۶۱، ش۱۸، ۱۲نیسان ۱۹۲۵م.
  26. بقیع الغرقد، ص۵۳.
  27. دائرۃ المعارف بزرگ اسلامی، ج۱۲، ص۳۹۳، «بقیع».
  28. بقیع الغرقد، ص۵۵.
  29. معجم ما کتب فی الحج، ص۱۷۱.
  30. معجم ما کتب فی الحج، ص۸۵.
  31. التاریخ الامین، ص۳۶۶-۳۶۸؛ بقیع الغرقد، ص۳۳۵-۳۴۱.
  32. مجلۃ تراثنا، سال چہارم، شوال ۱۴۰۹،ش ۱۷.
  33. اسناد روابط ایران و عربستان، ص۲۴۸-۲۶۰؛ نک: تخریب و بازسازی بقیع، ص۹۸-۱۴۷.
  34. آثار اسلامی مکہ و مدینہ، ص۳۳۲.
  35. با کاروان صفا، ص۱۳۵-۱۳۷.

مآخذ

  • موسوی بجنوردی(زیر نظر)، دایرہ المعارف بزرگ اسلامی، تہران، مرکز دائرۃ المعارف بزرگ، ۱۳۷۲ش
  • نجمی، محمدصادق، تاریخ حرم ائمہ بقیع و آثار دیگر در مدینہ منورہ، نشر مشعر، تہران، ۱۳۸۶ش.
  • جعفریان، رسول، آثار اسلامی مکہ و مدینہ، مشعر، قم، ۱۳۸۶ش.
  • جعفریان، رسول، پنجاہ سفرنامہ حج قاجاری، تہران، نشر علم، ۱۳۸۹ش.
  • حسام السلطنہ، دلیل الانام، تصحیح رسول جعفریان، نشر مشعر، تہران، ۱۳۷۴ش.
  • ابن کثیر، البدایۃ و النہایہ، مکتبۃ المعارف بیروت، بی‌تا
  • امینی، محمد امین، بقیع الغرقد، مشعر، تہران، ۱۳۸۶ش.
  • محقق، علی، اسناد روابط ایران و عربستان سعودی (۱۳۰۴-۱۳۵۷ ہ‍.ش)، مرکز اسناد و تاریخ دیپلماسی وزارت خارجہ، تہران، ۲۰۰۰م.
  • ایازخان قشقایی، سفرنامۀ حاج ایازخان قشقایی بہ مکہ، مدینہ و عتبات عالیات در روزگار احمد شاہ قاجار، بہ کوشش رسول جعفریان، نشر علم، تہران، ۱۳۸۹ش.
  • فرہاد میرزا، سفرنامہ مکہ(م.۱۳۰۵ق.)، بہ کوشش طباطبایی، تہران، مؤسسہ مطبوعاتی علمی، ۱۳۶۶ش؛
  • حسام السلطنہ، سفرنامہ مکہ، بہ کوشش رسول جعفریان، تہران، مشعر، ۱۳۷۴ش؛
  • انصاری، عبدالقدوس، آثار المدینۃ المنورہ: مدینہ، المکتبۃ السلفیہ، ۱۳۹۳ق.
  • نویسندہ مراکشی (م. قرن۶ق.)،الاستبصار فی عجائب الامصار، بہ کوشش سعد زغلول، بغداد،‌دار الشؤون الثقافیہ، ۱۹۷۶م
  • مدنی، عبدالعزیز، التاریخ الامین لمدینۃ سید المرسلین، مطبعۃ الامین، ۱۴۱۸ق؛
  • رفاعی، عبدالجبار، معجم ما کتب فی الحج، تہران، مشعر، ۱۴۲۷ق؛
  • قاضی عسکر، علی، تخریب و بازسازی بقیع بہ روایت اسناد تہران، مشعر، ۱۳۸۶ش
  • کربلایی کرناتکی، محمد، تذکرۃ الطریق، بہ کوشش اسرا دوغان، قم، نشر مورخ، ۱۳۸۶ش؛
  • ابن ظہیرہ، الجامع اللطیف، بہ کوشش علی عمر، قاہرہ، مکتبۃ الثقافۃ الدینیہ، ۱۴۲۳ق؛
  • ابن بطوطہ، رحلۃ ابن بطوطہ، بہ کوشش التازی، الرباط، المملکۃ المغربیہ، ۱۴۱۷ق؛
  • جبرتی، عبدالرحمان، عجائب الآثار، بیروت،‌دار الجیل
  • محقق، علی، اسناد روابط ایران و عربستان سعودی (۱۳۰۴-۱۳۵۷ہ‍.ش)، مرکز چاپ و انتشارات وزارت امور خارجہ، چاپ اول، تہران، ۱۳۷۹ش.

بیرونی روابط