کریم اہل بیت (لقب)

ویکی شیعہ سے
امام حسنؑ کی زندگی کے بارے میں "کریم اہل بیت" کے عنوان سے سید محمدتقی مدرسی کی ایک کتاب

کریمِ اہل‌بیت امام حسن مجتبیؑ کے القاب میں سے ایک لقب ہے جس کے معنی سب سے زیادہ بخشنے والے کے ہیں۔[1] یہ لقب امامؑ کو انکی سخاوت اور جود و کرم کی وجہ سے دیا گیا ہے۔[2] لفظ "کریم" اگرچہ امام حسنؑ کی توصیف میں ابتدائی منابع میں استعمال ہوا ہے،[3] لیکن خود امام حسنؑ کی زندگی اور آپ کی کنیت و القاب کے ضمن میں کریم‌ اہل‌ بیت کا ذکر سوائے متأخر منابع کے کسی قدیمی تاریخی یا حدیثی منابع میں موجود نہیں ہے۔[4]

کریم اہل‌ بیت کے نام سے امام حسنؑ کی شہرت کی وجہ ان داستانوں کو قرار دیتے ہیں جنہیں مورخین نے آپ کی سخاوت کے حوالے سے نقل کئے ہیں۔[5] کہا جاتا ہے کہ امام حسنؑ نیازمندوں اور فقرء کی اتنی زیاده مدد کرتے تھے کہ تاریخ میں کسی اور ہستی کے بارے میں ایسی داستانیں دیکھنے کو نہیں ملتی ہیں۔[6] امام مجتبیؑ اپنے زمانے میں سب سے زیادہ بخشنے والا اور جود و سخا میں آپ اپنی مثال آپ تھے یہاں تک کہ اہل‌ بیت عصمت و طہارت کا ہر فرد سخاوت و کرامت میں مشہور تھے اس کے باوجود آپ کی ذات "کریم اہل بیت" کے لقب سے مشہور ہوئے۔[7]

اہل سنت عالم دین ابن‌جوزی (متوقی: 654ھ) اپنی کتاب تَذکرۃ الخَوَاص میں شیعوں کے دوسرے امام کو جود و کَرَم کے نامدار شخصیات میں شمار کرتے ہوئے آپ کی فضیلت میں کہتے ہیں کہ حسن بن علیؑ نے اپنی زندگی میں دو مرتبہ اپنی پوری دولت اور مال و متاع خدا کی راہ میں بخش دئے اور تین مرتبہ اپنے اموال کو فقراء کے درمیان بطور مساوی تقسیم کئے؛[8] یہاں تک کہ ایک فقیر کی طرف سے امداد کی درخواست پر اسے 20 ہزار درہم عطا کیا۔[9]

شیعہ عالم دین باقر شَریف قَرْشی (متوفی: 1433ھ) کریم اہل‌ بیت کے لقب کے بارے میں ایک حدیث نقل کرتے ہیں جس میں امام حسن مجتبیؑ سے سوال کیا گیا کہ کیوں آپ کسی بھی سائل کو نا امید نہیں کرتے؟ امامؑ نے فرمایا: میں بھی خدا کے مقابلے میں ایک فقیر ہوں اور چاہتا ہوں کہ خدا مجھے اپنی درگاہ سے محروم نہ کرے، ایسی امید کے ساتھ مجھے شرم آتی ہے کہ میں کسی فقیر کو نا امید کروں جبکہ خدا اپنی نعمتوں سے مجھے نوازتا ہے اور خدا چاہتا ہے کہ میں بھی لوگوں کی مدد کروں۔[10]

کتاب تلخیص الشافی کے محقق سید حسین بحرالعلوم (متوفی: 1380ہجری شمسی) کے مطابق امام حسنؑ کا کریم اور سخی ہونے کا موضوع اتنا وسیع ہے جس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔[11]

شیعہ عالم دین شیخ ہادی آل کاشف‌ الغطاء (متوفی: 1361ھ) امام حسنؑ کی مدح میں لکھے ہوئے قصیدے میں آپ کو کریم اہل‌ بیت کے لقب سے یاد کیا ہے:

ان الامام الحسن مُہذّباخَیرُ الوَری جَدّاً و اُمّاً و اَبا
کریمُ اہل البیت اہلُ الکَرَمعلیہم بَعد الصَّلاۃ سلم[12]
بتحقیق امام حسن پاک اور مہذّب ہیں۔ آپ کے جدّ امجد، والد ماجد اور والدہ ماجدہ بہترین شخصیات ہیں۔ آپ سخی گھرانے کے سخی اور کریم ہیں۔ اس خاندن پر نماز کے بعد درودھ و سلام بھیجتا ہوں۔

ایران میں مختلف خیراتی اداروں کا نام "کریم اہل‌ بیت" کے عنوان سے نام رکھا جاتا ہے۔[13]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. عقیل، من اروع ما قالہ الامام الحسن علیہ‌السلام المجتبی، 1430ھ، ص7؛ آل‌سیف، سید الجنۃ الامام الحسن علیہ‌السلام، 1443ھ، ص164۔
  2. حکیم، پیشوایان ہدایت، 1385ہجری شمسی، ج4، ص46۔
  3. ملاحظہ کریں: یعقوبی، تاریخ یعقوبی، دار صادر، ج2، ص226۔
  4. ملاحظہ کریں: «چرا بہ امام حسن مجتبی(ع) کریم می‌گویند؟»، خبرگزاری ایسنا۔
  5. رضوی، «کریم اہل‌بیت»، ص46۔
  6. محقق ارزگانی، فضایل ائمہ اطہار علیہم‌السلام از دیدگاہ اہل‌سنت، 1395ہجری شمسی، ص103۔
  7. قرشی، دانشنامہ امام امیرالمؤمنین(ع)، 1394ہجری شمسی، ج1، ص32۔
  8. ابن‌جوزی، تذکرۃ الخواص، 1376ہجری شمسی، ص176و-178۔
  9. نظری‌منفرد، الصلح الدامی، 1429ھ، ص349۔
  10. قرشی، النظام التربوی فی الاسلام، دارالکتاب الاسلامی، ص248؛ شوشتری، احقاق الحھ، 1409ھ، ج11، ص238۔
  11. طوسی، تلخیص الشافی، 1382ہجری شمسی، ج4، ص179۔
  12. آقابزرگ تہرانی، الذریعہ، 1403ھ، ج1، ص497۔
  13. ملاحظہ کریں: «پایگاہ اطلاع‌رسانی خیریہ‌ہا و سمن‌ہای کشور»۔

مآخذ

  • آقابزرگ تہرانی، محمدمحسن، الذریعہ الی تصانیف الشیعۃ، بیروت، دار الاضواء 1403ھ۔
  • آل‌سیف، فوزی، سید الجنۃ الامام الحسن علیہ‌السلام، بیروت، دار المحجۃ البضاء، 1443ھ۔
  • ابن‌جوزی، یوسف بن قزاوغلی، تذکرۃ الخواص، قم، شرف رضی، 1376ہجری شمسی۔
  • «پایگاہ اطلاع‌رسانی خیریہ‌ہا و سمن‌ہای کشور»، بازید: 14 آبان 1402ہجری شمسی۔
  • حکیم، سید منذر، پیشوایان ہدایت، قم مجمع جہانی اہل‌بیت، 1385ہجری شمسی۔
  • «چرا بہ امام حسن مجتبی(ع) کریم می‌گویند؟»، خبرگزاری ایسنا، درج مطلب: 17 فروردین 1402ہجری شمسی، بازدید: 7 آبان 1402ہجری شمسی۔
  • رضوی، سید عباس، «کریم اہل‌بیت»، فرہنگ کوثر، ش55، پاییز 1382ہجری شمسی۔
  • شوشتری، قاضی نوراللہ، احقاق الحق و ازہاق الباطل، مقدمہ و تعليقات از آيت اللہ العظمى مرعشى نجفى، مکتبۃ آیۃ اللہ المرعشی النجفی، قم، چاپ اول، 1409ھ۔
  • طوسی، محمد بن حسن، تلخیص الشافی، قم، محبین، 1382ہجری شمسی۔
  • عقیل، محسن، من اروع ما قالہ الامام الحسن علیہ‌السلام المجتبی، بیروت، دار المحجۃ البضاء، 1430ھ۔
  • قرشی، باقر شریف، النظام التربوی فی الاسلام، بی‌جا، دارالکتاب الاسلامی۔
  • قرشی، باقر شریف، دانشنامہ امام امیرالمؤمنین علی بن ابی‌طالب، قم، دار التہذیب، 1394ہجری شمسی۔
  • محقق ارزگانی، قربانعلی، فضایل ائمہ اطہار علیہم‌السلام از دیدگاہ اہل‌سنت، قم، مجمع جہانی شیعہ‌شناسی، 1395ہجری شمسی۔
  • نظری‌منفرد، علی، الصلح الدامی، بیروت، دار الرسول الاکرم(ص)، 1429ھ۔
  • یعقوبی، احمد بن أبى یعقوب، تاریخ الیعقوبى، بیروت، دار صادر، بى‌تا۔