مسودہ:امام کے سامنے دین پیش کرنا
امام کے سامنے دین پیش کرنے سے مراد دینی عقائد اور معارف کو معصوم امامؑ کے سامنے پیش کرنا ہے، تاکہ وہ ان کی تصدیق یا اصلاح کریں۔ اس طریقے کا ذکر شیعہ احادیث کی متعدد روایات میں ملتا ہے اور یہ ائمہ معصومینؑ کے زمانے میں رائج تھا۔
ان روایات کے مضامین میں توحید، رسول اللہؐ کی نبوت اور امامت جیسے بنیادی عقائد سے لے کر اہل بیتؑ کی ولایت اور نماز، روزہ، حج اور جہاد جیسے عبادی اور سماجی احکام تک شامل ہیں۔ بعض روایات میں معاد، قیامت، جنت، جہنم، جبر و اختیار، امام زمانہؑ کی غیبت اور رسول اللہؐ کے معراج جیسے موضوعات بھی بیان ہوئے ہیں۔
شیعہ منابع کے مطابق ائمہ معصومینؑ کے بعض اصحاب جیسے حمران بن اعین، صفوان جمال اور عبد العظیم حسنی نے اپنے زمانے کے امام کے سامنے اپنا دین پیش کیا۔ ان روایات میں عبد العظیم حسنی کا امام ہادیؑ کے سامنے دین پیش کرنے کا واقعہ تفصیلی روایات میں شمار ہوتا ہے۔
تعارف اور اہمیت
امام کے سامنے دین پیش کرنا، دینی عقائد کو جانچنے اور امام معصومؑ سے ان کی تصدیق کرانے کا ایک طریقہ ہے۔[1] یہ طریقہ ائمہ معصومینؑ کے زمانے میں رائج تھا۔[2] شیعہ منابع کے مطابق ائمہ معصومینؑ کے بعض اصحاب اپنے دینی عقائد کو امام معصومؑ کے سامنے پیش کرتے تھے، تاکہ اگر ان میں کوئی غلطی ہو تو انہیں صحیح عقیدے کی طرف رہنمائی مل سکے۔[3]
اسماعیل بن جابر جعفی[4] اور ابوالجارود[5] نے اپنا دین امام محمد باقرؑ کے سامنے پیش کیا۔ اسی طرح حمران بن اعین،[6] عمرو بن حریث صیرفی،[7] خالد بن جریر بجلی،[8] حسن بن زیاد عطار،[9] عبد اللہ بن ابی یعفور،[10] صفوان جمال،[11] منصور بن حازم،[12] یوسف،[13] اور ابراہیم مخارقی[14] نے بھی اپنے عقائد امام جعفر صادقؑ کے سامنے پیش کئے۔ اسی طرح عبد العظیم حسنی نے اپنا دین امام ہادیؑ کے سامنے پیش کیا۔[15]
اس سلسلے میں سب سے پہلی روایت اسماعیل بن جابر کی طرف سے امام محمد باقرؑ کے سامنے اپنا دینی عقیدہ پیش کرنے کا واقعہ ہے۔[16] اسی طرح عبد العظیم حسنی کا امام ہادیؑ کے سامنے دین پیش کرنے کا واقعہ اس سلسلے کی مفصل ترین روایات میں شمار ہوتا ہے۔[17]
پندرہویں صدی ہجری کے شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ صافی گلپایگانی کے مطابق راویوں کی جانب سے ائمہ معصومینؑ کے سامنے دین پیش کرنا، دینی عقائد کی تصدیق اور اصلاح کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے مطابق دوسرے لوگوں کو بھی اپنے عقائد معصوم امامؑ یا علمائے دین کے سامنے پیش کرنا چاہئے۔[18]
پیش کردہ عقائد کی نوعیت
امام معصومؑ کے سامنے دین پیش کرنے سے متعلق روایات کے مضامین میں اصول دین، فروع دین اور دیگر دینی تعلیمات شامل ہیں۔ ان میں سے اکثر روایات میں توحید، نبوت، امامت اور ائمہ معصومینؑ کی معرفی کا ذکر ملتا ہے۔[19]
بعض روایات میں اہل بیتؑ کی ولایت، ان کے دشمنوں سے براءت[20] اور امام معصومؑ کی اطاعت کا واجب ہونے[21] کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اسی طرح بعض روایات میں نماز، زکات، روزہ، حج،[22] جہاد اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا تذکرہ ملتا ہے۔[23]
ان روایات میں معاد، قیامت، جنت، جہنم، صراط، میزان اور قبر میں ہونے والے سوالات جیسے موضوعات بھی بیان ہوئے ہیں۔[24] بعض روایات میں امر بین الامرین، جبر اور تفویض کی نفی،[25] امام مہدیؑ کی غیبت، امام قائم(عج) کا ظہور[26] اور رسول اللہؐ کے معراج کا ذکر بھی ملتا ہے۔[27]
شیعہ محققِ حدیث سید محمدکاظم سید طباطبایی کے مطابق اس سلسلے کی ابتدائی روایات جیسے اسماعیل بن جابر، ابراہیم مخارقی، حسن بن زیاد عطار اور خالد بجلی کی جانب سے اپنے زمانے کے امام کے سامنے دین پیش کرنے کے واقعات میں زیادہ تر توحید، نبوت اور امامت کے موضوعات پر توجہ مرکوز تھیں۔ جبکہ بعد والی بعض روایات میں خدا کے اسماء و صفات، تشبیہ اور تعطیل کی نفی، جبر و تفویض، معاد اور شرعی احکام جیسے موضوعات بھی شامل ہوئے ہیں۔[28] ان کے مطابق بعد کی روایات میں امامت کے مسئلے پر زیادہ توجہ دینے کی ایک وجہ قیام زید بن علی کے بعد کے حالات، زیدیوں کی تبلیغی سرگرمیاں اور امامت کے بارے میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات تھے۔[29]
حوالہ جات
- ↑ صافی گلپایگانی، شرح حدیث عرض دین حضرت عبدالعظیم حسنیؑ، ص23؛ برنجکار، «آموزہای حدیث عرض دین»، ج1، ص132۔
- ↑ ہزار، «حدیث عرض دین و مفاد آن»، ص137۔
- ↑ ہزار، «حدیث عرض دین مفاد آن»، ص137۔
- ↑ کلینی، الکافی، ج1، ص188؛ ج2، ص405۔
- ↑ قطب راوندی، الدعوات، ص135۔
- ↑ شیخ صدوق، معانی الأخبار، ص212-213۔
- ↑ شیخ طوسی، اختیار معرفة الرجال، ج5، ص717۔
- ↑ شیخ طوسی، اختیار معرفة الرجال، ج5، ص719۔
- ↑ شیخ طوسی، اختیار معرفة الرجال، ج5، ص722۔
- ↑ عیاشی، کتاب التفسیر، ج1، ص327۔
- ↑ حمیری، قرب الإسناد، ص62۔
- ↑ کلینی، الکافی، ج1، ص188۔
- ↑ شیخ طوسی، اختیار معرفة الرجال، ج5، ص721۔
- ↑ شیخ طوسی، الأمالی، ص222۔
- ↑ ابن شاذان، اثبات الرجعة، ص38-40؛ شیخ صدوق، التوحید، ص81-82۔
- ↑ طباطبایی، «پیشینه عرض دین و حدیث»، ج1، ص198-199۔
- ↑ طباطبایی، «پیشینه عرض دین و حدیث»، ج1، ص205۔
- ↑ صافی گلپایگانی، شرح حدیث عرض دین حضرت عبدالعظیم حسنیؑ، ص44-45۔
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: شیخ صدوق، التوحید، ص81-82؛ شیخ طوسی، الأمالی، ص222؛ شیخ طوسی، اختیار معرفة الرجال، ج5، ص717۔
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: کلینی، الکافی، ج2، ص405؛ قطب راوندی، الدعوات، ص135۔
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: کلینی، الکافی، ج1، ص188؛ شیخ طوسی، اختیار معرفة الرجال، ج5، ص719۔
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: ابن شاذان، اثبات الرجعة، ص38-40؛ قطب راوندی، الدعوات، ص135۔
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: ابن شاذان، اثبات الرجعة، ص38-40؛ شیخ صدوق، التوحید، ص81-82۔
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: شیخ صدوق، معانی الأخبار، ص212-213؛ شیخ طوسی، اختیار معرفة الرجال، ج5، ص717۔
- ↑ شیخ صدوق، معانی الأخبار، ص212-213۔
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: ابن شاذان، اثبات الرجعة، ص38-40؛ شیخ صدوق، التوحید، ص81-82؛ قطب راوندی، الدعوات، ص135۔
- ↑ ابن شاذان، اثبات الرجعة، ص38-40؛ شیخ صدوق، التوحید، ص81-82۔
- ↑ طباطبایی، «پیشینه عرض دین و حدیث»، ج1، ص208-209۔
- ↑ طباطبایی، «پیشینه عرض دین و حدیث»، ج1، ص208-209۔
مآخذ
- ابنشاذان، فضل بن شاذان، اثبات الرجعة، قم: دار المجتبی، 1392ہجری شمسی۔
- برنجکار، رضا، «آموزه های حدیث عرض دین»، مجموعہ مقالات کنگرہ حضرت عبدالعظیم حسنیؑ، قم: دار الحدیث، 1382ہجری شمسی۔
- حمیری، عبدالله بن جعفر، قرب الإسناد، قم: مؤسسہ آل البیتؑ لإحیاء التراث، 1371ہجری شمسی۔
- خزاز رازی، علی بن محمد، کفایة الأثر فی النص على الأئمة الإثنى عشر، قم: بیدار، 1360ہجری شمسی۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، أمالی، تہران: کتابچی، 1376ہجری شمسی۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، التوحید، قم: دفتر انتشارات اسلامی، 1374ہجری شمسی۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، کمال الدین و تمام النعمة، تہران: دار الکتب الاسلامیہ، 1354ہجری شمسی۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، معانی الأخبار، قم: دفتر انتشارات اسلامی، 1361ہجری شمسی۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، اختیار معرفة الرجال، تصحیح محمدباقر میرداماد، تحقیق سیدمہدی رجایی، قم: مؤسسہ آل البیتؑ لإحیاء التراث، 1363ہجری شمسی۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، الأمالی، قم: دار الثقافة، 1372ہجری شمسی۔
- صافی گلپایگانی، لطفالله، شرح حدیث عرض دین حضرت عبد العظیم حسنی(ع)، قم: دفتر تنظیم و نشر آثار حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی، 1390ہجری شمسی۔
- طباطبایی، سیدمحمدکاظم، «پیشینه عرض دین و حدیث» (دین پیش کرنے کی تاریخ اور حدیث)، مجموعہ مقالات کنگرہ حضرت عبدالعظیم حسنیؑ، قم: دار الحدیث، 1382ہجری شمسی۔
- طبرسی، فضل بن حسن، إعلام الورى بأعلام الهدى، قم: مؤسسہ آل البیتؑ لإحیاء التراث، 1375ہجری شمسی۔
- عیاشی، محمد بن مسعود، کتاب التفسیر، تحقیق سیدہاشم رسولی محلاتی، تہران: مکتبہ علمیہ اسلامیہ، 1339ہجری شمسی۔
- قطب راوندی، سعید بن هبه الله، الدعوات، قم: مدرسہ امام مہدیؑ، 1366ہجری شمسی۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران: دار الکتب الاسلامیہ، 1363ہجری شمسی۔
- ہزار، علی رضا، https://www.noormags.ir/view/fa/articlepage/1481 «حدیث عرض دین و مفاد آن»] (حدیث عرض دین اور اس کا مفاد)، مجلہ علوم حدیث، شمارہ 27، بہار 2003ء۔