مثلی لا یبایع مثلہ
| حدیث کے کوائف | |
|---|---|
| موضوع | ظالموں اور کفار کی بیعت نہ کرنا |
| صادر از | امام حسینؑ |
| شیعہ مآخذ | لہوف اور مثیر الاحزان |
| اہل سنت مآخذ | مقتل خوارزمی |
| مشہور احادیث | |
| حدیث سلسلۃ الذہب • حدیث ثقلین • حدیث کساء • مقبولہ عمر بن حنظلۃ • حدیث قرب نوافل • حدیث معراج • حدیث ولایت • حدیث وصایت • حدیث جنود عقل و جہل • حدیث شجرہ | |
مِثْلِی لَا يُبَايِعُ مِثْلَہ یا مِثْلِی لَا يُبَايِعُ مِثْلَ يَزِيدَ ، (اردو: مجھ جیسا اُس (یزید) جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا) امام حسینؑ کا ایک مشہور جملہ ہے جسے آپ نے یزید کی طرف سے بیعت کے مطالبے کے موقع پر ارشاد فرمایا۔ تاریخی مصادر کے مطابق سنہ 60ھ میں معاویہ کی وفات کے بعد یزید نے مدینہ کے والی ولید بن عتبہ کو حسین ابن علیؑ سے بیعت لینے کا حکم دیا۔ امام حسینؑ نے یزید کی بیعت سے انکار کیا۔ اس کے بعد مروان بن حکم نے دھمکی کے ذریعے امام حسینؑ سے بیعت لینے کی کوشش کی تو امامؑ نے جواب میں یہ جملہ فرمایا: «مِثْلِی لَا يُبَايِعُ مِثْلَہ»۔[1]
یہ روایت الفتوح،[2] مقتل خوارزمی،[3] مثیر الاحزان[4] اور لہوف[5] جیسے منابع میں نقل ہوئی ہے۔ اہل سنت کے بعض منابع میں مذکورہ عبارت کی جگہ «انَّ مِثْلی لا يُبايِعُ سِرّا» کی تعبیر نقل ہوئی ہوئی ہے۔[6]
شیعہ فقیہ آیت اللہ جوادی آملی کے مطابق روایت «مِثْلِی لَا يُبَايِعُ مِثْلَہ» حق و باطل کے درمیان دائمی تقابل کو بیان کرتی ہے۔[7] آپ کے بقول جو شخص امام حسینؑ کے نقش قدم پر زندگی بسر کرنا چاہتا ہے وہ ظالموں سے سازش نہیں کرتا،[8] طاغوتی حکومت کو قبول نہیں کرتا اور ذلت و پستی کے آگے سر تسلیم خم نہیں کرتا۔[9]
اسلامی جمہوریہ ایران کے دوسرے رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اپنی شہادت سے پہلے اپنی آخری تقریر میں اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی عوام اس اعلیٰ تہذیب، ثقافت اور معارف کے ساتھ کبھی بھی امریکہ کے فاسد حکمرانوں کی بیعت نہیں کریں گے۔[10]آپ کی شہادت کے بعد خاص کر جنگ رمضان کے دوران یہ عبارت مقاومت اور دشمن کے ساتھ ساز باز اور مسلط کرده صلح کے خلاف باقاعدہ ایک شعار اور نعرے میں تبدیل ہوگئی اور مذکورہ جنگ کے دوران ایران کے عوامی اجتماعات، میڈیا تخلیقات، پلے کارڈز اور ملی نغموں میں بھی اس کی بازگشت سنائی دینے لگی۔
حوالہ جات
- ↑ خوارزمى، مقتل الحسین، ج1، ص267۔
- ↑ ابناعثم، الفتوح، ج5، ص14۔
- ↑ خوارزمى، مقتل الحسین، ج1، ص267۔
- ↑ ابننما حلى، مثیرالأحزان، ص24۔
- ↑ ابنطاووس، اللہوف، ص23۔
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں:: بلاذری، انساب الأشراف، ج5، ص302؛ ابنعبدالبر، الاستیعاب، 141 ج1، ص396۔
- ↑ جوادی آملی، حماسہ و عرفان، ص174۔
- ↑ جوادی آملی، شکوفایی عقل، ص197۔
- ↑ جوادی آملی، سروش ہدایت، اسراء، ج2، ص204۔
- ↑ خامنہ ای، «بیانات در دیدار مردم آذربایجان شرقی»، وبگاہ دفتر حفظ و نشر آثار آیتاللہ خامنہای۔
مآخذ
- ابناثیر، على بن ابى الکرم، الکامل فی التاریخ ، بیروت، دار صادر، 1385ھ۔
- ابناعثم، احمد، الفتوح، تحقیق على شیرى، بیروت، دارالأضواء، پہلی اشاعت، 1411ھ۔
- ابننما حلى، جعفر بن محمد، مثیر الأحزان، تحقیق مدرسہ امام مہدى(ع)، قم، مدرسہ امام مہدى(ع)، تیسری اشاعت، 1406ھ۔
- ابنطاووس، على بن موسى، اللہوف على قتلى الطفوف، ترجمہ احمد فہرى زنجانى، تہران، نشر جہان، پہلی اشاعت، 1348ہجری شمسی۔
- ابن عبدالبر، یوسف بن عبداللہ، الاستیعاب فى معرفۃ الأصحاب، تحقیق على محمد البجاوى، بیروت، دار الجیل، پہلی اشاعت، 1412ھ۔
- بلاذری، أحمد بن یحیى، انساب الأشراف، تحقیق احسان عباس، بیروت، جمعیۃ المستشرقین الألمانیۃ، 1400ھ۔
- جوادی آملی، عبداللہ، حماسہ و عرفان، تحقیق محمد صفایی، قم، اسراء، آٹھویں اشاعت، 1384ہجری شمسی۔
- جوادی آملی، عبداللہ، سروش ہدایت، قم، اسراء، پانچویں اشاعت، بے تا۔
- جوادی آملی، عبداللہ، شکوفایی عقل در پرتو نہضت حسینی، تحقیق سعید بندعلی، قم، اسراء، پانچویں اشاعت، 1388ہجری شمسی۔
- خامنہای، «بیانات در دیدار مردم آذربایجان شرقی»، (مشرقی آذربایجان کی عوام سے ملاقات کے موقع پر خطاب) ویب سائٹ دفتر حفظ و نشر آثار آیتاللہ خامنہای، تاریخ درج مطلب: 17 فروری 2026ء، تاریخ مشاہدہ: 13 مئی 2026ء۔
- خوارزمى، موفق بن احمد، مقتل الحسین علیہ السلام، قم، انوار الہدى، دوسری اشاعت، 1423ھ۔