مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:آیت قذف

ویکی شیعہ سے
آیت قذف
آیت کی خصوصیات
آیت کا نامآیت قذف
سورہنور
آیت نمبر4
پارہ18
موضوعزنا اور لواط کی تہمت کا حکم
مضمونچار گواہ کے بغیر کسی پر زنا اور لواط کی تہمت لگانا


آیتِ قذف یا سورہ نور کی چوتھی آیت، آیات الاحکام میں سے ہے، جس میں قذف کی حرمت اور اس کی شرعی سزا بیان ہوئی ہے۔ قذف سے مراد کسی شخص پر زنا یا لواط کا الزام لگانا ہے۔ اس آیت کے مطابق جو شخص چار گواہ پیش کئے بغیر کسی پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت لگائے، اسے اسی(80) کوڑے مارے جائیں گے، اس کی گواہی کبھی قبول نہیں کی جائے گی اور اسے فاسق قرار دیا جائے گا۔

آیت کا تعارف اور اسلامی علوم میں اس کا مقام

سورۂ نور کی چوتھی آیت کو «آیتِ قذف»،[1] «آیتِ رمی»[2] اور «آیتِ حدِ قذف»[3] کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ قذف کسی شخص پر زنا یا لواط کا الزام لگانے کو کہا جاتا ہے۔[4] آیتِ قذف آیات الاحکام میں شمار ہوتی ہے اور فقہی مباحث، بالخصوص حدود کے احکام، میں اس سے استدلال کیا جاتا ہے۔[5] فقہاء نے اس آیت سے استناد کرتے ہوئے قذف کی حرمت اور اس کی شرعی سزا کو مسلمانوں کے درمیان متفق علیہ حکم قرار دیا ہے۔[6]

علوم قرآن میں بھی اس آیت کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ علومِ قرآن کی تصنیفات میں آیتِ قذف سے اس نظرئے کی وضاحت کی گئی ہے کہ قرآن کے احکام صرف ان آیات کے اسباب نزول تک محدود نہیں ہوتے۔ لہٰذا اگرچہ کوئی آیت کسی خاص واقعے اور معین افراد کے بارے میں نازل ہوئی ہو، تب بھی اس کا حکم عمومی ہو سکتا ہے اور تمام مسلمانوں کو شامل ہو سکتا ہے۔[7]

اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴿٤﴾
اور جو لوگ پاکدامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں، پھر چار گواہ پیش نہ کریں تو انہیں اسّی (۰۸) کوڑے لگاؤ اور کبھی ان کی کوئی گواہی قبول نہ کرو اور یہ لوگ فاسق ہیں۔



سورہ نور آیت نمبر 4

اسبابِ نزول سے متعلق بعض منابع میں واقعۂ افک کو سورۂ نور کی آیت نمبر 4 کے نزول کا سبب قرار دیا گیا ہے۔[8] اس کے برخلاف، لبنانی مفسر محمدجواد مغنیہ کے مطابق اکثر مفسرین اور مؤرخین نے سورۂ نور کی آیات 11 سے 20 کو واقعۂ افک سے متعلق قرار دیا ہے۔[9] بعض دیگر روایات میں آیتِ قذف کے نزول کو ہلال بن امیہ کی جانب سے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگانے کے واقعے سے متعلق بتایا گیا ہے۔[10]

آیت کا مفہوم

آیتِ قذف میں چار گواہ پیش کئے بغیر پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانے والوں کے لئے تین سزائیں بیان ہوئی ہیں: اسی(80) کوڑے مارے جائیں گے، ان کی گواہی کبھی قبول نہیں ہوگی اور انہیں فاسق قرار دیا جائے گا۔[11] تفسیر نمونہ کے مصنف آیت اللہ مکارم شیرازی کے مطابق ان سزاؤں کی شدت اسلام میں لوگوں کی عزت و آبرو کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔[12] اس اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ بہت سے جرائم میں گواہی کے لئے دو گواہ کافی ہوتے ہیں، جب کہ زنا کے الزام کو ثابت کرنے کے لئے چار گواہوں کی شرط رکھی گئی ہے۔[13]

تفسیر المیزان کے مصنف علامہ طباطبائی کے مطابق آیت میں استعمال ہونے والے الفاظ کے ظاہری مفہوم سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں تمام عورتوں پر تہمت لگانا شامل ہے، لیکن سیاق آیت کے پیش نظر اس سے مراد صرف پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا ہے۔[14] بعض علماء نے اس آیت کو وسیع مفہوم کا حامل قرار دیا ہے۔ مثلا شیعہ فقیہ صاحبِ جواہر لکھتے ہیں کہ اس آیت کے حکم میں مردوں پر لواط کی تہمت لگانا بھی شامل ہے۔[15] اسی طرح آیت اللہ مشکینی نے اپنی کتاب تفسیرِ رواں میں لکھا ہے کہ آیتِ قذف کا حکم مردوں کی جانب سے پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانے کے ساتھ ساتھ، عورتوں کی جانب سے پاک دامن مردوں پر زنا کی تہمت لگانے کو بھی شامل ہے۔[16]

دیگر آیات سے تعلق

آیتِ قذف سورہ نور آیت نمبر 23 سے بھی مربوط ہے؛ کیونکہ دونوں آیات قذف کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں۔[17] آیتِ قذف سورۂ نور کی سابقہ آیات کے تسلسل میں اسلام کے کیفری احکام میں سے ایک حکم بیان کرتی ہے۔[18] سورۂ نور کی پہلی آیت کے مطابق شرعی احکام اور ان سے متعلق معارف کا بیان اس سورت کے بنیادی مقاصد میں سے ہے۔[19] سورہ نور آیت نمبر 2 میں زنا کرنے والوں کی سزا[20] اور آیت نمبر 3 میں ان سے نکاح کرنے کا حکم بیان ہوا ہے۔[21]

آیت اللہ مکارم شیرازی کے مطابق ممکن ہے کہ سورہ نور کی پہلی اور دوسری آیت میں بیان کردہ سزائیں پاک دامن افراد پر ناروا الزام لگانے کا سبب بن جائیں؛ اسی لئے آیتِ قذف میں ایسے لوگوں کے لئے سزا مقرر کی گئی ہے جو دوسروں پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں، تاکہ پاک دامن افراد کی عزت و آبرو کا تحفظ کیا جا سکے۔[22] سورہ نور آیت نمبر 5 میں توبہ کرنے والوں کو اس حکم سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔[23] اسی طرح اس سورے کی چھٹی آیت میں قذف کی ایک خاص صورت، یعنی شوہروں کی جانب سے اپنی بیویوں پر تہمت لگانے کا حکم بیان کیا گیا ہے۔[24]

حوالہ جات

  1. ↑ زحیلی، التفسیر المنیر، ج18، ص158۔
  2. ↑ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو: صادقی تہرانی، الفرقان، ج21، ص36؛ آلوسی، روح المعانی، ج9، ص296۔
  3. ↑ ملاحظہ ہو: مشکینی، رسائل قرآنی، ج1، ص457؛ مقدس اردبیلی، مجمع الفائدۃ و البرہان، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ج12، ص198۔
  4. ↑ شہید ثانی، الروضۃ البہیۃ، ج9، ص166؛ عبدالرحمان، معجم المصطلحات و الالفاظ الفقہیۃ، ج3، ص74۔
  5. ↑ فاضل جواد، مسالک الافہام، ج4، ص197۔
  6. ↑ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو: شیخ طوسی، المبسوط، ج8، ص15؛ شہید ثانی، الروضۃ البہیۃ، ج3، ص350۔
  7. ↑ طاہری، درس‌ہایی از علوم قرآنی، ج2، ص314؛ سعیدی روشن، اسباب نزول یا زمینہ‌ہای نزول آیات قرآن، زمزم ہدایت، ص29؛ زرکشی، مناہل العرفان، دار احیاء التراث العربی، ج1، ص118۔
  8. ↑ عنایہ، اسباب النزول القرآنی، ص59۔
  9. ↑ مغنیہ، تفسیر الکاشف، ج5، ص403۔
  10. ↑ قرطبی، الجامع لأحکام القرآن، ج12، ص183۔
  11. ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج14، ص369-370۔
  12. ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج14، ص370۔
  13. ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج14، ص373۔
  14. ↑ طباطبائی، المیزان، ج15، ص81۔
  15. ↑ نجفی، جواہر الکلام، ج41، ص402۔
  16. ↑ مشکینی، تفسیر روان، ج5، ص274۔
  17. ↑ مشکینی، رسائل قرآنی، ج1، ص457۔
  18. ↑ طباطبائی، المیزان، ج15، ص78-82۔
  19. ↑ طباطبائی، المیزان، ج15، ص78۔
  20. ↑ طباطبائی، المیزان، ج15، ص79۔
  21. ↑ طباطبائی، المیزان، ج15، ص80۔
  22. ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج14، ص369۔
  23. ↑ طبرسی، مجمع البیان، ج7، ص199۔
  24. ↑ جزائری، ایسر التفاسیر، ج3، ص550۔

مآخذ

  • آلوسی، محمود بن عبداللہ، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم و السبع المعانی، بیروت، دار الکتب العلمیہ، 1415ھ۔
  • جزائری، جابر، ایسر التفاسیر لکلام العلی الکبیر، مدینہ، مکتبۃ العلوم و الحکم، 1416ھ۔
  • زحیلی، وہبہ، التفسیر المنیر فی العقیدۃ و الشریعۃ و المنہج، دمشق، دار الفکر، 1411ھ۔
  • زرقانی، محمد عبدالعظیم، مناہل العرفان فی علوم القران، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بے تا۔
  • سعیدی‌روشن، محمدباقر، اسباب نزول یا زمینہ‌ہای نزول آیات قرآن، قم، زمزم ہدایت، بے تا۔
  • شہید ثانی، زین‌الدین العاملی، الروضۃ البہیۃ فی شرح اللمعيۃ الدمشقیہ، قم، دار التفسیر، 1427ھ۔
  • شہید ثانی، زین‌الدین بن علی، الروضۃ البہیۃ فی شرح اللمعۃ الدمشقیۃ، حاشیہ و شرح کلانتر، قم، کتابفروشی داوری، پہلی اشاعت، 1410ھ۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، المبسوط فی فقہ الامامیہ، تہران، المکتبۃ المرتضویہ، 1387ھ۔
  • صادقی تہرانی، محمد، الفرقان فی تفسیر القرآن بالقرآن و السنہ، قم، فرہنگ اسلامی، 1406ھ۔
  • طاہری، حبیب‌اللہ، درس‌ہایی از علوم قرآنی، قم، اسوہ، 1377ہجری شمسی۔
  • طباطبایی، محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الاعلامی للمطبوعات، 1390ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، ناصرخسرو، 1372ہجری شمسی۔
  • عبدالرحمان،‌ عبدالمنعم، معجم المصطلاحات و الالفاظ الفقہیہ، بے جا‌، بے نا، بے تا۔
  • عنایہ، غازی حسین، اسباب النزول القرآنی، بیروت، دار الجیل، 1411ھ۔
  • فاضل جواد، جواد بن سعید، مسالک الافہام الی آیات الاحکام، تہران، المکتبۃ المرتضویہ، 1365ہجری شمسی۔
  • قرطبی، محمد بن احمد، الجامع لاحکام القرآن، تہران، ناصرخسرو، 1364ہجری شمسی۔
  • مشکینی، علی، تفسیر روان، قم، مؤسسہ علمی فرہنگی دار الحدیث، 1392ہجری شمسی۔
  • مشکینی، علی، رسائل قرآنی، قم، مؤسسہ علمی فرہنگی دار الحدیث، 1393ہجری شمسی۔
  • مغنیہ، محمدجواد، تفسیر الکاشف، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، 1424ھ۔
  • مقدس اردبیلی، احمد بن محمد، مجمع الفائدۃ و البرہان فی شرح ارشاد الاذہان، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، بے تا۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1371ہجری شمسی۔
  • نجفی، محمدحسن، جواہر الکلام فی شرح شرائع الاسلام، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1362ہجری شمسی۔