شیعوں کے خلاف دہشتگردی کے واقعات

ویکی شیعہ سے

شیعوں کے خلاف دہشتگردی کے واقعات سے مراد دہشتگردی کے وہ واقعات ہیں جو بیسویں صدی اور اکیسویں صدی کے آخری بیس سالوں میں شیعوں کے خلاف مختلف ممالک میں رونما ہوئے ہیں۔ پاکستان، افغانستان، عراق اور ایران کے شیعہ سب سے زیادہ ان حملوں سے روبرو ہوئے ہیں۔ اسی طرح سعودی عرب، سوریہ، لبنان اور یمن کے شیعہ بھی ان حملات سے محفوظ نہیں رہے ہیں۔ ان ممالک میں شیعوں کے خلاف ہونے والے ان آخری سالوں کے حملوں میں سب سے زیادہ داعش شریک تھا۔ اسی طرح پاکستان اور بعض افغانستان میں ہونے والے حملوں میں سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان پاکستان کا ہاتھ تھا۔ یہی کام عراق میں القاعدہ کر رہا تھا۔ ان کے علاوہ ایران میں سازمان مجاہدین خلق المعروف منافقین، طالبان، داعش شعبہ خراسان، گروہ فرقان، پژاک، جنداللہ، جیش العدل اور الاحوازی بہت سارے حملوں کے ذمہ دار ٹھہرے گئے ہیں۔

پاکستان

نیویورکر کی رپورٹ کے مطابق 1999ء سے 2003 تک پاکستان میں 600 افراد مذہبی دہشتگردی میں مارے گئے ہیں اور 500 شیعہ ڈاکٹر ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔[1] نگہبان حقوق بشر (Human Rights Watch) کی رپورٹ کے مطابق 2008 سے 2016ء تک پاکستان میں 500 شیعہ ہزارہ مارے گئے ہیں۔[2] ایک اندازے کے مطابق 2012 سے 2015ء تک 1900 شیعہ خودکش حملوں اور دہشتگردی سانحات میں مارے گئے ہیں۔[3]

2024

  • پاراچنار جاتی ہوئی گاڑی پر حملہ

7 جنوری 2024ء، خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں پاراچنار شہر جاتی ہوئی ایک کوچ اور کار پر مسلح افراد نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں خاتون سمیت 4 شیعہ مارے گئے۔[4]

2023

  • پاراچنار پر دہشتگردوں کا حملہ

11 جولائی 3023ء، پاراچنار پر کئی دنوں کے حملوں کے نتیجے میں 10 سے زائد افراد قتل اور متعدد زخمی ہوئے۔[5]

2022

  • پشاور میں شیعہ نماز جمعہ پر حملہ

4 مارچ 2022ء کو پشاور قصہ خوانی بازار کی شیعہ مسجد پر نماز جمعہ کے دوران خودکش حملہ ہوا جس میں 65 افراد مارے گئے جبکہ 194 زخمی ہوئے۔[6]

آخری سالوں میں پاکستان کے شہر پاراچنار پر دہشتگردوں کے حملے[7]
تاریخ شہر قربانیوں کی تعداد زخمیوں کی تعداد دہشتگرد کا تعلق
24 جولائی 2017ء طوری بازار پارچنار 67 نفر 200 نفر لشکر جھنگوی
31 مارچ 2017ء امام بارگاہ پاراچنار 24 نفر 100 نفر تحریک طالبان پاکستان(TTP)
21 جنوری 2017ء سبزی منڈی پاراچنار 25 نفر 87 نفر تحریک طالبان پاکستان
13 دسمبر 2015م اتوار بازار پاراچنار 25 نفر 62 نفر لشکر جھنگوی

2017

مزید معلومات کے لئے دیکھئے: پاراچنار
  • طوری بازار پاراچنار میں دھماکہ

24 جولائی 2017ء، جب لوگ افغانستان کے بارڈر پر واقع شیعہ نشین شہر پاراچنار کے طوری بازار میں عید فطر کی خریداری میں مصروف تھے، ایسے میں مسلسل کئی دھماکے ہوئے اور ان دھماکوں میں 67 افراد مارے گئے اور 200 زخمی ہوئے۔[8]

  • پاراچنار کے ایک امام بارگاہ پر حملہ

31 مارچ 2017ء، نور مارکیٹ میں خودکش حملہ آور نے امام بارگاہ پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 24 افراد مارے گئے اور 100 زخمی ہوئے۔[9]

  • پاراچنار سبزی منڈی میں دھماکہ

21 جنوری 2017ء، سبزی منڈی پاراچنار میں ایک بم دھماکہ ہوا جس میں 25 افراد قتل اور 87 زخمی ہوئے۔[10]

2015

  • اتوار بازار پاراچنار میں خودکش حملہ

13 دسمبر 2015ء، اتوار بازار پاراچنار میں خودکش حملے میں 25 افراد مارے گئے اور 62 زخمی ہوئے۔[11]

2013

براڈ آدمز انچارج نگہبان حقوق انسانی:

«اب مزید ہزاروں کے لئے خرید و فروخت کے لئے جانا یا سفر کرنا یا کوئی سکول یا کسی کام پر جانے کا راستہ ہزارہ قوم کے لئے امن نہیں ہے۔ حکومت کا ان حالات پر قابو پانے میں حکومت کی ناکامی حیرت انگیز تھی اور غیر قابل قبول ہے»۔[12]

مآخذ، دیدہ‌بان حقوق بشر، «پاکستان: قتل عام شیعیان توسط افراط گرایان»، وبگاہ دیدہ‌بان

شیعوں کے خلاف ہونے والے دہشتگردی کے واقعات کے خلاف کوئٹہ میں خواتین کا احتجاج
  • کوئٹہ کے ایک سنوکر کلب پر حملہ

10 جنوری 2013ء، ایک سنوکر کلب جو ہزارہ کمیونٹی میں تھا پر دہشتگردوں کا حملہ اور 96 افراد مارے گئے اور 150 افراد زخمی ہوئے۔[13]

  • کوئٹہ ہزارہ ٹاؤن میں دھماکہ

17 فروری 2013ء، ہزارہ ٹاؤن کوئٹہ مین ایک بم دھماکہ ہوا جس میں 84 افراد مارے گئے اور 190 افراد زخمی ہوئے۔[14]

  • راولپنڈی عاشورا جلوس پر حملہ

نومبر 2013ء، راولپنڈی راجہ بازار میں عاشورا کے جلوس پر حملہ ہوا جس میں 8 نفر مارے گئے اور 30 افراد زخمی ہوئے۔[15]

  • ایک ڈاکٹر اور ساتھوں کا قتل

فروری 2013ء، سید حیدرعلی ماہر امراض چشم اور ان کے بیٹے لاہور میں جبکہ کراچی میں نیوی کے آفیسر سید عظیم حیدر کاظمی قتل ہوئے۔[16]

  • سید سبط جعفر پر حملہ
تفصیلی مضمون: سبط جعفر زیدی

18 مارچ 2013ء، سید سبط جعفر زیدی پاکستان کے شہر کراچی میں سپاہ صحابہ/لشکر جھنگوی کے دہشتگردوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔[17]

2012

  • جنوری 2012ء کے حملے

جنوری 2012ء میں ہونے والے 32 حملوں میں 58 شیعہ افراد مارے گئے جبکہ 67 آدمی زخمی ہوئے۔[18]

  • سانحہ کوہستان
مزید معلومات کے لئے دیکھئے: گلگت

28 فروری 2012ء کو صوبہ خیبرپختونخواہ کے ضلع کوہستان میں ہربن داس کے مقام 19 شیعہ مسافرمارے گئے۔[19]

  • سانحہ چلاس

3 اپریل سنہ 2012ء، گلگت بلتستان کا علاقہ چلاس میں راولپنڈی سے گلگت بلتستان جانے والی بسوں پر حملہ اور 12 افراد کا قتل۔[20]

  • سانحہ لولوسر

16 اگست 2012ء کو راولپنڈی سے استور اور گلگت جانے والی تین بسوں پر حملوں کے نتیجے میں 25 مسافروں کو مارا گیا۔[21]

  • محرم کی مجالس پر حملہ

اکتوبر اور نومبر 2012ء کے درمیان محرم کے ایام میں 30 شیعوں کو قتل کیا جبکہ 200 افراد زخمی ہوئے۔[22]

2011

  • کوئٹہ میں سپورٹس کلب میں دھماکہ

جنوری 2011ء میں کوئٹہ کے سپورٹس کلب میں دھماکہ ہوا جس میں 81 افراد مارے گئے۔[23]

  • کراچی اور لاہور میں شیعہ مظاہروں پر حملہ

جنوری 2011ء، کراچی اور لاہور میں شیعہ مظاہروں میں دو الگ الگ دھماکے ہوئے جس میں 10 افراد مارے گئے۔[24]

  • کراچی میں وکلاء کا قتل

فروری 2011ء کراچی میں 10 افراد مارے گئے جن میں 10 آدمی شیعہ وکیل تھے۔[25]

  • کوئٹہ ہزارہ نشین علاقے بازار میں دھماکہ

فروری 2011ء، شیعہ ہزارہ نشین علاقے کی بازار میں دھماکہ ہوا جس میں 84 آدمی مارے گئے جبکہ 169 آدمی زخمی ہوئے۔[26]

  • بلوچستان کے شیعہ زائرین پر حملہ

ستمبر 2011ء، مسلح افراد نے بلوچستان میں شیعہ زائرین کی بس پر حملہ کیا جس میں 26 آدمی مارے گئے۔[27]

  • کراچی میں شیعوں پر حملہ

نومبر 2011ء کراچی میں شیعوں پر حملہ ہوا جس میں دو سکیورٹی اہلکار مارے گئے اور 11 افراد زخمی ہوئے۔

  • رضا عسکری کا قتل

دسمبر 2011ء، کراچی میں شیعہ رہنما رضا عسکری کا قتل۔[28]

2010

  • کراچی میں بم دھماکہ

فروری 2010ء میں دو بم دھماکوں میں کراچی کے 25 شیعہ قتل ہوئے جبکہ 50 آدمی زخمی ہوئے۔[29]

  • قبائلی علاقوں میں قتل

حولائی 2010ء، پاکستان کے قبائلی علاقوں میں 16 آدمی مارے گئے۔[30]

  • لاہور میں شیعہ مظاہرے میں دھماکہ

ستمبر 2010ء، لاہور کے ایک مظاہرے میں ہونے والے بم دھماکے میں کم سے کم 35 آدمی قتل ہوئے جبکہ 160 زخمی ہوئے۔[31]

  • کوئٹہ میں شیعہ قافلے پر حملہ

ستمبر 2010ء، کوئٹہ میں شیعہ قافلے پر حملہ ہوا جس میں کم سے کم 50 افراد مارے گئے۔[32]

2006

شہید حسن ترابی، پاکستان کے شیعہ عالم دین
  • علامہ حسن ترابی کا قتل

اپریل 2006ء، پاکستان کے شہر کراچی میں شیعہ عالم دین علامہ حسن ترابی پر حملہ ہوا جس میں آپ بچ گئے[33] لیکن جولائی میں ہونے والے حملے میں آپ شہید ہوئے۔[34]

2005

  • گلگت کے شیعوں پر حملہ
مزید معلومات کے لئے دیکھئے: سید ضیاء الدین رضوی

جنوری 2005ء، آغا ضیاء الدین رضوی سمت دیگر 17 آدمیوں کا قتل[35]

  • گندھوا میں شیعہ بارگاہ پر حملہ

مارچ 2005ء، بلوچستان کا علاقہ گندھوا میں ایک زیارتگاہ پر حملہ جس میں کم سے کم 50 آدمی مارے گئے جبکہ 100 آدمی زخمی ہوئے۔[36]

2004

  • کوئٹہ عاشورا کے جلوس پر حملہ

مارچ 2004ء، کوئٹہ میں عاشورا کے جلوس پر حملہ ہوا جس میں 40 عزادار قتل ہوئے جبکہ 150 زخمی ہوئے۔[37]

2002

  • راولپنڈی میں شیعہ مسجد پر حملہ

فروری 2002ء، راولپنڈی کی شیعہ مسجد پر حملہ ہوا جس میں 11 آدمی مارے گئے اور 14 زخمی ہوئے۔[38]

1999

لاہور میں ایرانی خانہ فرہنگ کے قونصل جنرل شہید صادق گنجی
  • ایران کے خانہ فرہنگ لاہور کے قونصلیٹ صادق گنجی کا قتل

دسمبر 1990ء، ایرانی خانہ فرہنگ لاہور کے قونصلیٹ صادق گنجی قتل ہوئے۔[39]

1998

  • لاہور میں شیعہ عزاداروں پر حملہ

جنوری 1998ء، لاہور میں شیعہ عزاداروں پر جملہ ہوا جس میں 27 افراد مارے گئے اور 34 زخمی ہوئے۔[40]

1997

  • ملتان میں خانہ فرہنگ ایران پر حملہ

2 فروری 1997ء کو ہونے والے حملے میں خانہ فرہنگ ایران کے قونصل جنرل سید محمد علی رحیمی سمیت 8 افراد جاں بحق ہوئے۔[41]

1995

7 مارچ 1995ء، پاکستان کے شہر لاہور میں ڈاکٹر محمد علی نقوی اپنے محافظ کے ساتھ دہشتگردوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔[42]

1988

  • شیہد عارف حسین حسینی کی شہادت
تفصیلی مضمون: سید عارف حسین حسینی

اگست 1988ء پاکستان میں شیعوں کے قائد اور تحریک جعفریہ پاکستان کے سربراہ عارف حسین حسینی کی پشاور میں شہادت۔[43]

  • گلگت شہر اور مضافات پر حملہ
مزید معلومات کے لئے دیکھئے: گلگت

17 مئی 1988ء، گلگت شہر پر اور اطراف پر یلغار اور ایک ہفتے کی جنگ میں 60 سے زائد شیعہ مارے گئے اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔[44]

ایران

ایران شیعہ مرکز ہونے کے ناطے دہشتگردی کے حملے اور واقعات بھی یہاں پر زیادہ ہوتے ہیں بالخصوص ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد شدت آئی ہے۔[45] مطالعات ٹروریزم کے ماہر سلیم صدیقی کے مطابق اسلامی انقلاب کے بعد ایران میں 17 ہزار لوگ دہشتگردی کے بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔[46] یہاں پر کچھ مشہور اور نئے حملوں کا تذکرہ ہوتا ہے جو اخبارات میں ذکر کئے ہیں۔

2024

  • قاسم سلیمانی کی برسی پر کرمان میں دھماکہ
  • 3 جنوری سنہ 2024ء کو شہید قاسم سلمیانی کی چوتھی برسی کے موقعے پر گلزار شہدائے کرمان پر دھماکہ جس میں 94 افراد مارے گئے اور 279 زخمی ہوئے۔[47]

2023

  • حرم شاہ چراغ شیراز میں دھماکہ
تفصیلی مضمون: حرم شاہ چراغ پر حملہ

13 اگست 2023ء، حرم شاہ چراغ شیراز میں دہشتگردی کا دوسرا واقعہ پیش آیا جس میں دو آدمی قتل ہوئے اور 7 زخمی ہوئے۔[48]

2022

  • حرم شاہ چراغ شیراز میں دھماکہ
تفصیلی مضمون: حرم شاہ چراغ پر حملہ

26 اکتوبر 2022ء، حرم شاہ چراغ شیراز پر پہلا حملہ جس میں 13 افراد مارے گئے اور 20 سے زائد زخمی ہوئے۔[49]

  • حرم امام رضاؑ میں حملہ

6 اپریل 2022ء، دہشتگردوں کا حرم امام رضاؑ میں موجود تین شیعہ علما پر چاقو سے حملہ جس میں دو آدمی مارے گئے اور ایک زخمی ہوا۔[50]

2018

ایرانی فوجی پریڈ کے دوران دہشتگردوں کا حملہ (22 ستمبر 2018ء)
  • اہواز میں فوجی پریڈ کے دوران حملہ

22 ستمبر 2018ء، اہواز میں فوجی پریڈ کے دوران حملہ جس میں 25 افراد قتل ہوئے جبکہ 60 زخمی ہوئے۔[51]

2017

  • مجلس شورائے اسلامی ایران پر حملہ

7 جون 2017ء، دہشتگرد تنظیم داعش نے مجاہدین خلق کی تعاون سے تہران میں ایرانی پارلیمنٹ پر حملہ کیا جس میں 17 افراد قتل ہوئے اور 5 زخمی ہوئے [52]

2010

  • مسجد جامع زاہدان میں دھماکہ

16 جولائی 2010ء، زاہدان کی جامع مسجد میں دہشتگرد گروہ جنداللہ کی طرف سے دو دھماکے جس میں 20 افراد قتل اور 100 زخمی ہوئے۔[53]

2009

  • زاہدان میں شیعہ مسجد میں دھماکہ

28 مئی 2009ء، زاہدان کی مسجد علی بن ابی‌طالب میں دھماکہ اور 20 افراد قتل ہوئے جبکہ دسیوں لوگ زخمی ہوئے۔ جنداللہ نے اس کی ذمہ داری قبول کی۔[54]

  • امام خمینی کے مزار پر حملہ

20 جون 2009ء، ایک خودکش بمبار کا مزار امام خمینی پر حملہ اور حرم سے باہر پھٹ گیا جس کے نتیجے میں دہشتگرد مارا گیا۔[55]

  • پیشین سیستان بلوچستان میں خودکش حملہ

18 اکتوبر 2009ء، خودکش بمبار نے شیعہ سنی وحدت کے موضوع پر منعقد شدہ کانفرس پر حملہ کیا جس میں 30 قتل ہوئے اور اس کی ذمہ داری جنداللہ نے قبول کی۔[56]

2008

  • شیراز امام بارگاہ میں دھماکہ

12 اپریل 2008ء، شیراز کے حسینیہ شہداے شیراز میں دھماکہ جس میں 14 جاں بحق اور 200 زخمی ہوئے[57]

2005

  • اہواز میں 4 دھماکے

12 جون 2005ء، اہواز میں ایک ہی دن میں چار دھماکے ہوئے جس میں 8 آدمی جاں بحق اور 70 زخمی ہوئے۔[58]

  • اہواز کے بازار میں دھماکہ

15 اکتوبر 2005ء، اہواز کے بازار میں دہشتگردی کے دو دھماکے ہوئے جس میں کم سے کم 4 جاں بحق اور 100 سے زائد لوگ زخمی ہوئے۔[59]

1373

حرم امام رضا (ع)- عاشورا کے دن دھماکے کے بعد، 20 جون 1994ء
  • حرم امام رضاؑ میں دھماکہ

20 جون 1994ء، امام رضاؑ کے حرم میں عاشورا کے دن دھماکہ ہوا جس میں 26 جاں بحق اور 300 زخمی ہوئے۔[60]

شخصیات پر حملہ

ایسنا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران میں بہت ساری شخصیات بھی انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد دہشتگردی میں مار گئی ہیں جن میں سید ولی قرنی سابق آرمی جرنیل مرتضی مطہری متفکر اور دانشور، سید محمدعلی قاضی طباطبایی، تبریز کا پہلا امام جمعہ، محمد مفتح تہران یونیورسٹی میں الہیات ڈپارٹمنٹ کا سربراہ، سید محمد حسینی بہشتی چیف جسٹس ایران، حسن آیت ممبر قومی اسمبلی ایران، محمد علی رجایی سابق صدر ایران، محمدجواد باہنر سابق وزیر اعظم ایران، علی قدوسی اٹارنی جنرل، سید اسد اللہ مدنی تبریز کا امام جمعہ، سید عبد الکریم ہاشمی‌نژاد جمہوری اسلامی پارٹی کا ممبر، سید عبد الحسین دستغیب شیراز کا امام جمعہ، محمد صدوقی یزد کا امام جمعہ اور عطاء‌ اللہ اشرفی اصفہانی کرمانشاہ کا امام جمعہ شامل ہیں۔[61]

ایسنا کی رپورٹ کے مطابق ایران میں مجاہدین خلق (منافقین)، گروہ فرقان، پژاک، جنداللہ، جیش العدل، الاحوازی اور داعش ایران میں سب سے زیادہ دہشتگردی کے واقعات میں ملوث رہے ہیں۔[62]

عراق

شیعہ اخبارات کے مطابق عراق دہشتگردی کے وسیع حملوں اور دھماکوں کی زد میں رہا ہے۔ سنہ 2003ء میں صدام حسین کے عزل کے بعد ان حملوں میں شدت آگئی۔ امریکن ادارہ صلح (USIP) کی رپورٹ کے مطابق عراق میں بعث پارٹی کے زوال کے بعد آخری دو دہائیوں میں دہشتگردی کے تین بڑی لہر آئے: پہلی لہر: 2003 تا 2007ء، دوسری لہر 2007 تا 2011ء اور تیسری لہر 2012 تا 2017ء تک۔[63] یہاں ہم نے ان موارد اور واقعات کو ذکر کیا ہے جنہیں میڈیا نے رپورٹ کی ہے۔

2021

صدر ٹاؤن میں 20 جولائی 2021ء کو خود کش حملہ
  • صدر ٹاؤن بغداد میں خودکش دھماکہ

20 جولائی 2021ء، ایک خود کش حملے میں بغداد کے صدر ٹاؤن میں 35 افراد جاں بحق اور 60 سے زائد زخمی ہوئے۔[64]

2016

  • کاظمین میں دھماکہ

24 جولائی 2016ء، ایک خودکش بمبار نے بغداد کے شہر کاظمین میں خود کو دھماکے سے اڑایا جس کے نتیجے میں 14 جاں بحق اور 31 زخمی ہوئے۔[65]

  • شیعہ نشین علاقہ کرادہ میں دھماکہ

3 جولائی 2016ء، دہشتگردی کے ایک حملے میں دھماکہ خیز موارد سے مملو ٹرک کو دھماکے سے اڑایا جس کے نتیجے میں شیعہ نشین علاقہ کرادہ کے341 افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔[66] داعش مسئولیت این حملہ را کہ خونین‌ترین حملہ تروریستی عراق خواندہ شدہ بہ عہدہ گرفت.[67]

  • جنوبی عراق میں شیعہ نشین علاقے پر حملہ

1 مئی 2016ء، عراق کے جنوب میں شیعہ نشین شہر سماوہ میں کئی حملوں میں 33 افراد مارے گئے اور 75 زخمی ہوئے۔[68]

  • کاظمین میں دھماکہ

11 مئی 2016ء، ایک خودکش دہشتگرد نے خود کو کاظمین میں دھماکے سے اڑا دیا جس میں 17 افراد مارے گئے اور 43 زخمی ہوئے۔[69]

  • حلہ میں دھماکہ

24 نومبر 2016ء، اربعین کی مشی سے واپس آنے والے زائرین کے راستے میں دو دھماکے جس کے نتیجے میں صوبہ بابل کے مرکز حلہ شہر میں 100 سے زائد افراد مارے گئے۔[70]

2013

2007

ایک دہشتگردی میں مارے جانے والے افراد کی یاد میں عراقی عوام شمع جلا رہی ہے۔
  • حلہ پر حملہ

1 فروری2007ء، حلہ کے شیعہ نشین علاقے کے مصروف بازار میں خودکش حملے سے 61 افراد مارے گئے اور 150 زخمی ہوئے۔[71]

  • بغداد کے شیعہ نشین علاقے میں دھماکہ

3 فروری 2007ء، بغداد کے شیعہ نشین علاقے میں بم دھماکہ، 135 جاں بحق اور 305 زخمی۔[72]

  • بغداد کی المستنصریہ یونیورسٹی پر حملہ

16 جنوری 2007ء، المستنصریہ یونیورسٹی بغداد پر دھشتگردوں کے حملے میں 70 افراد جاں بحق اور 180 زخمی ہوئے۔[73] یونیورسٹی کے ان اساتذہ اور طالبعلموں میں اکثریت کا تعلق شیعوں تھا۔

2006

  • حرم امامین عسکریین پر حملہ
تفصیلی مضمون: تخریب حرم عسکریین

22 فروری 2006ء اور 13 جولائی 2007ء، دو مرتبہ عراق کے شہر سامرا میں حرم عسکریین میں دھماکہ ہوا اور حرم تخریب ہوا۔[74]

  • کربلا میں دھماکہ

5 جنوری 2006ء، خودکش دھماکے سے کربلا میں 53 افراد مارے گئے اور 148 زخمی ہوئے۔[75]

  • صدر ٹاؤن بغداد میں دھماکہ

1 جولائی 2006ء، بغداد کے شہرک صدر میں ایک گاڑی کو دھماکے سے اڑایا گیا جس کے نتیجے میں 62 افراد مارے گئے اور 114 زخمی ہوئے۔[76]

  • کوفہ پر حملہ

18 جولائی 2006ء، کوفہ میں ایک دہشتگردی کے واقعے میں 59 افراد مارے گئے جس کی ذمہ داری القاعدہ نے قبول کی۔[77]

  • نجف میں دھماکہ

10 اگست 2006ء، نجف میں حرم امام علیؑ کے نزدیک ایک دھماکے میں 35 افراد مارے گئے جس کی ذمہ داری جماعت جند الشباب نامی گروہ نے قبول کیا۔[78]

  • شہرک صدر میں دھماکے

23 نومبر 2006ء، شہرک صدر کے مختلف علاقوں میں 6 بمب رکھی گئی گاڑیوں کو دھماکے سے اڑایا جس کے نتیجے میں 202 افراد مارے گئے اور 250 زخمی ہوئے۔[79]

2005

  • حلہ میں دھماکہ

28 فروری 2005ء، حلہ میں ایک گاڑی بم سے اڑا دی گئی جس میں 125 آدمی مارے گئے اور 130 زخمی ہوئے۔[80]

  • 16 جولائی 2005ء، کربلا کے نزیک شہر مسیب میں ایک آئل ٹینکر کو شیعہ مسجد کے ساتھ دھماکے سے اڑا دی گئی جس کے نتیجے میں 98 افراد جاں بحق ہوئے۔[81]
  • بلد میں دھماکہ

29 ستمبر 2005ء، بلد نامی شہر جہاں شیعہ اور سنی سب بستے ہیں، وہاں کی تین مختلف جگہوں پر گاڑیوں میں بم دھماکے سے 98 افراد مارے گئے۔[82]

  • خانقین پر حملہ

18 نومبر 2005ء، عراق کے شہر خانقین کی دو شیعہ مساجد میں خودکش حملے ہوئے جن میں 74 افراد جاں بحق اور 150 زخمی ہوئے۔[83]

  • بغداد کے شیعہ نشین علاقے پر حملہ

14 ستمبر 2005ء، بغداد کے شیعہ نشین علاقے میں ہونے والے خودکش حملے میں 114 افراد مارے گئے جبکہ 156 زخمی ہوئے۔[84]

2004

  • کربلا اور بغداد میں دھماکہ

2 مارچ 2004ء، کربلا اور بغداد میں دو دھماکے اور 171 افراد جاں بحق۔[85]

19 دسمبر 2004ء، حرم امام علیؑ سے 300 میٹر کے فاصلے میں گاڑی میں بم دھماکہ جس کے نتیجے میں 52 آدمی جاں بحق اور 140 زخمی۔[86]

2003

سید محمد باقر الحکیم مجلس اعلائے اسلامی عراق کے سابق سربراہ
  • حملہ بہ آیت اللہ محمدباقر حکیم

29 اگست 2003، سید محمد باقر حکیم کے قتل کی خاطر نجف میں مسجد امام علیؑ کے نزدیک ایک گاڑی میں بم دھماکہ جس کے نتیجے میں آیت اللہ حکیم سمیت 83 افراد وفات پاگئے۔[87]

  • عراق کے مختلف علاقوں شیعوں کے خلاف بم دھماکے۔

20 مئی 2013ء، عراق کے مختلف شہروں میں مختلف دھماکے جن میں سے اکثر، گاڑیوں میں بم رکھ کر دھماکہ کیا گیا تھا، ان دھماکوں میں بغداد، بصرہ حلہ، بلد اور دیگر جگہوں پر کم سے کم 70 افراد مارے گئے۔[88]

افغانستان

قندوز کی شیعہ مسجد پر خودکش دہشتگردوں کا حملہ 8 اکتوبر 2021ء

شیعہ خبری مآخذ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں دہشتگردی کے واقعات بہت زیادہ رونما ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ طالبان کے پہلے دور حکومت میں دو لاکھ 22 ہزار شیعہ افراد، دہشتگردی کے واقعات میں مارے گئے۔[89] یہاں ان موارد کو ذکر کیا جارہا ہے جو گزشتہ سالوں میں اخبارات میں درج ہوا ہے۔

2024ء

  • 6 جنوری 2024ء، کابل کے شیعہ نشین علاقہ دشت برچی میں گاڑی میں دھماکہ، دو آدمی جاں بحق اور 14 زخمی۔[90]
  • یکم دسمبر 2024ء، ہرات کا علاقہ جبرئیل میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دو عالم دین رجب اخلاقی و خادم‌حسین ہدایتی سمیت 5 افراد جاں بحق۔[91]

2023

  • 7 نومبر 2023ء، دشت برچی میں ایک مسافر کوچ پر حملہ جس میں 7 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 11 نفر زخمی ہوئے۔[92]
  • 26 نومبر 2023ء، دشت برچی میں سپورٹس کلب پر حملہ ہوا جس میں کم سے کم 6 آدمی جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔[93]
  • 13 اکتوبر 2023ء، صوبہ بغلان کے شہر پلخمری میں واقع مسجد امام زمانہ میں خودکش دھماکہ اور 21 شیعہ نمازی قتل ہوئے اور 40 زخمی۔[94]

2022

  • کاج اکیڈمی پر حملہ

30 ستمبر 2022ء، مغربی کابل میں کاج اکیڈمی میں خودکش حملے کے نتیجے میں 53 آدمی مارے گئے اور 110 زخمی ہوئے۔[95]

2021

  • حملہ بہ نمازگزاران شیعہ در قندہار

15 اکتوبر 2021ء، قندہار کی ایک شیعہ مسجد پر نماز کے دوران تین خودکش حملہ آوروں نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 60 افراد مارے گئے اور 70 سے زائد نمازی زخمی ہوئے۔[96]

  • قندوز میں شیعہ مسجد پر حملہ

8 اکتوبر 2021ء، قندوز کے علاقہ خان آباد میں شیعہ مسجد پر دہشتگردوں کا حملہ جس میں 50 آدمی مارے گئے اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔[97]

  • مغربی کامل میں سید الشہداء سکول پر حملہ

8 جون 2021ء، مغربی کابل میں واقع سید الشہداء سکول پر حملے کے نتیجے میں 85 افراد قتل ہوئے جن میں اکثریت سکول کے بچوں کی تھی اور 147 زخمی ہوئے۔[98]

2020

  • دشت برچی میں کوثر دانش اکیڈمی پر حملہ

23 نومبر 2020ء، دشت برچی میں واقع کوثر دانش اکیڈمی پر دہشتگروں کے حملے میں 24 افراد جاں بحق ہوئے۔[99]

  • سو بیڈ ہسپتال دشت برچی پر حملہ

12 جون 2020ء، دشت برچی کے زچہ بچہ سنٹر میں دھماکہ جہاں مختلف ممالک کے ڈاکٹر خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس حملے میں 24 زچہ اور بچہ مارے گئے۔[100]

2019

  • زیارتگاہ سخی میں نوروز کے جشن پر حملہ

21 مارچ 2019ء، مغربی کابل میں واقع زیارتگاہ سخی میں نوروز کے چشن میں شریک شیعوں کے اجتماع پر حملہ جس کے نتیجے میں 31 افراد مارے گئے۔[101]

2018

  • زیارتگاہ سخی میں نوروز کے جشن پر حملہ

21 مارچ 2018ء، مغربی کابل میں واقع زیارتگاہ سخی میں نوروز کے چشن میں شریک شیعوں کے اجتماع پر حملہ جس کے نتیجے میں 31 افراد مارے گئے۔[102]

  • رجسٹریشن آفس پر حملہ

22 اپریل 2018ء، خودکش حملہ آورں نے دشت برچی کے قلعہ مہتاب پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 69 شیعہ مارے گئے۔[103]

  • دشت برچی میں موعود اکیڈمی میں دھماکہ

15 اگست 2018ء، خودکش حملہ آوروں نے اکیڈمی میں خود کو بم سے اڑادیا جس کے نتیجے میں 48 شیعہ طلبہ مارے گئے۔[104]

    • گردیز میں شیعہ مسجد پر حملہ

3 اگست 2018ء، شہر گردیز کی شیعہ مسجد میں دو خودکش حملہ آورں نے خود کو بم سے اڑا دیا جس میں 40 آدمی مارے گئے اور 80 زخمی ہوئے۔[105]

  • دشت برچی کے میوند گراؤنڈ پر حملہ

5 ستمبر 2018ء، برچی کے شیعہ نشین علاقہ برچی کے میوند گراؤنڈ میں دہشتگردی کا واقعہ جس میں 20 آدمی مارے گئے۔[106]

2017

مغربی کابل میں مسجد امام زمانہ 20 اکتوبر 2017 کو دھماکے کے بعد
  • مسجد جوادیہ ہرات پر حملہ

31 جولائی 2017، داعش نے مسجد جوادیہ ہرات پر حملہ کیا جس میں 30 شیعہ نماز گزار مارے گئے اور 60 نفر زخمی ہوئے۔[107]

  • شمالی کابل میں مسجد امام زمانہ پر حملہ

25 اگست 2017، شمالی کابل کے قلعہ نجارھا میں واقع مسجد امام زمانہ پر داعش نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 40 نمازی مارے گئے اور 90 زخمی ہوئے۔[108]

  • قلعہ فتح اللہ کی مسجد پر حملہ

29 ستمبر 2017، سات محرم الحرام کو داعش نے قلعہ فتح اللہ کی مسجد پر حملہ کیا جس میں 6 عزادار مارے گئے اور 33 زخمی ہوئے۔[109]

  • دشت برچی میں مسجد امام زمانہ پر حملہ

20 اکتوبر 2017، دشت برچی میں واقع مسجد امام زمانہ پر خودکش حملہ آور کے حملے میں 56 نمازی مارے گئے جبکہ 50 زخمی ہوئے۔[110]

  • تبیان سنٹر پر حملہ

28 دسمبر 2017، دشت برچی میں واقع تبیان سنٹر میں ایک کانفرنس کے دوران دہتشگروں کے حملے میں 52 افراد مارے گئے جبکہ 90 زخمی ہوئے۔[111]

  • مسجد الزہرا پر حملہ

15 جون 2017، دشت برچی میں شب قدر کی مجلس کے دوران دہشتگردی کا واقعہ پیش آیا جس میں 5 افراد مارے گئے جبکہ 12 افراد زخمی ہوئے۔[112]

2016

  • مغربی کابل میں مسجد باقر العلوم پر حملہ

21 نومبر 2016، خودکش دہشتگرد نے مغربی کابل میں مسجد باقر العلوم کے نمازیوں کے درمیان دھماکہ کیا جس کے نتیجے میں 32 شیعہ نمازی مارے گئے۔[113]

  • تحریک روشنائی کے احتجاجی مظاہرے پر حملہ

23 جولائی 2016، شیعہ جوان تحریک روشنائی کے مظاہرے میں مشغول تھے۔ دھمزنگ چوک یا شہدائے روشنائی کابل چوک پر دہشتگردوں نے حملہ کیا جس مین 80 آدمی مارے گئے اور 300 زخمی ہوئے۔[114]

2011

  • زیارتگاہ ابوالفضل پر عاشورا کے دن حملہ

6 دسمبر 2011، زیارتگاہ ابو الفضل میں روز عاشورا حملہ ہوا جس میں 54 افراد مارے گئے اور 164 افراد زخمی ہوئے۔ افغانستان کی حکومت نے طالبان کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔[115]

شام

شام کے دارالحکومت دمشق اور دیگر شیعہ نشین علاقوں میں شیعوں کے خلاف دہشتگردی کے مختلف واقعات رونما ہوئے ہیں۔ یہاں ان واقعات کو بیان کیا جارہا ہے جنکو اخبارات میں درج کیا گیا ہے:

2023

  • دمشق زینبیہ میں دھماکہ

27 جولائی 2023ء، عاشورا سے ایک دن پہلے دمشق کے جنوب میں حرم حضرت زینبؑ کے نزدیک دھماکہ ہوا جس میں کم سے کم 6 آدمی مارے گئے اور 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔[116]

2016

  • دمشق زینبیہ میں دھماکہ

31 جنوری 2016ء، حضرت زینب کے حرم کے نزدیک کئی بم دھماکے ہوئے جس میں 60 افراد قتل ہوئے اور 110 افراد زخمی ہوئے۔ داعش نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی۔[117]

لبنان

2015

  • جنوبی بیروت کے علاقہ برج البراجنہ میں دھماکہ

12 نوامبر 2015، جنوبی بیروت کے علاقہ برج البراجنہ میں دو بمب دھماکے ہوئے جس میں 40 افراز مارے گئے اور 100 سے زائد لوگ زخمی ہوئے۔[118]

سعودی عرب

2016

  • سعودی عرب کے مشرق میں مسجد امام رضاؑ پر حملہ

29 جنوری 2016ء، سعودی عرب کے مشرق میں واقع شیعہ نشین علاقہ الاحساء میں واقع مسجد امام رضاؑ پر حملہ جس میں 5 افراد مارے گئے اور 18 زخمی ہوئے۔[119]

یمن

  • یمن میں حوثی شیعوں کی مسجدوں پر حملہ

2015

20 مارچ 2015ء، چار خودکش دہشتگردوں نے حوثیوں کی شیعہ مساجد پر حملہ کیا جس میں 137 افراد مارے گئے اور 357 زخمی ہوئے۔[120]

حوالہ جات

  1. The New Yorker, The Shiite Murders: Pakistan’s Army of Jhangvi, The Wire, The Rising Threat Against Shia Muslims in Pakistan
  2. The Wire, The Rising Threat Against Shia Muslims in Pakistan
  3. ThePrint, Violence against Shia Muslims continues unabated in Pakistan
  4. پاراچنار، میں گاڑی پر فائرنگ سے خاتون سمیت 4 شیعہ شہید، شیعہ نیوز۔
  5. پاراچنار میں شیعیان علی پر دہشتگردوں کے حملے، حوزہ نیوز
  6. The Guardian, " Dozens of worshippers killed in Pakistan suicide bomb attack", Guardian website.
  7. SOUTH ASIA INTELLIGENCE REVIEW Weekly Assessments & Briefings, "Pakistan", Portal website.
  8. SOUTH ASIA INTELLIGENCE REVIEW Weekly Assessments & Briefings, "Pakistan", Portal website.
  9. SOUTH ASIA INTELLIGENCE REVIEW Weekly Assessments & Briefings, "Pakistan", Portal website.
  10. SOUTH ASIA INTELLIGENCE REVIEW Weekly Assessments & Briefings, "Pakistan", Portal website
  11. SOUTH ASIA INTELLIGENCE REVIEW Weekly Assessments & Briefings, "Pakistan", Portal website.
  12. دیدہ‌بان حقوق بشر، «پاکستان: قتل عام شیعیان توسط افراط گرایان»، وبگاہ دیدہ‌بان
  13. دیدہ‌بان حقوق بشر، «پاکستان: قتل عام شیعیان توسط افراط گرایان»، وبگاہ دیدہ‌بان
  14. counter terrorism guide, "Historic Timeline"
  15. The Wire, The Rising Threat Against Shia Muslims in Pakistan
  16. The New Yorker, The Shiite Murders: Pakistan’s Army of Jhangvi
  17. شہید استاد سبط جعفر کی جدائی کو 8 سال بیت گئے شیعہ نیوز
  18. Reliefweb, Brutal sectarian violence against Shias continues unabated
  19. سانحہ چلاس، ظلم کی داستان، اسلام ٹائمز۔
  20. سانحہ چلاس، بسوں سے شناختی کارڈ دیکھ کر اتارکر شہید کیئےجانےوالوں کی آج 9ویں برسی منائی جارہی ہے، شیعیت نیوز ایجنسی۔
  21. سانحہ لولوسر کے 2 سال مکمل، قاتل ابتک گرفتار نہ ہو سکے، اسلام ٹائمز۔
  22. The Wire, The Rising Threat Against Shia Muslims in Pakistan
  23. The New Yorker, The Shiite Murders: Pakistan’s Army of Jhangvi
  24. Reliefweb, "Brutal sectarian violence against Shias continues unabated", Relief website.
  25. South Asia Terrorism Portal,
  26. The New Yorker, The Shiite Murders: Pakistan’s Army of Jhangvi
  27. Reliefweb, "Brutal sectarian violence against Shias continues unabated", Relief website.
  28. Shiitnews, 11 years passed since martyrdom of Shaheed Askari Raza
  29. Reliefweb, Brutal sectarian violence against Shias continues unabated
  30. Reliefweb, Brutal sectarian violence against Shias continues unabated
  31. Reliefweb, Brutal sectarian violence against Shias continues unabated
  32. Reliefweb, Brutal sectarian violence against Shias continues unabated
  33. Stanford University, Sipah-e-Sahaba Pakistan
  34. Dawn, «Bomber kills Hasan Turabi».
  35. The Express Tribune, Agha Ziauddin’s killer shot dead
  36. Stanford University, Sipah-e-Sahaba Pakistan
  37. Stanford University, Sipah-e-Sahaba Pakistan
  38. Stanford University, Sipah-e-Sahaba Pakistan
  39. Stanford University, Sipah-e-Sahaba Pakistan
  40. Stanford University, Sipah-e-Sahaba Pakistan
  41. South Asia Terrorism Portal, Sipah-e- Sahaba Pakistan (SSP) Pakistan
  42. سفیر انقلاب شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی26ویں برسی، تقریب خبررساں ایجنسی۔
  43. Stanford University, Sipah-e-Sahaba Pakistan
  44. لیاقت تمنائی، سانحہ 1988ء گلگت، ناقابل فراموش سانحہ کے 31 سال ابلاغ سائٹ۔
  45. روزنامہ فرہیختگان، «چرا می‌گوییم ایران بزرگ‌ترین قربانی تروریسم است»، وبگاہ روزنامہ
  46. روزنامہ فرہیختگان، «چرا می‌گوییم ایران بزرگ‌ترین قربانی تروریسم است»، وبگاہ روزنامہ
  47. «اخبار لحظہ بہ لحظہ از حادثہ تروریستی کرمان/ بازداشت برخی عوامل مرتبط با انفجارہا + تصاویر»، خبرگزاری ایرنا.
  48. مشرق نیوز، «جزئیات حملہ تروریستی بہ حرم شاہچراغ (ع)/ یک شہید و 7 مجروح تایید شد +اسامی مجروحین/ داعش مسئولیت حملہ تروریستی را بر عہدہ گرفت +عکس و فیلم»، وبگاہ مشرق نیوز
  49. بی‌بی‌سی فارسی، «حملہ مسلحانہ بہ شاہچراغ؛عضو مجلس خبرگان رہبری می‌گوید ارتباطی میان این حادثہ با اعتراضات نیست»، وبگاہ بی‌بی‌سی فارسی
  50. خبرگزاری فارس، «گفت‌وگو با ماموری کہ حادثہ تروریستی حرم رضوی را پایان داد/ با خودم گفتم این جان را برای چہ می‌خواہم؟» وبگاہ خبرگزاری فارس
  51. ایسنا، «مروری بر حملات تروریستی پس از انقلاب+ تصاویر (16+)»، وبگاہ خبرگزاری ایسنا
  52. مشرق نیوز، «جزئیات جدید از حملہ داعش بہ مجلس +فیلم»، وبگاہ مشرق نیوز
  53. بی‌بی‌سی فارسی، «نگاہی بہ حوادث امنیتی ایران در سہ دہہ اخیر»، وبگاہ بی‌بی‌سی.
  54. بی‌بی‌سی فارسی، «نگاہی بہ حوادث امنیتی ایران در سہ دہہ اخیر»، وبگاہ بی‌بی‌سی.
  55. ایسنا، «مروری بر حملات تروریستی پس از انقلاب+ تصاویر (16+)»، وبگاہ خبرگزاری ایسنا
  56. بی‌بی‌سی فارسی، «نگاہی بہ حوادث امنیتی ایران در سہ دہہ اخیر»، وبگاہ بی‌بی‌سی.
  57. بی‌بی‌سی فارسی، «نگاہی بہ حوادث امنیتی ایران در سہ دہہ اخیر»، وبگاہ بی‌بی‌سی.
  58. بی‌بی‌سی فارسی، «نگاہی بہ حوادث امنیتی ایران در سہ دہہ اخیر»، وبگاہ بی‌بی‌سی.
  59. بی‌بی‌سی فارسی، «نگاہی بہ حوادث امنیتی ایران در سہ دہہ اخیر»، وبگاہ بی‌بی‌سی.
  60. ایسنا، «مروری بر حملات تروریستی پس از انقلاب+ تصاویر (16+)»، وبگاہ خبرگزاری ایسنا
  61. ایسنا، «مروری بر حملات تروریستی پس از انقلاب+ تصاویر (16+)»، وبگاہ خبرگزاری ایسنا
  62. ایسنا، «مروری بر حملات تروریستی پس از انقلاب+ تصاویر (16+)»، وبگاہ خبرگزاری ایسنا
  63. َUnited States Institute for Peace, "Iraq Timeline: Since the 2003 War", USIP website.
  64. Reuters, "Suicide attack in Iraq's Sadr City kills at least 35, wounds dozens -sources" Reuters website
  65. Al Jazeera, Deadly Baghdad suicide bombing targets Shia area, Al Jazeera website.
  66. باشگاہ خبرنگاران جوان، «با مرگبارترین حملات تروریستی تاریخ آشنا شوید+ تصاویر»، وبگاہ باشگاہ خبرنگاران.
  67. BBC News, "Iraq sees worst bombing since invasion with 250 deaths", BBC website.
  68. مصطفایی، «فہرست روزشمار از جنایات داعش»، مندرج در وبگاہ بازدہ.
  69. مصطفایی، «فہرست روزشمار از جنایات داعش»، مندرج در وبگاہ بازدہ.
  70. باشگاہ خبرنگاران جوان، «روسیا الیوم: شمار قربانیان انفجار حلہ عراق بہ 100 نفر افزایش یافت/ العالم: 60 ایرانی در میان شہدا»، وبگاہ باشگاہ
  71. Reliefweb, "Chronology - The deadliest bomb attacks in Iraq", Relief website.
  72. Reliefweb, "Chronology - The deadliest bomb attacks in Iraq", Relief website.
  73. Mustansiriya University in central Baghdad
  74. خبرگزاری فارس، «اولین حملہ تکفیری‌ہا بہ سامرا/ حرم امامین عسکریین (ع) چگونہ تخریب شد؟ +عکس و فیلم»، وبگاہ خبر گزاری
  75. Reliefweb, "Chronology - The deadliest bomb attacks in Iraq", Relief website.
  76. Reliefweb, "Chronology - The deadliest bomb attacks in Iraq", Relief website.
  77. Reliefweb, "Chronology - The deadliest bomb attacks in Iraq", Relief website.
  78. Reliefweb, "Chronology - The deadliest bomb attacks in Iraq", Relief website.
  79. Reliefweb, "Chronology - The deadliest bomb attacks in Iraq", Relief website.
  80. Reliefweb, "Chronology - The deadliest bomb attacks in Iraq", Relief website.
  81. Reliefweb, "Chronology - The deadliest bomb attacks in Iraq", Relief website.
  82. Reliefweb, "Chronology - The deadliest bomb attacks in Iraq", Relief website.
  83. Reliefweb, "Chronology - The deadliest bomb attacks in Iraq", Relief website.
  84. Reliefweb, "Chronology - The deadliest bomb attacks in Iraq", Relief website.
  85. Reliefweb, "Chronology - The deadliest bomb attacks in Iraq", Relief website
  86. Reliefweb, "Chronology - The deadliest bomb attacks in Iraq", Relief website
  87. Reliefweb, "Chronology - The deadliest bomb attacks in Iraq", Relief website
  88. Reuters, "Bomb attacks kill more than 70 Shi'ites across Iraq", Reuters website.
  89. ایندیپندنت فارسی، «شیعیان و ہزارہ‌ہای افغانستان در یک سال گذشتہ ہدف 18 حملہ تروریستی قرار گرفتند»، وبگاہ ایندیپندنت.
  90. «انفجار در غرب کابل 2 کشتہ برجای گذاشت»، ایرنا.
  91. «حملہ مسلحانہ در منطقہ شیعہ‌نشین ہرات»، شیعہ‌نیوز؛ «دو عالم شیعہ در ہرات بہ شہادت رسیدند»، شیعہ‌نیوز.
  92. «انفجار در غرب کابل؛ از تداوم حملات ہدفمند بر ہزارہ ہا تا ناکامی طالبان در تأمین امنیت»، شفقنا افغانستان.
  93. «داعش مسئولیت حملہ بہ کلپ ورزشی در غرب کابل را برعہدہ گرفت»، خبرگزاری معمار.
  94. خبرگزاری جمہور، «فزایش تلفات انفجار در مسجد شیعیان در پلخمری؛ 61 تن شہید و زخمی شدند»، وبگاہ خبرگزاری.
  95. خبرگزاری آناتولی، «حملہ انتحاری بہ مرکز آموزشی کاج در کابل؛ شمار قربانیان بہ 53 نفر رسید»، وبگاہ خبرگزاری .
  96. خبرگزاری مہر، «وقوع انفجار انتحاری در مسجد شیعیان قندہار/ 62 شہید و 70 زخمی»، وبگاہ خبرگزاری.
  97. بی‌بی‌سی فارسی، «حملہ مرگبار بہ نمازگزاران شیعہ در قندوز؛ داعش مسئولیت گرفت»، وبگاہ بی‌بی‌سی.
  98. روزنامہ اطلاعات روز، «حملات زنجیرہ‌ای بر غرب کابل؛ ہزارہ‌ہا در معرض نسل‌کشی قرار دارند؟»، وبگاہ روزنامہ
  99. روزنامہ اطلاعات روز، «حملات زنجیرہ‌ای بر غرب کابل؛ ہزارہ‌ہا در معرض نسل‌کشی قرار دارند؟»، وبگاہ روزنامہ
  100. روزنامہ اطلاعات روز، «حملات زنجیرہ‌ای بر غرب کابل؛ ہزارہ‌ہا در معرض نسل‌کشی قرار دارند؟»، وبگاہ روزنامہ
  101. روزنامہ اطلاعات روز، «حملات زنجیرہ‌ای بر غرب کابل؛ ہزارہ‌ہا در معرض نسل‌کشی قرار دارند؟»، وبگاہ روزنامہ
  102. روزنامہ اطلاعات روز، «حملات زنجیرہ‌ای بر غرب کابل؛ ہزارہ‌ہا در معرض نسل‌کشی قرار دارند؟»، وبگاہ روزنامہ
  103. روزنامہ اطلاعات روز، «حملات زنجیرہ‌ای بر غرب کابل؛ ہزارہ‌ہا در معرض نسل‌کشی قرار دارند؟»، وبگاہ روزنامہ
  104. روزنامہ اطلاعات روز، «حملات زنجیرہ‌ای بر غرب کابل؛ ہزارہ‌ہا در معرض نسل‌کشی قرار دارند؟»، وبگاہ روزنامہ.
  105. یورو نیوز فارسی، «حملہ بہ مسجدی در گردیز افغانستان؛ 39 کشتہ و 80 زخمی»، وبگاہ یورو نیوز
  106. روزنامہ اطلاعات روز، «حملات زنجیرہ‌ای بر غرب کابل؛ ہزارہ‌ہا در معرض نسل‌کشی قرار دارند؟»، وبگاہ روزنامہ
  107. خبرگزاری تسنیم، «پروندہ ویژہ تسنیم| حملات تروریستی داعش علیہ شیعیان افغانستان در سال 96 در یک نگاہ + نقشہ و نمودار»، وبگاہ خبرگزاری.
  108. خبرگزاری تسنیم، «پروندہ ویژہ تسنیم| حملات تروریستی داعش علیہ شیعیان افغانستان در سال 96 در یک نگاہ + نقشہ و نمودار»، وبگاہ خبرگزاری.
  109. خبرگزاری تسنیم، «پروندہ ویژہ تسنیم| حملات تروریستی داعش علیہ شیعیان افغانستان در سال 96 در یک نگاہ + نقشہ و نمودار»، وبگاہ خبرگزاری.
  110. روزنامہ اطلاعات روز، «حملات زنجیرہ‌ای بر غرب کابل؛ ہزارہ‌ہا در معرض نسل‌کشی قرار دارند؟»، وبگاہ روزنامہ.خبرگزاری تسنیم، «پروندہ ویژہ تسنیم| حملات تروریستی داعش علیہ شیعیان افغانستان در سال 96 در یک نگاہ + نقشہ و نمودار»، وبگاہ خبرگزاری.
  111. خبرگزاری تسنیم، «پروندہ ویژہ تسنیم| حملات تروریستی داعش علیہ شیعیان افغانستان در سال 96 در یک نگاہ + نقشہ و نمودار»، وبگاہ خبرگزاری.
  112. خبرگزاری تسنیم، «پروندہ ویژہ تسنیم| حملات تروریستی داعش علیہ شیعیان افغانستان در سال 96 در یک نگاہ + نقشہ و نمودار»، وبگاہ خبرگزاری.روزنامہ اطلاعات روز، «حملات زنجیرہ‌ای بر غرب کابل؛ ہزارہ‌ہا در معرض نسل‌کشی قرار دارند؟»، وبگاہ روزنامہ.
  113. روزنامہ اطلاعات روز، «حملات زنجیرہ‌ای بر غرب کابل؛ ہزارہ‌ہا در معرض نسل‌کشی قرار دارند؟»، وبگاہ روزنامہ.
  114. روزنامہ اطلاعات روز، «حملات زنجیرہ‌ای بر غرب کابل؛ ہزارہ‌ہا در معرض نسل‌کشی قرار دارند؟»، وبگاہ روزنامہ.
  115. بی‌بی‌سی فارسی، «واکنشہا بہ حملات انتحاری مراسم عاشورا در افغانستان»، وبگاہ بی‌بی‌سی.
  116. Aljazeera,Deadly bomb blast near Damascus Shia shrine ahead of Ashura, Aljazeera website
  117. مصطفایی، «فہرست روزشمار از جنایات داعش»، مندرج در وبگاہ بازدہ.
  118. مصطفایی، «فہرست روزشمار از جنایات داعش»، مندرج در وبگاہ بازدہ.
  119. مصطفایی، «فہرست روزشمار از جنایات داعش»، مندرج در وبگاہ بازدہ.
  120. Reuters, "Suicide bombers kill 137 in Yemen mosque attacks", Reuters website.

مآخذ