حرم امام رضاؑ
حرم امام رضاؑ کی ایک تصویر | |
| ابتدائی معلومات | |
|---|---|
| استعمال | زیارتی • تعلیمی |
| محل وقوع | مشہد |
| قدمت | ہارون رشید کا دور |
| مشخصات | |
| رقبہ | تقریبا 90 ہیکٹر |
| موجودہ حالت | فعال |
| معماری | |
| طرز تعمیر | اسلامی ایرانی |
| تعمیر نو | سامانی • غزنوی • سلجوقی • خوارزم شاہی • تیموری • صفوی • افشاری • قاجاری • پہلوی • اسلامی جمہوریہ ایران |
| ویب سائٹ | باب الرضا (آستان قدس رضوی کا آفیشل ویب سائٹ) |
حرم امام رضاؑ، شیعوں کے آٹھویں امام، علی بن موسیؑ الرضاؑ کے مدفن اور روضے کو کہا جاتا ہے، جو ایران کے شہر مشہد میں واقع ہے۔ حرم امام رضاؑ شیعہ ائمہ میں سے واحد امام کا مزار ہے جو ایران میں واقع ہے۔ امام رضاؑ کا حرم ایران ہی نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کی وسیع ترین اور شاندار ترین زیارت گاہ شمار ہوتی ہے۔ یہ حرم ہمیشہ سے محبانِ اہلِ بیتؑ کے لئے احترام اور زیارت کا مرکز رہا ہے، یہاں ہر سال ایران اور دنیا کے دیگر خطوں سے لاکھوں زائرین حاضری دیتے ہیں۔
حرم کی تعمیر و ترقی، اس کے لئے موقوفات کا قیام، حرم سے وابستہ مذہبی و اجتماعی رسومات کا وجود میں آنا، شہر مشہد کی توسیع اور بڑے شہروں میں شامل ہونا اور حرم کے اطراف میں دفن ہونے کا رجحان اس مقام کے تقدس اور اہمیت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
حرمِ امام رضاؑ کی بنیاد دوسری صدی ہجری کے آخر میں رکھی گئی۔ مختلف تاریخی ادوار میں اس میں تدریجی طور پر توسیع و تزئین ہوتی رہی۔ سن 2009ء کی ایک رپورٹ کے مطابق حرم کا رقبہ تقریباً 90 ہیکٹر پر مشتمل ہے، جس میں روضہ مبارکہ کے علاوہ ایوان، صحن، پناہ گاہ(بست) اور علمی، ثقافتی، انتظامی، طبی اور فلاحی مقامات شامل ہیں۔
حرم امام رضاؑ کی فنِ تعمیر اور تزئینات اسلامی و ایرانی فنون لطیفہ کے اُن اعلیٰ و نادر نمونوں میں سے ہیں جو اہل بیتؑ سے عقیدت و محبت کے زیرِ اثر وجود میں آئے ہیں۔ حرم امام رضاؑ کو 6 جنوری 1932ء میں ایران کے قومی آثار میں شامل کیا گیا ہے۔
حرمِ امام رضاؑ کے مختلف حصے ہیں: منجملہ ان میں روضہ مبارک، ایوانیں، گنبدیں، مینار (گلدستے)، صحن، پناہ گاہ، دروازے، کھڑکیاں، کتبے، سقا خانے اور نقارہ خانہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سنگ مزار، ضریحیں، صندوقچے، زرین فام محراب، خوانچے اور جواہرات سے مزین ترنج، پردے، غلاف، قالین، منبر، روشنی کے آلات، گھڑیاں اور دیگر اشیاء بھی اس مقدس عمارت سے وابستہ ہیں۔
حرم کے اندر یا اس سے متصل بعض اہم مذہبی اور زیارتی مقامات جیسے مسجد بالاسر، مسجد گوہر شاد اور بہشتِ ثامن وغیرہ ہیں۔ حرم امام رضاؑ ابتدا ہی سے علومِ اسلامی کے فروغ اور علما و محدثین کے اجتماع کا مرکز رہا ہے۔ اسی علمی و فکری ماحول کے نتیجے میں یہاں مدارسِ علمیہ، جامعۂ علوم اسلامی رضوی، میوزیم اور کتابخانۂ آستان قدس جیسے علمی و ثقافتی ادارے وجود میں آئے ہیں۔
اسی طرح آستان قدس رضوی کے زیرِ انتظام دارالشفا (شفاخانہ) اور مہمان خانہ بھی حرم کے فلاحی و خدماتی اداروں میں شمار ہوتے ہیں۔
حرمِ امام رضاؑ کی انتظامیہ آستانِ قدس رضوی کے ماتحت ہے اور اس کے مختلف امور خادمین کی ایک جماعت کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں۔ سن 2018ء کی ایک رپورٹ کے مطابق حرم امام رضاؑ کے خدام کے مختلف طبقات ہیں، جیسے: خادم، فرّاش(فرش بچھانے والے)، حافظ (قرآن کے حفاظ)، کفشدار (زائرین کے جوتے سنبھالنے والے)، دربان اور تعلیمی و ثقافتی خادم وغیرہ۔
اہمیت اور مقام
حرم امام رضاؑ شیعوں کے آٹھویں امام، علی بن موسیؑ الرضا کے مدفن اور روضے کو کہا جاتا ہے، جو ایران کے شہر مشہد میں واقع ہے۔[1] امام رضاؑ کا حرم ایران میں کسی شیعہ امام کا واحد روضہ ہے۔[2] کہا گیا ہے کہ امام رضاؑ کا حرم ایران اور اسلامی دنیا کی سب سے وسیع اور شاندار زیارت گاہ ہے۔[3]
اہلِ بیتؑ سے منقول روایات میں امام رضاؑ کے حرم کو فرشتوں کی آمد و رفت کا مقام،[4] جنت کے باغوں میں سے ایک باغ،[5] اور طوفان نوح سے محفوظ جگہ[6] معرفی کی گئی ہے۔ بعض روایات میں حرم امام رضاؑ کی زیارت کے اجر و ثواب کا ذکر بھی آیا ہے؛ مثلاً امام جوادؑ سے منقول ہے کہ: "جو شخص شہر طوس میں میرے والد گرامی (امام رضاؑ) کی معرفت کے ساتھ زیارت کرے، تو میں خداوندِ متعال کی جانب سے اس کے لئے جنت کا ضامن ہوں۔"[7] اسی طرح زیارت کے اخروی اجر و ثواب کے ساتھ ساتھ، حرم امام رضاؑ سے متعلق بے شمار کرامات کا رونما ہونا اس حرم کی مقبولیت اور معنوی مرکزیت میں اضافہ کا باعث بنا ہے۔[8]
حرم امام رضاؑ ہمیشہ سے شیعوں اور اہل بیتؑ کے عقیدت مندوں کی توجہ اور زیارت کا مرکز رہا ہے۔ یہاں ہر سال ایران سمیت دنیا کے مختلف خطوں سے لاکھوں زائرین حاضر ہوتے ہیں۔[9] حرم کی مسلسل تعمیر و توسیع،[10] اس کے لئے قائم شدہ موقوفات،[11] حرم میں منعقد ہونے والی مذہبی رسومات،[12] شہر مشہد کا بڑے اور اہم شہر کی حیثیت اختیار کرنا،[13] اور معروف شخصیات کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کا بھی حرم کے اطراف میں دفن ہونے کا رحجان[14] یہ تمام امور اس مقام کی عظمت، تقدس اور تاریخی مرکزیت کی نمایاں علامتیں شمار ہوتے ہیں۔
بقعہ حرم امام رضاؑ جو حرم کا بنیادی اور مرکزی حصہ شمار ہوتا ہے، دوسری صدی ہجری کے آخر میں اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔[15] کہا جاتا ہے کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں حرم کی تعمیر و توسیع کا کام بتدریج جاری رہا۔[16] سن 2009ء کی ایک رپورٹ کے مطابق حرم کا رقبہ 90 ہیکٹر سے زیادہ ہے، جس میں روضہ مبارکہ کے علاوہ ایوان، صحن، پناہ گاہ، اور علمی، ثقافتی، انتظامی، طبی اور فلاحی مقامات بھی شامل ہیں۔[17]

حرم امام رضاؑ کی معماری اور تزئینات اسلامی و ایرانی فن تعمیر کے ان اعلیٰ و نادر نمونوں میں سے ہیں جو اہل بیتؑ سے والہانہ عشق اور عقیدت کا ثبوت ہے۔[18] گویا یہ حرم ایک میوزیم کی مانند ہے جس میں اسلامی فن تعمیر کی نمائش لگی ہوئی ہو۔[19] کہا گیا ہے کہ قدیم زمانے سے زائرین اور سیاح، حرم کی ظاہری اور باطنی خوبصورتی سے مسحور ہوتے آئے ہیں۔[20] حرم کی معنوی عظمت کے باعث مختلف لوگوں کی طرف سے عمدہ ترین اور قیمتی فن پارے حرم کے لئے نذر اور وقف کیے گئے ہیں۔[21] اسی تاریخی اور معماری اہمیت کی وجہ سے، 6 جنوری 1932ء کو امام رضاؐ کا حرم ایران کے قومی آثار میں شامل کیا گیا ہے۔[22]
یہ احتمال دیا گیا ہے کہ سنائی غزنوی پہلے شاعر تھے جنہوں نے اپنے ایک شعر میں امام رضاؑ کے مزار کے لیے "حرم" کا لفظ استعمال کیا۔[23] کہا جاتا ہے کہ اس لفظ کے انتخاب کی وجہ اس مقام کی قداست اور امن و امان تھا۔[24] اور اسی قداست اور احترام کی وجہ سے وضو اور طہارت کے ساتھ اس مقام کی زیارت کرنے اور بست نشینی (حرم میں پناہ لینا) جیسے آداب و رسوم وجود میں آئے ہیں۔[25] بعض تاریخی منابع[26] کے مطابق ساتویں صدی ہجری سے پہلے "مشہد" کی اصطلاح زیادہ تر خود امام رضاؑ کے حرم کے لیے استعمال ہوتی تھی، نہ کہ اس شہر کے لیے جس میں یہ حرم واقع ہے۔[27] اسی بنا پر مشہد الرضاؑ، آستان قدس رضوی اور روضۂ مقدسۂ رضویہ جیسے عناوین بھی تاریخ میں اس مقدس مقام کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔[28]
تاریخی پس منظر

امام رضاؑ کے حرم کی عمارت کی بنیاد امامؑ کی شہادت سے تقریباً دس سال پہلے رکھی گئی تھی۔[29] سن 193ھ میں عباسی خلیفہ مأمون کے حکم سے توس[30] کے علاقے نوقان سناباد میں عباسی خلیفہ ہارون رشید کی قبر پر ایک گنبد (بقعہ) تعمیر کیا گیا جو بعد میں بقعہ ہارونیہ کے نام سے مشہور ہوا۔[31] بعض روایات کے مطابق، جب سن 203ھ میں امام رضاؑ شہید ہوئے تو مأمون کے حکم سے امامؑ کو بھی اسی بقعہ میں ہارون کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔[32]
شیخ صدوق کی روایت کے مطابق چوتھی صدی ہجری کے اوائل سے امام رضاؑ کے حرم میں صحن موجود تھے۔[33] ایرانی مورخ و ادیب ابوالفضل بیہقی (وفات: 374ھ) کے مطابق عہد سامانیہ کے ایک وزیر عمید الدولہ فائق بن عبداللہ (وفات: 380ھ) نے اپنے نمائندے ابوبکر شہمرد کے ذریعے حرم کی تعمیر اور مرمت میں حصہ لیا،[34] اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بقعہ کے پہلو میں ایک مسجد تعمیر کروائی جو پورے خراسان میں اس سے بہتر کوئی مسجد نہیں تھی۔[35]

بعض مورخین کے مطابق سلطان محمود غزنوی نے حرم امام رضاؑ کی دوبارہ تعمیر کی جسے اس کے والد نے منہدم کروایا تھا۔[36] سلجوقیوں کے دور میں سلطان سنجر کے وزیر ابوطاہر قمی (وفات: 516ھ) نے حرم کی مرمت اور توسیع کی۔[37] حرم کی بعض تزئینات مثلا دو طلائی محراب کو خوارزم شاہیوں کے دور سے منسوب کی جاتی ہیں۔[38] یورپی سیاح ابن بطوطہ (وفات: 770ھ) نے سنہ 733ھ میں اپنے سفر کے دوران امام رضاؑ کے حرم میں ایک عظیم گنبد، مدرسہ اور مسجد کی موجودگی کی اطلاع دی ہے۔[39]
تیموریان کے دور میں حرم کے متعدد حصوں کی تعمیر یا توسیع کی گئی، جیسے مسجد گوہر شاد، ایوان دارالحفاظ، دارالسّیادہ، مدرسہ پری زاد، مدرسہ دو در اور صحن انقلاب کا کچھ حصہ۔[40] اسی طرح اس دور میں صحن انقلاب کی تکمیل اور دار الفیض، توحید خانہ، گنبد اللہ وردی خان اور گنبد حاتم خانی وغیرہ تعمیر کیے گئے۔[41] افشاریان کے دور میں حرم کی مرمت کے علاوہ صحن انقلاب کے شمالی حصے میں گلدستہ (مینار) بنایا گیا۔[42]
قاجاریہ دور میں صحن آزادی اور ایوان دار الضیافہ، دار السعادہ اور دار الذکر تعمیر کیے گئے۔[43] پہلوی دور میں تعمیر ہونے والے حصوں میں صحن موزہ (موزیم صحن)، ایوان دار السرور، دار السلام، دار العزہ، دار الشرف، دار الاخلاص، دار الزہد، دار العبادہ اور پرانا کتابخانہ، میوزیم اور مہمان خانہ کی عمارتیں شامل ہیں۔[44]

ایران میں اسلامی انقلاب (1979ء) کی کامیابی کے بعد، حرم امام رضاؑ کی بے مثال توسیع اور ترقی ہوئی۔[45] اس دور میں صحن جمہوری اسلامی، صحن قدس، صحن جامع رضوی، صحن غدیر، صحن امام حسنؑ، صحن کوثر، اور ایوان دار الولایہ، دار الحکمہ، دار الکرامہ، دار الہدایہ، دار الرحمہ، دار الاجابہ، دار الحجہ، دار المَرحَمہ اور ایوان امام خمینی(رہ) تعمیر کیے گئے۔ اسی طرح دانشگاہ رضوی، جدید میوزیم، کتابخانہ اور مہمان خانہ بھی اسی دور کی تعمیرات میں شامل ہیں۔[46]
حرم کی زیارت کا تاریخی پس منظر
بعض تاریخی منابع[47] کے مطابق حرم امام رضاؑ کی زیارت کا آغاز اُسی وقت سے شروع ہوا جب آپؑ کو بقعہ ہارونیہ میں دفن کیا گیا۔[48] تاہم، آستان قدس کے محقق علی مؤتمن کے مطابق زیارت کے آغاز کی صحیح تاریخ متعین کرنا ممکن نہیں۔[49] شیخ صدوق کی بعض روایات[50] کی روشنی میں آستان قدس کے شاعر اور مصنف فضل اللہ بدایع نگار (وفات: 1343ھ) نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ سامانیوں کے دور حکومت (389ھ) کے اختتام تک حرم امام رضاؑ نسبتا ایک سنسان مقام تھا اور یہاں زائرین کی تعداد بھی اتنی زیادہ نہیں تھی۔[51]

علی مؤتمن کے مطابق غزنویوں اور سلجوقیوں کے دور حکومت میں کبھی کبھار حکومت کی طرف سے زیارت پر پابندیاں بھی لگائی جاتی تھیں۔[52] تاہم تیموریوں کے دور حکومت سے زائرین کی تعداد میں اضافہ ہوا اور زائرین کو مورد احترام قرار دینے کی روایت بھی اسی زمانے سے رائج ہونے لگی۔[53] صفویوں کے دور حکومت میں، صفوی بادشاہوں کی زیارت پر توجہ دینے اور خراسان میں امن و امان کے قیام کے باعث زائرین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔[54] اور یہی صورت حال قاجاریوں کے دور میں بھی جاری رہی۔[55] البتہ کبھی کبھار بیرونی حملوں، داخلی بدامنیوں یا وبائی امراض کی وجہ سے زیارت کا سلسلہ متاثر ہوتا تھا۔[56]
علی مؤتمن نے مختلف ذرائع بشمول مغربی سیاحوں کی مشاہدات کی بنیاد پر، بارہویں صدی ہجری سے 1968ء تک زائرین کی تعداد سے متعلق ایک اعداد و شمار پیش کی ہے۔[57] ان کے مطابق پہلوی دور حکومت میں نقل و حمل کے ذرائع جیسے ٹرین، ہوائی جہاز اور موٹر گاڑیوں کے عام ہونے کی وجہ سے زائرین کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا؛[58] یہاں تک کہ سن 1968ء میں زائرین کی تعداد سالانہ ایک ملین (دس لاکھ) سے تجاوز کر گئی۔[59] ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اسلامی جمہوریت کے قیام کے بعد زائرین کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا۔[60] یہاں تک کہ سن 2023ء کی ایک رپورٹ کے مطابق سالانہ تقریباً تین کروڑ ایرانی اور پچاس لاکھ غیرایرانی زائرین حرم امام رضاؑ کی زیارت کے لیے مشہد آتے ہیں۔[61]
حرم امام رضاؑ کی زیارت مختلف ادوار میں نہ صرف شیعہ بلکہ بعض اہل سنت علما اور حکمرانوں کی بھی توجہ کا مرکز رہی ہے۔[62] علی مؤتمن نے مختلف ادوار میں امام رضاؑ کی زیارت کے لئے آنے والے ایرانی اور غیر ایرانی بادشاہوں، امراء اور وزراء کی ایک فہرست شائع کی ہے۔[63] اس فہرست کی ابتداء رکن الدولہ دیلمی (314–366ھ) سے اور انتہاء محمد رضا پہلوی (1941–1979ء) پر ہوتی ہے۔[64] منجملہ ان میں آلب ارسلان (سلجوقی بادشاہ)، الجایتو (ایلخانی بادشاہ)، خواجہ نظام الملک طوسی (وزیر سلجوقیان) اور امیر علی شیر نوائی (وزیر تیموریان) جیسے نام شامل ہیں۔[65]
اہلِ سنت علما میں سے بھی کئی مشہور شخصیات نے حرم امام رضاؑ کی زیارت کی، جن میں: ابنِ حِبّان[66] (تیسری و چوتھی صدی ہجری کے شافعی مذہب کے محدث و فقیہ)، ابوالفضل بیہقی،[67] ابوحامد غزالی،[68] (پانچویں صدی ہجری کے اشعری شافعی مذہب کے متکلم، فقیہ) اور فضل بن روزبہان خُنْجی[69] (نویں اور دسویں صدی ہجری کے بارہ امامی تسنن کے فقیہ اور ادیب) نے حرم امام رضاؑ کی زیارت کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
| « | حرم امام رضاؑ فضل بن روزبہان خنجی (نویں اور دسویں صدی ہجری کے بارہ امامی اہل تسنن کے فقیہ اور ادیب) کے کلام میں:
"اور جہاں تک حضرت امام الائمۃ الہدیٰ، سلطان انس و جن، امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کی مقدس و معظم مرقد کی زیارت کا تعلق ہے، تو وہ محبان اہل بیتؑ کے لئے عظیم روحانی شفا ہے اور دل و جان کی حیات اور تازگی کا سبب ہے۔ تمام عالم کی مرادیں اُس با برکت درگاہ سے پوری ہوتی ہیں اور حقیقت میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ تمام مقدس مقامات میں سے ایک اشرف مقام ہے۔ یہ مقام اسلام کی عبادت گاہوں میں سے ایک ہے، جو کبھی بھی نیازمندوں کی عبادت و التجا سے خالی نہیں رہتا۔ اور بھلا ایسا کیوں نہ ہو، جب کہ وہ تربت اُس امام کی ہے جو علومِ نبوی کے مظہر اور صفاتِ مصطفوی کے وارث ہیں۔"[70] |
» |
رسومات
حرمِ امام رضاؑ میں قدیم ایام سے مختلف رسومات منعقد ہوتی آئی ہیں جن میں سے بعض آج بھی جاری ہیں۔ یہ رسومات زائرین اور مجاورین کی خدمت نیز دینی و مذہبی شعائر کی تعظیم و ترویج کی خاطر وقت کے ساتھ ساتھ رواج پائی ہیں۔[71] کہا جاتا ہے کہ ان میں سے بعض رسوم جیسے آشِ فقرا (غریبوں کے لیے آش تقسیم کرنا) اب منسوخ ہو چکی ہیں، لیکن بہت سی رسومات آج بھی پابندی سے انجام دی جاتی ہیں۔[72]
حرم امام رضاؑ میں منعقد ہونے والی رسومات میں: خطبہ خوانی، امان طلبی کے لئے حرم میں پناہ لینا، حرم کی صفائی، نقارہ زنی، ضریح کے فوقانی حصے کی خدمت، دفن اموات، آستان بوسی، دروازوں کا کھولنا و بند کرنا، پرچم کی تبدیلی، خدام کی تبدیلی، حرم کی تطہیر، منت ماننا، زیارت نامہ خوانی، ضریح کے نزدیک نکاح پڑھنا اور غبار روبی وغیرہ شامل ہیں۔[73]

عمارت
حرمِ امام رضاؑ کی عمارت کئی حصوں پر مشتمل ہے، جن میں بقعہ، ایوان، گنبد، گلدستے، صحن، بست، دروازے، کھڑکیاں، کتبے، سقا خانے اور نقارہ خانہ شامل ہیں۔[74]
بقعہ
بقعہ یا بقعۂ ہارونیہ، حرم کا سب سے قدیمی حصہ ہے جس پر گنبد طلائی(سونے کا گنبد) واقع ہے اور ضریح مطہر اسی کے اندر واقع ہے۔[75] کہا جاتا ہے کہ یہ بقعہ تاریخ کے مختلف ادوار میں تین مرتبہ منہدم ہوا،[76] مگر ہر بار مرمت، توسیع اور تزئین کے ذریعے دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے۔[77] بقعہ کے نیچے ایک سرداب بھی موجود ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ امام رضاؑ کی قبر مبارک اس میں واقع ہے۔[78]
رواق

رواق بقعہ کے ارد گرد واقع مسقف جگہوں کو کہا جاتا ہے،[79] جو تاریخی پس منظر، نقشہ، تزئین اور وسعت کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔[80] سب سے قدیمی رواقوں میں رواق دار الحفاظ، رواق دار السیادہ اور رواق دار السلام شامل ہیں جن کی تعمیر گوہر شاد بیگم سے منسوب کی جاتی ہے۔[81] سب سے بڑا رواق، رواق امام خمینی(رہ)[82] جبکہ سب سے چھوٹا رواق دار الاخلاص ہے۔[83]
دیگر رواقات میں : رواق دار الشرح، رواق دار الشکر، رواق دار الفیض، رواق توحید خانہ، رواق گنبد حاتم خانی، رواق گنبد اللہ وردی خان، رواق دار السعادۃ، رواق دار الضیافۃ، رواق دار العزۃ، رواق دار السرور، رواق دار الذکر، رواق دار الزہد، رواق شیخ بہائی، رواق دار العبادۃ، رواق دار الولایۃ، رواق دار الہدایۃ، رواق دار الرحمۃ، رواق دار الكرامۃ، رواق نجمہ خاتون، رواق كوثر، رواق غدیر، رواق دار القرآن، رواق دار النور اور رواق دعبل شامل ہیں۔[84] اس کے علاوہ زیر زمین میں چھ رواق بھی موجود ہیں: جن میں رواق دار الحجۃ، رواق شیخ طوسی، رواق شیخ حر عاملی، رواق حضرت زہرا(س)، رواق دار المرحمۃ، اور رواق حضرت معصومہ(س) شامل ہیں۔[85]
گنبد (قبّہ)

حرم کے مختلف حصوں میں متعدد گنبد ہیں جن میں سے بعض تاریخی گنبدیں درج ذیل ہیں:
- گنبد امیر علی شیر: کہا جاتا ہے کہ بارہویں صدی ہجری کے اواخر تک بقعہ حرم امام رضاؑ کے اطراف میں ایک گنبد تھا جو تیموری وزیر امیر علی شیر نوایی (متوفی 906ھ) کی یادگار تھا،[86] جس کا محل وقوع اب واضح نہیں۔[87]
- گنبد اپک میرزا: تیموری شہزادہ اپک میرزا (متوفی 913ھ) کے حکم سے تعمیر ہوا، جو ایوان راہرو اور کشیک خانہ کے اوپر واقع تھا جسے بعد میں ایوان دار السلام میں تبدیل کیا گیا۔[88]
- گنبد میر ولی بیگ: صفوی اور افشاری ادوار میں اسی نام سے ایک گنبد مشہور تھا لیکن موجودہ دور میں اس کے بارے میں کوئی معلومات موجود نہیں ہے۔[89]

- گنبد حاتم خانی: صفوی وزیر اعظم حاتم بیگ اردوبادی کے حکم سے سن 1010ھ میں تعمیر ہوا۔[90] اس گنبد کا بیرونی حصہ نسبتاً ہموار اور سادہ بغیر کسی تزئینات کے تیار کیا گیا ہے۔[91]
- گنبد اللہ وردی خان: صفوی سردار اللہ وردی خان کے حکم سے سنہ 1021ھ میں تعمیر ہوا؛[92] بعد میں اس کی بیرونی سطح کو تانبے کی تختیوں سے مزین کیا گیا ہے۔[93] کہا جاتا ہے کہ گنبد طلا کے مقابلے میں اس گنبد کے نظارے کو کم کرنے کے لئے اس گنبد کو چھوٹا بنایا گیا تھا اور معمار نے اپنی پوری ہنرنمائی اس کے اندرونی تزئینات میں ظاہر کی ہے۔[94]
- گنبد سقا خانہ: صفوی دور کی یادگار جو رضا شاہ پہلوی اول کے دور تک حرم کے سقاخانے کے اوپر باقی تھا،[95] جسے بعد میں منہدم کر کے ایوان دار الاخلاص میں تبدیل کیا گیا۔[96]
گنبد طلا (سنہری گنبد)

حرم امام رضاؑ کا سنہری گنبد حرم کی روحانی اور بصری شناخت ہے۔[97] جس کی ساخت نہایت دلنشین اور خوبصورت تعمیر کیا گیا ہے۔[98] یہ گنبد دو تہوں پر مشتمل ہے جو بقعہ حرم امام رضاؑ پر بنایا گیا ہے۔[99] اس گنبد کے بیرونی حصہ کو سونے کی پالش شدہ تانبے کی پلیٹوں کے ذریعے مزین کیا گیا ہے۔[100]
سنہری گنبد کے فوقانی حصے میں موجود کتبے پر سنہ 1010ھ میں شاہ عباس صفوی کے مشہد پیدل سفر اور حرم کی مرمت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔[101] یہ کتبہ علی رضا عباسی کے قلم سے خط ثلث میں 1016ھ میں لکھا گیا ہے۔[102]
حرم امام رضاؑ کے سنہری گنبد پر اس کے علاوہ مزید چار کتبے محمد رضا امامی کے قلم سے تحریر کئے گئے ہیں، جن پر سنہ 1084ھ کے زلزلے میں اس گنبد کو پہنچنے والے نقاصات اور شاہ سلیمان صفوی کے حکم سے اس کی دوبارہ مرمت کا ذکر کیا گیا ہے۔[103]

محققین کے مطابق سنہری گنبد کی اندرونی ساخت محمود غزنوی کے دور حکومت (تقریبا 400ھ) کی طرف جبکہ اس کے بیرونی حصے کی تعمیر کو ابو طاہر قمی کی طرف نسبت دی جاتی ہے،[104] تاہم بعض مورخین کے مطابق سنہری گنبد کے بیرونی حصے کو ایل خانیوں کے بعد اور صفویوں سے پہلے کا بتایا جاتا ہے۔[105] کہا جاتا ہے کہ صفویوں کے دور حکومت سے پہلے حرم امام رضاؑ کا گنبد فیروزی رنگ کے کاشیوں سے مزین تھا، جس پر شاہ طہماسب صفوی کے دور میں سونے کی ملمع کاری کی گئی۔[106] مختلف ادوار میں اس گنبد کی بارہا مرمت ہوئی جن میں شاہ سلیمان صفوی کا دور،[107] حرم پر روسیوں کے حملے کے بعد قاجاریوں کا دور،[108] پہلوی دوم اور اسلامی جمہوریہ کا دور شامل ہے۔[109]
گلدستے

حرمِ امام رضاؑ میں گلدستوں (میناروں) کی موجودگی کا سب سے قدیمی تاریخی حوالہ بیہقی نے دیا ہے،[110] جس میں انہوں نے سوری بن معتز، صاحبِ دیوانِ خراسان (عہدِ غزنویان) کے حکم پر ایک مینارہ تعمیر کیے جانے کا ذکر کیا ہے۔[111] سنہ 2020ء کی ایک رپورٹ کے مطابق مسجد گوہر شاد کے گلدستوں کے علاوہ، حرمِ رضوی میں 12 گلدستے موجود ہیں:[112] صحن انقلاب اسلامی کے جنوب میں واقع طلائی گلدستہ: یہ گلدستہ حرم کا سب سے قدیمی مینارہ شمار کیا جاتا ہے،[113] جو گنبدِ طلا کے پہلو میں، ایوان طلائے نادری کے پیچھے واقع ہے۔[114] احتمال دیا گیا ہے کہ یہی وہ گلدستہ ہے جس کا ذکر بیہقی نے کیا تھا۔[115] بعض محققین اس کی تعمیر کو شاہ طہماسب صفوی اور اس کی سونے کی پالش کو نادر شاہ افشار سے منسوب کرتے ہیں۔[116] اس گلدستے کی بلندی تقریباً 40 میٹر ہے،[117] اور اس کے ستون پر دو کتبے کندہ ہیں جن میں صلوات اور سورہ فتح آیت نمبر 1 اور سورہ فاطر آیت نمبر 41 جیسی قرآنی آیات درج ہیں۔[118]
- صحن انقلاب اسلامی کے شمال میں واقع طلائی گلدستہ: یہ منارہ ایوانِ عباسی کے پیچھے واقع ہے اور نادر شاہ افشار کے حکم سے تعمیر کیا گیا ہے۔[119] اس کی تعمیر اور تزئینات جنوبی مینارے جیسی ہیں،[120] فرق صرف کتبوں کا ہے جن میں تعمیر کی تاریخ 1146ھ، درود شریف، سورہ توحید اور سورہ فتح آیت نمبر 13 درج ہیں۔[121]
- صحن جمہوری اسلامی میں واقع طلائی گلدستے: یہ دو گلدستے جن کی اونچائی 32 میٹر اور صحن جمہوری اسلامی کے شمالی اور جنوبی حصے میں سن 1980ء کی دہائی میں بنائے گئے ہیں۔[122] ان گلدستوں کے طلائی ستونوں پر اہل بیتؑ کے اسماءِ مبارک خط بنائی میں تحریر کئے گئے ہیں، جبکہ ان پر موجود کتبے پر سورہ فاطر آیت نمیر 41 کو خطِ ثلث میں کندہ کیا گیا ہے۔[123]

- گلدستۂ ساعت، صحن انقلاب اسلامی: صحن انقلاب اسلامی کے مغربی حصے میں واقع یہ گلدستہ بعض تاریخی منابع کے مطابق دورۂ قاجار میں اس مقصد سے بنایا گیا تھا کہ اس پر گھڑی نصب کی جائے۔[124] سید فخرالدین شادمان (متوفی 1967ء) کی تولیت کے دور میں ایوان کو نقصان پہنچنے کے باعث اسے گرا کر دوبارہ مضبوطی کے ساتھ تعمیر کیا گیا۔[125] یہ گلدستہ آٹھ ضلعی استوانہ نما اور دو منزلہ چھت کے ساتھ بنایا گیا ہے جس کی سطح کاشی معرق سے مزین ہے۔[126]
گلدستۂ ساعت، صحن آزادی: یہ گلدستہ صحنِ آزادی کے جنوبی ایوان میں واقع ہے، جس کی تعمیر 1967ء میں شروع اور 1974ء میں مکمل ہوئی۔[127] یہ گلدستہ بھی آٹھ ضلعی ستون نما ہے اور اس کی بیرونی سطح معرق کاشیوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔[128] یہ گلدستہ صحن انقلاب کے منارے کے مقابلے میں چھوٹا اور نسبتاً سادہ ہے۔[129]
- صحن جامع رضوی کے گلدستے: یہ چھ گلدستے ہیں جو ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد صحن جامع رضوی کی تعمیر کے ساتھ بنائے گئے۔ ان گلدستوں کو صحن جامع رضوی کے 3 ایوانوں کے دونوں اطراف میں ایک دوسرے کے مدمقابل بنائے گئے ہیں،[130] ان میں سے مشرقی اور مغربی ایوانوں کے چار گلدستے جبکہ باقی دو گلدستے جنوبی ایوان میں واقع ہیں، جن کی بلندی 70 میٹر بتائی گئی ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ حرم رضوی کے سب سے بلند گلدستے ہیں۔[131]
صحن

حرم امام رضا میں ضریح اور رواقوں کے ارد گرد متعدد صحن موجود ہیں۔[132] سنہ 2016-2018ء کی رپورٹوں کے مطابق، حرم میں آٹھ صحن ہیں:[133] صحن انقلاب اسلامی (قدیم/صحن عتیق) – تیموری دور کا سب سے قدیم صحن،[134] صحن آزادی (صحن نو) – قاجاری دور میں تعمیر کیا گیا۔[135] صحن جمہوری اسلامی – افتتاح 1989ء، [136] صحن قدس – افتتاح 1993ء،[137] صحن جامع رضوی – افتتاح 2002ء؛ سب سے بڑا صحن،[138] صحن کوثر – افتتاح 2002ء،[139] صحن غدیر – افتتاح 2003ء،[140] صحن امام حسنؑ (سابھ/صحن ہدایت) – افتتاح 2003ء،[141] بعض منابع میں بعض صحنوں کا نام لیا گیا ہے جنہیں بعد میں تبدیل کیے گئے، مثلاً صحن امام خمینی(رہ)[142] (پہلے صحنِ میوزیم)[143] جو 2001ء میں رواق امام خمینی میں تبدیل کیا گیا۔[144]

ایوان

ایوان وہ بلند طاق دار گزرگاہیں ہیں جو صحنوں کے درمیان یا رواقوں اور صحنوں کو آپس میں ملانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔[145] حرم امام رضاؑ کے اہم ایوان کی تفصیل کچھ یوں ہے:
- نادری سنہری ایوان (ایوان امیر علی شیر): صحن انقلاب کا جنوبی ایوان جو تیموریوں کے دور حکومت کی یادگار ہے۔[146]
- ایوان ساعت: صحن انقلاب کا مغربی ایوان؛ شاہ عباس صفوی کے دور کی یادگار ہے۔[147]
- ایوان عباسی : صحن انقلاب کا شمالی ایوان؛ شاہ عباس صفوی کے زمانے کا۔[148]
- ایوان نقارہ خانہ: صحن انقلاب کا مشرقی ایوان؛ صفوی دور۔[149]
- ایوان طلای ناصری (ایوان فتحعلیشاہی): صحن آزادی کا مغربی ایوان؛ قاجاریہ دور۔[150]
- صحن جمہوری کا سنہری ایوان : صحن جمہوری اسلامی کا مشرقی ایوان؛ اسلامی جمہوریہ دور میں بنایا گیا۔[151]
- ایوان ولیعصر : صحن جامع رضوی کا جنوبی ایوان؛ اسلامی جمہوریہ دور کی تعمیر جو حرم کا سب سے بڑا اور بلند ایوان ہے۔[152]
بست یا پناہ گاہیں

بست سے مراد وہ حدود ہیں جو حرمِ امام رضاؑ کے صحنوں کے دروازوں سے پہلے واقع ہوتی تھیں،[153] اور جہاں ماضی میں بست نشینی (پناہ لینے) کی رسم ادا کی جاتی تھی۔[154] سنہ 2010ء کی دہائی کی رپورٹوں کے مطابق حرمِ امام رضاؑ میں دو تاریخی بست، بستِ شیخ طوسی اور بستِ شیخ حر عاملی کے علاوہ انقلاب اسلامی ایران کے بعد چار نئے بست بھی بنائے گئے: بستِ شیخ طبرسی، بستِ شیخ بہائی، بستِ شرقی صحن جامع رضوی (بابالرضا)، اور بستِ غربی صحن جامع رضوی (بابالجواد)۔[155] کہا جاتا ہے کہ حرم کے مختلف ادوار میں توسیع کے باعث ان میں سے کچھ بست حرم کے اندرونی حصوں کے ساتھ ملحق کئے گئے۔[156]
قدیم تاریخی منابع کے مطابق ماضی میں ان بستوں کی حدود زنجیروں کے ذریعے متعین کی جاتی تھیں۔[157] زائرین اپنی ضرورت کی چیزیں بست کے دونوں طرف واقع دکانوں سے خریدا کرتے تھے،[158] اور غیر مسلموں کو ان بستوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔[159] وقت گزرنے کے ساتھ بستوں کی سماجی اور مذہبی اہمیت ختم ہوگئی اور وہ محض راستوں یا گزرگاہوں کے ناموں تک محدود رہ گئے۔[160]
دروازے


حرمِ امام رضاؑ کے دروازے تاریخی اور فن معماری کے اعتبار سے نہایت قیمتی اور نفیس سمجھے جاتے ہیں۔[161] مختلف ادوار میں، حرم کی توسیع، نئے صحنوں اور رواقوں کے اضافے کے ساتھ، پرانے دروازوں کی جگہ نئے، خوبصورت اور نفیس دروازے لگائے گئے۔[162] بقعہ مبارکہ کے دروازے سب سے زیادہ قیمتی قرار دیے گئے ہیں۔[163] ان کے علاوہ کچھ دروازے تاریخی لحاظ سے خاص اہمیت رکھتے ہیں، جیسے: تیموری دور کے لکڑی کے منبت کاری[164] اور گرہ بند دروازے،[165] صفوی دور کے مشبک (جالی دار) دروازے۔[166]
کھڑکیاں

ضریحِ امام رضاؑ کے اطراف میں زائرین کے لیے دعا، سلام اور شفا طلب کرنے جالیدار کھڑکیاں بنائی گئی ہیں۔[167] یہ کھڑکیاں مختلف دھاتوں سے تیار کی گئی ہیں، بعض پر سونے کی پالش کی گئی ہے۔[168] ان کھڑکیوں پر محرابی نقش و نگار، اسلیمی ڈیزائن اور قرآنی کتبے کندہ ہوتے ہیں۔[169] سب سے مشہور کھڑکی "پنجرۂ فولاد" (فولادی کھڑکی) کہلاتی ہے۔[170]
تاریخی لحاظ سے کئی قدیمی کھڑکیوں کو یا تو ہٹا دی گئی ہیں یا ان گی جگہ نئی کھڑکیاں نصب کی گئی ہیں، اور بعض تاریخی کھڑکیاں آستان قدس رضوی کے میوزیم میں محفوظ ہیں منجملہ ان میں: تیموری دور کی زرکوب فولادی کھڑکی،[171] گنبد حاتم خانی کی مشرقی کھڑکی،[172] توحید خانہ اور دارالفیض کے درمیان موجود چاندی کی بنی ہوئی کھڑکی،[173]گنبد اللہ وردی خان اور گنبد حاتم خانی کی درمیانی کھڑکی،[174] رواق دارالحفاظ میں صفۂ مقبرۂ عباس میرزا اور مسجد گوہرشاد کی درمیانی کھڑکی،[175] صحن جمہوری اسلامی کی کھڑکی،[176]دارالاجابہ کی کھڑکی،[177] دارالسیادۃ کی کھڑکی،[178] دارالولایہ کی کھڑکی [179] اور رواق حضرت معصومہ(س) کی کھڑکیاں۔[180]
کتبے

کتبے وہ خوشنویسی سے مزین نقوش ہیں جو حرم کی عمارتوں پر کندہ کیے گئے ہوتے ہیں۔ ان میں نہ صرف تزئینی پہلو ہوتا ہے بلکہ عمارت کی تاریخ، بانی، معمار اور ٹھیکدار وغیرہ کے بارے میں معلومات بھی درج ہوتے ہیں۔[181] حرم امام رضاؑ اسلامی فن تعمیر کی ایک ایسی عظیم مثال ہے جہاں مختلف ادوار میں مختلف خطوط (ثلث، نسخ، تعلیق) اور فنون خطاطی استعمال ہوئے۔[182]
مختلف منابع میں مذکور بعض مشہور کتبے درج ذیل ہیں: بقعہ حرم امام رضاؑ کے زرین فام کاشیوں پر معلق کتبے،[183] سنہری گنبد پر علی رضا عباسی کا خط ثلث میں تحریر کیا گیا کتبہ،[184] مسجد گوہر شاد کے ایوان مقصورہ پر بایسنقر تیموری(821ھ) کا کتبہ،[185] صحن انقلاب کے ایوانوں کے چاروں طرف موجود خط ثلث میں تحریر کئے گئے کتبے جو محمد رضا امامی، عنایت اللہ بن حسین اور محمدحسین شہید مشہدی (دورۂ صفویہ) کی خطاطی ہیں۔[186] ۔

نقارہخانہ
حرم امام رضاؑ میں صحن انقلاب کے مشرقی ایوان میں واقع عمارت کو نقارہ خانہ کہا جاتا ہے جہاں روزانہ نقارہ زنی(مقدس ڈھول اور کرنا بجانا) کی رسم ادا کی جاتی ہے۔[187] قاجاریہ دور سے پہلے اس عمارت کا واضح ریکارڈ موجود نہیں،[188] لیکن صفویہ دور سے پہلے کے بعض متون[189] سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُس زمانے میں نقارہ زنی کے لیے کوئی مستقل مقام نہیں ہوا کرتا تھا۔[190]
قاجاریہ دور میں یہ عمارت سادہ اور چھوٹی تھی۔[191] سنہ 1958ء میں اس کے بوسیدہ ہونے کی وجہ سے اسے منہدم کر کے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ نئی عمارت سن 1967ء میں مکمل ہوئی۔[192]
موجودہ نقارہ خانہ تین منزلوں پر مشتمل ہے: پہلی منزل: آلاتِ نقارہ زنی رکھنے جگہ، دوسری منزل: نقارہ نوازوں کی آرامگاہ اور تیسری منزل: نقارہ زنی کا مقام۔[193] اس کی نمایاں تزئین میں فیروزی معرق کاشیوں کے مقرنس اور رنگا رنگ نقوش شامل ہیں۔[194]
سقاخانے

سنہ 2014ء کی رپورٹ کے مطابق حرمِ امام رضاؑ میں تین سقاخانے ہیں: سقاخانۂ اسماعیل طلایی، سقاخانۂ صحن قدس اور سقاخانۂ صحن جمہوری۔[195] سقاخانۂ اسماعیل طلایی جو کہ سب سے مشہور سقاخانہ ہے، صحن انقلاب کے وسط میں میں واقع ہے۔[196] سقاخانۂ صحن قدس جسے مسجد قبۃ الصخرہ کے طرز پر بنایا گیا ہے۔[197] سقاخانۂ صحن جمہوری اسلامی یہ ایک آٹھ ضلعی عمارت ہے جس پر نیلا گنبد بنایا گیا ہے۔[198]
سقاخانوں کی تاریخ صفویہ دور حکومت سے پہلے تک پہنچتی ہے۔[199] اگرچہ چھٹی صدی ہجری میں سنگاب خوارزم شاہی اس بات کی علامت سمجھی جاتی ہے کہ اس دور سے پہلے بھی سقاخانوں کا وجود تھا۔[200] سب سے قدیمی سقاخانہ رواق راہرو میں موجود سقاخانہ تھا،[201] جہاں سنگاب خوارزمشاہی کے علاوہ ایک حوض بھی موجود تھا جہاں سے لوگ پانی پیتے تھے۔[202] پہلوی اول کے دور میں سنگاب کو آستان قدس رضوی کے میوزیم میں منتقل کرنے اور اس کے ساتھ موجود حوض کو ختم کرنے کے بعد اس سقاخانے کی نوعیت میں بھی تبدیلی آگئی جسے بعد میں رواق دارالاخلاص کی تعمیر کے لئے ختم کیا گیا۔[203]

نادرشاہ افشار کے زمانے میں مشہور سقا خانہ "سقاخانہ اسماعیل طلایی" تعمیر ہوا۔[204] کہا جاتا ہے کہ قاجاریہ دور میں سقا خانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا،[205] مثلاً صحن آزادی میں بھی ایک سقا خانہ بنایا گیا،[206] جو 1928ء میں محمد ولی اسدی کے حکم سے منہدم کردیا گیا، اور اس کی جگہ ایک حوض بنایا گیا۔[207]
متعلقات
حرمِ امام رضاؑ سے وابستہ اشیاء اور متعلقات کے بارے میں بھی دستیاب منابع میں تفصیلی معلومات درج ہیں۔ منجملہ ان میں سنگِ مزار، ضریح، صندوق ، سنہری و شفاف محراب، جواہرات سے مزین خوانچے اور ترنج، غلاف، پردے، قالین، منبر، چراغدان اور روشنی کے دیگر آلات، گھڑیاں، برتن، ظروف، اور حرم کے کبوتر وغیرہ شامل ہیں۔[208]
سنگِ مزار

محققین کے مطابق امام رضاؑ کا سب سے قدیمی سنگِ مزار ایک سنگ مرر ہے جس کی قدمت چھٹی صدی ہجری کے آغاز تک پہنچتی ہے۔[209] یہ پتھر سن 1939ء میں اصفہان کے ایک سمساری کی دکان سے ملا جسے بعد میں حرم رضوی کے میوزیم میں منتقل کیا گیا۔[210] اس پتھر پر جسے بعض مورخین ایک تاریخی شاہکار قرار دیتے ہیں،[211] محرابی شکل کے نقش و نگار کے ساتھ کوفی خط میں کتبے کندہ ہیں۔[212]
ان کتبوں میں سے ایک پر مرقد امام رضاؑ کی تعمیر کی تاریخ سنہ 516ھ درج ہے جس پر یہ جملہ درج ہے: «ہذا مقام الرضا» "یہ رضاؑ کا مقام یعنی مرقد ہے"۔[213] اس مذکورہ عبارت اور دیگر شواہد کی بنیاد پر ایران شناس ایرج افشار (متوفی: 2010ء) نے نتیجہ نکالا ہے کہ یہ پتھر امامؑ کے مزار کا نہیں بلکہ ان مقامات میں سے ایک کا ہے جہاں امامؑ مدینہ سے مرو سفر کے دوران قیام پذیر ہوئے تھے۔[214]
امام رضاؑ کا دوسرا سنگِ مزار جو اس وقت سرداب میں امامؑ کے مزار پر رکھا ہوا ہے،[215] اس کے بارے میں معلومات بہت کم ہیں۔[216] شیعہ محقق عزیز اللہ عطاردی کے مطابق جب سنہ 1959ء میں ضریح شیر و شکر نصب کی جا رہی تھی تو سرداب کی مرمت کے دوران اس پتھر کو دیکھا گیا۔ یہ پتھر سفید سنگ مرر تھا، جس پر عربی عبارت کندہ تھی: «بسم اللہ الرحمن الرحیم، دُفن فی ہذہ البلدۃ الآمنۃ» (خدا کے نام سے، جو رحمان و رحیم ہے، دفن ہوا اس شہر امن میں)۔[217]

تیسرا سنگِ مزار، جو سنہ 2000ء میں ضریح سیمین و زرین کی تنصیب کے وقت نصب کیا گیا،[218] سبز رنگ کا سنگ مرمر ہے جس کا وزن تقریباً چار ٹن بتایا گیا ہے۔[219] اس پر محرابی حاشیے، پھول اور پتوں کے نقش بنے ہیں۔[220] اس پتھر پر موجود عربی کتبہ سید محمد حسینی موحد اور فارسی کتبہ محمد علی شریفی سرابی اور بابک مسعودی زنجانی کی تحریر ہے۔[221] سنگ مزار پر موجود کتبہ پر امامؑ کے اسم گرامی، القاب، نسب، ولادت اور شہادت کی تاریخ درج ہے۔[222] جبکہ اس پتھر کے حاشیوں پر مختلف آیات درج ہیں جن میں آیہ نفس مطمئنہ، آیہ تطہیر، آیہ اولی الامر، اور سورہ صافات کی آیت نمبر 80 اور 81 شامل ہیں۔[223] اس پتھر کے نچلے حصے پر مدح امام رضاؑ میں لکھے گئے جامی کے اشعارِ کندہ ہیں۔[224]
صندوق

حرم امام رضاؑ کے مزار پر صندوق[یادداشت 1] رکھے جانے کی تاریخ قدمت تقریبا پانچویں صدی ہجری تک پہنچتی ہے۔[225] کہا جاتا ہے کہ سلطان سنجر سلجوقی کے کارگزار انوشیروان زرتشتی نے بیماری سے شفا یابی کے بعد امام رضاؑ کے روضے کے لئے شکرانے کے طور پر ایک صندوق نذر کیا۔[226] بتایا جاتا ہے کہ یہی وہ صندوق تھا جس کا ذکر ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامہ میں کیا:[227] ایک لکڑی کا صندوق جو چاندی کی تختیوں سے ڈھکا ہوا تھا۔[228]
صفوی دور حکومت میں شاہ عباس اول کے حکم سے نخل ہندی سے ایک نیا صندوق تیار کیا گیا، جس پر سونے کی ملمع کاری اور سونے کی میخیں لگائی گئی تھی۔[229] اس پر سنہری کتبے تھے، جس کی خطاطی علی رضا عباسی (1011ھ) نے اور حکاکی مست علی زرگر (1012ھ) نے انجام دیا۔[230] ان کتبوں پر آیت الکرسی، صلوات خاصہ امام رضاؑ، اور چند فارسی اشعار درج تھے۔[231] اس صندوق کو سنہ 1932ء میں خراب ہونے کی وجہ سے ہٹا دیا گیا، اور اس کے سونے کے کتبے بعد میں آستان قدس رضوی کے میوزیم میں محفوظ کر لئے گئے ہیں۔[232]
بعض مورخین کے مطابق حاج حسین حجار باشی زنجانی نے سنہ 1932ء کو سنگ مرر کا ایک نیا صندوق بنایا جسے شفاف لیمن مرمر سے تیار کیا گیا تھا اور اندر سے روشنی کے انتظام کی وجہ سے ضریح کو منور کر دیتا تھا۔[233] کہا جاتا ہے کہ سنہ 2000ء میں ضریح کی تبدیلی کے دوران اس صندوق کی جگہ سبز رنگ کا نیا صندوق رکھا گیا۔[234]

ضریح
ضریح امام رضاؑ لکڑی، لوہے یا دونوں کے ترکیب سے بنا ہوا جالی دار ڈھانچہ ہے جو مختلف ادوار میں امام رضاؑ کے مرقد پر نصب ہوتا رہا ہے۔[235] حرم امام رضاؑ میں ضریح نصب ہونے کی ابتدائی تاریخ معلوم نہیں، تاہم صفویہ دور سے حرم میں ضریح کی موجودگی کے شواہد موجود ہیں۔[236] بعض تاریخی منابع کے مطابق صفویہ دور سے اسلامی جمہوریہ تک حرم امام رضاؑ میں کل پانچ ضریحیں نصب ہوئیں ہیں:[237] ضریح شاہ طہماسبی (شاہ طہماسب اول صفوی کے دور میں نصب ہوئی)،[238] ضریح فولادی شاہ عباسی، جو کہ ضریح فتح علی شاہی کے نام سے مشہور ہے (شاہ عباس اول صفوی کے دور میں نصب ہوئی)،[239] ضریح مرصع نادری یا ضریح نگین نشان (1163ھ)،[240] ضریح شیر و شکر ( 1959ء)،[241] اور ضریح سیمین و زرین (2000ء)۔[242]
سنہرے محراب
کہا جاتا ہے کہ حرم امام رضاؑ کے تاریخی محرابوں میں دو سنہرے محراب بھی تھیں، جو ساتویں صدی ہجری کے نفیس کاشی کاری کے نمونے تھے۔[243] یہ محراب رنگین چمکدار کاشیوں سے بنے تھے[244] اور بقعہ حرم امام رضاؑ کے دو پہلوؤں میں نصب تھے: ایک جنوب مغربی دیوار میں اور دوسرا جنوب مشرقی دیوار میں۔[245] ان کا عمومی نقشہ “دوازدہ محراب” یعنی بارہ محرابوں والا تھا،[246] ان پر سوائے اصلی محراب کے آیات اور احادیث منقش تھیں[247] جیسے: آیات آمن الرسول، آیہ ولایت اور آیہ شہادت۔[248] ان کتبوں پر درج تاریخوں کے مطابق دونوں محراب سنہ 612ھ میں تیار کئے گئے تھے[249] اور سن 1961 سے 1965ء کے دوران حرم کی مرمت کے موقع پر آستان قدس رضوی میوزیم میں منتقل کر دیئے گئے تھے۔[250]

جواہرات کے خوانچے اور ترنج
یہ شیشے کے فریم والے خانے ہیں جو بقعہ کی چار دیواری میں نصب تھے،[251] جن میں سلاطین اور عقیدت مندوں کے نذرانے، جیسے ہار، بازو بند، خنجر، شمشیر، اور دیگر قیمتی جواہرات رکھے جاتے تھے۔[252] بعد میں ان جواہرات کو خوانچوں کے اندر رکھ کر حرم کی تزئین کے لئے دیواروں پر نصب کر دیا گیا۔[253] ان خوانچوں کی تنصیب کی صحیح تاریخ معلوم نہیں، لیکن دستیاب شواہد[254] سے معلوم ہوتا ہے کہ ناصر الدین شاہ قاجار کے زمانے میں یہ خوانچے موجود تھے۔[255]

محققین کے مطابق ان خوانچوں میں موجود اشیاء کی ماہیت اور تعداد مختلف ادوار میں مختلف تھیں[256] اور وقت کے ساتھ ان میں تبدیلیاں آتی گئیں،[257] لیکن سنہ 1994ء میں حرم امام رضاؑ میں ہونے والے بم دھماکے بعد کی گئی مرمت کے بعد سے ان میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔[258]
سنہ 2010ء کی رپورٹ کے مطابق، حرم میں تقریبا ایک جیسے 8 خوانچے اور 4 ترنج ہیں، منجملہ ان میں ضریح کے نچلے حصے کے دائیں اور بائیں طرف موجود خوانچے، بالائی حصے کے دائیں اور بائیں طرف موجود خوانچے، سامنے کے دائیں اور بائیں طرف موجود خوانچے، پچھلے حصے کے دائیں اور بائیں طرف موجود خوانچے، اسی طرح پائنتی حصے میں موجود ترنج، پچھلے حصے میں موجود ترنج، سامنے موجود ترنج اور بالائی حصے میں موجود ترنج[259] ان خوانچوں اور ترنجوں کے اندر موجود جواہرات اور تاریخی اشیاء کی تفصیل مخصوص منابع میں درج ہے۔[260]
غلاف

حرمِ امام رضاؑ میں موجود غلاف ان قیمتی کپڑوں کو کہا جاتا ہے جو ضریح، صندوق یا سنگِ مزار امام رضاؑ پر ڈالے جاتے ہیں، اور اپنی نفاست اور تاریخی اہمیت کی بنا پر مشہور ہیں۔[261] کہا جاتا ہے کہ آستان قدس رضوی کے مرکزی خزانے میں متعدد قدیم اور نفیس غلاف اور پردے محفوظ ہیں؛ مثلاً: صندوق پوش زربافت قلمدانی غلاف(تاریخِ بافت: 952ھ)[262] صندوق پوش زربافت غلاف جسے فتح علی شاہ قاجار نے وقف کیا،[263] ضریح پوش سبز مخملی غلاف (1276ھ)،[264] ضریح پوش کالے مخملی غلاف (1279ھ)،[265] ضریح پوش مروارید دوز غلاف (تقریباً 1285ھ)،[266] ضریح پوش نقش دار مخملی غلاف (اواخر قاجاریہ)،[267] ضریح پوش سرخ مخملی غلاف (دور پہلوی اول)۔[268]
سنہ 2018ء کی ایک رپورٹ کے مطابق امام رضاؑ کی قبر پر ڈالا ہوا موجودہ غلاف سنہرا اور نفیس کپڑا ہے، جو استاد محمود محمودی، قربان ریوندی اور محمد سلیمیان کی دستکاری ہے۔[269] پہلوی دوم کے دور میں بھی ایک خاص زر بافت کپڑا تیار کیا گیا تھا جس پر عبارت «یا علی بن موسی الرضا» بُنی ہوئی تھی۔ یہ غلاف اسوقت آستان قدس رضوی کے میوزیم میں محفوظ ہے۔[270]

پردے
آستانِ قدس رضوی کے میوزیم اور مرکزی خزانے میں متعدد قدیمی اور نفیس پردے محفوظ ہیں، جو مختلف اوقات میں حرم کے داخلی حصوں میں استعمال ہوتے تھے۔[271] منجملہ ان میں سے چند نمایاں نمونے یہ ہیں: سنہرا کتبہ دار پردہ (وقف شاہ سلیمان صفوی، 1080ھ، خط: محمدرضا امامی)،[272] اطلسی کتبہ دار پردہ (احتمالاً صفویہ دور)،[273] ابریشمی قلاب دوز پردہ، وقف فتح علی شاہ قاجار سنہ 1240ھ،[274] پردے کے لئے بنائی گئی قالین سنہ 1320ھ؛[275] جھالر دار پردہ احتمالاً وقف عزت الدولہ، ناصر الدین شاہ قاجار کی بہن اور امیر کبیر کی زوجہ۔[276]
قالینیں

کہا جاتا ہے کہ حرم امام رضاؑ میں موجود قالینوں کا مجموعہ دنیا کے سب سے بڑے نفیس قالینوں کے مجموعوں میں سے ایک ہے۔[277] یہ قالین عموماً اعلیٰ معیار کے ایرانی دستباف(ہاتھ کی بُنی ہوئی) ہیں، جن میں سے اکثر قالین آستان قدس رضوی کی قالین ساز کمپنی کی ہیں، جنہیں وقتاً فوقتاً حرم کے مختلف صحنوں اور رواقوں میں بچھایا جاتا ہے۔[278]
کچھ قالین صفویہ، قاجاریہ اور پہلوی ادوار کے تاریخی آثار میں سے ہیں جو آستان قدس رضوی کے میوزیم میں محفوظ ہیں۔[279] جبکہ کچھ قالین خصوصی آرڈر پر تیار کی جاتی ہیں، جو فنّی اور معنوی اعتبار سے بے حد قیمتی اور نفیس سمجھے جاتے ہیں۔[280]
منبر
حرمِ امام رضاؑ میں کئی تاریخی اور قیمتی منبر موجود رہے ہیں۔ منجملہ ان میں سب سے مشہور منبر، ممبر صاحب الزمان ہے،[281] جو مسجد گوہر شاد کے ایوان مقصورہ میں واقع ہے۔[282] یہ منبر 14 پائیدانوں (سیڑھیوں) پر مشتمل ہے اور اسے اخروٹ اور ناشپاتی کے درخت کی لکڑی سے بنایا گیا ہے۔ اس منبر کے دو دروازے اور متعدد کتبے ہیں، جن پر اس کے بنانے والے نجار کا نام "سلطان حسین بن نجار کرمانی" درج ہے۔[283]

بعض محققین کے مطابق یہ منبر نویں صدی ہجری کا ہے،[284] بعض اسے صفویہ دور کے اواخر سے منسوب کرتے ہیں،[285] جبکہ بعض اسے فتح علی شاہ قاجار کے عہد کا قرار دیتے ہیں۔[286] تاہم، کچھ تاریخی شواہد پہلی رائے (قرنِ نُہم) کی تائید کرتے ہیں۔[287] عوام کے درمیان یہ عقیدہ معروف ہے کہ امام زمانہ(عج) کے ظہور کے بعد آپؑ اسی منبر پر تشریف فرما ہوں گے۔[288] کہا جاتا ہے کہ اس منبر کی سنہ 1946ء میں مرمت کی گئی اور بعد میں اسے حفاظت کے لیے شیشے کے صندوق میں رکھا گیا ہے۔[289]
روشنائی کے آلات

حرمِ امام رضاؑ میں برقی آلات کا استعمال عام ہونے سے پہلے قدیم زمانے سے روشنائی کے مختلف آلات استعمال ہوتے رہے ہیں: جن میں شمعدان، شمعدان کے پائدان، گُل گیر(جلے ہوئے فیتے کاٹنے والی قیچی)، تیل کا چراغ، قندیل، شمع کا شیشہ اور جھاڑ فانوس شامل ہیں۔[290] ان آلات میں سے کئی تاریخی نمونے آستان قدس رضوی کے میوزیم میں محفوظ ہیں، مثلاً: ضریح کے سرہانے استعمال ہونے والا شمعدان جس کے بارے میں احتمال دیا جاتا ہے کہ یہ ایلخانیوں کے دور کے آثار قدیمہ میں سے ہے۔[291] تابنے کا شمعدان (نویں صدی ہجری)،[292] برنجی و مفرغی شمعدان (دور صفویہ)،[293] زرکوب و کتیبہ دار گل گیر (آٹھویں صدی ہجری)،[294] زرکوب فولادی گل گیر (اوائلِ قاجاریہ)[295] برنجی تیل کا ہاتھی نما چراغ (وقف: 1091ھ)،[296] قندیل زرین گوہر نشان (1271ھ)، [297] قندیلِ زرین وقفی (1267ھ)،[298] چراغ کا تراشیدہ شیشہ جس پر نستعلیق میں اشعار کندہ ہیں۔[299]

کہا جاتا ہے کہ سنہ 1091ھ کی ایک تاریخی سند میں حرم امام رضاؑ میں پہلی بار جھاڑ فانوسوں کے استعمال کا ذکر ملتا ہے۔[300] بعض تاریخی منابع میں قاجاریہ دور میں حرم امام رضاؑ میں 33 جھاڑ فانوس اور ان کے استعمال ہونے کی جگہ کا ذکر ملتا ہے۔[301] ایک تاریخی سند کے مطابق پہلوی اول کے دور میں 170 شاخوں والا ایک فانوس خریدے جانے کا ذکر ملتا ہے۔[302] پہلوی دوم کے زمانے میں نئے ایوانوں کے لیے مزید فانوس وقف کیے گئے۔[303] ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد ہر نئے ایوان کے ساتھ جھاڑ فانوسوں کی تعداد بڑھتی گئی، یہاں تک کہ سنہ 2008ء کی ایک رپورٹ کے مطابق حرم میں 1420 جھاڑ فانوس موجود تھے۔[304]
اسی طرح سنہ 2014ء کی ایک رپورٹ کے مطابق: حرم امام رضاؑ میں موجود سب سے بڑا جھاڑ فانوس 250 شعلوں کا ہے جو ایوان دار السیادہ میں موجود ہے جس کی لمبائی چوڑائی 4×3 متر ہے اسی طرح سب سے وزنی جھاڑ فانوس ایوان دار السلام کا ہے جو 114 شعلوں کا ہے جس کا وزن 2 ٹن ہے، اور سب سے قیمتی جھاڑ فانوس 40 شعلوں :کا سبز رنگ فانوس ہے جو ضریح کے سرہانے موجود ہے۔[305] اسی طرح حرم کے ایوانوں میں سے ایوان دار الحجۃ میں سب سے زیادہ جھاڑ فانوس ہے جن کی تعداد 132 بتائی گئی ہیں۔[306]
گھڑیاں

عزیز اللہ عطاردی کے مطابق، حرم میں گھڑیاں رکھنے کی تاریخی قدمت کے بارے میں کوئی حتمی تاریخ معین نہیں، لیکن دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ صفویہ دور میں حرم کے اندر گھڑیاں موجود تھیں، البتہ ان کی تعداد یا نوعیت کے بارے میں بھی کوئی حتمی رائے موجود نہیں ہے۔[307] حرم میں موجود سب سے قدیمی گھڑی قاجاریہ دور (1309ھ) کی ہے، جو برطانیہ کی بنی ہوئی تھی۔[308] یہ گھڑی صحن انقلاب کے مغربی ایوان میں نصب تھی، جو چاروں سمتوں سے قابل مشاہدہ تھی، اور مخصوص اور منظم اوقات میں گھنٹیاں بجاتی تھی۔[309] کہا گیا ہے کہ سنہ 1957ء میں صحن انقلاب کے گلدستۂ ساعت کی مرمت کے دوران اس گھڑی کو صحن آزادی کے گلدستہ ساعت پر منتقل کیا گیا۔[310] صحن انقلاب کی نئی گھڑی سویٹزر لینڈ(Switzerland)[311] یا جرمنی[312] کی بنی ہوئی تھی، جسے عبد الحسین معاون التجار یزدی نے حرم کو ہدیہ کیا تھا۔[313] کہا جاتا ہے کہ حرم میں ان دو گھڑیوں کے علاوہ بھی دوسری گھڑیاں موجود ہیں جن میں سے بعض قدیمی اور بعض معمولی گھڑیاں ہیں۔[314] ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 2007ء کے بعد زیادہ تر ڈیجیٹل گھڑیاں نصب کی گئیں، جو نہ صرف دقیق اوقات کی نشاندہی کرتی ہیں بلکہ زائرین کے لئے شرعی اوقات وغیرہ کی طرف بھی رہنمائی کرتی ہیں۔[315] حرم میں موجود ان گھڑیوں کی دیکھ بھال کے لیے باقاعدہ طور پر دفتر ساعتِ حرم کے نام سے ایک دفتر بھی قائم ہے۔[316]

حرم امام رضاؑ میں دو آفتابی گھڑیاں بھی موجود تھیں: مسجد گوہر شاد کا آفتابی شاخص جو سنہ 1933ء کی بتائی جاتی ہے اور شاخصِ ظہرِ شیخ بہائی کے نام سے معروف ہے۔[317] صحن جمہوری اسلامی کی آفتابی گھڑی جو آل عصفور کے ایک عالم دین کی تخلیق تھی جو سنہ 1987ء کو حرم میں نصب کی گئی۔[318]
برتن اور آلات
بعض تاریخی منابع میں حرمِ امام رضاؑ میں استعمال ہونے والے برتنوں اور آلات کی فہرست درج کی گئی ہے۔[319] منجملہ ان میں خوارزم شاہی سنگاب(پتھر یا دھات کا بنا ہوا بڑا پیالہ یا حوض) سنہ 597 سے 610ھ، مختلف گلاب دان اور خوشبو بکھیرنے اور دھلائی کے لیے استعمال ہونے والے آفتابے شامل ہیں۔ اسی طرح تانبے کے آبخوری، سماور، قرآن رکھنے کے صندوق ، قرآن کے رحل اور مختلف ادوار سے تعلق رکھنے والے تالے بھی شامل ہیں۔[320]
کبوتران حرم

تاریخی شواہد کے مطابق دیگر ائمہ معصومینؑ اور امام زادوں کے مزارات کی طرح حرمِ امام رضاؑ میں بھی قدیم زمانے سے کبوتر موجود تھے۔[321] سب سے پرانی دستاویز جو حرم میں موجود کبوتروں کی نشاندہی کرتی ہے، سنہ 1071ھ کا ہے، جس میں شاہ عباس اوّل صفوی کے حکم سے ضریح کی پچھلی جانب موجود باغ (موجودہ صحنِ آزادی) میں ایک کبوتر خانہ بنانے کا ذکر ہے۔[322] قاجاریہ دور کی ایک سند میں "حرم کے مہمان سرا" میں کبوتروں کے گوشت کو بطور خوراک استعمال کیے جانے کا تذکرہ ہے۔ محققین کا گمان ہے کہ کبوتروں کی زیادہ تعداد کی وجہ سے ان کا گوشت خوراک میں استعمال کیا جاتا تھا۔[323] ان کے علاوہ حرم کے کبوتروں سے متعلق صرف دو تاریخی دستاویزات کا ذکر ملتا ہے جو دونوں سنہ 1966ء کی ہیں اور کبوتروں کے دانے اور خوراک سے متعلق ہیں۔[324]
حرم امام رضاؑ میں موجود کبوتروں کو عوامی کہاوتوں اور شعری اور نثری متون میں ایک مقدس علامت مانا گیا ہے۔[325] انہیں امام رضاؑ سے منسوب کرتے ہیں[326] اور ان کا خاص احترام رکھا جاتا ہے۔[327] مظفر الدین شاہ قاجار (حکومت: 1313-1324ھ) کے دور کے ایک سفرنامے کے مطابق حرم امام رضاؑ کے کبوتر جب تک مشہد میں موجود ہوں مورد احترام سمجھے جاتے تھے اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاتا تھا۔[328] حرم کے کبوتروں اور ان کے لئے دانہ نذر کرنے کا رواج حرم میں مرسوم رسومات میں سے ہے۔[329] عوامی عقیدے میں یہ بات مشہور ہے کہ یہ کبوتر حرم کے اندر کہیں بھی فضلہ نہیں کرتے۔[330]
مذہبی اور زیارتی مقامات

بعض منابع میں حرم امام رضاؑ میں موجود عبادی اور زیارتی مقامات جن میں مساجد اور مقبرے شامل ہیں، کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:[331]
مسجد بالاسر
مسجدِ بالاسر، حرمِ امام رضاؑ کی سب سے قدیمی عمارت ہے جو بقعہ مبارکہ کے بعد تعمیر ہوئی[332] اور امام رضاؑ کے ضریح کے بالکل قریب واقع ہے۔[333] اس مسجد کا سب سے قدیم تاریخی ذکر شیخ صدوق کی تصنیفات میں ملتا ہے۔[334] تاریخِ بیہقی[335] کے مطابق یہ مسجد پانچویں صدی ہجری کے وسط میں سلسلہ غزنویہ کے سرکاری افسر ابو الحسن عراقی کی تعمیر ہے۔[336]
مسجد بالاسر بقعہ مبارکہ کے مغرب میں رواق دار السیادہ اور بقعہ کے درمیان واقع ہے،[337] اس کی چھت پر مقرنس کاری کی گئی ہے اور دیواریں معرقہ کاشیوں سے آراستہ ہیں۔[338] جنوبی حصے میں ایک خوبصورت محراب ہے جس پر سنہ تعمیر 1363ھ اور کاریگر کا نام محمد خان رضوان کندہ ہے۔[339]
مسجد بالاسر کی دیواریں سنہرے کاشیوں سے مزین ہیں جن کے بالائی حاشیے پر سورہ فتح کی آیات درج ہیں۔[340] اسی طرح ان کتبوں کے بالائی حصوں پر آستان قدس کے ملک الشعرا قاسم رسا(متوف:1977ء) کے اشعار کندہ ہیں۔[341] مشرقی طاق پر تائیہ دعبل سے دعبل خزاعی کے دو اشعار کندہ ہیں جن میں ہارون رشید کی قبر کے بغل میں امام رضاؑ کی تدفین کا ذکر ہے۔[342] عطاردی نے اس مسجد کے دیگر کتبوں کی تعداد اور ان پر موجود عبارتوں کو بھی نقل کیا ہے۔[343]
عقبی مسجد

یہ چھوٹی مسجد سنہ 1967ء میں زائرین کے گزرنے میں آسانی کے لیے صفّہ شاہ طہماسبی، مسجد ریاض اور دار القرآن کے کچھ حصوں کے ساتھ ملا کر رواق دارالفیض اور دارالشکر میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔[344] اس مسجد کی دیواروں پر قاآنی (متوفی: 1270ھ) کا ایک طویل قصیدہ[345] خط نستعلیق میں درج تھا جو امام رضاؑ کی مدح میں لکھا گیا تھا۔[346] اس قصیدے کے آخری مصرعہ میں حساب ابجد کے اعتبار سے مسجد کی مرمت اور کتبے کی تنصیب کی تاریخ 1150ھ ذکر کی گئی ہے۔[347] یہ مسجد سنہ 1968ء میں حرم امام رضاؑ کی تعمیر کے وقت رواق دار الشکر کا حصہ بن گئی۔[348]
مسجد ریاض
یہ نسبتاً چھوٹی مسجد تھی، جس میں زیادہ تر خواتین نماز ادا کرتی تھیں، اس لیے اسے مسجد زنانہ بھی کہا جاتا تھا۔[349] سنہ 1968ء میں صفّہ شاہ طہماسبی کے ساتھ ملا کر رواق دارالفیض میں شامل کر دیا گیا۔[350]

مسجد گوہر شاد
مسجد گوہر شاد، بقعہ حرم امام رضاؑ کے جنوب میں واقع ایک تاریخی مسجد ہے۔[351] یہ مسجد تیموری دور میں گوہر شاد بیگم (متوفی: 861ھ)، زوجۂ شاہرخ تیموری کے حکم پر 807ھ سے 821ھ کے درمیان تعمیر ہوئی۔[352] بعض منابع کے مطابق اس مسجد کی تعمیر سنہ 807ھ کو شروع ہوئی اور سنہ 821ھ کو پایہ تکمیل کو پہنچی۔[353]
یہ مسجد اپنی تاریخی حیثیت، طرز تعمیر اور فنّی خوبصورتی کے باعث مشہد اور ایران کے اہم تاریخی مقامات میں شمار ہوتی ہے۔[354] پہلوی اول کے دور میں سنہ 1935ء کو یہاں مشہور واقعہ "واقعہ مسجد گوہر شاد" پیش آیا، جہاں مردوں اور عورتوں کے لباس کو یکساں کرنے کے قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو سرکوب کیا گیا۔[355] کتاب خانہ مسجد گوہر شاد حرم امام رضاؑ کے قدیم ترین لائبریریوں میں شمار ہوتا ہے۔[356]

مسجد پیر زن
بعض منابع کے مطابق مسجدِ پیر زن یا مسجد بیوہ زن،[357] مسجد گوہر شاد کے صحن میں ایک مستطیل شکل کی جگہ پر بنائی گئی تھی جو پتھروں کے ستونوں کے ذریعے مسجد گوہر شاد کے صحن سے جدا ہوتی تھی۔[358] یہ مسجد قاجاریہ دور سے لے کر پہلوی دور کے اوائل تک مسجد گوہر شاد کے حوض کی جگہ موجود تھی۔[359] لیکن اس کے بعد اس جگہ ایک حوض تعمیر کیا گیا۔[360]
کہا جاتا ہے کہ مستشار الملک سبزواری کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک بیوہ خاتون نے اس مسجد کی مرمت اور توسیع کروائی تھی اسی بنا پر یہ مسجد، مسجد پیر زن کے نام سے مشہور ہوگئی۔[361] تاہم! عوامی رائے عامہ کے مطابق اس مسجد کا نام ایک بوڑی خاتون کے خواب یا دعا سے منسوب ہے جو مسجدِ گوہر شاد کی تعمیر کے زمانے کی کہانی سے وابستہ ہے۔[362]
بہشت ثامن

بہشت ثامن حرم امام رضاؑ کے تین صحنوں صحن قدس، صحن جمہوری اور صحن آزادی کے نیچے واقع 3 قبرستانوں کو کہا جاتا ہے۔[363] کہا جاتا ہے کہ گذشتہ زمانے سے حرم کے اندر مردوں کی تدفین کے رواج کو مد نظر رکھتے ہوئے اس مقصد کے لئے وسیع اور مجہز جگہ کی ضرورت کے پیش نظر ان قبرستانوں کو تیار کی گئیں:[364] بہشت ثامن 1: صحنِ آزادی کے نیچے، 4233 مربع میٹر، افتتاح: 1975ء۔[365] بہشت ثامن 2: صحنِ قدس کے نیچے، 2550 مربع میٹر، افتتاح: 1991ء۔[366] اور بہشت ثامن 3: صحنِ جمہوری اسلامی کے نیچے، 11300 مربع میٹر، افتتاح: 1989ء۔[367]
دیگر مقامات

حرم امام رضاؑ کے احاطے میں موجود یا اس کے توسیعی حصے میں شامل دیگر مذہبی اور زیارتی مقامات یہ ہیں:
- باغِ رضوان: یہ ایک سرسبز و شاداب باغیچہ ہے جو حرم کے شمالی جانب واقع ہے۔ یہ باغ سنہ 1930ء کو قبرستان قتلگاہ کے منہدم ہونے کے بعد اُس کے ایک حصے پر بنایا گیا۔[368] فقیہ سبزواری اور محمدتقی آملی کے مزارات اسی باغ میں واقع ہیں۔[369]
- مقبرۂ طبرسی: امین الاسلام طبرسی کا مزار، خیابان طبرسی کے مغربی چوراہے پر واقع ہے۔ سنہ 2000ء کو ان کے مقبرے کو ایک مضبوط کنکریٹ کے فریم کے ساتھ یہاں منتقل کیا گیا۔[370] اس سے پہلے ان کا مزار باغ رضوان میں تھا، لیکن حرم کے توسیعی منصوبے میں یہ جگہ حرم کے نیچے سے گزرنے والے راستے میں آگئی۔[371] ان کے مقبرے کی عمارت پیاز نما گنبد اور اس کے بیرونی دیواریں اینٹوں اور کاشی کاری سے مزین ہیں۔[372]
- مقبرۂ پیر پالان دوز: یہ مقبرہ صفویہ دور کی تاریخی عمارتوں میں سے ہے، جو حرم کے مشرقی جانب، خیابان نواب صفوی کے کنارے واقع ہے۔[373] بعض اسے صفویہ دور کے عارف، محمد کارندہی (معروف بہ پیر پالان دوز) کا مزار قرار دیتے ہیں،[374] جبکہ بعض کے نزدیک یہ چوتھی صدی ہجری کے مشہور صوفی ابو نصر سراج طوسی کا مدفن ہے۔[375]
علمی و ثقافتی مراکز
عزیز اللّٰہ عطاردی کے مطابق حرم امام رضاؑ ابتدا ہی سے علم کے فروغ اور علما و محدثین کے اجتماع کا مرکز رہا ہے۔[376] اسی پس منظر میں، مختلف ادوار میں یہاں مکتب خانے، مدارس علمیہ، جدید تعلیمی ادارے، جامعات، کتب خانے اور عجائب گھر وجود میں آئے، جن میں سے کچھ حرم کے احاطے کے اندر واقع ہیں۔[377]
مدارسِ علمیہ
حرمِ رضوی کے اطراف میں موجود بعض تاریخی مقامات جو حرم کے توسیعی منصوبے میں حرم میں شامل ہوچکے ہیں، ان میں کم و بیش دس مدارس علمیہ کا ذکر ملتا ہے۔[378] کہا جاتا ہے کہ ان میں سے صرف چار مدارس: مدرسۂ مرزا جعفر، مدرسۂ خیرات خان، مدرسۂ پری زاد، اور مدرسۂ دو در آج بھی اپنی جگہ باقی ہیں۔[379]

مدرسۂ بالاسر
یہ مدرسہ، ضریح امام رضاؑ کے سرہانے واقع تھا۔ اس کے شمال میں صحن انقلاب، جنوب میں مدرسۂ پری زاد، اور مشرق میں مسجدِ بالاسر واقع تھی۔[380] اگرچہ اس کے ابتدائی تعمیر کی تاریخ معلوم نہیں،[381] لیکن بعض کے نزدیک یہ مشہد کا قدیم ترین مدرسۂ علمیہ تھا۔[382] اس مدرسہ کے بانی کے بارے میں اختلاف ہے؛ بعض شاہرخ تیموری[383] اور بعض ایک ازبک شہزادے کو اس کا بانی قرار دیتے ہیں۔[384]

اس مدرسہ کی مختلف ادوار(1091ھ، 1271ھ، 1977ء) میں مرمت ہوتی رہی۔[385] سنہ 1972ء میں یہاں 70 سے زیادہ طلاب زیرِ تعلیم تھے۔[386] اس عمارت میں صفویہ دور کے کتبے[387] اور شاہرخ تیموری کے پوتے اور عہد تیموریہ کے وزیر مرزا ابو القاسم بابَر (متوفی:861ھ) کا مقبرہ واقع تھا۔[388] اور آخر میں ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد اسے منہدم کر کے اس کی جگہ رواق دار الولایہ تعمیر کیا گیا۔[389]
مدرسۂ پری زاد
مدرسہ پری زاد عہد تیموریہ کے آثار میں سے ہے۔ اس کا بانی پری زاد خاتون تھی جو گوہر شاد بیگم کی خادمہ اور خواجہ ربیع کے خاندان سے تھی۔[390] بعض تاریخی منابع کے مطابق اس مدرسہ کی بنیاد سنہ 821ھ کو عہد تیموریان میں رکھی گئی اور عہد صفویہ کے بادشاہ، شاہ سلیمان (سنہ 1091ھ)، پہلوی دوم اور اسلامی جمہوریہ میں اس کی مرمت کی گئی۔[391] ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد اس مدرسہ میں دینی سوالات کے جوابات کا مرکز قائم ہوا۔[392] یہ مدرسہ حرم کے جنوب مغرب اور مسجد گوہر شاد کے شمال مغرب میں واقع ہے۔[393]

مدرسۂ دو در
مدرسہ دو در (دو درب یا یوسفیہ یا یوسف خواجہ) عہد تیموریان کے تاریخی عمارتوں میں سے ہے جو سنہ 843ھ کو خراسان کے امراء میں سے ایک شخص (امیر یوسف خواجہ بہادر) کے توسط سے تعمیر ہوا۔[394] یہ دو منزلہ عمارت دو دروازوں، چار ایوانوں اور دو گنبدوں پر مشتمل ہے جو فن تعمیر کے لحاظ سے نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔[395] یہ مدرسہ حرم امام رضاؑ کے صحن جمہوری اسلامی کے شمال مشرق میں واقع ہے[396] اور انقلاب کے بعد سے یہاں دار القرآن الکریم کے تحت قرآنی سرگرمیاں انجام پاتی ہیں۔[397]

مدرسۂ مرزا جعفر
مدرسہ مرزا جعفر سنہ 1059ھ کو شاہ عباس دوم صفوی (حکومت: 1077-1052ھ) کے دور حکومت میں تعمیر ہوا۔[398] عہد ایلخان کے وزیر شمس الدین جوینی کے خاندان کے ایک شخص کو اس مدرسہ کا بانی بتایا جاتا ہے۔[399] یہ مدرسہ محل وقوع اور فن تعمیر کے اعتبار سے مشہد کے بہترین مدارس میں شمار ہوتا ہے۔[400] ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد اس مدرسہ کی مرمت ہوئی اور اسے مدرسۂ خیرات خان کے ساتھ دانشگاہ علوم اسلامی رضوی کی عمارت سے ملحق کردیا گیا ہے۔[401]

مدرسۂ خیرات خان
مدرسۂ خیراتخان (تأسیس: 1057ھ) بھی شاہ عباس دوم صفوی کے دور کی ایک تاریخی عمارت ہے، جس کا نام اس کے بانی کے نام پر رکھا گیا ہے، جو اُس وقت کے اشرافیہ میں سے تھے۔[402] ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد حرمِ امام رضاؑ کے توسیعی حدود میں آنے کی وجہ سے اس مدرسہ کو منہدم کر کے اس کے اصلی نقشے کے مطابق دوبارہ تعمیر کیا گیا۔[403] کہا گیا ہے کہ اس مدرسہ کا ایک حصہ مدرسۂ مرزا جعفر کے ساتھ ملا کر جامعۂ علومِ اسلامی رضوی کی عمارت کے ساتھ ملحق کر دیا گیا ہے۔[404] سنہ 2021ء کے آغاز سے اس مدرسہ کا نام مدرسہ عالی فقاہتِ عالم آلِ محمدؑ رکھا گیا ہے۔[405]
مدرسۂ مستشاریہ

مدرسۂ مستشاریہ (جسے مدرسہ سیدمرزا یا مدرسہ ملا تاج بھی کہا جاتا ہے) اُن چار مدارس میں سے ایک تھا جو شاہرُخ تیموری کے زمانے میں تعمیر ہوئے تھے۔[406] یہ مدرسہ صحن انقلاب کے شمال مغرب میں، مدرسۂ مرزا جعفر سے متصل اور ایوان عباسی کے پیچھے واقع تھا۔[407] اس مدرسہ کو عہد تیموریہ کے امیر سید مرزا نے تعمیر کیا تھا،[408] اور بعد میں 1290ھ کو مستشار الملک کے ذریعے اس کی مرمت کی گئی جس کے باعث اسے مدرسۂ مستشاریہ کہا جانے لگا۔[409]
کہا جاتا ہے کہ سنہ 1021ھ میں جب شاہ عباس صفوی حرم امام رضاؑ کی زیارت کے لیے آئے، تو ان کے حکم سے صحن انقلاب کی توسیع کے لیے اس مدرسہ کا کچھ حصہ منہدم کیا گیا اور باقی ماندہ حصہ مدرسۂ ملاتاج کے نام سے مشہور ہوا۔[410] تاریخی اسناد کے مطابق اس مدرسہ کا باقی ماندہ حصہ مسجد گوہر شاد کے واقعے[411] کے بعد اور سنہ 1975ء کو حرم کے اطراف کی مرمت کے دوران[412] گرایا گیا۔ انقلاب اسلامی ایران کے بعد اس کا باقی ماندہ حصہ جامعۂ علوم اسلامی رضوی کی عمارت میں شامل کردیا گیا۔[413]
مدرسۂ علی نقی مرزا
یہ مدرسہ سنہ 1239ھ (عہدِ قاجار) میں رکن الدولہ علی نقی مرزا، جو اس وقت آستان قدس رضوی کے متولی اور والیِ خراسان تھے، کے حکم سے تعمیر ہوا۔[414] بعض مآخذ کے مطابق صحن آزادی کی تعمیر کے بعد صحن آزادی اور صحن انقلاب کے درمیان یہ مدرسہ بنایا گیا۔[415] بعد میں 1964 سے 1967ء کے دوران، اس مدرسہ کی تعمیر نو کے بعد اس میں کچھ تبدیلیاں لا کر رواق دار الذکر میں تبدیل کردیا گیا۔[416]

مدرسہ پائین پا
یہ مدرسہ صحن آزادی کے جنوب اور مسجد گوہر شاد کے مشرق میں مقبرہ شیخ بہائی کے ساتھ واقع تھا۔[417] یہ مدرسہ صفویہ دور کے مدارس میں شمار ہوتا ہے، جسے مرزا سعد الدین، وزیر کل خراسان نے سنہ 1087ھ میں تعمیر کرایا تھا۔[418] اس مدرسہ کو سنہ 1928ء میں حرم کے اطراف میں سڑکوں کی توسیع کے دوران اپنی تمام موقوفات سمیت منہدم کردیا گیا۔[419] اس کے بعد اسی جگہ پر کتب خانہ، میوزیم، صحن امام خمینی اور رواق مقبرۂ شیخ بہائی تعمیر کیا گیا۔[420]

مدرسہ فاضل خان
مدرسہ فاضل خان شاہ عباس دوم کے دور میں گیارہویں صدی ہجری کے مشہور فقیہ ملا عبد اللہ بشرویی کے توسط سے تعمیر ہوا۔[421] کہا جاتا ہے کہ ملا عبد اللہ نے یہ مدرسہ اپنے بھائی فاضل خان تونی کی وصیت پر سنہ 1075ھ میں تعمیر کیا۔[422] یہ مدرسہ فن معماری اور فنون لطیفہ کے لحاظ سے، مدرسہ مرزا جعفر وغیرہ کے ساتھ صف اول کے بلند پایہ مدارس میں شمار ہوتا ہے۔[423] اس مدرسہ کے کتب خانہ کو مشہد میں آستان قدس رضوی لائبریری کے بعد سب سے قیمتی اور جامع کتاب خانہ سمجھا جاتا ہے۔[424] اسی طرح کہا جاتا ہے کہ اس مدرسہ کے کافی موقوفات اور املاک بھی ہیں۔[425]
اس مدرسہ میں درس و تدریس میں مشغول رہنے والے علماء میں ہاشم قزوینی، حسین فقیہ سبزواری، اور عبد الجواد ادیب نیشابوری کے نام قابل ذکر ہیں۔[426] یہ مدرسہ سنہ 1931ء میں حرم امام رضاؑ کے اطراف میں سڑکوں کی توسیع کے دوران منہدم کر دیا گیا۔[427]
مدرسۂ باغ رضوان

بعض منابع کے مطابق مدرسۂ باغ رضوان سنہ 1961ء کو حسین فقیہ سبزواری کے توسط سے باغ رضوان (قبرستان قتلگاہ) کی زمین میں تعمیر کیا گیا۔[428] کہا جاتا ہے کہ یہ عمارت اس طرح بنائی گئی تھی کہ اوپر کی منزل میں طلبہ تعلیم حاصل کرتے تھے اور نیچے کی منزل میں اموات دفن کی جاتی تھیں۔[429] اس مدرسہ کو 1975ء میں حرم کی توسیع کے دوران منہدم کر کے اس کی جگہ صحن رضوان تعمیر کیا گیا ہے۔[430]
مرکزی کتب خانہ اور مرکز اسناد آستان قدس رضوی
حرم امام رضاؑ کا مرکزی کتب خانہ اور مرکز اسناد آستان قدس رضوی، ایران اور دنیا کے اہم مکتوب ثقافتی خزانوں میں شمار ہوتا ہے۔[431] یہ کتب خانہ اسلامی کتب خانوں میں قدیم ترین سمجھا جاتا ہے اور اس کے قدیم ترین وقف شدہ نسخوں کی قدمت چوتھی صدی ہجری کے اواسط تک پہنچتی ہے۔[432] تاریخی اسناد کے مطابق کتب خانہ آستان قدس رضوی کی نئی عمارت 27 ہزار مربع میٹر رقبے پر تین منزلوں پر مشتمل ہے جو بست شیخ طوسی کے قریب واقع ہے اور 22 فروردین سنہ 1995ء کو اس کا افتتاح ہوا ہے۔[433]
دانشگاہ علوم اسلامی رضوی
دانشگاہ علوم اسلامی رضوی، آستان قدس رضوی سے وابستہ ایک علمی اور تعلیمی مرکز ہے، جو سنہ 1984ء کو حرم امام رضاؑ کے نزدیک قائم ہوا۔[434] رپورٹ کے مطابق اس یونیورسٹی کی عمارت بست طبرسی کے مشرقی حصے میں مدرسہ مرزا جعفر اور مدرسہ خیرات خان کے الحاق سے تعمیر ہوئی ہے۔[435] اس یونیورسٹی کا دوسرا شعبہ صحن امام حسنؑ کے مشرق میں سنہ 2005ء کو قائم ہوا ہے۔[436]
آستان قدس رضوی موزیم
موزیم آستان قدس رضوی (تأسیس: 1945ء) حرم امام رضاؑ کے احاطے میں واقع ہے اور اس کا مقصد حرم کے قدیمی آثار اور مختلف ادوار میں آستان قدس رضوی کو ہدیہ کی گئی اشیاء کی نمائش ہے۔[437] آستان قدس موزیم کے متعدد شعبے ہیں: منجملہ ان میں مرکزی موزیم، قرآن و نوادرات میوزیم، تحائف مقام معظم رہبری میوزیم، مردم شناسی میوزیم، قالین میوزیم اور حرم رضوی کے فن تعمیر کی نمائش گاہ شامل ہیں۔[438]
حرم کے انتظامی، طبی اور فلاحی مراکز
حرم امام رضاؑ کے فلاحی مراکز میں آستان قدس رضوی، دارالشفا، ایمرجنسی میڈیکل سنٹر، مہمان خانہ، دفاتر امانات(نقدی اور دیگر قیمتی اشیاء کے لئے)، گمشدہ اشیاء کا دفتر، وہیل چیئر امانت دفتر، نذورات کا دفتر، جوتے رکھنے کی جگہ، حرم کا معلوماتی دفتر، زائرین کی امداد کا مرکز، شعبہ امور تدفین اور واش رومز وغیرہ شامل ہیں۔
آستان قدس رضوی
آستان قدس رضوی ایک بڑا غیر سرکاری انتظامی و خدماتی ادارہ ہے، جو حرم امام رضاؑ کے انتظامی امور، حرم کے املاک اور موقوفات نیز حرم سے منسلک تنظیموں اور اداروں کی انتظامی امور کی نگرانی کرتا ہے۔[439] حرم امام رضاؑ کے انتظامی ڈھانچے کی ابتدا، کچھ ذرائع کے مطابق[440] امام رضاؑ کی تدفین کے زمانے یعنی بقعہ ہارونیہ سے منسلک ہے۔[441]
عہد صفویہ تک جس دور میں آستان قدس کی تشکیلات اور موقوفات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، حرم کا انتظامی ڈھانچہ نہایت مختصر تھا جو عموماً علویوں کے زیر انتظام ہوتا تھا۔[442] بعض ذرایع کے مطابق عہد صفویہ سے عہد قاجاریہ تک آستان قدس کی توسیع کم و بیش جاری رہی،[443] اور ناصر الدین شاہ کے دور میں آستان قدس رضوی کے ہزار سے زائد رسمی اور غیر رسمی ملازمین ہوتے تھے۔[444]
بعض تاریخی منابع کے مطابق پہلوی دور حکومت میں آستان قدس کے انتظامی ڈھانچے میں مزید بہتری آئی اور آستان قدس رضوی کے "متولی باشی" کا عہدہ «نیابت تولیت عظمی» میں تبدیل ہوا۔[445] انقلاب اسلامی ایران کے بعد آستان قدس کی سرگرمیوں میں مزید وسعت اور تیزی آگئی۔[446] سنہ 2014ء کی ایک رپورٹ کے مطابق آستان قدس رضوی تولیت عظمی کی نگرانی میں[447] درجنوں شعبے، ادارے، کمپنیاں اور تنظیمیں منظم طور پر کام کرتی ہیں۔[448]
دار الشفاء
دارالشفاء، حرم امام رضاؑ کا طبی مرکز ہے، جس کی تاریخ عہد صفویہ کے اوائل تک جاتی ہے۔[449] کہا جاتا ہے کہ عہد قاجاریہ کے اواخر میں ڈاکٹر امیر خان امیر اعلم کی کوششوں سے دارالشفاء کی مرمت کرکے اسے طبی سہولیات سے مجہز کیا گیا یہاں تک کہ یہ شفا خانہ ایران کے مشرقی حصے کے اہم طبی مراکز میں شمار ہونے لگا۔[450] پہلوی دور میں ہسپتال امام رضاؑ کے قیام کے بعد، دارالشفاء کو بھی اس ہسپتال میں ضم کیا گیا۔[451]
کہا جاتا ہے کہ سنہ 1948ء میں دارالشفاء ایک چھوٹے طبی مرکز کے ضمن میں حرم امام رضاؑ کے مہمان خانے کے فوقانی منزل میں واقع تھا۔[452] اس عمارت کی تخریب کے بعد دار الشفاء کو صحن انقلاب کے جنوبی حصے(موجودہ رواق دارالحکمہ) میں منتقل کر دیا گیا۔[453] سنہ 1980ء کو صحن آزادی سے متصل دار الشفاء کی نئی عمارت کا افتتاح ہوا۔[454] سنہ 2009ء کو دار الشفاء بست خیابان شیرازی کے مشرقی حصے میں ایک نئی عمارت میں منتقل ہوا۔[455] کہا جاتا ہے کہ اس مرکز میں زائرین اور حرم کے مجاورین کو عمومی اور تخصصی کلینکوں کے ذریعے مختلف طبی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔[456]
مہمان خانہ

حرم امام رضاؑ میں زائرین، خدام، کارکنان اور نادار افراد کی مہمان نوازی کے لئے مہمان خانہ قائم کیا گیا ہے، جس کی تاریخی قدمت 500 سال سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔[457] کہا جاتا ہے کہ مختلف ادوار میں اس مہمان خانے کو مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا تھا مثلا عہد صفویہ اور افشاریہ میں اسے «مطبخ»، عہد قاجاریہ میں «کارخانہ مبارکہ»، پہلوی دور میں «مہمان سرائے حضرتی» یا «مہمانسرائے حضرت» کے نام سے جانا جاتا تھا۔[458]
حرم رضوی کے مہمان خانہ سے متلعق سب سے قدیمی تاریخ عہد تیموریان تک پہنچی ہے۔[459] سنہ 1974ء میں مہمان سرا کی نئی عمارت بنی۔[460] یہ عمارت انقلاب اسلامی ایران کے بعد دوبارہ تعمیر کی گئی اور صحن غدیر کے مغرب میں بھی ایک عمارت اس میں شامل کی گئی۔[461]
2015ء کی رپورٹ کے مطابق یہاں وقف اور نذورات کے ذریعے روزانہ تقریباً 6000 افراد کے لئے کھانا تیار کیا جاتا ہے۔[462] آستان قدس کے نمائندے زائرین کے لیے روزانہ دعوت نامے تقسیم کرتے ہیں۔[463]
حرم کی ثقافتی سرگرمیاں

سنہ 2018ء کی ایک رپورٹ کے مطابق حرم امام رضاؑ میں درج ذیل ثقافتی سرگرمیاں انجام پاتی تھیں:
- حرم کے مختلف مقامات پر نماز جماعت کا انعقاد۔[464]
- تقریر، نماز جماعت کے بعد شرعی احکام، مسنون دعائیں جیسے شب جمعہ کو دعائے کمیل، مختلف مناسبتوں کے مطابق مجالس اور محافل کے ذریعے اسلامی تعلیمات کی تبلیغ کے علاوہ مدرسۂ پری زاد میں خصوصی تبلیغی پروگرام۔[465]
- مدرسۂ دودر میں دارالقرآن الکریم آستان قدس رضوی کے تحت قرآنی سرگرمیاں، جیسے حفظ، قرأت اور تفسیر کی کلاسیں، حلقہ تدبر، قرآنی معارف کی وضاحت، انس با قرآن کے محافل، بچوں کے لیے محفل مَہْدُ الرضاء، قرآنی فنون کے ورکشاپ اور قرآنی کوئز مقابلہ جات۔[466]
- مختلف مقامات پر مردوں اور عورتوں کے لئے ٹیلی فون، پیغامات اور متعلقہ دفاتر کے ذریعے فقہی اور اعتقادی سوالات کے جوابات، اور مدرسۂ پری زاد اور دفتر باب الہادی میں اعتقادی سوالات کے جوابات۔[467]
- دینی مشاورت کا مرکز جس میں فردی اور گروہی کلاسوں کی صورت میں دینی مشاورت۔[468]
- حرم شناسی، جس میں زائرین کے سوالات کے جوابات، امام رضاؑ کی زندگی اور حرم کی تاریخ کی وضاحت، اور حرم کے مختلف حصوں اور مختلف مقامات کے لئے خصوصی زیارتی پروگراموں کا انعقاد۔[469]
حرم سے متعلق پیشے

آستان قدس رضوی کے انتظامی امور کے علاوہ حرم امام رضاؑ سے متعلق پیشے «خدمت» کے عنوان سے جانے جاتے ہیں۔[470] خدمہ حرم کے خدمت گزاروں کا مجموعہ ہے، جو مقررہ آداب اور رواج کے مطابق بقعہ، رواقوں، صحنوں، ایوانوں، جوتے رکھنے کی جگہوں اور دیگر مقامات پر خدمات سر انجام دیتے ہیں۔[471]
بعض منابع میں موجود پراکندہ معلومات کے مطابق[472] امام رضاؑ کی شہادت کے ابتدائی سالوں سے لے کر دسویں صدی ہجری تک حرم امام رضاؑ میں خادموں کی موجودگی کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔[473] عہد صفویہ میں حرم کی وسعت اور اہمیت میں اضافہ کے ساتھ، خدام کی تعداد اور ان کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوا۔[474] قاجاریہ دور (1300ھ) میں خدام کی تعداد 1200 بتائی جاتی ہے۔[475] اسی طرح پہلوی دور میں خدام کے وظائف اور ان سے مربوط قواعد و ضوابط مرتب کیے گئے۔[476]

انقلاب اسلامی ایران کے بعد حرم کی توسیع اور زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ خدام کی تعداد میں اضافہ ہوا۔[477] سنہ 2014ء کی ایک رپورٹ کے مطابق خدام آٹھ گروہوں میں آئینی، اعزازی اور رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دیتے ہیں۔[478] سنہ 2018ء کی ایک رپورٹ کے مطابق خدام اپنی خدمت کی نوعیت اور مقام کے لحاظ سے خادم، فرّاش(فرش بچھانے والے)، حافظ (حُفّاظ)، کفشدار(جوتے سنبھانے والے)، دربان، تعلیمی خادم اور ثقافتی خادم میں تقسیم ہوتے ہیں۔[479]
موقوفات
حرم امام رضاؑ دنیا کے بڑے موقوفاتی اداروں میں شمار ہوتا ہے، جو امام رضاؑ کے عقیدت مندوں کے موقوفات کے ذریعے صدیوں پہلے وجود میں آیا ہے۔[480]
عطاردی کے مطابق حرم امام رضاؑ میں موقوفات کا سلسلہ کب سے شروع ہوا اس بارے میں کوئی دقیق معلومات میسر نہیں،[481] لیکن کچھ شواہد کی بنیاد پر چوتھی صدی ہجری سے یہ سلسلہ جاری ہے۔[482] بعض منابع میں مختلف ادوار میں حرم کے موقوفات کی تاریخ اور انہیں استعمال میں لائے جانے کے طریقہ کار سے متعلق معلومات دستیاب ہیں۔[483] سنہ 2004ء سے حرم کے موقوفاتی امور، آستان قدس رضوی کے معاونت امور حقوقی و موقوفات کے زیر انتظام ہیں۔[484]
حرم امام رضاؑ کے غیر منقولہ موقوفات ایران[485] اور خراسان کے مختلف علاقوں، پاکستان، ہندوستان اور قفقاز [486]میں موجود تھے، ان میں سے بعض وقت گزرنے کے ساتھ ضائع ہو گئے ہیں۔[487] ایران کے ایک تاجر حسین ملک (وفات 1972ء) کے موقوفات کو حرم کا سب سے بڑا موقوفہ سمجھا جاتا ہے،[488] یہ موقوفہ سنہ 1937 سے 1961ء تک سات مراحل میں کتاب خانوں، اموال منقولہ اور املاک کے وقف کے ذریعے قائم ہوا ہے۔[489]
حوالہ جات
- ↑ رجبی قدسی، «حرم مطہر»، ص344۔
- ↑ جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، 2002ء، ص459۔
- ↑ ورجاوند، «شناختنامہ آستان قدس رضوی»، ص527۔
- ↑ صدوق، عیون اخبار الرضا، انتشارات جہان، ج2، ص255۔
- ↑ صدوق، عیون اخبار الرضا، انتشارات جہان، ج2، ص256۔
- ↑ طوسی، تہذیب الاحکام، 1986ء، ج6، ص10۔
- ↑ صدوق، عیون اخبار الرضا، انتشارات جہان، ج2، ص265۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص21۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص13۔
- ↑ اخوان مہدوی و نقدی، «مقدمہ»، ص9۔
- ↑ نقدی و ایزدی، «موقوفات»، ص556۔
- ↑ اخوان مہدوی و نقدی، «مقدمہ»، ص9۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص16۔
- ↑ جلالی و ہمکاران، مشاہیر مدفون در حرم رضوی، 2007ء، ج1، ص34-35۔
- ↑ ورجاوند، «شناختنامہ آستان قدس رضوی»، ص527۔
- ↑ رجبی قدسی، «حرم مطہر»، ص345۔
- ↑ رجبی قدسی، «حرم مطہر»، ص345۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص6۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص7۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص17۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص6۔
- ↑ زینبی، «روایتی دربارہ نخستین اثر مشہدی کہ ثبت ملی شد»، سایت مشہدچہرہ۔
- ↑ سنایی غزنوی، دیوان حکیم سنایی غزنوی، 2002ء، ص236۔
- ↑ رجبی قدسی، «حرم مطہر»، ص344۔
- ↑ رجبی قدسی، «حرم مطہر»، ص344۔
- ↑ صدوق، عیون اخبار الرضا، انتشارات جہان، ج2، ص285-286۔
- ↑ رجبی قدسی، «حرم مطہر»، ص344۔
- ↑ رجبی قدسی، «حرم مطہر»، ص344۔
- ↑ لباف خانیکی، «گنبد و بقعہ مطہر»، ص414۔
- ↑ مفید، الارشاد، 1992ء، ج2، ص271۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص60؛ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج1، ص58۔
- ↑ مفید، الارشاد، 1992ء، ج2، ص271۔
- ↑ صدوق، عیون اخبار الرضا، انتشارات جہان، ج2، ص286۔
- ↑ بیہقی، تاریخ بیہقی، 2022ء، ج1، ص406۔
- ↑ مقدسی، احسن التقاسیم، 2003ء، ص256۔
- ↑ ابناثیر، الکامل فی التاریخ، 1965ء، ج9، ص401۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس، 1975ء، ص56۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص41۔
- ↑ ابنبطوطہ، رحلۃ ابنبطوطہ، 1997ء، ج3، ص55۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص33۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص33-34۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص34۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص34۔
- ↑ رجبی قدسی، «حرم مطہر»، ص346۔
- ↑ رجبی قدسی، «حرم مطہر»، ص346۔
- ↑ رجبی قدسی، «حرم مطہر»، ص346۔
- ↑ صدوق، عیون اخبار الرضا، انتشارات جہان، ج2، ص242، 260۔
- ↑ ارشادسرابی و رجبی قدسی، «زیارت»، ص524۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص235۔
- ↑ صدوق، عیون اخبار الرضا، انتشارات جہان، ج2، ص280-281، 285-286۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص236۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص237۔
- ↑ کلاویخو، سفرنامہ کلاویخو، 1995ء، ص192؛ فضلاللہ بن روزبہان خنجی، مہماننامہ بخارا، 1976ء، ص336۔
- ↑ ارشادسرابی و رجبی قدسی، «زیارت»، ص527۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص239۔
- ↑ ارشادسرابی و رجبی قدسی، «زیارت»، ص527۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص238-240۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص240-241۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص241۔
- ↑ ارشادسرابی و رجبی قدسی، «زیارت»، ص527۔
- ↑ «زائران مشہد مقدس آمارگیری میشوند»، خبرگزاری ایرنا۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص241؛ ارشادسرابی و رجبی قدسی، «زیارت»، ص526۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص241-246۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص241-246۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص241-246۔
- ↑ ابنحبان، کتاب الثقات، 1973ء، ج8، ص457۔
- ↑ بیہقی، تاریخ بیہقی، 2022ء، ج1، ص543۔
- ↑ ہمایی، غزالینامہ، تہران، ص127۔
- ↑ فضلاللہ بن روزبہان خنجی، مہماننامہ بخارا، 1976ء، ص336۔
- ↑ فضلاللہ بن روزبہان خنجی، مہماننامہ بخارا، 1976ء، ص336۔
- ↑ اخوان مہدوی و نقدی، «مقدمہ»، ص9۔
- ↑ اخوان مہدوی و نقدی، «مقدمہ»، ص9۔
- ↑ «فہرست»، ص3-4۔
- ↑ رجبی قدسی، «حرم مطہر»، ص344-346۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص63؛ لباف خانیکی، «گنبد و بقعہ مطہر»، ص413۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص61۔
- ↑ ابناثیر، الکامل فی التاریخ، 1965ء، ج9، ص401۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج1، ص61۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، مشہد، 2016ء، ص111۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، مشہد، 2016ء، ص111۔
- ↑ در این قطعہ از بہشت، 2018ء، ص108-109۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، مشہد، 2016ء، ص140۔
- ↑ در این قطعہ از بہشت، 2018ء، ص119۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، مشہد، 2016ء، ص115-141؛ در این قطعہ از بہشت، 2018ء، ص110-125؛ «نقشہ حرم مطہر رضوی»، سائٹ فولادی کھڑکی۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، مشہد، 2016ء، ص141-142؛ در این قطعہ از بہشت، 2018ء، ص110-125؛ «نقشہ حرم مطہر رضوی»، سائٹ فولادی کھڑکی۔
- ↑ نعمتی و نظرکردہ، «گنبد امیر علیشیر»، 398-399۔
- ↑ نعمتی و نظرکردہ، «گنبد امیر علیشیر»، 398-399۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص164-165؛ نظرکردہ و نعمتی، «گنبد اپکمیرزا»، 395۔
- ↑ نظرکردہ، «گنبد میرولیبیگ»، ص405۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص142۔
- ↑ «تصاویر ہوایی از حرم امام رضا جہت نماہنگ و مستند»، سایت راسخون۔
- ↑ جہانپور و نعمتی، «گنبد اللہوردیخان»، ص396-397۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص156۔
- ↑ جہانپور و نعمتی، «گنبد اللہوردیخان»، ص397۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص164-165؛ نظرکردہ و نعمتی، «گنبد سقاخانہ»، ص404۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص165-166۔
- ↑ کرزن، ایران و قضیہ ایران، 1983ء، ج1، ص222۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص71-72۔
- ↑ لباف خانیکی، «گنبد و بقعہ مطہر»، ص406۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص101-102؛ لباف خانیکی، «گنبد و بقعہ مطہر»، ص406۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص57؛ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص102؛ لباف خانیکی، «گنبد و بقعہ مطہر»، ص408۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص57؛ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص102؛ لباف خانیکی، «گنبد و بقعہ مطہر»، ص408۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص57؛ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص102-103؛ لباف خانیکی، «گنبد و بقعہ مطہر»، ص410۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص56؛ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص74۔
- ↑ لباف خانیکی، «گنبد و بقعہ مطہر»، ص417۔
- ↑ لباف خانیکی، «گنبد و بقعہ مطہر»، ص417۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص57؛ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص102-103۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص82۔
- ↑ لباف خانیکی، «گنبد و بقعہ مطہر»، ص421؛ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص75-76۔
- ↑ بیہقی، تاریخ بیہقی، 2022ء، ج1، ص406۔
- ↑ نعمتی، «حرم کے مینار »، 387۔
- ↑ نعمتی، «حرم کے مینار »، 387۔
- ↑ کرزن، ایران و قضیہ ایران، 1983ء، ج1، ص221؛ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص77۔
- ↑ کرزن، ایران و قضیہ ایران، 1983ء، ج1، ص221؛ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص103۔
- ↑ پوپ، سیری در ہنر ایران، 2008ء، ج3، ص1397؛ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج1، ص140۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص103۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص103۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص103-104۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص104۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص104۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص104؛ اخوان و نعمتی، «گلدستۂ طلای شمالی صحن انقلاب»، ص386۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج1، ص282؛ نعمتی، «صحن جمہوری اسلامی کے سنہرے مینار »، ص391۔
- ↑ نعمتی، «صحن جمہوری اسلامی کے سنہرے مینار »، ص391۔
- ↑ نعمتی، «گلدستہ ساعت صحن انقلاب»، ص381۔
- ↑ نعمتی، «گلدستہ ساعت صحن انقلاب»، ص383۔
- ↑ نعمتی، «گلدستہ ساعت صحن انقلاب»، ص383۔
- ↑ نعمتی، «گلدستہ ساعت صحن آزادی»، ص380۔
- ↑ نعمتی، «گلدستہ ساعت صحن آزادی»، ص380-381۔
- ↑ نعمتی، «گلدستہ ساعت صحن آزادی»، ص380-381۔
- ↑ نعمتی، «صحن جامع رضوی کے گلدستے»، ص390-391۔
- ↑ نعمتی، «صحن جامع رضوی کے گلدستے»، ص390-391۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص142۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص143-154؛ در این قطعہ از بہشت، 2018ء، ص99-108۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص172؛ در این قطعہ از بہشت، 2018ء، ص99-100۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص246-247؛ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص145۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج1، ص282-283؛ در این قطعہ از بہشت، 2018ء، ص103۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج1، ص280-282؛ در این قطعہ از بہشت، 2018ء، ص104۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص148؛ در این قطعہ از بہشت، 2018ء، ص105۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص149-150؛ در این قطعہ از بہشت، 2018ء، ص107۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص149؛ در این قطعہ از بہشت، 2018ء، ص106-107۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص150؛ در این قطعہ از بہشت، 2018ء، ص107-108۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص140۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص200-205۔
- ↑ در این قطعہ از بہشت، 2018ء، ص121۔
- ↑ رضائینیا، «صورت ایوان در معماری ایرانی، از آغاز تا سدہہای نخستین اسالمی»، ص127-128۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص173-176۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص179-181۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص178-179۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص233-234۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص246-247۔
- ↑ نعمتی، «ایوان طلای صحن جمہوری اسلامی»، ص159-160۔
- ↑ نعمتی، «ایوان ولیعصر»، ص174۔
- ↑ طالبیان و آذری خاکستر، «بستہای حرم»، ص207۔
- ↑ قصابیان، «تاریخچہ بست و بستنشینی در مشہد»، ص227؛ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص154-155۔
- ↑ طالبیان و آذری خاکستر، «بستہای حرم»، ص207.208-211؛ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص155-158۔
- ↑ طالبیان و آذری خاکستر، «بستہای حرم»، ص210-211۔
- ↑ ریچاردز، سفرنامہ فرد ریچاردز، 2000ء، ص280-281۔
- ↑ کرزن، ایران و قضیہ ایران، 1983ء، ج1، ص219۔
- ↑ کرزن، ایران و قضیہ ایران، 1983ء، ج1، ص219؛ ریچاردز، سفرنامہ فرد ریچاردز، 2000ء، ص280۔
- ↑ قصابیان، «تاریخچہ بست و بستنشینی در مشہد»، ص223۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص43۔
- ↑ حسینی، «حرم کے دروازے»، ص480-481۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص43۔
- ↑ دلیر، «در چوبی منبت گرہبندی»، ص474۔
- ↑ کفیلی، «در چوبی گرہچینی»، ص472۔
- ↑ کفیلی، «جالی دار لکڑی کا دروازہ»، ص471۔
- ↑ کمندلو، «حرم کی کھڑکیاں»، ص253۔
- ↑ کمندلو، «حرم کی کھڑکیاں»، ص253۔
- ↑ کمندلو، «حرم کی کھڑکیاں»، ص253۔
- ↑ «پنجرہ فولاد حرم امام مہربانیہا»، سایت باب الرضا(ع)۔
- ↑ قاینی احمدآبادی، «پنجرہ فولادی زرکوب»، ص251-252۔
- ↑ افضل الملک، ظفرنامہ عضدی، 2010ء، ص257۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص94۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص144۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص129۔
- ↑ کمندلو، «حرم کی کھڑکیاں»، ص253-255۔
- ↑ کمندلو، «حرم کی کھڑکیاں»، ص255۔
- ↑ کمندلو، «حرم کی کھڑکیاں»، ص255-256۔
- ↑ کمندلو، «حرم کی کھڑکیاں»، ص256۔
- ↑ «رواق حضرت معصومہ(س) حرم امام رضا(ع)»، سایت آستان قدس رضوی۔
- ↑ صحراگرد، «حرم کے کتبے »، ص333۔
- ↑ صحراگرد، «حرم کے کتبے »، ص333۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص64-69؛ صحراگرد، «حرم کے کتبے »، ص334۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص57؛ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص102۔
- ↑ فیض، بدر فروزان، 1949ء، ص404-405۔
- ↑ صحراگرد، «حرم کے کتبے »، ص334۔
- ↑ قصابیان، «اسلامی تاریخ و ثقافت: نقارہنوازی و نقارہخانہ در ایران و جہان»، ص102۔
- ↑ قصابیان، «اسلامی تاریخ و ثقافت: نقارہنوازی و نقارہخانہ در ایران و جہان»، ص101۔
- ↑ فضلاللہ بن روزبہان خنجی، مہمانخانہ بخارا، 1976ء، ص339۔
- ↑ قصابیان، «اسلامی تاریخ و ثقافت: نقارہنوازی و نقارہخانہ در ایران و جہان»، ص102۔
- ↑ قصابیان، «اسلامی تاریخ و ثقافت: نقارہنوازی و نقارہخانہ در ایران و جہان»، ص102۔
- ↑ رضوان، «ابنیہ آستان قدس: نقارہ خانہ جدید»، ص63-65۔
- ↑ قصابیان، «اسلامی تاریخ و ثقافت: نقارہنوازی و نقارہخانہ در ایران و جہان»، ص103۔
- ↑ رضوان، «ابنیہ آستان قدس: نقارہ خانہ جدید»، ص64۔
- ↑ محبوب و نعمتی، «سقاخانہ»، ص567۔
- ↑ حسینی، «سقاخانہ اسماعیل طلایی»، ص570۔
- ↑ محبوب و نعمتی، «سقاخانہ»، ص567۔
- ↑ محبوب و نعمتی، «سقاخانہ»، ص568۔
- ↑ محبوب و نعمتی، «سقاخانہ»، ص567۔
- ↑ محبوب و نعمتی، «سقاخانہ»، ص567۔
- ↑ محبوب و نعمتی، «سقاخانہ»، ص567۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص165۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص165۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج1، ص237۔
- ↑ محبوب و نعمتی، «سقاخانہ»، ص567۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج1، ص239۔
- ↑ فیض، بدر فروزان، 1949ء، ص392؛ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج1، ص239؛ محبوب و نعمتی، «سقاخانہ»، ص567۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص9-144۔
- ↑ امام، مشہد طوس، 1969ء، ص434؛ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص33؛ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج1، ص64۔
- ↑ لباف خانیکی، «سنگنبشتہ تاریخی مقام حضرت رضا»، ص585۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص80۔
- ↑ امام، مشہد طوس، 1969ء، ص434-435۔
- ↑ امام، مشہد طوس، 1969ء، ص435؛ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص33۔
- ↑ افشار، یادگارہای یزد، 1975ء، ج2، ص918-924۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص81۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص82۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج1، ص63۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص10؛ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص82۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص10؛ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص82۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص11۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص10-11۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص11۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص12۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص12۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص84؛ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص36؛ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج1، ص65؛ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص83۔
- ↑ ابنحمزہ طوسی، الثاقب فی المناقب، 1992ء، ص205-206۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص84-85۔
- ↑ ابنبطوطہ، رحلۃ ابنبطوطہ، 1997ء، ج3، ص55۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص36۔
- ↑ نعمتی، «علی رضا عباسی کے سنہرے کتبے»، ص340۔
- ↑ نعمتی، «علی رضا عباسی کے سنہرے کتبے»، ص341-344۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص36-39۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص38؛ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج1، ص66-68؛ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص85-86۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص86۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص12۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص88۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص13۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص13۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص13-15۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص15-18۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص18-22؛ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص91-92۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص22-24؛ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص92-95۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص41؛ میشدار، «محراب پایینپا»، ص438؛ لباف خانیکی، «محراب پیشرو»، 440۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص57۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص76۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص58۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص58؛ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص43-44۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص76۔
- ↑ میشدار، «محراب پایینپا»، ص438؛ لباف خانیکی، «محراب پیشرو»، 440۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص41۔
- ↑ اخوان مہدوی، «خوانچہہای جواہرات»، ص392؛ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص132۔
- ↑ اخوان مہدوی، «خوانچہہای جواہرات»، ص392؛ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص132۔
- ↑ اخوان مہدوی، «خوانچہہای جواہرات»، ص392؛ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص132۔
- ↑ کرزن، ایران و قضیہ ایران، 1983ء، ج1، ص223۔
- ↑ اخوان مہدوی، «خوانچہہای جواہرات»، ص392؛ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص132۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص63-70۔
- ↑ اخوان مہدوی، «خوانچہہای جواہرات»، ص392-393۔
- ↑ اخوان مہدوی، «خوانچہہای جواہرات»، ص393؛ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص134۔
- ↑ اخوان مہدوی، «خوانچہہای جواہرات»، ص393؛ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص135۔
- ↑ اخوان مہدوی، «خوانچہہای جواہرات»، ص393-402؛ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص135-144۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص25-27۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص25-26۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص26-27۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص28۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص29۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص29-30۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص30۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص30-31۔
- ↑ «پارچہہایی از طلا و نقرہ برای مزار امام رضا(ع)+عکس»، خبرگزاری ایسنا۔
- ↑ «پارچہہایی از طلا و نقرہ برای مزار امام رضا(ع)+عکس»، خبرگزاری ایسنا۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص35۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص37-38۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص36-37۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص35-36۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص39-40۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص38-39۔
- ↑ «عجایب حرم امام رضا: ترکیبی از تاریخ، معماری و فرہنگ»، سایت محصولات ہنری رضوی۔
- ↑ «عجایب حرم امام رضا: ترکیبی از تاریخ، معماری و فرہنگ»، سایت محصولات ہنری رضوی۔
- ↑ «عجایب حرم امام رضا: ترکیبی از تاریخ، معماری و فرہنگ»، سایت محصولات ہنری رضوی۔
- ↑ «عجایب حرم امام رضا: ترکیبی از تاریخ، معماری و فرہنگ»، سایت محصولات ہنری رضوی۔
- ↑ اعتمادالسلطنہ، مطلعالشمس، 1983ء، ج2، ص438؛ فیض، بدر فروزان، 1945ء، ص424۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج2، ص739۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج2، ص739-740؛ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص73-74۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص287۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج2، ص740۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص104۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص287؛ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص74-75۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص75۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص105-106۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص77-92۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص80-81۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص81-82۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص77-80۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص83۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص83-84۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص85-86۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص86-87۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص87۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص88-89۔
- ↑ جلالیان، «چلچراغہای حرم»، ص327۔
- ↑ جلالیان، «چلچراغہای حرم»، ص327۔
- ↑ جلالیان، «چلچراغہای حرم»، ص329۔
- ↑ جلالیان، «چلچراغہای حرم»، ص329۔
- ↑ جلالیان، «چلچراغہای حرم»، ص329۔
- ↑ جلالیان، «چلچراغہای حرم»، ص330۔
- ↑ جلالیان، «چلچراغہای حرم»، ص330۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج1، ص302۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج1، ص302۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج1، ص302-303۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص235-237؛ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص180۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص180۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص94۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص180؛ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص94۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص95۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص96۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص96۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص96-97۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص97-98۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص117-131۔
- ↑ سوہانیان حقیقی، نفایس حرم رضوی، 2022ء، ص117-131۔
- ↑ نقدی، «کبوتران حرم»، ص297۔
- ↑ نقدی، «کبوتران حرم»، ص297۔
- ↑ نقدی، «کبوتران حرم»، ص297۔
- ↑ نقدی، «کبوتران حرم»، ص297۔
- ↑ یاحقی، «رضا(ع)، امام»، ص311؛ نقدی، «کبوتران حرم»، ص297۔
- ↑ یاحقی، «رضا(ع)، امام»، ص311۔
- ↑ ذوالفقاری، باورہای عامیانۂ مردم ایران، 2017ء، ص898۔
- ↑ دالمانی، سفرنامہ از خراسان تا بختیاری، 1956ء، ج3، ص609۔
- ↑ یاحقی، «رضا(ع)، امام»، ص311؛ نقدی، «کبوتران حرم»، ص297۔
- ↑ یاحقی، «رضا(ع)، امام»، ص311۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص60-223۔
- ↑ رضایی برجکی، «بالاسر، مسجد»، ص194۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص95۔
- ↑ رضایی برجکی، «بالاسر، مسجد»، ص194۔
- ↑ بیہقی، تاریخ بیہقی، 2022ء، ج1، ص542-543۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج1، ص143۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص95۔
- ↑ سعادتمند، «مسجد بالاسر، ہمسایہ روضہ منورہ»، سایت مشہدچہرہ۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص96؛ سعادتمند، «مسجد بالاسر، ہمسایہ روضہ منورہ»، سایت مشہدچہرہ۔
- ↑ سعادتمند، مسجد بالاسر، ہمسایہ روضہ منورہ، سایت مشہدچہرہ۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص73؛ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص97؛ سعادتمند، «مسجد بالاسر، ہمسایہ روضہ منورہ»، سایت مشہدچہرہ۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج1، ص145۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج1، ص144-146۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص134-136؛ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج1، ص152؛ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص117۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص134-136؛ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج1، ص147-151۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص134۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص136۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج1، ص147۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص141۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج1، ص199-200؛ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص117-118۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص98۔
- ↑ حافظابرو، زبدۃ التواریخ، 2001ء، ج4، ص693۔
- ↑ صمدی، «جامع گوہرشاد یا ہشتمین بنای زیبای جہان»، ص510۔
- ↑ قصابیان، تاریخ مشہد، 1998ء، ص249۔
- ↑ مکی، تاریخ بیستسالہ ایران، 1983ء، ج6، ص253-258۔
- ↑ تاریخچہ مسجد گوہرشاد و کتابخانہ، 1984ء، ص34۔
- ↑ قصابیان، «مسجد گوہر شاد 600 سال بعد»، ص103۔
- ↑ اخوان ثالث، حریم سایہہای سبز، 1993ء، ج1، ص240۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص287؛ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج2، ص740-741۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص218؛ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج2، ص740-741؛ اخوان ثالث، حریم سایہہای سبز، 1993ء، ج1، ص241۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص287۔
- ↑ اخوان ثالث، حریم سایہہای سبز، 1993ء، ج1، ص240-241۔
- ↑ اخوان مہدوی، «بہشتہای ثامن (1، 2 و 3)»، ص224۔
- ↑ اخوان مہدوی، «بہشتہای ثامن (1، 2 و 3)»، ص224۔
- ↑ اخوان مہدوی، «بہشتہای ثامن (1، 2 و 3)»، ص224۔
- ↑ اخوان مہدوی، «بہشتہای ثامن (1، 2 و 3)»، ص225۔
- ↑ اخوان مہدوی، «بہشتہای ثامن (1، 2 و 3)»، ص225۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص214-216۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص216۔
- ↑ نعمتی، «آرامگاہ شیخ طبرسی»، ص38۔
- ↑ نعمتی، «آرامگاہ شیخ طبرسی»، ص38۔
- ↑ نعمتی، «آرامگاہ شیخ طبرسی»، ص38۔
- ↑ رستمی، «آرامگاہ پیر پالاندوز»، ص25۔
- ↑ سیدی، تاریخ شہر مشہد، 1999ء، ص184۔
- ↑ مطہری، کلیات علوم اسلامی، 2010ء، ج2، ص110۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج1، ص376۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج1، ص396-496۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص150۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص150۔
- ↑ فاضل، «مشہد کے قدیمی مدارس: مدرسہ بالاسر»، ص41؛ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص88۔
- ↑ فاضل، «مشہد کے قدیمی مدارس: مدرسہ بالاسر»، ص41؛ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص90۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص90۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص88۔
- ↑ فاضل، «مشہد کے قدیمی مدارس: مدرسہ بالاسر»، ص41۔
- ↑ فاضل، «مشہد کے قدیمی مدارس: مدرسہ بالاسر»، ص41۔
- ↑ فاضل، «مشہد کے قدیمی مدارس: مدرسہ بالاسر»، ص42۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص91؛ فاضل، «مشہد کے قدیمی مدارس: مدرسہ بالاسر»، ص41۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص94۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص103۔
- ↑ فاضل، «مشہد کے قدیمی مدارس: مدرسہ پریزاد»، ص1451؛ در این قطعہ از بہشت، 2018ء، ص98۔
- ↑ فاضل، «مشہد کے قدیمی مدارس: مدرسہ پریزاد»، ص1451-1452؛ در این قطعہ از بہشت، 2018ء، ص98۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص109؛ در این قطعہ از بہشت، 2018ء، ص98-99۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص108؛ در این قطعہ از بہشت، 2018ء، ص98۔
- ↑ فاضل، «مشہد کے قدیمی مدارس: مدرسہ دو در»، ص1661-1662؛ خجستہ مبشری، تاریخ مشہد، 1974ء، ص311-312۔
- ↑ فاضل، «مشہد کے قدیمی مدارس: مدرسہ دو در»، ص1662۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص109۔
- ↑ در این قطعہ از بہشت، 2018ء، ص98-99۔
- ↑ فاضل، «مشہد کے قدیمی مدارس: مدرسہ میرزا جعفر»؛ ص1775؛ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص150۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص150۔
- ↑ کرزن، ایران و قضیہ ایران، 1983ء، ج1، ص227؛ خراسانی، منتخب التواریخ، 1968ء، ص668۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج1، ص374-375۔
- ↑ فاضل، «مشہد کے قدیمی مدارس: مدرسہ خیراتخان»، ص283؛ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص139۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص141؛ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج1، ص374-375۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج1، ص374-375۔
- ↑ «حجت الاسلام وحدتی شبیری مطرح کرد: مدرسہ عالی فقاہت عالم آل محمد(ع) پاسخی بہ مطالبہ رہبر انقلاب از حوزہہای علمیہ»، سایت قدسآنلاین۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص134۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص134۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص134۔
- ↑ خجستہ مبشری، تاریخ مشہد، 1974ء، ص331۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص134۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص246۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص138۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص138۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص272۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص193۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص193۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص242۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص308؛ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص242۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص247۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1975ء، ص308؛ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص247۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص172۔
- ↑ خراسانی، منتخب التواریخ، 1968ء، ص668۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص173۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص75۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص176۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص177۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص180۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص278۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص279۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 2006ء، ص280۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص160۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص161.
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص162۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص163۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص163۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص163-164۔
- ↑ «دربارہ ما»، سایت موزہ آستان قدس رضوی۔
- ↑ کفیلی، «تاریخچہی شکلگیری و تحولات موزہہای آستان قدس رضوی بخش اول: از آغاز تا انقلاب اسلامی»، ص3۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص71۔
- ↑ صدوق، عیون اخبار الرضا، انتشارات جہان، ج2، ص280.
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص40۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص40-41؛ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص72۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص41-43۔
- ↑ حکیم الممالک، روزنامہ سفر خراسان، 1977ء، ص194۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص75۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص55۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص55۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص71۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج2، ص497؛ قصابیان، «دارالشفاء»، ص443
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص403؛ قصابیان، «دارالشفاء»، ص445
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج2، ص504؛ قصابیان، «دارالشفاء»، ص446
- ↑ قصابیان، «دارالشفاء»، ص443
- ↑ قصابیان، «دارالشفاء»، ص446
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج2، ص514-515؛ قصابیان، «دارالشفاء»، ص446۔
- ↑ قصابیان، «دارالشفاء»، ص446۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص168-169۔
- ↑ سوزنچی کاشانی، «مہمانسرا»، ص571۔
- ↑ سوزنچی کاشانی، «مہمانسرا»، ص571۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص416۔
- ↑ سوزنچی کاشانی، «مہمانسرا»، ص573۔
- ↑ سوزنچی کاشانی، «مہمانسرا»، ص576؛ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص171۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص170۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص170-171۔
- ↑ در این قطعہ از بہشت، 2018ء، ص168-169۔
- ↑ در این قطعہ از بہشت، 2018ء، ص169-171۔
- ↑ در این قطعہ از بہشت، 2018ء، ص172-178۔
- ↑ در این قطعہ از بہشت، 2018ء، ص178-180۔
- ↑ در این قطعہ از بہشت، 2018ء، ص180۔
- ↑ در این قطعہ از بہشت، 2018ء، ص183۔
- ↑ حسینی، «خدمہ»، ص380۔
- ↑ حسینی، «خدمہ»، ص380۔
- ↑ صدوق، عیون اخبار الرضا، انتشارات جہان، ج2، ص280؛ فضلاللہ بن روزبہان خنجی، مہمانخانہ بخارا، 1976ء، ص346۔
- ↑ حسینی، «خدمہ»، ص380۔
- ↑ حسینی، «خدمہ»، ص380۔
- ↑ ناصرالدینشاہ قاجار، سفرنامہ خراسان، 1982ء، ص174-177.
- ↑ حسینی، «خدمہ»، ص381۔
- ↑ حسینی، «خدمہ»، ص382۔
- ↑ حسینی، «خدمہ»، ص382۔
- ↑ در این قطعہ از بہشت، 2018ء، ص211۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج2، ص554؛ نقدی و ایزدی، «موقوفات»، ص556۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج2، ص554۔
- ↑ نقدی و ایزدی، «موقوفات»، ص556۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص334-350؛ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج2، ص553-626؛ نقدی و ایزدی، «موقوفات»، ص561۔
- ↑ نقدی و ایزدی، «موقوفات»، ص561۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1969ء، ص334۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج2، ص555۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1992ء، ج2، ص555-556۔
- ↑ مرتضوی، «موقوفات ملک، سازمان»، ص562۔
- ↑ مرتضوی، «موقوفات ملک، سازمان»، ص562-563۔
نوٹ
- ↑ صندوق مزارات یا زیارتگاہوں پر رکھے جانے والے لکڑی، لوہے یا سنگ مرر کے قندیل نما ساخت کو کہا جاتا ہے۔(موسویپناہ، حرم در واژہہا، 2012ء، ص32). صندوق وہی سنگ مزار نہیں بلکہ ان دونوں میں فرق ہے۔ (عالمزادہ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، 2016ء، ص83).
مآخذ
- آزاد، اسداللہ، «شمسالشموس/ انیسالنفوس، کتاب»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج2: ش-ی)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2020عیسوی۔
- ابناثیر، علی بن محمد، الكامل فی التاريخ، بیروت، دارصادر، 1965عیسوی۔
- ابنبطوطہ، محمد بن عبداللہ طنجی، رحلۃ ابنبطوطۃ (تحفہ النظار فی غرائب الامصار و عجائب الاسفار)، تحقیق عبدالہادی التازی، رباط (مراکش)، أکاديميۃ المملکۃ المغربیۃ، 1997عیسوی۔
- ابنحبان، محمد بن حبان، کتاب الثقات، تحقیق حسین ابراہیم زہران، بیروت، مؤسسۃ الکتب الثقافیۃ، 1973عیسوی۔
- ابنحمزہ طوسی، محمد بن علی، الثاقب في المناقب، تحقیق نبیل رضا علوان، قم، مؤسسہ انصاریان، 1998عیسوی/ 1419ھ۔
- احتشام کاویانیان، محمد، شمسالشموس یا انیسالنفوس (تاریخ آستان قدس)، مشہد، بینا، 1975عیسوی۔
- اخوان، شیما و بہزاد نعمتی، «صحن انقلاب کا شمالی طلائی گلدستہ»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج2: ش-ی)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2020عیسوی۔
- اخوان ثالث، مہدی، سبز سایوں کے حریم(مجموعہ مقالات)، زیرنظر مرتضی کاخی، تہران، انتشارات زمستان، 1993عیسوی۔
- اخوان مہدوی، علی، «جواہرات کے صندوق»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج1: آ-س)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2014عیسوی۔
- اخوان مہدوی، علی، «زیرگذر حرم مطہر»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج1: آ-س)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2014عیسوی۔
- اخوان مہدوی، علی و رضا نقدی، «مقدمہ»، در آیینہای حرم مطہر رضوی، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2017عیسوی۔
- اخوان مہدوی، مہدی، «ثامن کے بہشتی باغات(1، 2 و 3)»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج1: آ-س)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2014عیسوی۔
- ارشادسرابی، اصغر، «نامہ آستان قدس،مجلہ»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج2: ش-ی)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2020عیسوی۔
- ارشادسرابی، اصغر و محسن رجبی قدسی، «زیارت»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج1: آ-س)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2014عیسوی۔
- اعتماد السلطنہ، محمدحسن، مطلعالشمس، تحقیق تیمور برہان لیمودہی، تہران، انتشارات فرہنگسرا، 1983عیسوی۔
- افشار، ایرج، یزد کی یادگاریں (یزد کی تاریخی عمارتوں اور آثار قدیمہ کا تعارف)، تہران، انتشارات انجمن آثار ملی، 1975عیسوی۔
- افضل الملک، غلامحسین، ظفرنامہ عضدی (زادالمسافر 1301ق)، تحقیق محمدرضا قصابیان، مشہد، انتشارات انصار، 2010عیسوی۔
- امام، سید محمدکاظم، مشہد طوس (خراسان کی تاریخ اور جغرافیا کا ایک تاریخی باب)، تہران، انتشارات کتابخانہ ملی ملک، 1969عیسوی۔
- بختیاری، نسرین، «جب سینما زیارت کو جاتا ہے»، روزنامہ جامجم، 8 مئی 2025عیسوی۔
- بیہقی، محمد بن حسین، تاریخ بیہقی، تحقیق محمدجعفر یاحقی و مہدی سیدی، تہران، انتشارات سخن، 2022عیسوی۔
- «پارچههایی از طلا و نقره برای مزار امام رضا(ع)+عکس»، خبرگزاری ایسنا، تاریخ درج مطلب: 25 جولائی 2018ء، 26 مئی 2025ء۔
- پسندیدہ، محمود، حوزہ علمیہ خراسان، مشہد، آستان قدس رضوی کے اسلامی تحقیقاتی مرکز، 2006عیسوی۔
- پوپ، آرتر و فیلیس اکرمن، سیری در ہنر ایران، ترجمہ نجف دریابندری و دیگران، تہران، انتشارات علمی و فرہنگی، 2008عیسوی۔
- «مہربان امام کے فولادی کھڑکیاں»، باب الرضا(ع) سائٹ، تاریخ درج مطلب: 13 مئی 2024عیسوی، تاریخ اخذ: 20 جولائی 2025عیسوی۔
- تاریخچہ مسجد گوہرشاد و کتابخانہ، مشہد، انتشارات کتابخانہ جامع گوہرشاد، 1984عیسوی۔
- «تصاویر ہوایی از حرم امام رضا جہت نماہنگ و مستند»، سایت راسخون، تاریخ درج مطلب: 12 ستمبر 2020عیسوی، تاریخ اخذ: 17 مئی 2025عیسوی۔
- جعفریان، رسول، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، قم، انتشارات انصاریان، 2002عیسوی۔
- جلالی، غلامرضا و ہمکاران، مشاہیر مدفون در حرم رضوی، مشہد، بنياد پژوہشہای اسلامى آستان قدس رضوی، 2007عیسوی۔
- جلالیان، سعیدہ، «چلچراغہای حرم»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج1: آ-س)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2014عیسوی۔
- جہانپور، زہرا و بہزاد نعمتی، «گنبد اللہوردیخان»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج2: ش-ی)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2020عیسوی۔
- حافظابرو، عبداللہ بن لطفاللہ، زبدۃ التواریخ، تحقیق سید کمال حاجسیدجوادی، تہران، سازمان چاپ و انتشارات وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی، 2001عیسوی۔
- «حجت الاسلام وحدتی شبیری مطرح کرد: مدرسہ عالی فقاہت عالم آل محمد(ع) پاسخی بہ مطالبہ رہبر انقلاب از حوزہہای علمیہ»، سایت قدسآنلاین، تاریخ درج مطلب: 28 اپریل 2023عیسوی، تاریخ اخذ: 31 مارچ 2024عیسوی۔
- حسینی، سید حسن، «خدمہ»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج1: آ-س)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2014عیسوی۔
- حسینی، سید حسن، «حرم کے دروازے»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج1: آ-س)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2014عیسوی۔
- حسینی، سید محسن، «بارگاہ رضا، کتاب»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج1: آ-س)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2014عیسوی۔
- حسینی، سید محسن، «سقاخانہ اسماعیل طلایی»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج1: آ-س)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2014عیسوی۔
- حسینی، سید محسن، «فلکۂ حضرتی»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج2: ش-ی)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2020عیسوی۔
- حکیمالممالک، علینقی، روزنامہ سفر خراسان، تہران، انتشارات فرہنگ ایرانزمین، 1977عیسوی۔
- «حملہ بہ حرم امام رضا(ع)، روایت واقعہ تلخ 29 آبان 1357ش»، سایت مشہدچہرہ، تاریخ درج مطلب: 23 نومبر 2022عیسوی، تاریخ اخذ: 12 جولائی 2025عیسوی۔
- خجستہ مبشری، محمدحسین، تاریخ مشہد، مشہد، چاپخانہ خراسان، 1974عیسوی۔
- خراسانی، محمدہاشم بن محمدعلی، منتخب التواریخ (در وقایع مہمہ متعلقہ بہحضرت خاتم النبیین و سیدۃ النساء العالمین و الائمۃ الاثنی عشر صلوات اللہ علیہم اجمعین)، تحقیق ابوالحسن شعرانی، تہران، انتشارات اسلامیہ، 1968عیسوی۔
- خورشیدی، ہادی، حرم مطہر رضوی میں کاشی کاری، مشہد: بہ نشر و مؤسسہ آفرینشہای ہنری آستان قدس رضوی، 2017عیسوی۔
- دالمانی، ہانری رنہ، سفرنامۂ از خراسان تا بختیاری، ترجمۂ علی محمد فرہوشی، تہران، انتشارات امیرکبیر و ابنسینا، 1956عیسوی۔
- در این قطعہ از بہشت (راہنمای خادمان و زائران امام رضا)، مشہد، مؤسسہ چاپ و انتشارات آستان قدس رضوی، 2018عیسوی۔
- «دربارہ ما»، سایت موزہ آستان قدس رضوی، تاریخ اخذ: 20 اکتوبر 2025عیسوی۔
- دلیر، ابوالقاسم، «در چوبی منبت گرہبندی»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج1: آ-س)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2014عیسوی۔
- ذوالفقاری، حسن، باورہای عامیانۂ مردم ایران، باہمکاری علیاکبر شیری، تہران، نشر چشمہ، 2017عیسوی۔
- رجبی قدسی، محسن، «حرم مطہر»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج1: آ-س)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2014عیسوی۔
- رستمی، طاہرہ، «آرامگاہ پیر پالاندوز»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج1: آ-س)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2014عیسوی۔
- رضایی برجکی، اسماعیل، «بالاسر، مسجد»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج1: آ-س)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2014عیسوی۔
- رضائینیا، عباسعلی، «صورت ایوان در معماری ایرانی، از آغاز تا سدہہای نخستین اسلامی»، در دوفصلنامۂ معماری ایرانی، شمارہ 11، بہار و تابستان 2017عیسوی۔
- رضوان، محمدحسن، «ابنیہ آستان قدس: نقارہ خانہ جدید»، در نامہ آستان قدس، شمارہ 15، ستمبر 1963عیسوی۔
- «رواق حضرت معصومہ(س) حرم امام رضا(ع)»، سایت آستان قدس رضوی، تاریخ درج مطلب: 29 دسمبر 2022عیسوی، تاریخ اخذ: 12 مئی 2025عیسوی۔
- ریچاردز، فرد، سفرنامہ فرد ریچاردز، ترجمہ مہیندخت صبا، تہران، انتشارات علمی و فرہنگی، 2000عیسوی۔
- «زائران مشہد مقدس آمارگیری میشوند»، خبرگزاری ایرنا، تاریخ درج مطلب: 7 مارچ 2024عیسوی، تاریخ اخذ: 21 جون 2025عیسوی۔
- زینبی، سیدہ نعیمہ، «روایتی دربارہ نخستین اثر مشہدی کہ ثبت ملی شد»، سایت مشہدچہرہ، تاریخ درج مطلب: 3 جنوری 2024عیسوی، تاریخ اخذ: 29 جون 2025عیسوی۔
- سعادتمند، ہما، «مسجد بالاسر، ہمسایہ روضہ منورہ»، سایت مشہدچہرہ، تاریخ درج مطلب: 22 اگست 2022عیسوی، تاریخ اخذ: 31 مارچ 2024عیسوی۔
- سنایی غزنوی، مجدود بن آدم، دیوان حکیم سنایی غزنوی: بر اساس معتبرترین نسخہہا، بہکوشش پرویز بابایی، تہران، نشر آزادمہر، 2002عیسوی۔
- سوزنچی کاشانی، علی، «مہمانسرا»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج2: ش-ی)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2020عیسوی۔
- سوہانیان حقیقی، محمد، نفایس حرم رضوی، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2022عیسوی۔
- سوہانیان حقیقی، محمد و اصغر ارشادسرابی، «آشنایی با دائرۃالمعارف آستان قدس رضوی بنیاد پژوہشہای اسلامی، در آینۂ پژوہش، شمارۂ 96، جنوری و فروری 2006عیسوی۔
- سیدی، مہدی، تاریخ شہر مشہد، تہران، انتشارات جامی، 1999عیسوی۔
- صحراگرد، مہدی، «حرم کے کتبے »، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج2: ش-ی)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2020عیسوی۔
- صدوق، علی بن محمد، عیون اخبار الرضا، تحقیق مہدی لاجوردی، تہران، انتشارات جہان، بیتا۔
- صمدی، حبیباللہ، «جامع گوہرشاد یا ہشتمین بنای زیبای جہان»، در یغما، شمارہ 11، جنوری 1955عیسوی۔
- طالبیان، سید محمد و غلامرضا آذری خاکستر، «بستہای حرم»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج1: آ-س)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2014عیسوی۔
- طوسی، حسن بن محمد، تہذیب الاحکام، تحقیق حسن خرسان و محمد آخوندی، تہران، دارالكتب العلمیہ، 1986عیسوی۔
- عالمزادہ، بزرگ، حرم رضوی تاریخ کے آئینے میں، مشہد، مشہد، بہنشر (انتشارات آستان قدس رضوی)، 2016عیسوی۔
- «عجایب حرم امام رضا: ترکیبی از تاریخ، معماری و فرہنگ»، سایت محصولات ہنری رضوی، تاریخ درج مطلب: 3 دسمبر 2024عیسوی، تاریخ اخذ: 29 جون 2025عیسوی۔
- عطاردی، عزیزاللہ، تاریخ آستان قدس رضوی، تہران، سازمان چاپ و انتشارات وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی و انتشارات عطارد، 1992عیسوی۔
- علیدوست، محمد، «حرم مطہر میں بم دھماکہ»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج1: آ-س)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2014عیسوی۔
- فاضل، محمود، «مشہد کے قدیمی مدارس: مدرسہ بالاسر»، در مجلہ وحید، شمارہ 100، اپریل 1گلدستہ 40سالہ صحن جمہوری اسلامی حرم مطہر رضوی جابہجا شد972عیسوی۔
- فاضل، محمود، «مشہد کے قدیمی مدارس: مدرسہ پریزاد»، در مجلہ وحید، شمارہ 97، جنوری 1972عیسوی۔
- فاضل، محمود، «مشہد کے قدیمی مدارس: مدرسہ خیراتخان»، در مجلہ وحید، شمارہ 102، مئی 1972عیسوی۔
- فاضل، محمود، «مشہد کے قدیمی مدارس: مدرسہ دودر»، در مجلہ وحید، شمارہ 98، فروری 1972عیسوی۔
- فاضل، محمود، فاضل، «مشہد کے قدیمی مدارس: مدرسہ میرزا جعفر»، در مجلہ وحید، شمارہ 99، مارچ 1972عیسوی۔
- «فرہنگ رضوی در آینہ سینما/ شوق زیارت از یا ضامن آہو تا بدون قرار قبلی»، خبرگزاری ایرنا، تاریخ درج مطلب: 11 جون 2022عیسوی، تاریخ اخذ: 20 اکتوبر 2025عیسوی۔
- فضلاللہ بن روزبہان خنجی، مہمانخانہ بخارا (تاریخ پادشاہی محمد شیبانی)، تحقیق محمد ستودہ، تہران، بنگاہ ترجمہ و نشر کتاب، 1976عیسوی۔
- «فہرست»، حرم مطہر رضوی کی رسومات میں، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2017عیسوی۔
- فیض، عباس، بدر فروزان (تاریخ آستانہ قدس رضوی)، قم، بنگاہ چاپ قم، 1945عیسوی۔
- قصابیان، محمدرضا، «تاریخچہ بست و بستنشینی در مشہد»، در مشکوۃ، شمارہ 60 و 61، خزان و زمستان 1998عیسوی۔
- قصابیان، محمدرضا، تاریخ مشہد (از پیدایش تا آغاز دورہ افشاریہ)، مشہد، انتشارات انصار، 1998عیسوی۔
- قصابیان، محمدرضا، «اسلامی تاریخ و ثقافت: نقارہنوازی و نقارہخانہ در ایران و جہان»، در نشریہ مشکوۃ، شمارہ 80، خزان 2003عیسوی۔
- قصابیان، محمدرضا، «دارالشفاء»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج1: آ-س)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2014عیسوی۔
- قاینی احمدآبادی، زہرا، «پنجرہ فولادی زرکوب»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج1: آ-س)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2014عیسوی۔
- قصابیان، محمدرضا، «مسجد گوہر شاد 600 سال بعد»، در مشکوۃ، شمارہ 86، بہار 2005عیسوی۔
- کرزن، جرج، ایران و قضیہ ایران، ترجمہ غلامعلی وحید مازندرانی، تہران، انتشارات علمی و فرہنگی، 1983عیسوی۔
- کفیلی، حشمت، «تاریخچۀ شکلگیری و تحولات موزہہای آستان قدس رضوی: از آغاز تا انقلاب اسلامی»، در شمسہ (نشریہ الکترونیکی سازمان کتابخانہہا، موزہہا و مرکز اسناد آستان قدس رضوی)، شمارہ 32، جنوری 2017عیسوی۔
- کفیلی، حشمت، «جالی دار لکڑی کا دروازہ»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج1: آ-س)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2014عیسوی۔
- کفیلی، حشمت، «در چوبی گرہچینی»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج1: آ-س)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2014عیسوی۔
- کلاویخو، روی گونزالس، سفرنامہ کلاویخو، ترجمہ مسعود رجبنیا، تہران، انتشارات علمی و فرہنگی، 1995عیسوی۔
- کمندلو، حسین، «حرم کی کھڑکیاں»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج1: آ-س)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2014عیسوی۔
- «حرم مطہر رضوی کے صحن جمہوری اسلامی کا 40 سالہ گلدستہ جا بجا ہو گیا»، سایت آستان قدس رضوی، تاریخ درج مطلب: 3 مارچ 2025عیسوی، تاریخ اخذ: 15 مئی 2025عیسوی۔
- طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری: تاریخ الامم والملوک، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، بیروت، بینا، 1967عیسوی/ 1387ھ۔
- لباف خانیکی، رجبعلی، «سنگنوشتہ تاریخی مقام حضرت رضا»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج1: آ-س)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2014عیسوی۔
- لباف خانیکی، رجبعلی، «گنبد و بقعہ مطہر»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج2: ش-ی)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2020عیسوی۔
- لباف خانیکی، رجبعلی، «محراب پیشرو»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج2: ش-ی)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2020عیسوی۔
- مؤتمن، علی، راہنما یا تاریخ آستان قدس رضوی، تہران، بینا، 1969عیسوی۔
- محبوب، الہہ و بہزاد نعمتی، «سقاخانہ»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج1: آ-س)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2014عیسوی۔
- مرتضوی، مرضیہ، «موقوفات ملک، سازمان»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج2: ش-ی)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2020عیسوی۔
- مطہری، مرتضی، کلیات علوم اسلامی، تہران، انتشارات صدرا، 2010عیسوی۔
- مفید، محمد بن محمد، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، قم، شیخ مُفید کی ہزار سالہ برسی کی عالمی کانفرنس، 1992عیسوی۔
- مقدسی، محمد بن احمد، احسن التقاسیم في معرفۃ الأقالیم، تعلیق محمد امین الضناوی، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، 2003عیسوی/ 1424ھ۔
- مکی، حسین، تاریخ بیستسالہ ایران، تہران، نشر ناشر، 1983عیسوی۔
- میشدار، ابراہیم، «محراب پایینپا»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج2: ش-ی)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2020عیسوی۔
- ناصرالدینشاہ قاجار، سفرنامہ خراسان، بہ خط میرزا محمدرضا کلہر، تہران، انتشارات بابک، 1982عیسوی۔
- نظرکردہ، اعظم و بہزاد، نعمتی، «گنبد اپکمیرزا»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج2: ش-ی)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2020عیسوی۔
- نظرکردہ، اعظم و بہزاد، نعمتی، «گنبد سقاخانہ»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج2: ش-ی)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2020عیسوی۔
- نظرکردہ، اعظم، «گنبد میرولیبیگ»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج2: ش-ی)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2020عیسوی۔
- نعمتی، بہزاد، «آرامگاہ شیخ طبرسی»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج1: آ-س)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2014عیسوی۔
- نعمتی، بہزاد، «آستان قدس رضوی»، در دانشنامہ امام رضا(ع) (ج1: آب-احمد بن موسی)، قم، مرکز بین المللی ترجمہ و نشر المصطفی، 2015عیسوی۔
- نعمتی، بہزاد، «ایوان طلای صحن جمہوری اسلامی»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج1: آ-س)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2014عیسوی۔
- نعمتی، بہزاد، «ایوان ولیعصر»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج1: آ-س)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2014عیسوی۔
- نعمتی، بہزاد، «علی رضا عباسی کے سنہرے کتبے»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج2: ش-ی)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2020عیسوی۔
- نعمتی، بہزاد، «گلدستہ ساعت صحن آزادی»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج2: ش-ی)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2020عیسوی۔
- نعمتی، بہزاد، «گلدستہ ساعت صحن انقلاب»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج2: ش-ی)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2020عیسوی۔
- نعمتی، بہزاد، «حرم کے مینار »، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج2: ش-ی)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2020عیسوی۔
- نعمتی، بہزاد، «صحن جامع رضوی کے گلدستے»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج2: ش-ی)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2020عیسوی۔
- نعمتی، بہزاد، «صحن جمہوری اسلامی کے سنہرے مینار »، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج2: ش-ی)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2020عیسوی۔
- نعمتی، بہزاد، و اعظم نظرکردہ، «گنبد امیر علیشیر»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج2: ش-ی)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2020عیسوی۔
- نقدی، رضا و صابر ایزدی، «موقوفات»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج2: ش-ی)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2020عیسوی۔
- نقدی، رضا، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج1: آ-س)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2014عیسوی۔
- نقدی، رضا، «کبوتران حرم»، دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی میں (ج2: ش-ی)، مشہد، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2020عیسوی۔
- نقدی، رضا، قاجاریہ دور میں آستان قدس رضوی کی تاریخ اور تشکیلات، آستان قدس رضوی کا تحقیقاتی ادارہ، 2020عیسوی۔
- «نقشہ حرم مطہر رضوی»، سائٹ فولادی کھڑکی، تاریخ اخذ: 24 مئی 2024عیسوی۔
- ورجاوند، پرویز، «شناختنامہ آستان قدس رضوی»، نگین ایران (امام رضا کے بارے میں علمی تحقیقات)، بہکوشش محمد کاظمینی، قم، صحیفہ خرد و بنیاد فرہنگی ریحانۃ الرسول، 2010عیسوی۔
- ہمایی، جلالالدین، غزالینامہ، تہران، کتابفروشی فروغی، بیتا۔
- یاحقی، محمدجعفر، «رضا(ع)، امام»، ایرانی ثقافت کا انسائکلوپیڈیا میں (ج4: خرم و زیبا- زمین)، تہران، مرکز دایرۃ المعارف بزرگ اسلامی، 2017عیسوی۔