حرم امام رضاؑ کے دروازے

حرم امام رضاؑ کے دروازے وہ دروازے ہیں جو حرم کے مختلف حصوں کے داخلی اور خارجی راستوں پر نصب کیے گئے ہیں، اور عمومی طور پر تاریخی اور فنی (فنِ تعمیر) اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔
گزشتہ صدیوں سے، امام رضاؑ کے حرم میں قیمتی اور نفیس دروازے موجود رہے ہیں جن کا ذکر بعض تاریخی مآخذ میں آیا ہے۔ مختلف ادوار میں، حرم کی توسیع، نئے رواق اور صحن بننے اور پرانے دروازوں کی جگہ نئے دروازے لگانے کی ضرورت کے پیش نظر، نئے نفیس دروازے بنوائے گئے ہیں۔
ان دروازوں میں، مزار مبارک کے دروازے، جیسے "درِ پیش رو" (سامنے کا دروازہ) اور "درِ پایین پا" (پائنتی کا دروازہ)، سب سے زیادہ قیمتی اور اہم مانے جاتے ہیں۔ دیگر تاریخی اور اہم دروازوں میں تیموری دور کے "چوبی منبت گرہ بندی"، "چوبی گرہ چینی"، اور صفوی دور کا "چوبی گرہ بندی مشبک" شامل ہیں۔
تعارف اور پس منظر
حرمِ امام رضاؑ کے دروازے، جو حرم کے مختلف حصوں میں داخلی و خارجی راستوں پر نصب ہیں، اور ان میں سے اکثر تاریخی اور فنّی اہمیت کے حامل ہیں۔[1] بعض رسوم و رواج[2] اور حرم کی مخصوص ملازمتیں[3] ان دروازوں سے متعلق رہی ہیں۔

کہا گیا ہے کہ گزشتہ صدیوں سے امام رضاؑ کے حرم میں قیمتی اور نفیس دروازے موجود رہے ہیں جن کا ذکر بعض تاریخی مآخذ[4] میں آیا ہے۔[5] مثال کے طور پر مراکشی سیاح ابن بطوطہ نے سنہ 734ھ میں ایک چاندی کے دروازے کا ذکر کیا ہے۔[6] اسی طرح شیعہ محقق عباس فیض قمی نے 1328 شمسی (مطابق 1949ء) میں حرم میں سونے کے دو، چاندی کے آٹھ، اور شمشاد (ایک قسم کی لکڑی) کے تین دروازوں کا ذکر کیا۔[7]
کہا گیا ہے کہ مختلف ادوار میں، حرم کی توسیع، نئے رواق اور صحن بننے اور پرانے دروازوں کی جگہ نئے دروازے لگانے کی ضرورت کے پیش نظر، نئے نفیس دروازے بنوائے گئے ہیں۔[8] مثال کے طور پر سنہ 1288ھ (دورانِ قاجاریہ) صحنِ آزادی اور دارالسعادہ کے درمیان چاندی کا دروازہ نصب کیا گیا ہے؛[9] اور پہلوی حکومت کے دور میں رواق دار الشرف اور دار الشکر کے درمیان اور رواق دار السعادہ اور دار السرور کے درمیان طلائی دروازے نصب کیے گئے ہیں۔[10]
اسلامی انقلاب کے بعد بھی پرانے دروازوں کی مرمت کے ساتھ ساتھ مختلف صحنوں اور رواقوں میں نفیس دروازے نصب ہوئے ہیں جن میں صحن جمہوری اسلامی اور دار الولایہ کے نئے چوبی منبت کاری دروازے شامل ہیں۔[11]
بقعہ (مزار) کے دروازے
"درِ پیش رو" (سامنے کا دروازہ) اور "درِ پایین پا" (پائنتی کا دروازہ)، امام رضاؑ کے روضہ اقدس کے سب سے زیادہ قیمتی دروازے شمار ہوتے ہیں۔[12]
درِ پیش رو
صفوی دور تک مزار کا یہ واحد دروازہ تھا اسی دروازے کی طرف ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامے میں بھی ذکر کیا ہے۔[13] ناصرالدین شاہ قاجار نے 1272ھ میں ایک رنگین دو رُخی دروازہ حرم کے لئے وقف کیا جو یہاں نصب ہوا۔[14]

اس دروزاے کی خصوصیات یوں بیان ہوئی ہیں: یہ دروازہ اخروٹ کی لکڑی سے بنا ہوا ہے اور سونے کی پرت سے ڈھکا ہوا ہے،[15] جس پر قرآنی آیات، احادیث، اور محمد علی سروش اصفہانی کے ایک قصیدے کے 19 اشعار کندہ ہیں جس پر 1275ھ کی تاریخ درج ہے۔[16] سنہ 1307 اور 1342 شمسی میں اس کی مرمت ہوئی اور سنہ 1354 شمسی میں دروازہ مزار سے ہٹا کر آستانِ قدس رضوی کے عجائب گھر میں منتقل کر دیا گیا،[17] اور اس کی جگہ نیا زرّیں دروازہ نصب کیا گیا[18] جو حرم کے سب سے قیمتی اور بہترین دروازہ سمجھا جاتا ہے۔[19] اس دروازے پر آیات، احادیث، اور اشعار درج ہیں ان میں خواجہ نصیر الدین طوسی سے منسوب عربی اشعار بھی درج کیے گئے ہیں۔[20]
مزار کے باہر اس دروازے کے اوپر، ایک ترنج (بیضوی نقش) پر خطِ ثلث میں سنہری رنگ سے سورہ حجر کی آیت 46 کی میناکاری کی گئی ہے۔[21] یہ چار پٹ والا دروازہ سنہ 1360 ہجری شمسی میں دوبارہ تعمیر کیا گیا اور اس پر قرآنی آیات، احادیث اور اشعار سے تزئین کی گئی۔[22]
درِ پایین پا
بعض مآخذ کے مطابق یہ دروازہ پہلے شاہ عباس صفوی کے حکم پر کھولا گیا تھا اور اس پر ایک دو پٹ والا جواہرات سے مزین دروازہ نصب کیا گیا تھا۔[23] افشاریہ دور میں اس کے جواہرات لوٹ لیے گئے، اور بعد میں قاجاری دور میں اسے دوبارہ طلائی شکل دی گئی۔[24]

اس در پر "مدینۃ العلم" جیسی احادیث کے ساتھ تین "ترنج" (تزئینی اشکال) کندہ ہیں۔[25] اس کے علاوہ، اس کے اطراف میں سروش اصفہانی کے فارسی قصیدے کے 16 اشعار کو نستعلیق خط میں درج کئے گئے ہیں[26] اور پشت پر 15 اشعار پر مشتمل ایک عربی قصیدہ کندہ ہے جس میں چودہ معصومینؑ کے اسمائے مبارک درج ہیں۔[27] سنہ 1354شمسی میں یہ دروازہ بھی عجائب گھر منتقل کیا گیا[28] اور اس کی جگہ اسی طرح کا نیا زرّیں دروازہ نصب کیا گیا،[29] جس پر تعمیر مکمل ہونے کی تاریخ 1358شمسی درج ہے۔[30] اس چار پٹ پر مشتمل دروازے پر پیغمبر اکرمؐ اور امام رضاؑ کی احادیث درج ہیں اور "سورہ زمر" کی آیت 73 کا ایک حصہ بالائی ترنج پر نقش ہے۔[31]
دوسرے دروازے
بعض مآخذ میں حرم امام رضاؑ کے کچھ دیگر تاریخی دروازوں کا تذکرہ ہوا ہے[32] جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:
- چوبی گرہ بندی مشبک دروازہ: صفوی دور کا ایرانی شاہکار جس میں منبت کاری ہوئی ہے[33] اور صفہ شاہ طہماسبی پر نصب تھا،[34] اور پہلے پہلوی کی حکومت میں یہ آستان قدس رضوی کے میوزیم میں منتقل ہوا۔[35]
- چوبی منبت گرہ بندی دروزاہ: تیموری دور کے نفیس فن پاروں میں سے ایک ہے جسے اخروٹ کی لکڑی سے تیار کیا گیا تھا، اس پر اسلیمی نقش و نگار اور منبت کتیبے اس دور کے ہنری شاہکار ہیں۔[36] یہ دروازہ بھی اس وقت آستان قدس رضوی کے عجائب گھر میں رکھا گیا ہے۔[37]
- چوبی گرہ چینی دروازہ: جو "مقبرہ خالصی کا چوبی دروازہ" کے نام سے مشہور ہے، تیموری دور کے نایاب فن پاروں میں سے ہے۔ اس دروازے میں گرہ چینی کے تین بڑے فریم (خانے) موجود ہیں، اور یہ پہلے مسجد بالاسر میں نصب تھا۔ بعد کے ادوار میں اسے تحویل خانہ (یعنی حرم کے قالینوں کا گودام) کے داخلی راستے پر منتقل کر دیا گیا۔[38] یہ دروازہ سنہ 1373 ہجری شمسی (مطابق تقریباً 1994 عیسوی) میں آستان قدس رضوی کے عجائب گھر میں منتقل کر دیا گیا۔[39]
- چوبی منبت کاری صنیعی دروازہ: یہ دروازہ پہلوی دور سے تعلق رکھتا ہے اور اس پر نفیس منبت کاری کی گئی ہے، جس میں مختلف قسم کے اسلیمی، ختائی نقوش اور کتیبے شامل ہیں۔ اسے عجائب گھر منتقل کرنے سے پہلے "صحن انقلاب" میں واقع "کفشداری نمبر ایک" پر نصب کیا گیا تھا، اور بعد ازاں اسے "آستان قدس" کے عجائب گھر میں منتقل کیا گیا۔[40]
- ایوانِ طلائی صحنِ انقلاب سے توحیدخانہ کی جانب چاندی کا دروازہ: یہ دروازہ قاجار دور کے ایک نامور شخصیت، حسن علی خان امیر نظام گروسی کی کوششوں سے سنہ 1374 ہجری میں تیار کیا گیا تھا۔ پہلوی دور کے اواخر میں اس دروازے کی جگہ ایک سنہرا (مطلّا) اور قلم کاری شدہ دروازہ نصب کیا گیا۔[41]
حوالہ جات
- ↑ عالم زادہ، حرم رضوی بہ روایت تاریخ، 1395ش، ص43۔
- ↑ ملاحظہ کریں: ایزانلو، «بستن و گشودن درہای حرم»، ص34-37۔
- ↑ ملاحظہ کریں: نقدی، تاریخ و تشکیلات، 1399ش، ص176-180۔
- ↑ کرزن، ایران و قضیہ ایران، 1362ش، ج1، ص224؛ فیض، بدر فروزان، 1328ش، ص341-366۔
- ↑ حسینی، «درہای حرم»، ص477۔
- ↑ ابن بطوطہ، رحلة ابن بطوطہ، 1417ق، ج3، ص55۔
- ↑ فیض، بدر فروزان، 1328ش، ص341۔
- ↑ حسینی، «درہای حرم»، ص480-481۔
- ↑ حسینی، «درہای حرم»، ص480۔
- ↑ حسینی، «درہای حرم»، ص481۔
- ↑ حسینی، «درہای حرم»، ص481۔
- ↑ عالم زادہ، حرم رضوی بہ روایت تاریخ، 1395ش، ص43۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمس الشموس، 1354ش، ص174؛ عالم زادہ، حرم رضوی بہ روایت تاریخ، 1395ش، ص51۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمس الشموس، 1354ش، ص72۔
- ↑ دلیر، «در دوروی پیش روی مبارک»، ص477۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمس الشموس، 1354ش، ص172۔
- ↑ دلیر، «در دوروی پیش روی مبارک»، ص477۔
- ↑ حسینی، «درہای حرم»، ص480۔
- ↑ عالم زادہ، حرم رضوی بہ روایت تاریخ، 1395ش، ص42۔
- ↑ عالم زادہ، حرم رضوی بہ روایت تاریخ، 1395ش، ص44۔
- ↑ عالم زادہ، حرم رضوی بہ روایت تاریخ، 1395ش، ص44۔
- ↑ حسینی، «درہای حرم»، ص480۔
- ↑ ملا جلال الدین منجم، تاریخ عباسی، 1366ش، ص218؛ احتشام کاویانیان، شمس الشموس، 1354ش، ص169۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمس الشموس، 1354ش، ص169-170۔
- ↑ دلیر، «در دوروی پایین پای مبارک»، ص474-475۔
- ↑ دلیر، «در دوروی پایین پای مبارک»، 476۔
- ↑ دلیر، «در دوروی پایین پای مبارک»، 476۔
- ↑ دلیر، «در دوروی پایین پای مبارک»، 476۔
- ↑ عالم زادہ، حرم رضوی بہ روایت تاریخ، 1395ش، ص54۔
- ↑ عالم زادہ، حرم رضوی بہ روایت تاریخ، 1395ش، ص53۔
- ↑ عالم زادہ، حرم رضوی بہ روایت تاریخ، 1395ش، ص52-53؛ حسینی، «درہای حرم»، ص478۔
- ↑ دروازوں کی خصوصیات کے بارے میں ملاحظہ کریں: حسینی، «درہای حرم»، ص477-482۔
- ↑ کفیلی، «در چوبی گرہ بندی مشبک»، ص471۔
- ↑ کفیلی، «در چوبی گرہ بندی مشبک»، ص472۔
- ↑ کفیلی، «در چوبی گرہ بندی مشبک»، ص472۔
- ↑ دلیر، «در چوبی منبت گرہ بندی»، ص474۔
- ↑ دلیر، «در چوبی منبت گرہ بندی»، ص474۔
- ↑ کفیلی، «در چوبی گرہ چینی»، ص472۔
- ↑ کفیلی، «در چوبی گرہ چینی»، ص473۔
- ↑ دلیر، «در چوبی منبت کاری صنیعی»، ص473-474۔
- ↑ حسینی، «درہای حرم»، ص480۔
مآخذ
- احتشام کاویانیان، محمد، شمس الشموس یا انیس النفوس (تاریخ آستان قدس)، مشہد، بی نا، 1354ہجری شمسی۔
- ابن بطوطہ، محمد بن عبداللہ طنجی، رحلۃ ابن بطوطۃ (تحفہ النظار فی غرائب الامصار و عجائب الاسفار)، تحقیق: عبدالہادی التازی، رباط (مراکش)، أکاديميۃ المملکۃ المغربیۃ، 1417ھ۔
- ایزان لو، رمضان علی، « بستن و گشودن درہای حرم»، در آیین ہای حرم مطہر رضوی، مشہد، بنیاد پژوہش ہای آستان قدس رضوی، 1396ہجری شمسی۔
- دلیر، ابو القاسم، «در چوبی منبت کاری صنیعی»، در دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہش ہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- دلیر، ابو القاسم، «در چوبی منبت گرہ بندی»، در دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہش ہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- دلیر، ابو القاسم، «در دوروی پایین پای مبارک»، در دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہش ہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- دلیر، ابو القاسم، «در دوروی پیش روی مبارک»، در دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہش ہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- حسینی، سید حسن، «درہای حرم»، در دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہش ہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- عالم زادہ، بزرگ، حرم رضوی بہ روایت تاریخ، مشہد، بہ نشر (انتشارات آستان قدس رضوی)، 1395ہجری شمسی۔
- فیض، عباس، بدر فروزان (تاریخ آستانہ قدس رضوی)، قم، بنگاہ چاپ قم، 1324ہجری شمسی۔
- کرزن، جرج، ایران و قضیہ ایران، ترجمہ غلامعلی وحید مازندرانی، تہران، انتشارات علمی و فرہنگی، 1362ہجری شمسی۔
- کفیلی، حشمت، «در چوبی گرہ بندی مشبک»، در دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہش ہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- کفیلی، حشمت، «در چوبی گرہ چینی»، در دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہش ہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- ملا جلال الدین منجم، تاریخ عباسی یا روزنامہ ملاجلال، تحقیق سیف اللہ وحیدنیا، تہران، انتشارات وحید، 1366ہجری شمسی۔
- نقدی، رضا، تاریخ و تشکیلات آستان قدس رضوی در عصر قاجار، مشہد، بنیاد پژوہش ہای آستان قدس رضوی، 1399ہجری شمسی۔