یزید بن حارث بن رویم

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محرم کی عزاداری
تابلوی عصر عاشورا.jpg
واقعات
امام حسینؑ کے نام کوفیوں کے خطوط • حسینی عزیمت، مدینہ سے کربلا تک • واقعۂ عاشورا • واقعۂ عاشورا کی تقویم • روز تاسوعا • روز عاشورا • واقعۂ عاشورا اعداد و شمار کے آئینے میں • شب عاشورا
شخصیات
امام حسینؑ
علی اکبر  • علی اصغر • عباس بن علی • زینب کبری • سکینہ بنت الحسین • فاطمہ بنت امام حسین • مسلم بن عقیل • شہدائے واقعہ کربلا •
مقامات
حرم حسینی • حرم حضرت عباسؑ • تل زینبیہ • قتلگاہ • شریعہ فرات • امام بارگاہ
مواقع
تاسوعا • عاشورا • اربعین
مراسمات
زیارت عاشورا • زیارت اربعین • مرثیہ  • نوحہ • تباکی  • تعزیہ • مجلس • زنجیرزنی • ماتم داری  • عَلَم  • سبیل  • جلوس عزا  • شام غریبان • شبیہ تابوت • اربعین کے جلوس


یزید بن حارث بن رویم واقعۂ عاشورا کے وقت عمر بن سعد کی فوج میں سے تھا ۔ یہ ان افراد میں سے ہے جنہوں نے خط لکھ کر حضرت امام حسین ؑ کو کوفہ آنے کی دعوت دی تھی ۔امام حسین ؑ نے اس کا نام خط لکھنے والوں کے عنوان سے لیا تھا ۔ واقعۂ کربلا کے بعد وہ زبیریوں کے ساتھ مل گیا اور بالآخر 68 ہجری قمری میں خوارج کے ہاتھوں قتل ہوا۔

تعارف

یزید بن حارث کی کنیت "ابو حوشب" تھی[1]۔اس کی زوجہ کو "ام حوشب" اور "لطیفہ" کہتے تھے [2]۔کہا گیا ہے کہ وہ ایک کنیز تھی جسے حضرت علی نے یزید بن حارث کو بخشا تھا ۔

یزید بن حارث ،یزید بن حارث بن رویم، یزید بن حرث بن یزید بن رویم،یزید بن حارث بن یزید بن رویم اور یزید بن حارث بن یزید کا نام اس کیلئے کتابوں میں ذکر ہو اہے ۔اپنے جد کی نسبت سے اسے "ابن رویم" کہتے تھے[3]۔

بعض کتابوں میں یزید بن حارث بن رویم اور یزید بن رویم کو دو شخص کہا گیا ہے [4]۔

واقعۂ کربلا

واقعاتِ کربلا میں یزید بن حارث بن رویم کا ذکر اس حوالے سے کیا جاتا ہے کہ اس نے حضرت امام حسین ؑ کو خط لکھ کر کوفہ آنے کی دعوت دی تھی[5] لیکن جب امام حسین ؑ کی جانب روانہ ہوئے تو ابن زیاد نے اسے 1000 افراد کے ہمراہ حضرت کی طرف روانہ کیا[6] ۔عاشورا کے دن وہ عمر بن سعد کے لشکر میں تھا اور امام حسین ؑ نے خط لکھنے والوں میں اس کا نام بھی لیا[7] ۔

عاشورا کے بعد

یزید بن معاویہ کی موت کے بعد لوگوں کے ابن زیاد کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے میں اس کا کردار تھا۔عمرو بن حریث جب ابن زیاد کی بیعت کیلئے لوگوں کودعوت دے رہا تھا تو یہ اس کی مخالفت میں اٹھ کھڑا ہوا تو عمرو نے اسے زندانی کرنے کا حکم دیا لیکن "بنی بکر" آڑے آئے[8]۔قیام مختار کے مقابلے میں ابن مطیع کے سرداروں میں سے تھا [9] اور محلۂ مراد میں جنگ کی ذمہ داری اس کے ذمے تھی[10]۔اسکے بعد مصعب بن زبیر سے مل گیا اور اسکی جانب سے مدائن کا حاکم بنا ۔جب عبید اللہ بن حر جعفی نے مدائن پر حملہ کیا تو اس نے مصعب بن زبیر کو عبید اللہ کے خلاف جنگ پر اکسایا ۔مصعب نے اسے اسکے بیٹۓ حوشب کے ہمراہ عبید اللہ کے خلاف جنگ پر بھیجا لیکن یہ شکست سے دوچار ہوا[11]۔

وفات

یہ مصعب بن زبیر کے زمانے میں اسکی جانب سے ری کا حاکم تھا کہ یہ اپنی زوجہ کے ہمراہ "فیروزرام"[12] نامی دیہات میں خوارج میں سے زبیر بن علی کے ہاتھوں قتل ہوا[13] لیکن اس کا بیٹا اپنی جان بچا کر بھاگنے میں کامیاب ہو گیا[14]۔یاقوت حموی نے کہا ہے کہ عبد الملک بن مروان نے ری کی حاکمیت اس کے سپرد کی تھی[15]۔ اس کی موت کے بارے میں یہ شعر کہا گیا ہے :


و ذاق یزید قوم بکر بن وائل بفیروزرام الصفیح المیمّما[16]


حوالہ جات

  1. طبری، تاریخ، ج۶، ص۱۸؛ حموی، معجم البلدان، ج۴، ص۲۸۳.
  2. بلاذری، انساب الاشراف، ج۷، ص۱۶۸.
  3. بلاذری، انساب الاشراف، ج۷، ص۱۶۸.
  4. ابن اعثم، الفتوح، ج۵، ص۳۰؛ ابن شہر آشوب، مناقب، ج۴، ص۹۰؛ ابن نما، مثیرالاحزان، ص۲۶.
  5. بلاذری، انساب الاشراف، ج۳، ص۱۵۸؛ دینوری، اخبارالطوال، ص۲۲۹؛ ابن کثیر، البدایه و النهایه، ج۸، ص۱۵۱؛ طبری، تاریخ، ج۵، ص۳۵۳؛ ابن شہر آشوب، مناقب، ج۴، ص۹۰؛ ابن نما، مثیرالاحزان، ص۲۶.
  6. بلاذری، انساب الاشراف، ج۳، ص۱۷۹.
  7. طبری، تاریخ، ج۵، ص۴۲۵؛ مفید، الارشاد، ج۲، ص۳۸؛ مجلسی، بحارالانوار، ج۴۵، ص۷.
  8. طبری، تاریخ، ج۵، ص۵۲۴.
  9. ابن اثیر، الکامل ج۴، ص۲۲۱-۲۲۳؛ طبری، تاریخ، ج۶، ص۲۶.
  10. ابن اعثم، الفتوح، ج۶، ص۲۳۲؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج۶، ص۳۹۸.
  11. ابن اثیر، الکامل ج۴، ص۲۹۳؛ طبری، تاریخ، ج۶، ص۱۳۴.
  12. حموی، معجم البلدان، ج۴، ص۲۸۳.
  13. بلاذری، انساب الاشراف، ج۷، ص۱۶۸.
  14. ابن اثیر، الکامل، ج۴، ص۲۸۵؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج۷، ص۱۶۸
  15. حموی، معجم البلدان، ج۴، ص۲۸۳.
  16. حموی، معجم البلدان، ج۴، ص۲۸۳.


مآخذ

  • ابن اثیر، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، دارصادر، بیروت، ۱۳۸۵ق/۱۹۶۵م.
  • ابن اعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، تحقیق: علی شیری، دارالأضواء، بیروت، ۱۴۱۱ق/۱۹۹۱م.
  • ابن شہرآشوب مازندرانی، مناقب آل أبی طالب(ع)، مؤسسہ انتشارات علامہ، قم، ۱۳۷۹ ق.
  • ابن کثیر دمشقی، اسماعیل بن عمر، البدایہ و النہایہ، دارالفکر، بیروت، ۱۴۰۷ق/۱۹۸۶م.
  • ابن مسکویہ رازی، تجارب‌الأمم، تحقیق: ابوالقاسم امامی، تہران، سروش، ۱۳۷۹ش.
  • ابن نما حلی، مثیرالأحزان، انتشارات مدرسه امام مہدی (عج)، قم، ۱۴۰۶ق.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الأشراف(ج۲)، تحقیق: محمدباقر محمودی، مؤسسہ الأعلمی للمطبوعات، بیروت، ۱۹۷۴م/۱۳۹۴ق.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب‌الأشراف(ج۳)، تحقیق: محمدباقر محمودی، دارالتعارف للمطبوعات، بیروت، ۱۹۷۷ق/۱۳۹۷م.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، کتاب جمل من انساب‌الأشراف، تحقیق: سہیل زکار و ریاض زرکلی، دارالفکر، بیروت، ۱۴۱۷ق/۱۹۹۶م.
  • حموی بغدادی، یاقوت، معجم البلدان، دارصادر، بیروت، ۱۹۹۵م.
  • دینوری، احمد بن داوود، الأخبار الطوال، تحقیق: عبدالمنعم عامر مراجعہ جمال الدین شیال، منشورات الرضی، قم، ۱۳۶۸ش.
  • زرکلی، خیرالدین، الأعلام قاموس تراجم لأشہر الرجال و النساء من العرب و المستعربین و المستشرقین، دارالعلم للملایین، بیروت، ۱۹۸۹م.
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق: محمدأبوالفضل ابراہیم، دارالتراث، بیروت، ۱۳۸۷ق/۱۹۶۷م.
  • مجلسی، بحارالأنوار، مؤسسہ الوفاء، بیروت، ۱۴۰۴ق.
  • مفید، الإرشاد، انتشارات کنگره جہانی شیخ مفید، قم، ۱۴۱۳ق.