مسودہ:آیت اللہ خامنہ ای کا قتل
| یہ مقالہ یا اس کا کچھ حصہ حالیہ کسی واقعے کے بارے میں ہے۔ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ممکن ہے اس میں کچھ تبدیلیاں آجائیں۔ ابتدائی معلومات ممکن ہے ناقص یا دقیق نہ ہوں اور اس مقالے کی آخری اپڈیٹ بھی اس واقعے کو پوری طرح منعکس نہ کرسکے۔ |
| زمان | 28 فروری 2026ء |
|---|---|
| مکان | تہران |
| عناصر | صہیونی حکومت اور امریکہ |
| نتایج | شہادت آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ان کے خاندان اور دفتر کے بعض افراد |
| اثرات | مقاومتی بلاک کی جانب سے جہاد کا اعلان اور اسرائیل پر حملہ، بعض مراجع تقلید کی جانب سے جہاد کا فتوا |
| عکس العمل | آپریش وعدہ صادق 4 کا آغاز، مختلف ممالک اور مقاومتی بلاک کی جانب سے صہیونی حکومت کی مذمت اور ایران کی حمایت اور مختلف ممالک کے لوگوں کی جانب سے سوگ اور احتجاجی ریلیاں نکالی گئی |
| مربوط | سید حسن نصر اللہ کا قتل |
آیت اللہ خامنہ ای کا قتل، اس واقعے کی طرف اشارہ ہے جس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے دوسرے رہبر کی شہادت واقع ہوئی۔ یہ واقعہ 28 فروری 2026ء کو رمضان جنگ کے ابتدائی گھنٹوں میں تہران میں ان کی رہائش گاہ (بیت رہبری) پر ہونے والے امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں پیش آیا۔ اس حملے میں آیت اللہ خامنہ ای کے بعض اہل خانہ، ان کے دفتر کے بعض اہلکار اور کئی فوجی کمانڈر بھی شہید ہوئے۔
شیعہ مراجع تقلید اور بعض اہل سنت فقہاء نے اس واقعے پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ آیت اللہ جوادی آملی اور آیت اللہ نوری ہمدانی نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جہاد کا فتویٰ بھی صادر کیا۔ عالم اسلام کی متعدد سیاسی شخصیات اور مختلف ممالک منجملہ روس، پاکستان، عراق، تاجکستان، ازبکستان، ملائیشیا، انڈین نیشنل کانگریس کے صدور اور وزرائے اعظم، چین اور لبنان کی وزارت خارجہ اور محور مقاومت کے گروہ نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت اور ردِّ عمل کا اظہار کیا۔ اس واقعے کے بعد ایران سمیت مختلف ممالک، جیسے عراق، پاکستان، ہندوستان، لبنان، یمن، آسٹریلیا، نائیجیریا، ترکی اور کشمیر میں مجالسِ عزا اور احتجاجی اجتماعات منعقد ہوئے۔
آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد مجلس خبرگان رہبری نے 8 مارچ 2026ء کو ان کے بیٹے سید مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کے تیسرے رہبر کے طور پر منتخب کیا۔
واقعہ کی تفصیل
سید علی حسینی خامنہ ای، اسلامی جمہوریہ ایران کے دوسرے رہبر، بروز ہفتہ 28 فروری 2026ء کی صبح جنگ رمضان کے دوران امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملے میں تہران میں واقع بیت رہبری کمپاؤنڈ پر حملے کے نتیجے میں شہید ہوئے۔[1] امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم نے اسی روز بیت رہبری پر بمباری اور رہبر ایران کے قتل کی خبر دی، تاہم ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے اگلے دن علی الصبح ان کی شہادت کا اعلان کیا۔[2] بعض رپورٹوں کے مطابق ان حملوں میں بیت رہبری کا پورا کمپلیکس مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔[3]
رپورٹس کے مطابق بیت رہبری پر حملہ اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے ساتھ رہبر ایران کے اجلاس کی اطلاع ملنے کے بعد، ہفتہ کی صبح تقریباً 9:40 بجے کیا گیا۔ اس کارروائی میں 50 اسرائیلی جنگی طیاروں نے درجنوں میزائل، جن میں ’’بلو اسپارو‘‘ میزائل بھی شامل تھے، فائر کیے۔[4] حملے میں استعمال ہونے والے میزائلوں کی تعداد مختلف ذرائع میں 30[5] سے لے کر 100 سے زائد بیان کی گئی ہے۔[6]
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے انٹیلی جنس ادارے خصوصاً یونٹ 8200 اور یونٹ 9900 دو دہائیوں سے زائد عرصے تک ایران کے رہبر اور اعلیٰ حکام کی نگرانی کرتے رہے اور ان کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں کا نقشہ تیار کرتے رہے تھے۔[7] مزید برآں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے بھی اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ تعاون کر رہی تھی۔[8]
ان حملوں میں رہبرِ ایران کے خاندان کے متعدد افراد، جن میں ایک بیٹی، داماد، بہو اور نواسہ/پوتا شامل تھے۔ اسی طرح ان کے دفتر کے بعض ارکان اور متعدد فوجی کمانڈر بھی شہید ہوئے، جن میں سید عبدالرحیم موسوی (چیف آف جنرل اسٹاف)، محمد پاکپور (کمانڈر سپاہ پاسداران) اور عزیز نصیرزادہ (وزیرِ دفاع) شامل تھے۔[9]
سیاسی اور مذہبی جرم
بین الاقوامی قانون کے تناظر میں ریاستوں کے سیاسی رہنماؤں کا قتل عموماً قومی خودمختاری اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ اسی بنا پر آیت اللہ خامنہ ای کی مذہبی حیثیت اور عالمِ تشیع کے رہنما ہونے کے پیشِ نظر اس اقدام کو صرف ایک سیاسی جرم ہی نہیں بلکہ ایک مذہبی جرم بھی قرار دیا گیا ہے۔[10]
وجوہات اور اہداف
ایرانی قوم اپنے اسلامی اور شیعہ تعلیمات کو خوب جانتی ہے؛ جانتی ہے کہ کیا کرنا ہے۔ امام حسینؑ نے فرمایا: «مِثلی لایُبایِعُ مِثلَ یَزید؛ مجھ جیسا شخص، یزید جیسے شخص کی بیعت نہیں کرسکتا۔» ایرانی قوم دراصل یہی کہہ رہی ہے کہ ہم جیسی قوم، ایسی تہذیب اور تاریخ کے ساتھ، ان اعلیٰ تعلیمات کے ساتھ، امریکہ کے موجودہ فاسق و فاجر حکمراں جیسوں کی بیعت نہیں کرے گی۔[11]
بعض ذرائع کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کے قتل کا مقصد ایران کو کمزور یا تباہ کرنا اور ایران کے رہبر اعلی، فوجی قیادت اور اعلیٰ فیصلہ ساز شخصیات کو نشانہ بنا کر ملک پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا تھا۔[12] اسی طرح ایران کے سیاسی نظام میں تبدیلی،[13] داخلی یکجہتی کو نقصان پہنچانا، جمہوری اسلامی ایران کے علاقائی اثر و نفوذ کو محدود کرنا اور خطے میں صہیونی حکومت کی بالادستی قائم کرنا بھی اس کارروائی کے ممکنہ اہداف میں شمار کیا گیا ہے۔[14] امریکی صدر نے اپنے ایک بیان میں رہبرِ ایران کے قتل کو "ایران اور دنیا میں عدل و انصاف" کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایرانی عوام کے لیے اپنے ملک کو دوبارہ حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔[15] بعض دیگر تجزیوں میں اس واقعے کو ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تنازعات کے تناظر میں دیکھا گیا ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی جوہری پیش رفت کو روکنا بھی اس اقدام کے محرکات میں شامل تھا۔[16] حالانکہ آیت اللہ خامنہ ای پہلے ہی انبوہ تباہی ہتھیاروں (Weapons of Mass Destruction) کی تیاری اور استعمال کو حرام قرار دے چکے تھے[17] اور ایران و امریکہ کے درمیان جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات بھی جاری تھے۔ اسی دوران امریکہ نے مئی 2025ء کو ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کی اور انہیں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔[18] مزید برآں امریکہ اور اسرائیل نے دسمبر 2025ء میں ایران کے اسلامی جمہوری نظام میں تبدیلی لانے کے لیے ملک کے اندر معاشی حالات پر ہونے والے اعتراضات کو بدامنی اور اغتشاشات میں تبدیل کیا تاہم یہ کوشش ناکام رہی۔[19] اس واقعے سے قبل آیت اللہ خامنہ ای اپنے مختلف تقریروں میں امریکی صدر کی دھمکیوں کے مقابلے میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات یا مفاہمت کی مخالفت پر زور دیتے رہے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر ایران پر دباؤ کا سلسلہ جاری رہا یا اس ملک پر حملہ کیا گیا تو یہ تنازعہ پورے خطے تک پھیل سکتا ہے۔[20] امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی مخالفت کے سلسلے میں وہ بعض اوقات شیعہ تاریخی اور دینی نمونوں سے استناد کرتے تھے، جیسے واقعۂ کربلا میں امام حسینؑ کا مشہور فرمان: «مِثْلی لا یُبایِعُ مِثْلَهُ» "مجھ جیسا شخص، یزید جیسے شخص کی بیعت نہیں کر سکتا۔"[21]
آیت اللہ خامنہ ای کو محور مقاومت کا ایک مرکزی رہنما سمجھا جاتا تھا اور وہ مغربی ایشیا پر استعماری قوتوں کے ناجائز قبضوں اور اس علاقے پر مغربی اثر و رسوخ کے مخالف تحریکوں اور گروہوں کی حمایت کرتے تھے۔[22]
رہبرِ ایران کے قتل کی دھمکیاں
رہبرِ ایران کی شہادت سے قبل امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے متعدد بار انہیں قتل کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ خاص طور پر اسرائیل اور ایران کی بارہ روزہ جنگ کے دوران امریکی صدر، صہیونی حکومت کے وزیرِ اعظم اور اسرائیلی وزیرِ جنگ نے کھلے طور پر انہیں نشانہ بنانے کی دھمکیاں دیں۔[23] ان دھمکیوں پر شیعہ مراجع تقلید، حوزہ علمیہ نجف، حوزۂ علمیہ قم اور بہت سے علماء و مسلم اداروں نے شدید ردِ عمل ظاہر کیا۔[24] حوزۂ علمیہ نجف کے ایک بیان میں کہا گیا: "ان پر کسی بھی قسم کی جارحیت پوری امتِ مسلمہ کے خلاف اعلانِ جنگ اور توحیدی تہذیب کی اقدار سے کھلی خیانت تصور کی جائے گی۔"[25] اسی طرح بعض مراجعِ تقلید، جن میں آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی[26] اور آیت اللہ حسین نوری ہمدانی[27] شامل ہیں، نے رہبری اور شیعہ مرجعیت کے خلاف ہر قسم کی دھمکی یا تعرض کو محاربہ کے حکم میں قرار دیا تھا۔

ردعمل
ایران کے سپریم لیڈر کے قتل پر ایران سمیت دنیا کے مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات اور اداروں کی جانب سے ردعمل سامنے آیا جس کی تفصیل کچھ یوں ہے:

مراجع تقلید کا ردعمل
آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر قم، نجف اور دیگر اسلامی مراکز میں موجود مراجع تقلید اور مذہبی شخصیات نے مذمتی بیانات جاری کئے، جن میں آیت اللہ سیستانی، آیت اللہ وحید خراسانی، آیت اللہ مکارم شیرازی، آیت اللہ نوری ہمدانی، آیت اللہ جعفر سبحانی، آیت اللہ شبیری زنجانی، آیت اللہ اسحاق فیاض، آیت اللہ دوزدوزانی،[28] آیت اللہ جوادی آملی،[29] آیت اللہ حسین مظاہری[30]، آیت اللہ محمد یعقوبی[31] اور سید محمد تقی مدرسی[32] نے تعزیتی پیام جاری کئے۔ عمان کے مفتیِ اعظم احمد بن حمد الخلیلی نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے آیت اللہ خامنہ ای کو ایک ثابت قدم اور مقاوم مجاہد قرار دیتے ہوئے فلسطین کے مضبوط حامی کے طور پر یاد کیا۔ الخلیلی نے ان کے فقدان کو امتِ اسلامیہ کے لیے ایک عظیم سانحہ اور ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا۔[33]
جہاد کا فتوا
بعض شیعہ اور اہل سنت فقہا[34] جیسے آیت اللہ جوادی آملی[35] اور آیت اللہ نوری ہمدانی[36] نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا۔ نوری ہمدانی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اپنے شہید رہبر کے خون کا اس جرم کے عاملین سے بدلہ لیں۔[37] آیت اللہ مکارم شیرازی نے بھی آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کو امام مہدیؑ کے ظہور کا مقدمہ قرار دیا۔[38] عراق کے اہل سنت علماء کونسل کے سربراہ نے مراجع تقلید سے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف جہاد کا اعلان کرنے کی درخواست کی۔[39]
سیاسی اور مذہبی شخصیات کا ردعمل

اسلامی دنیا کی متعدد سیاسی شخصیات نے بھی آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر ردِّعمل ظاہر کرتے ہوئے تعزیت پیش کی۔ ان میں ایران کی سیاسی شخصیات، جیسے تینوں ریاستی قوّتوں کے سربراہان،[40] پاکستان کی بہت سی سیاسی اور مذہبی شخصیات،[41] حوزہ علمیہ قم کے سربراہ،[42] اہل بیت عالمی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل آیت اللہ رمضانی،[43] عراق کی قومی حکمت تحریک کے سربراہ سید عمار حکیم،[44] عراق کی صدر پارٹی کے رہنما سید مقتدیٰ صدر،[45] حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم،[46] عراقی کردستان کے صدر،[47] اور عراق کی عوامی بسیج تنظیم (حشد الشعبی) کے سربراہ فالح الفیاض،[48] شامل تھے۔
اسی طرح مجمع جهانی تقریب مذاہب اسلامی،[49] یمن کی اعلیٰ سیاسی کونسل،[50] مجلس اعلی اسلامی عراق،[51] انڈونیشیا کی مجلسِ علماء،[52] اور جاموں و کشمیر میں شیعہ شریعت ایسوسی ایشن نے بھی تعزیتی پیغامات جاری کئے۔[53] علاقے کی مزاحمتی تنظیموں، جن میں حزب اللہ لبنان، انصار اللہ یمن، حماس، فلسطینی اسلامی جہاد اور عراق کی مختلف شیعہ جماعتیں شامل ہیں، نے بھی رہبرِ ایران کے قتل کی مذمت اور ایران کے ساتھ یکجہتی کے اظہار پر مبنی بیانات جاری کئے۔[54] بعض مذہبی رہنماؤں نے بھی تعزیت کا اظہار کیا، جن میں روسی آرتھوڈوکس کلیسا کے سربراہ بھی شامل تھے، جنہوں نے اس واقعے پر اپنے تعزیتی پیغام میں افسوس کا اظہار کیا۔[55]
سیاسی اور مذہبی عہدیداران
روس، پاکستان، عراق، تاجکستان، ازبکستان اور ملائیشیا[56] کے صدور اور وزرائے اعظم، ہندوستان کی نیشنل کانگریس اور چین[57] اور لبنان کی وزارت خارجہ نے بھی اپنے پیغامات میں ایران پر حملے کی مذمت اور آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت پیش کی۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے اس اقدام کو اخلاقی معیارات اور بین الاقوامی قوانین کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔[58] اسی طرح چین نے بھی اس اقدام کو ایران کی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور بین الاقوامی تعلقات کے اصولوں کی پایمالی قرار دیا۔[59] شمالی کوریا نے اس اقدام کو ایک جارحانہ اور غیر قانونی اقدام نیز کسی ملک کی سالمیت اور خودمختاری کی بدترین خلاف ورزی قرار دیا۔[60]
خطے کے مزاحمتی گروہوں بشمول حزب اللہ لبنان، انصار اللہ یمن، حماس، فلسطین اسلامی جہاد اور عراق کے شیعہ دھاروں نے ایران کے رہبر کے قتل کی مذمت اور اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی میں بیانات جاری کئے۔[61] ان کے علاوہ دنیا کے دیگر مذہبی رہنماؤں بشمول روس کے آرتھوڈوکس چرچ کے سربراہ نے بھی تعزیت پیش کی۔[62]
مختلف ممالک میں عوامی اجتماعات اور ماتمی جلوس

ایران کی حکومت نے سات روزہ سرکاری چھٹی اور چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا۔[63] عراق کی حکومت نے بھی تین روزہ سوگ کا اعلان کیا اور کربلا اور نجف کے صوبوں میں ایک دن کی سرکاری چھٹی کا اعلان کیا۔[64] پاکستان میں ولی فقیہ کے نمائندے اور اسلامی تحریک کے سربراہ سید ساجد علی نقوی نے پاکستان میں[65] جبکہ کشمیر اور جاموں میں شیعہ شریعت ایسوسی ایشن نے بھی چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا۔[66]
ایرانی عوام نے اپنے شہید رہبر کے خون کا بدلہ لینے کے عزم کے ساتھ ملک بھر میں ریلیاں، جلوس اور عوامی اجتماعات منعقد کئے[67] جو چہلم تک اور اس کے بعد بھی جاری رہے۔[68] پاکستان کے مختلف شہروں، جیسے کراچی، لاہور، اسلام آباد، گلگت اور اسکردو میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ بعض شہروں میں مظاہرین نے امریکہ کے سفارت خانوں پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں امریکی میرینز اور سکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے 34 پاکستانی شہید ہوگئے۔[69] کشمیر میں بھی عوامی اجتماعات پولیس کی مداخلت کے باعث پُرتشدد صورت اختیار کر گئے۔ بغداد میں عوام نے احتجاجی مظاہروں کے دوران امریکی سفارت خانے پر حملہ کیا۔[70] اسی طرح عراق، پاکستان، ہند، لبنان، یمن، آسٹریلیا، نائیجیریا اور ترکیہ سمیت مختلف ممالک میں مجالسِ عزا اور احتجاجی اجتماعات منعقد کیے گئے۔
مشہد حرم امام رضاؑ کے گنبد پر نصب سبز پرچم کو سوگ کی علامت کے طور پر سیاہ پرچم سے تبدیل کر دیا گیا۔[71] مسجد جمکران قم میں بھی انتقام کی علامت کے طور پر سرخ پرچمِ یا لثارات الحسین لہرایا گیا۔[72] حرم امام علیؑ نجف،[73] حرم کاظمین[74] اور عراق کے بعض دیگر شہروں، مثلاً بغداد میں،[75] علامتی جنازوں کی تقریبات منعقد ہوئیں، جبکہ پاکستان[76] اور ترکی[77] میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔
آیت اللہ اعرافی کا پوپ کے نام خط
ایران میں حوزاتِ علمیہ کے سربراہ علی رضا اعرافی نے پوپ لیو چہاردہم کے نام ایک خط میں رہبرِ ایران کے قتل کو تاریخِ ادیان کا ایک بے مثال جرم اور الٰہی ادیان کے تمام پیروکاروں کی توہین قرار دیا۔ انہوں نے پوپ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جرم کی مذمت کریں اور اس کا مسیحیت کی تعلیمات سے کوئی تعلق ہونے کی نفی کریں۔ اعرافی نے اپنے خط میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ آیت اللہ خامنہ ای اقلیتوں کے حقوق خصوصاً ایران کے مسیحیوں کے حقوق کے حامی تھے اور ان کی جان کو لاحق خطرات دراصل فلسطین کے عوام کی حمایت، نسل کشی کی مخالفت اور صہیونی قبضے کے خلاف ان کے مؤقف کا نتیجہ تھے۔[78]
چہلم کی تقریبات

آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے چالیسویں دن کے موقع پر ایران،[80] پاکستان[81] اور عراق[82] اور دیگر ممالک میں تقریبات منعقد ہوئیں۔
آپریشن وعدہ صادق 4
اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے آیت اللہ خامنہ ای کے قتل اور امریکہ و اسرائیل کی جانب سے جنگ کے آغاز کے ردِّعمل میں آپریشن وعدہ صادق 4 کا آغاز کیا۔ اس کارروائی کے دوران مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں واقع اہداف کے علاوہ متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت، اردن اور سعودی عرب میں واقع امریکہ کے فوجی اڈوں کو بھی میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔[83] عملیاتِ وعدۂ صادق 4 کی بیالیسویں لہر «لبیک یا خامنہ ای» کے نعرے کے ساتھ انجام دی گئی اور اسے ایران کے شہید رہبر اور ان کے خاندان کے نام معنون کیا گیا۔[84] سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے یکم مارچ 2026ء کو جاری ہونے والے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ رہبرِ ایران کے قاتلوں یعنی امریکہ اور اسرائیل کو سخت، فیصلہ کن اور پشیمان کر دینے والی سزا دی جائے گی۔[85] حزب اللہ لبنان نے بھی 2 مارچ 2026ء کو اپنے ایک بیان میں اعلان کیا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کا انتقام لینے کے لیے وہ اسرائیل کے خلاف جنگ میں شامل ہو گئی ہے۔[86] اسی طرح محورِ مقاومت سے وابستہ مختلف مزاحمتی گروہوں نے بھی ایران کی حمایت میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کارروائیاں شروع کیں۔[87]
نتائج
اسلامی جمہوریہ ایران کے وقت کے رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے مختلف نتائج سامنے آئے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:
عبوری قیادت کونسل کا قیام

آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق ہونے کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کے آرٹیکل 111 کے مطابق عبوری قیادت کونسل تشکیل دی گئی اور 8 مارچ 2026ء کو ایران کے نئے رہبر منتخب ہونے تک اس عبوری کونسل نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھی۔ اس کونسل کے ارکان میں مسعود پزشکیان (صدر)، غلام حسین محسنی اژہ ای (چیف جسٹس) اور علی رضا اعرافی (نگہبان کونسل کے رکن) شامل تھے۔[88]
سید مجتبی خامنہ ای کا اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر کے طور پر انتخاب
آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد مجلس خبرگان رہبری نے 8 مارچ 2026ء کو منعقدہ اپنے جلسے میں سید مجتبی حسینی خامنہ ای کو ایران کے تیسرے رہبر کے طور پر منتخب کیا۔ اس اجلاس کے انعقاد سے قبل، امریکہ اور اسرائیل نے خبرگان کے اجلاس کو روکنے اور اسلامی جمہوریہ کے نئے رہبر کے انتخاب کو ناکام بنانے کے لیے تہران اور قم میں مجلس خبرگان کی عمارتوں پر حملہ کیا[89] جس سے ان عمارتوں کو نقصان پہنچا اور مجلس خبرگان کے کچھ عملے کی شہادت ہوئی۔ نیز ان دونوں حکومتوں نے خبرگان کے ارکان کو دھمکیاں دی اور سید مجتبی خامنہ ای کو ایران کے تیسرے رہبر کے طور پر منتخب کرنے کے خلاف وارننگ دی۔[90]
ایرانی معاشرے کے عمومی ماحول پر اس واقعے کا اثر
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اس واقعے سے ایران کے داخلی ماحول پر قابل توجہ اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ان میں سماجی ہم آہنگی، امریکہ اور اسرائیل سے عمومی نفرت میں شدت اور اسلامی جمہوری نظام کے سیاسی بیانئے کی تقویت شامل ہے۔[91] ایرانی عوام کے غم و غصے میں شدت کے ساتھ ساتھ ایران کے علاقائی اور بین الاقوامی اتحادیوں میں بھی اس واقعے کے خلاف غم و غصے میں بھی شدت آئی ہے۔[92]
سید علی خامنہ ای کو ایران کے نئے شمسی سال یعنی 1405 ہجری شمسی کا شہیدِ شاخص قرار دیا گیا، اور «لبیک یا خامنہ ای» کو اس سال کے راہیان نور علمی ثقافتی سفر کے سرکاری شعار کے طور پر اعلان کیا گیا۔[93]
ناکام قاتلانہ حملہ
27 جون 1981ء کو تہران کی مسجد ابوذر میں تقریر کے دوران آیت اللہ خامنہ ای جان لیوا حملے کا نشانہ بنے۔[94] اور کندھے، سینے اور دائیں ہاتھ سے شدید زخمی ہوئے۔[95] اس حملہ کی ذمہ داری فرقان نامی گروہ پر عائد کی گئی؛[96] لیکن بعض ذرائع تنظیم مجاہدین خلق ایران کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔[97]
حوالہ جات
- ↑ «اطلاعیه شهادت حضرت آیتالله العظمی سیدعلی حسینی خامنهای رهبر انقلاب اسلامی» دفتر حفظ و نشر آثار آیت اللہ خامنہ ای، ۔
- ↑ «علی خامنہ ای، رهبر ایران مارا گیا»، یورنیوز؛ «علی خامنہ ای، رهبر ایران کا امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں مارا جانا»، TRT فارسی۔
- ↑ «علی خامنہ ای، رهبر ایران مارا گیا»، یورنیوز؛ «علی خامنہ ای، رهبر ایران کا امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں مارا جانا»، TRT فارسی۔
- ↑ ««عملیات پیدایش» میں خامنہ ای کی غافلگیری؛ رہبر اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر کے قتل کی نئی تفصیلات»، یورونیوز؛ «خامنہ ای کے زیرزمین بنکرز پر اسرائیل کے 50 جنگی جہازوں کے ذریعے حملے کی تفصیلات»، صدائے امریکہ
- ↑ «Report: 30 bombs were dropped on Khamenei’s palace after rare opportunity emerged»، The Times Of Israel.
- ↑ «خامنہ ای کے زیرزمین بنکرز پر اسرائیل کے 50 جنگی جہازوں کے ذریعے حملے کی تفصیلات»، صدائے امریکہ
- ↑ ««عملیات پیدایش» میں خامنہ ای کی غافلگیری؛ رہبر اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر کے قتل کی نئی تفصیلات»، یورونیوز؛ «خامنہ ای کے زیرزمین بنکرز پر اسرائیل کے 50 جنگی جہازوں کے ذریعے حملے کی تفصیلات»، صدائے امریکہ۔
- ↑ ««عملیات پیدایش» میں خامنہ ای کی غافلگیری؛ رہبر اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر کے قتل کی نئی تفصیلات»، یورونیوز.
- ↑ «رهبر معظم انقلاب کے خاندان کے کئی افراد کی شہادت»، نورنیوز.
- ↑ العالم نیوز، "عراقچی: دشمن کا اقدام سیاسی-مذہبی جرم تھا"۔
- ↑ "مشرقی آذربائیجان کے عوام سے ملاقات میں بیانات"، دفتر حفظ و نشر آثار آیت اللہ العظمی خامنہ ای۔
- ↑ "امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے رہبری اور کمانڈروں کے قتل کی وجوہات"، نورنیوز۔
- ↑ عراق کے وزیر خارجہ: امریکہ اور اسرائیل سمجھتے تھے کہ ایران کے رہبر کا قتل نظام کو تبدیل کر دے گا، نورنیوز۔
- ↑ "انصاراللہ کے رہبر: آیت اللہ خامنہ ای کے قتل کا ہدف ایرانی قوم کا حوصلہ پست کرنا ہے"، شبکہ العالم۔
- ↑ "علی خامنہ ای، رہبر ایران مارا گیا"، یورونیوز۔
- ↑ "ایران نے گورنرز کونسل میں امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کی فوری مذمت کا مطالبہ کیا"، شبکہ العالم۔
- ↑ "رہبر انقلاب کے پیغام کو اقوام متحدہ میں دستاویز کے طور پر درج کروانا"، دفتر حفظ و نشر آثار آیت اللہ خامنہ ای۔
- ↑ "ایران کے جوہری تنصیبات پر امریکی حملہ؛ ٹرمپ: یا تو صلح ہو گی یا ہم مزید سخت کارروائی کریں گے"، یورونیوز۔
- ↑ "قومی سلامتی کونسل کا دسمبر کے دہشت گردانہ اقدامات کے بارے میں بیان"، خبرگزاری صداوسیما۔
- ↑ "انقلاب اسلامی کی فتح کی سینتالیسویں سالگرہ کے موقع پر عوام کے مختلف طبقات سے ملاقات میں بیانات"، دفتر حفظ و نشر آثار آیت اللہ العظمی خامنہ ای۔
- ↑ "مشرقی آذربائیجان کے عوام سے ملاقات میں بیانات"، دفتر حفظ و نشر آثار آیت اللہ العظمی خامنہ ای۔
- ↑ "آیت اللہ خامنہ ای محور مقاومت کی عظمت کی علامت ہیں"، نخست نیوز۔
- ↑ "اسرائیل کے وزیر جنگ نے رہبر انقلاب کو قتل کی دھمکی دی"، خبرگزاری تحولات جهان اسلام۔
- ↑ "ٹرمپ کی رہبر انقلاب سے گستاخی پر مراجع تقلید اور علماء کا سخت ردعمل"، خبرگزاری رسا۔
- ↑ "حوزہ علمیہ نجف نے 'مجرم ٹرمپ' کی امام خامنہ ای کے قتل کی گستاخانہ دھمکی پر سخت ردعمل ظاہر کیا"، خبرگزاری دانشجو۔
- ↑ "کوئی بھی شخص یا رژیم جو رہبری اور مرجعیت کو دھمکی دے، اس کا حکم محارب ہے"، خبرگزاری ایسنا۔
- ↑ "شیعہ رہبری اور مرجعیت کے خلاف ہر قسم کی جارحیت اور دھمکی کا حکم محارب ہے"، خبرگزاری جمہوری اسلامی۔
- ↑ "رہبر انقلاب اسلامی کی شہادت پر مراجع تقلید، علماء اور شخصیات کے پیغامات"، خبرگزاری شفقنا۔
- ↑ "امام خامنہ ای کی شہادت کے موقع پر آیت اللہ جوادی آملی کا پیغام"، خبرگزاری تسنیم۔
- ↑ "آیت اللہ مظاہری کے دفتر نے رہبر معظم انقلاب کی شہادت پر تعزیت پیش کی"، خبرگزاری مہر۔
- ↑ "نجف اشرف کے مراجع میں سے آیت اللہ یعقوبی نے حضرت آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت پیش کی"، خبرگزاری جمہوری اسلامی۔
- ↑ "رہبر معظم انقلاب کی شہادت پر سیاسی و مذہبی شخصیات کے تعزیتی پیغامات"، نورنیوز۔
- ↑ مفتی عمان نے امام خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت پیش کی، خبرگزاری تقریب۔
- ↑ "ملائیشیا کی مشاورتی کونسل کی اسلامی تنظیموں کے سربراہ: جہاد اب تمام مسلمانوں پر واجب ہے"، خبرگزاری ابنا۔
- ↑ "ویڈیو | آیت اللہ العظمی جوادی آملی کا جہاد کا فتویٰ؛ آج ٹرمپ اور صہیونیوں کا خون بہانا واجب ہے"، خبرگزاری ابنا۔
- ↑ "تمام مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اپنے شہید رہبر کے خون کا انتقام لیں"، خبرگزاری رسا۔
- ↑ "تمام مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اپنے شہید رہبر کے خون کا انتقام لیں"، خبرگزاری رسا۔
- ↑ "آیت اللہ مکارم شیرازی: رہبر انقلاب کی شہادت، حضرت ولی عصر (عج) کے ظہور کا مقدمہ ہو گی"، خبرگزاری صداوسیما۔
- ↑ "عراق کی اہل سنت علماء کونسل کے سربراہ: علماء اور مراجع کو جہاد کا فتویٰ دینا چاہیے"، خبرگزاری ابنا۔
- ↑ "رہبر معظم انقلاب کی شہادت پر سیاسی و مذہبی شخصیات کے تعزیتی پیغامات"، نورنیوز۔
- ↑ "رہبر انقلاب کی شہادت پر پاکستانی شخصیات کا ردعمل"، پایگاه تخصصی تحلیلی جامعه و فرهنگ ملل۔
- ↑ "رہبر معظم انقلاب کی شہادت پر سیاسی و مذہبی شخصیات کے تعزیتی پیغامات"، نورنیوز۔
- ↑ "رہبر معظم انقلاب اسلامی کی شہادت کے موقع پر آیت اللہ رمضانی کا تعزیتی پیغام"، وبگاه مجمع جهانی اهل بیت(ع)۔
- ↑ "رہبر انقلاب اسلامی کی شہادت پر عمار حکیم کا تعزیتی پیغام"، خبرگزاری شفقنا۔
- ↑ "امام خامنہ ای کی شہادت پر مقتدی صدر کا تعزیتی پیغام"، باشگاه خبرنگاران جوان۔
- ↑ "رہبر معظم انقلاب کی شہادت پر سیاسی و مذہبی شخصیات کے تعزیتی پیغامات"، نورنیوز۔
- ↑ "رہبر معظم انقلاب کی شہادت پر سیاسی و مذہبی شخصیات کے تعزیتی پیغامات"، نورنیوز۔
- ↑ "اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر معظم انقلاب کی شہادت پر مختلف ممالک کے عہدیداروں کے تعزیتی پیغامات"، ایران پرس۔
- ↑ "رہبر معظم انقلاب کی شہادت پر سیاسی و مذہبی شخصیات کے تعزیتی پیغامات"، نورنیوز۔
- ↑ "رہبر معظم انقلاب کی شہادت پر سیاسی و مذہبی شخصیات کے تعزیتی پیغامات"، نورنیوز۔
- ↑ "رہبر معظم انقلاب کی شہادت پر سیاسی و مذہبی شخصیات کے تعزیتی پیغامات"، نورنیوز۔
- ↑ "اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر معظم انقلاب کی شہادت پر مختلف ممالک کے عہدیداروں کے تعزیتی پیغامات"، ایران پرس۔
- ↑ "جامو و کشمیر میں چالیس روزہ سوگ"، خبرگزاری بین المللی قدس۔
- ↑ "عالمی میڈیا میں رہبر معظم انقلاب کی شہادت کا عکس"، خبرگزاری مہر۔
- ↑ "رہبر معظم انقلاب کی شہادت کے موقع پر روس کے آرتھوڈوکس رہبر کا صدر جمہوریہ کو تعزیتی پیغام"، خبرگزاری ابنا۔
- ↑ "ملائیشیا نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت پیش کی"، خبرگزاری ابنا؛ "امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران کے خامنہ ای کے قتل پر عالمی ردعمل"، Al Jazeera Media Network۔
- ↑ "امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران کے خامنہ ای کے قتل پر عالمی ردعمل"، Al Jazeera Media Network۔
- ↑ "امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران کے خامنہ ای کے قتل پر عالمی ردعمل"، Al Jazeera Media Network۔
- ↑ "امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران کے خامنہ ای کے قتل پر عالمی ردعمل"، Al Jazeera Media Network۔
- ↑ "امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران کے خامنہ ای کے قتل پر عالمی ردعمل"، Al Jazeera Media Network۔
- ↑ "عالمی میڈیا میں رہبر معظم انقلاب کی شہادت کا عکس"، خبرگزاری مہر۔
- ↑ "رہبر معظم انقلاب کی شہادت کے موقع پر روس کے آرتھوڈوکس رہبر کا صدر جمہوریہ کو تعزیتی پیغام"، خبرگزاری ابنا۔
- ↑ "رہبر معظم انقلاب کی شہادت پر چالیس روزہ سوگ اور سات روزہ تعطیل کا اعلان"، شبکہ العالم۔
- ↑ "آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد عراقی حکومت نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا"، خبرگزاری ایرنا۔
- ↑ "پاکستانی: ہم رہبر معظم انقلاب اسلامی کی شہادت کے سوگ میں ایران کے شریک ہیں"، خبرگزاری جمہوری اسلامی۔
- ↑ "جامو و کشمیر میں چالیس روزہ سوگ"، خبرگزاری بین المللی قدس۔
- ↑ ملاحظہ ہو: "ایران متحد، شہید رہبر کے خون کا مطالبہ؛ جمعہ کی نماز میں عوام کا حماسی اجتماع"، خبرگزاری مہر؛ "شہید امام امت کے خون کے مطالبے میں عوام کا پرجوش اجتماع"، خبرگزاری صداوسیما؛ "امام خامنہ ای کی شہادت پر ایران سوگوار؛ عوام نے قیام کیا"، خبرگزاری تسنیم۔
- ↑ ملاحظہ ہو: "رہبر شہید انقلاب اسلامی کی شہادت کے چہلم کے موقع پر ملک بھر میں عوام کا پرجوش اجتماع"، خبرگزاری دانشجو؛ "ایران شہید رہبر کے سوگ میں؛ قائد امت کے اربعین پر عوام کا شاندار عزا"، خبرگزاری تسنیم؛ "رہبر شہید انقلاب اسلامی کی شہادت کے چہلم کے موقع پر ملک بھر میں سوگواری"، خبرگزاری مہر۔
- ↑ "آج پاکستان میں امریکہ مخالف مظاہروں میں 34 ہلاکتیں ہوئیں"، خبرگزاری جمہوری اسلامی۔
- ↑ "ایران کے رہبر انقلاب کی شہادت کے بعد بغداد میں امریکی سفارت خانے کے ارد گرد جھڑپیں"، خبرگزاری ایسنا۔
- ↑ "رہبر معظم انقلاب کی شہادت کے بعد حرم مطہر امام رضا (ع) کا سیاہ پوش ہونا"، خبرگزاری ایکنا۔
- ↑ "مسجد جمکران کے مشہور انتقامی پرچم کا لہرایا جانا"، خبرگزاری مہر۔
- ↑ "ویڈیو | حرم مطہر امیرالمؤمنین (ع) میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کے مجازی جنازے کی تشییع"، خبرگزاری ابنا۔
- ↑ "ویڈیو/ کاظمین میں شہید رہبر انقلاب کا مجازی جنازہ"، خبرگزاری مشرق۔
- ↑ ملاحظہ ہو: "شہید رہبر انقلاب کے لیے عراقیوں کی عزاداری کی تقریبات کا سلسلہ جاری"، خبرگزاری مشرق؛ "عراق کے ذی قار میں شہید امام خامنہ ای کا شاندار عزا اور مجازی جنازہ"، خبرگزاری حوزہ۔
- ↑ "پاکستانی: ہم رہبر معظم انقلاب اسلامی کی شہادت کے سوگ میں ایران کے شریک ہیں"، خبرگزاری جمہوری اسلامی۔
- ↑ "ترکی کے دیار بکر میں شہید امام خامنہ ای کی غائبانہ نماز جنازہ"، خبرگزاری دانشجو۔
- ↑ "عالم کاتھولک کے رہبر پوپ کو آیت اللہ اعرافی کا اہم خط / ایران کی قوم کے خلاف جرم کے سامنے اصولی اور ہشدارانہ موقف اختیار کریں"، خبرگزاری حوزہ۔
- ↑ کراچی میں چہلم شہید رہبر امام خامنہ ایؒ کا عظیم الشان اجتماع، ہزاروں مرد و خواتین کی شرکت، اسلام ٹائمز
- ↑ "برگزاری مراسم بزرگداشت چہلم رہبر شہید در سراسر ایران پورے ایران میں شہید رہبر کے چہلم کی یاد میں تقریبات کا انعقاد"، دنیائے اقتصاد۔
- ↑ "گردہمایی معنوی اربعین رہبر شہید انقلاب در پاکستان برگزار شد پاکستان میں شہید رہبر انقلاب کے اربعین کا روحانی اجتماع منعقد ہوا"، خبرگزاری ایرنا۔
- ↑ "مراسم بزرگداشت چہلمین روز رہبر شہید انقلاب اسلامی ایران در عراق عراق میں اسلامی جمہوریہ ایران کے شہید رہبر انقلاب کے چہلم کی یاد میں تقریب"، خبرگزاری دانشجو۔
- ↑ "امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ (28 فروری 2026 – تا حال)"، خبرگزاری اسپوتنیک۔
- ↑ "آپریشن وعدہ صادق 4 کی 42ویں لہر 'لبیک یا خامنہ ای' کے رمز کے ساتھ انجام دی گئی"، خبرگزاری مہر۔
- ↑ "یہ شہادت ہماری قوم کو عزیز امام خامنہ ای کے نورانی راستے پر مزید پختہ کر دے گی"، پایگاه خبری سپاه پاسداران انقلاب اسلامی۔
- ↑ "حزب اللہ: ہم امام خامنہ ای کی شہادت کے انتقام کے لیے اسرائیل کے خلاف جنگ میں شامل ہو گئے"، تلویزیون سفیر۔
- ↑ "عراقی مزاحمتی گروہوں نے امریکی اڈوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی"، عصر ایران۔
- ↑ "عبوری رہبری کونسل کے ارکان کون ہیں؟"، نورنیوز۔
- ↑ "قم میں مجلس خبرگان کے دفتر پر امریکی-صہیونی مجرمان کا میزائل حملہ"، خبرگزاری تسنیم۔
- ↑ "مجلس خبرگان رہبری نے انقلاب اسلامی کے نئے رہبر کا تعین اور اعلان کیا"، دبیرخانہ مجلس خبرگان رہبری۔
- ↑ "امریکی مصنف: ایران کے عہدیداروں کے قتل نے اس ملک کے عوام میں مزید ہم آہنگی پیدا کی ہے"، خبرگزاری ایرنا؛ "ایران کے رہبر کے قتل کا الٹا نتیجہ نکلا اور ایرانیوں کی ملی وحدت کا سبب بنا"، خبرگزاری تسنیم۔
- ↑ "ایران کے رہبر کے قتل کا الٹا نتیجہ نکلا اور ایرانیوں کی ملی وحدت کا سبب بنا"، خبرگزاری تسنیم۔
- ↑ "سال کا شہیدِ شاخص متعین اور سال 1405 کے راہیان نور کا شعار اعلان کیا گیا"، پایگاه خبری سپاه پاسداران انقلاب اسلامی۔
- ↑ ہاشمی، انقلاب میں...، ص176۔
- ↑ قبادی، "6 تیر 1360 کے قتل کے واقعے کی رپورٹ"۔
- ↑ "انقلاب اسلامی کی فتح کے بعد 24 قتل کے واقعات کا جائزہ"، مرکز اسناد انقلاب اسلامی۔
- ↑ "آیت اللہ خامنہ ای کا ناکام قتل"، تبیان۔
مآخذ
- "شہید امام امت کے خون کے مطالبے میں عوام کا پرجوش اجتماع"، خبرگزاری صداوسیما، تاریخ درج مطلب: 13 اسفند 1404 ہجری شمسی (4 مارچ 2026ء)، تاریخ بازدید: 2 خرداد 1405 ہجری شمسی (23 مئی 2026ء)۔
- "ایران شہید رہبر کے سوگ میں؛ قائد امت کے اربعین پر عوام کا شاندار عزا+ویڈیو"، خبرگزاری تسنیم، تاریخ درج مطلب: 20 فروردین 1405 ہجری شمسی (9 اپریل 2026ء)، تاریخ بازدید: 2 خرداد 1405 ہجری شمسی (23 مئی 2026ء)۔
- "امام خامنہ ای کی شہادت پر ایران سوگوار؛ عوام نے قیام کیا+ویڈیو"، خبرگزاری تسنیم، تاریخ درج مطلب: 10 اسفند 1404 ہجری شمسی (1 مارچ 2026ء)، تاریخ بازدید: 2 خرداد 1405 ہجری شمسی (23 مئی 2026ء)۔
- "ایران متحد، شہید رہبر کے خون کا مطالبہ؛ جمعہ کی نماز میں عوام کا حماسی اجتماع"، خبرگزاری مہر، تاریخ درج مطلب: 15 اسفند 1404 ہجری شمسی (6 مارچ 2026ء)، تاریخ بازدید: 2 خرداد 1405 ہجری شمسی (23 مئی 2026ء)۔
- "یہ شہادت ہماری قوم کو عزیز امام خامنہ ای کے نورانی راستے پر مزید پختہ کر دے گی"، پایگاه خبری سپاه پاسداران انقلاب اسلامی، تاریخ درج مطلب: 10 اسفند 1404 ہجری شمسی (1 مارچ 2026ء)، تاریخ بازدید: 4 خرداد 1405 ہجری شمسی (25 مئی 2026ء)۔
- "پاکستانی: ہم رہبر معظم انقلاب اسلامی کی شہادت کے سوگ میں ایران کے شریک ہیں"، خبرگزاری جمہوری اسلامی، تاریخ درج مطلب: 11 اسفند 1404 ہجری شمسی (2 مارچ 2026ء)، تاریخ بازدید: 2 خرداد 1405 ہجری شمسی (23 مئی 2026ء)۔
- "رہبر معظم انقلاب اسلامی کی شہادت کے موقع پر آیت اللہ رمضانی کا تعزیتی پیغام"، وبگاه مجمع جهانی اهل بیت(ع)، تاریخ درج مطلب: 11 اسفند 1404 ہجری شمسی (2 مارچ 2026ء)، تاریخ بازدید: 2 خرداد 1405 ہجری شمسی (23 مئی 2026ء)۔
- "اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر معظم انقلاب کی شہادت پر مختلف ممالک کے عہدیداروں کے تعزیتی پیغامات"، خبرگزاری بین المللی تصویری ایران پرس، تاریخ درج مطلب: 10 اسفند 1404 ہجری شمسی (1 مارچ 2026ء)، تاریخ بازدید: 2 خرداد 1405 ہجری شمسی (23 مئی 2026ء)۔
- "رہبر انقلاب اسلامی کی شہادت پر مراجع تقلید، علماء اور شخصیات کے پیغامات"، خبرگزاری شفقنا، تاریخ درج مطلب: 10 اسفند 1404 ہجری شمسی (1 مارچ 2026ء)، تاریخ بازدید: 12 اسفند 1404 ہجری شمسی (3 مارچ 2026ء)۔
- "رہبر معظم انقلاب کی شہادت پر سیاسی و مذہبی شخصیات کے تعزیتی پیغامات"، نورنیوز، تاریخ درج مطلب: 11 اسفند 1404 ہجری شمسی (2 مارچ 2026ء)، تاریخ بازدید: 2 خرداد 1405 ہجری شمسی (23 مئی 2026ء)۔
- "آج پاکستان میں امریکہ مخالف مظاہروں میں 34 ہلاکتیں ہوئیں+ویڈیو"، خبرگزاری جمہوری اسلامی، تاریخ درج مطلب: 10 اسفند 1404 ہجری شمسی (1 مارچ 2026ء)، تاریخ بازدید: 2 خرداد 1405 ہجری شمسی (23 مئی 2026ء)۔
- "50 اسرائیلی جنگجو طیاروں کی طرف سے خامنہ ای کی زیرزمین پناہ گاہ پر وسیع حملے کی تفصیلات"، صدائے امریکہ، تاریخ درج مطلب: 15 اسفند 1404 ہجری شمسی (6 مارچ 2026ء)، تاریخ بازدید: 2 خرداد 1405 ہجری شمسی (23 مئی 2026ء)۔
- "امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ (28 فروری 2026 – تا حال)"، خبرگزاری اسپوتنیک، تاریخ درج مطلب: 20 اپریل 2026ء، تاریخ بازدید: 28 اردیبهشت 1405 ہجری شمسی (18 مئی 2026ء)۔
- "امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے رہبری اور کمانڈروں کے قتل کی وجوہات"، نورنیوز، تاریخ درج مطلب: 14 اسفند 1404 ہجری شمسی (5 مارچ 2026ء)، تاریخ بازدید: 2 خرداد 1405 ہجری شمسی (23 مئی 2026ء)۔
- "رہبر شہید انقلاب اسلامی کی شہادت کے چہلم کے موقع پر ملک بھر میں عوام کا پرجوش اجتماع"، خبرگزاری دانشجو، تاریخ درج مطلب: 20 فروردین 1405 ہجری شمسی (9 اپریل 2026ء)، تاریخ بازدید: 2 خرداد 1405 ہجری شمسی (23 مئی 2026ء)۔
- "ایران کے رہبر انقلاب کی شہادت کے بعد بغداد میں امریکی سفارت خانے کے ارد گرد جھڑپیں"، خبرگزاری ایسنا، تاریخ درج مطلب: 10 اسفند 1404 ہجری شمسی (1 مارچ 2026ء)، تاریخ بازدید: 2 خرداد 1405 ہجری شمسی (23 مئی 2026ء)۔
- "مجلس خبرگان رہبری نے انقلاب اسلامی کے نئے رہبر کا تعین اور اعلان کیا"، دبیرخانہ مجلس خبرگان رہبری، تاریخ درج مطلب: 18 اسفند 1404 ہجری شمسی (9 مارچ 2026ء)، تاریخ بازدید: 18 فروردین 1405 ہجری شمسی (7 اپریل 2026ء)۔
- "رہبر شہید انقلاب اسلامی کی شہادت کے چہلم کے موقع پر ملک بھر میں سوگواری"، خبرگزاری مہر، تاریخ درج مطلب: 20 فروردین 1405 ہجری شمسی (9 اپریل 2026ء)، تاریخ بازدید: 2 خرداد 1405 ہجری شمسی (23 مئی 2026ء)۔
- "علی خامنہ ای، رہبر ایران مارا گیا"، یورونیوز، تاریخ درج مطلب: 28 فروری 2026ء، تاریخ بازدید: 30 اردیبهشت 1405 ہجری شمسی (20 مئی 2026ء)۔
- "آپریشن پيدائش میں خامنہ ای کی حیرت؛ اسلامی جمہوریہ کے رہبر کو قتل کرنے کے حملے کی نئی تفصیلات"، یورونیوز، تاریخ درج مطلب: 4 مارچ 2026ء، تاریخ بازدید: 2 خرداد 1405 ہجری شمسی (23 مئی 2026ء)۔
- "ویڈیو/ شہید رہبر انقلاب کے لیے عراقیوں کی عزاداری کی تقریبات کا سلسلہ جاری"، خبرگزاری مشرق، تاریخ درج مطلب: 16 اسفند 1404 ہجری شمسی (7 مارچ 2026ء)، تاریخ بازدید: 2 خرداد 1405 ہجری شمسی (23 مئی 2026ء)۔
- "ویڈیو/ کاظمین میں شہید رہبر انقلاب کا مجازی جنازہ"، خبرگزاری مشرق، تاریخ درج مطلب: 11 اسفند 1404 ہجری شمسی (2 مارچ 2026ء)، تاریخ بازدید: 2 خرداد 1405 ہجری شمسی (23 مئی 2026ء)۔
- "ویڈیو| عراق کے ذی قار میں شہید امام خامنہ ای کا شاندار عزا اور مجازی جنازہ"، خبرگزاری رسمی حوزہ، تاریخ درج مطلب: 12 اسفند 1404 ہجری شمسی (3 مارچ 2026ء)، تاریخ بازدید: 2 خرداد 1405 ہجری شمسی (23 مئی 2026ء)۔
- "علی خامنہ ای، رہبر ایران، امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں مارا گیا"، TRT فارسی، تاریخ درج مطلب: 1 مارچ 2026ء، تاریخ بازدید: 30 اردیبهشت 1405 ہجری شمسی (20 مئی 2026ء)۔
- "ترکی کے دیار بکر میں شہید امام خامنہ ای کی غائبانہ نماز جنازہ+ویڈیو"، خبرگزاری دانشجو، تاریخ درج مطلب: 16 اسفند 1404 ہجری شمسی (7 مارچ 2026ء)، تاریخ بازدید: 2 خرداد 1405 ہجری شمسی (23 مئی 2026ء)۔
- "رہبر انقلاب کی شہادت پر پاکستانی شخصیات کا ردعمل"، پایگاه تخصصی تحلیلی جامعه و فرهنگ ملل، تاریخ درج مطلب: 9 فروردین 1405 ہجری شمسی (29 مارچ 2026ء)، تاریخ بازدید: 2 خرداد 1405 ہجری شمسی (23 مئی 2026ء)۔
- "اسرائیل کے وزیر جنگ نے رہبر انقلاب کو قتل کی دھمکی دی"، خبرگزاری تحولات جهان اسلام، تاریخ درج مطلب: 6 مرداد 1404 ہجری شمسی (28 جولائی 2025ء)، تاریخ بازدید: 14 اسفند 1404 ہجری شمسی (5 مارچ 2026ء)۔
- "ویڈیو | حرم مطہر امیرالمؤمنین (ع) میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کے مجازی جنازے کی تشییع"، خبرگزاری ابنا، تاریخ درج مطلب: 14 اسفند 1404 ہجری شمسی (5 مارچ 2026ء)، تاریخ بازدید: 2 خرداد 1405 ہجری شمسی (23 مئی 2026ء)۔
- "جامو و کشمیر میں چالیس روزہ سوگ"، خبرگزاری بین المللی قدس، تاریخ درج مطلب: 10 اسفند 1404 ہجری شمسی (1 مارچ 2026ء)، تاریخ بازدید: 2 خرداد 1405 ہجری شمسی (23 مئی 2026ء)۔
- "رپورٹ: نادر موقع ملنے پر خامنہ ای کے محل پر 30 بم گرائے گئے"، The Times Of Israel، تاریخ اشاعت: 1 مارچ 2026ء، تاریخ بازدید: 23 مئی 2026ء۔
- "امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران کے خامنہ ای کے قتل پر عالمی ردعمل"، Al Jazeera Media Network، تاریخ اشاعت: 1 مارچ 2026ء، تاریخ بازدید: 20 اپریل 2026ء۔