طوفان الاقصی

ویکی شیعہ سے
طوفان الاقصی
اسرائیل اور فلسطین کے مابین تنازعہ
تاریخ7، اکتوبر2023ء سے
مقاماسرائیل کے زیر قبضہ سرزمین
علل و اسبابفلسطین کی آزادی
سپہ سالار 1محمد ضیف
سپہ سالار 2اسرائیلی فوج
فوج 1حماس
فوج 2اسرائیل
نقصان 1اب تک 1400 سے زیادہ اسرائیلی ہلاک اور 3000 زخمی
نقصان 2اب تک 23843اہالیان غزہ شہید اور 60317 سے زیادہ زخمی تا 13 جنوری 2024ء


طوفانُ الْاَقصیٰ غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے درمیانی سرحدی علاقوں میں اسرائیل کے خلاف حماس کے فوجی آپریشن کا نام ہے۔ یہ آپریشن مورخہ7 اکتوبر 2023ء کو شروع ہوا اور کئی دنوں تک جاری رہا۔ ان حملوں کا پس منظر یہ ہے کہ حماس کے مجاہدین نے صیہونی حکومت کے مسلسل قبضے کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلے اسرائیلی مقبوضہ علاقوں پر راکٹ حملے کیے اور پھر زمینی راستے سے ان علاقوں میں داخل ہوئے۔ اس حملے کے نتیجے میں اب تک 1400 سے زائد اسرائیلی ہلاک اور 3000 زخمی ہوئے۔ عالمی طور پر حماس کے اس حملے کو اسرائیل کی بے سابقہ ناکامی کا سبب قرار دیا گیا۔ اس حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر حملہ کیا ان حملوں میں 13 جنوری 2024ء تک اہالیان غزہ میں سے 23843 سے زائد افراد شہید اور 60317 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ غزہ میں شہریوں کے قتل عام اور اسرائیل کی جانب سے رہائشی علاقوں پر اندھا دھند بمباری سے دنیا کی مختلف جگہوں سے ردعمل سامنے آرہا ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی ایران و مرجع تقلید عالم تشیع آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور دیگر شیعہ مجتہدین نے غزہ کے مظلوم عوام کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

اہمیت اور اہداف

اکتوبر 2023ء کو حماس کی فورسز نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کے خلاف الاقصی طوفان کے نام سے ایک فوجی آپریشن کا آغاز کیا۔ اسرائیلی میڈیا نے اس آپریشن کو تاریخ میں ایک منفرد فوجی آپریشن اور صیہونی حکومت کی بہت بڑی شکست قرار دیا۔ [1] اس کے علاوہ بعض ذرائع ابلاغ نے حماس کے گرفتار مجاہدین کے حوالے سے کہا ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی ایک سال قبل کی گئی تھی۔[2]

طوفان الاقصیٰ حملے کے محرکات

حماس کے اس حملے کا محرک فلسطین کی آزادی، مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل کے قبضے سے نکالنا اور اسرائیل کی طرف سے انسانی حقوق کی بار بار خلاف ورزیوں کا مقابلہ کرنا ہے۔[3] حماس کے حامی میڈیا کا بھی یہی کہنا ہے کہ حماس کی جانب سے اس حملے کی وجوہات فلسطینیوں کے قتل عام، مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی، اس کے محافظوں پر ظلم و تعدی، فلسطینیوں پر صیہونی آباد کاروں کے حملے کی حمایت کرنے جیسے اسرائیل کے مسلسل جرائم کا ردعمل ہے۔[4] اس حملے کے تیسرے دن حماس کے فوجی کمانڈر نے طوفان الاقصیٰ آپریشن کی وجوہات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ صہیونیوں کی طرف سے مسلمانوں کے مقدسات کی مسلسل توہین، فلسطینی مسلمانوں پر ظلم و تعدی اور فلسطینی سرزمین پر صیہونیوں کے غیر قانونی قبضے کے رد عمل میں یہ حملہ کیا گیا ہے.[5]

یہ مصیبت صہیونیوں نے ہی اپنے اوپر لایا ہے۔ جب ظلم اور جنایت انتہا کو پہنچ جاتی ہے، جب درندگی انتہا کو پہنچ گئی تو پھر طوفان کا انتظار کرنا ہوگا... فلسطینوں کا بہادری اور جانثاری کا اقدام، غاصب دشمن کے سالہا سال سے جاری ظلم و بربریت کا جواب تھا اور آخری مہینوں میں شدت آگئی تھی؛ اس کی ذمہ دار غاصب صہیونی حکومت وقت ہے۔[6]

آپریشن کا آغاز

7 اکتوبر 2023ء کو غزہ کی پٹی پر تعینات حماس کے مجاہدین نے ایک غیر متوقع منصوبہ بندی پر عمل کرتے ہوئے اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں پر حملہ کیا۔ اس حملے کے ابتدائی لمحات میں مقبوضہ علاقوں کی جانب 5000 راکٹ فائر کیے گئے جس کے بعد حماس کے مجاہدین نے غزہ کی پٹی اور مقبوضہ علاقوں کے درمیان حائل رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے دیواریں عبور کیں اور وہاں سے صہیونی بستیوں پر زمینی حملہ کیا۔[7] آپریشن کا آغاز قسام بٹالین کے کمانڈر محمد ضیف کے حکم سے ہوا۔حملے کے ابتدائی اوقات میں صیہونی شہریوں اور فوجیوں کے ایک گروہ کو حماس نے گرفتار کر لیا اور انہیں قیدیوں کے طور پر غزہ منتقل کیے گئے۔ شدید حملوں کے آغاز کے ساتھ ہی صیہونی حکومت کے وزیر جنگ نے ہنگامی حالت کا اعلان کردیا۔[8]حماس کی جانب سے اس حملے میں حصہ لینے والی فورسز کی تعداد تقریباً 1000 افراد پر مشتمل ہے اور مقبوضہ علاقوں میں داخل ہونے والے آپریشنل پوائنٹس کی تعداد 15 ہے۔[9] اسرائیل کے اعداد و شمار کے مطابق مقبوضہ علاقوں پر حماس کے حملے کے آغاز کے 12ویں دن تک 1400 اسرائیلی ہلاک اور 3500 زخمی ہو چکے ہیں۔[10]

رد عمل

انٹونیو گوٹیرش، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ:

«یہ بات بہت اہم ہے کہ ہم سب کو معلوم ہونا چاہئے کہ حماس کے حملے ویسے ہی نہیں ہوئے ہیں۔ فلسطینی 56 سالوں سے قبضے میں جہاں سانس لینا دشوار ہے۔ ان کی زمینوں نئی بستیاں آباد کرکے چھینا جارہا ہے اور سختیاں جھیل رہے ہیں۔ ان کا اقتصاد تباہ ہوچکا ہے؛ لوگ بےگھر ہوئے ہیں۔ اب سیاسی راہ حل سے نامید ہوچکے تھے۔»[11]

اس آپریشن کی خبر میڈیا پر منتشر ہونے کے بعد مختلف ممالک جیسے ایران،[12] افغانستان،[13] اور عراق[14] کے مسلمانوں نے اسلامی مقاومتی بلاک کی فتح پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے جشن منایا۔ جمہوری اسلامی ایران[15]اور لبنان کی حزب اللہ نے حماس کے اس حملے کی حمایت کا اعلان کیا۔[16]عالم تشیع کے رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اس آپریشن کو اسرائیل کے لیے ناقابل تلافی ناکامی قرار دیا۔[17] حوزہ علمیہ قم کے مدیر علی رضا اعرافی نے اس حملے کو اسلامی دنیا میں ایک بڑی تبدیلی کا اہم پیش خیمہ قرار دیا۔ [18]

امریکہ نے اسرائیل کی امداد کے سلسلے میں اپنے طیارہ بردار بحری جہاز کو اس علاقے میں بھیجا۔[19]

غزہ پر اسرائل کے حملے میں شہریوں کا قتل عام

اسرائیل کی طرف سے غزہ پر حملہ کے بعد یہاں کی تباہ کاریوں کا منظر

حماس کے طوفان الاقصی نامی حملے کے بعد اسرائیلیوں نے جوابی حملوں میں غزہ کی پٹی میں رہائشی اور فوجی علاقوں پر حملہ کیا۔ پانی اور بجلی منقطع کرنا، رہائشی علاقوں پر بمباری، شہریوں، خواتین اور بچوں کو ہلاک کرنا، طبی عملے اور ہسپتالوں پر بمباری اور ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال ایسے اقدامات ہیں جو اسرائیل نے حماس کے مجاہدین کے ساتھ محاذ آرائی کے دوران سرانجام دیے ہیں۔ اسرائیل کے اس غیر انسانی اقدامات پر مختلف ممالک نے شدید تنقید کی ہے۔[20] اسرائیلی فوج نے غزہ کے عوام سے مقررہ وقت تک غزہ کے شمالی علاقے کو خالی کرانے کا اعلان کیا ہے اور اس اقدام کی انسانی حقوق کے اداروں نے مخالفت کی ہے۔[21]

ایک رپورٹ کے مطابق 13 جنوری 2024ء تک اسرائیل کے غزہ پر کئے جانے والے حملوں میں شہدا کی تعداد 23843 اور زخمیوں کی تعداد 60317 سے تجاوز کر گئی ہے۔[22] ان میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔[23] همچنین در این مدت، ارتش اسرائیل بیش از ۵۲ تن مواد منفجره در نوار غزه پرتاب کرده و بیش از ۳۰۵۰۰۰ واحد مسکونی را تخریب کرده و بیش از یک میلیون و ۵۰۰ هزار نفر آواره شده‌اند.[24] صرف المعمدانی ہسپتال پر کئے جانے والے ایک ہی حملے میں 500 سویلین مارے گئے ہیں۔ حملے کے دوران ہسپتال زخمیوں سے بھرا ہوا تھا۔[25]

مزید معلومات کے لئے دیکھئے: معمدانی ہسپتال کا قتل عام

عارضی جنگ بندی

46 دن کے بعد نومبر 2023ء کو قطر اور مصر کی میانجگری پر فلسطین اور اسرائیل کے مابین عارضی طور پر جنگ بندی ہوئی۔ دونوں ممالک اس بات کے پابند ہوئے کہ 24 نومبر سے چار دن تک جنگ روک دی جائے گی اور اسرائیل کے حماس کے ہاتھوں 50 قیدیوں کے بدلے اسرائیل 150 فلسطینی قیدی رہا کرے گا اور انسانی ہمدردی کے تحت کئے جانے والے امدادی سامان کو غزہ پٹی تک پہنچنے میں رکاوٹ نہ کرنا اس مفاہمت کا حصہ تھا۔[26]

سیاسی، اقتصادی اور امنیتی نتائج

طوفان الاقصی کے سیاسی، امنیتی اور اقتصادی آثار و نتائج میں سے بعض درج ذیل ہیں:

لندن میں طوفان الاقصی کی حمایت اور اسرائیل کے خلاف «آزادی فلسطین» کے نعروں کے ساتھ احتجاجی مظاہرے

شیعہ علما او مراجع تقلید کا رد عمل

مرجع اور رہبر عالم تشیع آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ایک خطاب میں جبکہ نجف اشرف میں مقیم شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ سید علی سیستانی نے اپنے ایک بیانیے میں غزہ پر اسرائیلی فوج کے حملے کی مذمت کی۔ دیگر مراجع تقلید نوری ہمدانی، مکارم شیرازی، جعفر سبحانی اور جوادی آملی نے بھی اس حملے کی مذمت کی اور فلسطینیوں کی حمایت کی۔[27] آیت اللہ سید خامنہ ای نے اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام کو کھلی نسل کشی قرار دیتے ہوئے صیہونی حکومت کو عالمی عدالت میں پیش کیے جانے اور غزہ پر بمباری کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا۔[28]

مختلف ممالک میں احتجاج کا سلسلہ

غزہ پر صیہونی حکومت کے حملوں کے بعد عالم اسلام کے مختلف مقامات اور غیر مسلم ممالک میں بھی غزہ میں قتل عام پر اسرائیلی فوج کے خلاف احتجاجی جلوس نکالے گئے۔ ترکی، ایران، ملائیشیا، آسٹریلیا، انگلینڈ اور امریکہ وہ ممالک ہیں جہاں اسلامی مقاومتی بلاک کی حمایت میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔[29]

غزہ کے المعمدانی ہسپتال پر اسرائیلی دہشت گردانہ حملوں کے شہداء کے درمیان غزہ کی وزارت صحت کی پریس کانفرنس

اسرائیل کی اقتصادی منڈیاں زوال کا شکار

طوفان الاقصیٰ شروع ہونے کے بعد سے پانچویں دن تک جاری رہنے کے بعد فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں مقیم غیر ملکی شہری اس سرزمین کو چھوڑ کر چلے گئے۔[30]‌ اسٹاک مارکیٹ میں زبردست کمی، کرنسی کی قدر میں کمی، شرح سود میں اضافہ اور بین الاقوامی برادری میں اسرائیل کی کریڈٹ ریٹنگ کی کمزوری وغیرہ اس حملے کے منفی نتائج ہیں۔ اس حملے کے طویل المدتی نتائج یہ ہوسکتے ہیں کہ اسرائیل میں سرمایہ کاری کی مقدار میں کمی آئی آئے گی۔[31]

سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی معطلی

بعض اطلاعات کے مطابق الاقصیٰ آپریشن کے بعد سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل معطل کر دیا ہے۔[32]

جنوبی لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپ

حماس کی طرف سے حملے کے دوسرے دن لبنانی حزب اللہ نے بھی ایک پیغام میں اس آپریشن کی حمایت کی اور دعویٰ کیا کہ اس نے صہیونی فوج کے تین ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے۔[33] اس کے علاوہ، طوفان الاقصیٰ کے تیسرے دن، لبنان کی حزب اللہ نے اسرائیل کے ہاتھوں اس کی چند فوجیوں کی ہلاکت کے جواب میں دو صیہونی ٹھکانوں پر راکٹوں اور مارٹروں سے حملہ کیا۔[34]‌‌

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. «دهمین روز از عملیات "طوفان الاقصی"»، شبکه العالم.
  2. «بازنده اصلی عملیات «طوفان الاقصی» کیست؟»، خبرگزاری دنیای اقتصاد.
  3. «طوفان الاقصی نقطه عطف زوال قطعی رژیم صهیونیستی است»، مرکز پژوهش‌های مجلس شورای اسلامی.
  4. «دهمین روز از عملیات "طوفان الاقصی"»، شبکه العالم.
  5. «لحظه به لحظه با سومین روز از عملیات طوفان الاقصی»، خبرگزاری العالم.
  6. «مراسم مشترک دانش‌آموختگی دانشجویان دانشگاه‌های افسری نیروهای مسلح»، دفتر و حفظ و نشر آثار آیت‌الله خامنه‌ای.
  7. «دهمین روز از عملیات طوفان الاقصی»، شبکه العالم.
  8. «لحظه به لحظه با عملیات توفان الاقصی»، شبکه العالم.
  9. «بازنده اصلی عملیات «طوفان الاقصی» کیست؟»، خبرگزاری دنیای اقتصاد.
  10. «دوازدهمین روز از عملیات طوفان الاقصی»، شبکه العالم؛ «Palestinian health minister says 3,478 killed in Gaza; Israeli government says 1,400 killed in Israel»، nbcnews.
  11. «گوترش: جنگ هم دارای قوانینی است»، خبرگزاری آنادولو.
  12. ملاحطہ کیجیے: «شادی مردم تهران در پی پیروزی مقاومت فلسطین در عملیات طوفان الاقصی»، خبرگزاری ایرنا.
  13. «شادی مردم افغانستان پس از عملیات طوفان الاقصی»]، خبرگزاری مهر.
  14. «تصویر اولین جشن عملیات طوفان الاقصی| کارناوال‌های شادی به راه افتادند»، همشهری‌آنلاین.
  15. «تهران به پشتیبانی همه‌جانبه از مقاومت فلسطین ادامه می‌دهد حمایت ایران از «طوفان‌الاقصی»»، سایت روزنامه دنیای اقتصاد.
  16. «لحظه به لحظه با دومین روز از عملیات طوفان الاقصی]»، شبکه العالم.
  17. «مراسم مشترک دانش‌آموختگی دانشجویان دانشگاه‌های افسری نیروهای مسلح»، دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت‌الله العظمی خامنه‌ای.
  18. «عملیات طوفان الاقصی سرآغاز تحولات بزرگی در جهان اسلام و منطقه است»، شورای نگهبان.
  19. «لحظه به لحظه با پنجمین روز از عملیات "طوفان الاقصی"»، خبرگزاری العالم.
  20. «دهمین روز از عملیات "طوفان الاقصی"»، شبکه العالم.
  21. «هشتمین روز از عملیات "طوفان الاقصی"»، خبرگزاری العالم.
  22. آمار جدید شهدا و مجروحان حمله های رژیم صهیونیستی به غزه، خبرگزاری دانشجو.
  23. «الاحتلال يواصل تصعيده بالضفة ويعتقل عددا من الفلسطينيين»، خبرگزاری الجزیره.
  24. «إسرائيل دمرت أكثر من 305 آلاف منزل في غزة»
  25. «دوازدهمین روز از عملیات طوفان الاقصی»، شبکه العالم.
  26. «الهدنة الإنسانية المؤقتة في غزة 2023.. بنودها وتفاصيلها»، الجزیره.
  27. «واکنش مراجع عظام تقلید به جنایات رژیم صهیونیستی»، خبرگزاری مشرق.
  28. «دیدار نخبگان و استعدادهای برتر علمی با رهبر انقلاب»، دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت‌الله العظمی خامنه‌ای.
  29. «نهمین روز از عملیات "طوفان الاقصی"»، شبکه العالم.
  30. «لحظه به لحظه با پنجمین روز از عملیات "طوفان الاقصی"»، شبکه العالم.
  31. «بازنده اصلی عملیات «طوفان الاقصی» کیست؟»، خبرگزاری دنیای اقتصاد.
  32. «منبع نزدیک به دولت عربستان: ریاض مذاکرات عادی‌سازی با اسرائیل را تعلیق کرد»، خبرگزاری تسنیم.
  33. «لحظه به لحظه با دومین روز از عملیات طوفان الاقصی]»، شبکه العالم.
  34. «لحظه به لحظه با سومین روز از عملیات طوفان الاقصی»، خبرگزاری العالم.

مآخذ