اجازہ اجتہاد

اجازہ اجتہاد، فقہی استنباط کی صلاحیت کی گواہی کو کہا جاتا ہے جو دینی متون سے شرعی احکام اخذ کرنے کی قدرت کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ اجازت عام طور پر حوزہ ہائے علمیہ کے ممتاز اساتذہ، جو خود مجتہد سمجھے جاتے ہیں، اپنے ان شاگردوں کو عطا کرتے ہیں جو اجتہاد کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ یہ گواہی تحریری یا زبانی طور پر صادر کی جا سکتی ہے اور یہ یا تو اجتہادِ مطلق کی تصدیق کرتی ہے یا اجتہادِ تجزی (جزوی اجتہاد) کی۔
وجہ تسمیہ اور اہمیت
حالیہ صدیوں میں یہ رواج پیدا ہوا کہ جب کوئی دینی طالبِ علم فقہ میں کسی بلند علمی مقام تک پہنچ جاتا تو اس کے اساتذہ اس کے لیے تصدیق نامہ جاری کرتے، جو زیادہ تر تحریری اور بعض اوقات زبانی ہوا کرتا تھا، تاکہ اس کے درجۂ اجتہاد کو ثابت کیا جا سکے۔ اس تصدیق کو "اجازہ اجتہاد" کہا جاتا ہے۔[1] شیعہ تاریخ کے محقق رسول جعفریان کے مطابق اجازہ اجتہاد کا رواج تیرہویں اور چودہویں صدی ہجری میں عام ہوا، جب اجتہاد کا تصور زیادہ منظم اور سنجیدہ انداز میں پیش کیا گیا۔ ان کے بقول، اجازہ اجتہاد کا اجرا اُن مجتہدین کی تصدیق اور مقبولیت کے لیے ہوتا تھا جو نجف اور کربلا سے دیگر شہروں کی طرف بھیجے جاتے تھے۔[2]
شیعہ حوزہ ہائے علمیہ میں اس قسم کی اجازوں کا اجرا ایک عام امر تھا اور کسی کے پاس متعدد اجازت ناموں کا ہونا، خاص طور پر اگر وہ بڑے فقہاء سے حاصل کیے گئے ہوں، اس کی عملی مہارت کا ثبوت سمجھا جاتا تھا۔ مثلاً، آیت اللہ بروجردی کے حالاتِ زندگی میں آیا ہے کہ جب وہ اصفہان میں مقیم تھے، تو 28 سال کی عمر میں انہیں تین مشہور اساتذہ سے اجازہ اجتہاد ملی۔[3]
بعض فقہاء اجتہاد کی اجازت دینے میں زیادہ سختی سے کام لیتے تھے، مثلاً مشہور ہے کہ شیخ انصاری کسی کو اجتہاد کی اجازت نہیں دیا کرتے تھے،[4] جبکہ شیخ حسین حلی نے بھی صرف سید علی سیستانی کو اجتہادِ مطلق کی اجازت دی ہے۔[5]
اجتہاد اور اس کی اقسام
اجتہاد ایک فقہی اصطلاح ہے جس کا مطلب شرعی احکام کو مخصوص اصول و قواعد کی روشنی میں دینی مصادر سے اخذ کرنا ہے۔ یعنی "دلائل اور اصولوں سے شرعی احکام و عملی فرائض کا استنباط"۔ جو شخص اس درجے تک پہنچ جاتا ہے، اسے مجتہد کہا جاتا ہے۔ اجتہاد کے لیے دینی و ادبی علوم کی متعدد شاخوں میں مہارت ضروری ہوتی ہے۔ دینی طلاب اس مقام تک پہنچنے کے لیے سالہا سال عربی زبان و ادب، اصول فقہ، منطق، آیات الاحکام، رجال و درایہ، فقہ، سابقہ فقہاء کے نظریات، تفسیرِ قرآن اور دیگر متعلقہ علوم کا عمومی اور تخصصی (دروسِ خارج) طور پر مطالعہ کرتے ہیں۔ ایسا مجتہد جو فقہ کے تمام ابواب میں رائے رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور ادلہ اربعہ (قرآن، سنت، عقل اور اجماع) سے تمام ابواب میں شرعی احکام اخذ کر سکے، اسے مجتہدِ مطلق کہا جاتا ہے، اور اگر وہ تمام شرائطِ اجتہاد پر پورا اترے، تو اسے مجتہد جامع الشرائط کہتے ہیں۔[6] اس کے برعکس، وہ مجتہد جو صرف بعض فقہی ابواب میں احکام استنباط کر سکے، مجتہد متجزی کہلاتا ہے۔[7]
حوالہ جات
- ↑ جمعی از مؤلفان، دائرۃ المعارف بزرگ اسلامی، 1373شمسی، ج6، ص610۔
- ↑ جعفریان، «یک اجازہنامہ با امضای سہ مرجع تقلید»، ص22۔
- ↑ بروجردی، منابع فقہ شیعہ، 1429ھ، ج24، ص41۔
- ↑ جناتی، ادوار فقہ شیعہ و کیفیت بیان آن، 1357شمسی، ص329۔
- ↑ «زندگینامہ آیتاللہ سیستانی»، سایت رسمی دفتر آیتاللہ سیستانی ۔
- ↑ شیخ انصاری، مکاسب المحرمہ (محشی)، 1410ھ، ج1، ص107۔
- ↑ شیخ انصاری، مکاسب المحرمہ (محشی)، 1410ق، ج1، ص108۔
مآخذ
- انصاری، مرتضی، مکاسب محرمہ (مُحَشّی)، شرح: سید محمد کلانتر، قم: دار الکتاب، 1410ھ۔
- بروجردی، حسین، منابع فقہ شیعہ، تہران: فرہنگ سبز، تہران، 1429ھ۔
- جناتی، محمدابراہیم، أدوار فقہ شیعہ و کیفیت بیان آن، بیجا، 1357ش۔
- جمعی از مؤلفان، مجلہ فقہ اہل بیت(ع)، شمارہ 19-20، ص177۔
- جمعی از مؤلفان، دائرۃ المعارف بزرگ اسلامی، تہران: مرکز دائرۃ المعارف بزرگ اسلامی، چاپ اول، 1373ش۔
- سبزواری، سید عبدالأعلی، مہذب الاحکام، قم: مؤسسہ المنار، 1413ھ۔
- فاضل لنکرانی، محمد، جامع المسائل، ج2، ص67، قم: امیر قلم۔
- جعفریان، رسول، «یک اجازہنامہ با امضای سہ مرجع تقلید»، پیام بہارستان، ش1و2، زمستان 1387ش۔