مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:یوم الآزفہ

ویکی شیعہ سے

یَوْمُ الْآزِفَۃ (قریب آنے والا دن)،[1] قرآن میں قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔[2] یہ نام سورہ غافر آیت نمبر 18 میں آیا ہے: وَأَنذِرْہُمْ يَوْمَ الْآزِفَۃِ إِذِ الْقُلُوبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كَاظِمِينَ ‎﴿18﴾‏ ’’اور لوگوں کو اس دن (قیامت) سے ڈرائیے جو قریب آنے والا ہے جس دن کلیجے منہ کو آرہے ہونگے (اور) وہ غم و غصہ سے بھرے ہوئے ہوں گے۔‘‘[3] لفظ «آزِفَۃ» مادۂ «اَزِفَ» سے مشتق ہے جس کے معنی ’’قریب آنا‘‘ یا ’’نزدیک ہونا‘‘ ہیں،[4] اور یہ لفظ سورہ نجم آیت نمبر 57 میں بھی استعمال ہوا ہے۔[5]

قیامت کو اس کے یقینی اور حتمی الوقوع ہونے کی بنا پر[6] ’’یوم الآزفۃ‘‘ کہا گیا ہے؛[7] اگرچہ انسان اسے دور سمجھتے ہیں۔[8] شیعہ مفسر اور فقیہ آیت اللہ مکارم شیرازی کے مطابق یہ تعبیر قیامت کے قریب ہونے پر تاکید اور اس گمان کی نفی کے لئے ہے کہ قیامت کا وقوع بہت دور ہے اور اس کے لئے آمادگی کی ضرورت نہیں۔[9] ان کے بقول اگر دنیا کی محدود زندگی کا موازنہ آخرت کی ابدی اور دائمی زندگی سے کیا جائے تو دنیا ایک مختصر اور گزر جانے والے لمحے کے سوا کچھ نہیں، اسی لیے قیامت کو ’’قریب‘‘ قرار دیا گیا ہے۔[10] آیت اللہ مکارم شیرازی کے مطابق قیامت کے وقوع کا وقت حتیٰ کہ انبیاء پر بھی آشکار نہیں کیا گیا؛ لہٰذا انسان کو ہمیشہ اس دن کے لئے آمادہ رہنا چاہئے۔[11]

حوالہ جات

  1. امامی، لغات در تفسیر نمونہ، 1387ش، ص10۔
  2. طبرسی، مجمع البیان، 1415ق، ج8، ص433؛ طباطبائی، المیزان، اسماعیلیان، ج17، ص319۔
  3. امامی، لغات در تفسیر نمونہ، 1387ش، ص10۔
  4. امامی، لغات در تفسیر نمونہ، 1387ش، ص10۔
  5. ملاحظہ ہو: طباطبائی، المیزان، اسماعیلیان، ج19، ص51۔
  6. ابن عاشور، التحریر والتنویر، 1984م، ج27، ص159۔
  7. مراغی، تفسیر المراغی، دار إحیاء التراث العربی، ج24، ص56۔
  8. خطیب، التفسیر القرآنی للقرآن، دار الفکر العربی، ج14، ص624۔
  9. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1347ش، ج20، ص63۔
  10. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1347ش، ج20، ص63۔
  11. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1347ش، ج20، ص63۔

مآخذ

  • ابن عاشور، محمد الطاہر بن محمد، التحریر والتنویر، تونس، الدار التونسیۃ للنشر، 1984ء۔
  • امامی، محمد جعفر، لغات در تفسیر نمونہ، قم، امام علی بن ابی طالب(ع)، 1387ہجری شمسی۔
  • خطیب، عبدالکریم، التفسیر القرآنی للقرآن، قاہرہ، دار الفکر العربی، بے تا۔
  • طباطبایی، محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، اسماعیلیان، بے تا۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان، تحقیق: لجنۃ من العلماء والمحققین الأخصائیین، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، پہلی اشاعت، 1415ھ۔
  • مراغی، أحمد مصطفى، تفسیر المراغی، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، بے تا۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ ، بتّیسویں اشاعت، 1347ہجری شمسی۔