مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:آیت شقاق

ویکی شیعہ سے
آیت شقاق
آیت کی خصوصیات
آیت کا نامآیتشقاق
سورہسورہ نساء
آیت نمبر35
پارہ5
محل نزولمدینہ
موضوعفقہی-عائلی
مضمونزوجین کے مابین اختلافات کے حل کا طریقہ کار


آیت شِقاق سورہ نساء کی 35ویں آیت ہے اور آیات الاحکام میں سے شمار ہوتی ہے۔ یہ آیت میاں بیوی کے درمیان اختلاف کو حل کرنے کے لیے دو ثالث (حَکَم) مقرر کرنے کی تجویز دیتی ہے، ایک مرد کے خاندان سے اور دوسری عورت کے خاندان سے۔ فقہاء نے آیت کے ظاہری مفہوم سے استدلال کرتے ہوئے ثالثوں کے فیصلے پر عمل درآمد کو لازمی قرار دیا ہے؛ تاہم کہا گیا ہے کہ حتمی طور پر طلاق کا انحصار میاں بیوی کی رضامندی پر ہے۔

تاریخی ماخذ کے مطابق، امام علیؑ نے جنگ صفین میں حَکَمِیّت کو قبول کرنے کے بعد، ثالثی کے اصولوں کی شرعی حیثیت ثابت کرنے کے لیے خوارج کے سامنے اسی آیت سے استدلال کیا۔

ثالثی، میاں بیوی کے اختلاف حل کرنے کا طریقہ کار

آیت شقاق یا سورہ نساء کی آیت 35،[1] آیات الاحکام[2] اورقرآن کی مدنی آیات میں سے ہے۔[3] یہ آیت، عورت کی نافرمانی (نشوز) سے متعلق آیت کے بعد،[4] میاں بیوی کے درمیان اختلاف پر بحث کرتی ہے۔[5] اس آیت کی رو سے، جب میاں بیوی میں ناچاقی اور جدائی کا اندیشہ ہو، تو ایک مرد کے خاندان سے ایک ثالث اور عورت کے خاندان سے ایک ثالث کو منتخب کیا جانا چاہیے تاکہ وہ اختلاف کی وجہ جانچیں اور تعلقات کی اصلاح کے لیے اقدام کریں۔[6] مفسرین[7] اور فقہاء،[8] نے آیت کے مخاطب کو حاکم شرع یا عدالتی نظام کا نمائندہ قرار دیا ہے اور ثالثوں کے تقرر کو انہی کی ذمہ داری سمجھا ہے۔[9]

وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا إِن يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا ‎﴿٣٥﴾‏


اور اگر تمہیں دونوں (میاں بیوی) کی ناچاقی کا خوف دامنگیر ہو تو ایک ثالث مرد کے کنبے سے اور ایک ثالث عورت کے کنبے سے مقرر کرو۔ اگر دونوں اصلاح کا ارادہ کریں گے تو خدا ان دونوں میں موافقت پیدا کر دے گا۔ بے شک اللہ بڑا جاننے والا بڑا باخبر ہے۔



سورہ نساء: آیت 35

ازدواجی تنازعات کے حل میں رشتہ داروں کی ثالثی کے فوائد

ازدواجی تنازعات کے حل کے لیے رشتہ داروں کی ثالثی کو اس لیے مؤثر سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ عائلی اور خاندانی حالات سے واقف ہوتے ہیں، اصلاح کے لیے ان کا جذبہ زیادہ ہوتا ہے، رازداری برقرار رہتی ہے، کشیدگی میں کمی آتی ہے اور عدالتی کارروائی کے مقابلے میں یہ تیز تر اور کم خرچ ہوتی ہے۔[10]

فقہی اور تاریخی استنادات

آیت شقاق کا ذکر فقہی منابع میں عموماً نکاح کے باب میں اور نشوز و شقاق کے مباحث کے تحت آیا ہے۔[11] بعض مصنفین نے لوگوں کے درمیان صلح کرانے کی اہمیت بیان کرنے کے لیے بھی اس آیت سے استناد کیا ہے۔[12]

فقہاء کی مشہور رائے،[13] جن میں شیخ طوسی،[14] علامہ حلی[15] اور شہید ثانی[16] شامل ہیں، آیت کے ظاہری مفہوم سے استدلال کرتے ہوئے یہ ہے کہ ثالث (حَکَم) کا کردار فیصلہ کن ہوتا ہے اور ان کا فیصلہ لازمی طور پر اجراء ہوتا ہے، نہ کہ وہ محض میاں بیوی کے وکیل ہوں۔ تاہم، فقہاء کی ایک اور جماعت کا بعض روایات[17] کی بنا پر یہ عقیدہ ہے کہ طلاق اور حتمی علیٰحدگی کا نفاذ خود میاں بیوی کی رضامندی سے مشروط ہے۔[18]

حکمیت کے واقعے میں آیت شقاق سے استدلال

بعض تاریخی روایات کے مطابق، امام علیؑ نے حَکَمِیّت کے واقعے میں خوارج کے اعتراض کے جواب میں خود ثالثی کے اصول کی شرعی حیثیت ثابت کرنے کے لیے آیت شقاق سے استدلال کیا تھا۔[19] منقول ہے کہ امام محمد باقرؑ نے بھی خوارج میں سے ایک شخص کے اس سوال کے جواب میں کہ امام علیؑ نے ثالثی کو کیوں قبول کیا، یہی آیت تلاوت کی۔[20] یہ استدلال اہل سنت کی بعض حدیثی کتابوں میں بھی نقل ہوا ہے۔[21]

حوالہ جات

  1. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج1، ص182۔
  2. ابوالفتوح رازی، روض الجنان، 1371شمسی، ج5، ص354؛ کاشانی، تفسیر خلاصہ منہج الصادقین، 1363شمسی؛ موسوی سبزواری، مواہب الرحمان، 1414ھ، ج8، ص145۔
  3. ابن‌عباس، تنویر المقباس، 1425ھ، ص84؛ معرفت، آموزش علوم قرآن، 1371شمسی، ج2، ص168۔
  4. فیض‌الاسلام، ترجمہ و تفسیر قرآن، 1378شمسی، ج1، ص172۔
  5. جوادی آملی، تفسیر تسنیم، ج18، ص578؛ قرشی، تفسیر احسن الحدیث، 1377شمسی، ج2، ص357.
  6. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج3، ص375؛ سبزواری، مہذّب الأحکام، 1413ھ، ج25، ص230، مسألہ 1۔
  7. ملاحظہ کیجیے: طبرسی، مجمع البیان، 1408ھ، ج3، ص70؛ فاضل مقداد، کنز العرفان، 1373شمسی، ج2، ص213۔
  8. ملاحظہ کیجیے: شیخ طوسی، الخلاف، 1407ھ، ج4، ص416؛ علامہ حلّی، مختلف الشیعۃ، 1413ھ، ج7، ص396.۔
  9. قرشی، تفسیر احسن الحدیث، 1377شمسی، ج2، ص357؛ مشکینی، مصطلحات الفقہ، 1392شمسی، ص132۔
  10. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج3، ص376-377۔
  11. ملاحظہ کیجیے: شیخ طوسی، الخلاف، 1407ھ، ج4، ص416؛ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج31، ص209؛ روحانی، فقہ الصادق(ع)، 1412ھ، ج22، ص253؛ سبحانی، نظام النکاح، 1416ھ، ج2، ص304؛ مشکینی، مصطلحات الفقہ، 1392شمسی، ص532۔
  12. مرکز فرہنگ و معارف قرآن، دائرۃ المعارف قرآن کریم، 1382شمسی، ج2، ص90.
  13. بحرانی، الحدائق الناضرۃ، 1405ھ، ج24، ص629؛ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج31، ص214۔
  14. شیخ طوسی، الخلاف، 1407ھ، ج4، ص416۔
  15. علامہ حلّی، مختلف الشیعۃ، 1413ھ، ج7، ص396۔
  16. شہید ثانی، مسالک الأفہام، 1413ھ، ج8، ص365۔
  17. ملاحظہ کیجیے: کلینی، الکافی، 1407ھ، ج6، ص147، حدیث 5؛ شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج3، ص521؛ حدیث 4817۔
  18. ملاحظہ کیجیے: علامہ حلّی، مختلف الشیعۃ، 1413ھ، ج7، ص396-397، مسئلہ 56؛ موسوی عاملی، نہایۃ المرام، 1411ھ، ج1، ص431؛ محقق سبزواری، کفایۃ الاحکام، 1423ھ، ج2، ص271۔
  19. ذہبی، تاریخ الاسلام، 1413ھ، ج3، ص591؛ شیرازی، الإشارۃ إلی مذہب أہل الحق‏، 1425ھ، ص383-384۔
  20. طبرسی، الاحتجاج، 1424ھ، ج2، ص174؛ عروسی حویزی، تفسیر نور الثقلین، 1415ھ، ج1، ص479۔
  21. ابن‌حنبل، مسند أحمد، 1421ھ، ج2، ص84؛ حاکم نیشابوری، مستدرک علی الصحیحین، 1411ھ، ج2، ص165؛ بیہقی، السنن الکبری، 1424ھ، ج8، ص311۔

مآخذ

  • ابوالفتوح رازی، حسین بن علی، روض الجنان و روح الجنان فی تفسیرالقرآن، تحقیق: یاحقی، محمدجعفر، ناصح، محمدمہدی، مشہد، بنیاد پژوہش‌ہای اسلامی آستان قدس رضوی، 1371ہجری شمسی۔
  • ابن‌حنبل، أحمد بن محمد، مسند الإمام أحمد بن حنبل، محقق: شعیب الأرنؤوط، عادل مرشد، و دیگران، إشراف: الترکی، عبد اللہ بن عبد المحسن، بی‌تا، مؤسسۃ الرسالۃ، پہلی اشاعت، 1421ھ۔
  • ابن‌عباس، عبداللہ بن عباس، تنویر المقباس من تفسیر إبن عباس، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، دوسری اشاعت، 1425ھ۔
  • بحرانی، یوسف بن احمد، الحدائق الناضرۃ فی أحکام العترۃ الطاہرۃ، محقق و مصحح: ایروانی، محمدتقی، مقرم، سید عبد الرزاق، قم، دفتر انتشارات اسلامی، پہلی اشاعت، 1405ھ۔
  • بیہقی، أحمد بن حسین، السنن الکبری، محقق: محمد عبد القادر عطا، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، تیسری اشاعت، 1424ھ۔
  • جوادی آملی، عبداللہ، تفسیر تسنیم، قم، مؤسسۂ اسراء، 1389ہجری شمسی۔
  • حاکم نیشابوری، محمد بن عبد اللہ، مستدرک علی الصحیحین، تحقیق: عبد القادر عطا، مصطفی، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، پہلی اشاعت، 1411ھ۔
  • ذہبی، محمد بن احمد، تاریخ الاسلام، تحقیق: تدمری، عمر عبد السلام، بیروت، دار الکتاب العربی، دوسری اشاعت، 1413ھ۔
  • روحانی سید صادق، فقہ الصادق(ع)، قم، دار الکتاب - مدرسہ امام صادق(ع)، پہلی اشاعت، 1412ھ۔
  • سبحانی، جعفر، نظام النکاح فی الشریعۃ الإسلامیۃ الغراء، قم، مؤسسہ امام صادق(ع)، پہلی اشاعت، 1416ھ۔
  • سبزواری، سید عبدالأعلی، مہذّب الأحکام، قم مؤسسہ المنار، دفتر حضرت آیۃ اللہ سبزواری، قم، چوتھی اشاعت، 1413ھ۔
  • شہید ثانی، زین‌الدین بن علی، مسالک الأفہام إلی تنقیح شرائع الإسلام، قم، مؤسسۃ المعارف الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1413ھ۔
  • شیخ حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعۃ، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، پہلی اشاعت، 1409ھ۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، من لا یحضرہ الفقیہ، محقق و مصحح: غفاری، علی اکبر، قم، دفتر انتشارات اسلامی، دوسری اشاعت، 1413ھ۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، الخلاف، مصحح: خراسانی، علی و دیگران، قم، دفتر انتشارات اسلامی، پہلی اشاعت، 1407ھ۔
  • شیرازی، ابواسحاق، الإشارۃ إلی مذہب أہل الحق‏، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، 1425ھ۔
  • طبرسی، احمد بن علی، الاحتجاج علی أہل اللجاج، تحت اشراف: سبحانی تبریزی، جعفر، محقق: ہادی‌بہ، محمد و ابراہیم بہادری، قم، سازمان اوقاف و امور خیریہ، انتشارات اسوہ، پانچویں اشاعت، 1424ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، مقدمہ: بلاغی‏، محمدجواد، مصحح: یزدی طباطبایی، فضل‌اللہ و رسولی، ہاشم بیروت، دارالمعرفۃ، دوسری اشاعت، 1408ھ۔
  • عروسی حویزی، عبدعلی بن جمعہ، تفسیر نور الثقلین، تحقیق: رسولی محلاتی، سید ہاشم، قم، انتشارات اسماعیلیان، چوتھی اشاعت، 1415ھ۔
  • علامہ حلّی، حسن بن یوسف، مختلف الشیعۃ فی أحکام الشریعۃ، قم، دفتر انتشارات اسلامی، دوسری اشاعت، 1413ھ۔
  • فاضل مقداد، مقداد بن عبداللہ، کنز العرفان فی فقہ القرآن، مصحح: بہبودی، محمدباقر، تہران، مرتضوی، پانچویں اشاعت، 1373ہجری شمسی۔
  • فیض‌الاسلام اصفہانی، علی‌نقی، ترجمہ و تفسیر قرآن عظیم، تہران، نشر فقیہ، پہلی اشاعت، 1378ہجری شمسی۔
  • قرشی، سید علی‌اکبر، تفسیر احسن الحدیث، بنیاد بعثت، تہران، تیسری اشاعت، 1377ہجری شمسی۔
  • کاشانی، فتح‌اللہ بن شکراللہ، تفسیر خلاصہ منہج الصادقین، مصحح: شعرانی، ابوالحسن، تہران، اسلامیہ، پہلی اشاعت، 1363ہجری شمسی۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، محقق و مصحح: غفاری، علی اکبر، آخوندی، محمد، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
  • مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ مطابق با مذہب اہل‌بیت(ع)، قم، مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، 1387ہجری شمسی۔
  • محقق سبزواری، محمدباقر، کفایۃ الاحکام، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، پہلی اشاعت، 1423ھ۔
  • مرکز فرہنگ و معارف قرآن، دائرۃ المعارف قرآن کریم، پژوہشگاہ علوم و فرہنگ اسلامی، قم، موسسہ بوستان کتاب، پہلی اشاعت، 1382ہجری شمسی۔
  • مشکینی، علی، مصطلحات الفقہ، محقق: احمدی جلفایی، حمید، قم، مؤسسہ علمی فرہنگی دار الحدیث، 1392ہجری شمسی۔
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، [بی‌جا]، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، پہلی اشاعت، 1371ہجری شمسی۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1374ہجری شمسی۔
  • موسوی سبزواری، سید عبد الاعلی، مواہب الرحمان فی تفسیر القرآن، قم، مکتب سماحۃ آیۃ اللہ العظمی السید السبزواری، تیسری اشاعت، 1414ھ۔
  • موسوی عاملی، محمد بن علی، نہایۃ المرام فی شرح مختصر شرائع الإسلام، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، پہلی اشاعت، 1411ھ۔
  • نجفی، محمدحسن، جَواہر الکلام فی شرحِ شرائعِ الاسلام، تصحیح عباس قوچانی و علی آخوندی، بیروت، دارُ اِحیاء التُّراثِ العربی، چاپ ہفتم، 1404ھ۔