جوا

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
رساله عملیه.jpg
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضہسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ


جُوا یاقِمار اس کھیل کو کہا جاتا ہے جس میں جیتنے والے کو مال دئے جانے کی شرط رکھی جاتی ہے۔ فقہ میں قمار بازی کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ جوے کی حرمت پر فقہاء کے مستندات میں سے سورہ مائدہ کی آیت نمبر 90 ہے جس میں جوا کھیلنے کو پست اور شیطان عمل قرار دیا گیا ہے۔

فقہاء ہر قسم کی شرط بندی کو حرام قرار نہیں دیتے بلکہ احادیث کی روشنی میں گھڑسواری، تیر اندازی اور شمشیر زنی جیسے کھیلوں میں شرط لگانا قمار میں شامل نہیں ہے۔ فقہاء کے فتوے کے مطابق آلات قمار کے ساتھ کھیلنا شرط کے ساتھ ہو یا بفیر شرط کے دونوں صورتوں میں حرام ہے۔

فقہی تعریف

فقہی کتابوں میں جوے کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیں۔ شیخ انصاری کے مطابق قِمار یا جوا اس کھیل کو کہا جاتا ہے جو مخصوص آلات اور (جیتے والے کو دینے کیلئے) کسی چیز کو گروی رکھ کر کھیلا جاتا ہے۔[1]

بعض فقہاء آلات قمار کے ذریعے کھیلنے کو جوا قرار دیتے ہیں چاہے اس میں شرط رکھی گئی ہو یا نہ رکھی گئی ہو۔[2] آیت اللہ مشکینی نے کتاب "مُصطَلَحات الفقہ" میں قِمار اس کھیل کو قرار دیا ہے جس میں ہارنے والے کی طرف سے جیتنے والے کو کوئی چیز دینے کی شرط رکھی گئی ہو۔[3]

البتہ فقہاء ہر قسم کی شرط‌ بندی‌ کو جوا قرار نہیں دیتے۔ اسی بنا پر وہ فتوا دیتے ہیں کہ گھڑ سواری، تیر اندازی اور شمشیر زنی اگر شرط کے ساتھ ہو تو بھی جوا محسوب نہیں ہونگے۔ فقہ میں مذکورہ کھیلوں کو سَبْق (دوڑ) و رِمایَہ (تیر اندازی) کے نام سے یاد گیا گیا ہے۔[4]

فقہی حکم

شیخ مرتضی انصاری اور صاحب جواہر کے مطابق قمار کے حرام ہونے پر فقہاء کا اجماع ہے اور قرآن اور متواتر احادیث بھی اس کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں۔[5]

اس سلسلے میں مورد استناد واقع ہونے والی آیت سورہ مائدہ کی آیت نمبر 90 ہے جس میں "مَیْسِر" کو ایک پست اور شیطانی عمل قرار دیا گیا ہے:"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ"(ترجمہ: شراب و قمار و بت‌ہا و تیرہاى قرعہ، پليد و از عمل شيطان‌اند)۔[6]

احادیث کے مطابق "میسر" سے مراد "جوا" ہے۔ مثلا کتاب کافی میں امام باقرؑ سے نقل ہوئی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو پیغمبر اکرمؐ سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ "مَیسِر" سے کیا مراد ہے؟ پیغمبر اکرمؐ نے جواب دیا:‌ ہر وہ چیز جس کے ذریعے جوا کھیلا جائے اسے میسر کہتے ہیں۔[7] اسی طرح اسی کتاب میں شیخ کلینی امام رضاؑ سے بھی نقل کرتے ہیں کہ "مَیسِر" سے مراد قِمار ہے۔[8]

آلات

تفصیلی مضمون: آلات قمار

آلات قِمار ایسے ابزار کو کہا جاتا ہے جن کے ذریعے عموما جوا کھیلا جاتا ہے۔ [9] فقہی کتابوں میں شطرنج،[10] بیکگمون،[11] پاسور اور بیلیارد کو آلات قمار قرار دیئے گئے ہیں۔[12]

اکثر فقہاء کے نزدیک آلات قِمار کے ساتھ کھیلنا شرط کے ساتھ ہو یا بغیر شرط کے، حرام ہے۔[13] اسی طرح آلات قمار کی خرید و فروخت اور اسے اجارہ پر دینا یا انہیں بنانے بھی ­حرام ہے۔[14]

شرط بندی اور جوے میں فرق

فقہاء کے مطابق گھڑ سواری، تیر اندازی اور شمشیر زنی وغیرہ جیسے مقابلوں میں شرط رکھنا قمار کے حکم میں نہیں ہے۔[15] فقہاء بعض احادیث سے استناد کرتے ہوئے مذکورہ موارد میں شرط رکھنے کے باوجود جوا اور قمار شمار نہیں کرتے ہیں۔[16]

قمار بازی کے احکام

بعض فقہی کتابوں میں قمار بازی کے درج ذیل احکام ذکر ہوئے ہیں:

  • جوا کھیلنے کے ذریعے حاصل ہونے والی چیز کا کھانا حرام ہے۔[17]
  • جوا کھیلنے والے کی گواہی قابل قبول نہیں ہے۔[18]
  • قماربازی کا سیکھنا بھی حرام ہے۔[19]
  • جوے کے ذریعے حاصل ہونے والی کمائی کا مالک نہیں بن سکتا لذا اسے ان کے اصل مالک تک پہنچانا ضروری ہے۔[20]

حوالہ جات

  1. شیخ انصاری، مکاسب، ۱۴۱۵ق، ص۳۷۱۔
  2. شیخ انصاری، مکاسب، ۱۴۱۵ق، ص۳۷۱۔
  3. مشکینی، مصطلحات الفقہ، ۱۳۸۱ش، ص۴۳۰۔
  4. طباطبایی حائری، ریاض‌المسالک، ۱۴۱۸ق، ج۱۰، ص۲۳۳۔
  5. شیخ انصاری، مکاسب، ۱۴۱۵ق، ص۳۷۱؛ نجفی، جواہرالاکلام، ۱۴۰۴ق، ج۲۲، ص۲۰۹۔
  6. نجفی، جواہرالاکلام، ۱۴۰۴ق، ج۲۲، ص۲۰۹۔
  7. کلینی، کافی، ۱۴۰۷ق، ج۵، ص۱۲۲و۱۲۳۔
  8. کلینی، کافی، ۱۴۰۷ق، ج۵، ص۱۲۴۔
  9. مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۸۵ش، ج۱، ص۱۵۲۔
  10. شیخ انصاری، مکاسب، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۳۷۲۔
  11. شیخ انصاری، مکاسب، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۳۷۲۔
  12. مکارم شیرازی، استفتائات جدید، ۱۴۲۷ق، ج۲، ص۲۳۸۔
  13. مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۸۵ش، ج۱، ص۱۵۳۔
  14. مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۸۵ش، ج۱، ص۱۵۳۔
  15. طباطبایی حائری، ریاض‌المسالک، ۱۴۱۸ق، ج۱۰، ص۲۳۳تا۲۳۵؛ نجفی، جواہرالکلام، ۱۴۰۴ق، ج۴۱، ص۵۶۔
  16. طباطبایی حائری، ریاض‌المسالک، ۱۴۱۸ق، ج۱۰، ص۲۳۳تا۲۳۵۔
  17. نجفی، جواہرالکلام، ۱۴۰۴ق، ج۲۲، ص۱۰۹۔
  18. شیخ مفید، المقنعہ، ۱۴۱۳ق، ص۷۲۶؛ حلی، الجامع للشرایع، ۱۴۰۵ق، ص۵۳۹؛ شیخ طوسی، النہایہ، ۱۴۰۰ق، ص۳۲۵۔
  19. محقق حلی، شرایع السلام، ۱۴۰۸ق، ج۲، ص۴
  20. طباطبایی، حائری، ریاض‌المسالک، ۱۴۱۸ق، ج۸، ص۱۷۰۔


مآخذ

  • حلی، یحی بن سعید، الجامع للشرائع، قم، مؤسسۃ سیدالشہداء العلمیہ، چاپ اول، ۱۴۰۵ق۔
  • خویی، سیدابوالقاسم، موسوعۃالامام خویی، قم، مؤسسۃ احیاء آثار الامام خوئی، چاپ اول، ۱۴۱۸ق۔
  • شیخ انصاری، مرتضی، کتاب المکاسب المحرمۃ و البیع و الخیارات، قم، کنگرہ جہانی بزرگداشت شیخ اعظم انصاری‌، چاپ اول، ۱۴۱۵ق۔
  • شیخ مفید، محمد بن محمد، المقنعہ، قم، کنگرہ جہانی ہزارہ شیخ مفید، چاپ اول، ۱۴۱۳ق۔
  • طباطبایی حائری، سیدعلی، ریاض‌المسائل فی تحقیق الاحکام بالدلائل، قم، آل‌البیت، چاپ اول، ۱۴۱۸ق۔
  • کلینی، محمد بن ‌یعقوب، الکافی، تحقیق علی‌اکبر غفارى و محمد آخوندى، تہران، دار الكتب الإسلاميۃ، چاپ چہارم، ۱۴۰۷ق‏۔
  • محقق حلی، جعفر بن حسن، شرائع الاسلام فی مسائل الحلال و الحرام، تحقیق و تصحیح عبدالحسین محمدعلی بقال، قم، اسماعیلیان، چاپ دوم، ۱۴۰۸ق۔
  • مشکینی، علی، مصطلحات الفقہ، قم، الہادی، چاپ سوم، ۱۳۸۱ش۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، استفتائات جدید، قم، انتشارات مدرسہ امام علی بن ابی‌طالب، چاپ دوم، ۱۴۲۷ق۔
  • مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ مطابق با مذہب اہل بیت علیہم‌السلام، مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، ۱۳۸۵ش۔
  • نجفى، محمدحسن، جواہر الكلام فی شرح شرائع الاسلام، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، چاپ ہفتم، ۱۴۰۴ق۔