مسودہ:سبع المثانی
ناس فاتحہ بقرہ | |
| ترتیب کتابت | 1 |
|---|---|
| پارہ | 1 |
| نزول | |
| ترتیب نزول | 5 |
| مکی/ مدنی | مکی |
| کوائف | |
| تعداد آیات | 7 |
| تعداد کلمات | 29 |
| تعداد حروف | 143 |
سَبْعُ الْمَثَانِی، سورہ حمد کے ناموں میں سے ایک ہے۔[1] سورہ حمد کو اس نام سے یاد کرنے کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ اس میں سات آیات ہیں اور یہ نمازوں میں بار بار دہرائی جاتی ہے۔[2] اس کے علاوہ بعض دیگر وجوہات بھی ذکر کی گئی ہیں: مثلا یہ کہ یہ سورہ دو مرتبہ نازل ہوئی، ایک بار مکہ میں اور ایک بار مدینہ میں[3] اور یہ کہ یہ سورہ دو حصوں پر مشتمل ہے: اللہ کی حمد اور بندوں کی درخواست۔[4]
"سَبْعاً مِنَ الْمَثانی" کی تعبیر سورہ حجر کی آیت نمبر 87؛ «وَ لَقَدْ آتَیناک سَبْعاً مِنَ الْمَثانی وَ الْقُرْآنَ الْعَظیمَ» میں ذکر ہے۔ ایک روایت کے مطابق اس آیت کے شأن نزول کے بارے میں آیا ہے کہ مدینہ میں بنی قریظہ اور بنی نضیر کے یہودیوں کے لئے کپڑے، خوشبو اور جواہرات سے بھرے سات تجارتی قافلے آئے، مسلمانوں نے یہ قافلے دیکھ کر کہا کہ اگر یہ مال ہمارے پاس ہوتا تو ہم طاقتور اور دولتمند ہو جاتے اور اللہ کی راہ میں انفاق کرتے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور رسول اللہؐ نے فرمایا: میں نے تمہیں سات آیات دی ہیں جو ان سات قافلوں سے بہتر ہیں۔[5]
تفسیری آراء و نظریات
- قرآن کی سات ابتدائی سورتیں: "سبع" سے مراد قرآن کی سات ابتدائی سورتیں ہیں اور "مثانی" سے مراد خود قرآن ہے۔[6] شہید مطہری قرآن کو "سبع مثانی" کہلانے کی وجہ قرآن میں بشارت اور انذار (یعنی جنت اور ثواب کی خوشخبری اور جہنم اور عذاب سے خبردار کرنا) کا ساتھ ساتھ ہونا بتاتے ہیں۔[7]
- انبیاء پر نازل ہونے والے سات صحیفے[8]
- سات امور: امر، نہی، بشارت، انذار، ضرب الامثال، نعمتوں کی گنتی اور مختلف امتوں کی خبریں۔[9]
- چودہ معصومینؑ: بعض روایات کی بنیاد پر "سات جفت" سے مراد چودہ معصومینؑ (رسول خداؐ، حضرت فاطمہ(س) اور ائمہ معصومینؑ) ہیں۔
- سورہ حمد: علامہ طباطبائی کے مطابق "سبع مثانی" صرف سورہ حمد پر دلالت کرتی ہے اور اس سلسلے میں باقی اقوال میں قرآن یا روایات سے کوئی واضح دلیل موجود نہیں۔[10]

حوالہ جات
- ↑ علامہ طباطبائی، المیزان، 1417ھ، ج12، ص191۔
- ↑ عیاشی، تفسیر عیاشی، 1380ھ، ج1، ص19؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج11، ص129۔
- ↑ خوئی، البیان، دار الزہراء، ج1، ص418۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، 1408ھ، ج1، ص17۔
- ↑ واحدی نیشابوری، اسباب النزول، 1411ھ، ص276۔
- ↑ عیاشی، تفسیر عیاشی، 1380ھ، ج1، ص19۔
- ↑ مطہری، سیری در سیرہ نبوی، 1402شمسی، ص181؛ مطہری، آشنایی با قرآن، 1402شمسی، ج11، ص103۔
- ↑ آلوسی، روح المعانی، بیروت، ج14، ص78۔
- ↑ آلوسی، روح المعانی، بیروت، ج14، ص78۔
- ↑ مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج46، ص200۔
- ↑ شیخ بہائی کی کلیاتِ آثار و اشعار - بلا تحریف؛ خواب نامہ (شیخ بہائی کی خوابوں کی تعبیر منظوم)
مآخذ
- آلوسی، محمود، روح المعانی، افست بیروت، بیتا۔
- ابوعبیدہ، معمر بن مثنی، مجاز القرآن، تحقیق فؤاد سزگین، قاہرہ، 1962ء.
- خویی، سید ابوالقاسم، البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دارالزہراء، بیتا۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی التفسیر القرآن، دارالمعرفۃ، بیروت، 1408ھ۔
- علامہ طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1417ھ۔
- عیاشی، محمد بن مسعود، تفسیر العیاشی، تہران مکتبہ العلمیہ، 1380ھ۔
- مطہری، مرتضی، آشنایی با قرآن، نشر صدرا، 1402شمسی، 1445ھ۔
- مطہری، مرتضی، سیری در سیرہ نبوی، نشر صدرا، 1402شمسی، 1445ھ۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیۃ، 1373ہجری شمسی۔
- واحدی نیشابوری، علی بن احمد، اسباب النزول، تحقیق: کمال بسیونی زغلول، دارالکتب العلمیہ، 1411ھ۔
- کلیات آثار و اشعار شیخ بہایی - بدون تحریف؛ خوابنامہ (تعبیر خواب منظوم شیخ بہائی)۔