مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:راسخون فی العلم

ویکی شیعہ سے

راسخون فی العلم (علم میں راسخ اور پختہ لوگ) ایک قرآنی اصطلاح ہے جو علم میں ثابت قدم اور پختہ کار افراد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ علمائے شیعہ روایات کی روشنی میں پیغمبر اکرمؐ اور اہل بیتؑ کو اس اصطلاح کے مصداق قرار دیتے ہیں۔ بعض دوسرے علما اس کا وسیع تر مفہوم بیان کرتے ہیں جو تمام علماء و دانشوروں کو شامل ہوتا ہے اور اس لحاظ سے رسول اکرمؐ اور اہل بیتؑ اس کی سب سے نمایاں مثالیں ہیں۔

قرآن کی متشابہ آیات کی حقیقی تاویل کے بارے میں مسلمان مفسرین کے درمیان اس بات پر اختلاف ہے کہ آیا "راسخون فی العلم" اس سے واقف ہیں یا نہیں۔ بعض شیعہ مفسرین کتاب الکافی میں منقول روایات کے حوالے سے "راسخون فی العلم" کو متشابہ آیات کی تاویل جاننے والے قرار دیتے ہیں۔ اس کے برعکس، شیعہ اور اہل سنت کے بعض دوسرے مفسرین کا ماننا ہے کہ متشابہ آیات کی حقیقی تاویل کا علم صرف اللہ کو ہے اور راسخون فی العلم اس سے آگاہ نہیں ہیں۔

سورہ نساء میں راسخون فی العلم کا ذکر آیا ہے جو رسول خداؐ پر اور آپؐ سے پہلے نازل ہونے والی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ بعض مفسرین نے اس سورۃ میں "راسخون فی العلم" کے مصداق ان یہودیوں کو قرار دیا ہے جو تورات کے عالم تھے اور انہوں نے رسول اکرمؐ کی تصدیق کی ہے۔

مفہوم شناسی

امام محمد باقرؑ سے منقول ایک روایت کے مطابق، "راسخون فی العلم" وہ لوگ ہیں جن کے علم میں کوئی اختلاف اور تردید نہیں پایا جاتا۔[1] شیعہ مفسر فضل بن حسن طبرسی نے انہیں علم میں ثابت قدم اور پختہ افراد قرار دیا ہے۔[2] بعض دوسرے مفسرین کے نزدیک راسخون فی العلم وہ ہیں جو علم کی فراوانی کے باعث ثابت قدم رہتے ہیں[3] اور علم کو زندگی کی صحیح سمجھ بوجھ کا ذریعہ بناتے ہیں۔[4] کتاب الدر المنثور میں سیوطی نے رسول خداؐ سے ایک روایت نقل کی ہے کہ راسخون فی العلم وہ لوگ ہیں جو اپنے عہد و پیمان کے پابند ہوں، ان کی زبان سچی ہو، ان کے دل مضبوط و ثابت ہوں اور پیٹ اور شہوت کے معاملے میں پاک دامن ہوں۔[5]

"الرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ" کی اصطلاح سورہ آل عمران میں اس طرح آئی ہے: "خدا کے سوا کوئی ان کی تاویل (اصل معنی) کو نہیں جانتا اور جو راسخون فی العلم یعنی علم میں مضبوط و پختہ کار ہیں کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے"۔[6] اس آیت کا ایک حصہ قرآن کی متشابہ آیات کی تاویل کے مسئلے سے متعلق ہے۔[7] نیز سورہ نساء میں بھی یہ تعبیر موجود ہے: "اور جو علم میں پختہ ہیں وہ اس پر ایمان لاتے ہیں جو آپ پر نازل کیا گیا اور جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا"۔[8]

کیا راسخون فی العلم متشابہ آیات کی تاویل جانتے ہیں؟

سورہ آل عمران کی آیت نمبر 7 میں بیان ہوا ہے کہ متشابہ آیات کی تاویل کو صرف اللہ اور راسخون فی العلم ہی جانتے ہیں۔[9] "راسخون فی العلم" کے مفہوم کے بارے میں دو اہم نظریے ہیں:

  • پہلا نظریہ: بعض مفسرین کے مطابق "راسخون" سے مراد وہ لوگ ہیں جو متشابہ آیات کی تاویل سے باخبر ہیں،[10] شیعہ مفسر محمد جواد مغنیہ اس نظریے کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کوئی آیت نازل ہو اور اس کا مفہوم کسی کو معلوم نہ ہو، یہ ایک قبیح امر ہے۔[11] تفسیر مجمع البیان میں بھی اس نظریے کی تائید میں لکھا ہے کہ صحابہ اور تابعین کا اس بات پر اجماع تھا کہ قرآن کی تمام آیات کی تفسیر ممکن ہے اور کسی بھی آیت کی تفسیر سے رکتے و ٹھہرتے نہیں تھے اور نہ یہ کہتے تھے کہ یہ متشابہ ہے اور صرف اللہ اس کی تفسیر جانتا ہے۔[12]
  • دوسرا نظریہ: بعض شیعہ[13] اور اہل‌ سنت،[14] مفسرین کا خیال ہے کہ آیت میں "وَالرَّاسِخُونَ" میں "واو" استیناف ہے، یعنی یہ ایک نئے جملے کا آغاز ہے جس کا پچھلے جملے سے کوئی تعلق نہیں۔ اس نظریے کے مطابق، متشابہ آیات کی تاویل کا علم صرف اللہ کو ہے اور راسخون فی العلم محض ان آیات پر ایمان رکھتے ہیں، انہیں تاویل کا علم نہیں۔ علامہ طباطبائی اس معاملے کو علم غیب کے مشابہ قرار دیتے ہیں کہ بعض آیات، علم غیب سے واقفیت کو صرف اللہ سے مخصوص جانتی ہیں جبکہ بعض آیات میں[15] اس کے استثناء بیان ہوئے ہیں۔[16]

مصادیق

راسخون فی العلم کے مصادیق کی تعیین میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں:

پیمغبر اکرمؐ اور اہل بیتؑ؛طبرسی[17] اور علی بن ابراہیم قمی،[18] جیسے شیعہ علماء نے روایات نقل کی ہیں کہ رسول خداؐ افضل راسخون فی العلم ہیں اور آپؐ کے بعد آپؐ کے اوصیاءؑ اس زمرے میں آتے ہیں۔ امام محمد باقرؑ نے ایک روایت میں ائمہ معصومینؑ کو اور دوسری روایت میں اہل بیتؑ کو راسخون فی العلم قرار دیا ہے۔[19] کلینی نے الکافی میں جو روایات نقل کی ہیں، ان کے مطابق راسخون فی العلم سے مراد امام علیؑ اور ان کے بعد کے ائمہؑ ہیں۔[20] امام علیؑ نے ان لوگوں کو جھوٹا اور ظالم قرار دیا ہے جو یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ اہل بیتؑ کے علاوہ راسخون فی العلم ہیں۔[21]

تمام علماء و دانشور؛ بعض علماء کے نزدیک راسخون فی العلم کا مفہوم وسیع ہے جو تمام دانشوروں اور علماء کو شامل ہوتا ہے، تاہم ان میں کچھ ممتاز افراد ہیں جو اول درجہ میں اس کا مصداق ہیں۔[22] شیعہ مفسر طبرسی نقل کرتے ہیں کہ ابن عباس خود کو راسخون فی العلم میں شمار کرتے تھے۔[23] جن روایات میں راسخون فی العلم کو رسول خداؐ اور ائمہؑ سے تفسیر کیا گیا ہے، انہیں اس کے اعلیٰ مصداق پر حمل کیا گیا ہے۔[24] علامہ طباطبایی نے بھی ان روایات کو کلی حکم کے خاص مصداق یعنی پیغمبر اور اہلِ بیتؑ پر تطبیق کے باب سے قرار دیا ہے۔[25]

مسلمان ہونے والے یہودی علماء راسخون فی العلم ہیں

اللہ تعالیٰ نے سورہ نساء میں راسخون فی العلم کا ذکر کیا ہے جو رسول خداؐ پر اور آپؐ سے پہلے نازل شدہ کتابوں پر ایمان لائے ہیں۔[26] بعض مفسرین نے اہل کتاب[27] اور تورات جاننے والے یہودیوں[28] کو اس آیت کا مصداق قرار دیا ہے، جنہوں نے رسول خداؐ سے کہا کہ یہودی جو کچھ لائے ہیں وہ حق ہے۔[29] نیز بعض مفسرین عبد اللہ بن سلام اور ان کے پیروکاروں کو، جو تورات پر ایمان رکھتے تھے، اس آیت کا مصداق قرار دیتے ہیں۔[30] بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت ان باایمان اور پاکدامن یہودیوں کی تعریف میں ہے جو علم میں راسخ ہیں، اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور رسول خداؐ پر اور پچھلے انبیاء پر نازل شدہ کتب پر ایمان لائے ہیں۔[31]

حوالہ جات

  1. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص245۔
  2. طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج2، ص698-699۔
  3. حسینی شیرازی، تبیین القرآن، 1423ھ، ص61۔
  4. مدرسی، من ہدی القرآن، 1419ھ، ج2، ص251۔
  5. سیوطی، تفسیر الدر المنثور، 1404ھ، ج2، ص7۔
  6. سورہ آل‌عمران، آیہ 7۔
  7. قمی، تفسیر القمی، 1404ھ، ج1، ص96-97۔
  8. سورہ نساء، آیہ 162۔
  9. شیخ طوسی، التبیان، بیروت، ج2، ص400۔
  10. شیخ صدوق، کمال‌الدین، 1395ھ، ج2، ص649۔
  11. مغنیہ، التفسیر الکاشف، 1424ھ، ج2، ص14۔
  12. طبرسی، مجمع البيان، 1372شمسی، ج2، ص701۔
  13. بلخی، تفسیر مقاتل بن سلیمان، 1423ھ، ج3، ص264؛ طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج3، ص28۔
  14. فخر رازی، مفاتیح الغیب، 1420ھ، ج7، ص145؛ سیوطی، الدر المنثور، 1404ھ، ج2، ص7۔
  15. سورہ جن، آیہ27۔
  16. طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج‏3، ص28۔
  17. طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج2، ص700۔
  18. قمی، تفسیر القمی، 1404ھ، ج1، ص96-97۔
  19. حویزی، نور الثقلین، 1415ھ، ج1، ص315۔
  20. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص213۔
  21. نہج‌البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، خطبہ 144، ص201۔
  22. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج2، ص439۔
  23. طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج2، ص700
  24. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج2، ص439۔
  25. طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج3، ص70۔
  26. سورہ نساء، آیہ 162۔
  27. طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج5، ص138۔
  28. حسینی شیرازی، تبیین القرآن، 1423ھ، ص114۔
  29. طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج3، ص215۔
  30. بلخی، تفسیر مقاتل بن سلیمان، 1423ھ، ج1، ص264۔
  31. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج4، ص210۔

مآخذ

  • بلخی، مقاتل بن سلیمان، تفسیر مقاتل بن سلیمان، تحقیق عبداللہ محمود شحاتہ، بیروت، دار إحیاء التراث، پہلی اشاعت، 1423ھ۔
  • حسینی شیرازی، سید محمد، تبیین القرآن، بیروت، دار العلوم، دوسری اشاعت، 1423ھ۔
  • حویزی، عبد علی بن جمعہ، تفسیر نور الثقلین، تحقیق سیدہاشم رسولی محلاتی، قم، انتشارات اسماعیلیان، چوتھی اشاعت، 1415ھ۔
  • سید رضی، محمد بن حسین، نہج البلاغۃ، محقق: صبحی صالح، قم، ہجرت، پہلی اشاعت، 1414ھ۔
  • سیوطی، جلال‌الدین، الدر المنثور فی تفسیر المأثور، قم، کتابخانہ آیۃ اللہ مرعشی نجفی، 1404ھ۔
  • شیخ صدوق، کمال‌الدین و تمام النعمۃ، محقق و مصحح: علی‌اکبر غفاری، تہران، دارالکتب الاسلامیۃ، دوسری اشاعت، 1395ھ۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، مقدمہ: شیخ آقابزرگ تہرانی، تحقیق: احمد قصیرعاملی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بی‌تا۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین‏، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی‏، پانچویں اشاعت، 1417ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، مقدمہ: محمدجواد بلاغی‏، تہران، ناصر خسرو، تیسری اشاعت، 1372ہجری شمسی۔
  • فخر رازی، محمد بن عمر، مفاتیح الغیب، بیروت، دار احیاء التراث العربی، تیسری اشاعت، 1420ھ۔
  • قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، محقق و مصحح: سید طیب موسوی جزائری، ‏قم، دارالکتاب، تیسری اشاعت، 1404ھ۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، محقق و مصحح: علی‌اکبر غفاری، محمد آخوندی، تہران، دارالکتب الإسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
  • مدرسی، سید محمدتقی، من ہدی القرآن، تہران، دار محبی الحسین، پہلی اشاعت، 1419ھ۔
  • مغنیہ، محمدجواد، تفسیر الکاشف، تہران، دارالکتب الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1424ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1374ہجری شمسی۔