مسودہ:حضرت عباس کا زیارت نامہ
یہ تصویر حضرت عباسؑ کے زیارت نامے کے قدیم ترین معروف قلمی نسخے کی ہے، جس کی تاریخِ کتابت 578 ھ بتائی جاتی ہے۔[1] | |
| کوائف | |
|---|---|
| مأثور/غیرمأثور: | مأثور |
| صادرہ از: | امام جعفر صادقؑ |
| راوی: | ابو حمزہ ثمالی |
| شیعہ منابع: | کامل الزیارات، مصباح المتہجد، تہذیب الاحکام اور المزار الکبیر |
| مشہور دعائیں اور زیارات | |
| دعائے توسل • دعائے کمیل • دعائے ندبہ • دعائے سمات • دعائے فرج • دعائے عہد • دعائے ابوحمزہ ثمالی • زیارت عاشورا • زیارت جامعہ کبیرہ • زیارت وارث • زیارت امیناللہ • زیارت اربعین | |
حضرت عباسؑ کا زیارت نامہ امام جعفر صادقؑ سے مأثورہ زیارت ناموں میں سے ایک ہے، جس میں حضرت عباسؑ کی زیارت کا طریقہ، آپؑؑؑ کے فضائل اور بلند مقام کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ زیارت نامہ ان چند مأثور زیارتوں میں سے ہے جو کسی غیر معصوم ہستی کے لیے وارد ہوئی ہیں، اسی وجہ سے زیارت ناموں میں اسے ایک منفرد اور ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ ابن قولویہ نے اسے کامل الزیارات میں معتبر سند کے ساتھ نقل کیا ہے، جبکہ شیخ مفید، شیخ طوسی اور محمد بن جعفر مشہدی نے بھی اس کے دوسرے طرق بیان کیے ہیں۔
اس زیارت نامے میں حضرت عباسؑ کو اللہ تعالیٰ، رسول اکرمؐ اور اہل بیتؑ کے ایک صالح، فرمانبردار اور وفادار بندے کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور امام حسینؑ کے ساتھ آپؑؑؑ کی وفاداری، ایثار، بصیرت اور جہاد کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ زائر حضرت عباسؑ کو سلام پیش کرتا ہے، اہلِ بیتؑ کی ولایت کا اظہار کرتا ہے، ان کے دشمنوں سے براءت کا اعلان کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت، زیارت کی قبولیت اور حاجت روائی کی دعا کرتا ہے۔
علامہ مجلسی نے اس زیارت نامے کی شرح میں اس کے بعض آداب، مثلاً زائر کے کھڑے ہونے کے طریقے اور نماز زیارت کے مسئلے پر بھی گفتگو کی ہے۔
مقام و اہمیت
حضرت عباسؑ کا یہ زیارت نامہ امام جعفر صادقؑ[2] سے منقول ایک مأثور زیارت[3] ہے۔ اس میں حضرت عباسؑ کی زیارت کا طریقہ بیان کیا گیا ہے اور ساتھ ہی آپؑؑؑ کے فضائل، وفاداری اور روحانی بلند مقام کو اجاگر کیا گیا ہے۔[4] یہ زیارت نامہ دیگر زیارت ناموں کے مقابلے میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اکثر مأثور زیارتیں رسول اکرمؐ یا ائمہ معصومینؑ کے بارے میں وارد ہوئی ہیں، جبکہ یہ زیارت ایک معصوم امامؑ کی طرف سے ایک غیر معصوم شخصیت کے بارے میں نقل ہوئی ہے۔[5]
حضرت عباسؑ کی شخصیت
حضرت عباسؑ، امام علیؑ اور امّ البنینؑ[6] کے فرزند اور واقعہ کربلا کے عظیم شہداء میں سے ہیں۔[7] امام جعفر صادقؑ نے اس زیارت نامے میں آپؑؑؑ کو "عبد صالح" (نیک و پارسا بندہ) کے لقب سے یاد کیا ہے۔[8] دیگر روایات میں بھی آپؑؑ کے ایثار، وفاداری، بصیرت اور اللہ تعالیٰ و اہل بیتؑ کے نزدیک بلند مقام کی بھرپور تعریف بیان ہوئی ہے۔[9]
شیعہ ثقافت میں حضرت عباسؑ کو ایک نہایت بلند مقام حاصل ہے۔ بعض بزرگ شیعہ علماء کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ وہ کربلا پہنچنے کے بعد پہلے حضرت عباسؑ کے روضہ مبارک کی زیارت کرتے، پھر امام حسینؑ کی زیارت کے لیے حاضر ہوتے تھے۔ وہ اس عمل کو امام حسینؑ کی زیارت سے پہلے ادب اور اجازت حاصل کرنے کی علامت سمجھتے تھے۔[10] اسی طرح عراق میں حضرت عباسؑ کی ولادت اور شہادت کے ایام کے علاوہ ہر ہفتے بروز ہفتہ آپؑؑ کی زیارت کا بھی رواج ہے۔[11] بعض دینی مصادر میں حضرت عباسؑ کی زیارت کی خصوصی تاکید بھی ملتی ہے۔[12]
سند کا اعتبار
ابنِ قولویہ نے اس زیارت نامے کو کامل الزیارات میں چھ واسطوں کے ذریعے ابوحمزہ ثمالی سے اور انہوں نے امام جعفر صادقؑ سے نقل کیا ہے۔[13] اس زیارت نامے کی سند کو معتبر قرار دیا گیا ہے،[14] جبکہ اس کے مضامین بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ اس نوعیت کا کلام معصومؑ ہی سے صادر ہوسکتا ہے۔[15]
شیخ مفید،[16] شیخ طوسی،[17] اور محمد بن جعفر مشہدی[18] نے بھی حضرت عباسؑ کے لیے ایک اور زیارت نامہ نقل کیا ہے، اگرچہ انہوں نے اس کی سند بیان نہیں کی۔ اس روایت کے بعض الفاظ ابنِ قولویہ کی نقل سے مختلف ہیں۔
زیارت نامے کے اہم مضامین
اس زیارت نامے کے نمایاں مضامین درج ذیل ہیں:
- حضرت عباسؑ کو اللہ تعالیٰ کے صالح بندے اور رسول اکرمؐ، حضرت علیؑ، امام حسنؑ اور امام حسینؑ کے فرمانبردار کے طور پر متعارف کرائے گئے ہیں؛
- امام حسینؑ کی نصرت میں آپؑؑ کی وفاداری، بصیرت، اخلاص، ایثار اور جہاد کی گواہی دی گئی ہے؛
- اللہ تعالیٰ سے دعا کی گئی ہے کہ حضرت عباسؑ کو بہترین اجر عطا فرمائے اور انہیں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت نصیب کرے؛
- حضرت عباسؑ کی مظلومانہ شہادت کی گواہی دی گئی اور ان کے قاتلوں اور ظالموں سے برائت کا اظہار کیا گیا ہے؛
- اہل بیتؑ کی ولایت کا اقرار، اللہ تعالیٰ سے مغفرت، زیارت کی قبولیت، حاجات کی تکمیل اور آخرت میں اولیائے الٰہی کی معیت کی دعا کی گئی ہے۔
آداب زیارت
علامہ مجلسی فرماتے ہیں کہ اگرچہ بعض کتابوں، مثلاً شیخ مفید کی روایت میں حضرت عباسؑ کی زیارت کے بعد نماز پڑھنے کا ذکر آیا ہے، لیکن متن روایت میں اس کی صراحت موجود نہیں۔ اسی وجہ سے بعض متاخر علماء نے غیر معصوم شخصیات کے لیے مستقل نمازِ زیارت کو جائز نہیں سمجھا ہے، البتہ ثواب کی نیت سے نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ علامہ مجلسی کے نزدیک حضرت عباسؑ کی قبر مبارک کے پاس کھڑے ہو کر، خواہ روضہ اقدس کی طرف رخ کر کے یا قبلہ رخ ہو کر، زیارت پڑھی جا سکتی ہے، اگرچہ بعض علماء نے غیر معصومین کی زیارت قبلہ رخ ہو کر پڑھنے کو زیادہ مناسب قرار دیا ہے۔[19]
متن و ترجمہ
حضرت عباسؑ کی زیارت مختلف روائی مصادر میں مختلف الفاظ کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔ شیخ عباس قمی کی کتاب مفاتیح الجنان میں یہ زیارت نسبتاً مفصل مذکور ہے۔ اس کا متن درج ذیل ہے:
| متن | ترجمه |
|
سَلامُ اللّٰهِ وَسَلامُ مَلائِکَتِهِ الْمُقَرَّبِینَ، وَأَنْبِیائِهِ الْمُرْسَلِینَ، وَعِبادِهِ الصَّالِحِینَ، وَجَمِیعِ الشُّهَداءِ وَالصِّدِّیقِینَ، وَ الزَّاکِیاتُ الطَّیِّباتُ فِیما تَغْتَدِی وَتَرُوحُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، أَشْهَدُ لَکَ بِالتَّسْلِیمِ وَالتَّصْدِیقِ وَالْوَفاءِ وَالنَّصِیحَةِ لِخَلَفِ النَّبِیِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ الْمُرْسَلِ، وَالسِّبْطِ الْمُنْتَجَبِ، وَالدَّلِیلِ الْعالِمِ، وَالْوَصِیِّ الْمُبَلِّغِ، وَالْمَظْلُومِ الْمُهْتَضَمِ، فَجَزاکَ اللّٰهُ عَنْ رَسُولِهِ وَعَنْ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَعَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ صَلَواتُ اللّٰهِ عَلَیْهِمْ أَفْضَلَ الْجَزاءِ بِمَا صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ وَأَعَنْتَ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ؛ |
سلام ہو خدا کا اور سلام ہو اس کے مقرب فرشتوں کا، اس کے بھیجے ہوئے نبیوں کا، اس کے نیک بندوں کا، اور تمام شہیدوں اور صدیقوں کا سلام ہو، اور بہترین رحمتیں ہوں ہر صبح اور ہر شام آپؑ پر اے امیر المؤمنینؑ کے نور چشم، میں گواہی دیتا ہوں آپؑ کی اس اطاعت، تائید وفاداری اور خیر خواہی پر جو آپؑ نے نبئ اکرمؐ کے جانشین سے کی ہے کہ جو نیک اصل نواسے، صاحب علم رہبر، تبلیغ کرنے والے قائم مقام اور وہ ستم دیدہ ہیں جن کو تنگ کیا گیا۔ پس خدا جزا دے آپؑ کو اپنے رسولؐ کی طرف سے، امیر المؤمنینؑ کی طرف سے اور حسنؑ و حسینؑ کی طرف سے، ان سب پر خدا کی رحمتیں ہوں، آپؑ کو بہترین جزا دے کہ آپؑ نے صبر کیا، خیر خواہی کی اور مدد و نصرت کی، کیا ہی اچھا ہے آپؑ کا انجام؛ |
|
لَعَنَ اللّٰهُ مَنْ قَتَلَکَ، وَلَعَنَ اللّٰهُ مَنْ جَهِلَ حَقَّکَ، وَاسْتَخَفَّ بِحُرْمَتِکَ، وَلَعَنَ اللّٰهُ مَنْ حالَ بَیْنَکَ وَبَیْنَ ماءِ الْفُراتِ، أَشْهَدُ أَنَّکَ قُتِلْتَ مَظْلُوماً، وَأَنَّ اللّٰهَ مُنْجِزٌ لَکُمْ مَا وَعَدَکُمْ، جِئْتُکَ یَا ابْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وافِداً إِلَیْکُمْ وَقَلْبِی مُسَلِّمٌ لَکُمْ وَتابِعٌ، وَأَنَا لَکُمْ تابِعٌ، وَنُصْرَتِی لَکُمْ مُعَدَّةٌ حَتَّىٰ یَحْکُمَ اللّٰهُ وَهُوَ خَیْرُ الْحاکِمِینَ، فَمَعَکُمْ مَعَکُمْ لَامَعَ عَدُوِّکُمْ، إِنِّی بِکُمْ وَبِإِیابِکُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ، وَبِمَنْ خالَفَکُمْ وَقَتَلَکُمْ مِنَ الْکافِرِینَ، قَتَلَ اللّٰهُ أُمَّةً قَتَلَتْکُمْ بِالْأَیْدِی وَالْأَلْسُنِ. |
آپؑ کے قاتل پر خدا لعنت کرے اس پر جس نے آپؑ کا حق نہ پہچانا اور آپؑ کی بے احترامی کی، خدا لعنت کرے اس پر جو آپؑ کے اور فرات کے پانی کے درمیان رکاوٹ بنا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپؑ مظلومی میں قتل ہوئے اور خدا آپؑ کو وہ جزا دے گا جس کا آپؑ لوگوں سے وعدہ کیا ہے۔ آپؑ کے ہاں آیا ہوں اے امیر المؤمنینؑ کے فرزند، آپؑ کا مہمان ہوں، میرا دل آپؑ کے حوالے اور تابع ہے اور میں آپؑ کا پیروکار ہوں، میں آپؑ کی نصرت پر آمادہ ہوں یہاں تک کہ خدا فیصلہ کرے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ آپؑ کے ساتھ ہوں، آپؑ کے ساتھ، نہ کہ آپؑ کے دشمن کے ساتھ، بے شک میں آپؑ پر اور آپؑ کے واپس آنے پر ایمان رکھتا ہوں۔ اور آپؑ کے مخالف اور آپؑ کے قاتل سے میرا کوئی تعلق نہیں خدا قتل کرے اس گروہ کو جس نے ہاتھ اور زبان سے آپؑ کے ساتھ جنگ کی۔ |
|
|
پھر روضہ اقدس کے اندر داخل ہو جائے خود کو قبر شریف سے لپٹائے اور کہے: |
|
السَّلامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ الْمُطِیعُ لِلّٰهِ وَ لِرَسُولِهِ وَلِأَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَسَلَّمَ، السَّلامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکاتُهُ وَمَغْفِرَتُهُ وَرِضْوانُهُ وَ عَلَىٰ رُوحِکَ وَبَدَنِکَ، أَشْهَدُ وَأُشْهِدُ اللّٰهَ أَنَّکَ مَضَیْتَ عَلَىٰ مَا مَضىٰ بِهِ الْبَدْرِیُّونَ وَالْمُجاهِدُونَ فِی سَبِیلِ اللّٰهِ، الْمُناصِحُونَ لَهُ فِی جِهادِ أَعْدائِهِ، الْمُبالِغُونَ فِی نُصْرَةِ أَوْلِیائِهِ، الذَّابُّونَ عَنْ أَحِبَّائِهِ، فَجَزاکَ اللّٰهُ أَفْضَلَ الْجَزاءِ، وَأَکْثَرَ الْجَزاءِ، وَ أَوْفَرَ الْجَزاءِ، وَأَوْفىٰ جَزاءِ أَحَدٍ مِمَّنْ وَفىٰ بِبَیْعَتِهِ، وَاسْتَجابَ لَهُ دَعْوَتَهُ، وَأَطاعَ وُلاةَ أَمْرِهِ؛ |
سلام ہو آپؑ پر کہ آپؑ خدا کے پارسا بندے ہیں۔ آپؑ اللہ کے اطاعت گذار ہیں اس کے رسولؐ کے اور امیر المؤمنینؑ کے اور حسنؑ و حسینؑ کے، خدا ان پر رحمت کرے اور درود بھیجے، آپؑ پر سلام ہو اور خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ہوں، اس کی بخشش اور خوشنودی حاصل ہو، آپؑ کی روح اور بدن پر رحمت ہو، میں گواہی دیتا ہوں اور خدا کو گواہ بناتا ہوں کہ آپؑ نے اس مقصد کیلئے جان دی جس کے لیے شہدائے بدر نے جانیں دیں اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے مجاہدوں نے جانیں دیں وہ اس کے دشمنوں سے لڑنے میں مخلص اس کے حامیوں کی مدد کرنے میں آگے اور اس کے دوستوں کا دفاع کرتے تھے۔ پس خدا آپؑ کو جزا دے، بہترین جزا بہت زیادہ جزا، فراواں تر جزا اور کامل تر جزا دے جو اس شخص کو دی جس نے اس کی بیعت کا حق ادا کیا اس کے بلانے پرحاضر ہوا اور اس کے صاحبان امر کی اطاعت کی؛ |
|
أَشْهَدُ أَنَّکَ قَدْ بالَغْتَ فِی النَّصِیحَةِ، وَأَعْطَیْتَ غایَةَ الْمَجْهُودِ، فَبَعَثَکَ اللّٰهُ فِی الشُّهَداءِ، وَجَعَلَ رُوحَکَ مَعَ أَرْواحِ السُّعَداءِ، وَأَعْطاکَ مِنْ جِنانِهِ أَفْسَحَها مَنْزِلاً، وَأَفْضَلَها غُرَفاً، وَرَفَعَ ذِکْرَکَ فِی عِلِّیِّینَ، وَحَشَرَکَ مَعَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّهَداءِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولٰئِکَ رَفِیقاً . أَشْهَدُ أَنَّکَ لَمْ تَهِنْ وَلَمْ تَنْکُلْ، وَأَنَّکَ مَضَیْتَ عَلىٰ بَصِیرَةٍ مِنْ أَمْرِکَ، مُقْتَدِیاً بِالصَّالِحِینَ، وَمُتَّبِعاً لِلنَّبِیِّینَ، فَجَمَعَ اللّٰهُ بَیْنَنا وَبَیْنَکَ وَبَیْنَ رَسُولِهِ وَأَوْلِیائِهِ فِی مَنازِلِ الْمُخْبِتِینَ فَإِنَّهُ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ. |
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپؑ نے دلی طور پر پوری طرح خیر خواہی کی اور اس میں اپنی انتہائی کوشش سے کام لیا لہٰذا خدا نے آپؑ کو شہیدوں میں جگہ دی، آپؑ کی روح کو خوش بختوں کی روحوں کے ساتھ رکھا اور آپؑ کو اپنی جنت میں سب سے بڑا محل عطا کیا اور بلند تر بالا خانہ نیز اس نے مقام علیین میں آپؑ کو شہرت بخشی اور میدان حشر میں آپؑ کو ساتھ رکھے گا نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور نیکوکاروں کے، اور وہ لوگ کیسے اچھے ساتھی ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپؑ نے نہ ہمت ہاری نہ پیٹھ دکھائی اور بے شک آپؑ اپنے عمل کا شعور رکھتے ہوئے گامزن رہے اس میں آپؑ نیکوکاروں کی پیروی اور نبیوں کی اتباع کر رہے تھے پس خدا ہمیں آپؑ کے ساتھ اور اپنے رسولؐ اور اپنے ولیوں کے ساتھ جمع کرے، اہل حق کی منزلوں میں کہ وہ سب سے زیادہ رحم والا ہے۔ |
|
|
سید ابن طاؤس، شیخ مفید اور دیگر بزرگ علما کا ارشاد ہے کہ یہ زیارت پڑھنے کے بعد ضریح مقدس کے سرہانے جا کر دو رکعت نماز بجا لائے اور اور اس کے بعد وہاں مزید جس قدر چاہے نماز ادا کرے اور دعائیں مانگے اور بعد از نماز یہ کہے: |
|
اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَلَا تَدَعْ لِی فِی هٰذَا الْمَکانِ الْمُکَرَّمِ وَالْمَشْهَدِ الْمُعَظَّمِ ذَنْباً إِلّا غَفَرْتَهُ، وَلَا هَمّاً إِلّا فَرَّجْتَهُ، وَلَا مَرَضاً إِلّا شَفَیْتَهُ، وَلَا عَیْباً إِلّا سَتَرْتَهُ، وَلَا رِزْقاً إِلّا بَسَطْتَهُ، وَلَا خَوْفاً إِلّا آمَنْتَهُ، وَلَا شَمْلاً إِلّا جَمَعْتَهُ، وَلَا غائِباً إِلّا حَفِظْتَهُ وَأَدْنَیْتَهُ، وَلَا حاجَةً مِنْ حَوائِجِ الدُّنْیا وَالْآخِرَةِ لَکَ فِیها رِضىً وَلِیَ فِیها صَلاحٌ إِلّا قَضَیْتَها یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ. |
اے معبود! محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل کر اور اب میرا کوئی گناہ نہ رہنے دے اس عز و شرف والے مقام اور محترم زیارت گاہ میں کہ تو نے اسے نہ بخش دیا ہو، کوئی اندیشہ نہ ہو کہ اسے دور نہ کر دیا ہو، کوئی بیماری نہ ہو کہ اس سے صحت یاب نہ کر دیا ہو، کوئی عیب نہ ہو کہ اسے ڈھانپ نہ لیا ہو، کوئی رزق نہ ہو کہ تو نے اسے بڑھا نہ دیا ہو، کوئی خوف نہ ہو اس سے امن نہ دیا ہو، کوئی پریشانی نہ ہو کہ اسے مٹانہ دیا ہو، کوئی غائب نہ ہو کہ تو اس پر نظر نہ رکھے اور قریب نہ کیے ہو اور دنیا و آخرت کی حاجتوں میں کوئی حاجت نہ ہو کہ جس میں تیری خوشنودی اور میرے لیے مفید ہو مگر یہ کہ تو اسے بر لائے، اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے۔ |
|
السَّلامُ عَلَیْکَ یَا أَبَا الْفَضْلِ الْعَبَّاسَ ابْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، السَّلامُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ، السَّلامُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ أَوَّلَ الْقَوْمِ إِسْلاماً، وَأَقْدَمِهِمْ إِیماناً، وَ أَقْوَمِهِمْ بِدِینِ اللّٰهِ، وَأَحْوَطِهِمْ عَلَى الْإِسْلامِ . أَشْهَدُ لَقَدْ نَصَحْتَ لِلّٰهِ وَ لِرَسُولِهِ وَلِأَخِیکَ فَنِعْمَ الْأَخُ الْمُواسِی، فَلَعَنَ اللّٰهُ أُمَّةً قَتَلَتْکَ، وَلَعَنَ اللّٰهُ أُمَّةً ظَلَمَتْکَ، وَلَعَنَ اللّٰهُ أُمَّةً اسْتَحَلَّتْ مِنْکَ الْمَحارِمَ، وَانْتَهَکَتْ حُرْمَةَ الْإِسْلامِ، فَنِعْمَ الصَّابِرُ الْمُجاهِدُ الْمُحَامِی النَّاصِرُ وَالْأَخُ الدَّافِعُ عَنْ أَخِیهِ الْمُجِیبُ إِلىٰ طاعَةِ رَبِّهِ، الرَّاغِبُ فِیما زَهِدَ فِیهِ غَیْرُهُ مِنَ الثَّوابِ الْجَزِیلِ، وَالثَّنَاءِ الْجَمِیلِ، وَأَلْحَقَکَ اللّٰهُ بِدَرَجَةِ آبائِکَ فِی جَنَّاتِ النَّعِیمِ؛ |
آپؑ پر سلام ہو اے ابا الفضل عباسؑ فرزند امیر المؤمنینؑ، آپؑ پر سلام ہو اے سردار اوصیاء کے فرزند، سلام ہو آپؑ پر اے اس کے فرزند جو اسلام لانے میں امت سے اول، ایمان میں سے ان سے مقدم، دین خدا میں ان سے بڑھ کر ثابت قدم اور اسلام کی ان سے زیادہ حفاظت کرنے والے تھے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپؑ نے خیر خواہی کی خدا کی اور اس کے رسولؐ کی اور اپنے برادر حسینؑ کی، پس آپؑ بڑے ہی ہمدرد بھائی تھے، خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپؑ کو قتل کیا، خدا کی لعنت ہو اس گروہ پرجس نے آپؑ پر ستم ڈھایا اور خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپؑ کی بے احترامی کو جائز سمجھا اور اسلام کی حرمت کو بھی پامال کیا، پس وہ کیسے صابر جہاد کرنے والے، حمایت کرنے والے، نصرت کرنے والے اور اپنے بھائی کی طرف سے لڑنے والے اچھے بھائی تھے۔ وہ اپنے پروردگار کی فرمانبرداری پر آمادہ، اس عمل کے شائق جس سے دوسروں نے منہ موڑا اور محروم رہے (ایسے عمل جو) بڑے اجر و ثواب اور تعریف و توصیف والے۔ خدا آپؑ کو ان بزرگوں کے مقام پر پہنچائے نعمتوں بھری جنت میں؛ |
|
اللّٰهُمَّ إِنِّی تَعَرَّضْتُ لِزِیارَةِ أَوْلِیائِکَ رَغْبَةً فِی ثَوابِکَ، وَرَجاءً لِمَغْفِرَتِکَ وَجَزِیلِ إِحْسانِکَ، فَأَسْأَلُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِینَ، وَأَنْ تَجْعَلَ رِزْقِی بِهِمْ دارّاً، وَعَیْشِی بِهِمْ قارّاً، وَزِیارَتِی بِهِمْ مَقْبُولَةً، وَحَیَاتِی بِهِمْ طَیِّبَةً، وَأَدْرِجْنِی إِدْراجَ الْمُکْرَمِینَ، وَاجْعَلْنِی مِمَّنْ یَنْقَلِبُ مِنْ زِیارَةِ مَشاهِدِ أَحِبَّائِکَ مُفْلِحاً مُنْجِحاً قَدِ اسْتَوْجَبَ غُفْرانَ الذُّنُوبِ، وَسَتْرَ الْعُیُوبِ، وَکَشْفَ الْکُرُوبِ، إِنَّکَ أَهْلُ التَّقْوىٰ وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ. |
اے معبود! بے شک میں تیرے ولیوں کی زیارت کو آیا، تیرے ہاں سے ملنے والے ثواب کے شوق میں، تیری طرف سے بخشش کی امید اور تیرے عظیم احسان کی خواہش سے، پس سوال کرتا ہوں تجھ سے کہ محمدؐ اور ان کی پاکیزہ آلؑ پر رحمت فرما نیز یہ کہ ان کے واسطے سے میرا رزق بڑھا دے، ان کے ذریعے میری زندگی برقرار رکھ ۔ میری یہ زیارت قبول کر، میری حیات میں پاکیزگی پیدا فرما اور مجھ کو عزت والوں کے مقام پر پہنچا دے مجھے ان لوگوں میں رکھ جو واپس ہوئے ہیں تیرے دوستوں کے مشاہد کی زیارت سے فلاح و کامرانی کے ساتھ جب ان کے گناہوں کی بخشش واجب، ان کے عیب پوشیدہ اور مصیبتیں دور کر دی جاتی ہیں۔ بے شک تو بچانے والا اور بخشنے والا ہے۔ |
|
|
جب حضرت عباسؑ سے وداع کرناچاہے تو قبر مبارک کے قریب جائے اور وہ دعا پڑھے جو ابو حمزہ ثمالی سے روایت ہوئی اور علماء نے بھی اس کا ذکر کیا ہے اور وہ یہ ہے: |
|
أَسْتَوْدِعُکَ اللّٰهَ وَأَسْتَرْعِیکَ وَأَقْرَأُ عَلَیْکَ السَّلامَ، آمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِرَسُولِهِ وَبِکِتابِهِ وَبِمَا جاءَ بِهِ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ، اللّٰهُمَّ فَاکْتُبْنا مَعَ الشَّاهِدِینَ، اللّٰهُمَّ لَاتَجْعَلْهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنْ زِیارَتِی قَبْرَ ابْنِ أَخِی رَسُولِکَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ، وَارْزُقْنِی زِیارَتَهُ أَبَداً مَا أَبْقَیْتَنِی، وَاحْشُرْنِی مَعَهُ وَمَعَ آبائِهِ فِی الْجِنانِ، وَعَرِّفْ بَیْنِی وَبَیْنَهُ وَبَیْنَ رَسُو لِکَ وَأَوْلِیائِکَ. اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَتَوَفَّنِی عَلَى الْإِیمانِ بِکَ، وَالتَّصْدِیقِ بِرَسُولِکَ، وَالْوِلایَةِ لِعَلِیِّ بْنِ أَبِی طالِبٍ وَالْأَئِمَّةِ مِنْ وُلْدِهِ عَلَیْهِ السَّلاٰمُ، وَالْبَراءَةِ مِنْ عَدُوِّهِمْ، فَإِنِّی قَدْ رَضِیتُ یَا رَبِّی بِذٰلِکَ، وَصَلَّى اللّٰهُ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ.[20] |
آپؑ کو سپرد خدا کرتا ہوں آپؑ کا التفاف چاہتا ہوں اور آپؑ کو سلام کہتا ہوں، ہمارا ایمان ہے خدا پر، اس کے رسولؐ پر، اس کی کتاب پر اور جو کچھ خدا کی طرف سے ان پر نازل ہوا، پس اے معبود! ہمیں گواہی دینے والوں میں لکھ دے۔ اے معبود! میری اس زیارت کو آخری زیارت قرار نہ دے۔ جو میں نے تیرے رسولؐ کے بھائی کے فرزند پر کی ہے۔ جب تک تو مجھے زندہ رکھے اس قبر کی زیارت نصیب کرتے رہنا اور مجھے ان کے اور ان کے بزرگوں کے ساتھ جنت میں رکھنا، میرے اور ان کے درمیان اور اپنے رسولؐ اور اپنے دوستوں کے درمیان جان پہچان کرا دینا، اے معبود! محمدؐ و آل محمدپر رحمت فرما اور اس وقت جب میری موت واقع ہو تجھ پر ایمان اور تیرے رسولؐ پر عقیدہ اور میرا یقین ہو علیؑ بن ابی طالبؑ کی ولایت پر اور ان کی اولاد سے ائمہؑ کی ولایت پر، ان سب پر سلام ہو اور ان کے دشمنوں سے میرا کوئی واسطہ نہ ہو پس میں یقیناً راضی ہوں اے میرے رب اس صورت میں اور خدا محمدؐ و آل محمدؐ پررحمت فرمائے۔[21] |
حوالہ جات
- ↑ «اقدم نص مخطوط لزيارة أبي الفضل العباس ع»، مرکز الفقیه العالمی لاحیاء التراث ویب سائٹ۔
- ↑ ابنقولویہ، کاملالزیارات، 1356ھ، ص256۔
- ↑ فرجپور، «درسنامہ زیارت حضرت ابوالفضل العبّاس(ع)»، ص15۔
- ↑ ابنقولویہ، کاملالزیارات، 1356ھ، ص256۔
- ↑ فرجپور، «درسنامہ زیارت حضرت ابوالفضل العبّاس(ع)»، ص15۔
- ↑ ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، 1374شمسی، ص89۔
- ↑ امین، اعیان الشیعہ، 1403ھ، ج7، ص429۔
- ↑ عندلیب ہمدانی، ثاراللہ...، 1376شمسی، ص239۔
- ↑ شیخ صدوق، الخصال، 1362شمسی، ج1، ص68؛ ابنعنبہ حسنى، عمدة الطالب، 1417ھ، ص327۔
- ↑ دفتر پژوہشہای کاربردی گروہ انقلاب اسلامی، علمدار عشق...، 1398شمسی، ص131۔
- ↑ عبادہ، العباس علیہالسلام سید الماء...، عراق، 1436ھ، ص253-254۔
- ↑ حائری مازندرانی، معالی السبطین، 1367ش، ص452۔
- ↑ ابنقولویہ، کاملالزیارات، 1356ھ، ص256۔
- ↑ قمی، مفاتیح الجنان، اسوہ، ص434؛ فرجپور، «درسنامہ زیارت حضرت ابوالفضل العبّاس(ع)»، ص16۔
- ↑ فرجپور، «درسنامہ زیارت حضرت ابوالفضل العبّاس(ع)»، ص17۔
- ↑ شیخ مفید، کتاب المزار، 1409ھ، ص107۔
- ↑ شیخ طوسی، مصباح المتہجد، 1411ھ، ج2، ص724۔
- ↑ ابنمشہدی، المزار الکبیر، 1377شمسی، ص388۔
- ↑ مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج98، ص278-279۔
- ↑ قمی، مفاتیح الجنان، اسوه، ص434-437۔
- ↑ گروہ مترجمین زیر نگرانی سید نیاز حسین نقوی، موسسہ امام المنتظر(عج)، مفاتیح الجنان، لاہور
مآخذ
- ابنعنبہ حسنى، عمدۃ الطالب فی أنساب آل أبىطالب، قم، انصاریان، 1417ھ۔
- ابنقولویہ، جعفر بن محمد، کاملالزیارات، نجف، مطبعۃ المرتضویۃ، 1356ھ۔
- ابنمشہدی، محمد بن جعفر، المزار الکبیر، قم، القیوم، 1377ہجری شمسی۔
- ابوالفرج اصفہانی، علی بن حسین، مقاتل الطالبیین، قم، الشریف الرضی، 1374ہجری شمسی۔
- «اقدم نص مخطوط لزيارۃ أبي الفضل العباس ع»، مرکز الفقیہ العالمی لاحیاء التراث ویبسائٹ، تاریخ درج مطلب: 1 دسمبر 2014ء، تاریخ مشاہدہ: 21 جولائی 2026ء۔
- امین، سید محسن، اعیان الشیعہ، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، 1403ھ۔
- انصاریان، حسین، ترجمہ مفاتیح الجنان، قم، دار العرفان، 1388ہجری شمسی۔
- حائری مازندرانی، مہدی، معالی السبطین فی أحوال الحسن و الحسین(ع)، قم، الشریف الرضی، 1367ہجری شمسی۔
- دفتر پژوہشہای کاربردی گروہ انقلاب اسلامی تاریخ و مناسبتہا، علمدار عشق: رہیافتی بر شخصیت شناسی حضرت عباس(ع)، قم، ادارہ کل پژوہشہای اسلامی رسانہ، 1398ہجری شمسی۔
- شیخ صدوق، محمد بن على، الخصال، تحقیق علیاکبر غفارى، قم، جامعہ مدرسین، چاپ اول، 1362ہجری شمسی۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، مصباح المتہجد، بیروت، مؤسسہ فقہ الشیعہ، 1411ھ۔
- شیخ مفید، محمد بن محمد، کتاب المزار، قم، مدرسۃ الإمام المہدی(ع)، 1409ھ۔
- عبادہ، کاظم، العباس علیہالسلام سید الماء: إضاءات من سیرۃ حیاۃ العباس بن علی(ع)، عراق، العتبۃ العباسیۃ المقدسۃ قسم الشؤون الفکریۃ والثقافیۃ کربلای معلی، 1436ھ۔
- عندلیب ہمدانی، حسین، ثاراللہ: خون حسین(ع) در رگہای اسلام، قم، مؤسسہ در راہ حق، 1376ہجری شمسی۔
- فرجپور، مرتضی، «درسنامہ زیارت حضرت ابوالفضل العبّاس(ع)»، مجلہ صحیفہ اہلبیت(ع)، شمارہ 1، بہار و تابستان 1391ہجری شمسی۔
- قمی، عباس، مفاتیح الجنان، قم، اسوہ، بیتا۔
- مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار: الجامعۃ لدرر اخبار الائمۃ الاطہار(ع)، بیروت، دار احیاء التراث العربی، چاپ دوم، 1403ھ۔