ابو موسی اشعری

ویکی شیعہ سے
(عبد اللہ بن قیس سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابو موسی اشعری
معلومات شخصیت
مکمل نام عبد اللہ بن قیس ابو موسی اشعری
کنیت ابو موسی
دینی مشخصات
وجہ شہرت حکمیت


ابو موسی اشعری کے نام سے مشہور رسول اللہ کا صحابی ہے جس کا نام عبد الله بن قیس (متوفا۴۴ ق) تھا۔ تاریخی منابع میں اس کی شہرت جنگ صفین میں حکمیت کیلئے حضرت علی کی طرف سے نمائندہ منتخب ہونے کی وجہ سے ہے۔ امام اس کے انتخاب سے راضی نہیں تھے لیکن اپنے لشکر کے چند سپاہیوں کے اصرار کی وجہ سے ایسا کرنے پر مجبور ہوئے۔ آخرکار ابو موسی نے معاویہ کے نمائندے عمرو بن عاص سے حکمیت میں دھوکہ کھا کر حکومت معاویہ کے حوالے کر دی۔

نسب

اس کی اصل یمن کے قبائل میں سے اشعر سے تھی جو خود قحطان قبیلے کا حصہ شمار ہوتا تھا۔[1] اس کی ماں ظبیہ عدنان قبیلے سے تھی جس نے بعد میں اسلام قبول کیا اور مدینہ میں فوت ہوئی۔ [2]

عصر پیامبر(ص)

اسلام لانا

تاریخ میں اس کے مسلمان ہونے کے ضد و نقیض واقعات بیان ہوئے ہیں:

  • چند روایات کی بنا پر وہ مکہ گیا اور وہاں سعید بن عاص بن امیہ کا ہم‌ پیمان (حلیف) ہوا اور اسلام لے آیا۔ مسلمانوں کی دوسری ہجرت کے موقع پر ان کے ساتھ حبشہ گیا۔[3] لیکن ابن سعد[4] تصریح کرتا ہے کہ وہ ہر گز حلیف نہیں تھا۔ وہ اسلام لانے کے بعد یمن واپس لوٹ گیا۔ قدیمی ترین سیرت نگار موسی بن عقبہ، ابن اسحاق اور ابو مشعر کا اسے حبشہ کے مہاجروں میں شمار نہ کرنا ابن سعد کی تائید کرتا ہے۔ [5]
  • نیز احمد بن حنبل[6] ابو موسی کے نواسے سے نقل کرتا ہے کہ وہ اور اس کی قوم فتح خیبر کے تین دن بعد پیامبر(ص) کے پاس آئے اور آپ (ص) سے مال غنیمت حاصل کیا جبکہ انہوں نے جنگ میں شرکت نہیں کی تھی۔
  • ایک اور روایت اس بات کی حکایت کرتی ہے کہ ابو موسی نے سال 7 ہجری قمری میں ۵۰ افراد کے ایک گروہ کے ساتھ شہر یمن: زبید سے دریائی سفر کا آغاز کیا۔ جس میں سمندری طوفان نے انہیں حبشہ پہنچا دیا اور یہ وہی وقت تھا جب جعفر بن ابی طالب اپنے اصحاب کے ساتھ حبشہ سے واپسی کا رخت سفر باندھ رہے تھے۔[7] پس یہودیان خیبر کے مطیع ہونے کے موقع پر اچانک یہ سب لوگ پیغمبر اکرم کے پاس پہنچ گئے۔ مہاجرین کے ساتھ اتفاقی طور پر آنا اس بات کا سب بنا کہ وہ اسے مہاجر سمجھیں۔(ورنہ وہ مہاجرین میں سے نہیں تھا)[8]

عہدیدار

ابو موسی ایک مرتبہ لشکر کا جانشین سپہ سالار بنا جب پیامبر(ص) نے شوال سال 8 ہجری قمری میں ہوازن قبائل کی سرکوبی کیلئے دوبارہ لشکر روانہ کیا۔ سپہ سالار کی شہادت کے بعد اس کی کمان میں لشکر نے فتح حاصل کی۔[9] اسی سال اسے اور معاذ بن جبل کو رسول اللہ نے مکیوں کی تعلیم قرآن اور احکام دین کیلئے مامور کیا۔[10] ابو موسی ۱۰ویں ہجری قمری میں حجۃ الوداع سے پہلے پیامبر(ص) کی جانب سے یمن کے ایک حصے کا والی مقرر ہوا۔[11]

خلفا کا زمانہ

خلیفۂ اول

ابو موسی خلافت ابوبکر کے زمانے تک یمن کے ایک حصہ کا والی رہا اور یمن کے اطراف میں مرتدوں کے فتنے کا اس نے سامنا کیا۔[12]

خلیفۂ دوم

ابو موسی عمر کی خلافت کے زمانے میں سیاسی میدان میں زیادہ نمایاں ہوا۔ حضرت عمر نے ۱۷ ق میں مغیرہ بن شعبہ کو بصرہ کی حکومت سے واپس بلا لیا اور ابو موسی اشعری کو اس کی جگہ وہاں حاکم مقرر کیا۔ وہ عمر کی طرف بصرے کا چوتھا حاکم تھا جو کچھ مدت کے وقفے کے ۱۲ سال سے زیادہ وہاں حاکم رہا۔[13]

بصرہ کی حاکمیت کے دوران کچھ مدت کیلئے حضرت عمر نے اسے عمار یاسر کی جگہ کوفہ کا حاکم بنایااور پھر دوبارہ اسے بصرہ کا حاکم بنا کر بھیج دیا۔[14] بصرے کی قضاوت کا عہدہ بھی اسی کے پاس تھا۔ تاریخی متون میں حضرت عمر کی جانب سے وہاں کی قضاوت کی راہنمائی میں لکھے گئے خطوط ملتے ہیں۔[15] ابو موسی طویل مدت تک بہت سی لشکر کشیوں، خوزستان اور فارس کے محاصروں کو توڑنے نیز بلاد جزیرہ کی جنگوں میں شریک رہا۔

خلیفۂ سوم

عثمان کے ابتدائی سالوں میں بصرہ کی حکومت پر باقی رہا جس کی وصیت عمر بن خطاب نے کی تھی اور وہ مدت ۴ سال[16] یا ایک اور روایت کے مطابق ایک سال[17] تھی۔ یہ بات خلیفۂ دوم کے اس پر اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ عثمان نے وہاں کی امارت اور قضاوت کا بھی اس کے وظائف میں اضافہ کر دیا۔[18]

بصرہ پر اس کی امارت عمر کی وفات کے بعد ۶ سال کے لگ بھگ باقی رہی چونکہ وہاں کے لوگوں کی شکایات کی بنا پر اس کے عزل کا سال مؤرخین ۲۹ قمری سمجھتے ہیں۔[19] ابو موسی نے معزولیت کے بعد خلیفہ کی مزید معاونت سے انکار کیا اور کوفہ میں ساکن ہو گیا۔[20] ۵ سال کے بعد کوفیوں نے ۳۴ ہجری قمری میں یزید بن قیس اور مالک اشتر نخعی کی قیادت میں سعید بن عاص کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور اسے کوفہ سے باہر نکال کر وہاں امارت ابو موسی کے حوالے کر دی۔ سیف[21] کی روایت کے مطابق باغی عثمان کے خلع کرنے کے در پے تھے لیکن ابو موسی نے عثمان بن عفان کا دفاع کیا اور اپنی حاکمیت کی قبولیت کو عثمان کی دوبارہ بیعت سے مشروط کیا۔ عثمان بن عفان اس بات سے نہایت خوشحال ہوا اور اسے کہا کہ وہ اسے سالوں تک حاکمیت پر باقی رکھے گا۔ اس طرح بار دیگر ابو موسی اشعری حکومت کوفہ کی کرسی پر بیٹھا اور قتل عثمان تک اس عہدے پر باقی رہا۔[22]

خلافت حضرت علی(ع)

علی(ع) خلیفہ منتخب ہوئے تو ابو موسی نے ایک خط کے ذریعے کوفے کے لوگوں کی بیعت کا اعلان کیا۔[23] حضرت علی(ع) عثمان کے مقرر کردہ تمام عمّال کو برطرف کیا لیکن مالک اشتر کی درخواست پر نہ چاہتے ہوئے بھی اسے باقی رکھا۔[24] اس کے بعد کے واقعات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ابو موسی کی طرف سے حضرت علی کی بیعت رضائے و رغبت سے نہ تھی جیسا کہ طلحہ و زبیر کی طرف سے پیش آنے والے باغیانہ اقدام میں کوفہ کی حاکمیت کے دوران ابو موسی نے کہا تھا کہ حکومت اسی کی ہے جو حکم دے اور غلبہ حاصل کر لے۔[25]

جنگ جمل

جب حضرت علی(ع) طلحہ و زبیر کے فتنے سے نپٹنے کیلئے بصره جانے کیلئے مصمم ہوئے تو آپ نے کوفہ کے نزدیک ذی قار کے مقام سے محمد بن جعفر اور محمد بن ابی بکر کو کوفہ روانہ کیا تا کہ کوفیوں کو اس غائلہ کے خاتمے کیلئے تیار کریں ابو موسی نے اس جنگی تیاری کے دوران یہ کہہ: آخرت کا راستہ خانہ نشینی میں اور جنگ دنیا طلبی ہے نیز ابھی تو عثمان بن عفان کی بیعت ہماری گردن میں ہے جب تک اس کے قاتلوں کو سزا نہیں دی جاتی ہم کسی سے جنگ نہیں لڑیں گے، اپنے آپ کو جنگ سے علیحدہ کر لیا بلکہ حضرت علی کی جانب سے آنے والوں کو قتل اور قید کرنے کی دھمکی دی۔[26] حضرت علی نے دوبارہ عبد اللہ بن عباس اور مالک اشتر کو کوفہ روانہ کیا۔ ابو موسی اشعری نے خود پیامبر(ص) سے حدیث نقل کی کہ جس کے مطابق ان حالات کو ایسے فتنہ سے تشبیہ دی کہ جس میں لوگوں کو حقیقت کے واضح ہونے تک بے جان جسدوں کی مانند رہنا چاہئے۔[27] تیسری مرتبہ حضرت علی نے اپنے بیٹے حسن(ع) کو اسے معزول کرنے حکم دیا اور ان کے ساتھ عمار یاسر کو کوفہ بھیجا۔ ابو موسی نے دوباره کوفیوں کو ایک خطبے کے ذریعے اس جھگڑے میں دخالت کرنے سے منع کیا اور اسے قریش کا ایک داخلی معاملہ کہا مزید کہا انہیں یہ خود حل کرنا چاہئے۔ آخر کار امام حسن نے اس کی معزولی کا حکم نامہ سنایا، مالک اشتر نے اسے حکومتی قصر سے باہر نکال دیا اور لوگوں کی مدد سے اس کے اموال کو غارت گیری سے بچایا۔[28] ایک اور روایت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کچھ مدت تک پنہاں رہا لیکن بعد میں شاید جنگ جمل کے بعد امام علی نے اسے امان دی۔ [29]

جنگ صفین

تاریخی منابع میں ابو موسی اشعری کی شہرت کا سبب جنگ صفین میں حکمیت کا کردار ہے جس کی بنا پر وہ بنی امیہ کے حوالے تخت خلافت کرنے کا سبب بنا۔ جب عمروعاص کے دھوکے، سپاہ عراق کی کوتاہ فکری اور دھڑے بندی کی وجہ سے معاملہ حکمیت تک جا پہنچا تو ابو موسی کو اشعث بن قیس، زید بن حصین اور مسعر بن فدکی جیسے یمنی سرداروں کے اصرار پر امام علی نے نہ چاہتے ہوئے حکم مقرر کیا۔

حَکَم کے لئے ابو موسی کے انتخاب کی وجہ

واضح ہے ابو موسی کے یمانی ہونے اور اس کی جنگ سے علیحدگی اور لا تعلقی کو حکم منتخب ہونے کی علت سمجھنا چاہئے: شام کے رصافہ اور تدمر نامی علاقوں کے درمیان جنگ عُرض ہو رہی تھی۔ وہ ہر ایک کو اس فتنے سے دور رہنے کی ترغیب اور اہل قبلہ سے جنگ کو ناجائز کہہ رہا تھا۔ اسی دوران جب غلام نے آ کر خبر دی کہ لوگوں نے صلح کر لی ہے تواس وقت کہا: خدا کا شکر ہے کہ اس طرح ہوا۔ غلام نے مزید کہا: لوگوں نے تجھے حکم مقرر کیا ہے۔ اس نے اسے قبول کیا اور حضرت علی کے لشکر کی اقامت گاہ میں آ گیا۔[30] امام علی نے ایک خطبے میں اس کی متناقض رفتار کی جانب اشارہ کیا ہے۔ [31]

واقعۂ حکمیت

ابو موسی اور عمرو عاص دمشق کے نزدیک دومۃ الجندل میں اکٹھے ہوں اور زیادہ سے زیادہ ایک سال تک کتاب و سنت رسول خدا(ص) کے مطابق اظہار نظر کریں اور اس اعلان کے بعد طرفین کی جانب سے ہمیشہ کی امنیت کی تضمین ہونا چاہئے۔ ابو موسی اور عمروعاص نے باہمی چند روز مسلسل گفتگو کی۔ ابو موسی اشعری نے بالآخر علی (ع) اور معاویہ دونوں کو خلافت سے برطرف کرنے اور ان کی جگہ عبد اللہ بن عمر کا نام خلافت کیلئے پیش کیا کہ جس کی عمرو بن عاص نے بھی موافقت۔ لیکن اعلان کے موقع پر عمرو بن عاص نے ابو موسی کو اسلام میں سبقت رکھنے کے حیلے کے ذریعے فریفتہ کیا اور اسے پیش کش کی کہ وہ پہلے اعلان کرے۔ ابو موسی نے پہلے باہمی طے شدہ پروگرام کے مطابق علی کو خلافت سے خلع کرنے کا اعلان کیا لیکن عمرو بن عاص نے بعد میں کہا: ابو موسی نے علی کو خلع کیا اور معاویہ کو خلافت کیلئے منتخب کرنے کا اعلان کیا۔ ابو موسی نے جب دیکھا کہ وہ دھوکہ کھا گیا ہے اس نے عمرو کو دشنام دی اور عمرو نے اسے ناسزا کہا۔ سر انجام ابو موسی نے مکہ کی راہ لی اور خانۂ خدا میں پناہ لی۔ [32]

حکمیت میں ابو موسی کے کردار سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ رای کے لحاظ سست رای رکھنے والا، کوتاہ فکر اور ہوشیار شخص نہیں تھا۔ امام علی(ع) نے بھی اسے لشکریوں کے مجبور کرنے پر اسے حکمیت کیلئے انتخاب کیا ورنہ ابن عباس کے مطابق اس میں کوئی ایسی خصوصیت نہیں تھی کہ جس کی بنا پر اسے حکم کے معاملے میں دوسروں پر فضیلت دی جاتی۔[33]

معاویہ کا زمانہ

اس کی زندگی کے آخری ایام کی خبر۴۰ قمری کے اس وقت کی طرف لوٹتی ہے کہ جب معاویہ کی طرف سے بسر بن ارطاة کو یہ فریضہ سونپا گیا کہ وہ حکمیت کے نہائی اعلان کو قبول نہ کرنے والوں سے بیعت لے۔ ابو موسی معاویہ کے اس حکم سے مکہ میں ہراساں ہوا لیکن بُسر نے اسے امان دی۔[34] بعد میں اس نے خلافت معاویہ کی بیعت کر لی اور وہ شام میں معاویہ کے پاس آتا جاتا رہتا لیکن معاویہ اس سے بے اعتنائی برتتا اور اس نے کبھی اس کی جانب کوئی توجہ نہیں دی۔ [35]

وفات

ابو موسی کی تاریخ وفات ۴۲، ۴۴، ۵۰، ۵۲، ۵۳، ہجری قمری ذکر کرتے ہیں۔ [36] ذہبی[37] لیکن اس کی وفات ذی الحجہ اور سال ۴۴ میں ہونے کو واقعیت کے نزدیک تر سمجھتے ہیں۔ وفات کے وقت اس کا سن ۶۳ سال تھا۔[38] مقام وفات اور مقام دفن میں (کوفہ ہے یا مکہ) میں بھی اختلاف ہے۔[39] اگرچہ قدیمی مآخذ کوفے میں جہاں اس کا گھر تھا اسے مقام وفات کہتے ہیں۔ [40]

اشعری خاندان

اس کا بیٹا ابو بُرده حجاج بن یوسف کا کوفے میں قاضی تھا اور ابوبُرده کا بیٹا بلال نیز بصره میں قضاوت کے مقام پر تھا۔[41] اس کے خاندان کا اہم ترین شخص ابوالحسن اشعری تھا جو اپنے زمانے کا مشہور متکلم تھا اور اس کا نسب ۸ واسطوں سے ابو موسی تک پہنچتا ہے۔ [42]

خصوصیات

اہل سنت اور امامیہ کے تاریخی اور حدیثی مآخذوں میں اس کی شخصیت کے متعلق مختلف آرا پائی جاتی ہیں :

  • بعض روایات کے مطابق اس کے اور اس کی قوم کے حق میں مدح کی آیت نازل ہوئی تھی۔ [43] اسی طرح اسے رسول کے عالم ترین ۶ اصحاب میں سے ایک سمجھا گیا۔ [44] اور عمر بن خطاب کی خلافت میں اسے ان اشخاص میں کہا گیا ہے جس سے لوگ فقہ حاصل کرتے تھے۔[45]
  • لیکن اس کے مقابلے میں علمائے امامیہ کے یہاں اس کے بارے میں رسول اللہ اور آئمہ معصومین کی سخت تعبریں استعمال ہوئی ہیں اور اسے ان افراد میں گنا گیا ہے کہ جن پر حضرت علی نے حکمیت کے واقعے کے بعد دعائے قنوت میں لعن کی۔[46]
  • کہا گیا ہے کہ وہ خوش لحن تھا اور قرآن دلکش آواز میں تلاوت کرتا تھا۔ [47]

روایت حدیث

ابو موسی نے رسول اللہ سے کئی موضوعات میں روایتیں نقل کی ہیں۔[48] ذہبی[49] ابو موسی کو محدثین اور ان چند افراد میں سے سمجھتے ہیں جنہوں نے رسول خدا کے سامنے قرآن کی قرات کی۔ [50] ابو موسی سے بہت سے روات نے روایت نقل کی ہے ان میں سے انس بن مالک، ابو سعید خدری، ابو امامہ باہلی، بریدہ اسلمی، عبد الرحمان بن نافع، سعید بن مسیب، زید بن وہب اور دیگر افراد کے نام لئے جا سکتے ہیں۔[51]

حوالہ جات

  1. ر.ک: ابن سعد، ج۴، ص۱۰۵؛ خلیفہ الطبقات، ج۱، ص۴۲۸؛ ابن عبدالبر، ج۴، ص۱۷۶
  2. ابن سعد، ج۴، ص۱۰۵
  3. ابن سعد، ج۴، ص۱۰۵؛ ابن هشام، ج۱، ص۳۴۷؛ بلاذری، انساب، ج۱، ص۲۰۱
  4. ابن سعد، ج۴، ص۱۰۵
  5. ر.ک: بلاذری، انساب، ج۱، ص۲۰۱؛ ابن ابی الحدید، ج۱۳، ص۳۱۴
  6. احمد بن حنبل، ج۴، ص۴۰۶ـ۴۰۵
  7. ابن عماد، ج۵۴ـ۵۳
  8. ابن سعد، ج۴، ص۱۰۶؛ ابن عبدالبر، ج۴، ص۱۷۶
  9. واقدی، ج۳، ص۹۱۶ـ۹۱۵؛ ابن حبیب، ص۱۲۴؛ ابن سعد، ج۲، ص۱۵۲ـ۱۵۱؛ طبری، ج۳، ص۸۰ـ۷۹
  10. ر.ک: واقدی، ج۳، ص۹۵۹
  11. ابن حبیب، ص۱۲۶؛ احمد بن حنبل، ج۴، ص۳۹۷؛ طبری، ج۳، ص۲۲۸
  12. ر.ک: طبری، ج۳، ص۳۱۸؛ ذہبی، تاریخ، ص۱۶
  13. خلیفہ، تاریخ، ج۱، ص۱۲۶؛ یعقوبی، ج۲، ص۱۴۶؛ طبری، ج۴، ص۵۰، ۷۱ـ۶۹
  14. طبری، ج۴، ص۱۶۱، ۱۶۴ـ۱۶۳
  15. ابویوسف، ص۱۱۷، ۱۳۵؛ جاحظ، ص۲۳۷؛ ابن قتیبہ، عیون، ج۱، ص۱۱، ۶۶، ج۳، ص۸۸
  16. ابن سعد، ج۵، ص۴۵؛ ذہبی، سیر، ج۲، ص۳۹۱
  17. ابن سعد، ج۴، ص۱۰۹
  18. خلیفہ، تاریخ، ج۱، ص۱۹۶؛ وکیع، ج۱، ص۲۸۳
  19. خلیفہ، تاریخ، ج۱، ص۱۶۷؛ طبری، ج۴، ص۲۶۴ـ۲۶۵
  20. ابن سعد، ج۵، ص۴۵
  21. طبری، ج۴، ص۳۳۲ـ۳۳۱، ۳۳۶
  22. ر.ک: ابن سعد، ج۵، ص۳۵ـ۳۴؛ خلیفہ، تاریخ، ج۱، ص۱۸۰؛ بلاذری، انساب، ج۴، ص۵۳۶ـ۵۳۵
  23. طبری، ج۴، ص۴۴۳
  24. یعقوبی، ج۲، ص۱۷۹؛ طبری، ج۴، ص۴۹۹
  25. ر.ک: بلاذری، انساب، ج۲، ص۲۱۳
  26. طبری، ج۴، ص۴۸۲ـ۴۸۱؛ مفید، ۲۴۳ـ۲۴۲؛ ابن ابی الحدید، ج۱۴، ص۹ـ۸
  27. طبری، ج۴، ص۴۸۲ـ۴۸۱
  28. بلاذری، انساب، ج۲، ص۲۳۱ـ۲۳۰؛ یعقوبی، ج۲، ص۱۸۱؛ دینوری، ص۱۴۵؛ طبری، ج۴، ص۴۸۷ـ۴۸۶، ۴۹۹ ـ ۵۰۰؛ مفید ص۲۵۳ـ۲۴۳
  29. ر.ک: ابن اعثم، ج۴، ص۲
  30. نصر بن مزاحم،وقعۃ صفین ص۵۰۰
  31. نہج البلاغہ، خطبہ ۲۳۸
  32. برای تفصیل نصر بن مزاحم، ۵۰۷ـ۴۹۹، ۵۳۳ اور اسکے بعد؛ بلاذری، انساب، ج۲، ص۳۳۶ـ۳۴۳، ۳۵۱ـ۳۴۳؛ طبری ج۵ ص۵۴ـ۵۳، ۶۷ کے بعد؛ دینوری ۱۹۳ـ۱۹۲، ۲۰۱ـ۱۹۹؛ یعقوبی ج۲ ص۱۸۹
  33. مسعودی، ج۲، ص۳۹۵
  34. طبری، ج۵، ص۱۳۹
  35. بلاذری، انساب، ج۴، ص۴۳، ۴۸ـ۴۷؛ طبری، ج۵، ص۳۳۲
  36. ابن سعد، ج۴، ص۱۱۶؛ خلیفہ، الطبقات، ج۱، ص۱۵۶؛ طبری، ج۵، ص۲۴۰
  37. سیر، ج۲، ص۳۹۸
  38. ابن حبان، ج۳، ص۲۲۲؛ حاکم، ج۳، ص۴۶۴
  39. خلیفہ، الطبقات، ج۱، ص۱۵۶؛ ابن عبدالبر، ج۴، ص۱۷۶۴؛ ابو اسحاق، ص۲۵
  40. بلاذری، انساب، ج۴، ص۲۸۰
  41. ابن حبیب، ص۳۷۸؛ ابن قتیبہ، المعارف، ص۵۸۹
  42. ر.ک سمعانی، ج۱، ص۲۶۷ـ۲۶۶
  43. ابن سعد، ج۴، ص۱۰۷
  44. بخاری، التاریخ، ۳ (۱) /۲۲؛ ذہبی، سیر، ج۲، ص۳۸۹ـ۳۸۸
  45. یعقوبی، ج۲، ص۱۶۱
  46. ر.ک: ابن بابویہ، الخصال، ص۴۸۵، ۴۹۹؛ عیون، ج۲، ص۱۲۶؛ الایضاح ص۶۴ـ۶۱
  47. ر.ک: ابن سعد، ج۴، ص۱۰۹ـ۱۰۷؛ ابو زرعه، ج۱، ص۲۳۱؛ حاکم، ج۳، ص۴۶۶؛ ذہبی، سیر، ج۲، ص۳۸۲، ۳۹۲ـ۳۹۱، ۳۹۸
  48. ر.ک: احمد بن حنبل، ج۴، ص۴۱۹ـ۳۹۱
  49. ذہبی، المعین، ص۲۴
  50. ر.ک: سیر، ج۲، ص۳۸۱
  51. ابن ابی حاتم، ۲ (۲) ص۱۳۸؛ ذہبی، المعین، ص۲۴


منابع

  • نہج البلاغہ.
  • ابن ابی حاتم رازی، عبدالرحمان، الجرح و التعدیل، حیدرآباد دکن، ۱۳۷۲، ق/ ۱۹۵۳م.
  • ابن ابی الحدید، عبدالحمید، شرح نہج البلاغہ، کوشش محمد ابوالفضل ابراہیم، قاہرہ، ۱۳۷۹ق/۱۹۵۹م.
  • ابن اعثم کوفی، احمد، فتوح، حیدرآباد دکن، ۱۳۹۱ق/۱۹۷۱م.
  • ابن بابویہ، محمد، الخصال، کوشش علی اکبر غفاری، تہران، ۱۴۰۳ق/۱۳۶۲ش.
  • ابن بابویہ، عیون اخبارالرضا(ع)، نجف ۱۳۹۰ق/۱۹۷۰م
  • ابن حبان، محمد، ثقات، حیدرآباد دکن، ۱۳۹۷ق/۱۹۴۲م.
  • ابن حبیب، محمد، المحبر، کوشش لیشتن اشتتر، حیدرآباد دکن، ۱۳۶۱ق/۱۹۴۲م.
  • ابن حزم، علی، جمہرۃ انساب العرب، بیروت، ۱۴۰۳ق/۱۹۸۳م.
  • ابن سعد، محمد، الطبقات الکبری، بیروت، دارصادر.
  • ابن عبدالبر، یوسف، الاستیعاب، کوشش علی محمد بجاوی، قاہرہ، ۱۳۸۰ق/۱۹۶۰م.
  • ابن عبد ربہ، احمد، العقد الفرید، کوشش احمد امین و دیگران، قاہرہ، ۱۹۴۰ق/۱۹۵۳م.
  • ابن عماد، عبدالحی، شدرات الذہب، قاہرہ، ۱۳۵۰ق.
  • ابن قتیبہ، عبدالله، عیون الاخبار، قاہرہ، ۱۳۴۳ق/۱۹۲۵م.
  • ابن قتیبہ، المعارف، کوشش ثروت عکاشہ، قاہرہ، ۱۹۶۰م.
  • ابن ہاشم، عبدالملک، السیرة النبویة، کوشش ابراهیم ابیاری و دیگران، قاہرہ، ۱۳۷۵ق/۱۹۵۵م.
  • ابواسحاق شیرازی، ابراہیم، طبقات الفقہاء، کوشش احسان عباس، بیروت، ۱۴۰۱ق/۱۹۸۰م.
  • ابوزرعه دمشقی، عبدالرحمان، تاریخ، کوشش شکر الله قوچانی، دمشق، ۱۴۰۰ق/۱۹۸۰م.
  • ابویوسف، یعقوب، الخراج، بیروت، دارالمعرفہ.
  • احمد بن حنبل، مسند، قاہرہ، ۱۳۱۳ق.
  • الایضاح، منسوب ابن شاذان، کوشش جلال الدین محدث ارموی، تہران، ۱۳۵۰ش.
  • بخاری، محمد، التاریخ الکبیر، حیدرآباد دکن، ۱۳۷۷ق/۱۹۵۸م.
  • بخاری، محمد، صحیح، بولاق، ۱۳۱۵ق.
  • بلاذری، احمد، انساب الاشراف، ج۱، کوشش محمد حمیدالله، قاہرہ، ۱۹۵۹م، ج۲، کوشش محمد باقر محمودی، بیروت، ۱۳۹۴ق/۱۹۷۳م، ج۴ (۱)، کوشش احسان عباس، بیروت، ۱۴۰۰ق/۱۹۷۹م.
  • بلاذری، احمد، فتوح البلدان، کوشش رضوان محمد رضوان، بیروت، ۱۹۷۸م.
  • جاحظ، البیان و التبیین، کوشش فوزی عطری، بیروت، ۱۹۶۸م.
  • حاکم نیشابوری، محمد، المستدرک علی الصحیحین، بیروت، ۱۳۹۸ق.
  • خلیفه بن خیاط، تاریخ، کوشش سہیل زکار، دمشق، ۱۹۶۸م.
  • خلیفه بن خیاط، طبقات، کوشش سہیل زکار، دمشق، ۱۹۶۶م.
  • دینوری، احمد، اخبارالطوال، کوشش عبدالمنعم عامر، قاہرہ، ۱۳۷۹ق/۱۹۵۹م.
  • ذہبی، محمد، تاریخ الاسلام، واقعات سال: ۱۱ـ ۴۰ ق، کوشش عمر عبدالسلام تدمری، بیروت، ۱۴۰۷ق/۱۹۸۷م.
  • ذہبی، محمد، سیراعلام النبلاء، کوشش شعیب ارنووط و دیگران، بیروت، ۱۴۰۴ق/۱۹۸۶.
  • ذہبی، محمد، المعین فی طبقات المحدثین، کوشش همام عبدالرحیم سعید، اردن، ۱۴۰۴ق/۱۹۸۴م.
  • زیاب خویی، عباس، بزم آورد، تہران، ۱۳۶۸ش.
  • سمعانی، عبدالکریم، الانساب، حیدرآباد دکن، ۱۳۸۲ق/۱۹۶۲م.
  • طبری، تاریخ.
  • قدامہ بن جعفر، الخراج و صناعۃ الکتابہ، کوشش جلال الدین تہرانی، تہران، ۱۳۱۳ش.
  • مسعودی، علی، مروج الذہب، کوشش یوسف اسعد داغر، بیروت، ۱۳۸۵ق/۱۹۶۵م.
  • مفید، محمد، الجمل، کوشش کلمان ہوار، پیرس، ۱۸۹۹م.
  • نصربن مزاحم، وقعہ صفین، کوشش عبدالسلام محمد ہارون، قاہرہ، ۱۳۸۲ق.
  • واقدی، محمد، المغازی، کوشش مارسدن جونز، لندن، ۱۹۶۶م.
  • وکیع، محمد، اخبارالقضاة، بیروت، ۱۹۵۰م.
  • یعقوبی، احمد، تاریخ، نجف، ۱۳۵۸ق.

بیرونی لنک