خطبہ شقشقیہ

ویکی شیعہ سے
(خطبۂ شقشقیہ سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

خطبہ شِقشِقیّہ نہج البلاغہ کے مشہور خطبوں میں سے ایک ہے۔ امام علی(ع) نے اس خطبے میں خلفائے ثلاثہ کے دور میں اسلامی حکومت میں پیش آنے والے واقعات پر تنقید کرتے ہوئے ان میں سے ہر ایک کی خلافت پر سوال اٹھایا ہے۔ اسی طرح اس خطبے میں آپ اس بات کی طرف بھی اشارہ فرماتے ہیں کہ کس طرح ابوبکر کی بیعت کرانے کیلئے آپ(ع) کو لوگوں کے درمیان لے جایا گیا۔ اسی خطبے میں ناکثین، قاسطین اور مارقین کے بارے میں بھی آپ نے اشارہ کیا ہے اور اپنی جانب سے حکومت قبول کرنے کی علل و اسباب کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے۔ یہ خطبہ اکثر نسخہ جات کی موجودہ ترتیب کے مطابق نہج البلاغہ کا تیسرا خطبہ ہے۔

اس خطبہ کا براہ راست راوی (کہ جس نے خود امام علی(ع) سے سناابن عباس ہے جن کی روایت اہل سنت کے یہاں بھی معتبر ہے۔ اس خطبہ کا مختلف زبانوں میں ترجمہ اور شرح کی گئی ہے۔ بعض اہل سنت اس خطبے کے مضامین اور سند میں تردید کا اظہار کرتے ہیں جبکہ اکثر اسے قطعی اور صحیح مانتے ہیں۔

نسخہ کا نام خطبہ نمبر [1]
المعجم المفہرس اور دیگر نسخہ جات [2] ۳
ملافتح الله ۴ اردو نسخے[3] ۳
خطبہ شقشقیہ کے عمدہ نکات

  1. خلافت کے حوالے سے ابوبکر کا اپنے اوپر امام علی(ع) کی برتری کا اعتراف۔
  2. خلیفہ اوّل کا خلافت کو غصب کرنا۔
  3. خلفائے ثلاثہ کے دشوار دور میں امام(ع) کا طاقت فرسا صبر۔
  4. ابوبکر کی جانب سے خود کو خلافت کیلئے پیش کرنے پر امام کا تعجب۔
  5. ابوبکر کی جانشینی کیلئے عمر جیسے پرتشدد شخص کی تعیینی پر امام کا اعتراض۔
  6. عمر کا جارہانہ انداز اور اس کے زمانے میں لوگوں کی گرفتاریاں۔
  7. چھ رکنی شوریٰ کے ارکان کا امام(ع) کے ساتھ قابل قیاس نہ ہونے کی وجہ سے اس کی تشکل پر امام(ع) کا اعتراض۔
  8. چھ رکنی شوریٰ کے ارکان کی ترتیب پر اعتراض جس کا نتیجہ شروع سے ہی مشخص تھا۔
  9. عثمان کے دور میں بیت المال کی لوٹ مار جو عثمان کی قتل کا سبب بنی، پر اعتراض۔
  10. حضرت علی(ع) کی بیعت کیلئے لوگوں کا ہجوم لانا
  11. ناکثین، مارقین اور قاسطین اور ان کی دنیا طلبی کی طرف اشارہ جو ان کا امام کے ساتھ اختلاف کا باعث بنا۔
  12. امام کی طرف سے حکومت قبول کرنے کے علل و اسباب


خطبہ کا زمان و مکان

اس خطبے میں موجود تاریخی نکات منجملہ: ناکثین (جنگ جمل کے محرکین، سن 36 ہجری)، قاسطین (معاویہ اور اس کے پیروکار جنگ صفّین کے محرکین، سن 36 ہجری کے اواخر اور سن 37 ہجری کے ابتدائی ایام) اور مارقین (خوارج جنگ نہروان کّ محرکین، سن 37 ہجری کے اواخر یا سن 38 ہجری) کے بارے میں گفتگو اور ابن عباس کا کوفہ میں قیام سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس خطبے کو امام(ع) نے سن 38 ہجری کے اواخر اور یا سن 39 ہجری میں ارشاد فرمایا ہے۔[4]

شیخ مفید[5] اور قطب الدین راوندی[6] کے مطابق یہ خطبہ امام(ع) نے "رحبہ" نامی جگہے پر ارشاد فرمایا ہے۔ اگرچہ ممکن ہے "رحبہ" کے مختلف مصادیق پائے جاتے ہوں کیونکہ ظاہرا اس لفظ سے مراد مسجد کوفہ کے صحن میں کسی درمیانی مقام کو کہا جاتا ہے جہاں پر حضرت علی(ع) معمولا فیصلے سنایا کرتے تھے یا یہاں بیٹھ کر لوگوں کو وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ زیاد بن ابیہ کے دور حکومت میں محدثین خوف اور ترس کی وجہ سے امام(ع) کا نام لینے کے بجائے "صاحب الرحبۃ" کہا کرتے تھے۔[7]

چنانچہ مطرزی (متوفائے ۶۱۰ق.) کہتا ہے کہ "رحبہ کوفہ" سے مراد مسجد کوفہ کے درمیان میں موجود چبوترے کو کہا جاتا ہے جہاں بیٹھ کر امام علی(ع) لوگوں کو وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے۔ اسی طرح جب کہا جاتا ہے کہ آپ(ع) نے خوارج سے حاصل ہونے والے غنائم "رحبہ" پر رکھ دیا تو اس سے مراد بھی یہی مقام ہے۔[8]

خطبہ کا وجہ تسمیہ

اس خطبے کو اس کے ابتدائی جملے یعنی "واللّهِ لَقَدْ تَقَمَّصَها فلان" کی وجہ سے "خطبہ مُقَمّصہ" کا نام دیا جاتا ہے، جس کے معنی کپڑا پہننے کے ہیں اور یہاں پر امام(ع) خلافت کو لباس پہننے سے تشبیہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ابوبکر باوجودیکہ کہ جانتا تھا کہ خلافت کی یہ لباس اس کے لئے موزون نہیں ہے، پھر بھی اسے زیب تن کیا ہے۔ لیکن اس خطبے کا مشہور نام "شقشقیہ" ہے جسے اس خطبے کے اختتام پر ابن عباس کی جانب سے جاری رکھنے کے درخواست پر امام نے فرمایا تھا کہ: "هیهاتَ یا ابنَ عباس تلک شِقشِقَةٌ هَدَرَت ثُم قَرَّت." یعنی افسوس ابن عباس یہ توایک شقشقہ تھا جوابھر کر دب گیا، سے لیا گیا ہے۔ اور ماہرین لغت اور نہج البلاغہ کی شرح لکھنے والے حضرات کی باتوں سے جو چیز معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ شقشقہ سے مراد اونٹ کے منہ میں وہ گوشت کا لوتھڑا ہے جو غصہ اور ہیجان کے وقت باہر نکل آتا ہے جو عام عادی حالتوں میں باہر نہیں نکلتا۔ یہاں پر امام(ع) اپنی حالت کو اس اونٹ کی حالت کے ساتھ تشبیہ دے رہے ہیں جو غصہ اور ہیجان کی حالت میں ہو گویا ایک لحظہ کیلئے ہیجانی کیفیت میں یہ خطبہ ارشاد فرمایا تھا اور اب نارمل حالت میں ہے اب اسے جاری رکھنا نہیں چاہتے ہیں۔ اس طرح آپ نے اس خطبے کو جاری رکھنے سے متعلق ابن عباس کی درخواست کو رد فرمایا۔ اس بنا پر ابن عباس کہتے ہیں کہ جس قدر اس خطبے کے نامکمل رہ جانے پر مجھے افسوس ہوا اتنا کسی اور کلام کے نامکمل رہنے پر افسوس نہیں ہوا۔

سید رضی سے پہلے اس خطبے کے اسناد

اس خطبے میں خلفائے ثلاثہ پر کڑی تنقید کی وجہ سے بعض اہل سنت علماء کی جانب سے نہ تنہا اس خطبے کی سند کو مشکوک قرار دیا گیا بلکہ کہا جاتا ہے کہ اہل سنت کے درمیان خود نہج البلاغہ کی سند کے مشکوک ہونے کی علت بھی یہی خطبہ ہے۔[9] لیکن حقیقت میں یہ تردید اور اس قسم کے شکوک و شبہات باطل ہیں اور یہ خطبہ نہج البلاغہ کی اشاعت سے پہلے بھی مختلف منابع میں موجود تھا اور اس کی سند بھی خود امام علی(ع) تک ان منابع میں مذکور ہے۔ علامہ امینی نے کتاب الغدیر میں سید رضی کے علاوہ 28 دوسرے راستوں سے اس خطبے کو بیان کیا ہے۔[10] کتاب "پرتوی از نہج البلاغہ" میں اس خطبے کے 22 سند بیان کئے ہیں جن میں سے 8 منابع کا تعلق سید رضی سے پہلے، 5 منابع سید رضی کے معاصر اور باقی 9 منابع نہج البلاغہ کی تصنیف کے بعد سے ہے۔ پانچویں صدی ہجری میں نہج البلاغہ کے علاوہ مستقل اور الگ منابع میں میں اس خطبے کو ذکر کیا گیا ہے۔[11] اس کے علاوہ اس خطبے کے بعد حصے شاہد مثال کے طور پر مختلف ادبی اور لغت کی کتابوں جیسے: ابن اثیر کی کتاب النہایہ، فیروزآبادی کی کتاب قاموس، ابن منظور کی کتاب لسان العرب اور میدانی کی کتاب مجمع الامثال وغیرہ میں بھی آئے ہیں۔[12] ذیل میں اس خطبے کے بعد اسناد کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

  1. ابن ابی الحدید (متوفای ۶۵۶ق.) جو ایک سنّی اور معتزلی ہے اس خطبے کی تشریح کے بعد کہتے ہیں: سن 603 ہجری میں نے اپنے استاد مصدق بن شبیب واسطی سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ: اس خطبے (یعنی خطبہ شقشقیہ) کو عبداللہ بن احمد جو ابن خشاب کے نام سے معروف ہے کے پاس پڑھا... پھر ان سے کہا: آیا اس خطبے کو امام علی(ع) کی طرف نسبت دی جاتی ہے کیا اسے جھوٹ اور جعلی سمجھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: خدا کی قسم میں اس طرح جانتا ہوں یہ خطبہ خود حضرت علی ہی کی ہے جس طرح میں جانتا ہوں کہ تم مصدق ہو۔ میں نے کہا اکثر لوگ کہتے ہیں کہ یہ خطبہ سید رضی کا ہے۔ تو انہوں نے کہا: سید رضی اور اس جیسے کہاں اور یہ انداز بیاں کہاں؟ ہم نے سید رضی کی کتابیں دیکھی ہیں اور نثر میں ان کے انداز بیان سے ہم واقف ہیں انہوں نے اس خطبے میں کسی اچھی یا بری چیز کا اضافہ نہیں کیا ہے۔ پھر انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا خدا کی قسم اس خطبے کو سید رضی کی ولادت سے 200 سال پہلے لکھی گئی کتابوں میں دیکھا ہے اور ان کتابوں کے مصنفوں کی لکھائی کو بھی میں جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ کتابیں کن ادیبوں اور مصنفوں کی ہیں اور یہ ساری باتیں سید رضی کے والد ابو احمد کی پیدائش سے پہلے کی ہیں۔[13] ابن ابی الحدید آگے چل کر کہتے ہیں: میں نے اس خطبے کے اکثر حصوں کو میرے استاد ابوالقاسم بلخی جو بغداد میں معتزلیوں کے امام تھے، کی یادداشتوں میں بھی دیکھا ہے اور میرے استاد سید رضی سے پہلے زمانے کے ہیں۔ اسی طرح اس خطبے کے بہت سارے حصوں کو ابوجعفر بن قبہ جو کہ ایک شیعہ متکلم تھے کی مشہور کتاب جو کتاب الانصاف کے نام سے معروف ہے میں بھی دیکھا ہے۔ یہ ابوجعفر شیخ ابوالقاسم بلخی رحمۃ اللہ تعالی کے شاگردوں میں سے تھا اور یہ اسی وقت سید رضی کی ولادت سے پہلے فوت ہوگئے تھے۔[14]
  2. ایک اور شخصیت جس نے سید رضی سے پہلے "خطبہ شقشقیہ" کو اپنے آثار میں مستند طور پر خود امام علی(ع) سے نقل کی ہے وہ شیخ صدوق (متوفای ۳۸۱ق.) کی ذات ہے۔ انہوں نے ایک دفعہ علل الشرائع میں[15] اور دوسری دفعہ معانی الاخبار میں اس خطبے کو ذکر کیا ہے۔[16] دونوں کتابوں میں شیخ صدوق نے اس خطبے کو دو واسطوں سے نقل کرتے ہیں اور خطبے کی اختتام پر مشکل الفاظ کی تشریح بھی کرتے ہیں۔
  3. شیخ مفید (متوفای ۴۱۳ق.) جو سید رضی کے استاد بھی ہیں اپنی کتاب الارشاد میں اس خطبے کو نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بعض راویوں نے مختلف طریقوں سے اس خطبے کو نقل کئے ہیں۔[17] اسی طرح آپ المسألتان فی النص علی علی(ع) نامی کتاب میں اس خطبے کو معروف اور مشہور خطبات میں شمار کرتے ہیں۔[18] اور یہ اس بات کی نشانی ہے کہ شیخ مفید کے دور میں نہ تنہا اس خطبے کے سند میں کوئی شکوک و شبہات پائے جاتے تھے بلکہ یہ خطبہ ایک مشہور و معروف خطبہ شمار ہوتا تھا۔ پھر شیخ مفید کتاب الجمل میں اس کو اس قدر مشہور قرار دیتے ہیں کہ اس کے بارے میں کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔[19]

غصب خلافت

غصب خلافت کے حوالے سے اس خطبے میں امام علی(ع) نے جو خلفاء پر تنقید کی ہے یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے جس کی وجہ سے اس خطبے کی سند میں شکوک و شبہات ایجاد کی جائے کیونکہ خود امام علی(ع) نے اس خطبے کے علاوہ اور بہت سارے موارد اس موضوع پر پر بحث کی ہے جو شیعہ اور اہل سنت دونوں منابع میں نمایاں طور پر پایا جاتا ہے۔ ذیل میں تقریب ذہن کی خاطر ان میں سے بعض موارد کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔

اس خطبے سے ہٹ کر خلفاء کے بارے میں امام(ع) کا رویہ

جاحظ (متوفای ۲۵۵ق. یعنی نہج البلاغہ کی نصنیف سے تقریبا ڈیڑھ صدی پہلے) البیان و التبیین نامی کتاب میں ایک خطبہ امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) سے نقل کرتے ہیں جس میں یوں آیا ہے: "... جب وہ دونوں [یعنی پہلا اور دوسرا خلیفہ] گذر گئے تو تیسرا [تیسرا خلیفہ] اٹھا اس حالت میں کہ کوئے کی طرح اس کا ہم و غم اس کا پیٹ تھا؛ وای ہو اس پر اگر اس کے دونوں پروں اور اس کے سر کو جسم سے جدا کیا جاتا تو بہتر تھا"۔[20] ابن ابی الحدید نے بھی اس خطبے کو جاحظ سے ہی نقل کیا ہے۔[21]

ابن عبد ربہ (متوفای ۳۲۸ق.) جو سید رضی سے پہلے زندگی بسر کرتے تھے اپنی کتاب العقد الفرید میں اس خطبے کو مختصر تفاوت کے ساتھ نقل کرتا ہے۔[22]

ابوبکر اور عمر کا خلافت کو غصب کرنا، معاویہ کی زبانی

معاویہ، محمد بن ابی بکر کے نام ایک خط میں کہتا ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) کی وفات کے بعد تمہارے والد [یعنی ابوبکر] اور اس کا فاروق [یعنی عمر] وہ پہلے اشخاص تھے جنہوں نے اس [یعنی علی(ع)] کا حق غصب کیا اور حکومت میں اس سے اختلافت کیا۔ یہ دونوں [یعنی ابوبکر اور عمر] اس کام (یعنی غصب خلافت) پر متحد تھے۔[23]

ترجمہ

نہج البلاغہ کے ترجمے کے ضمن میں ہونے والے ترجموں کے علاوہ اس خطبے کا مستقل اور الگ ترجمے بھی منظر عام پر آ چکی ہے ذیل میں بعض کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔

  1. ترجمہ خطبہ شقشقیہ. فارسی. مترجم علی انصاری. سن ۱۳۵۴ش ۱۴ صفحات پر مشتمل۔[24]
  2. خطبہ شقشقیہ کا منظوم ترجمہ... مترجم سیدمحمدتقی بن امیرمحمد مؤمن حسینی قزوینی ۱۲۷۰.[25]
  3. ترجمہ خطبہ شقشقیہ. فارسی. مترجم اور کتاب کا نام نامعلوم، اس کا نسخہ آستان قدس لائبریری میں موجود ہے۔[26]

شرحیں

  1. تفسیر الخطبۃ الشقشقیۃ، شرح الخطبۃ الشقشقیۃ. عربی. سید مرتضی وفات ۴۳۶.[27] مجموعہ رسائل الشریف المرتضی. ج۲.[28]
  2. الشقشقیۃ‬: دراسۃ موضوعیۃ لشخصیات تصدت للخلافۃ الاسلامیہ‬‫، عبدالرسول الغفاری.[29]
  3. امیر مؤمنین حضرت علی(ع) کی ایک جلا دینے والی آہ (خطبہ شقشقیہ کی شرح)، علی اصغر رضوانی.‬[30]
  4. سایبان سیاہ (شرح خطبہ شقشقیہ امیرمؤمنین علی علیہ‌السلام)، نادر فضلی.[31]
  5. الشذرات العلویہ فی شرح الخطبہ الشقشقیہ للامام علی علیہ‌السلام، ابوذر الغفاری.[32]
  6. شرح خطبہ شقشقیہ (نسخہ خطی).[33]
  7. شرح خطبہ شقشقیہ (نسخہ خطی).[34]
  8. شرح خطبہ شقشقیہ، مرتضی قاسمی کاشانی.[35]
  9. شرح خطبہ شقشقیہ (نسخہ خطی).[36]
  10. خطبہ شقشقیہ، ترجمہ و شرح، محمدباقر رشاد زنجانی.[37]
  11. خطبہ شقشقیہ میں شیعہ عقاید، محمد اسدی گرمارودی.[38]
  12. ‫المسائل التطبیقیہ علی الخطبہ الشقشقیہ، علی التبریزی.‬[39]
  13. التوضیحات التحقیقیۃ فی شرح الخطبۃ الشقشقیۃ. سید علی اکبر بن سید محمد بن سید دلدار علی، وفات ۱۳۲۶.[40]
  14. شرح خطبہ شقشقیہ. ملا ابراہیم گیلانی گیارہویں صدی کے علماء میں سے تھے اس کا اصلی نسخہ قم میں موجود تھا۔[41]
  15. شرح خطبہ شقشقیہ. میرزا ابوالمعالی کلباسی وفات ۱۳۱۵.[42]
  16. شرح خطبہ شقشقیہ. تاج العلماء لکہنوی متوفای ۱۳۱۲ ق.[43]
  17. شرح خطبہ شقشقیہ. فارسی. خطبہ شقشقیہ کا منظوم ترجمہ، مترجم سیدمحمدتقی قزوینی وفات ۱۲۷۰. اس کا نسخہ کتابخانہ مدرسہ سپہسالار و دانشگاہ تہران میں موجود ہے۔[44]
  18. شرح الخطبۃ الشقشقیۃ. عربی. سید جعفر بن صادق العابد.[45]
  19. شرح خطبہ شقشقیہ. سید علاء الدین گلستانہ مؤلف کتاب حدائق الحقائق اس کا نسخہ صاحب ذریعہ نے نجف میں سید محمد باقر یزدی کے یہاں دیکھا ہے۔[46]
  20. شرح الخطبۃ الشقشقیۃ. عربی. خطیب معروف سید علی ہاشمی.[47]
  21. شرح خطبہ شقشقیہ. شیخ ہادی بنانی مؤلف شرح الخطبۃ الزینبیۃ معاصر شیخ انصاری.[48]
  22. شرح خطبہ شقشقیہ. عربی. مؤلف نسخہ مورخ سدہ سیزدہم آن در کتابخانہ ملی موجود است.[49]
  23. شرح خطبہ شقشقیہ. عربی. مؤلف نسخہ مورخ سدہ سیزدہم آن در کتابخانہ ملی موجود است.[50]
  24. النقد السدید شرح الخطبۃ الشقشقیۃ لابن ابی الحدید. عربی. شیخ محسن کریم، دو جلد، پہلی جلد سن ۱۳۸۳ کو نجف میں منظر عام پر آیا ہے۔[51]
  25. کشف السحاب فی شرح الخطبۃ الشقشقیۃ. ملا حبیب إلہ کاشانی متوفای ۱۳۴۰ق.[52]


خطبہ شقشقیہ کا متن اور ترجمہ

متن ترجمہ

أَمَا وَ اللَّهِ لَقَدْ تَقَمَّصَهَا فُلَانٌ وَ إِنَّهُ لَيَعْلَمُ أَنَّ مَحَلِّي مِنْهَا مَحَلُّ الْقُطْبِ مِنَ الرَّحَى يَنْحَدِرُ عَنِّي السَّيْلُ وَ لَا يَرْقَى إِلَيَّ الطَّيْرُ فَسَدَلْتُ دُونَهَا ثَوْباً وَ طَوَيْتُ عَنْهَا كَشْحاً وَ طَفِقْتُ أَرْتَئِي بَيْنَ أَنْ أَصُولَ بِيَدٍ جَذَّاءَ أَوْ أَصْبِرَ عَلَى طَخْيَةٍ عَمْيَاءَ يَهْرَمُ فِيهَا الْكَبِيرُ وَ يَشِيبُ فِيهَا الصَّغِيرُ وَ يَكْدَحُ فِيهَا مُؤْمِنٌ حَتَّى يَلْقَى رَبَّه ُ.فَرَأَيْتُ أَنَّ الصَّبْرَ عَلَى هَاتَا أَحْجَى فَصَبَرْتُ وَ فِي الْعَيْنِ قَذًى وَ فِي الْحَلْقِ شَجًا أَرَى تُرَاثِي نَهْباً حَتَّى مَضَى الْأَوَّلُ لِسَبِيلِهِ فَأَدْلَى بِهَا إِلَى فُلَانٍ بَعْدَهُ ـ ثُمَّ تَمَثَّلَ بِقَوْلِ الْأَعْشَى ـ :شَتَّانَ مَا يَوْمِي عَلَى كُورِهَا * وَ يَوْمُ حَيَّانَ أَخِي جَابِرِ فَيَا عَجَباً بَيْنَا هُوَ يَسْتَقِيلُهَافِي حَيَاتِهِ إِذْ عَقَدَهَا لِآخَرَ بَعْدَ وَفَاتِهِ لَشَدَّ مَا تَشَطَّرَا ضَرْعَيْهَا فَصَيَّرَهَا فِي حَوْزَةٍ خَشْنَاءَ يَغْلُظُ كَلْمُهَا وَ يَخْشُنُ مَسُّهَا وَ يَكْثُرُ الْعِثَارُ فِيهَا وَ الِاعْتِذَارُ مِنْهَا فَصَاحِبُهَا كَرَاكِبِ الصَّعْبَةِ إِنْ أَشْنَقَ لَهَا خَرَمَ وَ إِنْ أَسْلَسَ لَهَا تَقَحَّمَ فَمُنِيَ النَّاسُ لَعَمْرُ اللَّهِ بِخَبْطٍ وَ شِمَاسٍ وَ تَلَوُّنٍ وَ اعْتِرَاضٍ فَصَبَرْتُ عَلَى طُولِ الْمُدَّةِ وَ شِدَّةِ الْمِحْنَةِ حَتَّى إِذَا مَضَى لِسَبِيلِهِ جَعَلَهَا فِي جَمَاعَةٍ زَعَمَ أَنِّي أَحَدُهُمْ فَيَا لَلَّهِ وَ لِلشُّورَى مَتَى اعْتَرَضَ الرَّيْبُ فِيَّ مَعَ الْأَوَّلِ مِنْهُمْ حَتَّى صِرْتُ أُقْرَنُ إِلَى هَذِهِ النَّظَائِرِ لَكِنِّي أَسْفَفْتُ إِذْ أَسَفُّوا وَ طِرْتُ إِذْ طَارُوا فَصَغَا رَجُلٌ مِنْهُمْ لِضِغْنِهِ وَ مَالَ الْآخَرُ لِصِهْرِهِ مَعَ هَنٍ وَ هَنٍ إِلَى أَنْ قَامَ ثَالِثُ الْقَوْمِ نَافِجاً حِضْنَيْهِ بَيْنَ نَثِيلِهِ وَ مُعْتَلَفِهِ وَ قَامَ مَعَهُ بَنُو أَبِيهِ يَخْضَمُونَ مَالَ اللَّهِ خِضْمَةَ الْإِبِلِ نِبْتَةَ الرَّبِيعِ إِلَى أَنِ انْتَكَثَ عَلَيْهِ فَتْلُهُ وَ أَجْهَزَ عَلَيْهِ عَمَلُهُ وَ كَبَتْ بِهِ بِطْنَتُهُ. فَمَا رَاعَنِي إِلَّا وَ النَّاسُ كَعُرْفِ الضَّبُعِ إِلَيَّ يَنْثَالُونَ عَلَيَّ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ حَتَّى لَقَدْ وُطِئَ الْحَسَنَانِ وَ شُقَّ عِطْفَايَ مُجْتَمِعِينَ حَوْلِي كَرَبِيضَةِ الْغَنَمِ فَلَمَّا نَهَضْتُ بِالْأَمْرِ نَكَثَتْ طَائِفَةٌ وَ مَرَقَتْ أُخْرَى وَ قَسَطَ آخَرُونَ كَأَنَّهُمْ لَمْ يَسْمَعُوا اللَّهَ سُبْحَانَهُ يَقُولُ تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُها لِلَّذِينَ لا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَ لا فَساداً وَ الْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ بَلَى وَ اللَّهِ لَقَدْ سَمِعُوهَا وَ وَعَوْهَا وَ لَكِنَّهُمْ حَلِيَتِ الدُّنْيَا فِي أَعْيُنِهِمْ وَ رَاقَهُمْ زِبْرِجُهَا أَمَا وَ الَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَ بَرَأَ النَّسَمَةَ لَوْ لَا حُضُورُ الْحَاضِرِ وَ قِيَامُ الْحُجَّةِ بِوُجُودِ النَّاصِرِ وَ مَا أَخَذَ اللَّهُ عَلَى الْعُلَمَاءِ أَلَّا يُقَارُّوا عَلَى كِظَّةِ ظَالِمٍ وَ لَا سَغَبِ مَظْلُومٍ لَأَلْقَيْتُ حَبْلَهَا عَلَى غَارِبِهَا وَ لَسَقَيْتُ آخِرَهَا بِكَأْسِ أَوَّلِهَا وَ لَأَلْفَيْتُمْ دُنْيَاكُمْ هَذِهِ أَزْهَدَ عِنْدِي مِنْ عَفْطَةِ عَنْزٍ . قَالُوا وَ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ السَّوَادِ عِنْدَ بُلُوغِهِ إِلَى هَذَا الْمَوْضِعِ مِنْ خُطْبَتِهِ فَنَاوَلَهُ كِتَاباً قِيلَ إِنَّ فِيهِ مَسَائِلَ كَانَ يُرِيدُ الْإِجَابَةَ عَنْهَا فَأَقْبَلَ يَنْظُرُ فِيهِ [فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَتِهِ] قَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَوِ اطَّرَدَتْ خُطْبَتُكَ مِنْ حَيْثُ أَفْضَيْتَ . فَقَالَ : هَيْهَاتَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ تِلْكَ شِقْشِقَةٌ هَدَرَتْ ثُمَّ قَرَّتْ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَوَاللَّهِ مَا أَسَفْتُ عَلَى كَلَامٍ قَطُّ كَأَسَفِي عَلَى هَذَا الْكَلَامِ أَلَّا يَكُونَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ (عليه السلام) بَلَغَ مِنْهُ حَيْثُ أَرَادَ .

خدا کی قسم ! فلان (ابوبکر) نے پیراہنِ خلافت پہن لیا حالانکہ وہ میرے بارے میں اچھی طرح جانتا تھا کہ میرا خلافت میں وہی مقام ہے جو چکی کے اندر اس کی کیل کا ہوتا ہے میں وہ (کوہ ُ بلند ہوں ) جس پر سے سیلاب کا پانی گزر کر نیچے گر جاتا ہے اور مجھ تک پرندہ َپر نہیں مار سکتا۔ (اس کے باوجود) میں نے خلافت کے آگے پردہ لٹکا دیا اور اس سے پہلو تہی کرلی اور سوچنا شروع کیا کہ اپنے کٹے ہوئے ہاتھوں سے حملہ کروں یا اس سے بھیانک تیرگی پر صبر کرلوں جس میں سنِ رسیدہ بالکل ضعیف اور بچہ بوڑھا ہو جاتا ہے۔ اور مومن اس میں جدوجہد کرتا ہوا اپنے پروردگار کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ مجھے اس اندھیر پر صبر ہی قرینِ عقل نظر آیا۔ لہذا میں نے صبر کیا۔ حالانکہ آنکھوں میں (غبار اندوہ کی )خلش تھی اور حلق میں (غم ورنج) كے پھندے لگے ہوئے تھے۔ میں اپنی میراث کو لٹتے دیکھ رہا تھا۔ یہاں تک کہ پہلے نے اپنی راہ لی اور اپنے بعد خلافت ابنِ خطاب کو دے گیا۔ (پھر حضرت نے بطورِ تمثیل اعشی کا یہ شعر پڑھا۔)

" کہاں یہ دن جو ناقہ کے پالان پر کٹتا ہے اور کہاں وہ دن جو حیان برادر جابر کی صحبت میں گزرتا تھا۔"

تعجب ہے کہ وہ زندگی میں تو خلافت سے سبکدوش ہونا چاہتا تھا۔ لیکن اپنے مرنے کے بعد اس کی بنیاد دوسرے کے لئے استوار کرتا گیا۔ بے شک ان دونوں نے سختی کے ساتھ خلافت کے تھنوں کو آپس میں بانٹ لیا۔ اس نے خلافت کو ایک سخت و درشت محل میں رکھ دیا۔ جس کے چرکے کاری تھے۔ جس کو چھو کر بھی درشتی محسوس ہوتی تھی۔ جہاں بات بات میں ٹھوکر کھانا اور پھر عذر کرنا تھا۔ جس کا اس سے سابقہ پڑے ہو ایسا ہے جیسے سرکش اونٹنی کو سوار کہ اگر مہار کھینچتا ہے تو (اس کی منہ زوری سے ) اس کی ناک کا درمیانی حصہ ہی شگافتہ ہوا جاتا ہے جس کے بعد مہار دینا ہی ناممکن ہو جائے گا) اور اگر باگ کو ڈھیلا چھوڑ دیتا ہے تو وہ اس کے ساتھ مہلکوں میں پڑ جائے گا۔ اس کی وجہ سے بقائے ایزد کی قسم ! لوگ کجروی، سرکشی، متلون مزاجی اور بے راہ روی میں مبتلا ہو گئے میں نے اس طویل مدت اور شدید مصیبت پر صبر کیا۔ یہاں تک کہ دوسرا بھی اپنی راہ لگا، اور خلافت کو ایک جماعت میں محدود کر گیا۔ اور مجھے بھی اس جماعت کا ایک فرد خیال کیا۔ اے اللہ مجھے اس شوریٰ سے کیا لگاؤ؟ ان میں کے سب سے پہلے کے مقابلہ ہی میں میرے استحقاق و فضیلت میں کب شک تھا جو اب ان لوگوں میں میں بھی شامل کر لیا گیا ہوں۔ مگر میں نے یہ طریقہ اختیار کیا تھا کہ جب وہ زمین کے نزدیک پرواز کرنے لگیں تو میں بھی ایسا ہی کرنے لگوں اور جب وہ اونچے ہو کر اڑنے لگیں تو میں بھی اسی طرح پرواز کروں (یعنی حتی الامکان کسی نہ کسی صورت سے نباہ کرتا رہوں۔) ان میں سے ایک شخص تو کینہ وعناد کی وجہ سے مجھ سے منحرف ہو گیا اور دوسرا مادی اور بعض ناگفتہ بہ باتوں کی وجہ سے ادھر جھک گیا۔ یہاں تک کہ اس قوم کا تیسرا شخص پیٹ پھلائے سرگین اور چارے کے درمیان کھڑا ہوا اور اس کے ساتھ اس کے بھائی بند اٹھ کھڑے ہوئے۔ جو اللہ کے مال کو اس طرح نگلتے تھے جس طرح اونٹ فصلِ ربیع کا چارہ چرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آگیا۔ جب اس کی بٹی ہوئی رسی کے بَل کھِل گئے اورا س کی بد اعمالیوں نے اسی کا کام تمام کر دیا۔ اور شکم پری نے اسے منہ کے بل گرا دیا۔ اس وقت مجھے لوگوں کے ہجوم نے دہشت زدہ کر دیا جو میری جانب بچو کے ایال کی طرح ہر طرف سے لگاتار بڑھ رہا تھا یہاں تک کہ عالم یہ ہوا کہ حسن علیہ اور حسین علیہ کچلے جارہے تھے اور میری ردا کے دونوں کنارے پھٹ گئے تھے وہ سب میرے گرد بکریوں کے گلے کی طرح گھیرا ڈالے ہوئے تھے۔ مگر اس کے باوجود جب میں امر خلافت کو لے کر اٹھا تو ایک گروہ نے بیعت توڑ ڈالی اور دوسرا دین سے نکل گیا اور تیسرے گروہ نے فسق اختیار کر لیا۔ گویا انہوں نے اللہ کا یہ ارشاد سنا ہی نہ تھا کہ » یہ آخرت کا گھر ہم نے ان لوگوں کے لئے قرار دیا ہے جو دنیا میں نہ (بے جا) بلندی چاہتے ہیں نہ فساد پھیلاتے ہیں۔ اور اچھا انجام پرہیز گاروں کے لئے ہے۔« ہاں ہاں خدا کی قسم! ان لوگوں نے اس کو سنا تھا اور یاد کیا تھا۔ لیکن ان کی نگاہوں میں دنیا کا جمال کھب گیا اور اس کی سج دھج نے انہیں لبھا دیا۔ دیکھو اس ذات کی قسم جس نے دانے کو شگافتہ کیا اور ذی روح چیزیں پیدا کیں۔ اگر بیعت کرنے والوں کی موجودگی اور مدد کرنے والوں کے وجود سے مجھ پر حجت تمام نہ ہوگئی ہوتی اور وہ عہد نہ ہوتا جو اللہ نے علماء سے لے رکھا ہے۔ کہ وہ ظالم کی شکم پری اور مظلوم کی گرسنگی پر سکون و قرار سے نہ بیٹھیں تو میں خلافت کی باگ ڈور اسی کے کندھے پر ڈال دیتا اور اس کے آخر کو اسی پیالے سے سیراب کرتا جس پیالے سے اس کے اوّل کو سیراب کیا تھا اور تم پانی دنیا کو میری نظروں میں بکری کی چھینک سے بھی زیادہ ناقابلِ اعتنا پاتے۔

حوالہ جات

  1. بہ نقل: محمدی، المعجم المفہرس لالفاظ نہج البلاغہ، جدول اختلاف نسخ، ص ۲۳۵.
  2. نسخہ صبحی صالح، فیض الاسلام، ابن میثم، فی ظلال، خویی، ابن ابی الحدید، عبده، ملاصالح.
  3. نسخہ مفتی جعفر حسین اور ذیشان حیدر جوادی.
  4. طالقانی، پرتوی از نہج البلاغہ، ص۱۲۸.
  5. مفید، ارشاد، ج۱، ص۲۸۷.
  6. الراوندی، منہاج البراعۃ فی شرح نہج البلاغۃ، ج۱، ص۱۳۳.
  7. مدنی، الطراز الأول، ج۲، ص۶۱.
  8. مطرزی، المغرب، ج‌۱، ص۳۲۴.
  9. الحسینی الخطیب، مصادر نہج البلاغۃ وأسانیدہ، ج۱، ص۳۳۶.
  10. الامینی، الغدیر، ج۷، صص۱۰۹-۱۱۵.
  11. رجوع کریں: طالقانی، پرتوی از نہج البلاغہ، صص۱۲۴-۱۲۸.
  12. طالقانی، پرتوی از نہج البلاغہ، ص۱۲۸.
  13. ابن أبی الحدید، شرح نہج البلاغۃ، ج۱، ص۲۰۵.
  14. ابن أبی الحدید، شرح نہج البلاغۃ، ج۱، صص۲۰۵-۲۰۶.
  15. الصدوق، علل الشرائع، ج۱، ص۱۵۰.
  16. الصدوق، معانی الاخبار، ص۳۶۱.
  17. المفید، الارشاد، ص۲۸۷.
  18. المفید، المسألتان فی النص علی علی(ع)، ص۲۸.
  19. المفید، الجمل، ص۶۲.
  20. الجاحظ، البیان والتبیین، ص۲۳۸.
  21. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۱، ص۲۷۶.
  22. ابن عبد ربہ، العقد الفرید، ج۴، ص۱۵۷.
  23. المسعودی، مروج الذہب ومعادن الجوہر، ج۳، صص۱۲-۱۳.
  24. استادی، کتابنامہ نہج البلاغہ، ص۱۳.
  25. استادی، کتابنامہ نہج البلاغہ، ص۱۳.
  26. استادی، کتابنامہ نہج البلاغہ، ص۱۳.
  27. استادی، کتابنامہ نہج البلاغہ، ص۲۱.
  28. http://opac.nlai.ir/opac-prod/bibliographic/531991
  29. http://opac.nlai.ir/opac-prod/bibliographic/28ff1ii099
  30. http://opac.nlai.ir/opac-prod/bibliographic/2000653
  31. http://opac.nlai.ir/opac-prod/bibliographic/593117
  32. http://opac.nlai.ir/opac-prod/bibliographic/2620809
  33. http://opac.nlai.ir/opac-prod/bibliographic/807165
  34. http://opac.nlai.ir/opac-prod/bibliographic/807300
  35. http://opac.nlai.ir/opac-prod/bibliographic/577339
  36. http://opac.nlai.ir/opac-prod/bibliographic/1804ff1ii2
  37. http://opac.nlai.ir/opac-prod/bibliographic/2994093
  38. http://opac.nlai.ir/opac-prod/bibliographic/771346
  39. http://opac.nlai.ir/opac-prod/bibliographic/2091715
  40. استادی، کتابنامہ نہج البلاغہ، صص۲۲-۲۳.
  41. استادی، کتابنامہ نہج البلاغہ، ص۳۲.
  42. استادی، کتابنامہ نہج البلاغہ، ص۳۲.
  43. استادی، کتابنامہ نہج البلاغہ، ص۳۲.
  44. استادی، کتابنامہ نہج البلاغہ، ص۳۲.
  45. استادی، کتابنامہ نہج البلاغہ، ص۳۲.
  46. استادی، کتابنامہ نہج البلاغہ، صص۳۲-۳۳.
  47. استادی، کتابنامہ نہج البلاغہ، ص۳۳.
  48. استادی، کتابنامہ نہج البلاغہ، ص۳۳.
  49. استادی، کتابنامہ نہج البلاغہ، ص۳۳.
  50. استادی، کتابنامہ نہج البلاغہ، ص۳۳.
  51. استادی، کتابنامہ نہج البلاغہ، ص۳۸.
  52. استادی، کتابنامہ نہج البلاغہ، ص۵۵.


منابع

  • نہج البلاغہ، ترجمہ سیدجعفر شہیدی، تہران: علمی و فرہنگی، ۱۳۷۷.
  • الامینی، عبدالحسین، الغدیر فی الکتاب والسنۃ والادب، قم: مرکز الغدیر للدراسات الاسلامیۃ، ۱۴۱۶ق-۱۹۹۵م.
  • ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق: محمد ابوالفضل ابراہیم، ج۱،‌دار احیاء الکتب العربیۃ، ۱۳۷۸/۱۹۵۹م. (نسخہ موجود در لوح فشردہ کتابخانہ اہل بیت(ع)، نسخہ دوم).
  • ابن عبد ربہ، احمد بن محمد، العقد الفرید، تحقیق: مفید محمد قمیحہ، بیروت:‌دار الکتب العلمیۃ، بی‌تا.
  • استادی، رضا، کتابنامہ نہج البلاغہ، تہران: بنیاد نہج البلاغہ، ۱۳۵۹ش.
  • الحسینی الخطیب، السید عبد الزہراء، مصادر نہج البلاغۃ وأسانیدہ، ج۱، بیروت:‌دار الزہراء، ۱۴۰۹ق.-۱۹۸۸م.
  • الجاحظ، البیان والتبیین، مصر: المکتبۃ التجاریۃ الکبری لصاحبہا مصطفی محمد، ۱۳۴۵ق./۱۹۲۶م. (نسخہ موجود در لوح فشردہ کتابخانہ اہل بیت(ع)، نسخہ دوم).
  • الراوندی، قطب الدین، منہاج البراعۃ فی شرح نہج البلاغۃ، تحقیق: السید عبد اللطیف الکوہکمری، قم: مکتبۃ آیۃ اللہ المرعشی العامۃ، ۱۴۰۶. (نسخہ موجود در لوح فشردہ کتابخانہ اہل بیت(ع)، نسخہ دوم).
  • الصدوق، علل الشرائع، ج۱، نجف: منشورات المکتبۃ الحیدریۃ و مطبعتہا، ۱۳۸۵/۱۹۶۶م. نسخہ موجود در لوح فشردہ کتابخانہ اہل بیت(ع)، نسخہ دوم).
  • الصدوق، معانی الاخبار، تصحیح و تحقیق: علی اکبر الغفاری، قم: مؤسسۃ النشر الاسلامی التابعۃ لجماعۃ المدرسین، ۱۳۷۹/۱۳۳۸ش. (نسخہ موجود در لوح فشردہ کتابخانہ اہل بیت(ع)، نسخہ دوم).
  • طالقانی، محمود، پرتوی از نہج البلاغہ، مصحّح: سیدمحمدمہدی جعفری، تہران: سازمان چاپ و انتشارات وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی، ۱۳۷۴.
  • محمدی، سیدکاظم، دشتی، محمد، المعجم المفہرس لالفاظ نہج البلاغہ، قم: نشر امام علی(ع)، ۱۳۶۹ش.
  • المسعودی، مروج الذہب ومعادن الجوہر، قم: دارالہجرۃ، ۱۴۰۴ق.-۱۳۶۳ش.-۱۹۸۴م. (نسخہ موجود در لوح فشردہ کتابخانہ اہل بیت(ع)، نسخہ دوم).
  • مدنی، علی خان بن احمد، الطراز الأول، مشہد: مؤسسۃ آل البیت علیہم السلام لاحیاء التراث، ۱۳۸۴ ہ. ش. (نسخہ موجود در لوح فشردہ قاموس النور (۲.
  • مطرزی، ناصر بن عبدالسید، المغرب، محقق/ مصحح: فاخوری، محمود/ مختار، عبدالحمید، حلب: مکتبہ اسامہ بن زید، ۱۹۷۹ م.
  • المفید، الارشاد، قم: مؤسسۃ آل البیت لتحقیق التراث، ۱۴۱۴/۱۹۹۳م. (نسخہ موجود در لوح فشردہ کتابخانہ اہل بیت(ع)، نسخہ دوم).
  • المفید، المسألتان فی النص علی علی(ع)، تحقیق: محمدرضا الانصاری، ج۲، بیروت: ۱۴۱۴/۱۹۹۳م. (نسخہ موجود در لوح فشردہ کتابخانہ اہل بیت(ع)، نسخہ دوم).
  • المفید، الجمل، قم: مکتبۃ الداوری، بی‌تا. (نسخہ موجود در لوح فشردہ کتابخانہ اہل بیت(ع)، نسخہ دوم).