"صارف:Hkmimi/تمرین" کے نسخوں کے درمیان فرق
Hakimi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Hakimi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
سطر 7: | سطر 7: | ||
== مفہومشناسی == | == مفہومشناسی == | ||
خیر میں اضافہ کے معنی آنے والا برکت،<ref>دہخدا، امثال و حکم، ۱۳۸۳ش، ج۱، ص۱۰۴، ۱۱۴، ۳۵۹.</ref> کا لفظ ایک نسبی لفظ جانا گیا ہے اسی وجہ سے ہر چیز میں خیر اس کی ظرفیت اور کام کے مطابق ہے۔ مثلا نسل میں برکت سے مراد اولاد کی تعداد کا زیادہ ہونا ہے، وقت میں برکت سے مراد انسان کے کام کسی خاص وقت میں پھیل جانے کے معنی میں ہیں۔<ref>علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۷، ص۲۸۰-۲۸۱.</ref> | خیر میں اضافہ کے معنی آنے والا برکت،<ref>دہخدا، امثال و حکم، ۱۳۸۳ش، ج۱، ص۱۰۴، ۱۱۴، ۳۵۹.</ref> کا لفظ ایک نسبی لفظ جانا گیا ہے اسی وجہ سے ہر چیز میں خیر اس کی ظرفیت اور کام کے مطابق ہے۔ مثلا نسل میں برکت سے مراد اولاد کی تعداد کا زیادہ ہونا ہے، وقت میں برکت سے مراد انسان کے کام کسی خاص وقت میں پھیل جانے کے معنی میں ہیں۔<ref>علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۷، ص۲۸۰-۲۸۱.</ref> | ||
قرآن مجید میں برکات کی اصطلاح جاوید نعمتیں اور بڑھتی ہوئی نیکیوں کے لیے استعمال ہوئی ہے؛<ref>طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۴، ص۶۹۷.</ref> اسی لیے آسمان کی برکات سے مراد بارش کی فراوانی، زمین کی برکات سے مراد نباتات اور میوجات کی فراوان لیا ہے۔<ref>شیخ طوسی، التبیان، ۱۳۸۳ق، ج۴، ص۴۷۷.</ref> قرآن مجید میں تبارک کا لفظ صرف اللہ تعالی کے استعمال ہوا ہے<ref> | قرآن مجید میں برکات کی اصطلاح جاوید نعمتیں اور بڑھتی ہوئی نیکیوں کے لیے استعمال ہوئی ہے؛<ref>طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۴، ص۶۹۷.</ref> اسی لیے آسمان کی برکات سے مراد بارش کی فراوانی، زمین کی برکات سے مراد نباتات اور میوجات کی فراوان لیا ہے۔<ref>شیخ طوسی، التبیان، ۱۳۸۳ق، ج۴، ص۴۷۷.</ref> قرآن مجید میں تبارک کا لفظ صرف اللہ تعالی کے استعمال ہوا ہے<ref>علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۵، ۱۷۳.</ref>جبکہ اس کے مترادف دیگر الفاظ انسان، حادثات اور خاص مقامات کے لیے مشترک استعمال ہوئے ہیں۔<ref>طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۴، ص۵۱۶، ۵۹۶.</ref> | ||
برکت کا لفظ جمع کی شکل (برکات) میں قرآن مجید میں تین مرتبہ استعمال ہوا ہے<ref> | برکت کا لفظ جمع کی شکل (برکات) میں قرآن مجید میں تین مرتبہ استعمال ہوا ہے<ref>سورہ اعراف، آیہ ۹۶؛ سورہ ہود، آیہ ۴۸ و ۷۳.</ref>جس کو بعض مفسرین اللہ کی فراوان برکت کی نشانی سمجھتے ہیں۔<ref>قدمی، «برکت: پیدایش، پایداری و فزونی خیر در پدیدہ ہا از سوی خداوند» ج۵، ص۴۸۶.</ref> برکت کے مترادف دیگر الفاظ جیسے «بارک»،<ref>سورہ فصلت، آیہ ۱۰.</ref> «بارکنا»،<ref>سورہ اعراف، آیہ ۱۳۷؛ سورہ اسراء، آیہ ۱؛ سورہ انبیا، آیہ ۷۱ و ۸۱؛ سورہ سبا، آیہ ۱۸؛ سورہ صافات، آیہ ۱۱۳.</ref> «بورک»،<ref>سورہ نمل، آیہ ۸.</ref> «مبارک»،<ref>سورہ انعام، آیہ ۹۲ و ۱۵۵؛ سورہ انبیاء، آیہ ۵۰؛ سورہ ص، آیہ ۲۹.</ref> «مبارکا»،<ref>سورہ آل عمران، آیہ ۳؛ سورہ مریم، آیہ ۳۱؛ سورہ مؤمنون، آیہ ۲۹؛ سورہ ق، آیہ ۹.</ref> «مبارکۃ»<ref>سورہ نور، آیہ ۶۱ و ۳۵؛ سورہ دخان، آیہ ۳.</ref> اور «تبارک»<ref>سورہ اعراف، آیہ ۵۴؛ سورہ فرقان، آیہ ۱ و ۱۰ و ۶۱؛ سورہ زخرف، آیہ ۶۵؛ سورہ الرحمن، آیہ ۷۸؛ سورہ ملک، آیہ ۱.</ref> ۳۲ مرتبہ قرآن میں استعمال ہوئے ہیں۔ | ||
«برک» سے مشتق ہونے والے الفاظ قرآن مجید میں ہمیشہ اللہ تعالی سے مستند ہیں؛ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ برکت ایجاد کرنے والی ذات صرف اللہ کی ہے۔<ref>قدمی، «برکت: پیدایش، پایداری و فزونی خیر در | «برک» سے مشتق ہونے والے الفاظ قرآن مجید میں ہمیشہ اللہ تعالی سے مستند ہیں؛ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ برکت ایجاد کرنے والی ذات صرف اللہ کی ہے۔<ref>قدمی، «برکت: پیدایش، پایداری و فزونی خیر در پدیدہہا از سوی خداوند» ج۵، ص۴۸۶.</ref> برکت کا لفظ اہل بیتؑ کی روایات میں بھی ذکر ہوا ہے اور اسے [[جنود عقل]] میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔<ref>کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۲۲.</ref> | ||
برکت کا مفہوم قرآن مجید اور اسلامی متون کے علاوہ اسلام سے پہلے کی آسمانی کتابوں میں بھی استعمال ہوا ہے؛ اللہ تعالی کی طرف سے انبیاءؑ کو برکت عطا کرنا، انبیاء اور کاہنوں کی طرف سے دوسروں کو عطا کرنا، ان موارد میں سے بعض ہیں۔<ref>قدمی، «برکت: پیدایش، پایداری و فزونی خیر در پدیدہ ہا از سوی خداوند» ج۵، ص۴۸۴.</ref> «برک/ برخ» سے مشتق ہونے والے الفاظ اور عبری لفظ «براخاہ» جو کہ برکت کے معنی میں ہے تقریباً 400 مرتبہ [[عہد عتیق]] اور متعدد بار [[عہد جدید]] میں استعمال ہوا ہے۔<ref>کریمی، برکت، ج۱۱، ص۷۴۴.</ref> | برکت کا مفہوم قرآن مجید اور اسلامی متون کے علاوہ اسلام سے پہلے کی آسمانی کتابوں میں بھی استعمال ہوا ہے؛ اللہ تعالی کی طرف سے انبیاءؑ کو برکت عطا کرنا، انبیاء اور کاہنوں کی طرف سے دوسروں کو عطا کرنا، ان موارد میں سے بعض ہیں۔<ref>قدمی، «برکت: پیدایش، پایداری و فزونی خیر در پدیدہ ہا از سوی خداوند» ج۵، ص۴۸۴.</ref> «برک/ برخ» سے مشتق ہونے والے الفاظ اور عبری لفظ «براخاہ» جو کہ برکت کے معنی میں ہے تقریباً 400 مرتبہ [[عہد عتیق]] اور متعدد بار [[عہد جدید]] میں استعمال ہوا ہے۔<ref>کریمی، برکت، ج۱۱، ص۷۴۴.</ref> | ||
== عوامل == | == عوامل == | ||
اسلامی تہذیب میں برکت انسان کے کردار، رفتار اور گفتار سے وابستہ ہے؛ اسی لیے قرآن مجید اور معصومینؑ کی روایات میں [[ایمان]]، [[تقوا]]، [[استغفار]]، [[شکر]]، اطاعت، [[ذکر|ذکر خدا]]،<ref>علامہ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۰، ص۳۴۱.</ref> [[عدالت]]،<ref>لیثی واسطی، عیون الحکم و المواعظ، ۱۳۷۶ش، ص۱۸۸.</ref> سحرخیزی،<ref>نہج البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، خط ۱۲.</ref> نرم مزاجی،<ref>کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۱۱۹.</ref> [[سلام|سلام کرنا]]،<ref>صدوق، علل الشرایع، ۱۳۸۵ق، ج۲، ص۵۸۳.</ref> [[صدقہ|صدقہ دینا]]،<ref>سورہ بقرہ، آیہ ۲۷۶؛ لیثی واسطی، عیون الحکم و المواعظ، ۱۳۷۶ش، ص۱۹۵؛ کلینی، الکافی، ۱۴۰۳ق، ج۴، ص۲.</ref> صفائی کا خیال رکھنا،<ref> | اسلامی تہذیب میں برکت انسان کے کردار، رفتار اور گفتار سے وابستہ ہے؛ اسی لیے قرآن مجید اور معصومینؑ کی روایات میں [[ایمان]]، [[تقوا]]، [[استغفار]]، [[شکر]]، اطاعت، [[ذکر|ذکر خدا]]،<ref>علامہ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۰، ص۳۴۱.</ref> [[عدالت]]،<ref>لیثی واسطی، عیون الحکم و المواعظ، ۱۳۷۶ش، ص۱۸۸.</ref> سحرخیزی،<ref>نہج البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، خط ۱۲.</ref> نرم مزاجی،<ref>کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۱۱۹.</ref> [[سلام|سلام کرنا]]،<ref>صدوق، علل الشرایع، ۱۳۸۵ق، ج۲، ص۵۸۳.</ref> [[صدقہ|صدقہ دینا]]،<ref>سورہ بقرہ، آیہ ۲۷۶؛ لیثی واسطی، عیون الحکم و المواعظ، ۱۳۷۶ش، ص۱۹۵؛ کلینی، الکافی، ۱۴۰۳ق، ج۴، ص۲.</ref> صفائی کا خیال رکھنا،<ref>علامہ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۳، ص۱۱۰.</ref> شادی کے اخراجات کو کم کرنا،<ref>ابن حنبل، مسند، ۱۴۱۶ق، ج۶، ص۸۲، ۱۴۵.</ref> [[صلہ رحم]]،<ref>نہج البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، ۱۴۱۴ق، ص۱۶۴، خطبہ ۱۱۰؛ کوفی اہوازی، الزہد، ۱۴۰۲ق، ص۳۹.</ref> خرید و فروخت میں سچائی،<ref>ابن حنبل، مسند، ۱۴۱۶ق، ج۳، ص۴۰۲.</ref> ہمسایوں کا خیال رکھنا،<ref>علامہ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۱، ص۹۷.</ref> دینی بھائیوں سے مواسات<ref>علامہ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۱، ص۳۹۵.</ref> [[روزہ|روزہ رکھنا]] اور سحری کھانا<ref>ابن حنبل، مسند، ۱۴۱۶ق، ج۳، ص۱۲.</ref> برکت نازل ہونے کے علل و عوامل میں سے ذکر ہوئے ہیں۔ | ||
=== ایمان و تقوا === | === ایمان و تقوا === | ||
سطر 21: | سطر 21: | ||
=== استغفار === | === استغفار === | ||
در | در آیہ ۵۲ [[سورہ ہود]] و آیات ۱۰ تا ۱۳ [[سورہ نوح]]، نزول برکات خداوند، از جملہ باران، منوط بہ برداشتن موانع شدہ، و چون [[گناہ]] یکی از موانع نزول برکات دانستہ شدہ، استغفار بندگان، راہی برای جلب رحمت الہی معرفی شدہ است.<ref>علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۰، ص۴۴۴؛ ج۲۰، ص۴۵.</ref> | ||
بنابر | بنابر آنچہ در قرآن کریم آمدہ، خداوند، افزایش نعمتہای خود را بہ [[شکر]] انسان مشروط کردہ و در مقابل آن، [[کفران نعمت]] را عامل ازدیاد عذاب معرفی کردہ است.<ref>سورہ ابراہیم، آیہ ۷.</ref> [[امام علی(ع)]]، استغفار را وسیلہای دائمی برای فروریختن روزی و رحمت الہی دانستہ است.<ref>قمی مشہدی، تفسیر کنز الدقائق، ۱۳۶۸ش، ج۱۳، ص۴۵۴.</ref> | ||
== موانع == | == موانع == | ||
بنابر متون و | بنابر متون و فرہنگ اسلامی، انجام برخی از رفتارہا و سخنان، باعث محرومیت انسان از دریافت برکات خداوند خواہد شد؛ [[گناہ|ارتکاب گناہان]] و نافرمانی، ترک [[امر بہ معروف]] و [[نہی از منکر]] و غفلت از ذکر خدا،<ref>علامہ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۳، ص۳۱۴.</ref> از جملہ عواملی است کہ در [[قرآن]] و [[روایات]] بہعنوان موانع نزول برکات معرفی شدہ است. | ||
=== ارتکاب | === ارتکاب گناہ و نافرمانی === | ||
گناہان و نافرمانیہا از عوامل سلب برکت از مال، عمر و زندگی معرفی شدہ است؛ مفسران قرآن کریم، در تفسیر آیہ ۹۶ [[سورہ اعراف]]، عاقبت کسانی کہ مرتکب گناہ شدہ و پیامبران را تکذیب کردند، علاوہ بر عذاب الہی، محرومیت از دریافت برکات آسمانی و زمینی دانستہاند.<ref>طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲، ج۴، ص۶۹۸؛ فخر رازی، التفسیر الکبیر، ۱۴۲۰ق، ج۱۴، ص۳۲۲.</ref> | |||
اعمالی | اعمالی کہ موجب محرومشدن انسان از برکات الہی معرفی شدہ، عبارتند از: ترک نماز،<ref>ابن طاووس، فلاح السائل، ۱۴۰۶ق، ص۲۲.</ref> کمفروشی،<ref>صدوق، علل الشرایع، ۱۳۸۵ق، ج۲، ص۵۸۴.</ref> [[زکات|نپرداختن زکات]]،<ref>کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۳، ص۵۰۵.</ref> [[اسراف]]،<ref>کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۴، ص۵۵.</ref> خیانت،<ref>لیثی واسطی، عیون الحکم و المواعظ، ۱۳۷۶ش، ص۱۳۴.</ref> [[سرقت]]، [[شرابخواری]]، [[فحشا]]<ref>علامہ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۶، ص۱۹، ۲۳.</ref> و [[قسم دروغ|سوگند دورغ]] در معاملات.<ref>کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۵، ص۱۶۲.</ref> | ||
=== ترک امر | === ترک امر بہ معروف و نہی از منکر === | ||
ترک امر | ترک امر بہ معروف و نہی از منکر، از موانع نزول برکت معرفی شدہ است؛ بر اساس روایتی از [[پیامبر اسلام(ص)]]، دریافت برکات الہی تنہا تا زمانی میسر است کہ مردم امر بہ معروف و نہی از منکر کنند و بر کارہای خیر بہ یکدیگر یاری رسانند؛ ولی اگر آن را ترک کردند، نعمتہا و خیرات از آنہا دریغ میشود.<ref>شیخ مفید، المقنعہ، ۱۴۱۳ق، ص۸۰۸.</ref> | ||
== مصادیق == | == مصادیق == | ||
بنابر آیاتی از قرآن کریم، خداوند، بعضی از مخلوقات خود را از | بنابر آیاتی از قرآن کریم، خداوند، بعضی از مخلوقات خود را از مظاہر و نشانہہای برکت قرار دادہ است؛ از این جملہاند برخی از [[پیامبران]] و [[مؤمنان|مؤمنان صالح]]، [[قرآن کریم]]، بعضی از زمانہا، برخی از اماکن، و ہمچنین جلوہہایی از طبیعت. از این میان، دلیل بابرکت بودن قرآن کریم،<ref>سورہ انعام، آیہ ۹۲ و ۱۵۵؛ سورہ انبیاء، آیہ ۵۰؛ سورہ ص، آیہ ۲۹.</ref> ہدایتگر بودن آن دانستہ شدہ است.<ref>علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۷، ص۳۸۷.</ref> | ||
پیامبران و اشخاص دیگری | پیامبران و اشخاص دیگری کہ در قرآن کریم، بابرکت خواندہ شدہاند، عبارتند از [[نوح(ع)]] و ہمراہان او در [[کشتی نوح|کشتی]]،<ref>نگاہ کنید بہ: طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۵، ۲۵۵؛ بیضاوی، أنوار التنزیل، ۱۴۱۸ق، ج۳، ص۱۳۷.</ref> [[ابراہیم]] و فرزندانش، [[اسماعیل (پیامبر)|اسماعیل]] و [[اسحاق (پیامبر)|اسحاق]]،<ref>طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۸، ص۷۰۹؛ قرطبی، الجامع لأحکام القرآن، ۱۳۶۴ش، ج۱۵، ص۱۱۳؛ بیضاوی، أنوار التنزیل، ۱۴۱۸ق، ج۵، ص۱۶؛ علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۰، ص۳۲۵.</ref> [[موسی(ع)]]،<ref>طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۷، ۳۳۰؛ طبری، جامع البیان، ۱۴۱۲ق، ج۱۹، ص۸۲.</ref> [[عیسی(ع)]]،<ref>سورہ مریم، آیہ ۳۱؛ طبری، جامع البیان، ۱۴۱۲ق، ج۱۶، ص۶۶؛ فخر رازی، التفسیر الکبیر، ۱۴۲۰ق، ج۲۱، ص۵۳۵؛ قرطبی، الجامع لأحکام القرآن، ۱۳۶۴ش، ج۱۰، ص۷۰.</ref> [[پیامبر اسلام(ص)]]<ref>سورہ کوثر، آیہ ۱؛ شیخ طوسی، التبیان، ۱۳۸۵ق، ج۱۰، ۴۱۷؛ ابن عربی، تفسیر القرآن الکریم، ۱۹۷۸م، ج۲، ص۴۶۰.</ref> و [[مؤمنان]] و صالحان.<ref>سورہ بقرہ، آیہ ۲۶۹؛ سورہ ہود، آیہ ۴۸.</ref> | ||
ہمچنین، برخی از مکانہا و سرزمینہا مانند سرزمین [[مکہ]]،<ref>سورہ آل عمران، آیہ ۹۶؛ زمخشری، الکشاف، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۳۸۷؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۳، ص۱۴.</ref> [[شام]]،<ref>سورہ اعراف، آیہ ۱۳۷؛ سورہ انبیا، آیہ ۷۱ و ۸۱؛ سورہ سبا، آیہ ۱۸؛ فخر رازی، التفسیر الکبیر، ۱۴۲۰ق، ج۱۴، ص۳۴۸؛ علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۸، ص۲۲۸؛ زمخشری، الکشاف، ۱۴۰۷ق، ج۲، ۱۴۹؛ قرطبی، الجامع لأحکام القرآن، ۱۳۶۴ش، ج۷، ص۲۷۲؛ فخر رازی، التفسیر الکبیر، ۱۴۲۰ق، ج۲۲، ص۱۹۰-۲۰۱؛ طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۴، ص۷۲۵.</ref> [[بیت المقدس]]<ref>سورہ اسراء، آیہ ۱.</ref> و [[طور سیناء|وادی طور]]<ref>فخر رازی، التفسیر الکبیر، ۱۴۲۰ق، ج۲۴، ص۵۹۳.</ref>، مبارک و بابرکت دانستہ شدہ است. | |||
[[شب قدر]]، از | [[شب قدر]]، از جملہ زمانہایی است کہ بہ دلیل [[استجابت دعا]]، [[آمرزش گناہان]] و [[قرآن|نزول قرآن]] در آن،<ref>طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۹، ص۹۳.</ref> مبارک و بابرکت خواندہ شدہ است.<ref>سورہ دخان، آیہ ۳.</ref> ہمچنین بعضی از جلوہہای طبیعت، بابرکت معرفی شدہ؛ مانند باران کہ در قرآن کریم، «آب مبارک» دانستہ شدہ است.<ref>سورہ ق، آیہ ۹.</ref> | ||
==حوالہ جات== | ==حوالہ جات== |
نسخہ بمطابق 14:22، 2 دسمبر 2018ء
برکت، اللہ کی ابدی نعمتوں اور بڑھتی ہوئی نیکیوں کا نام ہے۔ یہ لفظ قرآن مجید میں تین مرتبہ ذکر ہوا ہے اور ہر بار اللہ تعالی سے منسوب ہے نیز برکت ایجاد کرنے کو اللہ تعالی ہی پر منحصر کیا گیا ہے۔
انسان کے لیے برکت کے باعث ہونے والی خصوصیات میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں: ایمان و تقوا، استغفار، ذکر، اللہ کی اطاعت، عدالت اور نرم مزاجی جبکہ ان کے مقابلے میں انسان کی بعض عادتیں ایسی بھی ہیں جو انسان کو برکت کے حصول میں رکاوٹ بنتی ہیں جیسے:
ارتکاب گناہ اور امر بالمعروف و نہی از منکر کو ترک کرنا۔
قرآن مجید کے مطابق اللہ تعالی کی مخلوقات میں سے بعض کو برکت کی نشانیاں قرار دی گئی ہیں۔ مثلاً بعض انبیاء جیسے حضرت نوح، صالح مومنین، قرآن کریم، بعض اوقات جیسے شب قدر، بعض مکانات، جیسے مکہ، بعض طبیعی جلوے جیسے بارش۔
مفہومشناسی
خیر میں اضافہ کے معنی آنے والا برکت،[1] کا لفظ ایک نسبی لفظ جانا گیا ہے اسی وجہ سے ہر چیز میں خیر اس کی ظرفیت اور کام کے مطابق ہے۔ مثلا نسل میں برکت سے مراد اولاد کی تعداد کا زیادہ ہونا ہے، وقت میں برکت سے مراد انسان کے کام کسی خاص وقت میں پھیل جانے کے معنی میں ہیں۔[2] قرآن مجید میں برکات کی اصطلاح جاوید نعمتیں اور بڑھتی ہوئی نیکیوں کے لیے استعمال ہوئی ہے؛[3] اسی لیے آسمان کی برکات سے مراد بارش کی فراوانی، زمین کی برکات سے مراد نباتات اور میوجات کی فراوان لیا ہے۔[4] قرآن مجید میں تبارک کا لفظ صرف اللہ تعالی کے استعمال ہوا ہے[5]جبکہ اس کے مترادف دیگر الفاظ انسان، حادثات اور خاص مقامات کے لیے مشترک استعمال ہوئے ہیں۔[6] برکت کا لفظ جمع کی شکل (برکات) میں قرآن مجید میں تین مرتبہ استعمال ہوا ہے[7]جس کو بعض مفسرین اللہ کی فراوان برکت کی نشانی سمجھتے ہیں۔[8] برکت کے مترادف دیگر الفاظ جیسے «بارک»،[9] «بارکنا»،[10] «بورک»،[11] «مبارک»،[12] «مبارکا»،[13] «مبارکۃ»[14] اور «تبارک»[15] ۳۲ مرتبہ قرآن میں استعمال ہوئے ہیں۔
«برک» سے مشتق ہونے والے الفاظ قرآن مجید میں ہمیشہ اللہ تعالی سے مستند ہیں؛ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ برکت ایجاد کرنے والی ذات صرف اللہ کی ہے۔[16] برکت کا لفظ اہل بیتؑ کی روایات میں بھی ذکر ہوا ہے اور اسے جنود عقل میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔[17]
برکت کا مفہوم قرآن مجید اور اسلامی متون کے علاوہ اسلام سے پہلے کی آسمانی کتابوں میں بھی استعمال ہوا ہے؛ اللہ تعالی کی طرف سے انبیاءؑ کو برکت عطا کرنا، انبیاء اور کاہنوں کی طرف سے دوسروں کو عطا کرنا، ان موارد میں سے بعض ہیں۔[18] «برک/ برخ» سے مشتق ہونے والے الفاظ اور عبری لفظ «براخاہ» جو کہ برکت کے معنی میں ہے تقریباً 400 مرتبہ عہد عتیق اور متعدد بار عہد جدید میں استعمال ہوا ہے۔[19]
عوامل
اسلامی تہذیب میں برکت انسان کے کردار، رفتار اور گفتار سے وابستہ ہے؛ اسی لیے قرآن مجید اور معصومینؑ کی روایات میں ایمان، تقوا، استغفار، شکر، اطاعت، ذکر خدا،[20] عدالت،[21] سحرخیزی،[22] نرم مزاجی،[23] سلام کرنا،[24] صدقہ دینا،[25] صفائی کا خیال رکھنا،[26] شادی کے اخراجات کو کم کرنا،[27] صلہ رحم،[28] خرید و فروخت میں سچائی،[29] ہمسایوں کا خیال رکھنا،[30] دینی بھائیوں سے مواسات[31] روزہ رکھنا اور سحری کھانا[32] برکت نازل ہونے کے علل و عوامل میں سے ذکر ہوئے ہیں۔
ایمان و تقوا
سورہ اعراف کی آیت 96 میں قرآن مجید نے زمینی اور آسمانی برکات کے نزول کو اہل زمین یا شہر کے اکثر لوگوں کے ایمان اور تقوای سے مشروط کیا ہے؛ لہذا تفاسیر میں جو کچھ اس آیت کے بارے میں ذکر ہوا ہے وہ یہ ہے کہ کچھ لوگوں کا ایمان اور تقوی، سب پر آسمانی برکات کے نزول کا ضامن نہیں بن سکتا ہے۔[33]
استغفار
در آیہ ۵۲ سورہ ہود و آیات ۱۰ تا ۱۳ سورہ نوح، نزول برکات خداوند، از جملہ باران، منوط بہ برداشتن موانع شدہ، و چون گناہ یکی از موانع نزول برکات دانستہ شدہ، استغفار بندگان، راہی برای جلب رحمت الہی معرفی شدہ است.[34]
بنابر آنچہ در قرآن کریم آمدہ، خداوند، افزایش نعمتہای خود را بہ شکر انسان مشروط کردہ و در مقابل آن، کفران نعمت را عامل ازدیاد عذاب معرفی کردہ است.[35] امام علی(ع)، استغفار را وسیلہای دائمی برای فروریختن روزی و رحمت الہی دانستہ است.[36]
موانع
بنابر متون و فرہنگ اسلامی، انجام برخی از رفتارہا و سخنان، باعث محرومیت انسان از دریافت برکات خداوند خواہد شد؛ ارتکاب گناہان و نافرمانی، ترک امر بہ معروف و نہی از منکر و غفلت از ذکر خدا،[37] از جملہ عواملی است کہ در قرآن و روایات بہعنوان موانع نزول برکات معرفی شدہ است.
ارتکاب گناہ و نافرمانی
گناہان و نافرمانیہا از عوامل سلب برکت از مال، عمر و زندگی معرفی شدہ است؛ مفسران قرآن کریم، در تفسیر آیہ ۹۶ سورہ اعراف، عاقبت کسانی کہ مرتکب گناہ شدہ و پیامبران را تکذیب کردند، علاوہ بر عذاب الہی، محرومیت از دریافت برکات آسمانی و زمینی دانستہاند.[38]
اعمالی کہ موجب محرومشدن انسان از برکات الہی معرفی شدہ، عبارتند از: ترک نماز،[39] کمفروشی،[40] نپرداختن زکات،[41] اسراف،[42] خیانت،[43] سرقت، شرابخواری، فحشا[44] و سوگند دورغ در معاملات.[45]
ترک امر بہ معروف و نہی از منکر
ترک امر بہ معروف و نہی از منکر، از موانع نزول برکت معرفی شدہ است؛ بر اساس روایتی از پیامبر اسلام(ص)، دریافت برکات الہی تنہا تا زمانی میسر است کہ مردم امر بہ معروف و نہی از منکر کنند و بر کارہای خیر بہ یکدیگر یاری رسانند؛ ولی اگر آن را ترک کردند، نعمتہا و خیرات از آنہا دریغ میشود.[46]
مصادیق
بنابر آیاتی از قرآن کریم، خداوند، بعضی از مخلوقات خود را از مظاہر و نشانہہای برکت قرار دادہ است؛ از این جملہاند برخی از پیامبران و مؤمنان صالح، قرآن کریم، بعضی از زمانہا، برخی از اماکن، و ہمچنین جلوہہایی از طبیعت. از این میان، دلیل بابرکت بودن قرآن کریم،[47] ہدایتگر بودن آن دانستہ شدہ است.[48]
پیامبران و اشخاص دیگری کہ در قرآن کریم، بابرکت خواندہ شدہاند، عبارتند از نوح(ع) و ہمراہان او در کشتی،[49] ابراہیم و فرزندانش، اسماعیل و اسحاق،[50] موسی(ع)،[51] عیسی(ع)،[52] پیامبر اسلام(ص)[53] و مؤمنان و صالحان.[54]
ہمچنین، برخی از مکانہا و سرزمینہا مانند سرزمین مکہ،[55] شام،[56] بیت المقدس[57] و وادی طور[58]، مبارک و بابرکت دانستہ شدہ است.
شب قدر، از جملہ زمانہایی است کہ بہ دلیل استجابت دعا، آمرزش گناہان و نزول قرآن در آن،[59] مبارک و بابرکت خواندہ شدہ است.[60] ہمچنین بعضی از جلوہہای طبیعت، بابرکت معرفی شدہ؛ مانند باران کہ در قرآن کریم، «آب مبارک» دانستہ شدہ است.[61]
حوالہ جات
- ↑ دہخدا، امثال و حکم، ۱۳۸۳ش، ج۱، ص۱۰۴، ۱۱۴، ۳۵۹.
- ↑ علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۷، ص۲۸۰-۲۸۱.
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۴، ص۶۹۷.
- ↑ شیخ طوسی، التبیان، ۱۳۸۳ق، ج۴، ص۴۷۷.
- ↑ علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۵، ۱۷۳.
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۴، ص۵۱۶، ۵۹۶.
- ↑ سورہ اعراف، آیہ ۹۶؛ سورہ ہود، آیہ ۴۸ و ۷۳.
- ↑ قدمی، «برکت: پیدایش، پایداری و فزونی خیر در پدیدہ ہا از سوی خداوند» ج۵، ص۴۸۶.
- ↑ سورہ فصلت، آیہ ۱۰.
- ↑ سورہ اعراف، آیہ ۱۳۷؛ سورہ اسراء، آیہ ۱؛ سورہ انبیا، آیہ ۷۱ و ۸۱؛ سورہ سبا، آیہ ۱۸؛ سورہ صافات، آیہ ۱۱۳.
- ↑ سورہ نمل، آیہ ۸.
- ↑ سورہ انعام، آیہ ۹۲ و ۱۵۵؛ سورہ انبیاء، آیہ ۵۰؛ سورہ ص، آیہ ۲۹.
- ↑ سورہ آل عمران، آیہ ۳؛ سورہ مریم، آیہ ۳۱؛ سورہ مؤمنون، آیہ ۲۹؛ سورہ ق، آیہ ۹.
- ↑ سورہ نور، آیہ ۶۱ و ۳۵؛ سورہ دخان، آیہ ۳.
- ↑ سورہ اعراف، آیہ ۵۴؛ سورہ فرقان، آیہ ۱ و ۱۰ و ۶۱؛ سورہ زخرف، آیہ ۶۵؛ سورہ الرحمن، آیہ ۷۸؛ سورہ ملک، آیہ ۱.
- ↑ قدمی، «برکت: پیدایش، پایداری و فزونی خیر در پدیدہہا از سوی خداوند» ج۵، ص۴۸۶.
- ↑ کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۲۲.
- ↑ قدمی، «برکت: پیدایش، پایداری و فزونی خیر در پدیدہ ہا از سوی خداوند» ج۵، ص۴۸۴.
- ↑ کریمی، برکت، ج۱۱، ص۷۴۴.
- ↑ علامہ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۰، ص۳۴۱.
- ↑ لیثی واسطی، عیون الحکم و المواعظ، ۱۳۷۶ش، ص۱۸۸.
- ↑ نہج البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، خط ۱۲.
- ↑ کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۱۱۹.
- ↑ صدوق، علل الشرایع، ۱۳۸۵ق، ج۲، ص۵۸۳.
- ↑ سورہ بقرہ، آیہ ۲۷۶؛ لیثی واسطی، عیون الحکم و المواعظ، ۱۳۷۶ش، ص۱۹۵؛ کلینی، الکافی، ۱۴۰۳ق، ج۴، ص۲.
- ↑ علامہ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۳، ص۱۱۰.
- ↑ ابن حنبل، مسند، ۱۴۱۶ق، ج۶، ص۸۲، ۱۴۵.
- ↑ نہج البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، ۱۴۱۴ق، ص۱۶۴، خطبہ ۱۱۰؛ کوفی اہوازی، الزہد، ۱۴۰۲ق، ص۳۹.
- ↑ ابن حنبل، مسند، ۱۴۱۶ق، ج۳، ص۴۰۲.
- ↑ علامہ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۱، ص۹۷.
- ↑ علامہ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۱، ص۳۹۵.
- ↑ ابن حنبل، مسند، ۱۴۱۶ق، ج۳، ص۱۲.
- ↑ علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۸، ص۲۰۱؛ فخر رازی، التفسیر الکبیر، ۱۴۲۰ق، ج۱۴، ص۳۲۱؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۶، ص۲۶۶.
- ↑ علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۰، ص۴۴۴؛ ج۲۰، ص۴۵.
- ↑ سورہ ابراہیم، آیہ ۷.
- ↑ قمی مشہدی، تفسیر کنز الدقائق، ۱۳۶۸ش، ج۱۳، ص۴۵۴.
- ↑ علامہ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۳، ص۳۱۴.
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲، ج۴، ص۶۹۸؛ فخر رازی، التفسیر الکبیر، ۱۴۲۰ق، ج۱۴، ص۳۲۲.
- ↑ ابن طاووس، فلاح السائل، ۱۴۰۶ق، ص۲۲.
- ↑ صدوق، علل الشرایع، ۱۳۸۵ق، ج۲، ص۵۸۴.
- ↑ کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۳، ص۵۰۵.
- ↑ کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۴، ص۵۵.
- ↑ لیثی واسطی، عیون الحکم و المواعظ، ۱۳۷۶ش، ص۱۳۴.
- ↑ علامہ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۶، ص۱۹، ۲۳.
- ↑ کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۵، ص۱۶۲.
- ↑ شیخ مفید، المقنعہ، ۱۴۱۳ق، ص۸۰۸.
- ↑ سورہ انعام، آیہ ۹۲ و ۱۵۵؛ سورہ انبیاء، آیہ ۵۰؛ سورہ ص، آیہ ۲۹.
- ↑ علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۷، ص۳۸۷.
- ↑ نگاہ کنید بہ: طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۵، ۲۵۵؛ بیضاوی، أنوار التنزیل، ۱۴۱۸ق، ج۳، ص۱۳۷.
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۸، ص۷۰۹؛ قرطبی، الجامع لأحکام القرآن، ۱۳۶۴ش، ج۱۵، ص۱۱۳؛ بیضاوی، أنوار التنزیل، ۱۴۱۸ق، ج۵، ص۱۶؛ علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۰، ص۳۲۵.
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۷، ۳۳۰؛ طبری، جامع البیان، ۱۴۱۲ق، ج۱۹، ص۸۲.
- ↑ سورہ مریم، آیہ ۳۱؛ طبری، جامع البیان، ۱۴۱۲ق، ج۱۶، ص۶۶؛ فخر رازی، التفسیر الکبیر، ۱۴۲۰ق، ج۲۱، ص۵۳۵؛ قرطبی، الجامع لأحکام القرآن، ۱۳۶۴ش، ج۱۰، ص۷۰.
- ↑ سورہ کوثر، آیہ ۱؛ شیخ طوسی، التبیان، ۱۳۸۵ق، ج۱۰، ۴۱۷؛ ابن عربی، تفسیر القرآن الکریم، ۱۹۷۸م، ج۲، ص۴۶۰.
- ↑ سورہ بقرہ، آیہ ۲۶۹؛ سورہ ہود، آیہ ۴۸.
- ↑ سورہ آل عمران، آیہ ۹۶؛ زمخشری، الکشاف، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۳۸۷؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۳، ص۱۴.
- ↑ سورہ اعراف، آیہ ۱۳۷؛ سورہ انبیا، آیہ ۷۱ و ۸۱؛ سورہ سبا، آیہ ۱۸؛ فخر رازی، التفسیر الکبیر، ۱۴۲۰ق، ج۱۴، ص۳۴۸؛ علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۸، ص۲۲۸؛ زمخشری، الکشاف، ۱۴۰۷ق، ج۲، ۱۴۹؛ قرطبی، الجامع لأحکام القرآن، ۱۳۶۴ش، ج۷، ص۲۷۲؛ فخر رازی، التفسیر الکبیر، ۱۴۲۰ق، ج۲۲، ص۱۹۰-۲۰۱؛ طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۴، ص۷۲۵.
- ↑ سورہ اسراء، آیہ ۱.
- ↑ فخر رازی، التفسیر الکبیر، ۱۴۲۰ق، ج۲۴، ص۵۹۳.
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۹، ص۹۳.
- ↑ سورہ دخان، آیہ ۳.
- ↑ سورہ ق، آیہ ۹.
منابع
- ابن حنبل، احمد، مسند، بیروت، موسسۃ الرسالۃ، ۱۴۱۶ھ۔
- ابن طاووس، علی بن موسی، فلاح السائل و نجاح المسائل، قم، بوستان کتاب، ۱۴۰۶ھ۔
- ابن عربی، محمد بن علی، تفسیر القرآن الکریم، تصحیح مصطفی غالب، بیروت، دار الاندلس، ۱۹۷۸م.
- بیضاوی، عبداللہ بن عمر، أنوار التنزیل و أسرار التأویل، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۱۸ھ۔
- دہخدا، علی اکبر، امثال و حکم، تہران، امیرکبیر، ۱۳۸۳شمسی ہجری۔
- شیخ صدوق، علی بن محمد، علل الشرایع، قم، کتابفروشی داوری، ۱۳۸۵ھ۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، تصحیح احمد حبیب عاملی، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، ۱۳۸۳ھ۔
- شیخ مفید، محمد بن محمد، المقنعہ، قم، کنگرہ جہانی ہزارہ شیخ مفید، ۱۴۱۳ھ۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، ناصرخسرو، ۱۳۷۲شمسی ہجری۔
- طبری، محمد بن جریر، جامع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار المعرفۃ، ۱۴۱۲ھ۔
- علامہ طباطبایی، محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، ۱۳۹۰ھ۔
- علامہ مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، دار الاحیاء التراث العربی، ۱۴۰۳ھ۔
- فخر رازی، محمد بن عمر، التفسیر الکبیر، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۲۰ھ۔
- قدمی، غلامرضا، «برکت: پیدایش، پایداری و فزونی خیر در پدیدہہا از سوی خداوند»، دائرۃ المعارف قرآن کریم، قم، بوستان کتاب، ۱۳۸۲شمسی ہجری۔
- قرطبی، محمد بن احمد، الجامع لأحکام القرآن، تہران، ناصر خسرو، ۱۳۶۴شمسی ہجری۔
- قمی مشہدی، محمد بن محمدرضا، تفسیر کنز الدقائق و بحر الغرائب، تصحیح حسین درگاہی، تہران، سازمان چاپ و انتشار وزارت ارشاد، ۱۳۶۸شمسی ہجری۔
- کریمی، محمود، «برکت»، دائرۃ المعارف بزرگ اسلامی، تہران، مرکز دائرۃ المعارف بزرگ اسلامی، ۱۳۸۱شمسی ہجری۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تصحیح علی اکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، ۱۴۰۷ھ۔
- کوفی اہوازی، حسین بن سعید، الزہد، تصحیح غلامرضا عرفانیان یزدی، قم، المطبعۃ العلمیۃ، ۱۴۰۹ھ۔
- لیثی واسطی، علی بن محمد، عیون الحکم و المواعظ، قم، دار الحدیث، ۱۳۷۶شمسی ہجری۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، ۱۳۷۱شمسی ہجری۔