فضیل بن یسار

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
فضیل بن یسار
معلومات شخصیت
مکمل نام فضیل بن یسار نہدی بصری
کنیت ابو القاسم، ابو مسور
لقب نہدی
دینی مشخصات
وجہ شہرت اصحاب امام باقر و اصحاب امام صادق، فقیہ و اصحاب اجماع


فضیل بن یسار، اصحاب اجماع میں سے ہیں۔ انہوں نے امام محمد باقر (ع) و امام جعفر صادق (ع) سے روایات نقل کی ہیں۔ 254 سے زائد احادیث کی سند میں آپ کا نام ذکر ہوا ہے اور علمائے رجال انہیں ثقہ تسلیم کرتے ہیں۔ امام صادق (ع) نے ان کے سلسلہ میں منا اہل البیت (ہم اہل بیت میں سے ہیں) کی تعبیر استعمال کی ہے۔

نسب و وطن

فضیل بن یسار نہدی بصری کا سلسلہ نسب یمن کے قبائل میں ایک قبیلہ بنی نہد سے ملتا ہے اور وہ نہد بن لیث یمنی کی اولاد میں سے ہیں۔[1] ان کی تاریخ ولادت کے بارے میں درست معلوم نہیں ہے۔ البتہ تاریخی مصادر کے مطابق ان کی ولادت پہلی صدی ہجری کے اواخر میں کوفہ میں ہوئی ہے۔ [حوالہ درکار]

انہوں نے اپنی زندگی کا ابتدائی دور کوفہ میں بسر کیا۔ اس کے بعد بصرہ ہجرت اختیار کی جس کی وجہ سے وہ بصری معروف ہوئے۔[2]

کنیت و لقب

ان کے بڑے بیٹے کا نام قاسم تھا اس لئے ان کی مشہور کنیت ابو القاسم ہے۔ البتہ بعض منابع میں ان کی کنیت ابو مسور بھی ذکر ہوئی ہے۔ ان کا مشہور لقب نہدی ہے۔[3]

مقام علمی

اصحاب اجماع

امام باقرؑ کے اصحاب
۱. زُرارَۃ بن اَعین
۲. مَعروفِ بنِ خَرَّبوذ
۳. بُرَید بن معاویہ
۴. ابوبصیر اَسَدی یا (ابوبصیر مرادی)
۵. فُضَیل بن یسار
۶. محمد بن مُسلِم

امام صادقؑ کے اصحاب
۱. جَمیل بن دَرّاج
۲. عبداللہ بن مُسکان
۳. عبداللہ بن بُکَیر
۴. حَمّاد بن عثمان
۵. حماد بن عیسی
۶. اَبان بن عثمان

امام کاظمؑ اور امام رضاؑ کے اصحاب
۱. یونس بن عبد الرحمن
۲. صَفوان بن یحیی
۳. اِبن اَبی عُمَیر
۴. عبداللہ بن مُغَیرِہ
۵. حسن بن محبوب یا (حسن بن علی بن فَضّال، فَضالَۃ بن ایوب و عثمان بن عیسی)
۶. احمد بن ابی نصر بزنطی

علمائے رجال نے فضیل بن یسار کو امام محمد باقر (ع) اور امام جعفر صادق (ع) کے اصحاب[4] اور اصحاب اجماع[5] میں شمار کیا ہے۔ منابع کے مطابق، شیعہ ماہرین رجال ان کی وثاقت اور ان کے علم کے بارے میں تاکید کرتے ہیں۔ کشی نے ان کا شمار ان لوگوں میں سے کیا جن کی عدالت اور وثاقت پر تمام علماء و فقہاء کا اتفاق و اجماع ہے۔ سب ان کی روایات کو صحیح تسلیم کرتے ہیں اور انہیں اصحاب امام باقر و امام صادق میں فقیہ ترین صحابی شمار کرتے ہیں۔[6] شیخ مفید انہیں بزرگ شیعہ فقہاء میں سے قرار دیتے ہیں، جن کی طرف احکام دین کو سیکھنے کے سلسلہ میں لوگ رجوع کرتے تھے اور علماء میں سے کسی نے بھی ان کی مذمت نہیں کی ہے۔[7]

ائمہ شیعہ کی نظر میں

رجال کے مصادر کی گزاشات کے مطابق، فضیل بن یسار اہل بیت (ع)، خاص طور پر امام جعفر صادق (ع) کے نزدیک ایک خاص منزلت کے حامل تھے۔ آںحضرت (ع) نے بعض موارد میں منجملہ ان میں سے ایک میں علی بن سعید بصری کو ان کے طرف رجوع کرنے کی تلقین کی اور ان کے مقام علمی کی تائید فرمائی۔[8] [نوٹ 1]


ایک روایت کے مطابق جب بھی امام صادق (ع) کی نگاہ فضیل پر پڑتی فرماتے تھے: خاشع افراد کو بشارت دے دو، جو بھی جنتی انسان کو دیکھنا چاہتا ہے وہ اس انسان کو دیکھ لے۔ یا فرمایا کرتے تھے: زمین فضیل بن یسار سے سکون اور انس حاصل کرتی ہے۔[9]

اسی طرح سے انہیں غسل دیتے وقت بعض اتفاقات پیش آئے، جب ان کی خبر امام صادق (ع) تک پہچی تو ان کے لئے خداوند عالم سے طلب رحمت کی اور فرمایا: ... هو منا أهل البيت۔ (وہ ہم اہل بیت میں سے ہیں)۔[10]

نقل روایت

فضیل بن یسار کا نام 254 سے زیادہ روایات میں نقل ہوا ہے۔ وہ امام باقر و امام صادق (ع) سے بلا واسطہ روایت نقل کرتے ہیں۔ ائمہ (ع) کے علاوہ انہوں نے زکریا بن عبد اللّه نقّاض و عبد الواحد مختار انصاری سے روایت نقل کی ہے۔ بہت سے افراد نے ان سے روایت نقل کی ہے جن میں بعض کا ذکر ذیل میں کیا جا رہا ہے:

موضوع روایات

فضیل کا رجحان فقہی روایات کی طرف زیادہ تھا۔ حالانکہ ان کی روایات میں توحید، ولایت و عصمت اہل بیت (ع) اور اخلاق جیسے موضوعات بھی شامل ہیں۔ لیکن ان کی توجہ زیادہ تر فقہی احکام کی طرف متمرکز تھیں۔ اسی سبب سے ان کے القاب میں سے ایک فقیہ شیعہ بھی ہے۔[12]

وفات

فضیل کی وفات امام صادق (ع) کے زمانہ میں ہوئی۔[13] حالانکہ ان کی وفات کی درست تاریخ واضح نہیں ہے۔ ان کے مقام وفات کے سلسلہ میں بھی صحیح اطلاع دسترس میں نہیں ہے لیکن چونکہ ان کے بصرہ سے خارج ہونے کے بارے میں کوئی بات تاریخ میں ذکر نہیں ہوئی ہے، لہذا احتمال پایا جاتا ہے کہ ان کی وفات وہیں ہوئی ہوگی۔[14]

حوالہ جات

  1. مدرس تبریزی، ریحانة الادب، ج۶، ص۲۷۰.
  2. طوسی، رجال، ص۲۶۹.
  3. نجاشی، رجال، ص۳۰۹.
  4. طوسی، رجال، ص۲۶۹ و ۱۴۳.
  5. طوسی، اختیار معرفہ الرجال، ج۲، ص ۵۰۷.
  6. طوسی، اختیار معرفه الرجال، ج۲، ص ۵۰۷.
  7. خویی، معجم الرجال الحدیث، ج ۱۳، ص ۳۳۶.
  8. وسائل الشیعہ، ج ۵، ص۳۸۹.
  9. طوسی، اختیار معرفت الرجال، ج۲، ص۴۷۳.
  10. طوسی، اختیار معرفت الرجال، ج۲، ص۴۷۳.
  11. خویی، معجم الرجال الحدیث، ج ۱۳، ص۳۳۸-۳۳۹.
  12. اردبیلی، جامع الروات، ج۲، ص۱۱.
  13. نجاشی، رجال، ص۳۰۹.
  14. طوسی، رجال، ص۲۶۹.
  1. علی بن سعید بصری کہتے ہیں: میں نے امام جعفر صادق (ع) سے سوال کیا: میں بنی عدی کے درمیان رہتا ہوں۔ موذن، امام جماعت اور تمام لوگ مخالف اہل بیت اور آپ کے اور شیعوں کے سر سخت دشمن ہیں۔ ان کے ساتھ میرے نماز پڑھنے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ حضرت نے جواب میں فرمایا: ان کے ساتھ نماز پڑھو تمہارے لئے وہی نماز کافی ہے۔ اس کے بعد فرمایا: اگر تم بصرہ گئے اور اس بارے میں تم سے فضیل بن یسار نے پوچھا اور تم نے یہ جواب بتایا جو میں نے تمہیں بتایا ہے تو تم فضیل کے فتوی پر عمل کرنا اور میرے فتوی کو چھوڑ دینا۔ علی بن سعید کہتے ہیں: میں بصرہ گیا اور جو کچھ میں نے امام (ع) سے سنا تھا انہیں بتایا تو فضیل نے کہا: میرے مولا نے جو کہا ہے اس کے سلسلہ میں وہ بہتر آگاہ ہیں۔ لیکن میں نے جو کچھ امام صادق (ع) اور امام باقر (ع) سے اس بارے میں بارہا فرماتے ہوئے سنا ہے وہ یہ ہے کہ جو نماز تم نے ناصبی اور دشمن اہل بیت (ع) کے پیچھے پڑھی ہے اس کی پرواہ نہ کرنا بلکہ تم سعی کرو کہ تم آہستہ سورہ قرائت کرتے رہو۔ وسائل الشیعہ جلد 5، صفحہ 389۔

مآخذ

  • اردبیلی، محمد بن علی، جامع الرواة، قم، منشورات مکتبہ آیت الله مرعشی نجفی، ۱۴۰۳ق
  • حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشيعہ إلى تحصيل مسائل الشريعہ، بیروت، دار احياء التراث العربي
  • خویی، ابو القاسم، معجم الرجال الحدیث، بیروت، دار الزهرا
  • طوسی، ابی جعفر، اختیار معرفت الرجال (رجال کشی)، مؤسسہ آل البیت لاحیاء التراث
  • طوسی، ابی جعفر، الرجال الطوسی، موسسہ نشر اسلامی، ۱۴۱۵ق
  • مدرس، محمد علی، ریحانہ الادب، خیام، ۱۳۶۹ش
  • نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی، مؤسسہ نشر اسلامی، ۱۴۲۴ق