فاقد سانچہ
حوالہ جاتی اصول کی عدم رعایت
علاقائی تقاضوں سے غیر مماثل
غیر جامع
تلخیص کے محتاج

ایمان ابو طالب

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

ایمان ابو طالب شیعہ اور اہل سنت کے درمیان اہم کلامی مباحث میں سے ایک موضوع رہا ہے۔ بعض تاریخی کتب اور بعض روایات کے مطابق رسول خدا(ص) کے چچا اور امیرالمؤمنین(ع)کے والد حضرت ابو طالب(ع) نے اسلام قبول نہیں کیا تھا اور آنحضرت(ص) پر ایمان لائے بغیر حالت شرک میں دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔ اہل سنت کے بعض علماء ابو طالب کے ایمان کے منکر ہیں اور انھوں نے ایسی روایات سے استناد و استدلال کیا ہے جن کے مطابق وہ ایمان نہیں لائے تھے اور حتی موت کے لمحات تک اپنے اجداد کے دین پر اصرار کرتے رہے ہیں۔

حضرت ابوطالب ہجرت سے تقریبا اسی سال قبل پیدا ہوئے۔ ان کا نام عبد مناف اور ایک قول کے مطابق "عمران" ہے اور چونکہ ان کے بڑے فرزند کا نام "طالب" تھا چنانچہ ابو طالب(ع) کی کنیت سے مشہور ہوئے۔ ابو طالب(ع) خاندان بنو ہاشم کے سربراہ اور حجاج کی رفادت (میزبانی) اور سقایت کے مناصب پر فائز تھے۔ بھتیجے محمد(ص)کی نبوت کے بعد پوری قوت اور پورے وجود سے آپ(ص) کی حمایت کا اہتمام کیا اور قریشی مشرکین کی طرف سے بنو ہاشم کے معاشی اور سماجی محاصرے کے دوران شعب ابی طالب میں چلے گئے اور محاصرہ ختم ہوا تو انھوں نے اتنے مصائب برداشت کئے تھے اور اس قدر صعوبتیں جھیلی تھیں کہ رنج و مشقت کی شدت کی وجہ سے ماہ ذوالقعدہ یا شوال سنہ 10 ہجری میں ـ ہجرت سے تین سال قبل ـ دنیا سے رخصت ہوئے۔

الم تعلموا انّ ابننا لا مكذب ٭٭٭ لدينا ولا يعني بقول الاباطل۔

کیا تم نہیں سمجھے کہ ہم اپنے بیٹے کو کبھی نہیں جھٹلاتے اور وہ بیہودہ باتوں کو اہمیت نہیں دیتے
وابيض يستسقي الغمام بوجهه ٭٭٭ ثمال اليتامی عصمة للارامل۔
وہ سفید چہرے والا جس کے صدق خدا سے بارش کی التجا کی جاتی ہے وہی جو یتیموں کا سہارا اور غریبوں کے حامی اور پالنے والا ہے
الم تعلموا إن النبي محمداً ٭٭٭ رسول امين خط في سالف الكُتب۔

کیا تم نہیں جانتے کہ نبی محمد(ص)کی نبوت سابقہ کتب میں مکتوب ہے؟
المفید، الفصول المختارة، صص283-284۔

ایمان ابو طالب کے منکرین کے دلائل

ایمان ابو طالب(ع) کے مخالفین نے اپنا دعوی ثابت کرنے کے لئے بعض روایات کا سہارا لیا ہے:

مشرک کے لئے استغفار سے نہی

آیت کا متن:

مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُواْ أَن يَسْتَغْفِرُواْ لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُواْ أُوْلِي قُرْبَى مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ۔
ترجمہ: پیغمبر کو اور انہیں جو ایمان لائے ہیں، یہ حق نہیں کہ وہ دعائے مغفرت کریں مشرکوں کے لیے، چاہے وہ عزیز ہوں بعد اس کے کہ ان پر ثابت ہو گیا وہ دوزخ والے ہیں۔

روایت کچھ یوں ہے کہ سعید بن مسیب نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ ابو طالب(ع) نے احتضار (حالت موت) میں رسول خدا(ص) کی طرف سے "لا الہ الا اللہ" کہنے کی تلقین قبول نہ کی اور اپنے آباء و اجداد کے دین پر گذر گئے۔ اور آپ(ص) نے فرمایا: خدا کی قسم! میں آپ کے لئے استغفار کروں گا اس وقت کہ اس سے باز رکھا جاؤں!، چنانچہ سورہ توبہ کی آیت 113 نازل ہوئی۔ کہ نبی اکرم(ص) اور ایمان لانے والوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مشرکین کے لئے استغفار کریں خواہ وہ ان کے عزیز ہی کیوں نہ ہوں۔[1]

جواب:
یہ بعید از قیاس ہے کیونکہ سورہ برائت قرآن کی آخری سورتوں میں سے ہے جبکہ ابو طالب(ع) کا انتقال طلوع اسلام کے ابتدائی برسوں میں انتقال کرگئے ہیں اور اس وقت رسول خدا(ص) مکہ میں تھے؛ اور قرطبی نے بھی اس آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس بات کا اقرار کیا ہے اور لکھا ہے: یہاں ایسی متعدد روایات ہیں جو آیت مذکورہ کے نزول کے سلسلے میں اس روایت سے متصادم ہیں اور یہ روایات صحیحۂ طیالسی اور ابن شیبہ، احمد بن حنبل، ترمذی، نسائی، ابو یعلی، ابن جریر طبری، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابوالشیخ اور حاکم نیشابوری نے نقل کی ہیں اور ابن مرویہ اور بیہقی نے ان روایات کو صحیح گردانا ہے اور "شعب الایمان والضیاء في المختارہ میں روایت کی ہے کہ "علی(ع)نے کہا: "میں نے ایک شخص کو اپنے مشرک والدین کے لئے استغفار کرتے ہوئے سنا اور اس شخص سے کہا: کیا تم اپنے والدین کے لئے استغفار کررہے ہو حالانکہ وہ مشرک تھے؟ تو اس نے کہا: کیا ابراہیم(ع) نے استغفار نہیں کیا؟ چنانچہ میں نے یہ بات رسول اللہ(ص) کو بتائی اور یہ آیت نازل ہوئی:مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُواْ أَن يَسْتَغْفِرُواْ ۔۔۔۔
[2]

اس روایت کی سند میں سعید بن مسیب وہ شخص ہے جو امیرالمؤمنین(ع)کی دشمنی کے حوالے سے جانا جاتا تھا اور علی(ع)سے اس کا انحراف واضح ہے چنانچہ کسی کے بارے میں دشمن اور معاند شخص کی روایت سے استدلال نہیں کیا جاسکتا۔[3]

بخاری ہی نے اپنی کتاب میں برائت کے نزول کے بارے میں لکھا ہے: "عن الْبَرَاء رضى الله عنه قَالَ آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ بَرَاءَة
ترجمہ: براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورت سورہ برائت ہے"۔[4]

بہرصورت تاریخ گواہ ہے کہ ابو طالب(ع) نے بعثت کے دسویں سال مکہ میں وفات پائی ہے اور اس سال کو نبی اکرم(ص) نے ابو طالب(ع) اور سیدہ خدیجۃالکبری(س) کی وفات کی بنا پر عام الحزن (یا صدمے کا سال) کا نام دیا ہے جبکہ سورہ توبہ اور آیت 113 سمیت اس کی تمام آیتیں دس سال بعد مدینہ میں نازل ہوئی ہیں اور سورہ برائت مشرکین کو پڑھ کر سنانے کے لئے علی(ع)کا مکہ روانہ کرنے کا واقعہ تاریخ کے ماتھے پر جھلک رہا ہے۔[5]

آیت نأی

آیت کا متن:

وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ وَإِن يُهْلِكُونَ إِلاَّ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ۔
ترجمہ: اور وہ (لوگوں کو) ان (کا کلام سننے اور ان کی طرف جانے) سے روکتے ہیں اور خود بھی ان سے دور رہتے ہیں اور وہ نہیں ہلاکت میں ڈالتے مگر خود اپنے کو اور انہیں شعور نہیں ہے۔

بعض لوگوں نے اس آیت کی شان نزول بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آیت ابو طالب(ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ انھوں نے ایک روایت نقل کی ہے کہ "راوی نے "کسی" سے سنا ہے کہ ابن عباس کہتے تھے کہ "ابو طالب(ع) لوگوں کو رسول خدا(ص) کو اذیت و آزار پہنچانے سے روکتے تھے اور خود بھی ان کے دین میں داخل نہیں ہورہے تھے!![6]

جواب

اولاً: یہ حدیث مرسل ہے کیونکہ یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ شخص کون ہے جس نے یہ بات ابن عباس سے سنی تھی!

ثانیاً: جس شخص نے کہا ہے کہ "میں نے ایک شخص سے سنا کہ ۔۔۔"، اس کو اہل سنت کے اصحاب رجال نے ضعیف گردانا ہے؛ اور اس کا نام "حبیب بن ابی ثابت" ہے۔[7]

ثالثاً: تفسیر طبری میں یہ روایت مختلف صورت میں منقول ہے اور وہ یوں کہ مذکورہ آیت کریمہ مشرکین کی شان میں نازل ہوئی ہے جو لوگوں کو رسول خدا(ص) پر ایمان لانے سے منع کرتے تھے اور خود بھی ایمان نہیں لاتے تھے۔[8]

رابعاً: آیت کے سیاق و سباق کو مد نظر رکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ تمام ضمائر کا مرجع مشرکین ہیں:

مثلا آیت 25 میں ارشاد ہوتا ہے:

وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ وَجَعَلْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْراً وَإِن يَرَوْاْ كُلَّ آيَةٍ لاَّ يُؤْمِنُواْ بِهَا حَتَّى إِذَا جَآؤُوكَ يُجَادِلُونَكَ يَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِنْ هَذَآ إِلاَّ أَسَاطِيرُ الأَوَّلِينَ۔
ترجمہ: اور ان (مشرکین) میں سے ایسے بھی ہیں جو آپ کی بات غور سے سنتے ہیں اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ اسے سمجھتے نہیں اور ان کے کانوں میں بھاری پن؛ اور اگر وہ ہر ہر طرح کا معجزہ دیکھ لیں جب بھی اس پر ایمان نہیں لائیں گے، یہاں تک کہ جب آپ کے پاس بحث کرتے ہوئے آئیں گے تو یہ کافر کہیں گے کہ یہ نہیں ہیں مگر اگلے لوگوں کی داستانیں۔

چنانچہ آیت 26 میں ارشاد ہوتا ہے:
اور [علاوہ ازیں] وہ (لوگوں کو) ان [کا کلام سننے اور ان پر ایمان لانے] سے روکتے [اور دور کرتے] ہیں اور خود بھی ان سے دور رہتے ہیں [اور ان پر ایمان نہیں لاتے] اور ہلاکت میں نہیں ڈالتے مگر خود اپنے کو اور انہیں شعور نہیں ہے۔

حدیث ضَحضاح

مخالفین "ضحضاح" نامی حدیث کا سہارا لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول خدا(ص) کے پاس ابو طالب(ع) کو یاد کیا تو آپ(ص) نے فرمایا: "مجھے امید ہے کہ میری شفاعت قیامت کے روز ان کے لئے مفید ہو، وہ آگ کے ذریعے ابلے ہوئے پانی میں قرار پائیں گے اور پانی ان کے ٹخنوں تک پہنچے گا اور وہاں سے ان کے مغز تک کو ابھال دے گا![9]

جواب:

اولاً: حدیث ضحضاح کے بارے میں تمام منقولہ اقوال کا راوی مغیرہ بن شعبہ ہے جو بنوہاشم کے حق میں ایک بخیل (اور بقولے ظنین اور متہم) شخص ہے کیونکہ ان کے ساتھ اس کی دشمنی مشہور ہے اور وہ ان کے ساتھ دشمنی کا اظہار کرتا تھا؛ اور مروی ہے کہ ایک دفعہ اس نے شراب نوشی کی اور جب نشہ چڑھ گیا تو کسی نے پوچھا: بنو ہاشم کی امامت کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے تو اس نے کہا: خدا کی قسم! میں کبھی بھی کسی ہاشمی کے لئے خیر و خوبی نہیں چاہتا؛ مغیرہ علاوہ ازيں فاسق شخص تھا۔[10] ابن ابی الحدید کہتے ہیں: محدثین و مفسرین کا کہنا ہے کہ حدیث ضحضاح کو سب نے ایک ہی شخص سے نقل کیا ہے اور وہ شخص مغیرہ بن شعبہ ہے جس کا بغض بنو ہاشم بالخصوص علی علیہ السلامکی نسبت مشہور و معلوم ہے اور اس کا قصہ (قصۂ زنا) اور اس کا فسق ایک غیر مخفی امر ہے۔[11]۔[12]

ثانیاً: فرض کریں کہ اگر ابو طالب(ع) مؤمن اور مسلمان نہ ہوتے تو پھر رسول خدا(ص) کی طرف سے ان کے لئے شفاعت کی امید چہ معنی دارد؟ جب کہ شفاعت مشرک اور کافر کے شامل حال ہوتی ہی نہیں۔[13]

ایمان ابوطالب کے دلائل

علمائے شیعہ نے مخالفین کے دلائل کے کافی شافی جوابات دیئے ہیں اور ان کو باطل کردیا ہے اور اس بحث کو ایک انحرافی بحث سمجھتے ہیں اور رسول خدا(ص) اور ائمہ(ع) کی احادیث کی روشنی میں، ابو طالب(ع) کے ایمان پر ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے؛ تاہم مخالفین کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے ان کے ایمان پر دلائل کافیہ اور براہین قاطعہ قائم کئے ہیں، جن میں سے بعض کی طرف یہاں اشارہ کیا گیا ہے:

ابو طالب(ع) کی ذاتی روش

ہم نے دیکھا کہ ابو طالب(ع) ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے حبشہ کے بادشاہ کو اسلام کی دعوت دی، وہی جنہوں نے اپنے بیٹے کو دعوت دی اور حکم دیا کہ نماز میں اپنے چچا زاد بھائی(ص) سے جاملیں۔ وہی جنہوں نے اپنی زوجہ مکرمہ اپنی زوجۂ مکرمہ فاطمہ بنت اسد(س) اور اپنی اولاد کو اسلام کی دعوت دی ہے۔ اور اپنے بھائی حمزہ کو دین اسلام میں ثابت قدمی کی تلقین کی اور ان کے اسلام لانے پر سرور و شادمانی کا اظہار کیا اور اپنے بیٹے امیرالمؤمنین(ع)کی حوصلہ افزائی کی۔[14]۔[15] انھوں نے بیٹے علی(ع)کو رسول اکرم(ص) کے ساتھ نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا تو انہيں منع نہيں کیا بلکہ بیٹے جعفر سے کہا کہ جاکر بائیں جانب سے ان کی جماعت میں شامل ہوجائیں اور نماز ادا کریں۔[16]۔[17]

انھوں نے رسول خدا(ص) کا ساتھ دیتے ہوئے تمام مصائب کو جان کی قیمت دے کر خریدا اور زندگی کے آخری لمحے تک آپ(ص) کی حمایت سے دست بردار نہ ہوئے۔ اور حتی کہ موت کے لمحات میں قریش اور بنو ہاشم کو جو وصیتیں کیں وہ ان کے ایمان کامل کا ثبوت ہیں۔

ابو طالب(ع) کی وصیت قریش کے نام:

إنّ أباطالب لمّا حضرته الوفاة جمیع إلیه وجوه قریش فأوصاهم فقال: یا معشر قریش أنتم صفوة الله من خلقه ـ إلى أن قال: ـ وإنّی أوصیكم بمحمد خیراً فإنه الأمین فی قریش، والصدیق فی العرب، وهو الجامع لكل ما أوصیتكم به، وقد جاءنا بأمر قبله الجنان، وأنكره اللسان مخافة الشنآن، وأیم الله كأنی أنظر الى صعالیك العرب وأهل الأطراف والمستضعفین من الناس قد أجابوا دعوته، وصدقوا كلمته، وعظموا أمره۔۔۔ یا معشر قریش ابن أبیكم، كونوا له ولاة ولحزبه حماة، والله لا یسلك أحد سبیله إلاّ رشد، ولا یأخذ أحد بهدیه إلاّ سعد، ولو كان لنفسی مدة، وفی اجلی تأخیر، لكففت عنه الهزاهز، ولدافعت عنه الدواهی۔
ترجمہ: جب حضرت ابو طالب(ع) کا آخری وقت ہؤا اور قریش کے عمائدین ان کے گرد جمع ہوئے تو آپ نے انہیں وصیت کی اور فرمایا: "اے گروہ قریش! تم خلق الله میں خدا کی برگزیدہ قوم ہو میں تمہیں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کے بارے میں نیکی کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ قریش کے امین اور عالم عرب میں صادق ترین (سب سے زیادہ سچے اور راست باز) فرد ہیں؛ آپ(ص) ان تمام صفات محمودہ کے حامل ہیں جن کی میں نے تمہیں تلقین کی؛ وہ ہمارے لئے ایسی چیز لائے ہیں جس کو قلب قبول کرتا ہے جبکہ دوسروں کی ملامت کے خوف سے زبان اس کا انکار کرتی ہے۔
خدا کی قسم! گویا می دیکھ رہا ہوں کہ حتی دیہاتوں اور گرد و نواح کے لوگ اور لوگوں کے پسماندہ طبقات آپ(ص) کی دعوت قبول کرتے ہیں اور آپ(ص) کے کلام کی تصدیق کرتے ہیں اور آپ(ص) کے امر (نبوت و رسالت) کی تکریم و تعظیم کرتے ہیں ۔۔۔ اے گروہ قریش! آپ(ص) تمہارے باپ کے فرزند ہیں لہذا آپ(ص) کے لئے یار و یاور اور آپ(ص) کی جماعت کے لئے حامی و ناصر بنو۔

خدا کی قسم! جو بھی آپ(ص) کے راستے پر گامزن ہوگا وہ ہدایت پائے گا اور جو بھی آپ(ص) کی ہدایت قبول کرے گا، سعادت و خوشبختی پائے گا؛ اور اگر میرے اجل میں تأخیر ہوتی اور میں زندہ رہتا تو آپ (ص) کو درپیش تمام مشکلات [بدستور] جان و دل سے قبول کرتا اور بلاؤں اور مصائب کے سامنے [بدستور] آپ(ص) کا تحفظ کرتا۔[18]۔[19]۔[20]۔[21]

ابو طالب(ع) نے بنو ہاشم سے وصیت کرتے ہوئے کہا:

يا معشر بني هاشم! أطيعوا محمدا وصدقوه تفلحوا وترشدوا ۔
ترجمہ: اى جماعت بنی ہاشم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ|محمد(ص)]] کی اطاعت کرو اور ان کی تصدیق کرو تاکہ فلاح اور بہتری اور رشد و ہدایت پاؤ۔[22]

اہل سنت کے مشہور عالم دین ابن ابی الحدید کہتے ہیں کہ تمام مسلمانوں پر ابو طالب(ص) کا حق واجب ہے۔ اور متعدد اسناد سے ابن عباس و دیگر سے روایت کرتے ہیں کہ "ابوطالب(ع)" دنیا سے رخصت نہیں ہوئے حتی کہ انھوں نے شہادتین زبان پر جاری کردیں اور ایک اور مقام پر کہتے ہیں: اگر ابو طالب(ع) نے ہوتے تو اسلام کا نام و نشان نہ ہوتا اور مزید کہتے ہیں کہ اگر ابو طالب(ع) اپنا ایمان آشکار کرتے تو قریش کے ہاں اپنی عزت اور سماجی حیثیت کھو بیٹھتے اور قبیلے کے سربراہ کی حیثیت سے اسلام کا دفاع و تحفظ کرنے کے قابل نہ رہتے۔[23]

اب یہ سوال باقی ہے کہ جو مسلمان اور مؤمن نہ ہو اور جو نمازگزار نہ ہو وہ کیونکر کسی کو اسلام و ایمان اور نماز کی دعوت دے سکتا ہے؟! اور جو رسول خدا(ص)کی رسالت پر ایمان نہیں رکھتا وہ کیوں قریش اور بنو ہاشم کو دعوت ایمان دے گا؟!

ابو طالب(ع) کے اشعار اور ادبی اقوال

ابو طالب کے قصائد اور منظوم کلام اور حکیمانہ اور ادیبانہ منظوم اقوال تقریبا ایک ہزار ابیات (اشعار) پر مشتمل ہیں اور یہ مجموعہ "دیوان ابو طالب" کے نام سے مشہور ہے۔ جو کچھ ان اشعار اور اقوال میں آیا ہے سب رسول خدا(ص) کی رسالت و نبوت کی تصدیق و تائید پر مبنی ہے۔[24] ابو طالب(ع) کے بعض اشعار:

اِن ابن آمنة النبی محمدا ٭٭٭ عندی یفوق منازل الاولاد۔ ترجمہ: حقیقتا فرزند آمنہ(ص) کی شان و منزلت میرے نزدیک میری اولاد پر فوقیت رکھتی ہے۔

ان کا مشہور ترین قصیدہ "قصیدہ لامیہ" کے عنوان سے مشہور ہے جس کا آغاز اس مطلع سے ہوتا ہے:

خليلي ما أذني لاول عاذل ٭٭٭ بصغواء في حق ولا عند باطل۔ ترجمہ: میرے ہم نشین! میں کسی صورت میں بھی ملامت کرنے والوں کی بات نہیں سنتا اور حق کی راہ میں کسی حالت میں بھی کفر اور باطل کی طرف مائل نہیں ہوتا۔[25]

علامہ امینی کہتے ہیں:

"میں یہ نہ جان سکا کہ رسول خدا(ص) کی نبوت کی تصدیق اور رسالت نبی(ص) کی گواہی اور شہات کو کس طرح ہونا چاہئے کہ ابو طالب(ع) کے اشعار میں تصدیق و شہادت پر مبنی بے شمار اور مختلف النوع عبارتیں ملتی ہیں جس کو شہادت و تصدیق اور گواہی و اقرار و ایمان نہیں سمجھا جاتا؟ ان بےشمار عبارتوں میں سے صرف ایک عبارت کسی اور شخص کی شاعری یا نثر میں پائی جاتی تو سب کہہ دیتے کہ "یہ شخص مسلمان ہے" لیکن منکرین کے نزدیک اتنی ساری عبارتیں ابو طالب(ع) کے اسلام و ایمان کی دلیل نہیں ہ