مسودہ:ظہر عاشورا کو امام حسینؑ کی نماز
نماز ظہر عاشورا کی پینٹنگ، حامد جوانمردی کی قلم سے، جو حرم شاہچراغ کے میوزم میں محفوظ ہے۔[1] | |
| زمان | سنہ 61ھ، بروز عاشورا ظہر کا وقت |
|---|---|
| مکان | کربلا |
| نتایج | اہمیت نماز |
| نقصانات | امام حسینؑ کے صحابی سعید بن عبد اللہ کی شہادت |
ظہر عاشورا کو امام حسینؑ کی نماز، 10 محرم الحرام سنہ 61ھ کی ظہر اور عصر[2] کی نماز کو کہا جاتا ہے جسے امام حسینؑ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ میدان جنگ میں نماز خوف کی صورت میں با جماعت ادا کی۔[3] بعض کہتے ہیں کہ امام حسینؑ کے اس اقدام نے دشمن کی ان کوششوں کو ناکام بنا دیا جس میں وہ امام حسینؑ کو دین اسلام سے خارج ہونے والے شخص کے طور پر متعارف کرانا چاہتے تھے۔[4]
تاریخی منابع کے مطابق ابو ثُمامہ صائِدی نے ظہر کے وقت امام حسینؑ کو نماز کی یاد دہانی کرائی جس پر امامؑ نے ان کے حق میں دعا فرمائی۔[5] امام حسینؑ نے دشمن سے نماز پڑھنے کی مہلت طلب کی،[6] لیکن دشمن نے اجازت نہیں دی۔[7] اسی بنا پر امامؑ نے زُہَیر بن قَین اور سعید بن عبد اللہ حَنَفی کو ایک گروہ کے ساتھ دشمن کے مقابلے میں سینہ سپر ہونے کا حکم دیا تاکہ باقی لشکریوں کے ساتھ باجماعت نماز ادا کر سکیں۔[8] سعید بن عبد اللہ دشمن کے تیروں کے مقابلے میں کھڑے ہوگئے اور نماز ختم ہونے تک 13 تیر ان کے بدن میں پیوست ہو گئے[9] اور وہ شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔[10]
مختلف فنی اور ادبی آثار میں بھی ظہر عاشورا کی نماز کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ بعض مصوروں نے اپنی پینٹنگز میں اس واقعے کی تصویر کشی کی ہے[11] اور بہت سے شعرا منجملہ سید محمدحسین شہریار،[12] صغیر اصفہانی[13] اور حبیب اللہ چایچیان[14] نے اپنے اشعار میں اس واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے۔[15]
ایران میں ہر سال عاشورا کے مراسم میں امام حسینؑ کی پیروی کرتے ہوئے ظہر و عصر کی نماز مساجد اور شاہراوں پر جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔[16] یہ رسم ایرن کے علاوہ بعض دوسرے ملکوں جیسے عراق،[17] روس،[18] انگلستان،[19] ہائی لینڈ[20] اور پاکستان[21]میں بھی منعقد ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عراق کی بعث پارٹی کی حکومت کے دوران عراقی قید خانوں میں موجود ایرانی اسراء بھی امام حسینؑ کی پیروی کرتے ہوئی اپنی نمازوں کو جماعت کے ساتھ ادا کرتے تھے۔[22]
امام حسینؑ اور آپ کے ساتھیوں کی جان کو خطرہ لاحق ہونے کے باوجود آپ کا یہ اقدام سورہ نساء آیت 102 اور پیغمبر اکرمؐ [23] اور امام علیؑ کی سیرت[24] کی پیروی میں انجام پایا ہے جس کے مطابق جنگوں میں نماز خوف کو جماعت کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے۔[25] بعض محققین امام حسینؑ کے اس اقدام کو نماز کی اہمیت[26] اور الہی فرائض کو احیاء کرنے کی نشانی قرار دیتے ہیں۔[27] اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ تمام امور حتی کہ جہاد بھی نماز کے سائے میں انجام پانا چاہئے۔[28]
حوالہ جات
- ↑ «حرم شاہچراغؑ کے میوزیم میں «نماز ظہر عاشورا» کے پینٹنگ کی نمائش»، خبرگزاری شبستان۔
- ↑ روحانی، عاشورا و قیام امام حسین علیہ السلام از دیدگاہ حضرت آیہ اللہ العظمی روحانی، 1390شمسی، ص51۔
- ↑ شیخ مفید، الارشاد، 1413ھ، ج2، ص105؛ شیخ طوسى، الخلاف، 1407ھ، ج1، ص636۔
- ↑ «آیا امام حسینؑ کا میدان جنگ میں نماز ظہر عاشورا پڑھنا جہاں آپ کی جان کو بہت خطرہ لاحق تھا، ایک صحیح عمل تھا؟»، وبگاہ مرکز ملی پاسخگویی بہ سوالات دینی۔
- ↑ ابومخنف، وقعۃ الطفّ، 1375شمسی، ص229۔
- ↑ ابومخنف، وقعۃ الطفّ، 1375شمسی، ص230۔
- ↑ قمی، سفینۃ البحار، 1363شمسی، ج1، ص652۔
- ↑ ابنطاووس، اللہوف، 1348شمسی، ص110۔
- ↑ مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج45، ص21۔
- ↑ ابنطاووس، اللہوف، 1348شمسی، ص111۔
- ↑ برای نمونہ نگاہ کنید بہ «نماز ظہر عاشورا» و «علمدار کربلا» کی پینٹنگ مکتب ہنر رضوان میں محفوظ ہے»]، قدسآنلاین۔
- ↑ شہریار، دیوان شہریار، ۱۳۸۵ش، ج۱، ص۵۰۳.
- ↑ جمعی از نویسندگان، فرہنگ عاشورایی، ۱۳۸۲ش، ج۱۱، ص۴۳.
- ↑ «بعثت خون: شعری منتشر نشدہ از حسان»، وبگاہ دفتر حفظ و نشر آثار آیت اللہ خامنہای.
- ↑ «تجلی نماز در انقلاب کبیر عاشورا (2)»، وبگاہ مرکز تخصصی نماز۔
- ↑ «رویکرد ستاد اقامہ نماز در برگزاری نماز ظہر عاشورا»، وبگاہ ستاد اقامہ نماز۔
- ↑ «نمایی دیدنی از نماز ظہر عاشورا در کربلای معلی + فیلم»، وبگاہ ہمشہری آنلاین؛ «عکس/ اقامہ نماز جماعت روز عاشورا در حرم حضرت اباالفضلؑ»، خبرگزاری مشرق نیوز۔
- ↑ «روز عاشورا در مناطق مسلماننشین روسیہ +فیلم»، خبرگزاری مشرق نیوز۔
- ↑ «اقامہ نماز ظہر عاشورا در لندن»، خبرگزاری مشرق نیوز۔
- ↑ «بسامد جہانی محرم | از علمکشی در لسآنجلس تا عزاداری قایقی در کشمیر»، وبگاہ ہمشہری آنلاین۔
- ↑ تصاویر/ اقامہ نماز ظہر عاشورا در کراچی پاکستان، حوزہ نیوز ایجنسی
- ↑ رحمانیان، قصہ نماز آزادگان، 1387شمسی، ص231۔
- ↑ کلینی، الکافی، 1363شمسی، ج3، ص456؛ شیخ صدوھ، من لا یحضرہ الفقیہ، 1406ھ، ج1، ص310۔
- ↑ شیخ طوسى، تہذیب الأحکام، 1365شمسی، ج3، ص173۔
- ↑ «آیا امام حسینؑ کا میدان جنگ میں نماز ظہر عاشورا پڑھنا جہاں آپ کی جان کو بہت خطرہ لاحق تھا، ایک صحیح عمل تھا؟»، وبگاہ مرکز ملی پاسخگویی بہ سوالات دینی۔
- ↑ اعرافی، فقہ تربیتی، 1395شمسی، ج24، ص249؛ شفیعی، گوہرہای منثور، 1398شمسی، ج3، ص457۔
- ↑ محدثی، فرہنگ عاشورا، 1381شمسی، ص485۔
- ↑ اعرافی، فقہ تربیتی، 1395شمسی، ج24، ص249۔
مآخذ
- «بعثت خون: حسان کی غیر منتشر شدہ شعر»، وبگاہ دفتر حفظ و نشر آثار آیت اللہ خامنہای، تاریخ درج مطلب: 5 جنوری 2009، تاریخ اخذ: 6 جنوری 2026۔
- «عاشورا کے عظیم انقلاب میں نماز کی جھلک (2)»، وبگاہ مرکز تخصصی نماز، تاریخ اخذ: 6 جنوری 2026۔
- «بسامد جہانی محرم | لاساینجلس میں علم کشی سے کشمیر میں قائمی عزاداری تک»، ہمشہری آنلاین، تاریخ درج مطلب: 20 جولائی 2024، تاریخ اخذ: 11 جنوری 2026۔
- «کربلائے معلی میں نماز ظہر عاشورا کا دلچسپ منظر + فیلم»، ہمشہری آنلاین، تاریخ درج مطلب: 5 جولائی 2025، تاریخ اخذ: 11 جنوری 2026۔
- «لندن میں نماز ظہر عاشورا کا قیام»، مشرق نیوز، تاریخ درج مطلب: 16 جولائی 2024، تاریخ اخذ: 11 جنوری 2026۔
- «روس کے مسلمان نشین علاقوں میں روز عاشورا +فیلم»،مشرق نیوز، تاریخ درج مطلب: 16 جولائی 2024، تاریخ اخذ: 11 جنوری 2026۔
- «عکس/ اقامہ نماز جماعت روز عاشورا در حرم حضرت اباالفضلؑ»، خبرگزاری مشرق نیوز، تاریخ درج مطلب: 17 جولائی 2024، تاریخ اخذ: 11 جنوری 2026۔
- «نماز ظہر عاشورا» کے قیام میں ستاد اقامہ نماز کا کردار، ستاد اقامہ نماز کی آفیشل ویب سائٹ، تاریخ اخذ: 6 جنوری 2026۔
- «آیا امام حسینؑ کا میدان جنگ میں نماز ظہر عاشورا پڑھنا جہاں آپ کی جان کو بہت خطرہ لاحق تھا، ایک صحیح عمل تھا؟»، وبگاہ مرکز ملی پاسخگویی بہ سوالات دینی، تاریخ درج مطلب: 27 فروری 2007، تاریخ اخذ: 6 جنوری 2026۔
- ابنطاووس، على بن موسى، اللہوف على قتلى الطفوف، ترجمہ احمد فہرى زنجانى، تہران، جہان، پہلی اشاعت، 1969ء۔
- ابومخنف، لوط بن یحیى، وقعۃ الطفّ، تحقیق محمدہادی یوسفى غروى، قم، جامعہ مدرسین، تیسری اشاعت، 1996ء۔
- اعرافی، علیرضا، فقہ تربیتی، قم، موسسہ فرہنگی ہنری اشراق و عرفان، 2016ء۔
- امینی، منصور، دیوان منصور، قم، نشر کتاب قم، 1994ء۔
- جمعی از نویسندگان، فرہنگ عاشورایی، تہران، مجمع تہران، 2003ء۔
- رحمانیان، عبدالحمید، قصہ نماز آزادگان، تہران، پیام آزادگان، 2008ء۔
- روحانی، سید محمدصادھ، عاشورا و قیام امام حسین علیہ السلام از دیدگاہ حضرت آیہ اللہ العظمی، قم، مہر امیرالمؤمنینؑ، 2011ء۔
- شفیعی، علی، گوہرہای منثور (درہای پراکندہ)، تہران، گسترش رایانہ، 2019ء۔
- شہریار، محمدحسین، دیوان شہریار، تہران، نگاہ، 2006ء۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، من لا یحضرہ الفقیہ، بیروت، موسسۃ الاعلمی للمطبوعات، 1986ء۔
- شیخ طوسى، محمد بن حسن، الخلاف، تحقیق على خراسانى و سید جواد شہرستانى و مہدى طہ نجف و مجتبى عراقى، قم، دفتر انتشارات اسلامى، پہلی اشاعت، قم، 1987ء۔
- شیخ طوسى، محمد بن حسن، تہذیب الأحکام، تہران، دار الکتب الإسلامیہ، 1986ء۔
- شیخ مفید، محمد بن محمد، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، تحقیق موسسہ آل البیتؑ، قم، کنگرہ شیخ مفید، پہلی اشاعت، 1993ء۔
- قمی، عباس، سفینۃ البحار و مدینۃ الحکم و الآثار، تہران، اسوہ، 1984ء۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، 1984ء۔
- مجلسی، محمدباقر، بحارالانور الجامعۃ لدرر اخبار الائمۃ الاطہارؑ، بیروت، دار احیاء التراث العربی، دوسری اشاعت، 1983ء۔
- محدثی، جواد، فرہنگ عاشورا، قم، معروف، 2002ء۔
- «نماز ظہر عاشورا» و «علمدار کربلا» کی پینٹنگ مکتب ہنر رضوان میں محفوظ ہے»، قدسآنلاین، تاریخ درج مطلب: 30 اگست 2020، تاریخ اخذ: 21 جنوری 2026۔
- «حرم شاہچراغؑ کے میوزیم میں «نماز ظہر عاشورا» کے پینٹنگ کی نمائش»، خبرگزاری شبستان، تاریخ درج مطلب: 27 اگست 2024، تاریخ اخذ: 21 جنوری 2026۔