مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:ظہر عاشورا کو امام حسینؑ کی نماز

ویکی شیعہ سے
ظہر عاشورا کو امام حسینؑ کی نماز
نماز ظہر عاشورا کی پینٹنگ، حامد جوانمردی کی قلم سے، جو حرم شاہ‌چراغ کے میوزم میں محفوظ ہے۔[1]
نماز ظہر عاشورا کی پینٹنگ، حامد جوانمردی کی قلم سے، جو حرم شاہ‌چراغ کے میوزم میں محفوظ ہے۔[1]
زمانسنہ 61ھ، بروز عاشورا ظہر کا وقت
مکانکربلا
نتایجاہمیت نماز
نقصاناتامام حسینؑ کے صحابی سعید بن عبد اللہ کی شہادت


ظہر عاشورا کو امام حسینؑ کی نماز، 10 محرم الحرام سنہ 61ھ کی ظہر اور عصر[2] کی نماز کو کہا جاتا ہے جسے امام حسینؑ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ میدان جنگ میں نماز خوف کی صورت میں با جماعت ادا کی۔[3] بعض کہتے ہیں کہ امام حسینؑ کے اس اقدام نے دشمن کی ان کوششوں کو ناکام بنا دیا جس میں وہ امام حسینؑ کو دین اسلام سے خارج ہونے والے شخص کے طور پر متعارف کرانا چاہتے تھے۔[4]

تاریخی منابع کے مطابق ابو ثُمامہ صائِدی نے ظہر کے وقت امام حسینؑ کو نماز کی یاد دہانی کرائی جس پر امامؑ نے ان کے حق میں دعا فرمائی۔[5] امام حسینؑ نے دشمن سے نماز پڑھنے کی مہلت طلب کی،[6] لیکن دشمن نے اجازت نہیں دی۔[7] اسی بنا پر امامؑ نے زُہَیر بن قَین اور سعید بن عبد اللہ حَنَفی کو ایک گروہ کے ساتھ دشمن کے مقابلے میں سینہ سپر ہونے کا حکم دیا تاکہ باقی لشکریوں کے ساتھ باجماعت نماز ادا کر سکیں۔[8] سعید بن عبد اللہ دشمن کے تیروں کے مقابلے میں کھڑے ہوگئے اور نماز ختم ہونے تک 13 تیر ان کے بدن میں پیوست ہو گئے[9] اور وہ شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔[10]

مختلف فنی اور ادبی آثار میں بھی ظہر عاشورا کی نماز کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ بعض مصوروں نے اپنی پینٹنگز میں اس واقعے کی تصویر کشی کی ہے[11] اور بہت سے شعرا منجملہ سید محمدحسین شہریار،[12] صغیر اصفہانی[13] اور حبیب اللہ چایچیان[14] نے اپنے اشعار میں اس واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے۔[15]

ایران میں ہر سال عاشورا کے مراسم میں امام حسینؑ کی پیروی کرتے ہوئے ظہر و عصر کی نماز مساجد اور شاہراوں پر جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔[16] یہ رسم ایرن کے علاوہ بعض دوسرے ملکوں جیسے عراق،[17]روس،[18]انگلستان،[19] ہائی لینڈ[20] اور پاکستان[21]میں بھی منعقد ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عراق کی بعث پارٹی کی حکومت کے دوران عراقی قید خانوں میں موجود ایرانی اسراء بھی امام حسینؑ کی پیروی کرتے ہوئی اپنی نمازوں کو جماعت کے ساتھ ادا کرتے تھے۔[22]

امام حسینؑ اور آپ کے ساتھیوں کی جان کو خطرہ لاحق ہونے کے باوجود آپ کا یہ اقدام سورہ نساء آیت 102 اور پیغمبر اکرمؐ [23] اور امام علیؑ کی سیرت[24] کی پیروی میں انجام پایا ہے جس کے مطابق جنگوں میں نماز خوف کو جماعت کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے۔[25] بعض محققین امام حسینؑ کے اس اقدام کو نماز کی اہمیت[26] اور الہی فرائض کو احیاء کرنے کی نشانی قرار دیتے ہیں۔[27] اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ تمام امور حتی کہ جہاد بھی نماز کے سائے میں انجام پانا چاہئے۔[28]

حوالہ جات

  1. «حرم شاہچراغؑ کے میوزیم میں «نماز ظہر عاشورا» کے پینٹنگ کی نمائش»، خبرگزاری شبستان۔
  2. روحانی، عاشورا و قیام امام حسین علیہ السلام از دیدگاہ حضرت آیہ اللہ العظمی روحانی، 1390شمسی، ص51۔
  3. شیخ مفید، الارشاد، 1413ھ، ج2، ص105؛ شیخ طوسى، الخلاف، 1407ھ، ج1، ص636۔
  4. «آیا امام حسینؑ کا میدان جنگ میں نماز ظہر عاشورا پڑھنا جہاں آپ کی جان کو بہت خطرہ لاحق تھا، ایک صحیح عمل تھا؟»، وبگاہ مرکز ملی پاسخگویی بہ سوالات دینی۔
  5. ابومخنف، وقعۃ الطفّ، 1375شمسی، ص229۔
  6. ابومخنف، وقعۃ الطفّ، 1375شمسی، ص230۔
  7. قمی، سفینۃ البحار، 1363شمسی، ج1، ص652۔
  8. ابن‌طاووس، اللہوف، 1348شمسی، ص110۔
  9. مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج45، ص21۔
  10. ابن‌طاووس، اللہوف، 1348شمسی، ص111۔
  11. برای نمونہ نگاہ کنید بہ «نماز ظہر عاشورا» و «علمدار کربلا» کی پینٹنگ مکتب ہنر رضوان میں محفوظ ہے»]، قدس‌آنلاین۔
  12. شہریار، دیوان شہریار، ۱۳۸۵ش، ج۱، ص۵۰۳.
  13. جمعی از نویسندگان، فرہنگ عاشورایی، ۱۳۸۲ش، ج۱۱، ص۴۳.
  14. «بعثت خون: شعری منتشر نشدہ از حسان»، وبگاہ دفتر حفظ و نشر آثار آیت اللہ خامنہ‌ای.
  15. «تجلی نماز در انقلاب کبیر عاشورا (2)»، وبگاہ مرکز تخصصی نماز۔
  16. «رویکرد ستاد اقامہ نماز در برگزاری نماز ظہر عاشورا»، وبگاہ ستاد اقامہ نماز۔
  17. «نمایی دیدنی از نماز ظہر عاشورا در کربلای معلی + فیلم»، وبگاہ ہمشہری آنلاین؛ «عکس/ اقامہ نماز جماعت روز عاشورا در حرم حضرت اباالفضلؑ»، خبرگزاری مشرق نیوز۔
  18. «روز عاشورا در مناطق مسلمان‌نشین روسیہ +فیلم»، خبرگزاری مشرق نیوز۔
  19. «اقامہ نماز ظہر عاشورا در لندن»، خبرگزاری مشرق نیوز۔
  20. «بسامد جہانی محرم | از علم‌کشی در لس‌آنجلس تا عزاداری قایقی در کشمیر»، وبگاہ ہمشہری آنلاین۔
  21. تصاویر/ اقامہ نماز ظہر عاشورا در کراچی پاکستان، حوزہ نیوز ایجنسی
  22. رحمانیان، قصہ نماز آزادگان، 1387شمسی، ص231۔
  23. کلینی، الکافی، 1363شمسی، ج3، ص456؛ شیخ ‌صدوھ، من لا یحضرہ الفقیہ‏، 1406ھ، ج1، ص310۔
  24. شیخ ‌طوسى، تہذیب الأحکام، 1365شمسی، ج3، ص173‏۔
  25. «آیا امام حسینؑ کا میدان جنگ میں نماز ظہر عاشورا پڑھنا جہاں آپ کی جان کو بہت خطرہ لاحق تھا، ایک صحیح عمل تھا؟»، وبگاہ مرکز ملی پاسخگویی بہ سوالات دینی۔
  26. اعرافی، فقہ تربیتی، 1395شمسی، ج24، ص249؛ شفیعی، گوہرہای منثور، 1398شمسی، ج3، ص457۔
  27. محدثی، فرہنگ عاشورا، 1381شمسی، ص485۔
  28. اعرافی، فقہ تربیتی، 1395شمسی، ج24، ص249۔

مآخذ