مسودہ:زبان حال
زبانِ حال ماتم داری، نوحہ خوانی اور تعزیہ خوانی کا ایک اسلوب ہے جس میں دینی شخصیات کی طرف ایسے اقوال یا احساسات منسوب کئے جاتے ہیں جو براہِ راست تاریخی یا حدیثی منابع میں مذکور نہیں ہوتے، بلکہ متعلقہ شخصیات کے حالات، قرائن و شواہد اور موقع و محل کی مناسبت سے تخلیقی انداز میں بیان کئے جاتے ہیں۔[1]
فقہی اعتبار سے زبانِ حال کا استعمال اس صورت میں جائز ہے جب اسے قطعی تاریخی وقایع کے طور پر پیش نہ کیا جائے[2] اور اس کا مضمون معصومینؑ کے مقام و منزلت، اسلامی تعلیمات اور ان کے اہداف کے خلاف نہ ہو۔[3] البتہ بعض فقہاء نے زبانِ حال اور تاریخی وقایع کے باہمی اختلاط اور اس کے نتیجے میں تاریخی اسناد میں تحریف کے امکان کے بارے میں متنبہ کی ہے۔[4]
بعض تاریخی منابع کے مطابق واقعۂ کربلا اور اس کے بعد امام سجادؑ کی موجودگی میں بھی غم و اندوہ پر مبنی بعض بیانات زبان حال کے اسلوب میں نقل ہوئے ہیں۔[5] اسی طرح مرثیہ نگاری اور نوحہ خوانی میں واقعۂ کربلا سے متعلق شخصیات یا اشیاء کے حوالے سے بھی زبانِ حال کا استعمال کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر بعض اشعار میں علی اصغرؑ کی زبانِ حال یوں بیان کی گئی ہے:
|
اسی طرح بعض ادبی متون میں امام سجاد(ع) کی گردن میں ڈالے گئے طوق و زنجیر کی زبانِ حال کو شعری انداز میں یوں بیان کیا گیا ہے:
بعض تفسیری منابع میں قرآن کی جن آیات میں موجوداتِ عالم کی تسبیح کا ذکر آیا ہے،[8] ان کی زبانِ حال کے بیان کی ایک مثال کے طور پر تفسیر کی گئی ہیں۔[9] اسی طرح بعض احادیث میں زبانِ حال کو زبانِ قال سے زیادہ مؤثر اور بلیغ قرار دیا گیا ہے۔[10]
حوالہ جات
- ↑ سلیمانی، زبان حال و کارکرد آن در ادبیات عاشورایی، 1395شمسی، ص55-57۔
- ↑ نراقی، رسائل و مسائل، 1380شمسی، ج1، ص246؛ گلپایگانی، مجمع المسائل، 1409ھ، ج1، ص266۔
- ↑ مطہری، مجموعہ آثار شہید مطہری، 1420ھ، ج17، ص613۔
- ↑ قمی، منتہی الآمال، 1362شمسی، ج1، ص571۔
- ↑ ابن طاووس، اللہوف، بی تا، ج1، ص118۔
- ↑ سلیمانی، زبان حال و کارکرد آن در ادبیات عاشورایی، 1395شمسی، ص258۔
- ↑ سلیمانی، زبان حال و کارکرد آن در ادبیات عاشورایی، 1395شمسی، ص220۔
- ↑ سورۂ اسراء، آیت 44؛ سورۂ نور، آیت 41؛ سورۂ حشر، آیت 24؛ سورۂ جمعہ، آیت 1؛ سورۂ تغابن، آیت 1۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج12، ص135۔
- ↑ لیثی واسطی، عیون الحکم و المواعظ، 1376شمسی، ص420۔
مآخذ
- قرآن۔
- ابن طاووس، اللہوف علی قتلی الطفوف، قم، أنوار الہدى، بے تا۔
- سلیمانی، مرتضی، زبان حال اور عاشورائی ادبیات میں اس کا استعمال، تہران، آرام دل، 1395ہجری شمسی۔
- قمی، شیخ عباس، منتہی الامال، تہران، جاویدان، 1362ہجری شمسی۔
- گلپايگانى، سید محمدرضا، مجمع المسائل ، قم، دار القرآن الكريم ، 1409ھ۔
- لیثی واسطی، علی بن محمد، عیون الحکم و المواعظ، محقق حسین حسنی بیرجندی، قم، مؤسسہ علمی فرہنگی دار الحديث. سازمان چاپ و نشر، 1376ہجری شمسی۔
- مطہری، مرتضی، مجموعہ آثار شہید مطہری، تہران، 1420ھ۔
- مكارم شيرازى، ناصر، تفسير نمونہ، تہران، دار الكتب الإسلاميۃ، 1374ہجری شمسی۔
- ناصرخسرو، دیوان اشعار، تصحیح مجتبی مینوی و مہدی محقق، تہران، انتشارات دانشگاہ تہران، 1353ہجری شمسی۔
- نراقی، احمد، رسائل و مسائل، رضا استادی کی کوششوں سے، قم، ملا مہدی اور ملا احمد نراقی کی یاد میں منعقدہ کانفرینس، 1422ھ۔