بنی اسد خواتین کی عزاداری
عزاداری زنان بنیاسد در بینالحرمین، ۱۳ محرم ۱۴۴۶ق.[1] | |
| عمومی معلومات | |
|---|---|
| زمان | ہر سال 13 محرم |
| مکان | کربلائے معلی |
| منشاء تاریخی | 13 محرم سنہ 61 ہجری |
| اہم مذہبی تہواریں | |
| سینہزنی، زنجیرزنی، اعتکاف، شب بیداری، تشییع جنازہ، | |
| متفرق رسومات | |
بنی اسد خواتین کی عزاداری ایک روایتی اور قدیم رسم ہے جو ہر سال 13 محرم کو امام حسینؑ کے روضہ اقدس میں منعقد ہوتی ہے۔ اس مجلس میں، قبیلۂ بنی اسد کی خواتین حصیر کی ٹوکریوں میں کفن اور بوریا رکھ کر اپنے سروں پر اٹھاتی ہیں اور "لبیک یا حسین" کے نعرے لگاتے ہوئے عزاداری کرتی ہیں۔
یہ رسم سنہ 61 ہجری میں واقعہ کربلا کے شہداء کی تدفین کی یاد دلاتی ہے؛ جب 13 محرم کو بنی اسد قبیلے کی خواتین نے قبیلے کے مردوں کو شہداء کی لاشوں کو دفن کرنے کے لیے بلایا اور خود نے بھی روتے ہوئے بال بکھیر کر عزاداری کی۔
تعارف
بنی اسد کی خواتین کی عزاداری ان قدیمی رسومات میں سے ہے جو ہر سال 13 محرم کو قبیلۂ بنی اسد کی خواتین انجام دیتی ہیں۔[3] اس مجلس کے دوران خواتین سیاہ لباس زیب تن کر کے امام حسینؑ کے روضے اور بین الحرمین میں حاضر ہوتی ہیں اور "لبیک یا حسین"[4] اور "ابد واللہ یا زہرا ما ننسٰی حسینا" (اے زہراؑ! خدا کی قسم ہم حسینؑ کو کبھی نہیں بھولیں گے)، جیسے نعرے[5] لگاتی ہیں۔
یہ خواتین نوحہ خوانی اور مرثیہ سرائی کرتی ہوئی عزاداری کرتی ہیں، اور اپنے سروں پر بوریا اور کفن والی ٹوکریاں رکھتی ہیں۔[6] یہ ٹوکریاں اس بوریا کی علامت ہیں جو تاریخ کی رو سے امام حسینؑ اور اُن کے ساتھیوں کے لاشوں کو جس میں کفن دیا گیا تھا۔[7] یہ رسم کربلا میں واقعہ عاشورا کے بعد شہداء کی تدفین میں بنی اسد قبیلے کی خواتین کے کردار کو یاد دلاتی ہے۔ ایران کے کچھ علاقوں جیسے قزوین[8] اور بابل[9] میں بھی 12 اور 13 محرم کو اسی طرح کی رسومات منعقد ہوتی ہیں۔[10]
تاریخی پس منظر
بنی اسد کی خواتین کی عزاداری کربلا کے شہداء کی تدفین کے واقعے کی یادگار ہے جو 61 ہجری میں واقع ہوئی۔[11] تاریخی روایات کے مطابق، امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں کے بدن، شہادت کے بعد تین دن تک میدان میں پڑے رہے۔[12] یہاں تک کہ قبیلۂ بنی اسد کی خواتین، جو غاضریہ کے علاقے میں رہتی تھیں، اس مقام سے گزرتے ہوئے ان لاشوں کو دیکھ کر غم زدہ ہوئیں اور قبیلے کے مردوں کو ملامت و سرزنش کے ساتھ بلایا تاکہ وہ ان لاشوں کو دفن کریں۔[13] روایات کے مطابق، ابتدا میں خود خواتین بیلچہ اور گھنٹی لے کر مقتل میں پہنچ گئیں، جو مردوں کو اپنے ساتھ دلانے کا باعث بنی۔[14]
تیسری صدی ہجری کے مورخ مسعودی اور شیعہ رجال شناس کشّی نے امام سجادؑ کی معجزاتی موجودگی کا ذکر کیا ہے۔[15] "مقتل مقرّم" کے مطابق، امام سجادؑ جو اُس وقت کوفہ کی قید میں تھے، بنی اسد کے درمیان ناشناس طور پر حاضر ہوئے اور شہداء کی لاشوں کی نشاندہی کر کے تدفین کی نگرانی کی۔[16] بنی اسد کی خواتین نے بال بکھیر کر اور چہروں پر ہاتھ مار کر ماتم کیا۔[17]
تاریخ کے محقق سعید رشید زمیزم کے مطابق، بیسویں صدی کے اوائل میں سید محمد جودہ کی کوششوں سے یہ رسم دوبارہ زندہ کی گئی اور سنہ 1970ء تک جاری رہی۔ بعث پارٹی کے دور حکومت میں ایک وقفہ آیا، لیکن سنہ 2003ء کے بعد اس رسم کو پھر سے زندہ کیا گیا۔[18] یہ رسم وادی ایمن میں سید جودہ کی آرام گاہ سے شروع ہوتی ہے۔[19]
حوالہ جات
- ↑ «تصاویر/ عزاداری قبیله بنی اسد در دفن اجساد شهدای کربلا»، خبرگزاری رسمی حوزه.
- ↑ «داستان زنان قبیلہ بنی اسد»، شبکہ 2 سیمای جمہوری اسلامی ایران.
- ↑ «فریاد "لبیک یا حسین" زنان قبیلہ بنی اسد در حرم سیدالشہدا طنین انداز شد»، خبرگزاری مہر.
- ↑ «فریاد "لبیک یا حسین" زنان قبیلہ بنی اسد در حرم سیدالشہدا طنین انداز شد»، خبرگزاری مہر.
- ↑ «داستان زنان قبیلہ بنی اسد ...»، شبکہ 2 سیمای جمہوری اسلامی ایران.
- ↑ «زنان قبیلہ بنی اسد بہ عزاداری پرداختند» خبرگزاری دفاع مقدس.
- ↑ «عزاداری سنتی زنان قبیلہ بنی اسد در کربلا»، خبرگزاری مہر.
- ↑ «آیین زنان بنی اسد در قزوین»، خبرگزاری ایسنا.
- ↑ «برگزاری آیین قوم بنی اسد...»، خبرگزاری ایسنا.
- ↑ ابن عَدیم، بُغیَۃُ الطَلَب، 1988م، ج1، ص534.
- ↑ شہیدی، «بنی اسد»، 1380شمسی، ج3، ص442.
- ↑ مقرّم، مقتل الحسین، 1426ھ، ص336؛ صحتی سردرودی، سیمای کربلا؛ حریم حریت، 1388شمسی، ص57.
- ↑ جمعی از نویسندگان، با کاروان حسینی، 1388شمسی، ج5، ص122–123.
- ↑ شہیدی، «بنی اسد»، 1380شمسی، ج3، ص442.
- ↑ مسعودی، اثبات الوصیۃ، 1384شمسی، ص207–208؛ کشی، اختیار معرفۃ الرجال، 1409ھ، ص464.
- ↑ مقرّم، مقتل الحسین، 1426ھ، ص336.
- ↑ مقرّم، مقتل الحسین، 1426ھ، ص336.
- ↑ «حرکت دستہ نمادین زنان بنی اسد...»، خبرگزاری حوزہ.
- ↑ نبوی، «نیم روزی در وادی ایمن»، ص296.
مآخذ
- «آیین «زنان بنی اسد» در قزوین»، خبرگزاری ایسنا، تاریخ نشر: 11 مہر 1396شمسی، تاریخ بازدید: 13 تیر 1404ہجری شمسی۔
- ابن عَدیم، عمر بن احمد، بُغیَۃُ الطَلَب فی تاریخ الحلَب، دمشق، بی نا، 1988ء۔
- «برگزاری آیین قوم بنی اسد در بابل»، خبرگزاری ایسنا، تاریخ نشر: 29 تیر 1403شمسی، تاریخ بازدید: 13 تیر 1404ہجری شمسی۔
- «تصاویر/ عزاداری قبیلہ بنی اسد در دفن اجساد شہدای کربلا»، خبرگزاری رسمی حوزہ، تاریخ اشاعت: 30 تیر 1403شمسی، تاریخ مشاہدہ: 5 مرداد 1404ہجری شمسی۔
- جمعی از نویسندگان، با کاروان حسینی، مترجم عبدالحسین بینش، قم، زمزم ہدایت، چاپ دوم، 1388ہجری شمسی۔
- «حرکت دستہ نمادین زنان بنی اسد»، خبرگزاری حوزہ، تاریخ نشر: 10 مرداد 1402شمسی، تاریخ مشاہدہ: 11 تیر 1404ہجری شمسی۔
- «داستان زنان قبیلہ بنی اسد»، شبکہ 2 سیمای جمہوری اسلامی ایران، تاریخ مشاہدہ: 11 تیر 1404ہجری شمسی۔
- اسد-بہ-عزاداری-پرداختند-فیلم-و-عکس «زنان قبیلہ بنی اسد بہ عزاداری پرداختند»، خبرگزاری دفاع مقدس، تاریخ اشاعت: 20 تیر 1403شمسی، تاریخ مشاہدہ: 13 تیر 1404ہجری شمسی۔
- شہیدی، عبدالحسین، «بنی اسد»، دائرۃ المعارف تشیع، تہران، نشر شہید سعید محبی، چاپ دوم، 1380ہجری شمسی۔
- صحتی سردرودی، محمد، سیمای کربلا حریم حریت، تہران، مشعر، چاپ اول، 1388ہجری شمسی۔
- «عزاداری سنتی زنان قبیلہ بنی اسد در کربلا»، خبرگزاری مہر، خبرگزاری مہر، تاریخ اشاعت: 30 تیر 1403شمسی، تاریخ مشاہدہ: 15 تیر 1404ہجری شمسی۔
- «فریاد "لبیک یا حسین" زنان قبیلہ بنی اسد در حرم سیدالشہدا طنین انداز شد»، خبرگزاری مہر، تاریخ اشاعت: 8 آذر 1391شمسی، تاریخ مشاہدہ: 15 تیر 1404ہجری شمسی۔
- کشی، محمد بن عمر، اختیار معرفۃ الرجال، محقق و مصحح: شیخ طوسی، محمد بن حسن، مصطفوی، حسن، مؤسسہ نشر دانشگاہ مشہد، چاپ اول، 1409ھ۔
- مسعودی، علی بن حسین، اثبات الوصیۃ، قم، انصاریان، چاپ سوم، 1384ہجری شمسی۔
- مقرم، سید عبدالرزاق، مقتل الحسین(ع)،، بیروت، مؤسسۃ الخرسان للمطبوعات، 1426ھ۔
- «نقش زنان بنی اسد در رخداد کربلا»، خبرگزاری خبرآنلاین، تاریخ اشاعت: 13 محرم 1446ق، تاریخ مشاہدہ: 11 تیر 1404ہجری شمسی۔
- نبوی، احمد، «نیم روزی در وادی ایمن»، فصلنامہ فرہنگ زیارت، شمارہ 10 و 11، بہار و تابستان 1391ہجری شمسی۔