مسودہ:توقیت ظہور
توقیتِ ظہور یا ظہور کا وقت معین کرنا سے مراد امام مہدیؑ کے ظہور کے لئے کوئی خاص وقت مقرر کرنا ہے، مثلاً ظہور کے سال، مہینے، دن یا گھنٹے کا تعین کرنا۔ شیعہ روایات میں ظہور کا وقت معین کرنے سے منع کیا گیا ہے اور ایسا کرنے والوں کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے۔ ان روایات کے مطابق ظہور کا وقت غیبی امور میں سے ہے اور اس کا علم صرف خداوند متعال کے پاس ہے۔
شیعہ معارف میں توقیت ظہور
توقیتِ ظہور سے مراد شیعوں کے بارہویں امام حضرت امام مہدیؑ کے ظہور کے لئے کوئی معین وقت، مثلاً گھنٹہ، دن، مہینہ یا سال مقرر کرنا ہے۔[1]
شیعہ حدیثی منابع میں ایسی روایات نقل ہوئی ہیں جن میں امام مہدیؑ کے ظہور کا وقت نامعلوم قرار دیتے ہوئے اس کے لئے وقت مقرر کرنے سے ممانعت اور وقت مقرر کرنے والوں کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے۔[2] شیخ طوسی نے ان روایات کی بنیاد پر ظہور کے وقت کو نامعلوم قرار دیا ہے اور تصریح کی ہے کہ کوئی بھی انسان امام مہدیؑ کے ظہور کے وقت سے آگاہ نہیں ہیں۔[3] بعض علماء-- نے ظہور کا وقت مقرر کرنے سے اجتناب اور وقت مقرر کرنے والوں کی تکذیب کو زمانۂ غیبت میں شیعوں کے فرائض میں شمار کیا ہے۔[4]
بعض روایات میں ظہور کے وقت کو غیبی امور میں سے قرار دیتے ہوئے اس کا علم خداوند متعال کے ساتھ مخصوص بتایا گیا ہے۔[5] ان میں سے بعض روایات میں امام مہدیؑ کے ظہور کو قیامت کے وقت سے تشبیہ دی گئی ہے، جس کے وقوع کے وقت کو خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[6]
توقیت سے ممانعت کا فلسفہ
بعض محققین نے احادیث سے استناد کرتے ہوئے،[7] مؤمنین کو پر امید اور ظہور کے لئے ہمیشہ تیار رکھنے کو وقت ظہور کے نامعلوم ہونے کی حکمتوں میں سے قرار دیا ہے۔ اس نظریے کے مطابق اگر ظہور کے لئے کوئی معین وقت مقرر کیا جائے اور اس وقت ظہور واقع نہ ہو تو بعض افراد میں مایوسی پیدا ہوسکتی ہے یا وہ عقیدۂ مہدویت کے بارے میں شک و تردید کا شکار ہوسکتے ہیں۔[8]
بعض علما نے اس مسئلے کو بداء کے ساتھ بھی مربوط قرار دیا ہے۔ اس نظرئے کے مطابق بعض امور کے وقوع پذیر ہونے کا وقت مصلحت الٰہی کے تحت تبدیل ہوسکتا ہے۔ لہٰذا، ظہور کے لئے وقت مقرر کرنے اور مقررہ وقت پر ظہور واقع نہ ہونے سے شک و تردید کی فضا پیدا ہوسکتی ہے۔[9] اسی طرح، بعض منابع میں ظہور کے وقت کو عام لوگوں کے سامنے ظاہر نہ کرنا بھی اس کے نامعلوم ہونے کی حکمتوں میں شمار کیا گیا ہے۔[10]
توقیت اور وقت ظہور سے متعلق روایات
مہدویت کے موضوع سے مربوط بعض روایات میں ظہور سے پہلے پیش آنے والے واقعات، مثلاً سفیانی کا خروج اور صیحۂ آسمانی، نیز جمعہ اور عاشورا جیسے دنوں کو ظہور کے وقت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ بعض محققین کے مطابق ان روایات سے توقیت کا مفہوم اخذ کیا گیا ہے۔[11]
اس کے برعکس، بعض علما اس استنباط کو رد کرتے ہوئے توقیت ظہور اور ظہور سے متعلق واقعات کے وقت یا ان کی خصوصیات بیان کرنے کے درمیان فرق کے قائل ہیں۔ اس نظریے کے مطابق ظہور کی بعض نشانیوں یا اس سے متعلق واقعات کے وقت کا ذکر کرنا، ظہور کی کوئی معین تاریخ مقرر کرنے کے مترادف نہیں ہے۔[12]
توقیت ظہور کی بعض مثالیں
کہا گیا ہے کہ بعض اوقات ظہور کی نشانیوں کو معاصر شخصیات، حکومتوں یا واقعات پر منطبق کرکے ظہور کا وقت متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ رسول جعفریان کے مطابق علامہ مجلسی کی بعض تصانیف میں[13] ظہور کی بعض نشانیوں کو صفوی حکومت پر منطبق کیا گیا ہے۔ علامہ مجلسی کے ہم عصر سید محمد میرلوحی موسوی نے اس نوعیت کے اطلاق پر تنقید کرتے ہوئے اسے توقیت کی ایک مثال قرار دیا ہے۔[14]
اسی طرح، آیت اللہ بہجت کی طرف ایک ایسا بیان منسوب کیا گیا ہے جس میں بوڑھے افراد کو امام مہدیؑ کے ظہور کی بشارت دی گئی تھی۔[15] اسے بھی توقیت کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے؛ تاہم، ان کے دفتر نے اس بیان کی تردید کی ہے۔[16]
سنہ ۱۳۸۹ ہجری شمسی میں تیار ہونے والی دستاویزی فلم «ظہور بہت قریب ہے» میں ظہور سے متعلق بعض نشانیوں کو اس وقت کے سیاسی واقعات اور شخصیات پر منطبق کیا گیا اور امام مہدیؑ کے ظہور کو قریب قرار دیا گیا ہے۔[17] اس دستاویزی فلم پر شیعہ مراجع تقلید[18] اور مہدویت کے تخصصی مراکز[19] کی جانب سے تنقید کی گئی ہے۔
حوالہ جات
- ↑ سلیمیان، «تحلیل مفہومی توقیت ظهور حضرت مهدی(عج)...»، ص۱۷۴۔
- ↑ کلینی، الکافی، ج۱، ص۳۶۸؛ ابن بابویہ، الإمامة و التبصرة من الحیرة، ص۹۵؛ نعمانی، الغیبة، ص۲۸۹؛ شیخ صدوق، کمال الدین و تمام النعمة، ج۲، ص۴۸۳۔
- ↑ طوسی، الغیبة، ص۴۲۵۔
- ↑ اصفہانی، مکیال المکارم، ج۲، ص۳۸۷۔
- ↑ حلی، مختصر البصائر، ص۴۳۴؛ شیخ حر عاملی، إثبات الهداة، ج۵، ص۲۶۱؛ مجلسی، بحارالانوار، ج۵۳، ص۳۔
- ↑ کلینی، الکافی، ج۱، ص۴۳۱۔
- ↑ کلینی، الکافی، ج۱، ص۳۶۹؛ نعمانی، الغیبة، ص۲۹۶۔
- ↑ گودرزی، «تعیین وقت برای ظهور(توقیت)»، ص۵۷۔
- ↑ اصفہانی، مکیال المکارم، ج۲، ص۳۹۰-۳۹۱۔
- ↑ اصفہانی، مکیال المکارم، ج۲، ص۳۷۵۔
- ↑ سلیمیان، «تحلیل مفہومی توقیت ظهور حضرت مهدی(عج)...»، ص۱۸۱۔
- ↑ سلیمیان، «تحلیل مفہومی توقیت ظهور حضرت مهدی(عج)...»، ص۱۸۲۔
- ↑ مجلسی، کتاب رجعت، ص۵۳-۶۴؛ مجلسی، بحارالانوار، ج۵۲، ص۲۴۳۔
- ↑ جعفریان، «نظریه اتصال دولت صفویه با دولت صاحب الزمان علیه السلام»، ص۷۴۸۔
- ↑ «دربارهی سخنان آیتالله بهجت و ناصری پیرامون ظهور»، ویب سائٹ انصاف نیوز۔
- ↑ «مطلب هشتم: تعیین وقت ظهور؛ بررسی برخی از شایعات منتسب به آیتالله بهجت قدسسره»، دفتر آیت اللہ بہجت کی ویب سائٹ۔
- ↑ «همه چیز درباره مستندی به نام ظهور بسیار نزدیک است»، ویب سائٹ پرسمان۔
- ↑ «پاسخ آیت الله مکارم شیرازی...»، حوزہ کا اطلاع رسانی مرکز؛ «نظر علما در مورد مستند ظهور بسیار نزدیک است»، مؤسسۂ ثقافتی دارالصادق کی ویب سائٹ۔
- ↑ «انتقاد مدیر مرکز تخصصی مهدویت از یک مستند جنجالی»، خبرگزاری فارس۔
مآخذ
- ابنبابویه، علی بن حسین، الإمامة و التبصرة من الحیرة، مصحح: مدرسه امام مهدی علیه السلام، قم، مدرسة الإمام المهدی عجّل الله تعالی فرجه الشریف، 1404ھ۔
- اصفهانی، محمدتقی، مکیال المکارم فی فوائد الدعاء للقائم، قم، مؤسسة الإمام المهدی (علیه السلام)، 1428ھ۔
- جعفریان، رسول، «نظریه اتصال دولت صفویه با دولت صاحب الزمان علیه السلام (نمونه های تاریخی) به ضمیمه رساله شرح حدیث دولتنا فی آخرالزمان»، پیام بهارستان، سال سوم - شماره11، بهار 1390ہجری شمسی۔
- حلی، حسن بن سلیمان، مختصر البصائر، مصحح: مظفر، مشتاق، قم، مؤسسة النشر الإسلامی، 1421ھ۔
- سلیمیان، خدامرد، «تحلیل مفهومی توقیت ظهور حضرت مهدی(عج) و کارکرد آن در تعیین مصداق»، جامعه مهدوی، شماره 11، بهار وتابستان 1404ہجری شمسی۔
- شیخ حر عاملی، محمد بن حسن، إثبات الهداة بالنصوص و المعجزات، بیروت، اعلمی، 1425ھ۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، کمال الدین و تمام النعمة، مصحح: علی اکبر غفاری، تهران، اسلامیه، 1395ھ۔
- طوسی، محمد بن الحسن، کتاب الغیبة للحجة، مصحح: تهرانی، عباد الله و ناصح، علی احمد، قم، دار المعارف الإسلامیة، 1411ھ۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، مصحح: غفاری علی اکبر و آخوندی، محمد، تهران، دارالکتب الاسلامیه، 1407ھ۔
- گودرزی، مجتبی، «تعیین وقت برای ظهور(توقیت)»، همایش بین المللی دکترین مهدویت، مهدویت و چالش ها(ج1)، 1398ہجری شمسی۔
- مجلسی، محمد باقر، کتاب رجعت، تحقیق: سید حسن موسوی، قم، دلیل ما، 1386ہجری شمسی۔
- مجلسی، محمدباقر، بحار الأنوار الجامعة لدرر الاخبار الائمة الاطهار، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، 1403ھ۔
- نعمانی، محمد بن ابراهیم، الغیبة، مصحح: علی اکبرغفاری، تهران، نشر صدوق، 1397ھ۔
- «دربارهی سخنان آیتالله بهجت و ناصری پیرامون ظهور»، سایت انصاف نیوز۔
- «مطلب هشتم: تعیین وقت ظهور؛ بررسی برخی از شایعات منتسب به آیت الله بهجت قدسسره»، سایت دفتر آیه الله بهجت۔
- «همه چیز درباره مستندی به نام ظهور بسیار نزدیک است»، سایت پرسمان۔
- «پاسخ آیت الله مکارم شیرازی به سؤالاتی پیرامون مستند ظهور نزدیک است»، خبرگزاری حوزه۔
- «نظر علما در مورد مستند ظهور بسیار نزدیک است»، سایت مؤسسه فرهنگی دارالصادق۔
- «انتقاد مدیر مرکز تخصصی مهدویت از یک مستند جنجالی»، خبرگزاری فارس۔