مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:امام حسینؑ اور عمر سعد کی گفتگو

ویکی شیعہ سے

امام حسینؑ اور عمر بن سعد کے درمیان واقعۂ کربلا سے قبل ہونے والی گفتگو کا تذکرہ مقتل الحسین ابو مخنف سمیت متعدد تاریخی مصادر میں ملتا ہے۔ اگرچہ اس طرح کے گفتگو کے اصل واقع ہونے کو عموما تسلیم کیا جاتا ہے، تاہم ان کے دقیق زمان، تعداد اور مندرجات کے بارے میں مختلف روایات پائی جاتی ہیں۔ بعض مورخین کے مطابق اس ملاقات کی تجویز امام حسینؑ کی جانب سے پیش کی گئی اور اسے عمر بن سعد تک پہنچائی گئی، جس کے بعد دونوں فریق اپنے بعض ساتھیوں کے ہمراہ دونوں لشکروں کے درمیان ایک مقام پر جمع ہوئے اور آپس میں گفتگو کی۔ تاہم مختلف روایات میں اس میں شریک افراد کی تعداد اور تفصیلات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ نیز بعض روایتوں میں مذکور ہے کہ عمر بن سعد کے لشکر کے چند افراد، امامؑ کے مؤقف سے آگاہ ہونے کے بعد اس سے الگ ہو کر امام حسینؑ کے قافلے میں شامل ہوگئے، لیکن اس دعوے کی تاریخی صحت محلِ تردید ہے۔

اس ملاقات کے وقت کے بارے میں بھی مختلف آراء پائے جاتے ہیں۔ بعض محققین کے نزدیک یہ ملاقات امام حسینؑ کے کربلا پہنچنے سے پہلے ہوئی تھی، جبکہ دیگر روایات کے مطابق یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب لشکرِ کوفہ اور لشکر امامؑ آمنے سامنے آ چکے تھے۔ ابو مخنف کے مطابق امام حسینؑ اور عمر بن سعد کے درمیان تین یا چار مرتبہ مختلف اوقات اور مقامات پر گفتگو ہوئی۔ بعض شیعہ مؤرخین کے مطابق یہ ملاقاتیں محرم الحرام کی چوتھی تاریخ سے چھٹی تاریخ کے درمیان ہوئی تھی۔

اس گفتگو کے مندرجات کے بارے میں بھی محققین کے درمیان نمایاں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض محققین جیسے مہدی پیشوائی عقبہ بن سمعان کی روایت سے استناد کرتے ہوئے اس دعوے کو رد کرتے ہیں کہ امام حسینؑ نے یزید کی بیعت کی پیش کش کی تھی۔ ان کے نزدیک یہ ایک تاریخی تحریف ہے جس کا مقصد یزید کی حکومت کو مشروعیت فراہم کرنا تھا۔ ان کے مطابق امامؑ نے صرف خواہش ظاہر کی تھی کہ انہیں اس علاقے سے نکل جانے دیا جائے۔ اس کے برعکس، محمد سروش محلاتی عمر بن سعد کے یزید کو لکھے گئے خط کی ایک مختلف تعبیر پیش کرتے ہوئے ان مذاکرات کو امام حسینؑ کی جانب سے گفتگو کی پیشکش اور جنگ سے اجتناب کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ تاہم اس نظرئے کو بھی رجبی دوانی اور مروجی طبسی جیسے محققین نے مسترد کیا ہے۔ ان کے مطابق عمر بن سعد کا مذکورہ خط جعلی یا غیر معتبر تھا اور اس کا مقصد ذاتی مفادات کا حصول تھا۔

ان ملاقاتوں کے مقاصد کے بارے میں بھی مختلف تفسیریں پیش کی گئی ہیں۔ بعض علماء جیسے آیت اللہ خامنہ ای اور آیت اللہ مکارم شیرازی ان مذاکرات کو عمر بن سعد کی نصیحت، اسے حق کی طرف دعوت دینے اور دشمنوں پر اتمامِ حجت کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ دوسری جانب محمد سروش محلاتی اور حسن روحانی نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان ملاقاتوں کا مقصد یزید کے ساتھ مذاکرات اور کسی سیاسی مفاہمت یا سمجھوتے کی راہ تلاش کرنا تھا۔

کربلا میں ایک مقام ایسا بھی موجود ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ امام حسینؑ اور عمر بن سعد کی ملاقات کی جگہ تھا۔ یہ مقام محلہ بابُ السّلامہ میں حرم امام حسینؑ کے شمال میں تقریباً 240 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

واقعۂ کربلا سے قبل امام حسینؑ اور عمر بن سعد کے مذاکرات

کتاب مقتل الحسین ابومخنف لکھتے ہیں کہ واقعۂ کربلا سے قبل امام حسینؑ اور عمر بن سعد کے درمیان متعدد گفتگو ہوئی تھیں۔[1] بعض محققین کے نزدیک اس طرح کی گفتگو کا وقوع پذیر ہونا تاریخی طور پر مسلم ہے، البتہ یہ کہ یہ گفتگو کب ہوئی اور ان کے مندرجات کیا تھے اس بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔[2]

بعض روایات کے مطابق ملاقات کی تجویز امام حسینؑ کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جسے عمرو بن قرظہ انصاری نے عمر بن سعد تک پہنچایا۔[3] تاہم سبط ابن جوزی اس تجویز کو عمر بن سعد کے بیٹے کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ بیان کیا گیا ہے کہ اس تجویز کے بعد امام حسینؑ اور عمر بن سعد اپنے اپنے بیس ساتھیوں کے ہمراہ دونوں لشکروں کے درمیان ایک مقام پر گفتگو کے لئے جمع ہوئے۔ لیکن ایک روایت کے مطابق آخری ملاقات میں امام حسینؑ کے ساتھ حضرت عباسؑ اور حضرت علی اکبرؑ موجود تھے، جبکہ عمر بن سعد اپنے بیٹے حفص اور غلام لاحق کے ساتھ شریکِ گفتگو تھا۔[4]

یہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ جب عمر بن سعد کے لشکر کے بعض افراد امام حسینؑ کے حالات اور موقف سے آگاہ ہوئے تو ان میں سے تیس افراد لشکر سے الگ ہو کر امامؑ کے لشکر میں شامل ہوگئے اور انہوں نے عمر سعد سے مخاطب ہو کر کہا: ’’نواسہ پیغمبرؐ تمہارے سامنے مختلف تجاویز پیش کر رہے ہیں اور تم ان میں سے کسی ایک کو بھی قبول نہیں کرتے؟‘‘[5] البتہ بعض محققین نے اس روایت کی صحت پر شبہ ظاہر کیا ہے۔[6]

واقعہ کربلا سے پہلے ہونے والی والی گفتگو کے وقت اور تعداد کے بارے میں مختلف روایات

واقعہ کربلا سے پہلے ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔[7] شیعہ مورخ مہدی پیشوائی کے مطابق شمر بن ذی الجوشن نے کربلا پہنچنے سے پہلے 9 محرم 61 ہجری کو یزید سے ایک ملاقات میں ان ملاقاتوں کی خبر دی تھی، یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مذاکرات اس سے پہلے وقوع پذیر ہو چکے تھے۔[8] تاہم کتاب "ترجمۃ الحسین ومقتلہ" (تیسری صدی ہجری) میں مذکور ہے کہ امام حسینؑ کے یہ جملات کوفہ کے لشکر کے ساتھ آمنا سامنا ہونے کے بعد ارشاد فرمایا تھا۔[9]

ابومخنف نے ان ملاقاتوں کی تعداد تین یا چار بیان کی ہے، جو مختلف مقامات اور اوقات میں ہوئیں۔[10] اسی طرح شیعہ محقق محمد صادق نجمی کا خیال ہے کہ یہ ملاقاتیں چار سے چھ محرم کے درمیان ہوئی تھیں۔[11]

گفتگو کا متن

امام حسینؑ اور عمر سعد کی گفتگو سے اقتباس
امام حسینؑ نے فرمایا: "اے سعد کے بیٹے! کیا تم مجھ سے جنگ کرنا چاہتے ہو، حالانکہ تم مجھے جانتے ہو اور جانتے ہو کہ میرا باپ کون ہے؟ کیا تم اس خدا سے نہیں ڈرتے جس کی طرف تمہیں لوٹ کر جانا ہے؟ کیا تم ان لوگوں (بنی امیہ) کا ساتھ چھوڑ کر میرے ساتھ نہیں آنا چاہتے؟ یہ عمل تمہیں خدا کے زیادہ قریب کر دے گا۔"عمر بن سعد نے جواب دیا: "مجھے اندیشہ ہے کہ اگر میں ایسا کروں تو کوفہ میں میرا گھر منہدم کر دیا جائے گا۔ "امامؑ نے فرمایا: "میں اپنے خرچ پر تمہارا گھر تعمیر کرا دوں گا۔" عمر بن سعد نے کہا: "مجھے ڈر ہے کہ میرا باغ اور نخلستان (کھجور کے باغ) ضبط کر لیا جائے گا۔" امامؑ نے فرمایا: "میں حجاز میں تمہیں اس سے بہتر باغات عطا کروں گا جو تمہارے پاس کوفہ میں ہیں۔" عمر بن سعد نے کہا: "میرے اہل و عیال کوفہ میں ہیں، مجھے خوف ہے کہ انہیں قتل کر دیا جائے گا۔" امامؑ نے فرمایا: "میں ان کی سلامتی کی ضمانت دیتا ہوں۔" اس کے بعد عمر بن سعد خاموش ہو گیا اور کوئی جواب نہ دے سکا۔ تب امام حسینؑ اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا: "تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ ... خدا تمہیں معاف نہ کرے ... میرا گمان ہے کہ تم عراق کی گندم میں سے بہت کم کھا سکو گے۔" عمر بن سعد نے جواب دیا: "اگر گندم نہ ملی تو جو (جَو) ہی سہی۔"[12]

امام حسینؑ اور عمر بن سعد کے درمیان ہونے والی گفتگو کے مندرجات کے بارے میں تاریخی مصادر میں مختلف روایات ملتی ہیں۔[13] تیسری صدی ہجری کے مورخ طبری کے مطابق دونوں فریق اپنے ساتھیوں سے الگ ہو کر گفتگو کرتے تھے، اس لئے لشکر کے دیگر افراد ان باتوں کی تفصیلات سے واقف نہ ہوتے تھے اور محض قیاس آرائیاں کرتے تھے۔[14]

اس سلسلے میں عقبہ بن سمعان، جن کا شمار امام حسینؑ کے مستقل ساتھیوں میں ہوتا ہے، امام حسینؑ کی طرف سے یزید کی بیعت کرنے کی پیش کش پر مبنی دعوے کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ ان کے مطابق امامؑ نے صرف یہ تجویز پیش کی تھی کہ انہیں اس علاقے سے نکل جانے دیا جائے تاکہ لوگوں انجام واضح ہو جائیں۔[15]

مہدی پیشوائی مختلف روایات کا جائزہ لینے کے بعد عقبہ بن سمعان کی روایت کو صحیح قرار دیتے ہیں۔[16] ان کے نزدیک امام حسینؑ کی اموی حکومت اور یزید کے خلاف ثابت شدہ روش اس بات کی تائید کرتی ہے کہ بیعت یا یزید کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے سے متعلق روایات درست نہیں ہیں۔[17] پیشوائی کے مطابق بعض حرّ بن یزید ریاحی کے لشکر ملاقات یا عمر بن سعد کے ساتھ گفتگو کے دوران بیعت کی پیش کش سے متعلق تاریخی روایات دراصل تاریخی تحریف اور یزید کی حکومت کو مشروعیت دینے کی کوشش ہیں۔[18] وہ مزید کہتے ہیں کہ امام حسینؑ کی جانب سے یزید کی بیعت کے انکار پر مبنی متعدد تاریخی شواہد اس قسم کی روایات کے بطلان کو ثابت کرتے ہیں۔[19]

شیعہ فقیہ محمد سروش محلاتی امام حسینؑ سے گفتگو کے بعد عمر بن سعد کی طرف سے یزید کو لکھے گئے خط کو اس گفتگو کو سمجھنے کی کلید سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق امام حسینؑ نے اس گفتگو میں یزید سے ملاقات اور بیعت یا مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔ سروش محلاتی کے مطابق یزید کی بیعت سے انکار پر مشتمل امامؑ کے سابقہ بیانات اس موقف سے متعارض نہیں ہے؛ کیونکہ ان دونوں بیانات کا زمینی اور معروضاتی حالات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان کے بقول ائمہ اہل بیتؑ مختلف حالات میں مختلف سیاسی حکمتِ عملی اختیار کرتے تھے۔[20]

تاہم اس نظریے کو متعدد محققین جیسے محمد حسین رجبی دوانی اور محمد علی مروجی طبسی مسترد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یزید کے نام عمر بن سعد کے خط میں جو تجاویز پیش کی گئیں، وہ حقیقت پر مبنی نہ تھیں بلکہ عمر سعد کی طرف سے جنگ کو ختم کرنے اور اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کی ایک کوشش تھیں۔[21] مزید برآں طبری کی روایت کے مطابھ، شمر کے ذریعے یزید کا جواب موصول ہونے کے بعد عمر بن سعد نے خود اعتراف کیا کہ اس کے خط میں مذکور باتیں حقیقت پر مبنی نہیں تھیں۔[22]

اس گفتگو کے مقاصد کے بارے میں مختلف آراء

اس گفتگو کے اصل وقوع کو قبول کرنے والے محققین اس کے مقصد کے بارے میں مختلف آراء پیش کی ہیں:

  • نصیحت و خیرخواہی: اسلامی جہوریہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اس گفتگو کو ’’مذاکرہ‘‘ قرار دینے کو سطحی تجزیہ قرار دیتے تھے۔ ان کے نزدیک امام حسینؑ کا مقصد عمر بن سعد کو نصیحت کرنا اور اسے ظلم و گمراہی کے راستے سے باز رکھنا تھا۔[23] شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ مکارم شیرازی بھی اسی رائے کے حامی ہیں اور گفتگو کا بنیادی مقصد عمر بن سعد کو اس کی غلطی سے آگاہ کرنا قرار دیتے ہیں۔[24]
  • مذاکرات: محمد سروش محلاتی کے مطابق یہ گفتگو جنگ اور خونریزی سے بچنے کے لیے ایک سیاسی مذاکرہ تھی۔ ان کے نزدیک امام حسینؑ نے بعض تاریخی روایات کی روشنی میں یزید سے ملاقات یا گفت و شنید کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی۔[25] اسی تناظر میں ایران کے سابق صدر حسن روحانی نے بھی اس واقعے کو منطق اور اصولوں کے دائرے میں تعمیری تعامل اور مذاکرات کی ایک مثال قرار دیا ہے۔[26]
  • اتمامِ حجت: آیت اللہ مکارم شیرازی کے مطابق ان ملاقاتوں کا ایک اہم مقصد دشمن پر اتمامِ حجت کرنا تھا، تاکہ بعد میں کوئی شخص یہ عذر پیش نہ کر سکے کہ اسے حق و باطل کی حقیقت معلوم نہ تھی۔[27]

مقامِ گفتگوی امام حسینؑ و عمر بن سعد

امام حسینؑ کی عمر سعد کے ساتھ گفتگو سے منسوب مقام

کربلا میں مقامِ گفتگوی امام حسینؑ و عمر بن سعد کے نام سے ایک تاریخی زیارت گاہ موجود ہے، جو باب السلامہ کے علاقے میں بازارِ بزرگ کے آخری حصے میں واقع ہے۔[28] یہ مقام حرمِ امام حسینؑ کے شمال میں تقریباً 240 میٹر کے فاصلے پر ہے۔ روایت ہے کہ جنگِ کربلا سے قبل امام حسینؑ اور عمر بن سعد کی ملاقات اسی مقام پر ہوئی تھی۔ اس عمارت کی تعمیر 1113ھ میں ہوئی اور بعد میں 1352ھ، 1378ھ اور 1423ھ میں اس کی مرمت و توسیع کی گئی۔[29]

حوالہ جات

  1. أبومخنف، مقتل الحسین، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی، ج1، ص100۔
  2. «امام حسینؑ اور عمر بن سعد کی ملاقات کے بارے میں محمد سروش محلاتی کا مکمل تجزیہ»، شفقنا نیوز ایجنسی۔
  3. سبط ابن جوزی، تذکرۃ الخواص، 1426ھ، ج2، ص152۔
  4. خوارزمی، مقتل الحسین، 1423ھ، ج1، ص347۔
  5. ابن قتیبہ دینوری، الامامۃ والسیاسہ، 1410ھ، ج2، ص11و12۔
  6. پیشوایی، مقتل جامع سیدالشہداء، ج1، ص709۔
  7. پیشوایی، مقتل جامع سیدالشہداء، 1397شمسی، ج1، ص709۔
  8. پیشوایی، مقتل جامع سیدالشہداء، 1397شمسی، ج1، ص709۔
  9. ابن سعد بغدادی، ترجمۃ الحسین ومقتلہ، ص69۔
  10. أبومخنف، مقتل الحسین، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی، ج1، ص100۔
  11. «دو لشکر کے درمیان موجود خیمے میں امام حسین اور عمر سعد کے درمیان کیا گتفگو ہوئی؟»، آنلائن نیوز ایجنسی۔
  12. خوارزمی، مقتل الحسین، 1423ھ، ج1، ص347۔
  13. پیشوایی، مقتل جامع سیدالشہداء، 1397شمسی، ج1، ص710و711۔
  14. طبری، تاریخ الطبری، ‍1387ھ، ج5، ص413۔
  15. طبری، تاریخ الرسل والملوک، ج5، ص415۔
  16. پیشوائی، مقتل جامع سیدالشہداء، 1397شمسی، ج1، ص710-711۔
  17. پیشوائی، مقتل جامع سیدالشہداء، ج1، ص710-711۔
  18. ایضاً۔
  19. پیشوائی، مقتل جامع سیدالشہداء، ج1، ص709۔
  20. شفقنا اور خبرآن لائن میں شائع شدہ سروش محلاتی کے بیانات۔
  21. رجبی دوانی، مروجی طبسی، جعفریان اور دیگر محققین کے مضامین۔
  22. طبری، تاریخ الرسل والملوک، ج5، ص415۔
  23. خامنه‌ای، «بیانات در دیدار فرماندهان و کارکنان نیروی دریایی سپاه پاسداران انقلاب اسلامی و خانواده‌های آنان»، وبگاه دفتر حفظ و نشر آثار آیت‌الله خامنه‌ای.
  24. مکارم شیرازی، عاشورا ريشه‌ها، انگيزه‌ها، رويدادها، پيامدها، ۱۳۸۷ش، ج۱، ص۳۸۸.
  25. «متن کامل تحلیل سروش محلاتی از ملاقات امام حسین(ع) با عمر سعد»، خبرگزاری شفقنا.
  26. «هشدار رییس جمهور نسبت به اجرای ناصحیح امر به معروف و نهی از منکر»، خبرگزاری ایسنا.
  27. مکارم شیرازی، عاشورا ريشه‌ها، انگيزه‌ها، رويدادها، پيامدها، ۱۳۸۷ش، ج۱، ص۳۸۸.
  28. «زیارتگاہ ہای کربلا؛ مقام گفت وگوی امام حسین(ع) با عمر بن سعد»، امام حسینؑ معلوماتی پورٹل۔
  29. فقیہ بحرالعلوم و خامہ یار، زيارتگاہہاى عراق (معرفى زيارتگاہ ہاى مشہور در كشور عراق)، سازمان حج و زیارت، ج1، ص246۔

مآخذ