مسودہ:نقدین
Appearance
| بعض عملی اور فقہی احکام |
|---|
نَقدَین، فقہ شیعہ میں سونا اور چاندی کے سکوں کو کہا جاتا ہے۔[1] یہ موضوع ربا[2] اور زکوٰۃ[3] کے ابواب میں زیر بحث آتا ہے۔ ربا کی دو قسمیں ہیں: معاملاتی سود اور قرضی سود۔[4] معاملاتی سود سے مراد دو ہم جنس اشیاء کی ایسی خرید و فروخت کو کہا جاتا ہے جس میں ایک چیز دوسری چیز کے مقابلے میں زیادہ لی جائے۔ قرضی سود سے مراد یہ ہے کہ زیادہ لینے کی شرط پر قرض دیا جائے۔[5]
سونے اور چاندی پر زکوٰۃ واجب ہونے کے لئے تین شرطوں کا ہونا ضروری ہے:
- نصاب تک پہنچنا: سونے کا نصاب: بیس دینار، جس کی زکوٰۃ آدھا دینار یعنی دس قیراط ہے؛ اور چار دینار جس کی زکوٰۃ دو قیراط ہے۔ چوبیس دینار پر آدھا دینار اور دو قیراط زکوٰۃ ہے اور بیس دینار کے بعد ہر چار دینار کے اضافے پر دو قیراط زکوٰۃ ہے یہاں تک کہ چالیس دینار ہو جائیں تو اس کی زکوٰۃ پورا ایک دینار ہے۔[6] چاندی کا نصاب: دو سو درہم، جس کی زکوٰۃ پانچ درہم ہے؛ اور چالیس درہم جس کی زکوٰۃ ایک درہم ہے۔ دو سو چالیس درہم کی زکوٰۃ چھ درہم ہے۔ اس کے بعد ہر چالیس درہم کے اضافے پر ایک درہم زکوٰۃ ہے۔[7]
- مسکوک یعنی سکے کی شکل میں ہونا: سونا اور چاندی سکے کی شکل میں ڈھلے ہوئے ہوں۔ زکوٰۃ کی وجوب کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اس وقت ان سکوں سے لین دین ہوتا ہو؛ بس اتنا کافی ہے کہ ماضی میں رائج رہے ہوں۔[8] لیکن اگر فی الحال ان کا کوئی معاملاتی رواج نہ ہو تو بعض فقہا زکوٰۃ کو واجب نہیں سمجھتے ہیں۔[9]
- سال گزرنا: یعنی گیارہ قمری مہینے گزر جائیں اور بارہواں مہینہ آ جائے۔ اگر دورانِ سال زکوٰۃ کی کوئی شرط ختم ہو جائے تو سال کا حساب باطل ہو جاتا ہے اور زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔[10]
جس شخص پر زکوٰۃ واجب ہو جائے، وہ خود سونے اور چاندی سے بطور زکوٰۃ ادا کر سکتا ہے یا اس کی قیمت کے برابر رقم ادا کر سکتا ہے۔[11]
حوالہ جات
- ↑ دہخدا، لغت نامہ، زیر لفظ "نقدین"۔
- ↑ امام خمینی، کتاب البیع، 1421ھ، ج2، ص541-542۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج15، ص65۔
- ↑ امام خمینی، کتاب البیع، 1421ھ، ج2، ص541-542۔
- ↑ مثلاً دیکھیے: محقق کرکی، جامع المقاصد، 1414ھ، ج4، ص265؛ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج23، ص334؛ ابن براج، المہذب، 1406ھ، ج1، ص362؛ ابن ادریس حلی، السرائر، 1410ھ، ج2، ص253۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج15، ص168-172؛ حکیم، مستمسک العروۃ، 1391ھ، ج9، ص115-119۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج15، ص172؛ حکیم، مستمسک العروۃ، 1391ھ، ج9، ص119-120۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج15، ص180-181۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج15، ص182-183۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج15، ص182۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج15، ص125؛ حکیم، مستمسک العروۃ، 1391ھ، ج9، ص83-85۔
مآخذ
- ابنادریس، محمد بن منصور، السرائر الحاوي لتحرير الفتاوى، قم، انتشارات اسلامی، 1410ھ۔
- ابنبراج، قاضی عبدالعزیز، المہذب، قم، انتشارات اسلامی، 1406ھ۔
- امام خمینی، سید روحاللہ، کتاب البیع، تہران، مؤسسۃ تنظیم و نشر آثار الإمام الخمینی، 1421ھ۔
- حکیم، سید محسن، مستمسک العروۃ الوثقی، قم، نشر مکتبۃ آیۃ اللّہ المرعشی النجفی، 1388-1391ھ۔
- دہخدا، علیاکبر، لغتنامہ، تہران، مؤسسہ انتشارات و چاپ دانشگاہ تہران، 1377ہجری شمسی۔
- محقق کرکی، علی بن حسین، جامع المقاصد في شرح القواعد، قم، مؤسسہ آل البيت عليہم السلام، 1414ھ۔
- نجفی، محمدحسن، جَواہر الکلام فی شرحِ شرائعِ الاسلام، تصحیح عباس قوچانی و علی آخوندی، بیروت، دارُ اِحیاء التُّراثِ العربی، ساتویں اشاعت، 1404ھ۔