مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:عروۃ الوثقی

ویکی شیعہ سے

عُروَۃُ الوُثقیٰ ایک قرآنی تعبیر ہے، جس کے معنی مضبوط اور قابلِ اعتماد سہارے کے ہیں۔[1] یہ تعبیر استعارے کے طور پر صحیح فکر اور سچے دین پر ثابت قدم رہنے کے لئے استعمال ہوئی ہے۔[2] بعض مفسرین نے اسے ایک معنوی حقیقت کی حسی تصویر قرار دیا ہے۔[3] عروۃ الوثقیٰ کو کفر اور اسلام کے درمیان حدِ فاصل[4] اور انسان کے لیے ہدایت الٰہی کی راہ پر گامزن ہونے کا وسیلہ بھی قرار دیا گیا ہے۔[5] امام صادق(ع) سے منقول ایک روایت میں عروۃ الوثقی سے تمسک کرنے کو نجات کا سبب قرار دیا گیا ہے۔[6]

عروۃ الوثقیٰ کی تعبیر قرآن میں دو مرتبہ آئی ہے۔[7] پہلی مرتبہ سورۂ لقمان آیت نمبر 22 میں، جہاں خدا کے سامنے سرِ تسلیم خم ہونے اور عمل صالح انجام دینے کو عروۃ الوثقیٰ سے تمسک کا مصداق قرار دیا گیا ہے،[8] اور دوسری مرتبہ سورہ بقرہ آیت نمبر 256 میں، جہاں طاغوت سے انکار اور خدا پر ایمان لانے کو عروۃ الوثقیٰ سے تمسک کا مصداق قرار دیتے ہوئے اسے ایسا مضبوط سہارا قرار دیا گیا ہے جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتا۔[9] ان دونوں آیات میں اس مؤمن کی تمثیل بیان کی گئی ہے جس نے مضبوط ترین سہارے اور مستحکم ترین پناہ گاہ کا سہارا لے رکھا ہو۔[10]

عروۃ الوثقیٰ کے مصداق کے بارے میں مختلف آرا پیش کی گئی ہیں، جنہیں ایمان اور راہِ الٰہی سے وابستگی کی مختلف صورتیں قرار دیا گیا ہے۔[11] اسلام،[12] ایمان،[13] قرآن،[14] لا إلہ إلا اللہ[15] اور خدا کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا[16] ان مصادیق میں شامل ہیں جن کا ذکر کیا گیا ہے۔

شیعہ احادیث میں عروۃ الوثقیٰ کا اطلاق اہل بیتؑ اور ان کی ولایت پر بھی کیا گیا ہے۔[17] ان میں سے ایک روایت پیغمبر اسلامؐ سے منقول ہے، جسے امام رضاؑ کے واسطے سے نقل کیا گیا ہے۔ اس روایت میں ولایت امام علیؑ اور ہدایت کرنے والے اماموں کی پیروی کو عروۃ الوثقیٰ سے تمسک اور نجات حاصل کرنے کا راستہ قرار دیا گیا ہے۔[18] اسی طرح پیغمبر اسلامؐ[19] اور امام باقرؑ[20] سے منقول روایات میں اہل بیتؑ کی محبت کو عروۃ الوثقیٰ کے مصادیق میں شمار کیا گیا ہے۔

اس قرآنی تعبیر سے متاثر ہو کر بعض دینی آثار اور مراکز کو "عروۃ الوثقیٰ" کا نام دیا گیا ہے۔ ان میں کتاب العروۃ الوثقی بھی شامل ہے، جو سید محمدکاظم طباطبائی یزدی کی تصنیف ہے اور شیعہ حوزہ ہائے علمیہ کی مشہور فقہی کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔[21] اسی طرح اس عنوان سے رسائل و جرائد[22] اور ایک تحقیقی ادارہ بھی سرگرم رہے ہیں۔[23] پاکستان کے شہر لاہور میں شیعوں کے ایک دینی درسگاہ کا نام بھی جامعہ عروۃ الوثقی رکھا گیا ہے۔[24]

حوالہ جات

  1. ↑ آلوسی، روح المعانی، ج2، ص15۔
  2. ↑ فیض کاشانی، تفسیر الصافی، ج1، ص284۔
  3. ↑ سید قطب، فی ظلال القرآن، ج1، ص292۔
  4. ↑ فوزان، سلسلہ شرح الرسائل، ص131۔
  5. ↑ سید قطب، فی ظلال القرآن، ج1، ص292۔
  6. ↑ کلینی، الکافی، ج2، ص372۔
  7. ↑ فاضل لنکرانی، مقدمات بنیادین علم تفسیر، ص490۔
  8. ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج17، ص67۔
  9. ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج2، ص280۔
  10. ↑ دہیشی، أسماء القرآن و أوصافہ فی القرآن الکریم، ص394۔
  11. ↑ دہیشی، أسماء القرآن و أوصافہ فی القرآن الکریم، ص394۔
  12. ↑ دہیشی، أسماء القرآن و أوصافہ فی القرآن الکریم، ص394۔
  13. ↑ کاشانی، تفسیر المعین، ج1، ص128۔
  14. ↑ اشرف زادہ، فرہنگ تفسیری قرآن مجید براساس نسخۂ دانشگاہ کمبریج، ص209؛ ہاشمی رفسنجانی، فرہنگ قرآن، ج23، ص83۔
  15. ↑ فوزان، سلسلہ شرح الرسائل، ص131۔
  16. ↑ برقی، المحاسن، ج1، ص272۔
  17. ↑ بحرانی، البرہان، ج4، ص379؛ قمی، تفسیر القمی، ج1، ص84۔
  18. ↑ شیخ صدوق، الأمالی، ص19۔
  19. ↑ شیخ صدوق، عیون أخبار الرضا، ج2، ص58۔
  20. ↑ ابن شہر آشوب، مناقب آل أبی طالب، ج4، ص3۔
  21. ↑ یزدی، العروۃ الوثقی، مقدمۂ تحقیق، ج1، ص3-4۔
  22. ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: «العروۃ الوثقیٰ»، مرکز بررسی ہائے اسلامی؛ «عروۃ الوثقیٰ [مجلہ]»، ایران کے رسائل کا آن لائن نظام۔
  23. ↑ «پژوہشکدۂ بین‌المللی عروۃ الوثقیٰ»۔
  24. ↑ جامعہ عروۃ الوثقی لاہور کا تعارف، جامعہ عروۃ الوثقی کی ویب سائٹ۔

مآخذ

  • ابن‌شہرآشوب، مناقب آل أبی‌طالب علیہم‌السلام، قم، علامہ پبلشرز، پہلی اشاعت، 1379ھ۔
  • اشرف‌زادہ، رضا، فرہنگ تفسیری قرآن مجید براساس نسخہ دانشگاہ کمبریج (فرہنگِ تفسیریِ قرآنِ مجید، کیمبرج یونیورسٹی کے نسخے کی بنیاد پر)، مشہد، سخن گستر، 1392ہجری شمسی۔
  • آلوسی، سید محمود، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم، تحقیق: علی عبدالباری عطیۃ، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، پہلی اشاعت، 1415ھ۔
  • بحرانی، سید ہاشم، البرہان فی تفسیر القرآن، تہران، بنیاد بعثت، پہلی اشاعت، 1416ھ۔
  • برقی، احمد بن محمد، المحاسن، محقق و مصحح: جلال‌الدین محدث، ‏ قم، دار الکتب الإسلامیۃ، دوسری اشاعت، 1371ھ۔
  • پژوہشکدہ بین‌المللی عروۃ الوثقی (بین الاقوامی تحقیقی ادارہ عروۃ الوثقی)، تاریخ مشاہدہ: 13 اکتوبر 2026ء۔
  • دُہَیشی، عمر بن عبدالعزیز، أسماء القرآن و اوصافہ فی القران الکریم، دمام – عربستان، دار ابن الجوزی، 1430ھ۔
  • سید قطب، فی ظلال القرآن، بیروت، قاہرہ، دارالشروق، سترہویں اشاعت، 1412ھ۔
  • شیخ صدوق، الامالی، تہران، کتابچی، چھٹی اشاعت، 1376ہجری شمسی۔
  • شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا(ع)، محقق و مصحح: مہدی لاجوردی، تہران، نشر جہان، پہلی اشاعت، 1378ھ۔
  • «عروۃ‌الوثقی [مجلہ]» سامانہ نشریات ایران، تاریخ مشاہدہ: 13 اکتوبر 2026ء۔
  • «العروہ الوثقی»، اسلامی تحقیقاتی مرکز، تاریخ مشاہدہ: 13 اکتوبر 2026ء۔
  • فاضل لنکرانی، محمد، مقدمات بنیادین علم تفسیر، تہران، بنیاد قرآن، 1381ہجری شمسی۔
  • فوزان، صالح، سلسلہ شرح الرسائل، الریاض، مکتبۃ الامام الذہبی، الطبعۃ الأولی، 2019ء۔
  • فیض کاشانی، ملامحسن، تفسیر الصافی، تحقیق: حسین اعلمی، تہران، الصدر پبلشرز، دوسری اشاعت، 1415ھ۔
  • قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، محقق و مصحح: سید طیب موسوی جزائری، قم، دار الکتاب، تیسری اشاعت، 1404ھ۔
  • کاشانی، محمد بن مرتضی، تفسیر المعین، تحقیق: درگاہی، حسین، قم، کتابخانہ آیۃ اللہ مرعشی نجفی، پہلی اشاعت، 1410ھ۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، محقق و مصحح: علی‌اکبر غفاری، محمد آخوندی، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1374ہجری شمسی۔
  • ہاشمی رفسنجانی، اکبر، فرہنگ قرآن، قم، دفتر تبلیغات اسلامی، 1379ہجری شمسی۔
  • یزدی، سید محمدکاظم، العروۃ الوثقی، قم، دفتر اسلامی پبلشرز، 1419ھ۔