مسودہ:طاغوت
طاغوت ہر اس سرکش انسان، طاقت یا اقتدار کو کہا جاتا ہے جسے اللہ کے بجائے معبود، مطاع یا قابلِ اطاعت و پیروی بنا لیا جائے۔[1] قرآن مجید میں یہ لفظ آٹھ مرتبہ استعمال ہوا ہے۔[2] سورہ نساء کی آیت 51 میں طاغوت سے مراد شرک اور گمراہی کی مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں، جن میں بت، شیاطین اور وہ انسان شامل ہیں جن کی اللہ کے بجائے اطاعت اور پیروی کی جائے۔[3] سورہ بقرہ کی آیت 257 میں طاغوت کو اس محاذ اور طاقت کی علامت قرار دیا گیا ہے جو انسان کو نورِ ہدایت سے نکال کر گمراہی کی تاریکیوں میں لے جاتی ہے۔[4] اسی طرح سورہ نساء کی آیت 60 میں طاغوت کا لفظ ان افراد کے لیے استعمال ہوا ہے جو اللہ کی طرف سے مشروعیت کے بغیر فیصلے اور حکومت کرتے ہیں۔[5] اسی طرح مفسرین نے سورہ مائدہ کی آیت 60[6] اور سورہ نحل کی آیت 36[7] میں طاغوت سے مراد شرک کے مظاہر، گمراہی کے پیشوا اور وہ عوامل قرار دیے ہیں جو انسان کو اللہ کے راستے سے دور کرتے ہیں۔ نیز سورہ نساء کی آیت 76 میں "راہ طاغوت" سے مراد ہر وہ فرد، طاقت یا نظام لیا گیا ہے جو اللہ کے راستے (سبیل طاغوت) کے مقابل کھڑا ہو۔[8]
شیعہ روایات میں طاغوت کا استعمال زیادہ تر ظالم حکمرانوں اور جابر فرمانرواؤں کے لیے ہوا ہے۔[9] ان روایات میں شیعوں کو طاغوت سے براءت اختیار کرنے اور اس کے فتنے سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے،[10] نیز طاغوتوں کے وجود کو امام مہدیؑ کی غیبت کے اسباب میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔[11] اسی طرح ظالم حکمرانوں اور ناجائز قاضیوں کے پاس فیصلہ لے جانے کی مذمت میں بھی متعدد روایات نقل ہوئی ہیں۔[12] شیعہ فقہاء نے انہی روایات کی بنیاد پر یہ فتویٰ دیا ہے کہ طاغوت کے پاس مقدمہ لے جانا یا اس سے فیصلہ طلب کرنا، حتیٰ کہ اپنا حق حاصل کرنے کے لیے ہی کیوں نہ ہو، جائز نہیں ہے؛ البتہ کچھ استثنائی موارد بھی بیان کیے گئے ہیں؛ جیسے یہ کہ جب حق حاصل کرنے کا کوئی دوسرا راستہ موجود نہ ہویا کوئی اور ]]قاعدہ اضطرار|مجبوری]] کا سامنا ہو وغیرہ۔[13]
بعض شیعہ روایات اور زیارات میں "جبت" اور "طاغوت" کے الفاظ دشمنانِ اہل بیتؑ،[14] یا شرک اور باطل کی علامتوں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔[15] اسی طرح عصرِ غیبت سے متعلق بعض روایات میں بیان ہوا ہے کہ امام مہدیؑ کے ظہور سے پہلے جو بھی پرچم لوگوں کو اپنی ذات کی طرف دعوت دیتے ہوئے بلند کیا جائے، وہ طاغوت کا پرچم ہے۔[16] تاہم بعض شیعہ علماء نے ان روایات کی تشریح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے مراد خود غرض اور اقتدار طلب تحریکیں ہیں، جبکہ عدل کے قیام اور حق کے دفاع کے لیے اٹھنے والی تحریکیں اس حکم میں شامل نہیں ہیں۔[17]
جمہوری اسلامی ایران کی سیاسی اصطلاحات میں طاغوت کا لفظ ان حکومتوں، افراد یا تحریکوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو اسلامی اقدار کے مخالف سمجھے جاتے ہیں۔[18] امام خمینی نے بھی اس اصطلاح کو پہلوی حکومت اور اس کے بعض حکام و عہدیداروں کے لیے استعمال کیا ہے۔[19]
حوالہ جات
- ↑ راغب اصفہانی، المفردات، 1412ھ، ص521۔
- ↑ قرشی، قاموس قرآن، 1412ھ، ج4، ص224۔
- ↑ طبری، جامع البیان، 1412ھ، ج8، ص465۔
- ↑ طوسی، التبیان، بیروت، ج2، ص312؛ طبرسی، مجمع البیان، 1408ھ، ج2، ص631۔
- ↑ طیب، اطیب البیان، 1378ش، ج4، ص118-119۔
- ↑ زمخشری، الکشاف، 1407ھ، ج1، ص653۔
- ↑ طیب، اطیب البیان، 1378شمسی، ج8، ص118۔
- ↑ طوسی، التبیان، بیروت، ج3، ص260۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: صفارقمی، بصائر الدرجات، 1404ھ، ص144- 145؛ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1 ص261-262و319،477۔
- ↑ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج8، ص15۔
- ↑ شیخ صدوق، کمال الدین، 1416ھ، ص47۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: کلینی، الکافی، 1407ھ، ج7، ص411-412۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: فاضل ہندی، کشف اللثام، 1416ھ، ج10، ص7-8؛ انصاری، القضاء و الشہادات، 1415ھ، ص61-64؛ آشتیانی، کتاب القضاء، 1415ھ، ص20-22۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج30، ص187-188 و ج31، ص600-601۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج96، ص190-193 و ج97، ص206، 295۔
- ↑ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج8، ص295؛ مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج52، ص143۔
- ↑ مکارم شیرازی، پیام قرآن، 1374شمسی، ج10، ص78ـ84؛ جوادی آملی، امام مہدی؛ موجود موعود، 1395شمسی، ص152ـ159۔
- ↑ مؤمن، «طاغوت»، ص236-237۔
- ↑ مؤمن، «طاغوت»، ص236-237۔
مآخذ
- آشتیانی، محمدحسن، کتاب القضاء، قم، منشورات دار الہجرۃ، 1404ھ۔
- آصفی، محمدمہدی، فقہ المقاومۃ دراسۃ فقہیۃ مقارنۃ، تہران، مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی، معاونت فرہنگی، 1430ھ۔
- انصاری، مرتضی، القضاء و الشہادات، قم، کنگرہ جہانی بزرگداشت شیح اعظم انصاری، 1415ھ۔
- جوادی آملی، عبداللہ، امام مہدی؛ موجود موعود، قم، مرکز نشر اسراء، 1395ہجری شمسی۔
- زمخشری، محمود بن عمر، الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل و عیون الأقاویل فی وجوہ التأویل، بیروت، دار الکتاب العربی، 1407ھ۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، کمالالدین و تمام النعمۃ، قم، جماعۃ المدرسین فی الحوزۃ العلمیۃ، 1416ھ۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، اَلتِّبیان فی تفسیرِ القرآن، تحقیق احمد قصیر عاملی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بیتا۔
- صفار قمی، محمد بن حسن، بصائر الدرجات فی فضائلِ آل محمد، قم، کتابخانہ آیتاللہ مرعشی نجفی، 1404ھ۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تصحیح: فضلاللہ یزدی طباطبایی، بیروت، دار المعرفۃ، 1408ھ۔
- طبری، محمد، جامع البیان فی تفسیر القرآن، دار المعرفۃ، بیروت، 1412ھ۔
- طیب، سید عبدالحسین، اطیب البیان فی تفسیر القرآن، تہران، نشر اسلام، 1378ہجری شمسی۔
- قرشی، سید علیاکبر، قاموس قرآن، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، چھٹی اشاعت، 1412ھ۔
- فاضل ہندی، محمد بن حسن، کشف اللثام عن قواعد الأحکام، قم، مؤسسۃ النشر الإسلامی، 1416ھ۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تصحیح: علیاکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، 1407ھ۔
- مجلسی، محمدباقر، بِحارُ الاَنوارِ الجامعۃُ لِدُرَرِ اَخبارِ الاَئمۃِ الاَطہار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، دوسری اشاعت، 1403ھ۔
- مکارم شیرازی، ناصر، پیام قرآن، قم، انتشارات مدرسہ امام علی بن ابیطالب(ع)، 1374ہجری شمسی۔
- مؤمن، موجان، «طاغوت»، در جلد سوم دایرۃ المعارف جہان نوین اسلام، ترجمہ: حسین سوزنچی، تہران، نشر کتاب مرجع و نشر کنگرہ، 1391ہجری شمسی۔