مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:بنی نوع انسان

ویکی شیعہ سے

بنی نوع انسان یا بنی آدم سے مراد تمام انسان ہیں، جو اسلامی عقیدے کے مطابق حضرت آدم کی نسل سے ہیں۔[1] یہ تعبیر قرآن میں سات مرتبہ استعمال ہوئی ہے جن میں سورہ اعراف کی آیات 26، 27، 31، 35 ، 172، اورسورہ اسراء آیت نمبر 70 اور سورہ یٰس آیت نمبر 60 شامل ہیں۔[2] بیشتر اسلامی مفسرین کے نزدیک قرآن میں یہ لفظ تمام انسانوں کو مخاطب قرار دینے کے لئے استعمال ہوا ہے، نہ کہ کسی خاص گروہ یا مذہب کے لئے۔ البتہ بعض آراء کے مطابق اس سے مراد صرف مسلمان ہیں[3] لیکن دیگر مفسرین نے اس رائے کو قبول نہیں کیا ہے، کیونکہ پیغمبر اسلامؐ کی آفاقی رسالت کے پیشِ نظر یہ خطاب تمام انسانوں کو شامل ہے۔[4]

لغوی اعتبار سے بنی آدم کا معنی "آدم کی اولاد" ہے۔ اگرچہ لفظ ابن اصل میں بیٹے کے معنی میں آتا ہے، لیکن عربی زبان اور قرآنی استعمال میں یہ تعبیر عمومی طور پر تمام انسانوں، خواہ مرد ہوں یا عورت کے لئے استعمال ہوتی ہے۔[5]

فارسی ادب میں سعدی کی مشہور نظم بھی بنی آدم کے نام سے معروف ہے، جس میں تمام انسانوں کے باہمی ربط، ہمدردی اور یکجہتی کو بیان کیا گیا ہے۔[6]

بنی آدم اعضای یک دیگرندکہ در آفرینش ز یک گوہرند
بنی آدم ایک دوسرے کے اعضا ہیںکیونکہ سب ایک ہی جوہرِ تخلیق سے پیدا ہوئے ہیں
چو عضوی بہ درد آورد روزگاردگر عضوہا را نماند قرار
جب زمانہ کسی ایک عضو کو درد میں مبتلا کر دےتو باقی اعضا کو بھی چین و قرار نہیں رہتا

حوالہ جات

  1. قرشی بنایی، قاموس قرآن، 1376شمسی، ج1، ص38۔
  2. قرشی بنایی، قاموس قرآن، 1376شمسی، ج1، ص38۔
  3. مراغی، تفسیر المراغی، بیروت، ج4، ص176۔
  4. مثلاً ملاحظہ ہو: طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج7، ص68-72؛ فضل اللہ، من وحی القرآن، 1419ھ، ج7، ص27؛ مغنیہ، تفسیر الکاشف، 1424ھ، ج2، ص243-244؛ آلوسی، روح المعانی، 1415ھ، ج4، ص343 و 369؛ ابوحیان اندلسی، البحر المحیط، 1420ھ، ج1، ص281۔
  5. طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج7، ص69۔
  6. سعدی، گلستان سعدی، 1376شمسی، ص33۔

مآخذ

  • آلوسی، سید محمود، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم، تحقیق علی عبدالباری عطیہ، بیروت، دارالکتب العلمیہ، 1415ھ۔
  • ابوحیان اندلسی، محمد بن یوسف، البحر المحیط فی التفسیر، تحقیق صدقی محمد جمیل، بیروت، دارالفکر، 1420ھ۔
  • سعدی، مصلح بن عبداللہ، گلستان سعدی، تہران، دانشمسی، 1376ہجری شمسی۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1417ھ۔
  • فضل اللہ، سید محمدحسین، من وحی القرآن، بیروت، دارالملاک للطباعۃ و النشر، 1419ھ۔
  • قرشی بنابی، علی اکبر، قاموس القرآن، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، 1371ہجری شمسی۔
  • مراغی، احمد مصطفی، تفسیر المراغی، بیروت، دار الاحیاء التراث العربی۔
  • مغنیہ، محمدجواد، تفسیر الکاشف، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، 1424ھ۔