مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:اختلاف امتی رحمۃ

ویکی شیعہ سے

اختلاف اُمّتی رحمۃ، یعنی ’’میری امت کا اختلاف رحمت ہے‘‘، پیغمبر اسلامؐ سے منسوب ایک حدیث ہے جو مسلمانوں کے درمیان مشہور ہے۔ یہ حدیث شیعہ کتبِ اربعہ اور اہلِ سنت کے ابتدائی حدیثی مآخذ میں نقل نہیں ہوئی اور سند کے اعتبار سے ضعیف قرار دی گئی ہے۔ تاہم، بعض محققین نے اس کی شہرت اور قرآنی تعلیمات سے مفہوم کے اعتبار سے مطابقت رکھنے کو اس حدیث کے مورد قبول واقع ہونے کے علل و اسباب میں شمار کیا ہے۔

اس حدیث کی مختلف تفسیریں بیان ہوئی ہیں، جن میں دینی تعلیم کے لئے آمد و رفت، فروع دین میں اختلاف اور تقیہ شامل ہیں۔ بعض علما نے اس حدیث کو پیغمبر اسلامؐ کی حیاتِ مبارکہ تک محدود قرار دیا ہے۔

اہمیت

اختلافِ اُمّتی رحمۃ، پیغمبر اسلامؐ سے منسوب ایک حدیث ہے[1] جو مسلمانوں میں مشہور ہے۔[2] یہ حدیث شیعہ کتبِ اربعہ اور اہلِ سنت کے ابتدائی حدیثی مآخذ میں نقل نہیں ہوئی۔[3] تاہم، حدیث بعض شرحوں، تفاسیر اور عرفانی مآخذ میں اس سے استناد کیا گیا ہے۔[4]

اس حدیث کے بعض راویوں کو قابلِ اعتماد اور بعض کو ضعیف قرار دیا گیا ہے؛ چنانچہ سند کے اعتبار سے اس روایت کو ضعیف سمجھا گیا ہے۔[5] بعض محققین نے اسے منقطع السند یا غیر معتبر بھی قرار دیا ہے۔[6] اس کے برعکس، بعض محققین کے نزدیک حدیث کی شہرت اور اس کے مفہوم کی قرآنی تعلیمات سے مطابقت ایسے عوامل ہیں جو اس کی سند کی کمزوری کی تلافی کر سکتے ہیں۔[7]

اہلِ سنت کے بعض علما نے بھی اس حدیث کو سند کے اعتبار سے قبول نہیں کیا[8] اور اسے موضوع،[9] مرفوع[10] یا بے سند[11] قرار دیا ہے۔ اہلِ سنت کے عالم رشید رضا کا خیال ہے کہ جو لوگ اپنے مذہب کے بارے میں متعصب ہیں، وہ اس تعبیر کو قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں کہ اختلاف رحمت ہے۔[12]

اختلاف اصحابی لکم رحمۃ کی روایت

شیعہ[13] اور اہلِ سنت[14] کے حدیثی مآخذ میں اس عبارت کے ساتھ ایک روایت بھی نقل ہوئی ہے: ’’اخْتِلَافُ أَصْحَابِی لَکُمْ رَحْمَةٌ‘‘؛ یعنی ’’میرے اصحاب کا اختلاف تمہارے لیے رحمت ہے۔‘‘ اس روایت کو سند کے اعتبار سے ضعیف قرار دیا گیا ہے۔[15] شیخ صدوق اس روایت کے ضمن میں نقل کرتے ہیں کہ جب پیغمبر اسلامؐ سے پوچھا گیا کہ آپؐ کے اصحاب کون ہیں تو آپؐ نے اپنے اہلِ بیتؑ کا تعارف کرایا۔[16]

حدیث کی مختلف تفسیریں

اختلافِ اُمّتی رحمۃ کا لفظی مفہوم ’’میری امت کا اختلاف رحمت ہے‘‘ ہے، تاہم اس کی مختلف تفسیریں بیان کی گئی ہیں۔ بعض علما نے اس مفہوم کو قبول نہیں کیا، کیونکہ ان کے نزدیک یہ قرآن کی تعلیمات، بالخصوص تفرقہ سے اجتناب کی تاکید، سے مطابقت نہیں رکھتا۔[17] اس کے برعکس، بعض محققین نے فکری حرکت، علمی نشوونما اور سماجی تبدیلی میں اختلاف کے کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے اس حدیث کے دوسرے مفاہیم بیان کیے ہیں۔[18]

حصول علم کے لئے آمد و رفت

بعض علما نے اخلاف امتی سے مراد حصول علم کے لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ آنا جانا لیا ہے[19] اور اسے آیت نفر سے متعلق قرار دیا ہے۔[20] اس تفسیر کی بنیاد امام صادقؑ سے منقول ایک روایت ہے۔ اس روایت میں امام صادقؑ نے ’’میری امت کا اختلاف رحمت ہے‘‘ والی حدیث کی تفسیر آیتِ نفر کی روشنی میں بیان کی ہے۔ روایت کے مطابق، خدا نے حکم دیا ہے کہ مختلف علاقوں سے کچھ لوگ پیغمبر اسلامؐ کے پاس جائیں، دین کی تعلیم حاصل کریں اور واپس آکر اپنی قوم کو دینی تعلیم دیں۔ اس بنا پر، حدیث میں ’’اختلاف‘‘ سے مراد یہی آمد و رفت ہے۔[21] بعض محققین نے اس روایت کو پیغمبر اسلامؐ سے منسوب حدیث کے غلط مفہوم کی اصلاح قرار دیا ہے۔[22]

اس روایت سے دینی علوم کی تعلیم و تدریس کی ترغیب حاصل کی گئی ہے۔[23] اسی طرح، مختلف شہروں میں حوزہ ہائے علمیہ کے قیام کو اس روایت کی روشنی میں تاریخی اور سماجی جواز کا حامل قرار دیا گیا ہے۔[24] اہلِ سنت کے عالم غزالی نے پیغمبر اسلامؐ کے صحابہ کے مختلف شہروں میں جانے اور وہاں احادیث نقل کرنے کو بھی اختلافِ اُمّتی رحمۃ کی روایت سے متعلق قرار دیا ہے۔[25]

فروعِ دین میں اختلاف

شیعہ مفسر ملا فتح اللہ کاشانی نے فروع دین اور سماجی مسائل میں اختلاف کو ان امور میں شمار کیا ہے جن پر اس حدیث کا اطلاق کیا جا سکتا ہے۔[26] اس نظریے کے مطابق، اختلافِ اُمّتی رحمۃ والی روایت میں اصول دین کے اختلاف کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔[27] اسی طرح، سورۂ آل عمران کی آیت 105، جس میں تفرقے اور اختلاف سے منع کیا گیا ہے، کو اصولِ دین میں اختلاف سے متعلق سمجھا گیا ہے۔[28]

اہلِ سنت کے بعض علما بھی اس بات کے قائل ہیں کہ اگر اس حدیث کو اجتہاد سے پیدا ہونے والے فقہی اختلافات پر محمول کیا جائے تو اس کے مفہوم کو قبول کیا جا سکتا ہے۔[29] ان کے مطابق، علما کے درمیان علمی مسائل میں اختلاف، اگر کتاب اللہ اور سنت کی طرف رجوع کرنے پر مبنی ہو، تو رحمت ہے۔[30]

تقیہ کی بنیاد پر حدیث کی تفسیر

شیعہ کے بعض مآخذ میں اس حدیث کی تفسیر تقیہ کے تناظر میں کی گئی ہے۔ اس تفسیر کو پیغمبر اسلامؐ اور ائمۂ اہلِ بیتؑ کی حکمتِ عملی اور طرزِ سیاست سے متعلق قرار دیا گیا ہے۔[31] امام کاظمؑ سے منقول ایک روایت میں اہلِ بیتؑ کے پیروکاروں کے درمیان اختلاف کو رحمت قرار دیا گیا ہے اور اسے دشمنوں سے ان کی حفاظت سے متعلق بتایا گیا ہے۔[32]

شیخ صدوق نے اس روایت میں مذکور اصحاب سے مراد اہلِ بیتؑ لیے ہیں۔ ان کے مطابق، اہلِ بیتؑ کے درمیان حقیقتاً کوئی اختلاف نہیں ہے، بلکہ ان کے اقوال میں پائے جانے والے ظاہری فرق کی وجہ تقیہ کی رعایت ہے۔ اس بنا پر، تقیہ شیعوں کے لیے رحمت ہے۔[33]

پیغمبر اسلامؐ کے زمانۂ حیات سے مخصوص قرار دینا

محمد بن جریر طبری، جو تیسری صدی ہجری کے شیعہ عالم تھے، نے اختلافِ اُمّتی رحمۃ کی روایت کو پیغمبر اسلامؐ کی حیاتِ مبارکہ تک محدود قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، اس دور میں مسلمان اختلاف کی صورت میں پیغمبر اسلامؐ کی طرف رجوع کر سکتے تھے اور آپؐ سے رہنمائی حاصل کر سکتے تھے۔[34]

حوالہ جات

  1. ↑ طبری آملی، المسترشد، ص572۔
  2. ↑ رشید رضا، مجلة المنار، ج26، ص276۔
  3. ↑ سپاہی و دیگران، ’’بررسی تطبیقی روایت «اختلاف امتی رحمة» در منابع فریقین‘‘، ص10۔
  4. ↑ سپاہی و دیگران، ’’بررسی تطبیقی روایت «اختلاف امتی رحمة» در منابع فریقین‘‘، ص7۔
  5. ↑ سپاہی و دیگران، ’’بررسی تطبیقی روایت «اختلاف امتی رحمة» در منابع فریقین‘‘، ص16۔
  6. ↑ کمالی دزفولی، شناخت قرآن، ص148۔
  7. ↑ سپاہی و دیگران، ’’بررسی تطبیقی روایت «اختلاف امتی رحمة» در منابع فریقین‘‘، ص19۔
  8. ↑ عفانہ، یسألونک، ج7، ص276؛ اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والإفتاء، فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والإفتاء، ج3، ص212۔
  9. ↑ مجموعۃ من المؤلفین، فتاوی الشبکۃ الإسلامیۃ، ج24، ص85۔
  10. ↑ رشید رضا، مجلة المنار، ج26، ص276۔
  11. ↑ دشتی، النفیس فی بیان رزیة الخمیس، ج2، ص161۔
  12. ↑ رشید رضا، مجلة المنار، ج26، ص276۔
  13. ↑ صفار، بصائر الدرجات، ج1، ص11۔
  14. ↑ سیوطی، الدرر المنتثرة، ریاض، ج1، ص44۔
  15. ↑ سیوطی، جامع الأحادیث، ج2، ص39۔
  16. ↑ شیخ صدوق، معانی الأخبار، ص157۔
  17. ↑ انصاریان، تفسیر حکیم، ج3، ص106۔
  18. ↑ داورپناہ، انوار العرفان، ج6، ص319۔
  19. ↑ انصاریان، تفسیر حکیم، ج3، ص106۔
  20. ↑ فیض نسب، آیات الاحکام قبسات من تراث الامام الخمینی، ص614۔
  21. ↑ شیخ صدوق، معانی الأخبار، ص157۔
  22. ↑ مصطفی صالح مہدی، ’’تصحیح مظاهر الانحراف فی فهم الحدیث الشریف حدیث رسول الله(ص) (اختلاف امتی رحمة) موضوعا دراسة تحقیقیة فی ضو المنهج التحلیلی‘‘، ص223۔
  23. ↑ سپاہی و دیگران، ’’بررسی تطبیقی روایت «اختلاف امتی رحمة» در منابع فریقین‘‘، ص18۔
  24. ↑ سپاہی و دیگران، ’’بررسی تطبیقی روایت «اختلاف امتی رحمة» در منابع فریقین‘‘، ص18۔
  25. ↑ غزالی، إحیاء علوم الدین، بیروت، ج1، ص27۔
  26. ↑ کاشانی، منهج الصادقین، ج2، ص296۔
  27. ↑ انصاری، میبدی، خلاصہ تفسیر ادبی و عرفانی قرآن مجید، ج1، ص152۔
  28. ↑ شریف لاہیجی، تفسیر شریف لاہیجی، ج1، ص361۔
  29. ↑ عفانہ، یسألونک، ج7، ص277۔
  30. ↑ اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والإفتاء، فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والإفتاء، ج3، ص212۔
  31. ↑ سپاہی و دیگران، ’’بررسی تطبیقی روایت «اختلاف امتی رحمة» در منابع فریقین‘‘، ص20۔
  32. ↑ علامہ مجلسی، بحار الأنوار، ج2، ص236۔
  33. ↑ شیخ صدوق، معانی الأخبار، ص157۔
  34. ↑ طبری آملی، المسترشد، ص572۔

مآخذ

  • انصاری، عبدالله بن محمد، میبدی، احمد بن محمد، خلاصه تفسیر ادبی و عرفانی قرآن، خلاصه کننده: حبیب‌الله آموزگار، تهران، اقبال، 1383ہجری شمسی۔
  • انصاریان، حسین، تفسير حكيم، محقق: حمید احمدی جلفایی، محمدجواد صابریان، سید علی غضنفری، قم، دار العرفان، 1398ہجری شمسی۔
  • داورپناه، ابوالفضل، انوار العرفان فی تفسیر القرآن، تهران، انتشارات صدر، پہلی اشاعت، 1375ہجری شمسی۔
  • دشتی، عبدالله، النفیس فی بیان رزیة الخمیس، کویت، بی‌نا، 2002ء۔
  • اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء، فتاوی اللجنة الدائمة للبحوث العلمیة و الأفتاء، جمع‌آوری: أحمد بن عبد الرزاق الدويش، الریاض، رئاسة إدارة البحوث العلمية والإفتاء، 1426ق
  • رشیدرضا، محمد، تفسیر المنار، بیروت، دار المعرفة، 1414ھ۔
  • سپاهی، رحمن بخش و حسین خاکپور و هادی زینی ملک‌آبادی، «بررسی تطبیقی روایت «اختلاف امتی رحمة» در منابع فریقین» (فریقن کے مآخذ میں روایت "اختلاف امتی رحمۃ" کا تطبیقی جائزہ)، مطالعات معارف حدیثی، دوره اول - شماره 4، موسم سرما 2024ء۔
  • سيوطي، جلال‌الدین عبدالرحمن بن ابی‌‌بکر، الدرر المنتثرة في الأحاديث المشتهرة، محقق: محمد بن لطفی صباغ، ریاض، جامعه الملک سعود، بے تا۔
  • سيوطي، جلال‌الدین عبدالرحمن بن ابی‌‌بکر، جامع الأحاديث، گردآورنده و مصحح: عباس احمد صقر، بیروت، دار الفکر، 1994ھ۔
  • شریف لاهیجی، محمد بن علی، تفسیر شریف لاهیجی، تحقیق: میر جلال‌الدین حسینی ارموی (محدث)، تهران، دفتر نشر داد، پہلی اشاعت، 1373ہجری شمسی۔
  • شیخ صدوق، معانی الاخبار، محقق و مصحح: علی‌اکبر غفاری، قم، دفتر انتشارات اسلامی، پہلی اشاعت، 1403ھ۔
  • صفار، محمد بن حسن، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمّد صلّی الله علیهم، محقق و مصحح: محسن بن عباسعلی کوچه باغی،‏ قم، مکتبة آیة‌الله المرعشی النجفی، دوسری اشاعت، 1404ھ۔
  • طبری آملی، محمد بن جریر بن رستم، المسترشد فی إمامة علی بن أبی طالب علیه السلام، محقق و مصحح: احمد محمودی، قم، کوشانپور، پہلی اشاعت، 1415ھ۔
  • عفانة، حسام‌الدین بن موسی، یسألونک، فلسطین، مکتبة دندیس، 2007ء۔
  • علامه مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، دوسری اشاعت، 1403ھ۔
  • غزالی، محمد بن محمد، احیاء علوم الدین‏، بیروت، دار الکتب العربی‏، پہلی اشاعت، بے تا۔
  • فیض‌نسب، عباس، آیات الاحکام قبسات من تراث الامام الخمینی، تهران، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1384ہجری شمسی۔
  • کاشانی، ملا فتح‌الله، تفسیر منهج الصادقین فی الزام المخالفین، تهران، کتابفروشی محمد حسن علمی، 1336ہجری شمسی۔
  • کمالی دزفولی، سید علی، شناخت قرآن، تهران، اسوه، 1370ہجری شمسی۔
  • مجموعة من المؤلفين، فتاوى الشبكة الإسلامية، بے جا، بے نا،‌ 2009ء۔
  • مصطفی صالح مهدی، «تصحيح مظاهر الانحراف في فهم الحديث الشريف حدیث رسول الله(ص) ( اختلاف امتی رحمة) موضوعا دراسة تحقیقیة في ضو المنهج التحلیلی»، آداب الکوفة، العدد 44، الصیف 1441ھ۔